Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 33)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 33)
صبح کے سائے روشن ہو چکے تھے۔وقت آہستگی سے اپنے قدم بڑھا رہا تھا۔کمرے میں عجیب سا سکوت تھا۔دیوار پر چلتی گھڑی کی ٹک ٹک پراسرار سا تاثر دے رہی تھی۔ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی قانِتہ نے آخری نگاہ خود پر ڈالی۔اس کی آنکھوں کے نیچے خفیف تھکن اور لبوں پر خاموشی تھی۔اس کی آنکھوں کے گرد بنے سیاہ ہالے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ کل رات کی نیند قربان ہو چکی تھی۔
اس نے اپنا پرس اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔دہلیز پر ہی اس کا ٹکراؤ طیبہ سے ہوا۔
”بیٹا اگر کچھ وقت ہو تو بات کر سکتے ہیں؟“قانِتہ نے اُلجھتی نگاہوں سے انہیں دیکھا اور پھر واپس کمرے کے اندر چلی گئی۔
طیبہ اور قانِتہ دونوں بستر پر بیٹھے تھے۔بات کا آغاز طیبہ نے کیا تھا۔
”بیٹا برا نہ منانا۔تم آفس جانے کے لیے بھی تو اٹھتی ہو نہ تو ذرا پہلے اٹھ جایا کرو۔غزوان کو سی آف کر دیا کرو۔میں یہ نہیں کہہ رہی کہ تم کوئی کام کرو،بس اس کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کر لیا کرو۔کتنا خیال رکھتا ہے وہ تمہارا۔کتنی محبت کرتا ہے۔کبھی کبھی تو مجھے یقین ہی نہیں آتا کہ یہ میرا ہی بیٹا ہے۔زندگی تو تم دونوں نے ہی گزارنی ہے،بس یہ چھوٹی چھوٹی سی چیزیں ہوتی ہیں جن سے زندگی جنت بن جاتی ہے۔تم سمجھ رہی ہو ناں؟“اس نے بنا کسی تاثر کے اثبات میں سر ہلا دیا۔وہ کچھ غلط نہیں کہہ رہی تھیں مگر غلط تو قانِتہ بھی نہیں تھی۔
”مجھے تم سے یہی امید تھی۔“طیبہ نے مسکرا کر اس کے سر پر پیار دیا تھا۔
”ایک ہی بیٹا ہے میرا اور تم اکلوتی بہو۔بس میں چاہتی ہوں کہ تم دونوں ہمیشہ خوش رہو۔ایک دوسرے کا خیال رکھو۔دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا سہارا بنو۔اچھا مجھے یاد آیا،کل تو غزوان کی سالگرہ ہے۔کیا معلوم ہے تمہیں؟“قانِتہ نے چونک کر طیبہ مورے کی جانب دیکھا۔سرمئی آنکھوں میں کچھ چمکا تھا۔
”نہیں بتایا اس نے؟دراصل وہ اپنی سالگرہ نہیں مناتا بس اس لیے نہیں بتایا ہو گا۔“وہ اب نہایت نرم اور خوشگوار لہجے میں کہہ رہی تھیں۔
”اس بار ضرور منائے گا۔“آواز میں ایسا سرد ملال تھا جو برف سے زیادہ ٹھنڈا ہو۔وہ آہستگی سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔قدموں میں ایسی تیزی تھی معنوں ہر چیز کو روند دینا چاہتی ہو۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے پرس سے موبائل نکالا اور غزوان کو میسج بھیجا۔
”آنٹی نے بتایا کہ تمہاری سالگرہ ہے۔میں نے سوچا کیوں نہ تمہاری سالگرہ یادگار بنا دوں۔آج رات بارہ بجے میں تم سے وہ کہوں گیئں جو تم سننا چاہتے ہو۔“اس نے سینڈ کا بٹن دبایا اور فون ایک طرف اچھال دیا۔
سرد ہوا کے جھونکے نے اس کے بالوں کو ذرا سا اڑایا مگر اس نے بالوں کو سمیٹنے کی زحمت نہ کی۔اس کے چہرے پر سختی تھی اور آنکھوں میں پکا عزم…….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کے وقت آفس میں عجیب سی تھکن چھائی ہوئی تھی۔غزوان اپنی کرسی پر جھکا کسی فائل پر دستخط کر رہا تھا۔اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔دفعتا اس نے بے دھیانی میں فون اٹھایا اور پھر وہیں ٹھہر گیا۔قانِتہ کا صبح میسج آیا تھا مگر مصروفیت کے باعث وہ دیکھ نہ سکا تھا۔اس کے ماتھے پر پہلے شکنیں ابھریں اور پھر اس نے دھیرے سے انگوٹھے کی مدد سے سکرین کھولی۔
قانِتہ کے الفاظ نے اسے ساکن کر دیا۔پلکیں جھپکانی تھیں یا سانس لینی تھی،وہ بالکل بھول گیا۔چند لمحوں بعد جب وہ کچھ سنبھلا تو آنکھوں میں گہری چمک ابھری معنوں طویل اندھیرے کے بعد روشنی کی کوئی کرن پھوٹ پڑی ہو۔غزوان نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور ایک بار پھر اس میسج کو پڑھا۔اس بار وہ دل کھول کر ہنسا۔چہرے پر پراسراریت چھا گئی معنوں وہ صدیوں سے اس ہی لمحے کا منتظر ہو۔کب قانِتہ کا دل نرم پڑے،کب وہ اس پر بھروسہ کرے اور کب اس کی محبت میں ڈوب جائے۔
اس نے چھت کی جانب دیکھا اور گہرا سانس لیا۔
”بالاخر تم نے مجھ پر اعتبار کر ہی لیا قانِتہ۔“اس کی آنکھیں اب جیت کا جشن منا رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر کی روشنیوں نے رات کو نگلنا شروع کر دیا تھا۔کمرے کے اندر جدید زندگی کی تمام آسائشیں موجود تھیں مگر ماحول میں ایک خالی پن گھل رہا تھا۔
طیبہ سامنے والے شیشے کے سامنے کھڑی تھیں۔ہاتھ میں پکڑے کافی کے مگ سے بھاپ اڑ رہی تھی۔انہوں نے سفید کاٹن کا ڈھیلا سا لباس پہن رکھا تھا۔
پیچھے بستر پر جہانزیب نیم دراز تھے۔انہوں نے لیپ ٹاپ ابھی ابھی بند کر کے ایک طرف رکھا تھا۔جہانزیب نے لیمپ بجانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔
”میں کچھ دنوں کے لیے پاکستان جانا چاہتی ہوں۔“جہانزیب کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔طیبہ نے معنوں ان کے سر پر دھماکہ کیا تھا۔ان کے درمیان جب بھی پاکستان آتا تھا،لازمی رویوں میں تلخی گھل جاتی تھی۔
”کس لیے؟“جہانزیب نے کچھ برہمی سے پوچھا۔
”میرا میکہ ہے وہاں۔اپنے ہیں،انہیں نہیں چھوڑ سکتی۔“طیبہ نے گردن موڑ کر بےبسی سے انہیں دیکھا۔
”کچھ عرصہ پہلے تو گئی تھی تم۔“
”تین سال پہلے گئی تھی،وہ بھی صرف تین دنوں کے لیے۔اس سے قبل پانچ سال پہلے۔“ان کی آواز میں نمی گھلی تھی۔آنکھوں کے آگے بہت سی یادیں گردش کرنے لگیں۔آنکھیں جھلکنے کو تیار کھڑی تھیں۔
جہانزیب آہستگی سے بستر سے اٹھے اور چل کر طیبہ تک آئے۔
”تمہارا وہاں کون ہے طیبہ؟جو تھے گزر گئے۔اب کیوں وہاں رشتے تلاش کر رہی ہو؟”جہانزیب نے دونوں ہاتھ ان کے کندھوں پر رکھ کر کہا۔طیبہ نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔
”خون کے رشتے ہیں۔کیسے چھوڑ دوں۔“اب کی بار آواز تھکی تھکی سی تھی۔
”کون سے خون کے رشتے؟وہ رشتے جنہوں نے تمہارے والدین کی موت کے بعد تمہیں اپنے پاس رکھنے سے انکار کر دیا؟“طیبہ کی زبان پر فقل لگ گیا۔نگاہیں جھک گیئں۔
”انہوں نے معافی مانگی ہے۔“چند لمحوں بعد طیبہ نے کمزور لہجے میں دلیل پیش کی۔
”تم انہیں معاف کر سکتی ہو،میں نہیں۔سگے رشتے داروں کے ہوتے ہوئے تمہیں اتنے سال غیروں میں رہنا پڑا۔میں یہ کبھی نہیں بھول سکتا۔“
”غیر نہیں تھے وہ۔خون کا رشتہ نہ سہی مگر دل کا رشتہ ضرور تھا۔نادر پلار بہت اچھے تھے۔“طیبہ نے فوراً دفاع کیا۔
”اچھے سے جانتا ہوں میں ان لوگوں کو بھی۔کیا سلوک کرتے تھے تمہارے ساتھ،سب پتا ہے مجھے۔تمہیں اپنے گھر میں رکھنے کی واحد وجہ بستی میں اپنی دھاک بٹھانا اور خود کو عظیم ظاہر کرنا تھا۔“جہانزیب کے لہجے میں واضح بیزاری تھی۔طیبہ خفگی سے انہیں دیکھتی رہی۔
”تم میری منگ تھی،اگر تمہیں بیاہ کر یہاں نہ لاتا تو جانتی ہو تمہارے ساتھ کیا ہو سکتا تھا؟“
”احسان جتا رہے ہیں؟“وہ کچھ اور خفا ہوئیں۔
”نہیں جتا رہا۔“جہانزیب نے انہیں نرمی سے خود سے لگایا۔
”محبت کرتا ہوں تم سے اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔بس پاکستان کو درمیان میں مت لایا کرو۔“
”میں کون سا ہر مہینے جانے کا کہتی ہوں۔آپ نے سماک لالہ کی موت پر بھی نہیں جانے دیا اور نادر پلار کی موت پر بھی۔میں نے کوئی شکایت کی؟اب جب میرے اپنے رشتے دار مجھے بلا رہے ہیں تو جانے دیں ناں۔صرف ایک ہفتے کے لیے۔“جہانزیب نے گہری سانس لی۔پاکستان جانے کی گفتگو کے نتائج ہمیشہ برے ہی نکلتے تھے۔وہ فلحال کوئی بدمزگی نہیں چاہتے تھے لہٰذا کچھ نرمی کا مظاہرہ کیا۔
”اچھا ٹھیک ہے،اس بارے میں کچھ سوچتے ہیں۔“ان کی نیم رضامندی پر ہی طیبہ کی آنکھیں اور چہرہ روشن ہو گیا تھا۔
”سچ میں؟“انہوں نے بے یقینی سے اپنے شوہر کی جانب دیکھا۔
”ہاں لیکن ایک بات بتاؤ۔یہ سِماک کے خاندان کے ساتھ کیا ہوا؟میرا مطلب ہے کہ کہاں ہیں وہ؟کیا کچھ علم ہے تمہیں؟“
”نہیں،مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔یہ سب اس کی بیوی کی وجہ سے ہوا ہے۔وہ میرے بھائی کو زہر دے کر اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی۔ذرا لحاظ نہیں کیا اس نے۔“ان کے لہجے میں زہر گھلا تھا اور آنکھوں میں حقارت۔
”سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرتے اور نہ ہی بغیر تصدیق کے کسی پر تہمت لگاتے ہیں۔“جہانزیب نے نرمی سے انہیں سمجھایا۔
”تہمت نہیں ہے یہ۔پوری بستی نے اسے کسی لڑکے کے ساتھ بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔اس کے اپنے گھر والوں نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔اگر کہیں مجھے مل گئی نہ تو جان سے مار دوں گیئں اسے۔“ان کے لہجے میں گھلی کڑواہٹ مزید بڑھ گئی۔آنکھوں میں سرد اور بےرحم ویرانی تھی معنوں ان دیکھے وجود کا تصور ذہن کے پنوں پر رقصاں ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھڑی کی سوئیاں بارہ پر آ کر ٹھہری تھیں۔پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔غزوان آہستہ قدموں سے اندر داخل ہوا۔ہاتھ میں بیگ اور آنکھیں تھکن سے بوجھل تھیں مگر اس بوجھل پن کے باوجود بھی ان میں گہری چمک تھی معنوں وہ جانتا ہو کہ کیا ہونے والا ہے۔
گھر کی روشنی غیر معمولی محسوس ہوئی۔غزوان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔جیسے ہی وہ لاؤنچ کے وسط تک پہنچا،بتیاں روشن ہو گیئں۔
”ہیپی برتھ ڈے غزوان۔“تینوں نے بیک وقت کہا۔غزوان مسکرا کر ان کی سمت بڑھا۔میز پر ایک چھوٹے سائز کا کیک پڑا تھا۔غزوان کی نگاہیں قانِتہ پر جا ٹھہریں۔اسے کچھ مایوسی ہوئی۔اسے توقع تھی کہ وہ ہلکا پھلکا تیار تو ضرور ہو گی۔شاید جہانزیب اور طیبہ کی موجودگی کی وجہ سے وہ تیار نہ ہوئی تھی۔
”آؤ بیٹا۔“جہانزیب کے کہنے پر وہ مسکرا کر آگے بڑھا۔اس نے آنکھ کے اشارے سے قانِتہ کو اپنے ساتھ کیک کاٹنے کا کہا مگر اس نے مسکرا کر منع کر دیا۔اس کی مسکراہٹ میں عجیب سی پراسراریت تھی۔غزوان نے فلحال نظر انداز کر دیا۔
”میں سالگرہ نہیں مناتا مگر صرف تمہارے لیے کیک کاٹا ہے۔“جہانزیب اور طیبہ کے بعد اس نے قانِتہ کو کیک کھلاتے ہوئے کہا۔
”بس سمجھ لو کہ آخری دفعہ کاٹا ہے۔ایسا سرپرائز دوں گیئں تمہیں آج کہ ساری زندگی نہیں بھول سکو گے۔“وہ مسکرائی مگر مسکراہٹ ایسی تھی معنوں شیشے پر پڑی کوئی دراڑ……
”مجھے انتظار ہے۔“غزوان نے اس کے کان کے پاس مدھم سرگوشی کی۔
”اب جب کیک کٹ ہی چکا ہے تو پھر میں غزوان کو سب کے سامنے تحفہ دینا چاہتی ہوں۔“اس کی بلند آواز غزوان کو ساکت کر گئی۔کیا وہ سب کے سامنے اقرار کرنے والی تھی؟اوہ خدایا،وہ کب سے اتنی بےباک ہو گئی تھی۔
”انکل آنٹی آپ گواہ رہیں گا۔“غزوان نے خجل کا شکار ہوتے نگاہیں ادھر اُدھر گھمائیں۔وہ فلحال منظر سے غائب ہونا چاہتا تھا۔ٹھیک ہے اسے اظہار سننا تھا مگر اس طرح نہیں۔
جہانزیب اور طیبہ نے ناسمجھی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔قانِتہ چل کر غزوان کے قریب آئی۔
”مجھے نہیں پتا کہ یہ کب ہوا اور کیسے……مگر محبت ہو گئی ہے تم سے۔“وہاں موجود ہر چیز نے سانس روک لی۔غزوان کی آنکھیں ایسے لرزیں معنوں خشک دریا میں پانی کی لہر ڈور گئی ہو۔یہ سب اتنا جلدی ہو گا،اس نے سوچا بھی نہیں تھا اور اس طرح…..وہ اس طرح اظہار کرے گی،یہ بھی اس کی سوچ کے برعکس تھا۔
”اب اس سے پہلے تم مجھے تحفہ دو،میں تمہیں دے دیتی ہوں۔“وہ تیزی سے کمرے کی سمت بڑھی اور جب واپس لوٹی تو خالی ہاتھ نہ تھی۔
”یہ رہا تمہارا تحفہ۔“قانِتہ نے لفافہ میز پر پٹخا۔اس کی آواز ترش تھی معنوں چاکو پر ریشمی کپڑا لپیٹ کر وار کیا ہو۔
غزوان بالکل ساکت ہو گیا۔وجہ اس کی بات نہیں انداز تھا۔
”اٹھاؤ اور دیکھو۔“غزوان چل کر میز تک آیا اور اس نے لفافہ اٹھا کر کھولا۔
اس کا دل لمحے بھر کو رک گیا۔سانس حلق میں اٹک گئی۔چہرہ کاغذ جیسا سفید ہو گیا۔
اس نے بے یقینی سے قانِتہ کی جانب دیکھا جو اب مطمئن کھڑی تھی۔
”میرے اقرار کے بعد تم یہی تحفہ مجھے دینے والے تھے نہ؟میں نے خود ہی طلاق کے کاغذات بنوا کر تمہاری مشکل آسان کر دی۔“گھڑی کی سوئیاں رک گئیں۔ہوا فضا میں منجمد ہو گئی معنوں کائنات نے سانس کھینچ لی ہو۔
”کیا تم مجھ جیسی گھٹیا عورت کے منہ پر یہ کاغذات مارنا پسند کرو گے؟“طیبہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔جہانزیب خود شل ہو گئے اور غزوان……اس کے قدم زمین میں گڑھ گئے۔
لب ہلے مگر زبان نے ساتھ نہ دیا۔
اس نے حیرانگی سے قانِتہ کو دیکھا پھر ہاتھ میں پکڑے کاغذ کو جو محض ایک کاغذ نہیں رشتہ توڑنے کا اعلان تھا۔
”کیا ہوا سینور غزوان؟چپ کیوں ہو؟بتاؤ نہ اپنے ماں باپ کو کہ میں کتنی گھٹیا ہوں۔کس طرح تم آدھی رات کو اپنے دوست سے میرے متعلق باتیں کرتے ہو۔چپ کیوں ہو اب؟بولو…..“اس کی آواز بلند سے بلند ہوتی جا رہی تھی۔آنکھوں سرخ تھیں اور تنفس پھولا ہوا…….
غزوان خاموش کھڑا رہا۔چہرہ سپاٹ تھا مگر آنکھوں میں درد کی کرچیاں چمک رہی تھیں۔ہونٹ سختی سے بھینچ رکھے تھے۔
”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں بیٹا؟“اسے ٹوکنے والے جہانزیب تھے۔
”یہ تو آپ اپنے بیٹے سے پوچھیں۔چند بار انکار کیا تو موصوف کی انا کو ٹھیس پہنچ گئی۔اس نے فیصلہ کیا کہ چلو قانِتہ سے شادی کر کے بدلہ لے لیتا ہوں۔جب قانِتہ مکمل طور پر میری محبت میں ڈوب جائے گی تو اسے چھوڑ کر اپنا انتقام لے لوں گا۔بیچاری مر جائے گی میرے بغیر۔“اس نے حقارت سے کہتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
”تمہارے سامنے کھڑی ہوں میں۔توڑ سکتے ہو تم مجھے؟تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔کوئی کمزور لڑکی نہیں ہوں میں جو تم جیسوں کے ہاتھوں برباد ہو جاؤں گیئں۔قانِتہ یزدان ہوں میں۔تم جیسے ہزاروں آئے اور ہزاروں گئے۔مجھ جیسی چٹان کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکا۔“غزوان نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کیں یہاں تک کہ ناخن ہتھیلی میں گڑھنے لگے مگر زبان سے کچھ نہ کہا۔
یہ خاموشی چیخ سے زیادہ تیز تھی۔یہ ضبط شکست سے زیادہ سنگین تھا۔
”اپنے گھر جا رہی ہوں میں۔دستخط کر کے کاغذات بجھوا دینا۔“اپنی کہی اور کمرے کی سمت بڑھ گئی۔
”قانِتہ بیٹا……“جہانزیب نے اسے روکنا چاہا۔
”جانے دیں پاپا۔اسے آج نہ میں روکوں گا اور نہ آپ۔“اس نے پہلی بار کچھ کہا تھا۔الفاظ بوجھل معلوم ہوتے تھے اور آواز شاید گیلی……مگر پتھر پر بھی کبھی لہجوں کا اثر ہوا ہے؟
کمرے میں جاتے ہوئے قانِتہ کے قدم رکے۔غزوان نے مڑ کر اس کی پشت کو دیکھا۔اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ رک جائے،ٹھہر جائے مگر وہ اس کی محبت کو پیروں تلے روند کر آگے بڑھ گئی۔
غزوان نے اب انہیں تھکی نگاہوں سے اپنے والدین کی سمت دیکھا۔ان کی آنکھوں میں شک تھا۔اس باپ کی آنکھوں میں جو اسے اپنا بازو کہتے تھے،اس ماں کی آنکھوں میں جو اسے سینے سے لگا کر رکھتی تھی۔
اس کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ بکھر گئی۔قانِتہ نے جاتے جاتے اس سے سب چھین لیا تھا۔وہ اپنے ہی ماں باپ کی نگاہوں میں گر گیا تھا۔
”وہ اتنی بڑی بات اتنے وثوق سے کیسے کہہ کر گئی ہے غزوان؟“سوال جہانزیب نے پوچھا تھا۔
”اگر واقعی وثوق سے کہا ہے تو پھر مان لیں کہ سچ کہہ کر گئی ہے۔“مزید ایک بھی لمحہ یہاں ٹھہرتا تو شاید گر جاتا،بکھر جاتا۔وہ تیزی سے گھر سے باہر چلا گیا۔وہ کسی بہار کی طرح غزوان کی زندگی میں آئی تھی اور اب کسی آندھی کی طرح سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
