Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam E Bandhan (Episode 46)
Rate this Novel
Rasam E Bandhan (Episode 46)
سط نمبر
46
وہ تھکا ہارا بوجھل قدموں سے گھر میں داخل ہوا تھا۔کمرے تک پہنچ کر وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بستر پر بیٹھا تھا۔جہانزیب ارجنٹ فلائیٹ سے پاکستان روانہ ہو چکے تھے۔قانِتہ کا کوئی آفیشل ڈنر تھا جس وجہ سے وہ ابھی تک گھر نہیں آئی تھی۔غزوان کو ہوش نہ رہا تھا کہ وہ اطلاع دے دیتا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ بھی پاکستان روانہ ہو جائے۔اس نے کوشش بھی کی تھی مگر اسے جہانزیب کی طرح فوری فلائیٹ کی ٹکٹ نہیں ملی تھی۔
”دروازہ بند کرنا بھول گئے تم۔“وہ ہشاش بشاش لہجے میں کہتی کمرے کے اندر داخل ہوئی تھی۔بیگ پلنگ پر رکھنے کے بعد وہ اب آئینے کے سامنے کھڑی اپنا بریسلیٹ اور ٹوپس اتار رہی تھی۔
”مورے کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔“غزوان کے الفاظ ابھی لبوں سے آزاد ہوئے ہی تھے کہ سارا کمرہ سناٹے میں ڈوب گیا۔
قانِتہ کے ہاتھ سے بریسلیٹ چھوٹ کر گرا۔وہ تیزی سے پلٹی اور چل کر غزوان تک آئی۔
”کیا کہا تم نے؟“اس کے پاس بیٹھتے قانِتہ نے سراسیمگی سے استفسار کیا۔
”پاپا کو کال آئی تھی۔وہ پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔مجھے بھی جانا ہے قانِتہ۔مجھے مورے کے پاس جانا ہے۔“وہ حواس باختہ اسے اپنی بےبسی بیان کر رہا تھا۔وہ اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔
”ٹھیک ہے غزوان۔پلیز ریلیکس ہو جاؤ۔مورے کو کچھ نہیں ہو گا۔“قانِتہ نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا۔
”میں کل صبح ہی روانہ ہو جاؤں گا۔تم گرینی کو یہاں بلا لو۔وہ تمہارا خیال…..“
”میں ساتھ جاؤں گیئں تمہارے۔“غزوان نے چونک کر اسے دیکھا۔”قانِتہ تم اس حالت میں اتنا لمبا سفر طے نہیں کر سکتی ہو اور پھر تمہیں تو پاکستان کے نام سے ہی خوف…..“
”میں تمہارے لیے ہر سفر طے کر سکتی ہوں غزوان۔تم نے میرے لیے اتنا سب کیا ہے،اب اس دکھ میں اکیلا تو نہیں چھوڑ سکتی تمہیں۔ہم ساتھ جائیں گے۔بس تم ہمت مت ہارنا۔“غزوان نے اب کہ اسے دیکھا تو نگاہوں میں احساس تشکر تھا۔قانِتہ کی باتیں اس کے لیے کسی مرہم سے کم ثابت نہ ہوئی تھیں۔وہ اس کی پرواہ کرتی تھی مگر اس سے زیادہ وہ اس کے والدین کی پرواہ کرتی تھی،وہ یہ بات چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا تھا۔
غزوان نے آہستگی سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔یہ تشکر کا اظہار تھا۔وہ اس وقت کمزور پڑ رہا تھا۔ٹوٹ رہا تھا اور اس کی بیوی اس کا بوجھ بانٹ رہی تھی۔اسے سہارا دے رہی تھی جس کی اسے ضرورت تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کی دھوپ میں معنوں گلی کی دیواریں تھکن سے جھکی ہوئی تھیں۔گاڑی آگے کو جاتی پیچھے سڑک پر دھول اڑا رہی تھی۔زخرف فاطمہ نے اپنی عدت کے تمام روز جیل میں ہی گزارے تھے۔اب وہ اس خاتون کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر نئی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی۔
آنکھوں میں نئے خواب سجائے اس نے شیشے کے پار دیکھا تھا اور پھر وہیں ساکت ہو گئی تھی۔دونوں جانب قدیم عمارتیں،بوسیدہ دروازے اور گلی میں جگہ جگہ پھرتی نیم عریاں خواتین….. ارد گرد کہیں سے مدھم ساز بجنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
”یہ کون سی جگہ ہے؟“گاڑی ایک پرانی حویلی کے سامنے رکی۔کھڑکیوں پر گہرے پردے پڑے تھے۔سیڑھیوں پر گلابی چادریں بجھی تھیں۔ساز کی آواز اب قدرے تیز تھی ساتھ نسوانی قہقہوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھی۔
”یہ کوٹھا ہے۔“ایک ادا سے گاڑی سے باہر نکلتے اس خاتون نے کہا۔
”مطلب؟“وہ پھرتی سے دروازہ کھول کر باہر نکلی۔
”مطلب یہ کہ تمہیں یہاں سب ملے گا۔کھانا پینا،نرم بستر،اچھا لباس،زیور سب کچھ۔بس بدلے میں ہر رات اپنی عزت کا سودا کرنا ہو گا۔“خاتون نے اس کی کلائی تھامتے ہوئے کہا۔جو بات اس خاتون کو جیل کے سیل میں بتانی چاہیئے تھی،وہ اب بتا رہی تھی۔
زخرف فاطمہ کی آنکھوں میں خوف نے پنجے گاڑ لیے۔دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔اس کا وجود تھر تھر کانپنے لگا۔
ایک جہنم سے نکل کر دوسرے،دوسرے سے نکل کر تیسرے…..کیا یہی اس کی زندگی تھی؟
اسے تو مرد کو اپنے آگے جھکتے دیکھنا تھا۔کیا یہی ایک راستہ تھا؟آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھر گیئں۔
”نہیں ہر گز نہیں۔میں بکاؤ نہیں ہوں۔نہ اختر اور اور نہ کوئی اور۔زخرف اپنی عزت کا سودا نہیں کرے گی۔“اس نے گو کہ اپنی ہمت کو آواز دی۔ایک قدم اندر رکھ لیتی تو باہر جانا ناممکن ہوتا۔وہ ابھی دہلیز تک نہیں پہنچی تھی لہٰذا ابھی بھی وقت تھا۔
وہ خاتون اب وہاں آئے ایک مرد سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی،یقینا وہ اس کا کوئی گاہک تھا۔
زخرف فاطمہ نے پوری قوت سے اپنا بازو چھڑایا اور سڑک پر دوڑ پڑی۔
”ارے پکڑو اسے۔“زخرف نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔کچھ آدمی،عورتیں اس کے پیچھے آئیں۔اس عمر رسیدہ خاتون گاڑی نے بیٹھ کر زخرف کا پیچھا کیا۔
تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے وہ ایک نکڑ پر مڑی۔گاڑی اب اسے کہیں دکھائی نہ دے رہی تھی۔زخرف دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔سانسیں بے ترتیب جبکہ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے مگر ان آنکھوں میں اب زندگی کی رمق تھی۔اس نے خود کو بچا لیا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ آزادی کا کھل کر جشن مناتی،کسی نے اسے بازو سے دبوچا تھا۔وہ منہ کے بل زمین پر گری۔بازو چھل گیا۔چہرہ اٹھا کر سامنے دیکھا تو اسی عمر رسیدہ خاتون کو پایا۔
”تم خود یہاں آنا چاہتی تھی۔ہم نے کوئی زبردستی نہیں کی۔“اس کے لبوں سے زہر ٹپک رہا تھا۔آنکھوں میں بےحسی تھی۔
”مجھے جانے دو۔میں یہاں کام کرنے آئی تھی۔مجھے نہیں پتا تھا کہ یہاں کیا ہوتا ہے۔“زخرف روتے ہوئے اس عورت کے قدموں میں گر گئی۔”تمہیں اللہ کا واسطہ ہے،مجھے جانے دو۔میں اپنی عزت کی حفاظت کر کے یہاں تک اس لیے نہیں پہنچی کہ خود اسے داؤ پر لگا دوں۔“وہ منتیں کرتی اب سسک رہی تھی۔آزادی کی بھیک مانگ رہی تھی۔
”کہاں جاؤ گی؟“اب کی بار جب اڈھیر عمر خاتون بولی تو لہجہ نرم تھا۔
”کہیں بھی….. کہیں بھی چلی جاؤں گیئں مگر عزت کا سودا نہیں کروں گیئں۔“خاتون تمسخرانہ ہنسی۔
”کوٹھے پر اگر دس مرد آئیں گے تو باہر ہزاروں کی تعداد میں تمہیں نوچنے کو تیار بیٹھے ہوں گے۔فرق اتنا ہے کہ باہر والے تمہیں نوچ کر پھینک دیں گے یا مار دیں گے اور کوٹھے پر آئے گاہک تمہیں اس کام کے پیسے دیں گے۔بتاؤ زخرف،کون سی زندگی چنو گی؟“اب کہ وہ دلچسبی سے ساکت کھڑی زخرف کو دیکھ رہی تھی گو کہ اس کے فیصلے کی منتظر ہو۔
”میں….میں اپنی حفاظت کر لوں گیئں مگر اپنی مرضی سے یہ سب نہیں کروں گیئں۔“زبان لڑکھڑائی مگر عزم پختہ تھا۔
”اگر ایسا ہے تو پھر جاؤ۔“زخرف نے چونک کر نگاہیں اٹھائیں۔وہ خاتون گہرا مسکرا رہی تھی۔زخرف اسے دیکھتی رہی۔غیر یقینی سے،حیرانگی سے۔لمحے جیسے صدی بن گئے۔
”کہا نہ کہ چلی جاؤ۔“زخرف ابھی بھی شاک میں تھی۔کیا جو کانوں نے سنا تھا،وہ سچ بھی تھا؟
اڈھیر عمر خاتون نے دھیرے سے اپنے آنچل میں ہاتھ ڈالا اور ایک تھیلی نکال کر زخرف کو تھما دی۔
”یہ نیلا تھوتھا ہے۔اگر زندگی میں کہیں لگے کہ ”اب بس“ تو اسے کھا لینا۔دوسرا راستہ تمہارے پاس ہماری پناہ گاہ ہے۔جب چاہے آ سکتی ہو۔“زخرف کی نگاہیں اس خاتون کے چہرے پر جم گیئں جو اب پتھر نہیں جلتی راکھ کا ڈھیر بن چکی تھیں۔جو الفاظ منہ سے نکل رہے تھے،ان میں سختی نہیں جلی عزت کا ملبہ تھا۔
”اگر اگلے دو منٹ میں تم یہاں سے نہیں گئی تو پھر ہم تمہیں زبردستی اپنے ساتھ لے جائیں گے۔“یہ الفاظ کسی تیر کی طرح زخرف کے دل میں اترے۔
اس نے لمحہ بھر کو رک کر اس عورت کو دیکھا جس کی آنکھوں میں درد چیخ رہا تھا پھر تھیلی کو مٹھی میں دبایا اور تیزی سے پلٹ گئی۔
زخرف فاطمہ اب بھاگ رہی تھی۔اپنی جان اور اپنی عزت بچا کر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے پہر دھول سے اٹے پاؤں لیے وہ شہر کی گلیوں میں بھٹکتی رہی تھی۔سورج غروب ہوتے ہی سڑکوں پر روشنیوں نے ہالہ بنا لیا مگر زخرف کے دل میں سیاہی کے علاؤہ اور کچھ نہ تھا۔
سفر کہاں سے شروع ہوا تھا۔کہاں ختم ہونا تھا۔فلحال وہ کس موڑ پر تھی۔اسے کچھ معلوم نہ تھا۔
بالآخر ایک ویران پارک میں بنے لکڑی کے بینچ پر وہ بیٹھ گئی۔اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں اور جسم بھوک کی شدت سے کمزور پڑتا جا رہا تھا۔
رات کا خنک پن ہر گزرتی گھڑی کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں ماحول کو خوفناک بنا رہی تھیں۔
زخرف نے اوڑھی چادر اپنے گرد لپیٹی اور بینچ کے کنارے لیٹ گئی۔آنکھوں میں نیند سے زیادہ آنسو تھے۔آسمان میں چمکتے ستاروں کو گنتے ہوئے وہ اپنا ہر قصور یاد کر رہی تھی۔
”میں نے فرہاد کو مارا ہے۔“
”میں نے سماک کو بھی مار دیا۔“اس کا ذہن اس بات کو باآسانی تسلیم کر چکا تھا کہ یہ سب آزمائش نہیں سزا ہے۔
اپنے قصور گنتے گنتے کب اس کی آنکھ لگی،اسے خبر تک نہ ہوئی۔
صبح جب دھند جھٹنے لگی اور شہر نے انگڑائی لی تو زخرف کی آنکھ بھی کھل گئی۔اس کا جسم بھوک سے نڈھال تھا۔خالی معدے کی وجہ سے اسے چکر آ رہے تھے۔
وہ بمشکل بینچ سے اٹھی۔اس کی نظر سڑک کنارے پرانے ٹھیلے پر گئی جہاں ایک آدمی بسکٹ اور چائے بیچ رہا تھا۔لمحہ بھر کو اس کا دل دھڑکا۔ذہن کے پردے پر وہی ڈھابے والے شخص کا عکس لہرایا پھر جب بھوک کی شدت حد سے بڑھی تو اس نے تمام منفی خیالات کو سر سے جھٹک دیا۔
”ضروری نہیں کہ ہر شخص ایک جیسا ہو۔“اس نے گویا خود کو تسلی دی۔
”چچا مجبور ہوں۔کوئی کام دے دو۔“اس نے کمزور اور منت بھری آواز میں التجا کی۔
دوکاندار نے سر تا پیر اس لڑکی کو گھورا جس نے چادر کا ایک کنارہ دانتوں تلے دبا رکھا تھا۔
”ٹھیک ہے لیکن اگر کوئی ہیرا پھیری کی تو پولیس کے حوالے کر دوں گا۔“دوکاندار کو کام کرنے والے کی ضرورت تھی لہذا وہ فوراً مان گیا۔
”نہیں نہیں چچا،میں پوری ایمانداری سے کام کروں گیئں۔“اس کی آنکھوں میں نئی شروعات کی روشنی جگمگائی۔دو دن اس نے دل لگا کر وہاں کام کیا۔بدلے میں اسے ایک وقت کا کھانا مل جاتا تھا اور اجرت کا وعدہ مہینے کے آخر پر تھا۔زخرف اس پر بہت خوش تھی۔وہ سارا دن تھیلے پر کام کرتی اور رات پارک کے بینچ پر گزارتی۔
ابھی زندگی کچھ سہل ہونے ہی لگی تھی کہ تیسرے دن شام کے وقت ایک گاہک آیا۔اس کے چہرے پر خباثت ناچ رہی تھی۔
اس نے زخرف کی کلائی تھام لی۔”ادھر آ بات سن۔“
”میرا ہاتھ چھوڑو۔“اس نے جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھرانا چاہا مگر وہ شخص اس کا ہاتھ چھوڑنے پر تیار ہی نہیں تھا۔
”میں نے کہا،میرا ہاتھ چھوڑو۔“زخرف نے پوری قوت سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور پیچھے ہٹی۔
”تمہارے گھر میں ماں بہن نہیں ہے کیا؟“وہ زور سے چیخی۔
”اے چھوکری!یہ تو کس لہجے میں بات کر رہی ہے؟گاہک ہے وہ۔“دوکاندار نے اسے جھڑکا۔
”یہ میرے ساتھ بدتمیزی کر رہا ہے۔“زخرف کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔لب کپکپانے لگے۔
”اچھے سے جانتا ہوں تم جیسی لڑکیوں کو۔اگر اتنی ہی عزت دار ہو تو گھر سے نکلتی ہی کیوں ہو؟“دوکاندار غصے سے چل کر اس تک آیا اور اسے دھکہ دیا۔زخرف سڑک پر جا گری۔
دوکاندار کے لیے زخرف نہیں گاہک اہم تھا۔
وہ گاہک تحقیر انگیز انداز میں اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا معنوں اس کی بےبسی کا لطف اٹھا رہا ہو۔
چند لوگوں نے پلٹ کر اسے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔
”چلو نکلو یہاں سے۔کوئی کام نہیں ہے۔“زخرف لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھی۔چادر درست کی اور سڑک کی جانب چل دی۔
وہ سڑک پر قدم گھسیٹتی ہوئی جا رہی تھی۔اس کی چادر گرد آلود تھی،آنکھوں میں نمی جبکہ دل میں عجیب سی چھبن تھی۔وہ اپنا سر پکڑے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔آنسو بے آواز آنکھوں سے بہنے لگے۔ذہن میں بہت سے منظر چلنے لگے۔ہر اس انسان کا چہرہ جس نے اسے اذیت دی۔ہر وہ لفظ جس نے اسے تکلیف پہنچائی۔
”بس بہت ہو گیا۔اب بہت ہو گیا۔“اس نے اپنے بال نوچتے ہوئے کہا۔سانسیں تیز ہو گیئں۔اندر کہیں ایک چنگاری بھڑکنے لگی۔وہ اٹھی اور سیدھا اس چائے کی دکان کی جانب بڑھ گئی۔
دوکاندار بے فکری سے کرسی پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔
زخرف تیز قدموں سے چل کر میز تک آئی اور قدرے بلند اور مضبوط لہجے میں کہا۔
”میری دو دن کی اجرت دو۔“دوکاندار نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔
”چل دفع ہو یہاں سے۔کوئی پیسے نہیں ہیں۔“زخرف کی آنکھوں میں اب آگ بھڑکنے لگی۔اس نے اردگرد نظر دوڑائی تو نگاہ ایک طرف پڑی چھری پر جا ٹھہری۔وہی چھری جس سے دوکاندار کچھ دیر پہلے سیب کاٹ کر کھا رہا تھا۔
زخرف نے پھرتی سے چھری اٹھائی اور دوکاندار کی گردن پر رکھ دی۔
”میرے پیسے دو۔“ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی وہ دوکاندار کے چھکے چھرا گئی۔وہاں موجود لوگوں نے حیرانگی سے یہ منظر دیکھا۔یہ منظر ان کی آنکھوں کے لیے نیا تھا۔
”میں نے کہا،میرے پیسے دو۔“چھری پر دباؤ دیتے اب کہ وہ غرائی۔دوکاندار کے چہرے کا رنگ سفید پڑ گیا۔ہاتھ میں موجود چائے کا کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
اس نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا اور پیسے نکال کر زخرف کو تھما دیے۔زخرف فاطمہ نے صرف اتنے پیسے لیے جتنا اس کا حق تھا،باقی کی رقم اس نے دوکاندار کے منہ پر مار دی۔چھری میز پر پٹخ کر جب وہ پلٹی تو اس کے ہاتھ میں وہ چائے کا کپ تھا جو اس نے دوکاندار کے ہاتھ سے جھپٹا تھا۔
چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے وہ تیزی سے اس گاہک کی جانب آئی جس نے اسے چھیڑا تھا۔اس سے پہلے گاہک یا کوئی اور کچھ سمجھ پاتا،زخرف نے چائے کا کپ اس کے منہ پر الٹ دیا۔
اب جس تیزی سے وہ یہاں آئی تھی،اسی تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔سماعتوں سے اس گاہک کی چیخیں اور لوگوں کی سرگوشیاں ٹکراتی رہی مگر آج اس نے کسی چیز کی پرواہ نہ کی۔صبر کا آخری قطرہ آج گر چکا تھا۔
تھوڑا دور آنے پر اس نے ایک نظر ہاتھ میں پکڑے نوٹ کو دیکھا تو دوسری نظر چادر کے ساتھ بندھی اس تھیلی کو۔
”نہ میں حرام موت مروں گیئں اور نہ ذلت کی زندگی جیوں گیئں۔میں اپنا راستہ خود تلاش کروں گیئں۔“اس نے ایک عزم سے کہا اور آگے بڑھ گئی۔زندگی نے اسے آج بڑا سبق سکھایا تھا۔
”لوگ صرف بھوک سے نہیں بےحسی سے بھی مارتے ہیں۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی دن تک زخرف گلی گلی،فٹ پاتھوں اور خالی پارکوں میں بھٹکتی رہی۔کبھی کسی بینچ پر سوتی تو کبھی دو ٹکڑے روٹی کے لیے دن بھر دوڑ دھوپ کرتی۔ایک دن بہت منت سماجت کے بعد اسے ایک کپڑے کی فیکٹری میں کام مل گیا تھا۔وہ سلائی کڑھائی جانتی تھی۔وہاں اس کی ثناء نامی ایک لڑکی سے جان پہچان ہو گئی تھی۔اسے جب زخرف کے ٹھکانے کے بارے میں علم ہوا تو وہ اسے کم کرایے پر اپنے گھر لے گئی۔
وہ ایک کچا اور چھوٹا مکان تھا جس میں ثناء اکیلی رہتی تھی۔دروازے پر لوہے کی زنجیر تھی۔ثناء نے زنجیر ہٹائی اور اندر داخل ہوئی۔زخرف نے اس کی پیروی کی۔
وہ ایک کمرے پر مشتمل چھوٹا سا گھر تھا مگر زخرف کے لیے بہت بڑی نعمت تھا۔
”یکم پر کرایہ مل جانا چاہیے مجھے اور کھانا اپنا اپنا۔“ثناء نے ایک طرف رکھی چھوٹی سی الماری سے سگریٹ نکالا،ماچس جلائی اور پھر کش لگایا۔
”پیو گی؟“اس نے ایک سگریٹ زخرف کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
”نہیں….میں….. نہیں…..“وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔
”ارے پی لو میری جان۔سارے غم بھول جاؤ گی۔“زخرف کچھ دیر تذبذب کا شکار رہی پھر اس نے ثناء کے ہاتھ سے سگریٹ تھام لی اور ڈرتے ڈرتے ایک کش لگایا۔
اس نے سختی سے آنکھیں میچیں۔اس کا سینہ جلنے لگا اور زبردست کھانسی آئی۔
اس کے باوجود بھی اس نے دوسرا کش لگایا۔دھوئیں کا چھوٹا سا دائرہ فضا میں بلند ہوا۔دھوئیں کے دوسری طرف زخرف کا ماضی جلنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کچھ عرصہ بعد)
یہ صبح ہر صبح کی طرح روشن تھی۔آج فیکٹری سے چھٹی ہونے کے سبب وہ صبح صبح پارک آئی تھی جہاں کی آب و ہوا اسے ہمیشہ تازگی کا احساس دلاتی تھی۔
زخرف فاطمہ اب پندرہ سال کی ہو چکی تھی۔وہ درختوں پر بیٹھی چڑیا کو گھور رہی تھی جب بچوں کے شور نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
”ارے پھینکو نہ بال۔“
”ہاں ہاں،ہمیں بال پاس کرواو۔“اس نے بچوں کو چلاتے ہوئے سنا۔نگاہوں نے اس جگہ کا تعاقب کیا جہاں وہ دیکھ رہے تھے۔بینچ پر بیٹھی ایک لڑکی جس سے وہ بچے بال کو کک کرنے کی فرمائش کر رہے تھے۔
زخرف کی نگاہیں اس لڑکی سے ہوتی ہوئی تھوڑی دور ویل چیئر پر جا ٹھہریں۔لمحہ بھر میں اسے سب سمجھ آ گیا۔وہ آگے بڑھی اور اس نے گھما کر لات فٹ بال پر ماری اور فٹ بال ہوا میں اڑتے ہوئے کہیں دور جھاڑیوں میں جا گری۔
”یہ تم نے کیا کیا آپی؟“ایک بچے نے خفگی سے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔وہ زخرف کو اچھے سے جانتے تھے۔وہ اکثر ان کے ساتھ کھیلتی تھی۔
زخرف نے لاپرواہی سے کندھے اچکا دیے معنوں سب اس کے اختیار سے باہر ہو۔بچے اسے گھور کر بال لینے جھاڑیوں کی سمت دوڑ گئے۔
”تمہارے ساتھ کون آیا ہے؟“زخرف نے اس لڑکی سے پوچھا۔
”کوئی نہیں…..میں اکیلی آئی ہوں۔“اس لڑکی نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
زخرف کچھ دیر خاموش رہی پھر بالآخر اس نے کچھ سوچ کر کہا۔
”گھر میں سے کسی کا نمبر دو۔“اپنا موبائل نکالتے ہوئے اس نے بے زاری سے پوچھا۔لڑکی فوراً گڑبڑا گئی۔
”میں اپنے گھر سے بھاگ کر نہیں آئی۔میں سب کو بتا کر آئی ہوں۔“زخرف نے گھور کر اسے دیکھا پھر بینچ کے دوسرے سرے پر ٹک گئی۔
”جانتی ہو یہ علاقہ کتنا خطرناک ہے۔دن دھاڑے چوریاں ہوتی ہیں یہاں۔اگر اس وقت یہاں کوئی چور آ جائے تو کیا کرو گی تم؟“
”میں…..میں پولیس کو کال کروں گیئں۔“
”موبائل ہے تمہارے پاس؟“اس لڑکی نے فوراً اپنی جیب سے موبائل نکالا۔
”کہاں سے چرایا ہے اتنا قیمتی فون؟“
”میرا اپنا ہے۔ڈیڈ نے دلایا تھا مجھے۔“اس نے گو کہ برا منایا تھا۔
”میں نہیں مانتی کہ تمہارا اپنا ہے۔اگر تمہارا ہے تو پھر پاسورڈ بتاؤ۔“اس لڑکی نے بلاتوقف پاس ورڈ بتا دیا۔زخرف نے موبائل کھولا اور سرچ بار میں ”ڈیڈ“ سرچ کیا اور اس نمبر پر لوکیشن بھیج دی۔لڑکی اگرچہ سمجھدار نہ تھی تب ہی اسے علم نہ ہو سکا۔
”جس قدر قیمتی تمہارا لباس اور فون ہے۔یہاں کے لوگ بیچ کھائے گے تمہیں۔یہاں تک پہنچی کیسے ہو؟کون لایا تمہیں؟“
”میں خود آئی ہوں۔میری ویل چیئر الیکٹرک ہے۔“اس نے اس انداز میں بتایا گو کہ بہت فخر والی بات ہو۔زخرف نے ایک نظر ویل چیئر پر ڈالی پھر سر جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
”تم یہیں بیٹھ کر موسم انجوائے کرو۔مجھے اور بھی کام ہیں۔“وہ جانے لگی تو اس لڑکی نے اسے روک لیا۔
”نام تو بتاتی جاؤ اپنا۔تم اچھی لگی ہو مجھے۔پلیز نمبر بھی دے دو۔“وہ حد سے زیادہ معصومیت سے گویا ہوئی تھی۔
”میں اجنبیوں کو اپنا نمبر نہیں دیتی۔اور جہاں تک بات ہے نام کی….“وہ لمحہ بھر کو ٹھہری۔”تو میرا نام فاطمہ ہے۔“پھر جملہ مکمل کیا۔
”او واؤ۔میرے نام میں بھی فاطمہ آتا ہے۔میرا نام نہیں پوچھو گی تم؟“وہ جس قدر پُرجوش انداز میں کہہ رہی تھی،زخرف مسکرائے بنا نہ رہ سکی۔
”کیا نام ہے تمہارا؟“اس نے گردن ترچھی کر کے پوچھا۔
”قانِتہ…..قانِتہ فاطمہ۔“
”اچھا نام ہے۔“وہ مسکرائی اور پھر وہاں سے چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
