Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 37)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 37)
”تم پہیلیاں کیوں بجھا رہی ہو؟جو بات ہے صاف صاف کرو۔“قانِتہ نے آنکھیں بند کیں پھر گہری سانس لے کر اس کی جانب دیکھا۔
”تم تحمل سے میری بات سننا۔“قانِتہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
”ایک سیکنڈ……“غزوان کو اچانک کچھ یاد آیا۔
”کہیں تم ان دوائیوں کے متعلق تو بات نہیں کر رہی؟“اس نے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔قانِتہ کے ماتھے پر بل پڑے پھر آنکھیں حیرت سے پھیل گیئں۔
”آہ قانِتہ،تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔اگر تم ڈپریشن کی پلز لیتی ہو تو یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے۔“اس کے دل سے معنوں کوئی بھاری بوجھ اتر گیا تھا۔سانس لینا اب آسان لگنے لگا تھا۔
قانِتہ سن وجود کے ساتھ کھڑی اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔
”میں جانتا ہوں کہ تم کہتی نہیں ہو لیکن اپنے پیرنٹس کی موت کی وجہ سے اچھی خاصی ڈسٹرب ہو۔بس اتنی مقدار میں دوائیاں نہیں کھانی چاہیئے۔اتنی دوائیاں تو ڈاکٹر بھی تجویز نہیں کرتے۔“اس نے اپنائیت سے اس کی گال پر ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے کہا۔وہ ایسے ہی منجمند کھڑی رہی۔جن الفاظ کو بمشکل ترتیب دیا تھا،بکھرنے لگے۔
”بس اب اتنی ساری دوائیاں نہیں لو گی تم۔اگر کوئی مسئلہ ہوا تو ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں گے۔ٹھیک ہے ناں؟“وہ اب انگوٹھے سے اس کی گال سہلاتا بہت محبت سے کہہ رہا تھا۔لمحہ بھر کے لیے قانِتہ کا دل چاہا کہ سب بھول جائے۔اپنا ماضی دفن کر دے۔راز کو راز ہی رہنے دے مگر پھر یہ خیال فوراً ترک کر دیا۔وہ غزوان کو دھوکا نہیں دے سکتی تھی۔
اگر اپنے گھر کی تعمیر جھوٹ پر رکھتی تو محض ایک ہوا کا جھونکا ہی اس کا اشیانہ بکھیر دیتا۔
”بات یہ نہیں ہے۔“اس کی آواز بےحد مدھم تھی،تھکی ہوئی،بےجان……
سچائی کے بوجھ نے کندھوں کو ایسا جھکا دیا معنوں کوئی پہاڑ بھی نہ اٹھا سکے۔بعض اوقات سچ بولنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور اپنے شوہر کو اپنا ماضی بتانا زہر پینے کے برابر لگتا ہے۔اسے یہ زہر پینا تھا بلکہ غزوان کے کانوں میں بھی انڈیلنا تھا۔
”کوئی افیئر ہوتا،کوئی یک طرفہ محبت یا پھر کوئی منگنی تو چھپا لیتی مگر یہ نہیں چھپا سکتی۔“اس نے بھیگی آواز میں خود کو کہتے سنا پھر غزوان کا چہرہ دھندلاتے دیکھا پھر تیز دھڑکنوں کا شور سنا۔
”تم میری زندگی میں آئے پہلے مرد نہیں ہو۔“الفاظ دھیمے تھے مگر غزوان کے سر پر پتھر کی طرح گرے تھے۔
رات کا اندھیرا سایہ بن کر اس کے چہرے پر چھانے لگا۔کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی،ایسی خاموشی جو لفظوں سے زیادہ گونجتی ہے۔
قانِتہ نے منتظر نگاہوں سے اس کے دھندلے چہرے کی جانب دیکھا مگر وہاں کچھ نہ پایا۔نہ غصہ،نہ خفگی…..وہ بس خاموش کھڑا تھا۔
نجانے وہ سمجھ بھی پایا تھا یا نہیں۔
قانِتہ نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری اور ایک بار پھر تمام منتشر الفاظ کو جمع کیا۔
”کم عمری میں میری شادی کسی سے کروا دی گئی تھی مگر کچھ مسائل کی بناء پر شادی ختم ہو گئی۔“نجانے اس نے یہ کیوں نہیں کہا تھا کہ وہ بیوہ ہو گئی تھی۔
وہ اب بھی ساکت سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔بالکل خاموش،چپ،بےحس و حرکت…….
”مجھے تمہیں پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔آئی ایم سو……“اس کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے تھے۔کمرے کی خاموشی کو غزوان کی ہنسی نے توڑا تھا۔وہ ہنسا تھا۔
پہلے آہستہ پھر زور زور سے……
”تمہیں مذاق کرنے کے لیے یہی وقت ملا ہے؟“وہ ہنستے ہنستے بستر پر جا بیٹھا تھا۔یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے کناروں پر پانی چمکنے لگا تھا۔
قانِتہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اس نے تاسف سے غزوان کی جانب دیکھا۔اسے دکھ ہوا تھا،آج واقعی اسے دکھ ہوا تھا۔
”میں…..میں سچ کہہ رہی ہوں۔تم میرے پہلے شوہر نہیں ہو۔“اس نے آواز کو مستحکم کرنے کی ناکام کوشش کی۔
”ہاں مجھے پتا ہے۔“وہ اٹھا اور چل کر اس تک آیا۔
”تمہاری اس سے پہلے بھی ایک شادی ہوئی تھی پھر اس شخص نے کھانے میں مرچ تیز کر دی تھی اور تم نے اس کا سر پھاڑ دیا تھا اور اس نے تمہیں طلاق دے دی تھی۔ہے ہاں؟“اس بار کمرے میں اس کا قہقہہ گونجا تھا۔
قانِتہ اسے دیکھتی رہ گئی۔اس کی نظروں میں کوئی التجاء یا صفائی نہیں تھی،وہ بس ایک تھکی ہوئی نظر تھی۔
وہ جانتی تھی کہ یقین کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔راز چھوٹا نہیں تھا لہذا زخم بھی گہرا ہوتا۔
”اور ہاں،تمہارے بچے بھی تو تھے؟ایک یا دو؟“وہ اب شوخ لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
”دو سوتیلی بیٹیاں……“اس نے تھکی ہوئی آواز میں ایک اور اقرار کیا۔اس بار وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا زور سے ہنسا۔
”تمہاری حس مزاح تو مجھ سے بھی اچھی ہے۔“اس نے گو کہ قانِتہ کو سراہا تھا۔
”غزوان پلیز……“اسے لگا تھا کہ وہ رو دے گی،پھوٹ پھوٹ کر رو دے گی۔
قانِتہ نے اسے بازو سے پکڑا اور ہمت جمع کرتے ایک بار پھر کہا۔
”یہ سب سچ ہے غزوان۔میں تم سے یہ نہیں چھپا سکتی۔ایک نہ ایک دن تو تمہیں ویسے بھی پتا چل ہی جانا ہے۔بہتر ہے کہ میں خود ہی اعتراف کر لوں۔“آنسو اب بے آواز اس کی گالوں پر لڑکھڑنے لگے تھے۔کاش کہ وہ غصہ کر لیتا،اسے دھتکارتا،سوال جواب کرتا مگر یوں بے یقینی کا مظاہرہ نہ کرتا۔
”قانِتہ…..“غزوان نے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔”ادھر دیکھو میری طرف۔“وہ اس کی رخساروں سے موتی چنتے ہوئے کہہ رہا تھا۔آنکھوں میں گلابی پن اترنے لگا تھا۔
”میرا یقین کرو،میں اپنے دوست سے تمہاری بات نہیں کر رہا تھا۔پاپا نے تمہیں سب بتا تو دیا ہے۔ثبوت بھی تو دیا تمہیں پھر بھی اگر تمہیں یقین نہیں تو ہم بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں۔میں سب کلیئر کر دیتا ہوں۔“اس کی بے یقینی قانِتہ کو رلا رہی تھی۔وہ آج اسے بہت رلا رہا تھا۔
”یقین نہ ہوتا تم پر تو کبھی اس رشتے کو قبول نہ کرتی۔“
”تو پھر جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟مجھے اذیت دینے کے لیے یا پھر……“
”تم اب مجھے اذیت دے رہے ہو۔“قانِتہ نے اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور بہت آہستگی سے انہیں ہٹایا۔
”میں کچھ نہیں کر رہا قانِتہ۔تم میری طرف دیکھو اور بتاؤ اس بات کا کیا مطلب ہے؟تم مذاق ہی…..کر رہی ہو ناں؟“اس نے تصدیق چاہی۔قانِتہ آنکھیں جھکائے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی یہاں تک کہ اس کے کندھے کانپنے لگے۔
یہ رونا اپنی کہی بات کی صداقت پر مہر تھی۔
غزوان پتھرا گیا۔اس کی آنکھوں کے سارے جوت بجھ گئے۔وہاں اب صرف خالی پن تھا۔
کمرے میں ایک عجیب سا جمود طاری ہو گیا۔
غزوان کے قدم خود بخود پیچھے ہٹتے چلے گئے۔
پہلا قدم….. اعتبار کی کرچیاں زمین پر بکھر گئیں۔
دوسرا قدم……محبت کے سارے وعدے ہوا میں تحلیل ہونے لگے۔
تیسرا قدم……کوئی ان دیکھی دیوار رشتے میں پڑ گئی۔
پھر قدموں میں ایسی تیزی آئی کہ وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔نہ کچھ کہا اور نہ مڑ کر اسے دیکھا۔
قانِتہ کی خاموش نگاہیں آدھ کھلے دروازے پر جا ٹکی۔اس کے چہرے پر ویرانی تھی معنوں زرخیز زمین پھر سے بنجر ہو گئی ہو۔
وہ لڑکھڑائی پھر سہارا لے کر بستر کی پائنتی پر جا بیٹھی۔
اس نے آج پھر ایک رشتہ کھو دیا تھا۔سچ کی بنیاد پر رشتہ قائم کرتے کرتے وہ سب ہار گئی تھی۔
اس نے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے پیچھے کیا اور پھر یکدم ہنس پڑی۔
کمرے کی دیواروں نے کچھ تعجب سے اسے دیکھا۔وہ لڑکی اپنی بربادی کا جشن منا رہی تھی۔
”زخرف فاطمہ گھر تعمیر نہیں کر سکتی۔“اس نے خود کو کہتے سنا پھر دونوں ہاتھوں کو آپس میں پیوست کر کے کپکپاہٹ کو روکنے کی ناکام کوشش کی۔
”تم نے ٹھیک فیصلہ کیا غزوان،بالکل ٹھیک۔محبت قانِتہ یزدان سے کی تھی تو زخرف فاطمہ کو کیوں قبول کرتے؟“اس نے سر جھکایا تو لبوں پر زخمی مسکراہٹ آ ٹھہری،اذیت زدہ مسکراہٹ…….
اسی زخمی مسکراہٹ کے سایہ میں کمرہ سناٹے میں ڈوب گیا اور منظر وہیں جم گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحر کی پہلی کرن ابھی پوری طرح نہیں پھوٹی تھی مگر افق پر ہلکی نیلاہٹ ابھر چکی تھی۔شہر کے مضافات میں دھند آہستہ آہستہ جھٹ رہی تھی۔کنٹینر دھیرے سے سنسان سڑک کے پاس رکا۔
ڈرائیور اترا اور اس نے پیچھے جا کر شٹر اٹھایا۔
زخرف کنٹینر کے تاریک حصے میں برقعہ میں لپٹی سمٹی ہوئی سو رہی تھی۔
”اے لڑکی اٹھو۔“اس کی آواز کھردری اور سرد تھی۔
زخرف اس تیز آواز پر اچھل کر اٹھی۔اس نے برقعہ کی جالی سے اس شخص کو دیکھنے کی کوشش کی۔
”چلو نکلو اب یہاں سے۔“اس نے ایک بار پھر زخرف کو جھڑکا۔وہ خود میں سمٹ گئی۔دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔
”تمہاری وجہ سے پہلے کم مصیبت اٹھائی ہے میں نے۔چلو اب جاؤ یہاں سے۔“
”میں…..میں کہاں جاؤں؟یہ کون سی……جگہ ہے اور غانیہ کہاں ہے؟“اعصاب آہستہ آہستہ بحال ہوتے جا رہے تھے۔
”اے لڑکی،ڈرامہ بند کرو اور نکلو یہاں سے۔“ڈرائیور کا بس چلتا تو اسے دو تھپڑ جڑ کر اتار دیتا۔
زخرف ڈرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور کانپتی ٹانگوں سے باہر چھلانگ لگائی۔اردگرد پھوٹتی روشنی کو دیکھ کر جالی کے پیچھے سے بھی اس کی آنکھیں چندھیانے لگیں۔
”یہ کون سی جگہ ہے؟“شٹر بند کرتے ڈرائیور کے ہاتھ رکے۔اس نے ایک کڑی نگاہ زخرف پر ڈالی۔
”یہاں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر شہر شروع ہو جائے گا۔وہاں تم کیسے پہنچو گی یہ میرا مسئلہ نہیں۔“وہ حیران نگاہوں سے ڈرائیور کو دیکھتی رہ گئی۔مسئلہ شہر پہنچنا نہیں تھا،مسئلہ شہر پہنچ کر منزل تک پہنچنا تھا۔اس کی تو کوئی منزل ہی نہیں تھی۔کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا۔
”آپ…..آپ مجھے واپس چھوڑ دیں۔بڑی مہربانی ہو گی۔مجھے واپس جانا ہے۔مجھے غانیہ،فرہاد،سماک…..مجھے میرے گھر واپس جانا ہے۔مجھے اپنے گھر جانا ہے۔“اس نے منتیں کرتے اب رونا شروع کیا تھا۔
”دفع ہو جاؤ یہاں سے۔“ڈرائیور نے اسے بازو سے پکڑ کر پرے دکھیلا۔وہ سڑک پر جا گری تھی۔یہ گھر چھوڑنے کے بعد پہلی دھتکار تھی،پہلی آزمائش تھی۔
زخرف فاطمہ کی زندگی کا سورج طلوع ہو چکا تھا۔آزمائشوں کا سورج،مشکلات کا سورج……اب اس کے پاس کوئی مسیحا نہ تھا۔بقاء کی جنگ اب اسے خود لڑنی تھی۔دنیا سے خود کو بچا کر اسے اپنی سپر وویمن خود بننا تھا۔
اس دھتکار کے بعد وہ نجانے کتنی دیر سڑک پر چلتی رہی تھی۔روتی رہی تھی۔یہ کون سی جگہ تھی،وہ کہاں جا رہی تھی اسے کچھ خبر نہ تھی۔وہ بس روتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اس کی نظر سڑک کے اطراف میں بنے ایک ڈھابے پر جا ٹھہری۔بھوک ایسی چمکی کہ قدم ڈھابے پر جا کر ہی رکے۔
”کیا مجھے کھانے کو کچھ مل سکتا ہے؟“اس نے ڈھابے کے مالک سے پوچھا۔
مالک نے کچھ مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھا پھر پوچھا۔
”پیسے ہیں تمہارے پاس؟“زخرف نے نفی میں سر ہلایا۔
”تو پھر بھاگو یہاں سے۔“یہ دوسری جھڑک تھی۔وہ اندر تک سہم گئی۔دوسری بار کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔خاموشی سے قدم واپس اٹھا لیے۔دور پڑے مٹکے سے گلاس میں پانی انڈیلا اور برقعہ چہرے سے ہٹا کر سر پر جما لیا۔
پانی پینے کے لیے وہ وہیں بیٹھ گئی پھر بیٹھی ہی رہی یہاں تک کہ کانوں میں یہ آواز پڑی۔
”دوپہر میں اتنی زیادہ مقدار میں کھانا بنانا ہے۔تم ایسے کیسے چھٹی کر سکتے ہو؟ماں بیمار ہے تو میں کیا کروں؟اگر آج تم نہ آئے تو پھر تمہاری پکی چھٹی۔ہیلو ہیلو…..“ڈھابے کا مالک اب بار بار فون ملاتے گالیاں بک رہا تھا۔
زخرف نے جیسے ہی یہ بات سنی،فورا برقعہ چہرے پر ڈالا اور چل کر مالک تک آئی۔
”میں کھانا بناؤں؟“ڈھابے کے مالک نے سر تا پیر اسے گھورا۔
”کھانا بنانا آتا ہے تمہیں؟“
”ہاں بہت اچھا کھانا بناتی ہوں میں۔“
”جاؤ جا کر اپنا کام کرو۔پچاس لوگوں کا کھانا اب یہ دو فٹ کی لڑکی بنائے گی۔“وہ بڑبڑاتا ہوا وہاں سے جانے لگا جب زخرف کے الفاظ نے قدم روک لیے۔
”میں سو لوگوں کا کھانا بھی بنا سکتی ہوں۔پیسے بھی نہیں مانگوں گئی بس ایک روٹی دے دینا۔“ڈھابے کے مالک نے ٹھہر کر باقاعدہ اسے گھورا،حیرانگی سے شاک سے……
”اے لڑکی میرے ساتھ مذاق مت کرو۔“اب کی بار وہ دھاڑا۔
”میں سچ کہہ رہی ہوں۔چاہو تو پہلے آپ کو کچھ بنا کر دے دیتی ہوں۔اگر آپ کو پسند نہ آئے تو کام پر مت رکھنا۔“مالک نے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر اجازت دے دی۔
زخرف نے کچھ دیر بعد جو حلوہ ڈھابے کے مالک کو پیش کیا،وہ انگلیاں چاٹتا رہ گیا۔وہ لزیز کھانا بناتی تھی مگر اب فکر اس بات کی تھی کہ کیا وہ دبلی پتلی لڑکی اکیلے اتنے لوگوں کا کھانا بنا سکتی ہے؟
ہزار وسوسوں اور شبہات کے باوجود بھی ڈھابے کے مالک نے پہلے اسے کھانا کھلایا اور پھر رسوئی اسے سونپ دی۔
یہ کھانا وقت پر تیار ہونا بےحد ضروری تھا لہٰذا مالک نے اس پر زیادہ اعتبار نہ کیا۔اسے رسوئی سونپنے کے کچھ دیر بعد ہی وہ اس کے پیچھے گیا تھا اور پھر دہلیز پر ہی جم گیا۔
وہ بڑی سی کڑھائی کے پاس کھڑی اس میں کرچی چلا رہی تھی۔ٹوپی والے برقعہ کو اس نے چہرے سے ہٹا کر سر پر جمایا ہوا تھا۔لمبے برقعہ کا ایک کونہ اس نے دانتوں تلے دبا رکھا تھا۔
ڈھابے کا مالک وہیں فریز ہو گیا۔ساری اجنبیت اور سختی کہیں غائب ہو گئی۔سرمئی چھوٹی چھوٹی آنکھیں چولہے کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔چہرہ تپتی آگ سے سفید ہو رہا تھا مگر وہ بے نیازی سے کام میں مصروف تھی۔
وہ عدت میں تھی اسے اس چیز کا بالکل ہوش نہ تھا اور نہ اسے اس بارے میں کچھ خاص علم تھا اور حالات بھی کچھ ایسے ہی تھے کہ اس کا بقاء کی جنگ لڑنا ضروری تھا۔
ڈھابے کے مالک کی نگاہوں میں پہلے پسندیدگی ابھری پھر ہوس……اور یہاں زخرف فاطمہ کا دوسرے اختر سے سامنا ہونے والا تھا مگر آخری نہیں۔یہ دنیا اختر جیسوں سے بھری پڑی تھی یہ بات وقت نے ابھی اسے سمجھانی تھی۔
