Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

یوسفزئ جو کراچی کے جانے مانے مشہور بزنس مین تھے…… کتنی ہی برانچز ان کے انڈر کام کرتی ہے’ یوسفزئ ایک بھرپور شخصیت کے مالک تھے’ اوپر سے بالکل چٹان جیسے’ مگر اندر سے وہ ایک چھوٹا نرم سہ دل رکھنے والے انسان تھے’ سب کی مدد کرتے’ ان کا ایک ہی بیٹا تھا ‘یوشع یوسفزئ’ جس نے کبھی اپنے باپ کا سر شرم سے جھکنے نہیں دیا ‘ یوشع نے زندگی کے ہر امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے’ اپنی ذہانیت اور قابلیت کے بل بوتے پر’ یوشع نے اپنے باپ کہ بزنس کو اور زیادہ کامیابی کی منازل پہ چڑھایا تھا’ یوسفزئ اب افس نہیں آتے تھے’ ان کی طبیعت اب اپسیٹ رہنے لگی تھی’ گھر میں آرام کرتے تھے’ یوشع نے بھی سختی سے آفس آنے سے منع کیا تھا’ ساری زمیداری خود اٹھالی تھی’ جب یوشع پندرہ سال کا تھا’ جب ہی یوشع کی والدہ(عائشہ یوسفزئ) خالق حقیقی سے جاملی تھی’ ان کے جانے کے بعد یوشع کو یوسفزئ نے ہی سنبھالا تھا کونکہ وہ اپنی ماں سے بہت اٹیچ تھا’ اور اب یوسف صاحب ہی یوشع کیلۓ سب کچھ تھے’ وہ ان کی صحت کے معاملے میں کوئ کمپرومائیز نہیں کرتا تھا….’

علی عمران جو یوشع کا دوست کم بھائ زیادہ تھا….. یوسف صاحب کے دوست عمران صاحب کا بیٹا تھا….. عمران اور یوسفزئ دونوں ہی بہت اچھے دوست تھے’ ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا بھی بہت تھا’ اس لۓ علی اور یوشع بھی بچپن سے ایک ساتھ تھے…. پھر چاہے وہ کوئ بھی فیلڈ رہی ہو….. عمران صاحب کے دو ہی بچے تھے’ علی عمران اور ماہین عمران’ ماہین گھر میں سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے سب کی لاڈلی تھی…. علی کی تو ایک چھوٹی گڑیا’ علی کی بےجہ محبت نے اسے تھوڑا بہت ضدی اور ہٹ دھرم بنا دیا تھا…..

ماہین یوشع کو دلوجان سے چاہتی تھی…. مگر اس بات کا ابھی تک کسی کو علم نہیں تھا……

_______________________

المیرا خان یوشع کی سیکرٹری تھی’ اور زینب سیال علی کی….. ویسے تو المیرا بہت کم ہی آف کرتی تھی مگر جب بھی کرتی تو یوشع کے کام بھی زینب کو کرنے پڑتے تھے’ اور وہ دن زینب کیلۓ سب سے زیادہ خراب دن ہوتا تھا…..’

یوشع نے ایک کمپنی کے ساتھ ڈیل فائنل کی تھی’ پروجیکٹ شروع کرنے کیلۓ اس نے دوسری کمپنی کے بینک میں زر انویسٹ کرنا تھا’ اس نے المیرا سے کہا تھا زر انویسٹ کرنے کیلۓ’ مگر المیرا سے غلطی سے کسی اور کمپنی کے بنک میں زر انویسٹ ہوگۓ تھے’ وہ کمپنی بہت گھاٹے میں چل رہی تھی’ اس نے زر واپس کرنے سے انکار کیا تھا’ کس طرح سے یوشع نے یہ سارا معاملہ ہینڈل کیا تھا’ واپس کیسے اپنے بنک میں پیسے ٹرانسفر کرواۓ صرف وہی جانتا تھا’ ورنہ کمپنی کو آج المیرا کی غلطی کی وجہ سے بہت بڑا لوژ ہوجاتا’ اسی وجہ سے آج یوشع کا غصہ ساتویں آسمان کو چھورہا تھا……

________________________

یوشع ابھی تھوڑی دیر پہلے گھر آیا تھا’ فریش ہونے کے بعد لاؤنج میں آگیا تھا اتنے میں مین گیٹ سے تن فن کرتی ایک لڑکی اندر داخل ہوئ….

یوشع وہیں کھڑے اسے دیکھ رہا تھا…. مگر اس نے اب تک یوشع کو نہیں دیکھا تھا…. وہ غصے میں سرخ چہرے کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی…… جب چوکیدار کی آواز پہ رکی…. مڑ کر غصے سے اسکو دیکھا…..

کیا ہے؟؟ کیوں روکا ہے؟؟

وہ میم….

بس فیصل تم مجھے یہ بتاؤ کہاں ہے تمھارے صاحب’ آج نہیں بچیں گے وہ دیکھنا’ آج تمھارے صاحب کا قتل ہوکر رہیں گا مجھ سے’ گنجا کرکے رکھ دوں گی’ گھر پر ہی ہے نہ…..

یہ کہتے ہوۓ پورچ کی طرف نگاہ دوڑائ اور ادھر ہی یوشع کی بی ایم ڈبلیو کھڑی نظر آگئ…..

وہ غصے سے گھر کے اندر کی طرف بڑھنے لگی…..

وہ جو وہاں کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا’ غصے سے اس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہا تھا’ گنجے والی بات پر فورا سے پہلے اپنے حسین نرم و ملائم بالوں کو چھوکر دیکھا’ اسے معلوم ہے آج واقعی اسکی خیر نہیں ہے…..

جب یوشع نے دیکھا وہ اسکے قریب پہنچنے لگی ہے…..

وہاں سے دوڑ لگائ تھی کہ کہیں سچ میں اسے گنجا نہ کردے….

وہ بھی اس کے پیچھے بھاگی….

رک جاؤ یوشع کے بچے’ بچو گے نہیں آج تم مجھ سے……

ہاہاہاہا….. میرے بچے نہیں ہیں ابھی….

وہ صوفے کے گرد چکر لگا رہا تھا اور وہ سارے کشن اٹھا اٹھا کر اس پہ پھینک رہی تھی….

جسے وہ بڑی مہارت سے کیچ کرکے یا تو واپس کاؤچ پہ رکھ دیتا یا اسی کے اوپر جوابی حملہ کرتا….

جب کشن ختم ہوگۓ…. ادھر ادھر نگاہ دوڑائ کہ اب کیا چیز مارو’ نظر ٹیبل پر رکھے واس پر پڑی اور اسے ہاتھ میں اٹھالیا…

یوشع کی آنکھیں حیرت کے مارے پھٹی….

ارے پاگل ہوگئ ہو کیا’ اس کو واپس رکھو’ لگ جاۓ گی’ خون نکلے گا…..

وہ اسکی طرف بڑھتا ہوا کہہ رہا تھا….

ہاں ہوگئ ہو پاگل’ اسنے بھی غصے سے کہا…..

یوشع نے واس لے کر اسکو واپس میز پر رکھا….

جارہی ہو’ اب نہیں آؤ گی…. باۓۓ…

وہ مڑی….

یوشع نے اسکی کلائ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا….

وہ جو اس حملے کیلۓ تیار نہیں تھی… گھومتی ہوئ اس کے چوڑے سینے سے آ لگی…..

ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر اس کے گرد اپنے مضبوط بازوؤں کا حصار کیا…..

لیو می یوشع’ آئ سیڈ لیو می…..

خود کو اسکی گرفت سے نکالنے کی کوشش کی…..

نہ کرو یار’ تم جانتی ہو یوشع کی گرفت سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہے’ تو میری جان کیوں خود کو ہلکان کررہی ہو…..

میں نے کہا یوشع چھوڑو مجھے’ لیو می….

ہاہاہا’ اگر نکل سکتی ہو تو نکل جاؤ….

یوشع نے گرفت اور سخت کردی…..

تھوڑی بہت کوششوں کے بعد خود ہی تھک ہار کر اس کے کندھے پر سر ٹکادیا…..

ایم سو سوری میری جان’ فورگیو می’ بیکوز یو نو ویری ویل’ یوشع سب کچھ برداشت کرسکتا ہے’ مگر المیرا خان کی ناراضگی نہیں……’

کندھے سے سر ہٹا کر اس کی طرف دیکھا…..

جو اسی کو مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا مگر المیرا کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر یوشع بے چین ہوا…..

آپ نے مجھے ڈانٹا تھا’ آپ نے کہا آپ مجھے فائر کردے گے’ میں کہیں اور بندوبست کرلو….’

یار المیرا’ ایم سو سوری…..

اچھا دیکھو کان پکڑے….’

یوشع نے ایک ہاتھ سے اسکی کمر کو اور دوسرے ہاتھ سے باقاعدہ طور پر اپنا کان پکڑ کر سوری کہا…..

مگر دوسری طرف بھی المیرا تھی’ کہاں اتنی آسانی سے معاف کرنے والی تھی….’

واپس اسکے کندھے پر سر ٹکا دیا تھا اور وہ جو سمجھ رہا تھا کہ وہ اب ناراض نہیں ہے’ اگلے ہی پل اس کی خوشی غائب ہوگئ….

“کیونکہ المیرا نے اپنے دوپٹے میں لگی پن کو کھول کر پیچھے اسکی کمر میں چبھادی تھی…..

پن کے لگتے ہی یوشع نے چینخ ماری’ اس کی کمر کے گرد سے اپنے بازو ہٹا کر اپنی کمر پہ رکھے’ اور اس طرح وہ اس کی گرفت سے نکل گئ……’

آہ ظالم کونسا جن آگیا ہے تمھارے اندر’ جو تم نے یہ حرکت کی ہے…..

یوشع نے اس کو دیکھا جو اس سے فاصلے پہ کھڑی اسی کو ہنستا ہوا دیکھ رہی تھی…..’

ہاہاہا’ دیکھا ‘ ہاہاہا میں آپکی گرفت سے نکل گئ’

ہاہاہا یوشع منہ دیکھو اپنا…..

یوشع یہ جو آپ نے مجھے صبح ڈانٹا تھا نہ یہ اس کا بدلہ ہے….’

المیرا نے دوڑ لگائ کیونکہ یوشع اب اسکی طرف غصے سے بڑھ رہا تھا……

پہلے والا سین اب بدل چکا تھا….. جہاں تھوڑی دیر پہلے المیرا یوشع کے پیچھے بھاگ رہی تھی’ اب المیرا آگے اور یوشع اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا…..

بھاگتے بھاگتے المیرا کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ کب وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر یوشع کے روم میں پہنچ گئ……’

یوشع نے اس کو اپنے روم میں جاتا دیکھا’ مسکرا کر بالوں پہ ہاتھ پھیرتا اس کو پاگل کے لقب سے نوازتا’ اپنے روم میں اس کے پیچھے پیچھے داخل ہوگیا……’

اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز پہ مڑی….

افففف یہ تو یوشع کا روم ہے…. اب یہاں سے بھاگ بھی نہیں سکتی…..’

اپنے سر پہ ہلکی سی چپت لگائ…..

بیڈ پر پڑا تکیہ اٹھا کر یوشع کو مارا’ کافی دیر یوہی ایک دوسرے کو تکیہ مارنے کے بعد پورے کمرے کا حال بے حال کرنے کے بعد تھک ہار کر دونوں ہی دھپ کرکے بیڈ پر گرے تھے….’ چھت کو گھور رہے تھے’ دونوں نے ایک ساتھ ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے…..’

المیرا ابھی ہنسنے میں ہی مصروف تھی کہ اسکی ہنسی کو بریک یوشع کے قریب آنے پر لگی…..’

المیرا کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر اس کے جانے کے سارے راستے بند کردیے…..

جس پہ وہ ایک دم شرماگئ تھی’ اس کے گال شرم و حیا سے لال ہونے لگے تھے….’

کہاں برداشت تھی المیرا کو یوشع کی قربت….’

اور وہ بے خود سا ہوکر اس کو دیکھنے میں مصروف تھا……

بڑی کالی گہری آنکھیں’ جن میں کاجل ڈالا ہوا تھا…. گندمی رنگت’ کالے لمبے بال جو کمر سے نیچے تک جاتے’ پنکھڑی جیسے لب پر لائٹ پنک لپسٹک’ ناک میں سونے کی نتھ’ کانوں میں ہلکے پھلکے ائیر رنگ….’ ہر بار کی طرح آج بھی یوشع کا دل ایک نۓ لے پر دھڑکا دیا تھا…..

وہ بے خود سا اس کی پلکوں کا جھپکنا دیکھ رہا تھا…. جو شرم کے مارے نگاہ نہیں اٹھا پارہی تھی…..’

یوشع پلیز سائڈ میں ہوجاۓ….’

المیرا میری طرف دیکھو…..

اس نے آہستہ آہستہ نظریں اٹھا کر اس کی گہری براؤن آنکھوں میں دیکھا…..

جہاں دنیا بھر کی محبت تھی’ چاہتوں کا ٹھاٹھے مارتہ سمندر تھا…..

المیرا نے پلکیں جھپکالی’ کہاں دیکھا جاتا تھا اسکی آنکھوں میں….’

یوشع نے اپنا ایک ہاتھ اس کے گال پہ رکھ کر اپنے انگوٹھے سے اس کے گال کو مس کیا…..

ایم سوری المیرا’ تم جانتی ہو مجھے میں کام کے معاملے میں کتنا کنزرویٹو ہو’ اس لۓ صبح تمھیں بھی ڈانٹ دیا’ مگر میں وہاں بس صرف تمھارا باس ہو’ اس لۓ جیسے میں وہاں سب کے ساتھ بی ہیو کرتا ہو ‘ ایسے ہی تمھارے ساتھ بھی بی ہیو کیا’ تمھیں ڈانٹا ‘ ایم سو سوری’ آج کے بعد کبھی نہیں ڈانٹوں گا’ پیشانی کو چومہ’ اور سائڈ میں ہوکر اٹھ کر بیٹھ گیا…..’

وہ اب تک ویسی ہی لیٹی اس کے لمس کو اپنی پیشانی پر محسوس کررہی تھی….

مسکرائ’ اور وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئ….

اپنی دھڑکنوں کو معمول پہ لانے کی کوشش کی…..

المیرا اب تو ناراض نہیں ہو..؟؟

میں اب بھی ناراض ہو….

چلو پھر تم خود بتادو’ کیسے مانو گی… کیا کرو’

ہممم تو چلو پھر آئسکریم کھلاؤ ‘ بہت ساری چاکلیٹس دلواؤں اور اس کے بعد ایک اچھا سا ڈنر کرواؤ گے…”

ہھر میں سوچ سکتی ہو’ آپ کو معاف کرنے کے بارے میں….’

اتنا کچھ کروانے کے بعد بھی بس سوچو گی…..’

ہاں تو شکر کرو شوپنگ کا نہیں کہا….

اوو ہیلو’ میں نے شوپنگ کروانی بھی نہیں تھی’ ابھی دو دن پہلے ہی شوہنگ کروائ ہے تمھیں…..’

ہاں تو میں نے نہیں کہا تھا کہ یوشع جی پلیز مجھے شوپنگ کروادے’ آپ خود زبردستی مجھے لے کر گۓ تھے….’

وہ مسکرایا..’

اوکے چلو اٹھو’ چلے….

المیرا مسکراتی قدم قدم چلتی اس کے پاس آئ…..’

یوشع جی….

بہت پیار سے کہا…

جی المیرا جی….

اتنے ہی پیار سے جواب دیا گیا….

یوشع جی…. دونوں ہاتھ کمر پر باندھ کر آگے کی طرف جھکی…..

آگے بھی کچھ بولو نہ المیرا جی….

وہ بھی المیرا کی طرح کھڑا ہوا’ آگے کو جھک کر….’

کہہ دوں….’

جی پلیز جلدی….’

ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کررہے تھے….

یوشع جی آپ نہ….

جی میں نہ….

آپ نہ ‘ آپ نہ….

اففف یار اب آگے بھی تو کچھ بولو…..

یوشع ایسے ہنسا مت کرو’ سچ میں سڑے ہوۓ بینگن لگتے ہو….’ یوشع کو دھکا دے کر دروازے کی طرف بھاگی…..

وہ جو بیچارہ سمجھ رہا تھا کی شاید تعریف کرے گی…..’ مگر ہاۓ رے قسمت’ المیرا کس دن تعریف کرے گی’ کان سننے کو ترس گۓ ہیں….. مگر وہ تعریف نہیں کرے گی….’

المیرا بینگن ہی صحیح مگر آپ اس سڑے ہوۓ بینگن پر ہی دل و جان سے مرتی ہے’ اب جیسا بھی ہو’ برداشت تو کرنا پڑے گا…..

وہ جو دروازے پہ کھڑی اسکی حالت سے محظوظ ہورہی تھی’ یوشع کی بات پر ٹیڑھے میڑھے منہ بناکر’ ہاتھ ہلا کر خوشفہمیاں ہے آپکی’ یہ کہتی روم سے نکل گئ…..

یوشع بھی مسکراتا’ اپنی گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھا کر روم سے نکل گیا….’

سیڑھیوں سے اترتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا جو اس کی کار سے ٹیک لگاۓ اس کا انتظار کررہی تھی….’

یوشع کو معلوم ہی نہ ہوا کب وہ اس کے لۓ اتنی اہم ہوگئ تھی……’

سیڑھیوں سے اتر کر سندس(ملازمہ) کو آواز دی….

جی صاحب…

میں باہر جارہا ہو’ ڈیڈ آجاۓ تو ان کو بتا دینا کہ میں ڈنر کرکے آؤ گا’ وہ ڈنر کرلے میرا ویٹ نہ کرے…..’

وہ جی صاحب کہتی وہاں سے چلی گئ….

یوشع نے المیرا کیلۓ فرنٹ ڈور کھولا’ اسے بیٹھنے کا کہہ کر’ دروازہ بند کرکے خود نے بھی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر گاڑی سٹارٹ کی’ واچ مین نے گیٹ کھولا اور گھر سے نکل گۓ……

*********

یوشع کے گھر سے آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر اسی طرح کے ایک ڈیفینس ایریا میں اس بڑے عالیشان سے بنگلے میں لاؤنج میں ترتیب سے رکھے صوفوں میں سے ایک صوفے پر ایک نوجوان بلیک ٹراؤزر’ ریڈ ٹی شرٹ پہنے رف سے حلیے میں’ دونوں پاؤں اوپر صوفے پہ رکھے سامنے شیشے کی میز پر رکھی آفس کی فائلوں میں جھکا کام کررہا تھا……’ وہ اس رف سے حلیے میں بھی بہت خوبصورت لگ رہا تھا’ تھوڑی دیر بعد اس نے سر اٹھایا تو چہرے کے نقوش واضح ہوۓ…..’

کالی بڑی گہری آنکھیں’ ستواں مغرور ناک’ فرنچ کٹ شیو’ بالوں کا فوجی کٹ’ گلابی لب’ دودھیا رنگت وہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ اور ایک خوبصورت جوان مرد تھا…….’

سامنے میز پر رکھا موبائل رنگ ہوا….. علی نے کال ریسیو کی….

موبائل کان سے لگایا…

دیکھو’ یوشع یوسفزئ میں جب تک تم سے بات نہیں کرو گا’ جب تک تم میری بہن کو نہیں منالوں گے….. ‘ باۓۓے….. غصے سے کہتا موبائل رکھنے لگا تھا کہ یوشع کی آواز پہ رکا…..

ایک منٹ علی عمران’ اپنی سنالی ہے’ اب میری بھی سن لو……’

کہو کیا کہنا ہے’ علی نے منہ بناتے ہوۓ کہا…..

یہی کہ آپ اپنی نوٹنکی بازی بند کردو’ اور جہاں تک آپ کی پیاری بہن المیرا کا سوال ہے…..’

یوشع نے اپنے سامنے بیٹھی المیرا کو دیکھا جو اسی کو مسکراتے ہوۓ دیکھ رہی تھی….. ” تو آپکی پیاری سی’ شرارتی سی بہن مان گئ ہے’ اور وہ میرے سامنے بیٹھی آئسکریم کھانے میں مصروف ہے…..’

علی نے آئبرو اچکائ’ اپنی مسکراہٹ کو روکا…..

میں کیسے یقین کرو کہ میری بہن مان گئ ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے……

کیونکہ میں نے کہا ہے’ تو سچ ہی کہا ہوگا…..’

اور میں تمھارا یقین کیوں کرو کہ تم سچ کہہ رہے ہو…..’

اوکے یہ لو اپنی بہن سے بات کرلو تب تو یقین آۓ گا…..

یوشع نے موبائل المیرا کو دیا…..

سلام کیا…. تمھیں اتنی جلدی کیا ضرورت تھی ماننے کی’ تھوڑی دیر اور ناراض رہ لیتی’ کچھ دن اپنے پیچھے گھوماتی تو اس پاگل کو…..’

المیرا کھل کے مسکرائ……

بھائ آپ جانتے ہیں مجھ سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہا جاتا’

یوشع کو دیکھ کر کہا…..

یوشع کے چہرے پر مسکراہٹ آئ’ دائیں گال پہ پڑتا ڈمپل واضح ہوا’ المیرا کی نظر ڈمپل پر پڑی

“اس ڈمپل پہ تو جان وارتی تھی وہ’ مگر کبھی تعریف نہیں کرے گی”

بامشکل اپنی نظر ڈمپل سے ہٹائ….

جی بالکل میں اچھی طرح جانتا ہو’ میری بہن کیسی ہے’ تم خوش رہو’ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہو تمھارا بھائ بس یہی چاہتا ہے…. اوکے انجواۓ یور آئسکریم’ سی یو ٹومورو…..”

ٹھینک یو بھائ اللّه حافظ…..

کیا کہہ رہا تھا تمھارا پیارا بھائ….

کچھ بھی کہے آپکو اس سے کیا….. زبان چڑائ…. اور وہ دونوں اپنی باتیں کرتے آئسکریم کھانے میں مصروف ہوگۓ……

علی نے بھی مسکراتے ہوۓ موبائل سائڈ میں رکھا…..

ایک خوبصورت براؤن بالوں والی لڑکی دبے قدموں چلتی صوفے کے پیچھے آکر کھڑی ہوئ’ جھک کر علی کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھا…..

علی نے اپنی آنکھوں پر رکھے ہاتھوں کو بنا چھوۓ میری گڑیا کہا….

ماہین عمران ٹیڑھے میڑھے منہ بناتی علی کے ساتھ ہی صوفے پر آکر بیٹھ گئ….

کی چین والا ہینڈبیگ سامنے شیشے کی میز پہ رکھا اور خفگی سے علی کی طرف دیکھا…..

ایک تو میری سمجھ میں نہیں آتی کہ آپکو ہر دفعہ کیسے پتا چل جاتا ہے کہ ‘میں ہو’

جیسے میری گڑیا کو پتہ چل جاتا ہے’ بالکل ایسے ہی مجھے بھی پتا چل جاتا ہے…..

ماہین نے علی کے کندھے پر سر ٹکایا……

علی نے بھی اس کے گرد اپنے مضبوط بازؤں کا حصار کیا’ بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا….

کہاں سے آرہی ہو؟؟؟

اپنی فرینڈ کے گھر سے…..

آپ المیرا سے بات کررہے تھے…..

اس نے سر اٹھایا….

ہاں مگر تمھیں کیسے پتا…..

وہ ایکچوئلی میں نے آپ کی باتیں سن لی تھی…… ماہین نے شرمندہ سا اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے ہوۓ جواب دیا….

تو اس میں شرمندہ ہونے والی کیا بات ہے میری جان….

علی نے ماہی کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا….

دودھیا رنگت’ کالی بڑی آنکھیں’ جو کاجل مسکارے سے لبریز تھی’ گلاب کی پنکھڑی جیسے عنابی لب’ چھوٹی ناک’ بھورے بال جو ایک سائڈ پہ کیے ہوۓ تھے… وہ ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی جو اس وقت بلیک جینز’ اور ٹاپ میں ملبوس تھی…..

علی نے مسکراتے ہوۓ ماہی کے سر پر بوسہ دیا…..

جاؤجلدی سے جاکے فریش ہوکر آجاؤ’ پھر مل کر ڈنر کرتے ہیں….

موم، ڈیڈ تو لیٹ آۓ گے……

اوکے بھائ میں ابھی فریش ہوکر آتی ہو اور وہ اٹھ کر اپنے روم کی طرف چل دی…. علی دوبارہ فائلوں میں بزی ہوگیا…

*********