61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode19)

ائیرپورٹ سے گھر تک کا سفر آسان نہ تھا۔ٹیکسی میں بیٹھے اس نے نجانے کتنی بار قانِتہ کو کالز کی تھیں مگر اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔بارسلونا کی ٹھنڈی شام نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا مگر غزوان کے اندر برپا طوفان کے سامنے یہ سردی کچھ نہ تھی۔
ٹیکسی کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے وہ عمیق سوچوں میں گم تھا۔خیالات کا ریلا اسے ماضی کے لمحات میں بہا لے گیا تھا۔قانِتہ کی ہنسی،اپنے والدین کے لیے محبت…..اس نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی۔
ٹیکسی رکی، غزوان تیزی سے عمارت کے اندر داخل ہوا۔اپارٹمنٹ کے باہر اس کے قدم رکے۔اپارٹمنٹ کا دروازہ آدھ کھلا تھا۔غزوان تیزی سے اندر داخل ہوا۔
لاؤنچ میں ہی اس کا ٹکراؤ گرینی سے ہوا۔وہ غزوان کو دیکھ کر بری طرح گھبرا گئیں۔اسے کم از کم اس وقت یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔
”قانِتہ کہاں ہے؟“اس نے نہایت فکرمندی سے پوچھا۔
”وہ…..وہ سو رہی ہے۔“انہوں نے بمشکل حیرت پر قابو پاتے ہوئے کمرے کی جانب اشارہ کیا۔غزوان کو وہ پہچانتی تھیں۔نا صرف اس کی تصویر دیکھ چکی تھیں بلکہ محمود یزدانی سے اس بارے میں تفصیلی بات بھی ہو چکی تھی۔
غزوان کمرے کی جانب بڑھنے لگا جب گرینی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔
”بیٹا، بہت مشکل سے سوئی ہے۔آپ ابھی مت…..“
”وہ میری بیوی ہے، اسے میری ضرورت ہے۔“وہ کہہ کر رکا نہیں۔گرینی نے بے اختیار سر تھام لیا۔قانِتہ کو غزوان کی ضرورت ہر گز نہیں تھی، کم از کم اس وقت تو بالکل نہیں…..
وہ ہینڈل گھما کر اندر داخل ہوا تو قانِتہ نیم وا آنکھوں سے سامنے ہی کھڑی تھی۔وہ شاید ابھی سو کر اٹھی تھی اور ہاتھ میں پکڑا خالی جگ اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ پانی لینے کے لیے باہر جا رہی تھی۔
”قانِتہ…..“وہ فکرمندی سے اسے پکارتا اس کے قریب جا کھڑا ہوا۔
وہ ویران نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی معنوں پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو۔
”تم….. ٹھیک ہو؟“غزوان نے اسے شانوں سے تھاما۔قانِتہ کا دل معنوں رک گیا۔آنکھوں میں خوف ابھرا۔
”آئی ایم سوری، آئی ایم سو سوری!مجھے تمہارے پاس ہونا چاہیے تھا۔“غزوان نے اسے خود میں بھینچتے ہوئے کہا۔اس اچانک افناد پر قانِتہ کی دھڑکنیں منتشر ہو گیئں۔وہ اس کے گرد مضبوطی سے حصار قائم کیے کھڑا تھا۔شاید کچھ کہہ بھی رہا تھا مگر قانِتہ کا ذہن تو معنوں مفلوج ہو چکا تھا۔
جگ ایکدم اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا۔اگلے لمحہ اس نے پوری قوت سے غزوان کو دور دکھیلا۔آنکھوں میں خون چھلکنے لگا۔
”ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی؟“وہ سرخ چہرے کے ساتھ چیخ اٹھی تھی۔غزوان ابھی اس کے دھکہ دینے والے عمل سے ہی نہیں سنبھلا تھا کہ اس کا انجان لہجہ…….
”میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو؟“اس نے غزوان کو ایک بار پھر پیچھے کی جانب دکھیلا تھا۔
”بغیر اجازت کیسے آئے تم؟“وہ پوری قوت سے دھاڑی تھی۔غزوان ہکا بکا اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔اس کی چیخ و پکار سے گرینی بھی وہاں آ پہنچی۔
”قانِتہ تم کیا……“اس نے کچھ سمجھنے،کچھ کہنے کی کوشش کی مگر قانِتہ کے سر پر خون سوار تھا۔اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا گلاس زور سے زمین پر پٹخا۔
”باہر نکلو۔میرے کمرے سے چلے جاؤ۔اس سے پہلے کہ میں پولیس کو کال کر دوں۔“وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے باہر کا دروازہ دکھا رہی تھی۔غزوان سمجھ نہیں پایا،کیا وہ صدمے میں تھی یا نیند میں؟
”قانِتہ بیٹا…..“گرینی نے اسے کچھ سمجھانا چاہا مگر وہ کچھ سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی۔
”تم جا کیوں نہیں رہے؟کیا تم نہیں جانتے کہ میں ”قانِتہ یزدان“ ہوں۔میری مرضی کے خلاف کوئی مجھے نہیں چھو سکتا۔چلے جاؤ یہاں سے۔“ایک اور گلاس ہاتھ میں اٹھائے وہ غرائی۔نشانہ اب کی بار غزوان کا سر تھا۔
”اوکے،میں جا رہا ہوں۔“غزوان نے دونوں ہاتھ اٹھا کر مصالحت کا جھنڈا لہرایا اور اسی امن کے ساتھ کمرے سے باہر چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد قانِتہ کا اٹھا ہاتھ ایک دم پہلو میں جا گرا۔ہاتھ کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑی اور گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گرا مگر ٹوٹا نہیں۔قانِتہ بےبس سی بستر پر بیٹھ گئی۔سر ہاتھوں میں گرا لیا۔
”قانِتہ،یہ کیا حرکت تھی؟کیا سوچ رہا ہو گا وہ تمہارے بارے میں؟کچھ تو خیال کرو،شوہر ہے تمہارا۔“ہاتھ سر پر سے ہٹائے اور شاک کی کیفیت میں گرینی کی جانب دیکھا۔
”شوہر؟“زیر لب بڑبڑائی۔کوردوبا میں گزارے گئے سارے دن فلیش بیک کی طرح دماغ میں چلنے لگے۔سب سے آخر میں جو چیز یاد آئی،وہ نکاح تھا۔غزوان اور قانِتہ کا نکاح…….
”یا اللہ…..“اس نے ایک بار پھر اپنا سر تھاما۔
”یہ مجھ سے کیا ہو گیا؟“ایکدم بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی اور تشویش کی حالت میں ادھر سے اُدھر چکر لگانے لگی۔اس نے نکاح کر لیا تھا۔وہ یہ کیسے کر سکتی تھی؟
”گرینی،نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟میں تو….. میں تو شادی شدہ ہوں۔“
”بیٹا،وہ مر چکا ہے۔تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ……“
”ہو سکتا ہے کہ زندہ ہو۔گرینی!“چل کر گرینی تک آئی۔ان کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
”شگوفہ نے کہا تھا کہ میں نے انہیں مار دیا۔غانیہ نے کہا تھا کہ بھاگ جاؤ مگر…..میں نے جان بوجھ کر تو کچھ نہیں کیا۔میں نے جان بوجھ کر نہیں مارا۔ہو سکتا ہے کہ وہ زندہ ہوں۔اگر ایسا ہوا تو پھر تو نکاح جائز نہیں ناں۔میں کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی۔“
”بیٹا،بات دوسری شادی کی نہیں ہے۔وہ شخص تمہیں طلاق دے چکا ہے اور ایسی کسی رسم کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔تم اس وقت نابالغ تھی۔کیا تمہاری رضا شامل تھی؟“انہوں نے ایک کے بعد دوسری چوٹ کی تھی۔قانِتہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔آنکھوں میں وحشت دوڑ آئی۔
”میری رضا شامل تھی۔میرے ولی کی رضا شامل تھی۔آپ بلاوجہ میرے رشتے کو گالی مت بنائیں۔“وہ بے چینی سے ہاتھ مسلنے لگی پھر ناخن چبانے لگی پھر ایکدم بستر پر بیٹھ گئی۔
”اچھا ٹھیک ہے، یہ سب مت سوچو۔فلحال سب بھول جاؤ۔“گرینی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔
وہ چادر کو مٹھیوں میں بھینچے مزید بے چین ہونے لگی۔
”قانِتہ دفع کرو اسے۔وہ شخص اس قابل نہیں کہ اس کے بارے میں سوچا جائے۔اللہ کا عذاب نازل ہو اس پر۔قبر میں بھی سکون نصیب نہ ہو اسے۔“گرینی نے کچھ حقارت سے کہا۔
”گرینی خدارا چپ کر جائیں۔“وہ چیختی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔دل میں ایک طوفان سا اٹھا معنوں سب بہا لے جائے گا۔
”بددعا مت دیں اسے۔“اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔آنکھیں دہکنے لگیں۔اندر آگ کا طوفان بھڑک رہا تھا۔
”قانِتہ،خود پر رحم کرو۔“گرینی نے کچھ رنج اور شاک کی کیفیت میں کہا۔اتنا سب ہونے کے بعد بھی وہ اپنے دل میں سِماک کے لیے نرم گوشہ رکھتی تھی۔
”مجھے اس وقت اکیلا چھوڑ دیں۔پلیز چلی جائیں یہاں سے۔“اس نے نہایت بےبسی سے منت بھرے لہجے میں کہا۔گرینی کی بددعا پر اس کا دل خون کے آنسو رونے لگا تھا۔وہ یہ کام خود بھی تو کر چکی تھی مگر کسی اور کے منہ سے یہ الفاظ سن کر اسے تکلیف ہوئی تھی۔بہت زیادہ تکلیف ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طیبہ اور جہانزیب سائے کی طرح قانِتہ کے ساتھ تھے۔غزوان نے بہت بار اس کا غم بانٹنا چاہا مگر وہ ہمیشہ اسے نظر انداز کر دیتی معنوں اس کا ہونا یا نہ ہونا قانِتہ یزدان کے لیے برابر ہے۔جہانزیب اور طیبہ اسے ساتھ لے جانے کے لیے بضد تھے مگر قانِتہ کسی صورت رخصتی پر راضی نہیں تھی۔گرینی کو کسی کام کے سلسلے میں واپس جانا پڑا۔ایسے میں جہانزیب قانِتہ کو اکیلا چھوڑنے پر قطعاً رضامند نہ ہوئے۔طے پایا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے ان کے ساتھ ان کے گھر پر رہے گی۔اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے رخصتی فلحال مؤخر کر دی گئی۔
وہ غزوان کے گھر اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی جب فون کی گھنٹی پر اس نے بغیر دیکھے کال ریسیو کی۔
”طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟آج میری کال کیسے ریسیو کر لی؟“اسپیکر سے ابھرتی آواز پر قانِتہ کا موڈ بگڑ گیا۔اسے غزوان سے پہلے صرف چڑ تھی اور اب یہ چڑ نفرت میں تبدیل ہو چکی تھی۔اس کا بس چلتا تو اسے جان سے مار کر قصہ ہی ختم کر دیتی۔
”کیا کام ہے؟“سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
”کہیں باہر چلیں؟“وہ پُرجوش انداز میں پوچھ رہا تھا۔
”ہمم،ٹھیک ہے۔“بات تو اسے بھی کرنی ہی تھی۔وہ جلد از جلد اس قصے کو ختم کرنا چاہتی تھی۔
”ایک ڈریس بھیج رہا ہوں تمہیں۔تم پہنو گی تو مجھے خوشی ہو گی۔“قانِتہ نے ناگواریت سے رابطہ منقطع کر دیا۔غزوان کی باتیں اور معنی خیز نگاہوں سے اس کا دم گھٹتا تھا۔اس کی خوبصورت اور مزین زندگی میں وہ ایکدم طوفان بن کر آیا تھا۔وہ اکثر سوچتی تھی”ساری دنیا میں اسے میں ہی ملی تھی۔“پھر کوفت سے سر جھٹک دیتی۔غزوان جہانزیب کی اس کی زندگی اور دل میں کوئی جگہ نہ تھی۔وہ زبردستی اس کی زندگی میں داخل تو ہو گیا تھا مگر دل تک رسائی حاصل کرنا قطعاً ممکن نہ تھا۔وہ اپنے دل پر ایک بڑا سا تالا لگائے بیٹھی تھی معنوں اندر کسی کو چھپا کر رکھا ہو۔
کچھ دیر بعد وہ غزوان کے بھیجے گئے ڈریس کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔سرخ رنگ کا نفیس سوٹ اسے پسند آیا تھا۔بالوں میں ہار پھیرتی وہ ابھی بستر سے اٹھی ہی تھی کہ یکدم ذہن میں ایک جھماکہ ہوا۔
”کہیں یہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا؟“اس نے ناگواری سے سوٹ کی جانب دیکھا اور اگلے لمحے بستر پر اچھال دیا۔
”آج اس کی پسند کا لباس پہنوں گیئں تو کل کہے گا کہ سانس بھی میری مرضی سے لو۔بہت چالاک انسان ہے۔“اس نے حقارت سے بستر پر پھینکے گئے لباس کی جانب دیکھا اور وارڈاب کی جانب بڑھ گئی۔وہاں سے اس نے ایک سفید رنگ کا لباس کا انتخاب کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کار ہموار سڑک پر آگے کی جانب بڑھ رہی تھی۔غزوان ڈرائیونگ سیٹ پر تھا۔نگاہیں سڑک پر جمی تھیں مگر دھیان قانِتہ کی جانب……. عجیب تھی وہ،بےحد عجیب۔ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے غزوان کا دل نہ رکھا تھا۔اس کے ڈریس سے متعلق پوچھنے پر غزوان کو منہ پھاڑ جواب ملا تھا۔
”تمہاری چوائس بہت بری ہے۔میں اس قسم کے فضول کپڑے نہیں پہنتی۔آئیندہ میرے لیے کچھ لانے کی زحمت مت کرنا۔“وہ خاموش ہو گیا تھا مگر دل بری طرح ٹوٹا تھا۔وہ بےشک نہ پہنتی،ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرتی مگر کم از کم مناسب الفاظ میں……
”کہاں چلیں؟“خاموشی کے اس تسلسل کو غزوان نے ہی توڑا تھا۔وہ فلحال اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔قانِتہ اس کے ساتھ تھی،اتنا کافی تھا۔
”کہیں بھی…..“وہ مسلسل کھڑکھی سے باہر دیکھ رہی تھی۔گزرتے درخت،عمارتیں اور لوگ غزوان سے کئی زیادہ اہم تھے۔وہ فلحال یہی اخذ کر سکا تھا۔
”پہلے لنچ کریں یا شاپنگ؟“
”شاپنگ کیوں؟“اس نے حیران ہو کر پہلی بار غزوان کی جانب دیکھا۔
”مجھے تمہاری پسند کا علم ہو جائے گا۔ویسے میں سوچ رہا تھا کہ تمہاری پسند سے اپنے لیے بھی کچھ لے لوں۔“
”میری پسند سے؟“وہ کچھ مزید حیران ہوئی۔ماتھے پر سلوٹیں ابھریں۔
”ہاں،مجھے یقین ہے تمہاری پسند بہت اچھی ہو گی۔“
”سوچ لو۔“وہ جیسے چیلنج کر رہی تھی۔
”سوچ لیا۔“چیلنج قبول کیا گیا۔
”ہو سکتا ہے کہ میں تمہارے لیے کچھ ایسا منتخب کروں جسے تم کہیں پہن کر جانا پسند نہ کرو۔“وہ اب اسے ڈرا رہی تھی۔
”تم میرے لیے زنانہ کپڑے بھی پسند کرو گی تو میں با خوشی پہن لوں گا۔“
”لوگ ہنسیں گے۔“وہ کہتے کہتے ہنس پڑی۔
”کیوں ہنسیں گے؟میری بیوی میرے لیے جو پسند کرے گی،میں وہی پہنوں گا۔“وہ جیسے پُرعزم تھا۔
قانِتہ کے لبوں کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ذہن کے دریچوں پر ماضی کے لمحات گردش کرنے لگے۔
”ایک کام دھنگ سے نہیں کر سکتی تم۔یہ کیا استری کیا ہے تم نے؟“سِماک نے کرتا اس کے منہ پر دے مارا تھا۔زخرف سہم کر پیچھے ہٹی تھی۔
”میں نے تم سے کہا تھا کہ بھورے رنگ کا کرتا استری کرنا۔“
”مجھے…..یہ رنگ….اچھا لگتا ہے۔“نگاہیں جھکائے وہ منمنائی تھی۔سماک کا پارہ اور چڑھ گیا۔
”دفع ہو جاؤ یہاں سے۔کچھ نہیں آتا تمہیں۔نجانے تمہارا یہ بچپنا کب ختم ہو گا؟“
”کہاں کھو گئی ہو؟“غزوان نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔وہ جیسے حال میں واپس آئی۔
”نہایت فضول اور بچکانہ باتیں کرتے ہو تم۔تمہارا بچپنا کب ختم ہو گا؟“اس نے بے اختیار کہہ ڈالا پھر نگاہیں کھڑکی کے باہر ٹکا دیں۔
”مذاق کر رہا تھا پری وَش، مجھے یقین ہے تم میرے لیے ایسا ویسا کچھ پسند نہیں کرو گی لیکن جو بھی کرو گی،بہترین ہو گا۔“قانِتہ ایسے ہی باہر دیکھتی رہی۔ذہن تیزی سے چلنے لگا۔وہ مسلسل سوچتی رہی اور وہ جو بھی سوچ رہی تھی،وہ منفی ہی تھا۔
”کس قدر مکار انسان ہے یہ۔میرے ارد گرد مٹھاس کا جال بچھا رہا ہے۔اسے یقیناً مجھ سے کوئی غرض ہو گی مگر کیا؟“اس نے ذہن پر بھرپور زور ڈالا۔
”کہیں اسے ڈیڈ کی جائیداد میں تو دلچسپی نہیں؟“اس نے جیسے اپنی سوچ پر مہر لگائی۔غزوان کو اس سے یہی غرض ہو سکتی تھی۔
غزوان کے لاکھ کہنے پر بھی وہ شاپنگ کے لیے رضامند نہ ہوئی لہٰذا وہ لنچ کے لیے ریسٹورنٹ گئے۔
”میں تم سے ایک اہم بات کرنا چاہتی ہوں۔“آرڈر آنے میں ابھی کچھ وقت تھا لہٰذا قانِتہ نے اپنی بات کا آغاز کیا۔
”کہو پری وَش“
”مجھے طلاق چاہیئے۔“نہایت پُرسکون انداز میں وہ غزوان کے قدموں تلے زمین کھینچ گئی۔
”کیا؟“اسے اپنی سماعت پر شک سا گزرا۔
”مجھے طلاق چاہیئے۔“بلاتوقف اپنا مؤقف دہرایا گیا۔
”مانگ تو تم ایسے رہی ہو جیسے لالی پاپ ہو۔“وہ ہنسا۔
”میں سیریس ہوں۔“
”اگر تمہیں یہی سب کرنا تھا تو پھر نکاح کیوں کیا؟“وہ اسے نہایت بھدا مذاق ہی سمجھا تھا۔
”پریشر میں آ گئی تھی۔اب ہوش آ گیا ہے۔بس تم مجھے طلاق دے دو۔“
”قانِتہ، تم پاگل ہو گئی ہو کیا؟“وہ کچھ خفا ہوا۔
”دیکھو غزوان، میں تم سے سچ کہوں گیئں۔میری زندگی اور میرے خوابوں میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے۔تم بس چھوڑ دو مجھے،اس سے پہلے کہ میں خلع کا کیس فائل کروں۔“غزوان اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔کیا وہ واقعی سیریس تھی؟کیا یہ رشتہ اس کے لیے کوئی وقعت نہ رکھتا تھا؟
”آخر وجہ کیا ہے؟“کچھ دیر بعد اس نے قدرے سنبھل کر کہا۔
”تم عجیب ہو۔نہایت امچیور ہو۔تم…..تم ابھی بچے ہو۔“وہ بس کہہ گئی تھی۔غزوان آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتا رہا پھر ایکدم ہنس پڑا۔
”بچہ……؟میں…..بچہ……“وہ ہنس ہنس کر دہرا ہو رہا تھا۔
”تم سے عمر میں بڑا ہی ہوں گا میں۔تمہیں کہاں سے بچہ لگتا ہوں میں؟“اسے فلحال قانِتہ کے ذہنی توازن پر شبہ گزرا۔اس کی سنجیدگی میں ذرا برابر کمی نہ آئی۔
”مجھے تم جیسے مرد نہیں پسند۔مرد کو بارعب ہونا چاہیے۔تمہاری طرح لٹو کی مانند عورت کے آگے پیچھے نہیں پھرنا چاہیئے۔“وہ جیسے اپنے دل کا حال کھول کر اس کے سامنے رکھ رہی تھی مگر غزوان اس کی کسی بات کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔وہ باتیں ہی اتنی عجیب کر رہی تھی۔آخر کون سی عورت یہ نہیں چاہے گی کہ اس کا شوہر اس کے آگے پیچھے ایسے ہی گھومے؟اس کا خیال رکھے،اس سے محبت کرے؟
”شکر تم نے الو نہیں کہا ورنہ مجھے یقیناً برا لگتا۔“اس نے ایک بار پھر ماحول میں چھائی تلخی کا اثر زائل کرنا چاہا۔وہ ہر گز قانِتہ پر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
”تم الو ہو۔“اگر وہ اس پر نہیں بھڑکنا چاہتا تھا تو وہ غزوان کو غصہ دلانے کی ہر ممکن کر رہی تھی۔
ویٹر میز پر کھانا چن کر جا چکا تھا۔غزوان نے خود سے پہلے قانِتہ کی پلیٹ سرو کی۔
”اگر تم ساتھ پٹھا لگاتی تو مجھے یقیناً غصہ آتا۔“وہ نہایت ڈھٹائی سے اب سلاد سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔قانِتہ کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا۔اگر وہ اسے غصہ دلانے کی کوشش کر رہا تھا تو اس کوشش میں کامیاب بھی ہو چکا تھا۔
”تم…..“قانِتہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں۔دل چاہا کہ اس کی سرو کی گئی پلیٹ اس کے منہ پر دے مارے۔پبلک پلیس کا خیال کرتے ارادہ فلحال ترک کر دیا۔
خود کو ریلکس کرنے کے لیے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا اور ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر دیا۔تازگی کے احساس سے دماغ کچھ ٹھنڈا پڑا مگر آنکھیں بدستور سرخ رہیں۔
”تم وہ بھی ہو۔“اس نے بالآخر کہہ ہی ڈالا۔غزوان نے ایک ابرو ریز کرتے ہوئے اس کی ہمت کو داد دی پھر سوپ کا ایک چمچ پیا اور میز پر تھوڑا سا آگے جھکا۔
”اگر تم کہتی کہ ”زه تا سره مینه لرم“ تو مجھے یقیناً برا لگتا۔“وہ دیر تک اسے دیکھتی رہی پھر یکدم ہنس دی اور پھر ہنستی ہی چلی گئی۔
”تم عجیب ہو۔“اس نے سر جھٹک کر کہا۔
”میں اسے تعریف سمجھوں گا۔“ماحول یکدم خوشگوار ہو گیا۔وہ بڑی آسانی سے اس کا دھیان دوسری جانب مبذول کر چکا تھا۔قانِتہ کو یاد ہی نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔وہ بس غزوان کی باتوں میں کھو گئی تھی۔کبھی وہ اسے غصہ دلاتا تو کبھی ہنسنے پر مجبور کر دیتا۔اسے یاد نہیں تھا کہ وہ آخری بار کب اتنا ہنسی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ زخرف کے لیے شگوفہ کی نفرت مزید بڑھتی چلی جا رہی تھی۔سماک اپنے تیئں زخرف سے رجوع کر چکا تھا مگر حالات اب بھی ویسے ہی تھے۔زخرف سے اس کا اعتماد اٹھ چکا تھا۔
”کہاں جا رہے ہیں آپ؟“ہر رات کی طرح آج رات بھی وہ باہر جا رہا تھا جب شگوفہ نے اسے روکا تھا۔
”کچھ کام ہے۔“اس نے مدھم آواز میں کہا۔
”کیا ہو گیا ہے آپ کو سِماک؟میری حالت کا ہی کچھ خیال کر لیں۔اس طرح روز روز مجھے چھوڑ کر کہاں چلے جاتے ہیں؟“
”جلدی آ جاؤں گا۔“
”اس کی غلطی کی سزا مجھے کیوں دے رہے ہیں؟دفع کریں زخرف……“
”نام مت لو تم اس کا۔“اس کی آنکھیں غصے سے سرخ پڑیں۔سانس دھونکی کی مانند تیز چلنے لگا۔
”نفرت کرتے ہیں اس سے؟“شگوفہ نے اپنے دل کے اطمینان کے لیے پوچھا۔
”بہت زیادہ…..“وہ بوجھل دل کے ساتھ بستر پر بیٹھ گیا۔شگوفہ کے پور پور میں سکون سا اترا۔وہ آہستگی سے سماک کے قریب بیٹھ گئی۔
”نکال کیوں نہیں دیتے اسے اپنی زندگی سے؟“اس نے بروقت چوٹ کی تھی۔
”نہیں نکال سکتا۔“وہ بڑبڑایا مگر شگوفہ سن چکی تھی۔
”بدنامی کے طوق کو کیوں گلے میں لٹکائے پھرنا؟میں تو کہتی ہوں اسے اس کے گھر بھیج دیں۔جان چھڑوائیں اس سے۔“
”تمہیں پتا ہے شگوفہ، جب اختر نے مجھ سے کہا کہ زخرف اسے ورغلاتی ہے،اس سے ملنے آتی ہے تو میں نے اس کا گریبان پکڑ لیا۔مجھے یقین نہیں تھا،زخرف ایسی نہیں تھی۔میری زخرف ایسی نہیں تھی۔اس نے مجھ سے کہا کہ اگر یقین نہیں آتا تو خود آ کر دیکھ لینا۔مجھے یقین تھا کہ وہ کبھی نہیں آئے گی مگر…..مگر اس نے مجھے غلط ثابت کر دیا۔گیارہ سال کی عمر میں وہ یہ سب کیسے….. کیسے کر سکتی ہے؟اس نے اختر سے کہا کہ میں اس کی خواہشات…..“وہ کہتے کہتے رک گیا۔سر ہاتھوں میں گرا لیا۔اس نے بہت کچھ کہا تھا مگر شگوفہ نے صرف ایک چیز سنی ”میری زخرف“ اس کا بدن جھلس گیا۔دل راکھ ہو گیا۔محبت کے دعوے تو وہ شگوفہ سے کرتا تھا۔شگوفہ اسے وارث دینے والی تھی پھر زخرف درمیان میں کہاں سے آ گئی؟اس رات سِماک نے شگوفہ سے اور بھی بہت کچھ کہا تھا اور جو کچھ اس نے کہا تھا وہ شگوفہ کو یہ باور کروانے کے لیے کافی تھا کہ سماک یوسفزئی اپنی گیارہ سالہ بیوی سے محبت کرتا ہے۔ہر زیادتی،ہر ظلم کے بعد بھی اس کے دل میں کہیں نہ کہیں زخرف تھی یا پھر شاید وہی تھی۔اس بات کا احساس سِماک کو خود بھی نہیں تھا۔شگوفہ چاہتی بھی نہیں تھی کہ سماک کو کبھی اس بات کا احساس ہو یا وہ زخرف کی جانب دل سے پیش قدمی کرے۔
اس نے اپنے ہاتھ کی پشت سے پیشانی پر آیا پسینہ پونچھا۔اسے علم تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔
”ہمارے درمیان طے ہوا تھا کہ آپ مجھے زخرف دیں گیئں۔اس واقعے کے بعد میرا تو اس گھر میں آنا جانا ہی بند ہو گیا ہے۔میں کچھ نہیں جانتا، مجھے زخرف کسی بھی حال میں چاہیئے۔“اختر کے الفاظ ذہن میں گردش کرنے لگے، ساتھ لبوں پر زہریلی مسکراہٹ بھی نمودار ہوئی۔وہ سوچ چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔