Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode18)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode18)
باب3:دھاگہ
گرینی کی گود میں سر رکھے وہ عمیق سوچوں میں گم تھی۔سرخی مائل آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں مگر نیند تو آنکھوں سے معنون کوسوں دور تھی۔وہ چاہ کر بھی آج کی رات سو نہیں سکتی تھی۔گرینی اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی مسلسل اسے سلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔وہ اس وقت سے قانِتہ کے ساتھ تھیں جب سے وہ محمود یزدانی کے گھر آئی تھی۔بارسلونا آنے کی اجازت بھی صرف گرینی کو ساتھ لانے کی شرط پر ملی تھی اسے۔
”بیٹا سونے کی کوشش کرو۔“انہوں نے ایک بار پھر اسے پچکارا تھا۔
”میں بہت بری ہوں گرینی۔میں نے ڈیڈ سے بہت بدتمیزی کی مگر ڈیڈ کو بھی سمجھنا چاہئیے تھا ناں…..مجھ سے…..“آواز روندھ گئی۔”مجھ سے نہیں ہو گا گرینی۔ایک بار پھر سے نہیں ہو گا۔“وہ رو دی،بچوں کی طرح……بلک بلک کر……
”بیٹا،صبر کے ساتھ دعا کرو۔کیا انہیں اچھا لگتا تمہیں اس حال میں دیکھ کر؟“اچانک کچھ یاد آنے پر وہ سیدھی ہو بیٹھی۔آنکھیں رگڑیں اور گرینی کے دونوں ہاتھ تھام کر گویا ہوئی۔
”آپ کو پتا ہے گرینی،اس نے مجھ سے کیا کہا تھا؟“ان کے ہاتھوں پر دباؤ دے کر وہ کچھ رازداری سے گویا ہوئی۔
”اس نے مجھ سے کہا تھا کہ زخرف،تمہیں ایک بار طلاق ہو یا دس بار….. تمہیں آزادی نہیں ملے گی۔اس نے ٹھیک کہا تھا گرینی، بالکل ٹھیک کہا تھا۔مجھے آزادی نہیں ملی، نہیں ملی۔“اندر موجود بند دریا ٹوٹ رہا تھا۔سسکیوں میں تیزی آتی جا رہی تھی۔گرینی نہایت دکھ سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
”لیکن اس نے ایک بات اور بھی کہی تھی۔“اس نے سختی سے لب بھینچے، آواز کہیں غائب ہو گئی۔نم سرخ آنکھوں سے گرینی کی جانب دیکھا، کچھ مزید قریب ہوئی۔
”اس نے کہا تھا، تمہیں آزادی صرف اس صورت میں مل سکتی ہے جب میں مر جاؤں۔میں نے…..میں نے اسے مار دیا۔“دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ اب کی بار پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔گرینی نے بےبسی سے آنکھیں بند کیں۔
”میں نے سِماک کو مار دیا۔میں نے مار دیا۔“وہ اس طرح منہ چھپائے گرینی کی گود میں سر رکھے رونے لگی جیسے کسی بچے سے اس کا من پسندیدہ کھلونا چھین لیا گیا ہو۔اس سے بھی تو چھین لیا گیا تھا،اس کا دل…..صرف چھینا نہیں گیا تھا۔بری طرح توڑ بھی دیا گیا تھا،نوچا بھی گیا تھا۔
وہ ایسے بکھر گئی تھی معنوں اب سنبھلنے کی کوئی امید باقی نہ ہو۔سب ختم ہو چکا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھنڈے فرش کے ایک کونے میں وہ بےبس نگاہوں سے صحن کو گھور رہی تھی۔نگاہیں کسی غیر مرئی نقطے پر جمی تھیں۔ہونٹ کے کنارے سے بہتا خون اب خشک ہو چکا تھا۔آنکھوں کے پپوٹے سوجھے ہوئے تھے۔جسم پر جگہ جگہ نیل کے نشان تھے۔جسم زخموں سے چور تھا مگر اصل گھاؤ تو روح پر لگا تھا۔سِماک نے اسے مارا تھا،وہ سہہ جاتی مگر اس کی آنکھوں کی بے اعتباری نے زخرف کو جیتے جی مار دیا تھا۔کل رات اس کی زبان سے آزادی کے الفاظ سننے کے بعد اسے لگا تھا کہ وہ مر جائے گی مگر مر جانا اتنا آسان تھوڑی تھا۔وہ تو تھی ہی ڈھیٹ……ابھرتے سورج کے ساتھ وہ پھر سے سانسیں لینے لگی تھی۔
”مجھے یقین نہیں آ رہا، بابا صاحب ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟“غانیہ اس کے زخم صاف کر رہی تھی ساتھ ہی ساتھ اس ناقابل یقین بات پر یقین کرنے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔سِماک ایسا کیسے کر سکتا تھا؟وہ کسی عورت پر کیسے ہاتھ اٹھا سکتا تھا؟وہ باپ تھا اس کا،باپ تو بیٹیوں کے آئیڈیل ہوتے ہیں۔آئیڈیلزم کا یہ بت بہت بری ٹوٹ رہا تھا۔
”میں بات کروں گیئں ان سے۔تم……“
”کوئی بات مت کرنا۔کچھ مت کہنا۔میں نے تسلیم کر لیا ہے کہ میں بدکردار ہوں۔“
”زخرف……“غانیہ کے دل میں ہوک سی اٹھی تھی۔
”دعا کرو غانیہ کہ مجھے جلد موت آ جائے۔مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میری کوئی بددعا نہ لگ جائے تمہارے خاندان کو۔“وہ اب بھی خالی نگاہوں سے صحن کو ہی گھور رہی تھی۔اس جگہ کو دیکھ رہی تھی جہاں سِماک نے ہر لحاظ بالائے طاق رکھ کر اسے جانوروں کی طرح پیٹا تھا۔نہ اس کے لڑکی ہونے کا خیال کیا تھا اور نہ عمر کا……اور وہ کیوں لحاظ کرتا؟عورت تھی،اس کے ماتحت تھی۔وہ مرد تھا،سربراہ تھا۔اتنا تو حق بنتا ہی تھا اس کا۔غلطی تو زخرف کی تھی۔جس نے شگوفہ پر اعتبار کیا بلکہ نہیں……جس نے سِماک پر اعتبار کیا۔اسے محافظ سمجھا۔محافظ تو ایسے نہیں ہوتے یا پھر شاید ایسے ہی ہوتے ہیں۔
”مہارانی یہاں بیٹھی گپے ہانک رہی ہے۔گھر کے کام کیا تمہاری ماں کرے گی؟“یہ چنگھاڑتی ہوئی آواز بیگم جان کی تھی۔
”زخرف کیا کہہ رہی ہے بیگم جان؟بابا صاحب نے اسے آزاد…..“
”بکواس کر رہی ہے۔کچھ نہیں کہا اس نے ایسا۔سیدھا طلاق کے الفاظ تھوڑی استعمال کیے تھے اور صرف ایک بار کہا تھا۔یہ سب کام نہ کرنے کے بہانے ہیں۔اٹھو بی بی، کام پر لگو۔“انہوں نے نہایت حقارت سے زخرف کو ٹھڈا مارا تھا۔وہ کسی روبوٹ کی مانند اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ایسے جیسے اس کے جسم پر آئے گھاؤ بے معنی ہو۔جیسے تکلیف محسوس کرنے کی حس ختم ہو چکی ہو۔
”جلدی ناشتہ بنا اور پھر برتن دھو۔رات کے برتن بھی نہیں دھوئے تھے تو نے۔“وہ خاموشی اور سست روی سے قدم آگے بڑھا رہی تھی جب بیگم جان نے اسے بالوں سے دبوچا تھا۔
”ایسے کچھوے کی طرح چلے گی تو کیسے کام ہوں گے؟یا پھر تیرے عاشق آ کر سارے کام کریں گے؟چل جلدی کر……“اس رات کے بعد زخرف کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی بس اب بےحیائی کے طعنے ملنے لگے تھے۔عاشقوں کے نام پر ذہنی اذیت ملنے لگی تھی۔بلاوجہ مارنے کی ایک اور وجہ مل گئی تھی۔بس اس کے علاؤہ کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔
اس واقعہ کے بعد شگوفہ بھی کھل کر سامنے آ چکی تھی۔وہ بات بہ بات زخرف کو باتیں سناتی اور اس سے زیادہ سے زیادہ کام لیتی۔اس کا اصل مقصد تو زخرف کو اس گھر سے نکالنا تھا جو کہ ہر گز پورا نہیں ہوا تھا بلکہ یہ چیز واضح ہو چکی تھی کہ زخرف اس گھر سے اب صرف ایک ہی صورت میں جائے گی اور وہ ہے ”موت“
سِماک نے گھر آنا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔وہ گھر آتا بھی تھا تو رات دیر تک۔ایک الگ سی چپ اس کے ہونٹوں پر لگ چکی تھی۔شگوفہ کو اس کا یہ رویہ نہایت بے چین کر رہا تھا مگر صرف ایک بات کی تسلی تھی۔وہ زخرف کے پاس جانا تو دور اس کی شکل بھی نہیں دیکھتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قتادہ کی والدہ کی موت نے اسے بری طرح توڑ ڈالا تھا۔غزوان اور اسد نے بمشکل اسے سنبھالا ہوا تھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے چچا کا گلا دبا دے۔ایک اور بری خبر جس نے اسے اس بھری دنیا میں تنہا چھوڑ دیا تھا، وہ تھی سحر کی موت……جن لوگوں نے بچپن میں اسے اغواء کیا تھا،وہ اسے گینگ ریپ کے بعد مار چکے تھے۔غزوان یہ بات شروع سے جانتا تھا۔یہ تو اسد بھی جانتا تھا۔علم تو قتادہ کو بھی تھا بس وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔آج سالوں پہلے کیس کو دوبارہ کھولنے پر جو حقائق سامنے آئے تھے، وہ دل دہلا دینے والے تھے۔قتادہ ذوالفقار تنہا رہ گیا تھا۔اس کے پاس اب اپنا کوئی نہیں بچا تھا۔
”قتادہ،ایسے کھانا پینا چھوڑ دینے سے سب ٹھیک تو نہیں ہو جائے گا۔آنٹی یہاں ہوتی تو سوچو، انہیں کتنا دکھ ہوتا۔“غزوان نے اسے کچھ کھلانے کی ایک اور کوشش کی تھی جو کہ سراسر ناکام ہوئی تھی۔لوگوں کے ہجوم،یہ ہمدردی کے چند جملے…… اسے ان سب سے وحشت ہونے لگی تھی۔اسے یہ سب صرف مکر اور فریب لگ رہا تھا۔اتنے سال جیل میں گزارنے کی ریاضت ضائع گئی تھی۔اسے لگا تھا کہ وہ اس طرح اپنے چچا کو بھٹکا کر اپنی بہن تک پہنچ جائے گا مگر بہن تو سالوں پہلے ہی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
”قتادہ……“غزوان کے ایک بار پھر پکارنے پر وہ جھنجھلا کر اٹھا اور گھر سے باہر نکل گیا۔غزوان نے پہلے اس کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا پھر ترک کر دیا۔”اسے کچھ دیر اکیلے رہنا چاہیے۔“
وہ ابھی اپنے کمرے کی جانب بڑھنے ہی لگا تھا جب فون کی تھرتھراہٹ نے اس کے قدم روک دیے۔اس نے بے یقینی سے سکرین پر اجاگر ہوتی مسڈ کالز اور میسجز کو دیکھا۔ان سب میں اسے اپنا گھر اور گھر والے تو یاد ہی نہیں تھے۔
”جی ڈیڈ…..“اس نے کچھ فکرمندی سے پوچھا۔اتنی ساری کالز اور میسیجز دیکھ وہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔
”کہاں ہو تم غزوان؟کوئی ہوش بھی ہے تمہیں؟قانِتہ کے والدین کا پلین کریش میں انتقال ہو گیا ہے۔اسے ضرورت ہے تمہاری؟کہاں ہو تم؟“غزوان کے سر پر معنون بم گرا تھا۔ذہن سائیں سائیں کرتا محسوس ہوا۔پلین کریش…… انتقال……اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔”قانِتہ“لب ہولے سے پھڑپھڑائے،اگلے لمحہ اس نے خود کو بھاگتے ہوئے پایا۔دوست،اس کا دکھ،اس کی اذیت کہیں پیچھے رہ گئی۔ہر احساس،ہر رشتے پر وہ بھاری ہوتی محسوس ہوئی۔بیوی تھی اس کی،محبت تھی، کیسے نہ جاتا اس کے پاس؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش سے بھیگی سڑکوں پر وہ مارا مارا پھر رہا تھا۔کبھی خالی نگاہوں سے سائن بورڈز کو تکتا تو کبھی اپنے مٹیالے جوتوں کو…… ٹریفک کا شور،لوگوں کی آواز،دکانوں کی لائٹس…..ہر چیز خفا خفا سی محسوس ہوتی تھی۔بہن کے بعد اب ماں بھی اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔وہ اپنی ماں کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکا تھا، یہ چیز اندر ہی اندر اسے کھائے جا رہی تھی۔اسے کم از کم ایک بار تو کوشش کرنی چاہیے تھی،صرف ایک بار……
تھکی تھکی نگاہوں سے اس نے آسمان کی جانب دیکھا پھر دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے اور پتھر کو پیر سے ٹھڈا مار کر آگے چل دیا۔
چلتے چلتے اسے خبر ہی نہ ہوئی،کب فٹ پاتھ پر چلتے چلتے سڑک پر چلنے لگا۔اردگرد لوگوں کے شور،گاڑیوں کے ہارن،بائک والے کی گالیاں…..اسے کچھ سنائی نہ دیا۔ہوش تب آیا جب کسی نے بازو سے کھینچ کر اسے ایک طرف کیا۔
”پاگل ہو تم؟مرنے کا شوق ہے یا مجھے آزمانے کا؟“ایک لڑکی ہانپتی ہوئی دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر اسے نہایت خفگی سے گھور رہی تھی۔قتادہ نے اسے پہچاننے کی کوشش کی اور وہ پہچان گیا۔وہ عروج تھی۔
”کبھی کسی کی جان بچاتے ہو تو کبھی اپنی خطرے میں ڈالتے ہو۔اپنے گھر والوں کی کوئی پرواہ ہے تمہیں؟اپنی بیمار ماں کا ہی خیال کر لو۔“وہ بولنے پر آئی تھی تو بولتی چلی گئی تھی۔لحاظ کرنا تو اس نے کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔اس کے الفاظ چابک کی طرح قتادہ کے وجود پر لگے تھے۔”گھر والے،بیمار ماں“کچھ بچا تھا کیا اس کے پاس؟
کچھ کہنے کی سعی میں اس کے لب ہلے مگر کہہ نہیں سکا۔بےترتیب بال،چہرے کا سکوت،آنکھوں کی تھکان عروج کو چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ قتادہ ذوالفقار ٹھیک نہیں ہے۔
بارش تھمنے کے بعد ہوا میں ابھی نمی کا عنصر باقی تھا۔پارک دھلا دھلا اور نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا۔ایک پرانے درخت کے سائے تلے ایک بینچ پر دو لوگ بیٹھے تھے۔قتادہ اور عروج…….وہ اس طرح کبھی عروج کے سامنے نہ ہارتا،کبھی اپنا آپ اس پر آشکار نہ کرتا مگر آج وہ تھک چکا تھا،ٹوٹ چکا تھا۔اسے سہارے کی ضرورت تھی۔
”مجھے افسوس ہے۔“کئی لمحوں بعد اس نے صرف اتنا ہی کہا۔قتادہ کی گمشدہ نگاہیں گھاس پر معنوں کچھ تلاش کرنے لگیں۔شاید اس کے اپنے جو منوں مٹی تلے جا سوئے تھے۔نجانے اس کی بہن کو قبر بھی نصیب ہوئی تھی یا نہیں؟
”ان کی زندگی اتنی ہی لکھی تھی۔“اس نے ایک بار پھر کہا۔قتادہ خاموش رہا۔اسے اشاروں میں یا لکھ کر بات نہیں کرنی تھی۔اس سے اب مزید یہ سب نہیں ہوتا تھا۔وہ بولنا چاہتا تھا،بات کرنا چاہتا تھا مگر زبان تو معنوں برائے نام ہی تھی اس کے پاس۔
”تم کچھ کہو گے نہیں؟“قتادہ نے سرخ،بےبس نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔اس نے پہلے کب کچھ کہا تھا؟کیا وہ کچھ کہہ سکتا تھا؟
”دل کا بوجھ ہلکا کر لینا چاہیئے۔“اب کی بار اس نے زبان سے کچھ نہ کہا تھا، وہ اشاروں میں کہہ رہی تھی۔یہ بات قتادہ کے لیے حیران کن تھی۔”تو کیا وہ سائن لینگویج جانتی تھی؟“
”میں ٹھیک ہوں۔“اس کی ڈھارس بندھی تھی۔چلو کوئی تو اس کی زبان جانتا تھا۔اگر جان جاتا کہ اس ”کوئی“ نے اس کی زبان سیکھنے کے لیے کتنے دن اور کتنی راتیں محنت کی ہے، تو یقیناً وہ دنگ رہ جاتا۔
”ابھی ٹھیک نہیں ہو لیکن وقت کے ساتھ کچھ بہتری آ جائے گی۔“وہ جیسے پریقین تھی۔
”پتا نہیں……“اس نے بےبسی سے کندھے اچکائے۔
”اپ ایک مضبوط انسان ہو قتادہ۔“درختوں کے پتوں پر ٹھہری پانی کی کچھ بوندیں عروج کے چہرے پر آ ٹھہریں۔سورج کی کرنوں میں شفاف بوندیں چمکنے لگیں۔
”میں نہیں ہوں۔“پہلی بار کسی کے سامنے اس نے قبول کیا۔
”کسی کو تسلی دینا بہت آسان ہے عروج۔جس پر گزرتی ہے،صرف وہی سمجھ سکتا ہے۔کیا تم نے کبھی کسی اپنے کو کھویا ہے؟“بینچ کے نیچے کنارے پر ایک طرف چشک پتیاں گری ہوئی تھیں معنوں بارش کے بعد کی خاموشی کی گواہ ہو۔
”ہاں……“پارک کی پگڈنڈی پر بہتی ندی کو دیکھ عروج نے اقرار کیا۔پانی اپنی رفتار سے بہتا معنوں تازگی کا احساس دلا رہا تھا۔
”میں نے اپنی بہن کو کھویا ہے۔“قتادہ کا دل معنوں سکڑ گیا تھا۔وہ بغیر پلکیں جھپکائے عروج کو دیکھنے لگا جبکہ عروج کی نگاہیں اب ندی سے ہٹ کر آسمان پر کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر اس کی نگاہوں اور فلک کے درمیان درخت کی لمبی شاخیں دیوار بنی کھڑی تھیں۔
”اور اپنی دوست کو بھی۔“اب کی بار اس نے قتادہ کی جانب دیکھا۔لبوں پر مدھم مسکراہٹ رقصاں تھی۔
”سب کو اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ تو کھونا ہی پڑتا ہے مگر زندگی رکتی نہیں ہے،چلتی رہتی ہے۔آپ کا غم بڑا ہے مگر آپ اس سب سے باہر آ جاؤ گے۔میں دعا کروں گیئں۔“بیگ کندھے پر لٹکایا اور جانے کی تیاری کرنے لگی۔
”عروج….“قتادہ نے مشکور نگاہوں سے اسے دیکھا۔ان کے درمیان ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوئی تھی۔نہ عروج نے باقی سب کی طرح اسے ترس بھری نگاہوں سے دیکھا تھا اور نہ لمبے چوڑے تسلی بھرے جملے کہے تھے مگر اس نے جو بھی کہا تھا،جو بھی کیا تھا۔وہ قتادہ کو تسلی دینے کے لیے کافی تھا۔اس کی صحبت میں وہ اچھا محسوس کر رہا تھا۔
”میرا نام عروج نہیں ہے۔میں نے جھوٹ کہا تھا۔“وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مسکرا کر کہہ رہی تھی۔قتادہ پہلے چونکا پھر سوالیہ آبرو اٹھائی۔
”غانیہ……غانیہ سِماک یوسفزئی……“وہ کہہ کر چلی گئی۔فطرت خود کو نکھارنے میں مصروف ہو گئی۔درختوں کے پتے ہلکے ہلکے لرز رہے تھے۔ہر طرف ایک پراسرار سی خاموشی چھا گئی تھی مگر خاموشی کسی انجانے جذبے کا ساز چھیرتی رہی۔قتادہ کی نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا،یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
