Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

علی ایمبولینس کو کال کررہا تھا…. ماہی بھی یوشع کے پاس بیٹھی اس کو دیکھ رہی تھی….. اس کا دل یوشع کو دیکھ کر گھبرانے لگا تھا……
علی کا موبائک رنگ ہوا…..
المیرا کالنگ….
اس نے فورا کال ریسیو کی…..
ہیلو المیرا کہاں ہو یار تم؟؟؟مگر دوسری طرف سے جو خبر ملی….
اس نے حیرت سے موبائل کو دیکھا…..
کیا ہوا علی؟؟؟؟
بابا المیرا…..” وہ بہت حیران تھا…..
المیرا کیا؟؟؟؟
اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے….”
واٹ…..”
علی نے سر تھاما…. کس کو سنبھالے…..
ایک طرف جان سے زیادہ عزیز دوست اور دوسری طرف بہن…..
علی کی آنکھوں میں بھی نمی آنے لگی تھی…..
یااللّه یہ کیا ہورہا ہے سب کچھ؟؟؟
اتنی مشکلیں’ ایک ہی ساتھ…..
علی تم المیرا کے پاس جاؤ’ اسے کسی اپنے کی ضرورت ہے’ تم جاکے اس کودیکھو’ کس ہسپتال میں گۓ ہیں کہاں نہیں؟؟ یوشع کو ہم سنبھال لے گے تم جاؤ…..”
عمران صاحب نے کہا…..
علی نے خالی نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھا…..
نہیں میں یوشع کو چھوڑ کر…..”
علی ہوش سے کام لو’ وقت ضائع مت کرو’ المیرا کے پاس جاؤ’ یوشع کو ہم سنبھال لے گے….”
وہ اٹھا تھا……
________

علی پاگلوں کی طرح کوریڈور میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا…..
جس ہسپتال میں المیرا کو لایا گیا… وہی یوشع کو بھی لے آۓ تھے…..
نہ اب تک المیرا کی کوئ خبر دی گئ اور نہ ہی یوشع کی……
ڈاکٹر باہر آۓ…….
ڈاکٹر المیرا……
ان کے سر پر گہری چوٹ آئ ہے’ ہم نے ٹریٹمنٹ کردیا ہے’ وہ خطرے سے باہر ہے’ مگر کوشش کیجے گا کہ انہیں کسی قسم کا کوئ سٹریس مت دیا جاۓ’ ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے…..”
علی نے اثبات میں سر ہلایا…..
ڈاکٹر آگے بڑھ گیا…..
بیٹا’ آرام سے بیٹھ جاؤ….. یوشع کو بھی کچھ نہیں ہوگا…..
ایک ڈاکٹر اور اس طرف آیا تھا….
یوشع…..”
بہتر ہے’ کسی شوک یا سٹریس کی وجہ سے وہ بےہوش ہوۓ تھے’ ابھی کچھ دیر میں ہوش آجاۓ گا ان کو……”
ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہا……
_______

یوشع بیڈ پر لیٹا سر کو دائیں بائیں ہلارہا تھا…..
المیرا…..” وہ اسے پکار رہا تھا….. علی اس کو دیکھ کر اس کے قریب آیا…..
نہنہ نہیں المیرا…. مممت جاؤ….. مجھے چھوڑ کر…..
علی نے اس کے گال تھپتھپاۓ……
یوشع اٹھو……
اس نے جیب سے رومال نکال کر اس کے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا…..
وہ اس سے اپنے ہاتھ چھوڑوا کر اس سے دور جارہی تھی…. وہ صحرا میں کھڑا اس کو پکار رہا تھا….. وہ بھاگے جارہی تھی آگے….. اور وہ بھی ننگے پیر محرا میں بھاگتا اس کو پکاررہا تھا….. اگلے ہی پل وہ اس کی نظروں سے اجھل ہوگئ تھی….. وہ صحرا کے بیچوں بیچ کھڑا اس کو آواز دے رہا تھا……
یوشع اٹھو….” علی نے اسے جھنجھوڑا…..
اس نے آنکھیں کھولی تھی…… خالی نگاہوں سے ہسپتال کو دیکھا….. علی کو دیکھا…..
بڈی…. بڈی وہ وہ جارہی ہے مجھے چھوڑ کر’ اسے روک لو یار’ آئ کانٹ لیو وید آؤٹ ہر’ آئ نیڈ ہر’ میں مرجاؤں گا اس کے بغیر’ اس کو روک لو…..”
وہ روتے روتے کہہ رہا تھا….
یوشع پلیز حوصلہ کر یار…..”
نہیں علی اس کا میرے علاوہ کوئ نہیں ہے’ اسے روک لو….”
یوشع تمھارا ماہی سے نکاح ہوچکا ہے اب بس کردو….”
یوشع کی زبان کو بریک لگی تھی…..
مجھے المیرا کے پاس جانا ہے مجھے نہیں معلوم’ مجھے جانا ہے’ کہاں ہے وہ؟؟؟
وہ بیڈ سے نیچے اترا تھا……
ایک بار پھر اس کا سر گھوما تھا….. علی نے اسے تھاما…..
کہاں ہے وہ بتادے یار؟؟؟ وہ کتنا بےبس ہورہا تھا آج……
علی نے اسے بتادیا……
تمھارے ساتھ والے روم میں…..
سا ساتھ والے رو روم میں ‘ کی کیا مطلب؟؟؟
اس کی آواز لڑکھڑائ تھی…..
اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا’ مگر خطرے سے باہر ہے…..”
یوشع نے سر کو تھاما….
ایکسیڈنٹ
وہ فوراً اس کے روم میں پہنچا…..
ڈور کھولتے ہی وہ وہی رک گیا….. وہ سامنے ہی تو بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹی تھی….. اس کے سر پر پٹی بندھی تھی……
اس کو دیکھتے ہی اس کے کہے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے تھے……
وہ قدم قدم چلتا اس کے بیڈ کے قریب آرہا تھا…… اس کے دونوں طرف اپنے ہاتھ رکھتا اس کی طرف ہلکا سا جھکا تھا…. وہ یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھ تھا…..
کتنی چاہت تھی اس کی کہ وہ اس کو سرخ جوڑے میں سجا دیکھے…… اپنے ارمانوں کی سیج سجاتےا دیکھے….. اپنی چاہت کے رنگوں میں اس کو رنگا دیکھے…. مگر وہ آج اس کو کس طرح دیکھ رہا تھا…. وہ بےسدھ سی پڑی تھی…..
وہ اسے آج آخری بار دیکھ رہا تھا…..
دندلائ آنکھیں….. ان آنکھوں میں آنسوں کے پیچھے چھپا درد…. اس کے کانوں میں آوازیں گونج رہی تھی……
سامنے حشر برپا ہے اور وہ اب تک زندہ ہے…..
اسے تو اپنے ہاتھوں سے اپنی سانسیں کھینچ لینی چاہیے تھی……
دور رہو مجھ سے’ گھن آرہی ہے مجھے تمھارے وجود سے’ نفرت ہونے لگی ہے مجھے تمھارے وجود سے……”
وہ فوراً اس سے دور ہٹا تھا…..
اسے اپنی پہلی ملاقات یاد آئ…. وہ پہلی ملاقات اور یہ آج کی آخری ملاقات…..
تم ایک حوس پرست انسان ہو…..”
یوشع نے نے نفی میں گردن ہلاتے کانوں پر ہاتھ رکھا…..
نہیں میں نہیں…..”
مجھے نفرت محسوس ہورہی ہے یوشع یوسفزئ تم سے……”
کاش کوئ یوشع کے دل کا حال جان سکتا…..
اس کے دل پر جیسے کوئ وقتاً فوقتاً ہتھوڑے سے ضربیں لگا رہا تھا…. سوئیاں چھبورہا تھا……
وہ اس کی طرف لپکا تھا….
وہ اس کی طرف جھکا……
ایک موتی یوشع کی آنکھ سے ٹوٹ کر المیرا کے گال پر لڑھکا….. المیرا کی پلکوں میں جنبش ہوئ……
یوشع نے اس کی گال سے آنسو صاف کیا…..
مجھے گھن آرہی ہے تمھارے وجود سے’ تمھارا ماہی سے نکاح ہوچکا ہے……”
اس نے اپنی ساری سوچوں کو جھٹک کر اپنے پرحدت لب اس کے ماتھے پر رکھے تھے….. المیرا کی انگلیوں میں حرکت ہوئ……
وہ اس سے دور ہٹا…. لمبے لمبے ڈگ بھرتا دروازے تک پہنچا….. وہاں علی چپ چاپ کھڑا اسکی ساری کاروائ دیکھتا رہا…. وہ چپ چاپ نظریں جھکائی اپنے آنسوں کو رگڑتا اس کی سائڈ سے نکل گیا……
علی المیرا کے قریب آیا…..
اس نے آنکھیں کھولی….. اپنے ماتھے کو چھوا….. سر میں درد….
اس نے آنکھیں بند کرکے اس کی خوشبو کو محسوس کیا…. اسے اپنے ماتھے پر بھی اس کا لمس محسوس ہورہا تھا…..
المیرا نے نگاہیں دروازے کی طرف کی…..
وہ ابھی گیا ہے…..” علی نے کہا…..
المیرا نے آنکھیں بند کی……
آنسوں ٹوٹ کر برسے……
المیرا…..”
اس نے آنکھیں کھولی…..
کیسا محسوس کررہی ہو؟؟
اس نے پھر آنکھیں بند کی’ نفی میں گردن ہلائ……
علی نے سہارا دے کر اسے بٹھایا……
وہ اس کے سینے سے لگی……
اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا…..


وہ ائیر پورٹ پہ علی کے سینے پر سر رکھے کھڑی تھی…..
مت جاؤ یار’ ہمارے ساتھ رہو’ کیا میں تمھارا بھائ نہیں؟؟
وہ چپ رہی….
مجھے سے نہیں دیکھا جاۓ گا ان کو کسی اور کے ساتھ…..”
وہاں تمھارا وہ کزن ہوگا…..”
وہ وہاں نہیں ہے’ آؤٹ آف سٹی ہے…….”
المیرا پلیز مت جاؤ نہ یار……”
المیرا کو پھر وہ اپنے آس پاس محسوس ہوا
تھا…. اس نے سینے سے سر اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا…… لوگوں کا رش تھا…. وہ کہی نہیں دیکھا…. اس نے واپس نظریں جھکائ…..
وہ کبھی میرے سامنے نہ آۓ’ میں کبھی ان کی شکل نہیں دیکھنا چاہو گی’ بہت برے ہیں وہ’ محبت کا ڈھونگ رچا ہے انہوں نے بس…..”
یوشع کی آنکھ نم ہوئ…… علی کو بھی معلوم تھا کہ وہ یہی ہے…….
المیرا کیا تمھیں سچ مں ایسا لگتا ہے کہ یوشع ایسا کرسکتا ہے؟؟؟
اس نے نفی میں گردن ہلائ…….
میرا دل یہ بات ماننے پر راضی ہی نہیں ہے……”
پھر بھی تم اسے چھوڑ کر جارہی ہو…..”
وہ ماہی سے نکاح کرچکے ہیں’ مجھے ان دونوں کی زندگی سے دور جانا ہوگا……
اور پھر وہ واقعی چلی گئ……
یوشع سے دور….. بہت دور….. ہمیشہ کیلۓ…… کبھی نہ واپس آنے کیلۓ……
________
مگر کبھی کبھار قسمت کے کھیل بڑے نرالے ہوتے ہیں…. کب کس کی قسمت جاگ جاۓ…. کسی کو کیا پتا چلتا ہے…….
جب اس رب کے فیصلے ہوتے ہیں تو پھر بس کن فیکون ہوتی ہے……
کب کس موڑ پر کسی کو اس کا ہمسفر مل جاۓ….. کیا معلوم پڑتا ہے……
ایسا ہی ان کے ساتھ ہوا تھا…. اس نے کہا تھا کہ زندگی بھر ان کی شکل نہیں دیکھو گی…. مگر آج ان اتنے سالوں بعد ان کی ملاقات ہوئ تھی…. اس نے اس کو دیکھا….. آج اتنے سالوں بعد وہ ایک دوسرے کے روبرو ہوۓ تھے…… آج ایک بار پھر تقدیر نے ان کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا تھا…. ان کی تقدیر کیا کھیل کھیلنا چاہ رہی ہے ان کے ساتھ…. کیا وہ ان کو ملانا چاہ رہی ہے یا کوئ اور موڑ ان کی زندگی میں آنے والا ہے……
ماضی کی یادیں چھٹنے لگی تھی….. وہ اپنے حال میں واپس آگۓ تھے……
حال:
یوشع جب سے آفس کے بعد سے گھر واپس آیا ہے اس نے خود کو کمرے میں قید کرکے رکھ لیا ہے…. وہ دوپہر کا گھر واپس آیا اب رات ہوچکی تھی مگر وہ کمرے سے باہر نہیں آیا….
گھر آکر علی نے زینب کو بھی بتادیا تھا کہ آج انہوں نے المیرا کو دیکھا ہے……
علی’ یوشع کے پاس جاۓ نہ وہ کب تک یوں کمرے میں رہے گے…..”
وہ دونوں لاؤنج میں کھڑے باتیں کررہے تھے…. بچے بھی یہی کھیل رہے تھے……
زینب اس کو ابھی تنہائ چاہیے وہ اس وقت کسی سے بات نہیں کرے گا’ آج اس نے اتنے سالوں بعد المیرا کو دیکھا ہے’ وہ اب تک المیرا کے عشق میں مبتلا ہے’ وہ یوشع سے بات کیے بغیر چلی گئ’ وہ اب تک یوشع کو گنہگار سمجھتی ہے’ اس نے مجھ سے بھی بات نہیں کی’ وہ گاڑی میں بھی خاموش تھا’ اسے اس وقت صرف تنہائ کی ضرورت ہے’ میں اسے ابھی نہیں سنبھال سکتا’ المیرا اسی شہر میں ہے اور ہم سے جھوٹ بولا گیا کہ وہ دبئ میں جہانزین جے ساتھ رہ رہی ہے’ ہم سے جھوٹ بولا گیا کہ وہ لاہور سے جاچکی……”
مگر کب تک وہ یوں کمرے میں قید رہے گے’ مجھے اب ٹینشن ہورہی ہے علی’ پلیز جاۓ ان کے پاس…..”
یوشع کو اگر اب کوئ سنبھال سکتا ہے تو وہ بس ایک ہی بچہ ہے…..”
علی نے نگاہیں ہادی کی طرف پھیری…..
وہ زاور کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا…..
علی نے ٹائم دیکھا…..
بچوں کے سونے کا ٹائم ہوگیا ہے زاور کو لے جاؤ’ ہادی بیٹا ادھر آؤ…..”
کیا کرو گے….”
کچھ نہیں ہادی کو یوشع کے پاس بھیج دوں گا…..”
جی بڑے پاپا…..”
علی نے اسے گود میں اٹھایا……
زینب زاور کو لے کر روم کی طرف بڑھ گئ…..
اس نے اس کے کان میں کھسر پسر کی…..
میرا بچہ اب بابا کو سنبھال لے گا نہ…..”
ہادی نے ہاں میں سر ہلایا…..
ویری گڈ…..”
اس نے اس کو نیچے اتارا……
وہ روم کی طرف بھاگا…..
علی نے یوشع کے روم کا دروازہ کھولا…. پورے کمرے میں اندھیرا… علی نے ساری لائٹس اون کردی……
ہادی کے بالوں میں ہاتھ پھیرا…..
بیسٹ آف لک کہتا روم سے نکل گیا…..
ہادی اپنے بیگ کی طرف دوڑا….. اس میں سے پوئیم بک نکالی…. بھاگ کر بیڈ کی برف آیا…..
بابا….” یوشع آنکھوں پر بازو رکھے بیڈ پر سیدھا لیٹا رہا…..
بابا…. ” ہادی نے ایک بار پھر پکارا…..
یوشع آنکھوں پہ سے بازو ہٹایا….. نگاہیں ہادی کی طرف کی….
ہادی ڈر کر دو قدم پیچھ ہٹا….
یوشع نے اس کا پیچھے ہٹنا محسوس کیا…..
وہ اٹھ کر بیٹھا…. دو انگلیوں سے اپنی آنکھوں کو رب کیا…. اس کی آنکھیں اس وقت لال انگارہ ہورہی تھی…… مانو ان میں آج خون اتر آیا ہو…..
وہ بیڈ سے اتر کر واشروم کی طرف گیا…..
سلیپ پر ہاتھ رکھ کر سر جھکاکر کر کھڑا ہوگیا…..
کچھ پل بعد اس نے نگاہیں اٹھائ…… وہ خوبصورت براؤن آنکھیں جن پر سب مرتے تھے…. وو آنکھیں جن سے کسی نے عشق کیا تھا….. آج ان آنکھوں سے کوئ بھی ڈر سکتا تھا….
تم ایک حوس پرست انسان ہو’ مجھے نفرت ہورہی ہے تم سے’ گھن آرہی ہے مجھے تمھارے وجود سے’ دور رہو مجھ سے…..”
المیرا کے کہہ گۓ الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے…..
اس نے نل کے نیچے ہاتھ کیا…. پانی کی دھار نکلی….. ٹھنڈے پانی کی چھینٹے منہ پر ماری….. چند پل بعد وہ باہر آیا… اب اسکی آنکھیں کچھ بہتر تھی…… اس نے ہادی کو دیکھا… وہ اب زمین پر نظریں جھکائیں بک کو تھامے کھڑا تھا…. یوشع نے اسے گود میں اٹھایا….. بیڈ پر بیٹھا…. بابا آپ ٹھیک ہے؟؟؟
ہان بیٹا مین ٹھیک ہو’ مجھے کیا ہونا ہے….”
آپ کو سبق یاد کرنا ہے؟؟؟”
جی بابا یہ پوئیم مجھے یاد نہیں ہورہی یہ کروادے یاد…..”
یوشع نے پوئیم کو دیکھا…. ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر آئ…. ہادی جس پوئیم کو یاد کروانے کا کہہ رہا ہے وہ اسے اچھی طرح یاد ہے’ یوشع نے خود اسے یاد کروائ تھی…. یوشع جو سمجھ آگئ تھی کہ وہ کس کے کہنے پر یاد کرنے کا کہہ رہا ہے…..”
اس کا ایک چہیتا دوست علی عمران…..
یوشع نے اسے یہ نہیں کہا کہ آپ کو یاد ہے یہ پوئیم…. یوشع نے ایک بار پھر اس کو پوئیم یاد کراودی…. ہادی بھی پوئیم کو یاد کرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا…..
یوشع نے ہادی کے بالوں ہر اپنے لب رکھے…..


رات کا پہر تھا….. یوشع لان میں کھڑا آسمان کو تک رہا تھا….. علی بھی وہی آیا….. اس کی کمر پر ہاتھ رکھا…..
کیا بات ہے جناب آج سونا نہیں ہے کیا’ تین بج رہے ہیں….”
یوشع چپ کھڑا آسمان کو تکتا رہا…..
یوشع…..”
علی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا…..
یوشع سیدھا ہوا… اب اس سے زیادہ وہ اور صبر نہیں کرسکتا تھا…..
وہ علی کے گلے لگا…..
وہ اب تک مجھے گنہگار سمجھتی ہے علی’ اس نے مجھ سے بات نہیں کی’ وہ اسی شہر میں ہے…..”
اب کی بار علی کو چپ لگ گئ تھی….. وہ کیسے اس کے دکھ کم کرے……
آج یوشع رویا نہین تھا اس نے خود پر ضبط کیا تھا… اس کے دل پر آج سوئیاں چبھ رہی تھی……
المیرا خان اب تمھیں واپس آنا ہی ہوگا’ تمھیں اب سب سچ جاننا ہی ہوگا’ اب جو کرو گا میں کرو گا…..”
علی نے دل میں عزم کیا…..
یوشع علی کے گلے لگا رہا…..
***
جاری ہے__

السلام علیکم ریڈرز!!! کیسے ہیں آپ سب؟؟
سب سے پہلے تو بہت بہت زیادہ معزرت ایپی لیٹ دینے کیلۓ…. بہت معزرت اسکی بھی وجہ تھی میری مصروفیات بڑھ گئ تھی بہت زیادہ….. گھر میں پینٹ کا کام چل رہا تھا سارا گھر پھیلا ہوا تھا….. اسی وجہ سے مصروفیات تھی لکھ نہیں پائ…. اور سچی بتاؤ تو لکھ تو لی تھی میں نے مگر میری محنت ضائع بہت ہوئ ہے اس ایپی میں….. 4 سے 5 بار اس ایپی کو لکھا گیا ہے…. اتنی محنت اتنی مصروفیات کے بعد ایپی آپ سب کی خدمت میں حاضر کردی گئ ہے…..
امید ہے ایپی آپ کو پسند آئ ہوگئ بہت زیادہ کیونکہ آپ سب کو اس ایپی کا ہی بہت زیادہ ویٹ تھا کہ ان کی جدائ کیسے ہوئ…. سو ایک پردہ تو ماضی کا اٹھ گیا کہ ان کی جدائ کیسے ہوئ…. اب جو دوسرا پردہ اٹھے گا کہ المیرا کے جانے کے بعد یوشع نے کیسے زندگی گزاری….. ماہی کو اس نے کب اپنایا….. اور ماہی کے ایسی کونسی بیماری تھی جس سے وہ اپنے کیے گناہ کا اس دنیا میں کفارہ ادا کرگئ…..
ان سب رازوں سے پردہ اب بعد میں اٹھے گا…..
اور مجھے بہت بجھے دل کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ مین یہ ناول اب سٹوپ کررہی ہو… جون میں میرے پیپر ہے اور مجھے تیاری بالکل نہیں…. اور مجھے امید ہے آپ سب میرے ساتھ بھرپور تعاون کررے گے….. مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا…… پیپر کے بعد ناول کو آپ کی خدمت میں پیش کیا جاۓ گا…… اور پھر کافی ایپی آپ کو دے دی جاۓ گی…. امید ہے آپ اس ناول کو یاد رکھے گے بھولے گے نہیں……
ایم سو سوری…….
میرے پیپر کیلۓ دعا کیجے گا….. اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا…..
چاند رات کی بہت ساری نیک تمنائیں……
آپ سب بھی ہمیشہ خوش رہے….
چاند رات+ عید کی ڈھیر ساری وشز….. امید ہے آپ ان دنوں کو خوب انجواۓ کرے گے…….
خوش رہے اور خوشیاں بانٹتے رہے…..
آپکی نیو چھوٹی رائیٹر ملائکہ شیخ…….