Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 29)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 29)
مدھم روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔دیوار پر آویزاں پینٹنگز آسودگی بھرا تاثر دے رہی تھیں۔نرم گداز صوفے پر قانِتہ بیٹھی تھی۔انگلیاں آپس میں الجھی ہوئی تھیں معنوں لفظوں کو تھامنے کی کوشش کر رہی ہو۔چہرے پر الجھن کے آثار تھے۔
سامنے ماہر نفسیات پُرسکون انداز میں اسے سننے کے لیے تیار بیٹھی تھی۔
”کہو قانِتہ،اتنے عرصہ بعد کیسے آنا ہوا؟“قانِتہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔گہری سانس ہوا کے سپرد کی اور سائیکالوجسٹ کی جانب دیکھا۔
”میں ٹھیک ہو گئی تھی ڈاکٹر۔سب ٹھیک ہو گیا تھا مگر اب پھر سے سب برباد ہو رہا ہے۔“اس کا اعتماد قدرے کم لگ رہا تھا مگر آنکھوں میں امید کی دوڑ ابھی زندہ تھی۔
”وہ مجھے نظر آتا ہے۔کہتا ہے کہ بے وفائی کی ہے تم نے۔ٹھیک کہتا ہے،میں نے کی ہے۔محبت کرتی ہوں اس سے،بہت زیادہ……“
”کس سے؟“ماہر نفسیات نے نا چاہتے ہوئے بھی اسے ٹوک دیا تھا۔
”سِماک سے…..“
”اچھا……اور کیا کہتا ہے وہ؟“
”کہتا ہے کہ قتل کر کے بھاگ گئی ہو تم لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔“وہ کہہ کر رکی،ڈاکٹر اس ہی کی جانب متوجہ تھی۔
”کیا واقعی دوسری شادی کر لی ہے؟“اس نے تاسف سے اثبات میں سر ہلایا۔
”خوش نہیں ہو؟“
”نہیں،وہ اچھا انسان نہیں ہے۔میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔بس طلاق چاہیئے مگر وہ نہیں دے رہا لیکن سوچ لیا ہے میں نے،عدالت سے لے لوں گیئں۔“اس کا اعتماد اب بحال ہوتا جا رہا تھا مگر ماتھے پر الجھن کی شکنیں اب بھی برقرار تھیں۔
”اصل مسئلہ کیا ہے؟“
”بہت بڑا مسئلہ ہے ڈاکٹر۔گرینی کہتی ہیں کہ اسے مجھ سے محبت نہیں تھی اور مجھے بھی اس سے محبت نہیں ہے۔میں تو محبت کے میم سے بھی واقف نہیں لیکن یہ جھوٹ ہے ڈاکٹر۔مجھے محبت ہے اور انہیں بھی تھی۔“اس کی آنکھوں میں عجیب سی بے چینی تھی معنوں کسی ان دیکھے سوال کا جواب تلاش کر رہی ہو۔جواب تو وہ تلاش کر ہی چکی تھی مگر کوئی یقین نہیں کرتا تھا۔
”گرینی کو چھوڑ دو،تم صرف اپنی بات کرو۔تمہیں اور کیا کیا لگتا ہے۔“
”مجھے لگتا ہے کہ وہ انسان اچھا تھا بس تجربہ برا تھا۔اس کا بھی اور میرا بھی…..“ڈاکٹر نے بغور اس کے چہرے کا جائزہ لیا پھر آہستگی سے گویا ہوئی۔
”تمہیں یاد ہے قانِتہ،جب پہلی بار تم میرے پاس آئی تھی تو تم نے کیا کہا تھا؟“قانِتہ نے سوالیہ نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا۔ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں مسکرائی۔
”تم نے مجھے ایک ڈائری کے بارے میں بتایا تھا جس پر غانیہ اپنے خواب لکھتی تھی۔جس کے چند صفحات پر تم نے بھی اپنے خواب لکھے تھے۔تم نے مجھے ایک ایک خواب بتایا تھا۔تمہیں یاد ہے؟“
”ہاں مجھے اچھے سے یاد ہے۔“وہ یکدم پرجوش ہوئی تھی۔
”میں شہر جا کر پڑھنا چاہتی تھی۔وردی پہن کر خود کو آئینے میں دیکھنا چاہتی تھی۔مجھے نئے جوتے پہننے کا شوق تھا۔مجھے ایک بار پھر سے بکری کے بچے کے ساتھ کھیلنے کا شوق تھا۔“کمرے کی فضا یکدم تبدیل ہو گئی تھی۔اس کی آنکھوں میں اب جگنو ٹمٹمانے لگے تھے اور لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نے بسیرا کر لیا تھا۔
”میں اپنا ذاتی گھر بنانا چاہتی تھی۔جہاں میں اور میرا بھالو رہتے۔بارش میں کھیلنا چاہتی تھی اور بھی بہت کچھ……بہت لمبی لسٹ ہے۔“وہ ہوا میں ہاتھ لہرا لہرا کر بتا رہی تھی گو کہ اپنے خوابوں کی منظر کشی کر رہی ہو۔
”پھر تم نے سب کیا؟“
”ہاں ناں،میں نے اپنی پڑھائی مکمل کی۔پاکستان سے دبئی اور دبئی سے اسپین تک پہنچ گئی۔اچھی پوسٹ پر جاب حاصل کی،ایک بار پھر پروموشن بھی ہونے والی ہے۔فلیٹ ہے مگر اس کی قسطیں رہتی ہیں۔ایک سال تک وہ بھی پوری ہو جائے گیئں۔“اس کی آنکھوں میں اب امید اور اعتماد کی جھلک تھی۔خواب پورے کرنے کا غرور تھا۔اس سے جو چاہا تھا،حاصل کر لیا تھا۔
”ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔کیا تم سمجھاؤ گی؟“
”جی…..؟“
”تمہارے خوابوں میں کہیں بھی سِماک نہیں ہے۔مجھے یاد ہے تم نے اس دن بھی اپنا،اپنے بیٹے کا،غانیہ اور نوراں کا بھی ذکر کیا تھا مگر سِماک کا نہیں……ایسا کیوں ہے زخرف؟تم سِماک کے ساتھ گھر بنانے کا خواب بھی تو دیکھ سکتی تھی ناں؟“اس کی صرف مسکراہٹ نہیں سمٹی تھی بلکہ چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا تھا۔اندازہ نہیں تھا کہ اس جگہ اس طرح سے چوٹ کی جائے گی۔یہ سوال پوچھا جائے گا۔نجانے کیوں گلے میں گرہیں بندھنے لگیں تھیں۔ڈاکٹر نرم اور پروفیشنل انداز میں اسے ہی دیکھ رہی تھیں گو کہ جواب کی منتظر ہو مگر اس نے کچھ نہ کہا۔کچھ کہنے کے قابل ہی نہ رہی۔
”تمہیں سِماک سے محبت ہے یا تھی؟“ڈاکٹر کے اگلے سوال پر اس نے بلاتوقف نہایت اعتماد سے جواب دیا۔
”ہے۔“گردن رعونت سے اٹھی ہوئی تھی۔سرمئی آنکھوں میں غرور تھا۔
”مجھ سے تو جھوٹ مت کہو زخرف۔“اور یہاں اس کے کندھے جھک گئے۔اسے ہار ماننی پڑی۔کم از کم یہاں وہ جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔
”اوکے فائن!“اس نے ہار مانتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے۔”مجھے نہیں ہے۔“
”شاباش،اب جب تم نے سچ بول ہی دیا ہے تو اصل مسئلہ بتاؤ۔“ڈاکٹر ٹانگ پر ٹانگ جمائے ہاتھ لپیٹے بڑی دل جمعی سے اس سے گفتگو کر رہی تھی۔
”مسئلہ میرا دوسرا شوہر ہے۔میں نے اپنی ساری زندگی خود ڈیزائن کی تھی۔مجھے کب کیا کرنا ہے،اس کا فیصلہ میں نے ہمیشہ خود کیا ہے۔کس سال گریجویشن مکمل ہو گی۔کب کون سی نوکری کرنی ہے۔کب کون سی سکالرشپ کے لیے اپلائی کرنا ہے۔کتنے دن ہوسٹل میں رہنا ہے اور کتنے دن گھر پر……کتنے سال دوبئی میں رہنا ہے اور کتنے سال بارسلونا میں……ہر چیز طے تھی لیکن ایک دن سب الٹ ہو گیا۔وہ اچانک سے آیا اور کہا شادی کرنا چاہتا ہوں تم نے۔انکار کیا تو پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ شادی کر کے ہی دم لیا۔گرینی کو لگتا ہے کہ وہ مجھے اتنی محبت دے گا کہ میں سب بھول جاؤں گیئں۔وہ مجھے heal کر دے گا لیکن ڈاکٹر……“اس نے توقف لیا پھر تھوڑا سا آگے جھکی۔
”میں تو سالوں پہلے خود کو heal کر چکی ہوں۔میری زندگی میں کسی مرد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔گرینی کو لگتا ہے کہ مرد کی محبت میرے گھاؤ بھر دے گی مگر مرد کی محبت ہی کیوں؟کیا میں ایسے خوش نہیں رہ سکتی؟میں ایسے خوش تھی۔مجھے نہ تو خواب آتے تھے نہ زیادہ دوائیوں کی ضرورت پڑتی تھی۔بہتر ہو رہی تھی میں مگر جب سے شادی ہوئی ہے،سب یاد آ گیا ہے۔سارے زخم ہرے ہو گئے ہیں۔غزوان کو دیکھتی ہوں تو سِماک یاد آتا ہے۔اس کی ماں کو دیکھتی ہوں تو بیگم جان یاد آتی ہیں۔اس کے والد کو دیکھتی ہوں تو نادر پلار اور اختر یاد آتے ہیں۔میں یہ رشتہ نہیں نبھا سکتی۔یہ میری ڈیزائن کی ہوئی زندگی سے بہت مختلف ہے۔میں نے تو سوچا تھا ساری زندگی گھومنے پھرنے میں گزار دوں گیئں۔زندگی کے کسی موڑ پر اکیلے پن کا احساس ہوا تو ایک بچی گود لے لوں گیئں مگر سب الٹ ہو گیا۔سب کچھ الٹ ہو گیا۔“کمرے کی روشنی اس کے چہرے پر عکس ڈال رہی تھی۔اس کی پلکوں پر نمی آ ٹھہری تھی مگر اس نے آنسوؤں کو بہنے کی اجازت نہ دی تھی۔وہ ٹوٹی ہوئی نہیں تھی بس تھکی ہوئی تھی۔
”قانِتہ،اگر ہم اپنی زندگی خود ڈیزائن کر سکیں تو پھر تو ہر انسان ہی کامیاب ہے۔بہت سی چیزیں ہماری منشاء کے بغیر ہوتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ غلط ہوں۔قسمت بھی کسی چیز کا نام ہے۔“وہ اپنے ناخن سے مسلسل صوفہ کھرچتی ڈاکٹر کو سن رہی تھی۔اس کی سرخ آنکھوں میں چمکتے آنسو اس کے حوصلے کے گواہ تھے۔اس کے چہرے پر ایک ٹھہراؤ تھا جیسے کسی مضبوط انسان کے چہرے پر ہوتا ہے۔
اگر اس وقت گرینی یہاں ہوتی تو یقیناً قسمت کی جگہ اللہ کا ذکر کرتیں مگر دیار غیر میں غیر مسلم ڈاکٹر کے منہ سے قسمت کا لفظ سننا ہی مرہم سے کم نہ تھا۔ہر چیز اس کی منشا کے مطابق نہیں ہو سکتی تھی اور نکاح تو اس نے اپنی مرضی سے کیا تھا۔چاہے جذبات کے سمندر میں بہہ کر یا ذہنی الجھن کے دھاگوں میں الجھ کر…… اقرار تو اس نے کیا تھا۔
”تمہارا دوسرا شوہر کیسا ہے؟“چند لمحوں بعد ماہر نفسیات نے پوچھا۔
”عجیب ہے۔“اس نے بلاتوقف کہا۔
”عجیب کیسے؟“
”پتا نہیں بس عجیب ہے۔“اس نے جھنجھلا کر کندھے اچکائے۔
”پھر بھی،کچھ تو بتاؤ۔“ڈاکٹر کے اصرار پر اس نے تھکن سے چور ہو کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی۔غزوان کو سوچتے ساتھ ہی آنکھوں میں مرچیں چھبنے لگیں اور گال غصے سے دہک اٹھے۔وہ یہاں ہوتا تو یقیناً اس کے اس انداز پر ”کیوٹ“ کہہ کر اس کا غصہ سوا نیزے تک پہنچا دیتا۔
”وہ پاگل ہے بلکہ وہ تو….. حقیقی مرد ہی نہیں ہے۔“ٹیک چھوڑ کر وہ کچھ رازداری سے آگے کی جانب جھکی۔ڈاکٹر کے ماتھے پر پہلی بار شکنیں ابھریں اور آنکھوں میں حیرت……
”مطلب……؟“
”مطلب مردوں والی کوئی بات نہیں ہے اس میں۔ذرا بھی رعب نہیں ہے اس کا مجھ پر۔ایک دفعہ تو میں نے اس کے منہ پر کہہ دیا کہ ”نامرد ہو۔“
”پھر…..؟“اس ”پھر“ میں اشتیاق تھا۔
”پھر کیا…..پاگل نے گلے سے لگا لیا۔کہتا ہے سو جاؤ،صبح بات کریں گے۔“ڈاکٹر مسکرائی تھی یا نہیں،بہر حال اسے یہی محسوس ہوا تھا۔
”یعنی غصہ نہیں آتا اسے؟“
”آتا ہے ناں،بہت آتا ہے۔تقریبا روز جھگڑا ہوتا ہے ہمارا۔سرخ آنکھوں سے گھور کر دیکھتا ہے مجھے،جیسے کھا جائے گا۔کہتا ہے کہ ”اس سے آگے ایک لفظ بھی کہا تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہو گا۔“وہ انگلی اٹھا کر تنبیہ کرنے والے انداز میں کہہ رہی تھی معنوں غزوان کے انداز کی نقل اتار رہی ہو۔
”پھر…..؟“ڈاکٹر نے لب دبائے دلچسپی ظاہر کی۔
”پھر کیا میں کھری کھری سنا دیتی ہوں اور وہ میرے ہر جملے پر یہی دہراتا رہتا ہے کہ اس سے آگے کچھ کہا تو بہت برا ہو گا۔“اس نے کہہ کر ایک بار پھر صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی معنوں تھک گئی ہو۔
”بس یہی کہتا ہے وہ؟“وہ اب اسے کرید رہی تھی۔
”نہیں،زیادہ غصہ آتا ہے تو چیزیں اٹھا کر توڑ دیتا ہے لیکن مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔دروازہ پٹخ دیتا ہے مگر کبھی گالی نہیں دی۔کمرے سے باہر چلا جاتا ہے مگر طعنہ نہیں دیتا۔تو پھر ہے نہ پاگل؟“وہ اب ڈاکٹر سے تصدیق چاہتی تھی۔
”اگلی بار آؤ تو اسے ساتھ لے کر آنا۔میں اس کا علاج کر دوں گیئں۔“
”اسے نہیں لا سکتی۔وہ نہیں جانتا کہ میں یہاں آتی رہتی ہوں یا پھر میرا ماضی کیا ہے۔“
”کیوں…..؟اسے کیوں نہیں بتایا۔“
”اپنی کمزوری کسی کے ہاتھ نہیں لگنے دے سکتی۔ہنسے گا مجھ پر۔“
”تم اسے ساتھ لاؤ تو سہی۔میں بات کرنا چاہتی ہوں اس سے۔“
”آپ ساری باتیں مجھ سے کر لیں۔اسے کبھی کچھ نہیں بتاؤں گیئں میں۔“وہ پرعزم تھی۔اپنی دکھ بھری داستان سنا کر غزوان کی ہمدردی لینے کا اس کا کوئی ارادہ نہ تھا۔
”کچھ نہ بتاؤ اسے بس مجھے اس کا نمبر دے دو۔“قانِتہ کو لمحہ بھر کو گہرا صدمہ پہنچا پھر اس نے آنکھیں سکیڑ کر ڈاکٹر کو گھورا۔
”میں اس سے محبت نہیں کرتی مگر وہ بہت کرتا ہے۔میرے علاؤہ کسی اور کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔کہتا ہے کہ غزوان جہانزیب قانِتہ یزدان کا ہے اور بالکل سچ کہتا ہے۔“کیا غرور تھا اس کے لہجے میں۔غزوان سن لیتا تو یقیناً غش کھا کر گر جاتا۔کتنا اعتماد تھا اس کی پری وَش کو اس پر……
ماہر نفسیات کو لمحہ بھر کو سکتہ ہو گیا پھر وہ قدرے سنبھل کر گویا ہوئی۔اس نے اپنے کیرئر میں اس سے پیچیدہ کیسز بھی دیکھے تھے مگر یہ بھی سچ تھا ”کبھی کسی خاتون نے شوہر کا نمبر مانگنے پر مشکوک نگاہوں سے اسے نہ دیکھا تھا۔“خیر،زندگی میں بہت سے تجربے پہلی بار ہوتے ہیں۔
”میں counseling کے لیے کہہ رہی تھی۔“ڈاکٹر نے نرم اور پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
”اس کی counseling میں خود کر لوں گیئں۔“دہکتے رخساروں کے ساتھ وہ اٹھی۔دل میں اس وقت ابال اٹھ رہے تھے۔غزوان سامنے ہوتا تو سر پھاڑ دیتی اس کا مگر افسوس کہ وہ سامنے نہ تھا۔سامنے تو ڈاکٹر بیٹھی تھی۔کم از کم ڈاکٹر کا سر وہ نہیں پھاڑ سکتی تھی۔
”سائکیٹریسٹ سے ملنا ہے مجھے۔“دہلیز پار کرتے کرتے وہ رکی تھی۔
”تمہیں medication کی ضرورت نہیں ہے قانِتہ۔خود سے بھی کوئی دوائی مت لینا۔“آخری جملے میں تنبیہ تھی۔وہ دروازہ پٹخ کر باہر چلی گئی۔
آنکھوں پر سن گلاسز لگا کر،رعونت سے گردن اکڑا کر اس نے کاریڈور سے گاڑی تک کا سفر طے کیا تھا۔اس کے جانے کے بعد بھی ہل کی ٹک ٹک کی گونج دیواروں سے ٹکراتی رہی تھی۔
”ٹھرکی ڈاکٹر……“گاڑی تک پہنچ کر اس نے زور سے ٹھڈا گاڑی کو مارا۔گاڑی کا کچھ نہ بگڑا بس وہ درد سے کراہ اٹھی۔
”منہوس کار……“اس نے غصے سے ہاتھ کا مکا گاڑی کی چھت پر مارا۔اس بار بھی نقصان اس کا ہوا۔”آہ….!“ہاتھ ہلاتی اب وہ کراہ رہی تھی۔
”ہے نہ پھر اس بدتمیز انسان کی کار……“سارا الزام غزوان کے سر ڈال کر اب وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔انجن کے سٹارٹ ہوتے ہی وہ فراٹے سے گاڑی اڑا لے گئی۔
وہ کوئی ذہنی مریض نہیں تھی۔وہ بس ذہنی تناؤ کا شکار تھی۔اس کی زندگی پٹری پر آ چکی تھی پھر اچانک سے غزوان کا اس کی زندگی میں شامل ہونا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔اس کا ماضی دردناک تھا۔اس کی زندگی میں شامل ہر مرد نے اسے رولایا تھا،توڑا تھا……اب کیسے اتنی جلدی کسی مرد پر اعتبار کر لیتی؟
وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی اور سارا غصہ غزوان پر نکلتا تھا۔وہ اس کے لاڈ اٹھاتا تھا۔غلطی نہ ہونے پر بھی اسے مناتا تھا،بس اس ہی چیز نے اسے مزید شہ دے تھی۔وہ خود کو حاکم سمجھنے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے رات ہونے کو تھی اور غزوان گھر نہیں آیا تھا۔قانِتہ کا غصے سے برا حال تھا۔اسے ڈاکٹر کا غصہ غزوان پر نکالنا تھا مگر اسے گھر پر نہ پا کر وہ مزید تپ گئی تھی۔کبھی کبھار اسے خود سمجھ نہ آتا کہ وہ غزوان سے کس بنیاد پر لڑتی ہے۔شاید ان کے مابین رشتے کی بنیاد پر……بس اسے اچھا لگتا تھا جب وہ اپنے سارے کام چھوڑ کر اسے منانے بیٹھ جائے۔
ابھی بھی وہ غصے سے بھری بیٹھی تھی۔پٹرول پر آگ چھڑکنے کا کام غزوان کے میسج نے کیا تھا جو وہ صبح ہی اسے بھیج چکا تھا۔
”زما سپوږمۍ(زما سپوگمئی یا میرا چاند) ضروری کام سے باہر جا رہا ہوں۔رات تک آؤں گا۔ڈنر ساتھ کریں گے جان جاناں۔“ایک دل والے ایموجی کے ساتھ آنکھ ونگ کرنے والا ایموجی بھی تھا۔اسے پہلی بار پڑھ کر قانِتہ کے کانوں سے دھویں نکلنے لگے تھے۔شرم سے نہیں غصے سے……وہ جان بوجھ کر اکثر پشتو میں مسجز کرتا تھا یا پھر کوئی لفظ اور جملہ کہہ دیتا تھا۔وہ مچل اٹھتی تھی پھر اس کے کہے جملے کو ڈی کوڈ کرتی تھی۔(یہ غزوان کا ذاتی خیال تھا)اگر وہ جان جاتا کہ اس کی بیوی کو کتنی پشتو سمجھ آتی ہے اور کتنی بولنی…..تو یقیناً اسے زبردست دھچکہ لگتا۔
”گیا ہو گا کسی لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر۔“ایک بار پھر میسج پڑھ کر اس کا پارہ مزید چڑھ گیا۔موبائل سائیڈ پر پٹخ کر اب وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے گہری گہری سانسیں لینے لگی مگر غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
”کہیں اس ڈاکٹر کے ساتھ تو…..“وہ اب کمرے میں ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہی تھی۔اپنے نیک خیالات کا تذکرہ اگر غزوان کے سامنے کرتی تو یقیناً وہ اسے سیلوٹ پیش کرتا۔آخرکار وہ اپنی جوان خوبصورت بیوی کو چھوڑ کر چالیس سالہ ڈاکٹر کے ساتھ جو ڈیٹ پر گیا تھا۔
”کم بخت ہے بھی تو ہینڈسم…..“اب وہ غصے سے بھپڑی ہوئی ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہی تھی۔سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔طیبہ اور جہانزیب رات کا کھانا کھا چکے تھے۔قانِتہ نے کھانا نہیں کھایا تھا۔غزوان کے میسج کے مطابق انہیں ڈنر ساتھ کرنا تھا۔وہ غیر شعوری طور پر اس کا انتظار کرنے لگی تھی۔
”ہاں تو میں کون سا کسی سے کم ہوں۔“اس نے سر جھٹکا پھر آئینے کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔اس نے اس وقت نائٹ ڈریس پہن رکھا تھا۔دراز قد آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر قانِتہ نے بغور اپنے چہرے کا جائزہ لیا۔دودھیا رنگت،بھرے ہوئے گال اور اس کا پلس پوائنٹ……سرمئی آنکھیں…..
بے دھیانی میں اس نے اپنے بال کھول دیے۔بالوں کو دائیں کندھے پر آگے کی جانب پھیلا کر وہ اب اپنا تفصیلی جائزہ لے رہی تھی۔
”کہیں وزن زیادہ تو نہیں ہو گیا؟“اسے اب اپنے فگر کی فکر ستانے لگی۔چند مزید لمحے آئینے میں اپنا جائزہ لے کر وہ اپنے فگر سے مطمئن ہو ہی گئی تھی۔وہ سلم اور سمارٹ تھی۔لا شعوری طور پر اس نے ایک لپسٹک اٹھا کر لبوں پر لگانی شروع کی۔اسے تو یاد بھی نہ تھا کہ آخری بار کب اس نے خود کا اس طرح تفصیلی جائزہ لیا تھا۔لپسٹک لگانے کے بعد اس نے ایک نظر خود کو آئینے میں جی بھر کر دیکھا۔لبوں پر تبسم آ ٹھہرا۔وہ بےحد پیاری لگ رہی تھی۔بلب کی سنہری روشنی اس کے چہرے پر منعکس ہوتی اسے مزید دلکش بنا رہی تھی۔اس نے دلفریب مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور پھر ایکدم سب ساکت ہو گیا۔ہر سوں اندھیرا سا چھانے لگا۔کان کے پردوں پر کچھ الفاظ ہتھوڑے کی صورت میں بجنے لگے۔
”تم ایک کام کرو، آج رات اختر سے ملنے سٹور میں چلی جانا، باقی میں سنبھال لوں گیئں۔“
”ایسے مت جانا۔کوئی صاف ستھرا لباس پہننا اور اچھے سے بال بنانا۔یہ لو، یہ بھی لگا لینا۔“اس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گا۔عجیب سی گھٹن کا احساس ہوا معنوں اس کا دل کسی نے زور سے مٹھی میں دبوچ لیا۔
”لڑکی جھوٹ کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔اپنے گناہ میرے سر مت ڈالو اور یہ کیا……تم نے میری لپسٹک چرائی ہے؟“وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی۔اپنا آپ نہایت بدصورت لگنے لگا۔ٹشو اٹھا کر فوراً ہونٹوں کو رگڑا اور بال کیچر میں جکڑ لیے۔سرخ پڑتی نگاہوں سے اپنا عکس آئینے میں دیکھا پھر نگاہیں پھیر لیں۔اسے خود سے گھن آ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے تقریباً گیارہ بجے غزوان صاحب کی آمد ہوئی تھی۔قانِتہ کو لاؤنچ میں ٹہلتے دیکھ اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔کیا وہ اس کا انتظار کر رہی تھی؟
”پری وش،تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟“اس نے ہاتھ پھیلا کر قانِتہ کو خود سے لگایا تھا۔وہ تندوری چکن کی مانند پک گئی تھی۔
”کسی فضول شخص نے کہا تھا کہ ڈنر پر لے کر جائے گا مجھے۔“قانِتہ نے اسے خود سے دور دکھیلتے ہوئے غصے سے کہا۔غزوان زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
”وہ تو….. میں بھول گیا۔کیا تم نے کھانا نہیں کھایا؟“اس کے لہجے میں فکرمندی تھی۔
”خود کو کیا پرنس چارمنگ سمجھتے ہو جو تمہارے انتظار میں بھوکی بیٹھی رہوں گئیں؟“وہ آنکھیں سکیڑے سرخ چہرے کے ساتھ غزوان کو ”کیوٹ“ لگی تھی۔صد شکر کہ اس نے اپنے خیالات کا اظہار قانِتہ کے سامنے نہیں کیا تھا۔
”کون سا ضروری کام تھا تمہیں؟“
”وہ بس دوستوں کے ساتھ…..“
”اوہ تو آوارہ گردی کر کے آ رہے ہو۔کھانا تو کھا ہی لیا ہو گا پھر۔“وہ چاہتی تھی کہ وہ کہے ”تمہارے بغیر کیسے کھا سکتا ہوں“ مگر غزوان نے یہاں اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری تھی۔
”ہاں،وہ تو میں نے کھا لیا۔“اس کی مٹھی آہستہ آہستہ بھنچ گئی۔انگلیوں کی پوریں سفید ہو گئیں اور ناخن ہتھیلی میں پیوست ہونے لگے۔اس کی آنکھوں میں خطرناک چمک ابھری تھی معنوں طوفان کے آنے سے پہلے کی پُرسکون فضا……
اس نے جبرا ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا لی اور تیزی سے چلتے ہوئے کچن کی جانب گئی۔فریج کا دروازہ کھینچ کر کھولا اور پانی کی بوتل نکال کر پانی گلاس میں انڈیلا،پھر غٹا غٹ سارا پانی حلق سے اتار لیا۔
”سر میں درد ہو رہا ہے۔میں چینج کر لیتا ہوں تم ایک کپ کافی بنا دو۔“آگ بھڑکانے کے بعد وہ اب وقفے وقفے سے پٹرول کے چھینٹے ڈال رہا تھا۔
”میں کافی بناؤں؟“اس کی سانسیں مدھم مگر گہری تھیں معنوں ہر سانس کے ساتھ اندر موجود لاوا تھوڑا تھوڑا باہر نکلنے کی سعی کر رہا ہو۔غزوان محسوس تک نہ کر سکا کہ اس کی اس جبری مسکراہٹ کے پیچھے کس قدر اشتعال چھپا ہے۔
”ظاہر سی بات ہے۔“لاوا پوری شدت سے پھٹا اور چھناکے کی آواز آئی۔قانِتہ نے زور سے گلاس زمین پر پٹخا۔
”کافی بناتی ہے میری جوتی۔جس اپسرا کے ساتھ تھے نہ سارا دن،اسی سے بنواؤ اور خبردار جو مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی،اگلا گلاس تمہارے سر پر دے ماروں گیئں۔“انگلی اٹھا کر تنبیہ کی اور سلیب کے ساتھ ٹیک لگا کر اندر مزید پکتے لاوے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
غزوان ہکا بکا اس کا منہ تکتا رہ گیا۔چند لمحے تو اسے سمجھ نہ آئی کہ کیسے ری ایکٹ کرے۔وہ غصے میں تھی مگر کیوں؟کچھ دیر پہلے تو وہ مسکرا رہی تھی پھر اب کیا ہو گیا تھا؟اگر وہ باہر کھانا کھا کر آیا تھا تو قانِتہ بھی کھا چکی تھی پھر مسئلہ کیا تھا؟
اس نے سر جھٹکا اور اس کی جانب قدم بڑھانے لگا۔اس کا کام معافی مانگنا تھا۔چاہے غلطی ہو یا نہیں۔وہ اب بھی یہی کرنے جا رہا تھا۔
”قانِتہ…..“غزوان نے اس کا بازو تھاما۔
”چھونا مت۔“اس نے ہاتھ جھٹک دیا۔
”کیا ہوا ہے تمہیں؟“
”دماغ خراب ہو گیا ہے میرا۔“وہ کڑھ کر چیخی تھی۔
”کیا ہم صبح نہیں لڑ سکتے؟“دنیا کی سب سے عظیم غلطی اس نے کر دی تھی۔
”میں لڑتی ہوں تم سے؟ہاں،میں ہی لڑتی ہوں۔میں تو ہوں ہی پاگل۔میں تو دماغ خراب ہے۔تم سب اچھے ہو بس قانِتہ بری ہے۔قانِتہ کو کوئی سمجھتا ہی نہیں ہے۔“نا چاہتے ہوئے بھی اس کی آواز بھرا گئی تھی۔
”کیا ہوا ہے پری وَش؟“غزوان نے اسے خود سے لگانا چاہا مگر اس نے ایک بار پھر اسے جھٹک دیا۔
”بالکل بھی پاس مت آنا۔“وہ سلیب سے ٹیک لگائے اب گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔غزوان کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اس سے کچھ فاصلے پر سلیب سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔
”تم صرف پاگل نہیں ہو بلکہ کسی کام کی بھی نہیں ہو۔“قانِتہ نے چونک کر نگاہیں اٹھائیں،وہ مطمئن کھڑا تھا۔
”دیکھو ذرا،تمہیں تو گلاس توڑنا بھی نہیں آتا۔“غزوان نے افسوس سے گلاس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
”گلاس جب تک کرچی کرچی نہ ہو،مزا نہیں آتا۔“غزوان نے ایک گلاس اٹھاتے ہوئے کہا۔
”میری یونیورسٹی میں ایک لڑکا تھا،ایک دفعہ اس کی وجہ سے مجھے کلاس سے نکالا گیا تھا۔جب بھی یاد آتا ہے بہت غصہ آتا ہے۔“اس نے کہتے ساتھ ہی زور سے گلاس فرش پر پٹخا،گلاس کرچی کرچی ہو گیا۔قانِتہ کا دل سہم گیا۔اس نے خوفزدہ اور حیران کن نگاہوں سے غزوان کی جانب دیکھا۔وہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔”ایسے توڑنے ہیں گلاس۔تم توڑ سکتی ہو ایسے؟“وہ اب چیلنج کر رہا تھا۔
”اس سے اچھا توڑ سکتی ہوں۔“چیلنج قبول کیا گیا تھا۔
”تو پھر توڑو۔“قانِتہ نے گلاس اٹھایا تھا۔”ایسے نہیں…..“غزوان نے فوراً اسے روکا۔
”اس شخص کو سوچو جس پر تمہیں سب سے زیادہ غصہ ہے پھر توڑو۔سوچو کہ اس کے سر پر مار رہی ہو بس میرے بارے میں مت سوچنا۔“آخر میں تنبیہ کی گئی تھی۔قانِتہ نے گہری سانس لے کر آنکھیں بند کیں اور سوچنے لگی۔پہلا خیال اختر کا آیا تھا۔اس کے اندر بہت کچھ ابلنے لگا۔سانسیں بھاری ہو گئیں۔اس نے آنکھیں کھولیں اور کھینچ کر گلاس فرش پر دے مارا۔گلاس ٹوٹنے کی آواز کے ساتھ اس کے دل میں لگی آگ کچھ ٹھنڈی پڑی۔
غزوان لب دبائے اب دیوار کے ساتھ دائیاں کندھا ٹکائے کھڑا تھا۔دونوں ہاتھ باندھ رکھے تھے۔گلاس توڑنے کے بعد قانِتہ نے غزوان کی جانب دیکھا گو کہ اگلا گلاس توڑنے کی اجازت طلب کی ہو۔اس نے کھلے دل سے آنکھوں کے اشارے سے اجازت دی تھی۔
قانِتہ نے ایک بار پھر آنکھیں بند کیں۔اب کی بار اسے سِماک یاد آیا تھا۔
”بے حیا…..“
”جاؤ زخرف،میں نے تمہیں آزاد کیا۔جاؤ دفع ہو جاؤ۔“اس کا چہرہ سرخ ہوتا گیا معنوں خون کھول کر چہرے تک آ پہنچا ہو۔جبڑے سختی سے جکڑے ہوئے تھے۔اس نے دانت پیستے آنکھیں کھولیں اور پوری قوت سے گلاس توڑ ڈالا۔اس بار گلاس کی کرچیاں پہلے سے زیادہ تھیں۔
دل میں سکون سا اتر گیا۔ایک اور گلاس اٹھا کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔اس بار غزوان سے اجازت لینا ضروری نہ سمجھا۔
اب اسے بیگم جان یاد آئیں۔اس وقت وہ سلگتا ہوا انگارہ بن چکی تھی۔کوئی چھوتا تو جل کر راکھ ہو جاتا۔چوتھا گلاس اس نے شگوفہ کے سر پر مارا تھا۔یہاں وہ رکی نہیں تھی۔ہر اس شخص کو ذہن میں لاتی جس نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اسے اذیت سے دو چار کیا تھا اور گلاس توڑ دیتی۔
وہ دس گلاس توڑ چکی تھی۔اب ایک آخری گلاس رہتا تھا۔بارہ کے سیٹ میں سے ایک غزوان نے توڑا تھا اور باقی قانِتہ نے……
آخری گلاس کو ہاتھ میں تھام کر اس نے آنکھیں بند کی تھیں۔کسی کا سایہ آنکھوں کے آگے لہرایا۔ایک آواز کانوں میں گونجی۔
”ایک خوبصورت لڑکی کے لیے خوبصورت پھول۔“اس نے یکدم آنکھیں کھول دیں۔آنکھوں میں تیز چھبتی ہوئی وحشت تھی معنوں منظر زہریلا ہو۔نفرت نے رگ رگ میں اپنا زہر اتار دیا۔اندر جنم لیتا طوفان ہر چیز کو ملیا میٹ کرنے کے لیے تیار تھا۔قانِتہ نے پوری قوت سے گلاس فرش پر پٹخا۔گلاس مکمل طور پر کرچی کرچی ہو گیا۔یہ ضرب باقی دس کی نسبت زیادہ شدید تھی۔
”اگر کبھی پاکستان گئی تو تمہیں ڈھونڈ کر ماروں گیئں۔“اس نے کھڑے کھڑے عہد کیا۔سارا قصور اس لڑکے کا ہی تو تھا۔نہ وہ پھول دیتا،نہ وہ نو سال کی عمر میں بدکردار ٹھہرائی جاتی۔نہ اسے خون بہا کے طور پر دیا جاتا۔نہ کبھی اس کی زندگی میں کوئی سماک یا اختر آتا۔سارا قصور اس ہی لڑکے کا تھا۔
”شکریہ…..“اندر کا لاوا اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔وہ واقعی غزوان کی مشکور تھی۔
”یو ویلکم…..ویسے ان گیارہ لوگوں میں،میں تو نہیں تھا ناں؟“وہ چل کر قانِتہ تک آیا اور اس کے گرد ہاتھ پھیلا کر اسے خود سے قریب کر لیا۔اس بار اس نے کوئی مزاحمت نہ کی۔
سرمئی آنکھوں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا پھر وہ ایکدم ہنس دی۔ہنستے ہنستے نفی میں سر ہلایا۔یہ سچ تھا۔اسے غزوان کا خیال نہیں آیا تھا۔آ ہی نہیں سکتا تھا۔غزوان نے اب تک اسے کوئی چوٹ نہ پہنچائی تھی۔
”کافی بنا دو۔“غزوان نے منت بھرے لہجے میں اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔اس سے پہلے قانِتہ کوئی جواب دیتی،ایک چنگھاڑتی ہوئی آواز پر دونوں میاں بیوی کو زبردست کرنٹ لگا۔
”کیا ہو رہا ہے یہاں؟“یہ آواز طیبہ کی تھی۔غزوان فوراً قانِتہ سے دور ہوا۔قانِتہ خود گڑبڑا گئی۔
طیبہ نے پہلے صدمے سے گنگ فرش کی جانب دیکھا اور پھر بت بنے کھڑے اپنے بیٹے اور بہو کو۔
”کس نے کیا ہے یہ؟“وہ شدید غصے میں تھیں۔قانِتہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے۔
”میں نے توڑے ہیں۔“یہ آواز غزوان کی تھی اور وہ اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔رک کر،ٹھہر کر،صدمے سے،غور سے اور پھر رشک سے……
”دماغ خراب ہے تمہارا؟آدھی رات کو گلاس توڑو گے؟چلو ایک ٹوٹ جاتا ہے،دو ٹوٹ جاتے ہیں۔تم نے تو سارا سیٹ ہی توڑ ڈالا۔پتا ہے کتنے مہنگے گلاس ہیں؟کچھ عقل ہے تم میں؟“وہ اسے اچھی خاصی جھاڑ پلا رہی تھیں اور وہ خاموشی اور نہایت فرمانبرداری سے سب سن رہا تھا۔یہ سچ تھا کہ وہ واقعی بھول گیا تھا،اس گھر میں اس کے ماں باپ بھی رہتے ہیں۔خیر اسے قانِتہ کے آگے کچھ دکھائی کہاں دیتا تھا۔
”اور تم…..“توپوں کا رخ اب قانِتہ کی جانب تھا۔
”روک نہیں سکتی تھی اسے؟شوہر کوئی نقصان کر رہا ہے اور تم چپ چاپ کھڑی دیکھ رہی تھی؟“
”اس نے تو روکا تھا مورے مگر مجھے ہی مزا آ رہا تھا۔باہر لڑائی ہو گئی تھی کسی سے۔سوچا گلاس توڑ کر غصہ اتار لوں۔“اس نے آگے بڑھ کر طیبہ کو گلے سے لگایا تھا۔قانِتہ گنگ سی اسے دیکھتی ہی جا رہی تھی۔اس نے بات قانِتہ تک آنے ہی نہیں دی تھی۔مرد چاہے پچس کا ہو یا پچاس کا……اگر وہ چاہے تو اس کی عورت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔
”مورے میں تو کہتا ہوں،ایک گلاس آپ بھی توڑ دیں۔غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔“اب وہ طیبہ کو چھیڑ رہا تھا۔طیبہ نے خفگی سے اس کا کان مڑوڑا۔وہ کراہ اٹھا تھا۔
”بیوی کے سامنے تو عزت رکھ لیں۔“اس نے معصومیت بھرے انداز میں کہا تھا،طیبہ نا چاہتے ہوئے بھی ہنس دی تھیں۔
”کیا ہو رہا ہے یہاں؟یہ آوازیں کس چیز کی تھیں؟“جہانزیب نیند کی دوائی لے کر نہ سوئے ہوتے تو یقیناً بہت پہلے اٹھ جاتے۔
”اپنے بیٹے کے کرتوت دیکھیں۔سارے کے سارے گلاس توڑ ڈالے۔“وہ اب جہانزیب کو اس کی شکایت لگا رہی تھیں تا کہ وہ اس کی کلاس لیں۔
”کیوں توڑے؟“انہوں نے سیدھا غزوان سے پوچھا۔
”کسی کا سر توڑنے سے بہتر نہیں ہے کہ گلاس ہی توڑ دوں۔“وہ اب اپنا دفاع کر رہا تھا۔
”گھر پر کون گلاس توڑتا ہے؟“طیبہ نے ایک بار پھر اس کی شکایت لگائی۔
”تمہاری مورے بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔آج کے بعد گھر پر گلاس مت توڑنا۔گھر کے باہر توڑنا۔“جہانزیب کے کہنے پر غزوان نے اپنے لب دبا لیے۔
”آپ بھی……“طیبہ نے نہایت برہمی سے انہیں دیکھا جوابا انہوں نے مصالحت والے انداز میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”چھوڑ دو اب۔گلاس ہی تو تھے،اور آ جائیں گے۔چلو سو جاؤ۔رات کافی ہو گئی ہے۔“وہ اب انہیں منا رہے تھے۔غزوان درمیان میں کوئی نہ کوئی پھلجڑی چھوڑ دیتا جس پر طیبہ جھنجھلا جاتیں اور جہانزیب گھور کر اسے دیکھتے پھر وہ ہار ماننے والے انداز میں ہاتھ اٹھا کر سوری کہتا پھر چند لمحوں بعد کوئی نہ کوئی بات کر دیتا۔کچن کاؤنٹر کے اس پار کھڑی قانِتہ حیرت اور رشک سے انہیں دیکھ رہی تھی۔وہ ایک مکمل خاندان تھا۔خوشیوں سے بھرپور ایک پرفیکٹ فیملی……وہ کہیں سے بھی اس خاندان کا حصہ نہیں لگتی تھی۔وہ یہاں مس میچڈ تھی۔اسے یہاں نہیں ہونے چاہیے تھا۔وہ سوچ چکی تھی کہ اسے اب کیا کرنا ہے۔اسے بس کسی بھی طرح غزوان سے علیحدگی اختیار کرنی تھی۔ہاں،اسے یہی کرنا چاہیئے تھا۔
”مجھے سارا کچن صاف چاہیئے۔“یہ آخری تنبیہ تھی،اس کے بعد جہانزیب زبردستی طیبہ کو لے گئے تھے۔
”چلو پری وَش،ہو جاؤ شروع۔گلاس تم نے توڑے ہیں تو صاف بھی اب تم ہی کرو۔میں تو چلا سونے۔“اس نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور کمرے کی سمت بڑھنے لگا جب قانِتہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
”گلاس توڑنے کا مشورہ تم نے دیا تھا تو یہ صاف بھی تم ہی کرو گے۔“اس نے گو کہ غزوان کے سر پر بم پھوڑا تھا۔
”میں….؟“اس نے تصدیق چاہی۔
”ہاں،ذرا جلدی کرنا۔“وہ حکم دے کر جانے لگی تھی جب غزوان نے اس کی کلائی تھام لی۔
”نہ پری وَش،یہ نہ ہو گا۔خاموشی سے سب صاف کرو۔“اس بار لہجہ سخت تھا۔
”سینور غزوان،کیا تم میرے لیے اتنا نہیں کر سکتے؟“
”کیا نہیں کر سکتا؟“اسے معنوں اب بھی یقین نہ آیا تھا۔
”جھاڑو ہی تو لگانا ہے۔“اور یہاں غزوان ساکت ہو گیا۔اس نے حیرت اور صدمے سے قانِتہ کی جانب دیکھا اور پھر کہا۔
”تم یہ کہہ رہی ہو کہ میں…… غزوان جہانزیب اب جھاڑو لگاؤں؟“بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
”اس میں غلط کیا ہے؟“وہ لاپرواہی سے کندھے اچکا گئی تھی۔
”یہ میری مردانگی اور غیرت کو چیلنج ہے۔جان دے دوں گا مگر یہ نہیں کروں گا۔“ٹھیک ہے وہ اس کی محبت تھی مگر اتنا زن مرید تو وہ بھی نہیں تھا۔بیوی کے کہنے پر جھاڑو……سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
قانِتہ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا،یکدم دماغ میں ایک ترکیب آئی اور لبوں پر گہری مسکراہٹ……
وہ چل کر اس کے مزید قریب آئی۔کیچر سے بال آزاد کیے اور ایک جھٹکے سے ہر طرف پھیلا لیے۔سرمئی آنکھیں اس کی جھیل نما آنکھوں میں گاڑھیں اور اس کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا۔غزوان کو اگلی سانس نہ آئی۔
ایک ہاتھ سے اس کا کالر دبوچا اور مسکرا کر پوچھا۔
”ہاں تو کیا کہہ رہے تھے تم؟“اور یہاں وہ پگھل گیا۔موم کا ڈھیر ہو گیا۔اسے اپنی ڈھرکنوں کی آواز کانوں میں سنائی دینے لگی۔اس عورت نے اسے چاروں خانے چت کر دیا تھا۔
”یہی کہ میں کیا میرے اچھے بھی جھاڑو لگائیں گے۔“سارا غرور،سارا وقار،ساری غیرت،ساری مردانگی یہاں آ کر ختم ہو گئی۔زن مریدی تھی تو زن مریدی ہی صحیح……اسے منظور تھی۔
قانِتہ کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔اسے فتح نصیب ہوئی تھی۔اسے ہمیشہ فتح ہی حاصل ہوتی کیونکہ غزوان جہانزیب اس سے جیتنا چاہتا ہی نہیں تھا۔
اسے کام پر لگا کر وہ خود کمرے میں جانے لگی پھر کچھ سوچتے ہوئے رکی،اور پلٹی۔”اچھا سنو…..“
”جی حکم…..“لہجہ طنزیہ تھا مگر قانِتہ کو پھر بھی ہنسی آئی تھی۔
”کچن صاف ہو جائے تو بلا لینا۔کافی بنا دوں گیئں۔“وہ کہتے ساتھ ہی آگے بڑھ گئی۔
”جی احسان ہے آپ کا۔“غزوان کا آخری طنز اس کی سماعتوں سے ٹکرایا۔وہ ایک بار پھر کھلکھلا اٹھی۔
