No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
اگلے دن یوشع اپنے بیٹے کو سکول سے لے کر گھر جارہا تھا…. ابھی وہ راستے میں تھے… جب یوشع نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر کہا…
آج میرے پاس آپ کیلۓ ایک سرپرائز ہے….
ہادی نے چمکتی آنکھوں سے یوشع کو دیکھا…. بےتابی سے پوچھا’
کیسا سرپرائز بابا….
یوشع مسکرایا….
اگر بتادیا تو سرپرائز کیسا…
اووہو…. پھر آپ کب دے گے میرا سرپرائز..؟؟؟
ابھی تھوڑی دیر تک جب ہم گھر پہنچ جاۓ گے…. آپ کا سرپرائز گھر پر ہے…
سچی…
مچی….
پھر تو جلدی جلدی چلے بابا… مجھے سرپرائز دیکھنا ہے…..
ہاہاہاہا…. اب اتنی بھی کیا جلدی ہے گھر جانے کی…. گھر ہی جارہے ہیں…. آرام آرام سے جاۓ گے….
اوو نو بابا…. بس جلدی چلے مجھے سرپرائز دیکھنا ہے…
ہاں ہاں جارہے ہیں…
یوشع نے اس کے بال بگاڑے….
وہ گھر کی طرف روانہ تھے… ہادی اپنے سرپرائز کے بارے میں سوچ رہا تھا…. اور یوشع مسکراتی نظروں سے میرو کو دیکھ رہا تھا…..
*******
وہ گھر پہنچ چکے تھے…. واچ مین نے یوشع کی گاڑی کو دیکھ کر بڑا دروازہ کھول دیا…. گاڑی اس بڑے سے گیٹ سے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی….. یوشع نے ہارن دیا تھا…. اور گھر کے اندر بیٹھے چند لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئ تھی…..
اندر ایک بڑا لان تھا…. لان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا….. ایک سائڈ پہ پورچ بنایا گیا تھا…. جہاں اور دوسری گاڑیاں بھی کھڑی تھی… یوشع نے بھی اپنی گاڑی اسی طرف بڑھادی’ دوسری سائڈ پہ سوئمنگ پول تھا….. ہرا بھرا خوبصورت پھولوں سے سجا یہ لان بہت بڑا اور بہت خوبصورت تھا…..
سوئمنگ پول کے پاس ایک جھولا اور سلائڈ رکھی ہوئ تھی جو ہادی کیلۓ رکھے گۓ تھے….
لان کے بیچ میں کرسیاں رکھی گئ شیشے کی گول میز کے ساتھ…..
وہ اب گاڑی سے اتر چکے تھے…. ہادی فوراً سے پہلے دوڑ کر گھر کے اندر بھاگا تھا اپنے سرپرائز کو دیکھنے…. اس کے پیچھے یوشع اس کا بیگ تھامے مسکراتا ہوا چل رہا تھا….
اندر ایک بڑا سا لاؤنج تھا… جہاں ہر چیز اپنی قیمت کا منہ بولتا ثبوت تھی….. اس لاؤنج میں صوفوں کو بڑی ہی خوبصورت ترتیب سے رکھا گیا تھا….. ایک سلائڈ پہ ایکوریم رکھا تھا’ جس میں بہت ہی خوبصورت سی مچھلیاں تھی….
ہادی لاؤنج میں پہنچ چکا تھا… پہنچتے ہی ایک زوردار کی چینخ ماری تھی…..
زاور….
وہاں کھڑے سب نفوس نے مسکراتے ہوۓ اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھا تھا…..زاور نے بھی ہادی کو دیکھ کر ایک زوردار چینخ ہادی کی ہی طرح ماری….
میرو….
وہ جو اپنے کانوں سے ہاتھ ہٹانے ہی والے تھے….. زاور کے چینخنے پر واپس سے اپنے کانوں کو بند کیا…..
ہادی’ زاور دونوں ہی دوڑکر ایک دوسرے کی طرف آۓ اور زوردار کی جھپی ڈالی…..
کانوں پہ سے ہاتھ ہٹالیے گۓ تھے….
یوشع نے اپنی جان سے زیادہ عزیز دوست علی کو دیکھا’ جس سے اس کے کتنے ہی رشتے نکلتے تھے’ علی نے بھی محبت بھری نظروں سے یوشع کو دیکھا….
یوشع قدم قدم چلتا علی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا… بیگ کو صوفے پر رکھا…..
ہادی’ زاور سے الگ ہوکر بڑے پاپا کرتا علی کی طرف دوڑ کر آیا…. علی نے ہادی کو اپنی گود میں اٹھایا…. گلے سے لگایا…. پھر اس کو پیار کیا…. ساتھ کھڑی زینب نے مسکراتے ہوۓ میرو کے بالوں پہ ہاتھ پھیرا….
بڑی ماما کرتا زینب کی گود میں گیا….. زینب کے دونوں گالوں کو باری باری چوما’ زینب نے بھی اسے بہت سا پیار کیا….
ہادی نے مسکراتے ہوۓ یوشع کو دیکھا….
بابا یہ سرپرائز تھا میرے لۓ….
جی بالکل یہی تھا…. کیسا لگا سرپرائز….
بابا بہت’ بہت’ بہت ہی زیادہ اچھا… مگر آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کی بڑی ماما’ بڑے پاپا آرہے ہیں’ میں نے بھی آپ کے ساتھ جانا تھا ائیرپورٹ پہ…
اگر میں آپکو بتادیتا تو آپکی یہ خوشی کیسے دیکھتا…..
بیٹا میں نے ہی منع کیا تھا آپکے بابا کو کہ ہادی کو مت بتانا….
اووو اچھا…
بڑی ماما’ ذیان کہا ہے…؟؟؟
وہ تو روم میں سورہا ہے…..
اوکے….
ہادی’ زینب کی گود سے نیچے اترا’ زاور کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگائ… سب کی قہقہے بلند ہوۓ….. زینب نے ہادی کا بیگ صوفے سے اٹھایا…. اور ان کے پیچھے چل دی….
___________________
کل جو آفس میں بیٹھے یوشع کے موبائل پہ ‘سویٹ ہارٹ’ کے نام سے کال آئ تھی…. وہ کوئ اور نہیں علی تھا…. جسکا نمبر سویٹ ہارٹ کے نام سی سیو تھا…. علی نے اپنی آمد کا بتایا تھا تاکہ یوشع ائیرپورٹ پہ لینے آسکے….. اور ہادی کو سرپرائز دینے کا پلان بھی علی کا تھا….. جس کی وجہ سے یوشع بہت خوش تھا… اور آج صبح گیارہ بجے یوشع لاہور ائیرپورٹ سے جاکر علی اور اسکی فیملی کو لے آیا تھا…..
______________________
یوشع کھڑا اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا جو سیڑھیوں سے اوپر زاور کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا’ اسکی باتوں سے ہی اسکی خوشی کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا….. علی نے کافی گہری نظروں سے یوشع کو اوپر سے نیچے تک دیکھا’ جو چہرے سے ہی کافی تھکا تھکا لگ رہا تھا…. علی نے یوشع کے کندھے پر ہاتھ رکھا…. یوشع نے مسکراکر علی کو دیکھا اور دونوں ہی صوفوں پر بیٹھ گۓ….
علی کے دل کو کچھ ہوا تھا یوشع کو اس حالت میں دیکھ کر مگر وہ مجبور تھا’ وہ یوشع کو اسکی ساری خوشیاں دینا چاہتا ہے مگر وہ دے نہیں سکتا…..
تم ٹھیک ہو؟؟ یوشع کے چہرے پر نظریں جماۓ پوچھا…
وہ صوفے کی بیک پر سر رکھ کر آنکھیں موندیں بیٹھا تھا…. علی کے سوال پہ آنکھیں کھولی… علی کو دیکھا…. مسکرانے کی کوشش کی’ مگر ناکام رہا….”
کیسا ہوسکتا ہوں..؟؟
علی کے اندر کا گلٹ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا’ جو ان پانچ سالوں میں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا’ اور یہ گلٹ یوشع کو اسکی ساری خوشیاں دے کر ہی ختم ہوگا….
میرا مطلب تمھیں ہرٹ کرنا بالکل نہیں تھا….
علی کے چہرے پر بڑھتی شرمندگی کو دیکھ کر کہا….
علی جبراً مسکرایا…
خوش رہا کرو یوشع تمھیں اس حال میں نہیں دیکھا جاتا…. تم ان چار سالوں میں بہت ویک ہوگۓ ہو…. اس ایک سال میں زیادہ لگ رہے ہو…. کھاتے، پیتے نہیں ہو کیا.؟؟؟ اور تمھاری آنکھیں’ کبھی آئینے میں غور سے خود کو دیکھا ہے’ تمھاری آنکھوں کی نیچے ہلکے پڑرہے ہیں…. تم تیس اکتیس سال کے ہو اور ابھی سے ہلکے… رات کو سوتے نہیں ہو یا کام کا برڈن زیادہ کرلیا ہے….
یوشع نے نظریں چرائ’ واپس صوفے کی بیک سے ٹیک لگائ…. آنکھیں بند کرلی…. چند پل یوہی خاموشی کی نظر ہوگۓ….
“سونا چاہتا ہو مگر نیند نہیں آتی’ گہری نیند سونا چاہتا ہو ایسی کہ دوبارہ پھر کبھی نہ اٹھو’
علی جو اپنے ہاتھوں کو دیکھتا اس کی سن رہا تھا… آخری بات پہ چونک کر یوشع کو دیکھا…”
جو آنکھیں بند کیے بس اپنی کہہ رہا تھا…
غصے سے علی کی آنکھیں سرخ پڑی’ اگر یوشع ان آنکھوں میں دیکھ لیتا تو آگے ایک لفظ نہ بولتا’ مگر وہ اپنی ہی دھن میں پھر بولنے لگا”
علی میں بہت تھک گیا ہو یار….
یوشع نے آنکھیں کھولی’ علی کی طرف نہیں دیکھا’ بس چھت کو گھورے گیا’ یوشع نے علی کی نظروں کو خود پہ محسوس کرلیا تھا اس لۓ اس کی طرف نہ دیکھنے میں ہی عافیت جانی’ وقفہ کے بعد پھر بولنا شروع کیا”
“میں سچ میں بہت تھک گیا ہو’ یہ تنہائ اب کاٹتی ہے’ میں سونا چاہتا ہو’ مگر نیند نہیں آتی’ جب سوچتا ہو کہ میں کیوں زندہ ہو؟؟ میں بھی کیوں سب کے ساتھ اس دنیا سے چلا نہیں گیا..؟؟ تو بس صرف ایک چہرہ میری آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے’ میرہادی’ شاید اس کیلۓ میں زندہ ہو… علی سب چھوڑکر چلۓ گۓ یار… پہلے ماما، پھر مہرو، پھر ماہی اور پھر بابا…. سب چلے گۓ’ مجھے اکیلا’ تنہا چھوڑ کر’ میں بھی ان سب کے پاس جانا چاہتا ہو… سکون کی نیند سونا چاہتا ہو’ بس ہادی کی وجہ سے رک جاتا ہو…..
وہ اب تک نظریں چھت پر جماۓ بول رہا تھا… آواز میں نمی بھی تھی….
میرو تو معصوم ہے’ اس کا کیا قصور ہے’ وہ کیوں یتیموں کی زندگی گزارے’ علی اگر کبھی مجھے کچھ ہوجاۓ تو میرے بیٹے کا خیال رکھنا’ اسے کبھی اس بات کا احساس مت ہونے دینا کہ وہ اب یتیم ہوچکا ہے’ زاور اور ذیان کی طرح اس کا بھی خیال رکھ لینا… اس کو بھی باپ کا پیار دے دینا….”
(“زندگی اتنی دکھی نہیں کہ مرجانے کو جی چاہے
بس کچھ لمحے اتنے دکھ’ اتنی تکلیف دیتے ہیں کہ جینے کو دل نہیں کرتا”
)
انف سٹوپ اٹ…. اگر تم نے اب ایک لفظ بھی اور بولا نا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا یوشع یوسفزئ….’ علی نے غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ غراہ کر کہا….
یوشع نے علی کی طرف دیکھا’ علی نے بھی ان آنکھوں میں جھانکا…
ایک کی آنکھیں غصے سے سرخ تھی’ تو دوسرے کی آنکھوں میں نمی تھی…. بے پناہ اداسی’ تھکاوٹ اور بھی بہت کچھ تھا….
یوشع نے علی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا’ اس کے کندھے پر سر رکھ دیا’ آیک آنسوں ٹوٹ کر علی کے کندھے پر جزب ہوا….
اب کہ علی تھوڑا نرم پڑا….. آرام سے کہا’ مت کیا کرو یار ایسی باتیں’ یہ سب کفرانہ باتیں ہے… کیوں اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگے ہوۓ ہو… ایسی باتیں کرکے کیوں خود کو تکلیف دے رہے ہو…؟؟ کیا میں تمھارا کچھ نہیں لگتا… ہم سب ہے تمھارے ساتھ…… وئ آر آ فیملی ممبرز….
یوشع’ جو چلا گیا اس پہ صبر کرو’ اور جو تمھارے پاس ہے اس پہ شکر کرو’ مگر اس طرح کی باتیں کرکے نہ خود کو تکلیف دو’ اور نہ ہی مجھے….”
“مجھے رب سے کوئ گلا نہیں ہے علی…. بس اب پتا نہیں کیوں دل نہیں لگتا’ جینے کو دل نہیں کرتا…”
کندھے سے سر ہٹا کر علی کو دیکھا’ جو بےبسی سے اسی کو دیکھ رہا تھا….
بچوں کی آواز پہ غموں کی چادر ہٹی… سیڑھیوں کی طرف دیکھا…. جہاں سے زاور اور ہادی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے نیچے اتررہے تھے… اور ان کے پیچھے زینب تھی جو گود میں ذیان کو لیے نیچے اتررہی تھی….
یوشع نے اپنی آنکھوں کو رگڑا’ ان کی نمی صاف کی… علی نے بھی گہرا سانس لے کر خود کو کمپوز کیا….
“بس ایک علی تھا جہاں یوشع خود کو بےبس محسوس کرتا تھا… وہ اپنے رب اور علی کے سامنے اپنا دل ایک کھلی کتاب کی طرح کھول کر رکھ دیتا تھا… وہ علی کے سامنے رولیتا تھا….
بچے آگۓ تھے…. ڈائنگ ٹیبل کی طرف بڑھا گیا… جہاں ملازمہ کھانا لگا رہی تھی… بچے خوش تھے…. ایک دوسرے میں مگن تھے…. زینب بچوں کو کھلارہی تھی… علی اور یوشع کا دل اداس تھا….. کھانے کو دل نہیں کررہا تھا…. دل کو مار کر بڑی ہی بے دلی سے کھانا کھایا گیا…..
“آج اس قدر اداسی ہے کہ
بس بات ملے رونے کو”![]()
_______________________
علی اور یوشع بچپن سے ایک ساتھ تھے…. سکول’ کالج’ یونی اور پھر بزنس ہر جگہ….. بچپن سے گہرے دوست تھے….. ایک دوسرے کیلۓ بھائیوں سے بڑھ کر… ایک دوسرے کیلۓ مرمٹنے کو تیار…. کالج’ یونی دونوں جگہوں میں ان دونوں کی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھی….. ایک دوسرے کی رگ رگ سے واقف…. اور پھر آپس کی یہ دوستی رشتے داری میں بدلی….
یوشع علی کا بہنوئ تھا…. علی ہادی کا سگا ماموں ہے…. مگر ہادی کو بڑے پاپا کہنا علی نے ہی سیکھایا تھا….. علی کا کہنا تھا کہ رشتےداری بعد میں… پہلے ہم ایک دوسرے کے بھائ ہے…. تو چونکہ میں آپسے دو مہینے پانچ دن بڑا ہو تو میں میرو کا تایا لگا… اسی لۓ علی کی ضد پر ہی میرو علی کو بڑے پاپا کہہ پکارتا ہے… اور پھر اسی طرح زاور بھی یوشع کو چھوٹے پاپا کہہ کر بلاتا ہے پھوپھا کہنے کی بجاۓ…..
********
__________________جاری ہے__________________
