No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
آج اس کو دو دن پورے ہوگۓ تھے… یوشع اسے ائیر پورٹ چھوڑنے جارہا تھا… علی ساتھ نہیں آیا تھا…. عمران صاحب نے اسے آفس بلایا تھا کہ تمھاری ضرورت ہے… آجاؤ… تو وہ چلا گیا تھا کہ میں ٹائم پہ ائیرپورٹ پہنچ جاؤں گا فلائٹ کے آنے سے پہلے…. یوشع ڈرائیو کررہا تھا اور وہ بھی اگلی سیٹ پر بیٹھا شیشے سے پار دیکھتا کسی گہری سوچ میں گم بیٹھا تھا….
کیا بات ہے؟ ٹینشن میں لگ رہے ہو؟ نیکسٹ کب کا ارادہ ہے آنے کا کب آؤ گے؟؟”
وہ سیدھا ہوکر بیٹھا…
کچھ نہیں بس ایسے ہی ‘ تم شادی کرو پھر آؤ گا اگین… یا پھر اگر کسی میٹنگ وغیرہ کے سلسلے میں آنا ہوا تو آجاؤ گا….”
تم نے شادی نہیں کرنی کیا؟؟”
کیوں نہیں ضرور کروگا جب کوئ اچھی لڑکی مل جاۓ گی….”
تم ماہی کو پسند نہیں کرتے کیا؟؟ یوشع نے کچھ حیرت سے پوچھا…..
اور یہ تم سے کس نے کہا کہ میں ماہی کو پسند کرتا ہو” حماد نے بھی اسی کے انداز میں پوچھا…. وہ اب مکمل اسکی طرف متوجہ تھا….
کوئ بات نہیں یار اگر پسند ہے تو بتادو’ میں علی سے بات کرلوں گا’ علی کو کیا اعتراض ہوگا اس رشتے سے جب لڑکا ہر لحاط سے پرفیکٹ ہو’ اور تم ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہو ‘ ماہی بھی ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے….”
مگر ماہی تو تمھیں پسند کرتی ہے…”
یوشع نے ایک دم بریک لگائ تھی… حماد نے بروقت خود کو سنبھالا… یوشع نے حیرت سے اس کو دیکھا…
تمھیں کس نے بتایا؟؟؟”
گاڑی چلاؤ بتاتا ہو….” اور اب دوبارہ بریک لگانے سے پہلے مجھے بتا دینا….
یوشع نے گاڑی سٹارٹ کی تھی…. گاڑی روڈ پر رواں دواں تھی…
میں جانتا ہو حماد کہ تم ماہی کو پسند کرتے ہو’ یہ مت بھولو کہ میں عقاب کی نظر رکھتا ہو ‘ کچھ نہ دیکھ کر بھی سب کچھ دیکھ لیتا ہو’ اور میں نے بہت بار تمہاری نظر ماہی کی طرف اٹھتی دیکھی ہے….. “
حماد بس مسکرایا تھا….
تم بات کو گھومارہے ہو’ یوشع تم بھی یہ مت بھولو کہ اگر تم عقاب کی نظر رکھتے ہو تو میں بھی آنکھیں پڑھنے کا فن رکھتا ہو’ اور میں نے خود ماہی کی آنکھوں میں تمہارے لۓ محبت کا جلتا دیا دیکھا ہے’ اور ساتھ میں…..”
وہ بات ادھوری چھوڑ کر چپ ہوگیا تھا….
ساتھ میں کیا؟؟”
المیرا کیلۓ بےانتہا نفرت….”
نہیں’ یہ سچ نہیں ہوسکتا’ ہاں میں مانتا ہو وہ مجھ سے محبت کرتی ہے’ میں نے بھں اس کی آنکھوں میں اس کے لہجے میں محبت ہی محبت دیکھی ہے’ مگر المیرا سے نفرت وہ نہیں کرسکتی….”
اور کیوں نہیں کرسکتی وہ المیرا سے نفرت….”
یوشع نے کچھ کہنا چاہا مگر چپ ہوگیا ‘ شاید لفظوں نے ساتھ نہیں دیا ‘ یا اس کے پاس کوئ جواب تھا ہی نہیں….
حماد مسکرایا…
یوشع میں نے کہا ہے نہ میں آنکھوں کو پڑھنے کا فن جانتا ہو’ اور یہ بات علی اور تم دونوں ہی اچھی طرح جانتے ہو…” وہ دھیمے لہجے میں ایک دوسرے سے بات کررہے تھے…. یوشع کچھ پریشان سا ہوا تھا….
المیرا بہت معصوم ہے…” حماد نے کہا….
نہیں’ پوری پٹاخہ ہے وہ…”
ہاں مگر صرف تمھارے سامنے’ یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو…”
ہمممم’ اس کی زبان صرف میرے سامنے چلتی ہے’ باقی دنیا والوں سے لڑنے کی ہمت اس میں نہیں ہے’ وہ بہت ڈرتی ہے اس دنیا سے’ اس دنیا کے لوگوں سے….”
جانتے ہو ہر بات کے پیچھے کوئ ریزن ہوتا ہے’ اور المیرا اس دنیا سے کیوں ڈرتی ہے’ اس بات کے پیچھے بھی يقيناً کوئ بڑا ریزن ہوگا…..”
ہاں ‘ جانتا ہو کیا ریزن ہے’ مگر میں تمھیں چاہا کر بھی وہ ریزن نہیں بتاسکتا….”
میں پوچھ بھی نہیں رہا یوشع اور نہ ہی میں جاننا چاہتا ہو….”
تمھیں پتا ہے میں جب سے یہاں آیا ہو’ اور جب سے میں نے ماہی کو دیکھا ہے وہ مجھے کچھ عجیب لگی تھی’ اس کا بیہیو بہت عجیب ہے’ اور تم دیکھو انگیجمنٹ والے دن اس کے سگے بھائ کی انگیجمنٹ ہورہی تھی مگر میں نے کوئ خوشی اس کے چہرے پر نہیں دیکھی’ نہ ہی وہ اسٹیج پر آئ’ اور یقینا جو تم اس کے پاس گۓ تھے’ تمھارے درمیان کوئ خوشگوار بات نہیں ہوئ تھی’ اور اسی بات پہ اس کا موڈ آف ہوگا’ جس کے بعد اسے اپنے آس پاس کے ماحول سے کوئ فرق نہیں پڑرہا تھا….” اور میں نے بہت بار اس کی نظریں تمہاری طرف اٹھتی دیکھی ہے’ اور میری نظریں بھی اس پر اسی وجہ سے جاتی تھی کہ وہ تمھیں دیکھتی رہتی ہے’ اور یہ سب دیکھنے کے بعد مجھے نو دو گیارہ کرنے میں بالکل ٹائم نہیں لگا کہ وہ تمہیں کس قدر چاہتی ہے’ اور میں نے اس کی آنکھوں میں خود دیکھا ہے بہت قریب سے’ اتنا قریب کہ ایک دوسرے کے چہروں پر ایک دوسرے کی گرم سانسیں تک محسوس ہورہی تھی….” وہ جو جب سے خاموش بیٹھا بس اسے سن رہا تھا… اسے اب مشکوک نظروں سے گھورا تھا….
ایسے مت دیکھو’ تم جانتے ہو میں چھوٹے دل کا ہو’ میں ڈر جاؤں گا’ اور پھر تمھیں کچھ نہیں بتاؤ گا…”
یوشع اب بھی اسے گھور رہا تھا….
یار ڈرائیونگ پہ دھیان دو’ قسم سے میرا ابھی مرنے کا کوئ موڈ نہیں ہے’ ابھی میں نے شادی کرنی ہے…..”
یوشع اپنی ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوا تھا….
میں کل عل کے گھر گیا تھا’ وہاں کیا ہوا؟؟ میں نے کیا کیا؟؟ بتاتا ہو؟؟؟”
گزشتہ ایک روز:
حماد ابھی علی کے گھر آیا تھا… وہ ابھی لاؤنج میں داخل ہوا تھا… جوکہ بالکل خالی تھا…. ایک ملازم وہاں آیا تھا….
علی کہاں ہے؟؟؟”
علی صاحب تو تھوڑی دیر پہلے ہی آفس گۓ ییں”
آفس گیا ہے… مگر اس نے توکہا تھا کہ وہ گھر پر ہی ہے…” اچھا ٹھیک ہے آپ جاۓ”
آپ کو کچھ چاہیے صاحب…”
نہیں ٹھینک یو…” ملازم وہاں سے چلا گیا تھا… اس نے جیب سے موبائل نکالا تھا….
کال ملاکر موبائل کان سے لگایا….
کال ریسیو کی گئ….
ویسے بڑے ہی کوئ گھٹیا انسان ہو’ اگر آفس ہی جانا تھا تو مجھے بتا نہیں سکتے تھے’ جب میں نے پوچھا کہ کہاں ہو؟؟ ہاں ہاں میں تو گھر پر ہی ہو آجاؤ آجاؤ’ اسے کہتے ہیں گھر پہ ہونا….”
علی مسکرایا… او سوری یار میں قسم سے گھر ہی تھا’ مگر بابا نے بلالیا تھا کہ اجاؤ تمھاری ضرورت ہے’ اس لۓ ارجنٹ آنا پڑا اور تمھیں بتانا یاد ہی نہیں رہا’ ایک کام کرو’ تم آفس ہی آجاؤ’ یہاں گپ شپ کرلے گے…..”
یوشع بھی آفس میں ہے کیا؟؟؟
ہاں وہ اپنی کمپنی میں ہوگا میں اپنی کمپنی میں ہو بابا کے ساتھ…”
انکل ہے وہاں…’
ہاں بابا یہی ہے’ کیوں کیا ہوا؟؟؟’ ‘
کچھ نہیں بس ایسے ہی پوچھا ہے’ اور آنٹی بھی کہیں نظر نہیں آرہی وہ بھی گھر پر نہیں ہے کیا؟؟؟”
پتا نہیں یار میں تو گھر پر ہی چھوڑ کر آیا تھا’ کیا پتا کہیں چلئ گئ ہو….”
ہاں البتہ کیا پتا ماہی گھر پر ہو’ اور اگر وہ بھی کہیں چلی گئ ہو تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا….”
حماد کی آنکھوں میں چمک آئ تھی…. اس سے زیادہ اچھا موقعہ نہیں ملے گا…. جو وہ کام کرنا چاہ رہا ہے…. اور وہ ویسے بھی خاص اسی کام کیلۓ یہاں آیا ہے….
اچھا چلو ٹھیک ہے میں وہی آرہا ہو….” حماد نے پورے گھر پر نظر دوڑائ تھی موبائل واپس جیب میں رکھا…..
چل حماد لگ جا کام پہ اس سے زیادہ اچھا موقع نہیں ملے گا’ موقع محل دونوں ہے….” اسے ماہی کے روم کا پتا ہے… اس نے قدم اس کے روم کی طرف بڑھاۓ…. ماہی بھی اپنے روم سے نکلنے لگی تھی…. اس کی نظریں پوری طرح موبائل پر مرکوز تھی…. حماد نے اسےدیکھ لیا تھا…. مگر وہ نہ ہی اس کی موجودگی کو محسوس کر پائ اور نہ ہی اسے دیکھ پائ…. وہ جان بوجھ کر زور سے اس سے ٹکرایا تھا…. وہ اس کے چوڑے سینے سے لگی تھی… ہاتھ میں پکڑا موبائل زمین پر گرا تھا…. دن میں تارے نظر آگۓ تھے… وہ گرتے گرتے بچی تھی…. حماد نے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا…. وہ اس کے کالر کو سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑے اس کی بانہوں میں جھول رہی تھی…. آنکھیں بھی سختی سے میچ رکھی تھی…. وہ اسے دیکھ کر مسکرارہا تھا…. وہ اس کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا… بلاشبہ وہ ایک خوبصورت نوجوان دوشیزہ ہے…. اس کا دل کیا کہ کوئ شرارت کرے مگر نہیں وہ اس کام کیلۓ یہاں نہیں آیا اور نہ وہ یہ کام کرسکتا ہے…..
آنکھیں کھول لے میڈم اور میرے کالر کو چھوڑ دے….”
اسنے فٹ آنکھیں کھولی تھی… وہ مکمل اس پر جھکا ہوا تھا…. ماہی نے اسے دھکا دیا تھا… وہ دو قدم دور ہٹی تھی… دو قدم اس نے بھی آگے بڑھاۓ تھے…. ماہی نے پھر دو قدم پیچھے لۓ تھے….. وہ پیچھے دیوار کے ساتھ لگی تھی…. حماد نے بھی دو قدم اور آگے بڑھاۓ تھے….
تم میرے قریب کیوں آرہے ہو؟؟ دور رہو؟؟ اور یہاں کیا کررہے ہو؟؟ نیچے جاکر بیٹھو….” اس نے لہجے کو سخت کرکے روانی سے کہا تھا جبکہ اندر سے اس کا دل کانپ رہا تھا…..
ہمممم’ ایم ایمپریسڈ’ ورنہ ایسے موقعوں پر لڑکیاں اکثر ڈر جاتی ہے’ گڈ مجھے ایسی ہی لڑکیاں پسند ہے….” اس نے دیوار کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر اسکے جانے کی ساری راہیں بند کی تھی….
واٹ آر یو ڈوئینگ؟؟ سٹے آوے فروم می….” میں بھائ کو بلالوں گی….
بھائ….” اس نے آواز دی تھی… حماد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا….. کوئ فائدہ نہیں شاید تمھیں کسی نے بتایا نہیں کہ گھر پر کوئ نہیں ہے….”
ماہی کی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھی….
اور یہ جو اتنا بڑا محل ہے’ اتنی اونچی اس کی دیواریں’ ان دیواروں سے تمھاری آوازیں باہر نہیں جاۓ گی’ اور نہ ہی کوئ تمھیں بچانے آۓ گا….” وہ اسکا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کررہی تھی…. مگر گرفت سخت تھی…. وہ اسے دیکھے گئ…. وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا…… ماہی کی آنکھوں میں نمی آئ تھی… سانس لینے میں دشوای ہونے لگی تھی…. اس نے ہاتھ ہٹایا تھا… سانس بحال ہوا تھا…. ماہی کا ہاتھ اٹھا تھا…..
یو بلڈی….” اور اس سے پہلے وہ اس کے گال پر نشان چھوڑتی….. اس نے اس کی نازک کلائ کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا…..
نا میری جان یہ غلطی دوبارہ کبھی مت کرنا’ چلو اندر…..”
چھوڑو مجھے….’ وہ زبردستی اسے کمرے میں لے کر جارہا تھا….
آئ سیڈ لیو می….” وہ مسلسل خود کو اسکی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی…. کمرے میں لے جاکر اس نے اسے چھوڑا تھا….. فورا دروازہ بند کیا تھا…… وہ ڈر رہی تھی بہت زیادہ…. وہ اس کے قریب آرہا تھا….
دیکھو’ اس نے انگلی اٹھائ تھی….
میرے قریب مت آنا’ میں بتارہی ہو’ ورنہ اچھا نہیں ہوگا’ علی بھائ اور یوشع کو پتا چلا نہ کہ تم کیا کررہے ہو’ وہ بہت مارے گے تمھیں’ کہ تم یاد رکھو گے….” حماد مسکرایا….
اووو رئیلی’ میں تو ڈر گیا….”
وہ قدم پیچھے بڑھا رہی تھی… اور اس سے پہلے وہ بھاگتی….. اس نے اس کی کلائ پکڑ کر اپنی طرف کھینچی تھی….. وہ گھومتی ہوئ اس کے چوڑے سینے سے لگی تھی…. اس نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے خود میں بھینچا تھا اور وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے خود کو اس کی گرفت سے نکالنے کی بھرپور کوشش کررہی تھی….. اس کی قربت میں اس کی جان فنا ہورہی تھی…..
لیو می پلیز’ چھوڑ دو مجھے خدا کے واسطے کچھ مت کرنا…..” حماد کو محسوس ہورہا تھا کہ وہ کانپ رہی ہے…. مگر وہ مضبوط کھڑی خود کو اس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کررہی تھی… اس کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا تھا….. اس نے اسے پیچھے دیوار کے ساتھ لگایا تھا…..
آآآآ چینخ حلق سے برآمد ہوئ تھی…. اس کے ہونٹ کپکپانے لگے تھے….
بھائ….” ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے گال پے لڑھکا تھا…..
یوشع….’ کپکپاتے ہونٹوں سے اس نے اسے پکارا تھا…. آواز اتنی دھیمی تھی کہ بامشکل خود کو سنائ دے…..
حماد اس کا یہ گھبرایا ہوا روپ دیکھ رہا تھا…. وہ مسلسل کانپ رہی تھی….. شاید اس کو خود کو بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کس قدر کانپ رہی ہے….
اوپن یور آئیز….”
اس نے نفی میں گردن ہلائ تھی….
آئ سیڈ اوپن یور آئیز….” اس نے غصے سے کہا تھا…. ڈرتے ڈرتے اس نے آنکھیں کھولی تھی…. اس نے تو اس کی ساری بھاگنے کی راہیں بند کردی تھی…. ماہی کی آنکھوں میں گلابی پن اترا تھا…..
پلیز چھوڑ دو….” اس نے منت کی تھی….
خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دو’ میں میں کسی کو کچ کچھ نہیں بتاؤ گی’ مگر پلیز یہاں سے چلے جاؤ….”
وہ مسکرایا….
کس کو کیا بتاؤ گی میری جان من’ اگر تمھارے بتانے سے پہلے میں علی کو جاکر بتادو کہ تمھاری بہن میرے ساتھ یہ وہ کرنے کی کوشش کررہی تھی’ تو کس کا یقین کرے گا’ اور میری جان…..” اس نے اس کے گال پر ہاتھ رکھنا چاہا…. ماہی نے اس کے ہاتھ کو جھٹکا… وہ اپنے ہاتھ کو دیکھ کر مسکرایا…. ماہی کو دیکھا…. جو خونخوار نظروں سے اسی کو گھور رہی تھی…..
ہاۓۓے میری جان’ تمھیں تو معلوم ہے ایڈنگ کتنی ایزی ہوگئ ہے اگر میں کسی بھی گندی ویڈیو پہ تمھاری تصویریں سیٹ کردو اور پھر اس کو سوشل میڈیا پہ اپلوڈ کردو تو کیا عزت رہ جاۓ گی تمھاری….”
ماہی کی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھی…..
تتتتم…..”
ششششش….” اس نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی تھی…..
ڈرو مت’ میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا کیونکہ الحمداللّه میں بھی دو بہنوں کا بڑا بھائ ہو اور مجھے مکافات عمل پر یقین ہے اگر آج میں کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ غلط کرو گا تو کل کو میں جتنا بھی اپنی بہنوں کو چھپاکر رکھنا چاہو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہوجاۓ گا’ میری بہنوں کے ساتھ بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے’ اسی لۓ حماد ابراہیم نے آج تک نہ ہی کسی لڑکی کی طرف غلط نگاہ ڈالی اور نہ ہی آج تک کسی کے ساتھ ایسی حرکت کی ہے’ تم پہلی لڑکی ہو جس کے ساتھ یہ سب کیا ہے’ کیونکہ مجھے تم سے کچھ سوالوں کے جواب چاہیے’ ویسے تو مجھے ضرورت نہیں تھی کہ تم سے کچھ پوچھو کیونکہ میں آنکھیں پڑھنے کا فن رکھتا ہو اور اب تمھاری آنکھوں میں سواۓ ڈرو خوف کے مجھے کچھ نظر نہیں آرہا’ اسی لۓ جو میں پڑھنا چاہ رہا تھا’ وہ پڑھنے میں مجھے دشواری پیش آرہی ہے’ اس لۓ اب جو پوچھو سب سچ سچ جواب دے دینا’ میں چلا جاؤں گا…..”
یوشع سے کتنی محبت کرتی ہو؟؟؟”
وہ بس اسے دیکھے گئ’ مجھے اپنے سوالوں کے فوراً فوراً جواب چاہیے ہوتے ہیں….
یوشع سے کتنی محبت کرتی ہو؟؟؟”
اور مجھ سے جھوٹ بولنے کی غلطی مت کرنا’ کیونکہ بعض اوقات انسان کی آنکھیں اور اس کے منہ سے نکلے ہوۓ الفاظ بہت کم ہی ایک دوسرے سے میچ کرتے ہیں’ اصل لفظ وہی ہوتی ہیں جو منہ اور آنکھ دونوں میں سیم ہو’ اور تم جھوٹ بولوں گی تو تمھاری زبان لڑکھڑاۓ گی’ تمھاری آنکھیں کچھ کہہ رہی ہونگی اور تمھارے الفاط کچھ اور ہی داستان بیان کررہے ہونگے’ اگر جھوٹ بولوں گی تو میں تمھاری آنکھیں پڑھ لوں گا….” اب بتاؤ جلدی یوشع سے کتنی محبت کرتی ہو؟؟؟”
تمھیں کیوں بتاؤں میں اس سے کتنی محبت کرتی ہو کتنی نہیں…؟؟
اوکے نہ بتاؤ….” مگر
المیرا سے تو خوب نفرت کرتی ہوگی’ کیونکہ اپنے محبوب کے محبوب سے کبھی محبت نہیں ہوتی…..” حماد نے دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں المیرا کے نام پر نفرت کی چنگاری پھوٹی تھی…. وہ مسکرایا تھا…. اسے جواب مل گیا تھا….
آج کے بعد اس کا نام میرے سامنے مت لینا’ نفرت کرتی ہو میں اس سے بے انتہا نفرت….”
وہ ہنوز مسکرارہا تھا….
اس کے الفاظ اس کی آنکھوں سے میچ کررہے تھے…. اس کی آنکھوں میں بھی بےانتہا نفرت تھی اور اس کے لہجے میں بھی…..
وہ جب سے ہماری زندگی میں آئ ہے یوشع مجھ سے دور ہوگیا ہے’ جادو کرکے رکھ دیا ہے اس نے سب پر’ جس کو دیکھو اسی کے گن گاتے ہیں’ اس نے میرے یوشع کو بھی مجھ سے چھین لیا ہے…..”
حماد نے اپنا چہرہ ماہی کے چہرے کے قریب کیا تھا… اس کی بولتی یک دم بند ہوئ تھی….
اتنی نفرت لہجے میں…”
دور ہٹو….”
اگر نہ ہٹا تو…..”
اب وہ اسے بس تنگ کررہا تھا….
اس نے اپنی آنکھوں کو سختی سے میچا تھا…..
ماہیں عمران’ یہ جو حرکت میں نے تمھارے ساتھ کی ہے نہ اس کا ہر گز یہ مطلب مت لینا کہ میں نے تمھارے قریب آنے کے بہانے ڈھونڈے ہیں… ”
اس نے اپنی آنکھیں کھولی تھی….
یاد رکھنا تم جیسی لڑکیوں کی حماد ابراہیم کی زندگی میں کوئ جگہہ نہیں ہے’ نہ ہی اس کے دل میں’ نہ ہی اس کی زندگی میں اور نہ ہی اس کے بیڈروم میں’ اگر مجھے تمھارے لہجے میں ایک معصوم لڑکی کیلۓ’ وہ بھی ایسی لڑکی جو صرف محبت کے قابل ہے’ جس نے تمھارا کچھ نہیں بگاڑا اس لڑکی کیلۓ اگر اتنی نفرت نہ دیکھتی تو میں سوچ سکتا تھا تم سے شادی کرنے کے بارے میں’ کیونکہ تم واقعی بہت خوبصورت ہو’ مگر اب نہیں’ حماد ابراہیم محبت کرنے والا لڑکا ہے’ حماد ابراہیم محبتوں کو بانٹنا جانتا ہے’ اور محبتوں کو سمیٹنا’ حماد ابراہیم کی زندگی میں ایسی لڑکیوں کیلۓ کوئ جگہہ نہیں ہے جو دل میں دوسروں کیلۓ بغض ‘ کینہ ‘ حسد رکھتی ہے’ حماد ابراہیم ان لوگوں کو پسند کرتا ہے’ جن کا وجود محبت سے بھرپور ہو’ اور تم میں ایسا کچھ نہیں’ اسی لۓ تمھاری میری زندگی میں کوئ جگہہ نہیں…..”
ماہی کی آنکھیں لال انگارہ ہوئ تھی… اس نے کچھ بولنا چاہا تھا……. مگر ایک بار پھر اس نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اس کی بولتی بند کی تھی…. اپنا چہرہ اس کے چہرے کے بالکل قریب کیا تھا…. اس نے ایک بار پھر اپنی آنکھوں کو سختی سے میچا تھا…. اپنی شرٹ کو مٹھی میں زور سے جکڑا ہوا تھا….
اس نے اس کے چہرے پر پھونک ماری تھی…. آنکھوں کی پلکوں میں جنبش ہوئ تھی…. ہونٹ پھر سے کانپنے لگے تھے…. اسے محسوس ہوا تھا کہ جیسے وہ اس کے قریب نہیں ہے…. اس نے آہستہ آہستہ اپنی گھنی موڑی ہوئ پلکیں اٹھائ تھی…. وہ واقعی نہیں تھا یہاں… وہ وہ واقعی چلا گیا یہاں سے…. اس نے اپنی مٹھی کو کھولا تھا اس کی ہتھیلی نم تھی….. اس نے اپنے ماتھے کو چھوا تھا وہاں بھی پسینہ تھا…. اسے محسوس ہورہا تھا وہ کانپ رہی ہے… اسے اسکی قربت برداشت نہیں ہوئ اس سے پہلے اس کے ساتھ کبھی ایسا ہوا بھی تو نہیں تھا کہ کوئ مرد اس کے قریب آۓ…. علی اور یوشع کے علاوہ وہ آج تک کبھی کسی کے قریب نہیں گئ تھی…. وہ ڈرگئ تھی بہت زیادہ….
گاڑی میں خاموشی چھاگئ تھی…. یوشع کے کان کی لو سرخ ہوئ تھی….. اس نے سائڈ میں کرکے گاڑی کو بریک لگائ تھی…. حماد کی طرف گھوما…
حماد ابراہیم….’ یوشع نے انگلی اٹھائ تھی…..
یوشع پلیز یار کوئ غصہ نہیں’ میں اگر چاہتا تو تم سے یہ بات چھپا بھی سکتا تھا مگر میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میں یہاں سے اپنے دل پر بوجھ لے کر نہیں جاسکتا تھا’ تمھیں سب کچھ سچ سچ بتادیا ہے….”
یوشع نے گہری سانس خارج کی تھی….
حماد اگر آج کے بعد تم نے ماہی تو کیا اگر کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا دوبارہ کیا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا ‘ میں بھول جاؤں گا کہ تو میرا دوست ہے…..”
اففف خدایا’ کیسے سمجھاؤں؟؟؟ یار میں نے کیا کہا ہے کہ میری بھی دو بہنیں ہیں جوکہ ابھی صرف سولہ سترہ سال کی ہے ‘ معصوم ہے ‘ چھوٹی ہے’ تمھیں تو احسان مند ہونا چاہیے میرا کہ اتنی بڑی خبر تمھیں دی ہے’ کیونکہ میں علی کو کچھ نہیں بتاسکتا تھا وہ ماہی کا بھائ ہے اس نے تو مجھے سچ میں مار مار کر آدھا آدھ مرا کردینا ہے اور ویسے بھی یہ بات تو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ جب اپنی بہن بیٹیوں پہ بات آتی ہے تو سب مردوں کی غیرت جاگ جاتی ہے جب انہیں اپنی عزت، اپنی انا ، اپنی غیرت سب یاد آجاتا ہے’ باہر کی بہن بیٹیوں کے ساتھ جتنا مرضی کھیل لے ان کے ساتھ جتنا مرضی برا کرلے جب انہیں کوئ فرق نہیں پڑتا ‘ مگر جب کوئ ان کی بہن پہ گندی نگاہ بھی ڈال لے تو سب کچھ یاد آجاتا ہے انہیں عزت ، انا ، غیرت سب کچھ ‘ تم بھی ایک مرد ہو اور میں بھی’ آج کل ہر مرد کی یہی فطرت بن گئ ہے کہ اپنی بہن بہن ہیں اور دوسروں کی بہنیں کھلونا……”
یوشع کی نظر اب بھی اسی پر جمی تھی……
ہاں میں مانتا ہو میں نے ماہی کے ساتھ جو کیا بہت غلط کیا’ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا’ اس کیلۓ میں شرمندہ ہو ‘ ایم سو سوری…..”
یوشع نے اس پہ سے نظریں ہٹائ تھی…. اسے اس کے سوری سے کوئ سروکار نہیں تھا…. اس کا تو ذہن کہیں اور ہی الجھ چکا تھا…. وہ سیدھا ہوکر بیٹھا….
اففففف خدایا’ اس نے اپنے سر کو تھاما تھا…. سٹئیرنگ پر سر ٹکایا….
یوشع…’ اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا…..
یوشع کا ذہن تو اس وقت
جوڑ توڑ کرنے میں مصروف تھا….
ماہی کیا واقعی تم المیرا سے اس قدر نفرت کرسکتی ہو….” وہ سیدھا ہوا…. سٹیرنگ کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے تھاما…. نظریں بھی سٹیرنگ پر جمی تھی….
مگر کیوں؟؟؟؟ وہ دل میں خود سے مخاطب تھا….
اپنے محبوب کے محبوب سے کبھی محبت نہیں ہوسکتی…’ حماد کی آواز کانوں میں گونجی….
کیا صرف اس وجہ سے کہ میں المیرا سے بے انتہا محبت کرتا ہو” اوو گوڈ…..”
حماد نے ایک بار پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا….
یوشع میرا کام صرف تمھیں آگاہ کرنا تھا ‘ آگے جو کرنا ہے تم نے خود کرنا ہے ‘ میں نے المیرا کو بھی دیکھا ہے المیرا بہت معصوم ہے’ اوپر سے وہ بہادر بنتی ضرور ہے مگر وہ اتنی بہادر ہے نہیں اور شاید وہ اتنی بہادر اس وجہ سے بنتی ہے کہ ہر موڑ پر تم اس کے ساتھ کھڑے ہو’ تمھیں معلوم ہے جس دن تمھاری انگیجمنٹ تھی جب میں المیرا کے روم میں گیا تھا تو وہ رورہی تھی….”
یوشع نے فٹ اس کو دیکھا تھا…. آنکھوں میں حیرت تھی جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو مگر کیوں؟؟؟ کیونکہ المیرا خان کی آنکھوں میں یوشع یوسفزئ کو آنسوں کہاں برداشت ہے….
وہ اپنی ماما کو یاد کرکے رورہی تھی اور ظاہر سی بات ہے خوشی کے موقعوں پر اپنوں کی بہت یاد آتی ہے اور مجھے وہاں جاکے یہ بھی معلوم پڑگیا تھا کہ المیرا ‘ خان انکل سے بھی نہیں بولتی’ کیوں نہیں بولتی؟؟ کیا وجہ ہے؟؟ ایسا کیوں ہے؟؟ یہ سب مجھے نہیں معلوم’ خان انکل کیوں المیرا سے دور ہے مجھے نہیں معلوم’ مگر اتنا تو معلوم ہوگا تمھیں یوشع کہ ایک لڑکی کو بہادر ، مضبوط ، اس کے گھر والے بناتے ہیں ‘ اس کی ماں اسے مضبوط بناتی ہے ‘ چونکہ المیرا کی ماما تو ہے نہیں اور جہاں تک بات ہے خدیجہ آنٹی کی تو انہوں نے کبھی المیرا کو اپنی بیٹی سمجھا ہی نہیں ‘ دوسرا لڑکی کی جو ڈھال ہوتا ہے وہ اس کا بھائ ہوتا ہے چونکہ جہانزیب المیرا سے چار سال چھوٹا ہے اور پھر پچھلے دو سال سے وہ پڑھائ کے سلسلے میں دبئ میں رہ رہا ہے تو اس کو بھائ کا بھی سکھ نہیں کہ وہ اس کی ڈھال بن سکے اور تیسرا انسان باپ ہوتا ہے’ ایک لڑکی کو مغرور ، بہادر ، دنیا سے لڑنے کی ہمت یہ سب چیزیں پتا ہے کہاں سے ملتی ہے؟؟؟ ایک لڑکی کے سر پر رکھے اس کے باپ کے شفقت بھرے ہاتھ سے…. وہ ہاتھ جب تک سر پر رہتا ہے نہ لڑکی بہت بہادر بنی ہوتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے اسکی ڈھال اسکے بابا ہے….” اور اب جبکہ خان انکل نے کبھی اس سے پیار نہیں کیا’ کبھی اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ نہیں رکھا تو کیسے ممکن ہے ایک لڑکی بہادر بن جاۓ ‘ دنیا سے لڑنے کی طاقت اور ہمت اس میں آجاۓ گی ‘ اور ان سب کے بعد ایک لڑکی کو جو مضبوط اور بہادر بناتا ہے وہ اس کا ہمسفر ہے’ اس کا شریک حیات ‘ جو کہ تم بنو گے’ وہ اگر بہادر بنی ہے تو صرف تمھاری وجہ سے’ تم نے اسے ہمت دی ہے….”
یوشع کو یاد آرہا تھا کہ جب وہ پہلی دفعہ المیرا سے ملا تھا وہ بہت ڈرتی تھی’ یہاں تک کہ یوشع سے بھی ڈرتی تھی ‘ یہ بات سچ ہے اسے ہمت دینے والا یوشع ہی تھا ‘ اس نے اسے ہمت دی تھی ‘ اسے بہادر بنایا تھا کہ وہ اب بولنے لگی تھی ‘ یوشع کی محبت نے اسے ہمت دی تھی…. اسے یہ بتایا تھا کہ سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے…. اور اس نے یہ ثابت کرکے بھی دیکھایا تھا اس کی حد سے زیادہ عزت کرکے…. وہ اب تھوڑا بہت لوگوں کا مقابلہ کرنے لگ گئ تھی’ اور یوشع کے سامنے تو اسکی زبان بہت زیادہ چلتی تھی’ مگر کبھی یوشع نے اس کی کسی بات کا برا نہیں منایا…. یہ شاید عشق کا ہی تو اثر تھا اس کی کبھی کوئ بات یوشع کو غلط نہیں لگتی تھی…. اسے تو اس کی ہر ادا کمال کی لگتی ہے…. وہ اگر یوشع کے سامنے بہت بول کر خوش ہے تو ٹھیک ہے وہ بس خوش رہے…. وہ تو بس اسکی خوشی چاہتا ہے…. اور یوشع کا بھی بس نہ چلے وہ تو چوبیس گھنٹے اس کو خود کے سامنے بٹھا کر اس کی بس الٹی سیدھی باتوں کو سن سن کر انجواۓ کرتا رہے…. عشق میں یہی تو ہوتا یے محبوب سے کبھی دل نہیں بھرتا اور نہ ہی اسکی جگہہ کوئ اور لے سکتا ہے…. عشق میں تو محبوب دنیا کا سب سے خوبصورت ترین شخص لگتا ہے…. اور وہ تو پور پور اس کے عشق میں ڈوبا ہوا ہے….
“ہم تو عشق میں اس مقام پر ہے
جہاں کسی اور کو سوچے بھی تو گناہ لگتا ہے”
حماد نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائ تھی…. وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا….
کیا سوچ رہے ہو؟؟؟”
کچھ نہیں بس یہی کہ تم جو کہہ رہے ہو سچ کہہ رہے ہو’ اسکی زبان صرف میرے سامنے چلتی ہے’ تھوڑا بہت وہ اس دنیا کے آگے بول لیتی ہے……”
یوشع اب جو کرنا ہے تم نے خود کرنا ہے….. ماہی کی چالوں کو ناکام کیسے بنانا ہے وہ تم نے خود دیکھنا اور سوچنا ہے’ ماہی دنیا کا مقابلہ کرنا جانتی ہے’ وہ لوگوں کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتی ہے ‘ مگر ایک لڑکی کو قابو کرنا اتنا مشکل نہیں ہے’ اور اس کی مثال کل جو ہوا وہ تمھیں بتا چکا ہو’ وہ واقعی کل بہت ڈرگئ تھی….”
حماد نے ٹائم دیکھا…. یوشع نے اثبات میں سر ہلایا….
اب گاڑی چلالو ٹائم ہوگیا ہے فلائٹ کا ‘ کہیں ایسا نہ ہو فلائٹ چھوٹ جاۓ ‘ اب چلو…..”
یوشع نے گاڑی سٹارٹ کی تھی…. گاڑی میں خاموشی چھاگئ تھی…. کچھ دیر بعد وہ ائیرپورٹ پہنچ چکے تھے…. حماد نے علی کو کال ملائ تھی….
کہاں ہے یار تو؟؟؟”
بس بس آگیا سمجھو پہنچ گیا….”
اوکے….” اس نے فون واپس رکھا تھا….
اب کیا سوچ رہے ہو؟؟؟”
نتھینگ…”
خیال رکھنا یوشع ہوسفزئ میری بہن کا…..” یوشع نے آئبرو اچکائ تھی….
وہ تمھاری بھابھی ہے….”
بھابھی تھی’ آج سے بہن بن گئ ہے….”
اففف خدایا….” یوشع نے اپنے بال نوچے تھے….
یااللّه اور کتنے سالے پیدا ہوگے میرے؟؟؟”
اس نے دعا کی طرح ہاتھوں کو پھیلا کر کہا تھا….
حماد مسکرایا….
اوکے سالے صاحب اور کچھ….” یوشع نے دانت پیس کر کہا تھا….
نہیں جی….”
ایک علی کم تھا کیا جو اب تم بھی شروع ہوگۓ….”
وہ بس مسکرایا….
وہ گاڑی سے اترے تھے… علی بھی پہنچ گیا تھا…. وہ تینوں اندر کی طرف بڑھے تھے….. وہ دونوں اسے سی آف کررہے تھے….
وہ یوشع کے گلے لگا تھا…. کان میں کھسر پھسر کی تھی….
بی کئیر فل….” اگر کبھی بھی میری ضرورت پڑے تو میں حاضر ہو’ کیونکہ ایک دوست ہی دوسرے دوست کے کام آتا ہے’ اور ہاں نا مجھے ماہی میں پہلے انٹرسٹ تھا اور نہ ہی اب ہے’ اب تو بالکل بھی نہیں ہے’ اور ویسے بھی جو میں نے اسکے ساتھ کیا ہے تو وہ مر کر بھی مجھ سے شادی نہ کرے….”
یوشع مسکرایا….” اس کی کمر پر زور کی تھپکی دی تھی…. حماد بھی مسکرایا…. وہ اس سے دور ہٹا تھا…. علی سائڈ میں کھڑا فون پر کسی سے بات کررہا تھا…. وہ بھی اب ان کی طرف بڑھ رہا تھا… وہ علی سے بھی گلے ملا تھا….. ایک بار پھر باری باری دونوں سے مصافحہ کرکے وہ اندر کی طرف بڑھ گیا تھا…… اور وہ دونوں بھی باہر آگۓ تھے… اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگۓ تھے……
*
جاری ہے__
