Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

یوشع بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ لیپ ٹوپ کو گود میں رکھے کام کررہا تھا… اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا جو اسکے بازو کو پکڑے بازو پہ ہی سر رکھے بیٹھا اپنے بابا کو کام کرتا ہوا دیکھ رہا تھا…. یوشع نے ایک نظر اپنے موبائل پہ ڈالی جو گیارہ کا ٹائم بتارہی تھی…. اب ہادی کافی حد تک سنبھل گیا تھا…. اور اس میں ہاتھ یوشع کا ہی تھا….

ہادی بار بار ایک نظر لیپ ٹوپ کی سکرین کو دیکھتا تو کبھی یوشع کو… یوشع نے بھی ہادی کی یہ حرکت نوٹ کی تھی مگر وہ پوری طرح اپنے کام میں بزی رہا…. اور ہادی کو لگ رہا تھا کہ شاید بابا مجھے اگنور کررہے ہیں…

بھلا ایسا بھی کبھی ہوسکتا ہے کہ یوشع اپنے بیٹے کو اگنور کرے…

جب ایک بار پھر ہادی نے وہی حرکت دہرائ تو اس دفع یوشع نے بھی میرو کو دیکھا… اور سمائل پاس کی… ہادی کیلۓ تو یہ بھی بہت تھا… وہ واپس سے یوشع کے بازو پہ سر ٹکا کر بیٹھ گیا….

بابا….

جی بابا کی جان….. نیند آئ ہے کیا آپ کو… یوشع نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا… اور پھر سے لیپ ٹوپ کی طرف متوجہ ہوگیا….

نہیں بابا مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے….

اب کی بار یوشع نے نہ ہی ہادی کی طرف دیکھا اور نہ ہی کچھ کہا…. بس اپنے کام میں بزی رہا… وہ اپنے کام کو آخری ٹچ دے رہا تھا… اس لۓ کچھ نہیں کہا….

مگر معصوم ہادی کو لگا کہ شاید بابا نے بات نہیں کرنی… رونی صورت بنائ گئ….

یوشع نے تقریباً پانچ منٹ بعد لیپ ٹوپ کو آف کرکے سائڈ پہ رکھا… لائٹس اوف کی… زیرو نائٹ بلب اون کرکے بستر پر لیٹ گیا… بیچارا میرو بس ابھی تک یہ ہی سوچ رہا تھا کہ آج بابا نے بات نہیں سنی… کیونکہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ یوشع ہادی کی کسی بات کو اگنور کرے… اور ہادی کے سوالوں کے جواب نہ دے…. اب شاید ہادی سچ میں رو دیتا… اگر یوشع ہادی کا سر اپنے بازو پہ نہ رکھتا…..

یوشع نے ہادی کو خود میں بھینچا… اس کے ماتھے پہ آۓ بالوں کو پیچھے کرکے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا….

اففف بابا… چھوڑے مجھے… میری ہڈیاں… یوشع نے مسکراتے ہوۓ اس پہ اپنی گرفت ہلکی کی…

__________________

ہممم تو اب بتاؤ کیا بات کرنی تھی آپ نے….

بابا مجھے لگا شاید آپ نے بات نہیں کرنی…. ہادی نے معصومیت سے کہا….

اور آپ کو ایسا کیوں لگا…

وہ آپ نے جواب نہیں دیا تھا….

ایسا کبھی ہوا ہے میں نے اپنے بیٹے کی کسی بات کو اگنور کیا ہو…..

نہیں بابا…

تو چلو اب جلدی سے بتاؤ کیا بات کرنی تھی….

ہادی نے بتانا شروع کیا اور آج پارک میں المیرا سے ہوئ اپنی ملاقات کے بارے میں بتادیا….

یوشع اب چپ تھا… وہ ایک لفظ نہیں بولا… جب کافی دیر بھی یوشع نے کچھ نہیں کہا تو ہادی کو ہی بولنا پڑا…

بابا کیا آپ کو میرا آنٹی سے ملنا اچھا نہیں لگتا… ہادی نے نہ جانے کس احساس کے تحت پوچھا… یا شاید یوشع کے کچھ نہ کہنے پہ….

آپ کو آنٹی سے ملنا اچھا لگتا ہے…..

جی بابا وہ بہت اچھی ہے… مجھ سے پیار کرتی ہے…

اوکے پھر آپ مل لینا… میں آپکی خوشی میں خوش….

سچ بابا…

ہممم…

ٹھینک یو بابا….

بابا….

یوشع دوبارہ کسی سوچ میں گم تھا… جب ہادی نے پکارا…

ہممم…

بابا ہم کراچی کیوں نہیں چلے جاتے واپس… ہم یہاں کیوں رہتے ہیں…؟؟ یہاں کوئ بھی نہیں ہے…؟؟ بڑے پاپا، بڑی ماما، زاور اور وہ کیوٹ بےبی ذیان سب وہاں ہے… بابا مجھے یہاں نہیں رہنا… ہم سب کے پاس چلتے ہیں… میری ماما بھی نہیں ہے جو میرے ساتھ کھیلتی…. وہاں بڑی ماما ہے جو مجھے پیار کرتی ہے…. ہادی نے یوشع کے سینے میں منہ چھپایا….

یوشع نے بھی میرو کو اپنے گھیرے میں لیا…

ہم وہاں نہیں جاسکتے……

کیوں نہیں جا سکتے…؟؟؟ میرو پیچھے ہوا… مجھے نہیں پتا مجھے جانا ہے… بس جانا ہے… مجھے بڑے پاپا کے پاس جانا ہے… مجھے نہیں رہنا یہاں…..

میں نے کہا نہ ہم نہیں جاسکتے….

مگر مجھے جانا ہے…. جانا ہے… آپ مجھے بھیج دے… آپ مت جاۓ…” میں بڑے پاپا کے پاس رہو گا….

میرو نے ذدی لہجے میں کہا….

بس کردو میرو… جب کہا ہے نہیں جانا تو بس نہیں جانا… ایک دفع کی سمجھ نہیں آتی…. اب اگر دوبارہ ضد کی تو مار پڑے گی…….”

آج یوشع نے اسے ڈانٹا تھا…. ان چار سالوں میں آج میرو نے یوشع سے ڈانٹ کھائ ہے…

میرو یوشع سے پیچھے ہوا… جب کہی جاکے یوشع کو اپنے لہجے کی سختی کا احساس ہوا…… اس نے ہادی کی آنکھوں میں دیکھا… جو پانی سے بھری ہوئ تھی… میرو کو بھی کہا عادت تھی ڈانٹ کھانے کی یوشع سے…

یوشع کے دل نے اس کو ملامت کیا… اپنے بیٹے کو ڈانٹنے پر… مگر وہ بھی مجبور تھا…

اسے غصہ اس بات پر نہیں آیا تھا کہ ہادی کراچی جانے کی ضد کررہا ہے… بلکہ اس بات پہ آیا کی ہادی نے یوشع سے دور جانے کی بات کی… وہ کہہ رہا ہے کہ وہ یوشع کے بغیر رہ لے گا بڑے پاپا کے پاس….

یوشع کا ہے بھی کون ہادی کے علاوہ… جو اب ہادی نے بھی دور جانے کی بات کردی…

یوشع نے میرو کو خود کے قریب کرنا چاہا… جس پہ وہ اور دور ہوگیا….

میرو ادھر آؤ بیٹا… شاباش…

مجھے نہیں آنا… آپ نے مجھے ڈانٹا ہے… مجھے آپ سے بات نہیں کرنی….

وہ اور دور ہوا… مگر اب کی بار یوشع نے اسے خود کے قریب کرلیا…. اس کے آنسو صاف کیے… اس کے ماتھے اور گال پہ بوسہ دیا….اور اسے خود میں بھینچا… آئ ایم سوری…میں ڈانٹنا نہیں چاہتا تھا… مگر پتا نہیں چلا… سوری… مگر آپ نے بھی تو مجھ سے دور جانے کی بات کی تھی….. آپکو پتا ہے بابا آپ کے بغیر نہیں رہ سکتے…. اب دوبار مجھ سے دور جانے کی بات مت کرنا….

سوری بابا میں کہیں نہیں جاؤں گا آپ کو چھوڑ کر….

” ہم بڑے پاپا اور باقی سب کو یہی بلا لیتے ہیں پھر تو آپ کا دل لگ جاۓ گا نہ….”

سچ بابا آپ سب کو یہاں بلالے گے…’

ہاں جی…. ‘

اووو پھر تو بہت مزہ آۓ گا….

ہاں بہت…. چلو اب سوجاؤ….

پھر صبح آنکھ نہیں کھلے گی….

میرو نے یوشع کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی….

“ملنا پڑے گا تم سے آخر کون ہو تم… جو میرے بیٹے کے قریب آنے کی کوشش کررہی ہو…. اگر تمھاری وجہ سے میرے بیٹے کو کوئ تکلیف پہنچی… تو تم جو کوئ بھی ہو…. اس صفاہستی سے نام مٹا کر رکھ دوں گا تمھارا……” یوشع دل میں خود سے مخاطب تھا….

“تم زندگی ہو میری… یوشع نے میرو کے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا کیا….”

“اور آپ میری… میرو نے سر اٹھا کر کہا….

تم سوۓ نہیں….’

نہیں بابا نیند نہیں آرہی…

ہوشع نے اس کا کان پکڑ کے ہلکا سا مروڑا…

ہاۓ… میرا کان…..

نوٹنکی با” یوشع نے ہادی کے کان کو چھوڑا……

جو ہلکا سا مروڑے جانے پر ہی سرخ ہوگیا تھا…

ہادی نے دوبارہ یوشع کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی….

**********

اگلے دن تقریباً رات نو بجے کراچی کے ڈیفنس علاقے میں عالیشان سے بنگلے میں لاؤنج میں ترتیب سے رکھے صوفوں میں سے ایک صوفے پر علی رف سے حلیے میں بیٹھا اپنے ڈیڑھ سال کے بیٹے ذیان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا…. اور گاہیں بگاہیں اپنی نگاہ سامنے سنگل صوفے پر بیٹھے چار سال کے زاور پہ بھی ڈال لیتا….. جو منہ پھلاۓ پچھلے آدھے گھنٹے سے بیٹھا تھا…. وجہ آئسکریم کھانے کی ضد کی گئ تھی… اور ضد پوری بھی کردی جاتی مگر زکام اور کھانسی کی وجہ سے علی نے آئسکریم کھانے سے منع کیا تھا… زیادہ ضد کرنے پر علی نے ڈانٹ دیا اور جب سے وہ اپنے باپ سے ناراض بیٹھا تھا….

علی نے کچن کے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے زینب ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے نکل رہی تھی… زینب نے مسکرا کر علی کی طرف دیکھا….

علی نے بھی جان سے زیادہ عزیز اپنی بیوی کو دیکھا… جس نے زندگی کے ہر موڑ پر علی کا ساتھ دیا تھا… پھر چاہے وہ موڑ غم کا ہو… یا خوشی کا….. زینب نے کبھی علی کو تنہا نہیں چھوڑا تھا…

علی نے بھی مسکراہٹ پاس کی….. زینب نے کپ لاکر علی کو دیا… اور اس کے ساتھ ہی صوفے پر براجمان ہوگئ… ذیان کو اپنی گود میں لیا… اشاروں اشاروں میں زاور کے موڈ کا پوچھا… علی نے خاموش رہنے کا کہا….

رینب بھی چپ ہوگئ…. کیونکہ وہ جانتی ہے زاور علی کے علاوہ کسی کے قابو نہیں آتا… زینب کے تو بالکل بھی نہیں…. وہ اب ذیان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگئ… علی نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوۓ زاور کو دیکھا….

زاور… علی نے پکارا….

زاور نے نظریں اٹھا کر اپنے باپ کو دیکھا…. اور واپس سے نظریں جھکالی….

بیٹا جو اپنے ضد لگائ ہے وہ تو میں کبھی پوری نہیں کروں گا… میں نے کبھی آئسکریم کھانے سے منع کیا… نہیں کیا نہ… میں منع کررہا ہو تو آپکی طبیعت کی وجہ سے…. جب آپ ٹھیک ہوجاؤ گے… میں خود آپکو لے کر جاؤں گا… پھر جتنی چاہے… اتنی آئسکریم کھالینا… میں منع نہیں کروں گا….

زاور نے نگاہیں اٹھائیں… اپنے باپ کو دیکھا… علی نے زاور کی آنکھوں میں دیکھا… جہاں آنسوں آنکھوں سے برسنے کو تیار تھے….. علی کو افسوس ہوا شاید کچھ زیادہ ہی ڈانٹ دیا تھا….

علی اسے مناتا… اتنے میں علی کا موبائل رنگ ہوا… علی نے سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر موبائل اسکرین کو دیکھا…. چہرے پر مسکراہٹ آگئ…

وہ جانتا ہے دوسری طرف کون ہے؟؟؟ زاور کودیکھ کر کہا…

میں تو اپنے بیٹے سے بات کرنے لگا ہوں… اب اگر کسی نے اپنے بھائ سے بات کرنی ہے تو آکر کرلے… پھر مجھے مت کہنا کہ بابا بات نہیں کروائ… زینب نے بھی کال اسکرین کو دیکھا… جہاں یوشع لکھا تھا…

کال اٹھالی گئ…. زاور ساری ناراضگی بھلاۓ…. علی کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گیا…..

زینب کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئ….

علی کی عین توقع کے مطابق دوسری طرف میرہادی تھا….

السلام علیکم… میرو نے سلام کیا….

سب نے مل کر جواب دیا… حال احوال پوچھا گیا….

یاد آگئ میرے بیٹے کو اپنے بڑے پاپا کی….

جی پاپا… میں تو بہت یاد کرتا ہو آپکو مگر بابا بات ہی نہیں کرواتے….

تمھارے بابا کی تو کسی دن ایسی دھلائ کروں گا نہ کے یاد رکھے گا….

یوشع کے چہرے پر مسکراہٹ آئ… کیونکہ اس نے علی کی بات سن لی تھی……

زاور نے ہادی کو زبان چڑھائ… جواب میں ہادی نے بھی زبان دیکھائ…. ہادی کی یہ حرکت یوشع نے بھی دیکھی… اور سر جھٹک کے واپس سے اپنے لیپ ٹوپ پہ بزی ہوگیا….

کہاں ہے تمھارے پیارے بابا جان…؟؟؟

علی نے دانت پیس کر کہا… ہادی نے موبائل یوشع کی طرف کیا… یوشع نے لیپ ٹوپ کو سائڈ میں رکھا… موبائل کو ہاتھ میں لیا… ہادی یوشع کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گیا….

اور سالے صاحب اگر اپنے خود بات نہیں کرنی ہوتی تو ہادی کی ہی بات کروادیا کرو… کیونکہ تم تو ہوگۓ ہو بےوفا…. تمھیں تو بات کرنی نہیں….

یوشع کی مسکراہٹ اور گہری ہوئ… دائیں گال پہ پڑتا ڈمپل بھی مزید گہرا ہوا….

ہاں تو میں تم سے کونسا بات کررہا ہو… زینب سے بات کرواؤ میری…

اور اگر نہ کرواؤ تو…

کوئ بات نہیں میں ویسے ہی بات کرلیتا ہو… تم نہ دوں مابائل زینب کو… یوشع نے سلام کیا.. حال احوال پوچھا گیا….

________________

بھائ آپ کب آرہے ہو کراچی؟؟؟ واپس آجاۓ… ہادی کی بھی بہت یاد آتی ہے…

میں نہیں آسکتا اب واپس…

“آ نہیں سکتے یا آنا ہی نہیں چاہتے….” علی نے غصے سے پوچھا….

مجھے نہیں معلوم… اور مجھے اس ٹوپک پہ کوئ بات نہیں کرنی…

کیوں نہیں کرنی؟؟؟ علی نے پھر اسی غصے سے پوچھا…..

علی پلیز… میں نے کہا ہے نہ نہیں بات کرنی میں نے کوئ….

میں بس یہ کہہ رہا تھا کہ ہادی تم سب کو بہت یاد کرتا ہے…. میں نے تو وہاں آنا نہیں ہے… اور نہ ہی کبھی آؤ گا… اس لۓ تم سب یہاں لاہور آجاؤ…. ہم سب ایک ساتھ رہیں گے…. پھر ہادی کا بھی یہاں دل لگ جاۓ گا…

اور تمھیں لگتا ہے وہاں شفٹ ہونا اتنا آسان ہے… یہاں کا سارا بزنس کون دیکھے گا… خود تم وہاں جاکے بیٹھ گۓ ہو… سب میرے پہ چھوڑ دیا ہے…. علی تو گویا آج جیسے پھٹ ہی پڑا تھا…

بچے تو اب بس ان کی تکرار ہی سن رہے تھے….

علی زیادہ ضد بحث مت کرو… جیسا کہاں ہے ویسا کرو… پیکنگ کرو… وہاں سے سارا بزنس وائنڈاپ کرو… یا یہاں شفٹ کرو…. اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو مینیجر کو سنبھال وادوں… بیچ میں چکر لگا کر چیک کرتے رہنا…. اینڈ ڈیٹس فائنل… میں مزید کوئ بات نہیں کرنا چاہتا… جب یہاں آجاؤ گے جب بات ہوگی….

اور اب میں فون رکھ رہا ہوں….

ایک منٹ یوشع یوسف زئ اب میری بھی سن لو… میں وہاں نہیں آؤ گا… اینڈ اٹس مائ فائنل…. اللہ حافظ….

علی نے کال ڈراپ کردی… اور یوشع بس نفی میں سر ہلا کر رہ گیا….

************

جاری ہے_________