Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 31)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 31)
کمرے میں ہلکی سی روشنیاں جل رہی تھیں۔کھڑکی کے پردے نیم وا تھے۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کمرے کے اندر جھانک رہے تھے۔قانِتہ لیپ ٹاپ پر جھکی اپنے کام میں مگن تھی۔اس کی پیشانی پر ابھری شکنیں اس بات کا واضح ثبوت تھیں کہ وہ دلجمعی سے کام کر رہی ہے۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی دھڑ سے اندر داخل ہوا۔قانِتہ کو ذرا بھی سوچنا نہ پڑا کہ وہ کون ہو سکتا ہے۔بس اس نے ایک خفا نگاہ غزوان پر ڈالی اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گئی۔غزوان پرجوش سا اس کی جانب بڑھا۔اس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
”سارا بارسلونا بھیگا ہوا ہے اور تم یہاں بیٹھی ہو؟“قانِتہ نے سنجیدگی سے نگاہیں اٹھائیں اور نہایت خشک لہجے میں گویا ہوئی۔”میں کام کر رہی ہوں غزوان۔“اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
اس سے پہلے وہ کی بورڈ پر دوبارہ انگلیاں چلاتی،غزوان نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔
”چلو چھت پر چلتے ہیں۔بارسلونا شہر کے ساتھ بھیگتے ہیں۔“وہ اب اصرار کر رہا تھا۔
قانِتہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔وہ اسے اس وقت کوئی پاگل ہی لگا تھا۔
”غزوان اپنی عمر دیکھو اور اپنی حرکتیں دیکھو۔اس عمر میں بارش میں بھیگتے اچھے لگو گے؟“وہ شدید ناگواری سے کہہ رہی تھی مگر وہ غزوان ہی کیا وہ اثر لے جائے۔
”تم اپنی عمر دیکھو اور اپنی حرکتیں دیکھو۔جوانی میں بڑھاپا سوار کر لیا ہے تم نے خود پر۔“غزوان نے اس کا لیپ ٹاپ بند کر کے ایک طرف رکھا۔قانِتہ کے احتجاج کے باوجود وہ اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کر چکا تھا۔
”غزوان یہ کیا بدتمیزی ہے۔“
”میں نہیں جا رہی۔“
”میری بات تو سنو۔“
”چھت پر جا کر سنوں گا۔“وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر کے اوپری حصے پر لے آیا تھا۔
بارش اب آہستہ آہستہ تیزی اختیار کرتی جا رہی تھی۔آسمان گہرے بادلوں سے بھرا ہوا تھا۔بارسلونا کی روشنی میں بارش کے قطرے چمک رہے تھے۔
”یہ پاگل پن ہے غزوان۔“قانِتہ نے ایک ہاتھ سر کے اوپر رکھتے ہوئے برہمی سے کہا۔
”بالکل بھی نہیں۔اسے پاگل پن نہیں زندہ دلی کہتے ہیں۔اللہ کی نعمتوں کی قدر کرو سینوریٹا قانِتہ۔ان لوگوں کے بارے میں سوچو جنہوں نے کبھی یہ آسمان،یہ موسم اور یہ گرتی بارش کی بوندیں دیکھی ہی نہیں۔ناشکری مت کرو۔“
”ناشکری اور بچپنے میں فرق ہے۔میں جا رہی ہوں۔“آسمان سلیٹی رنگ میں ڈوب چکا تھا اور فضا میں نمی کی گہری پرچھائیاں پھیلی ہوئی تھیں۔قانِتہ مکمل طور پر بھیگ چکی تھی۔بال چہرے سے چپک رہے تھے اور چہرے پر ناراضگی اور بیزاری کے آثار تھے۔پلکوں پر پانی کی قطرے موتیوں کی مانند چمک رہے تھے۔
قانِتہ جیسے ہی پلٹی،غزوان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔بارش کی بوندیں چھت پر پڑ کر نرم سا ساز چھیڑنے لگیں۔
غزوان نے مضبوطی سے اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔وہ جھٹکے سے آ کر اس کے سینے سے لگی۔آنکھیں پھیل گیئں۔دل کی دھڑکنیں تیز ہو گیئں۔
غزوان اس کے کان کے پاس جھکا اور مدھم آواز میں سرگوشی کی۔
”چلو پری وَش،آج اعتراف کا دن ہے۔آج کہہ دو جو دل میں ہے۔“قانِتہ کا دل دھڑکنا بھول گیا۔اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر بارش کی بوندوں نے معنوں اس کے تمام الفاظ کو بھگو دیا۔
”کہو کہ تمہیں غزوان جہانزیب سے محبت ہے۔“غزوان نے اس کی ٹھوڑی آہستگی سے اوپر اٹھائی۔آنکھوں میں جذبات کا سمندر تھا۔برستی بارش کی بوندوں کا شور کہیں پس منظر میں چلا گیا۔بہتی ہوا نے اپنا رخ موڑ لیا۔گرجتے بادل پل بھر کو تھم گئے۔وہاں اب صرف وہ دونوں تھے۔
”اچھا ٹھیک ہے،میں شروع کرتا ہوں۔“اس نے لبوں پر گہری مسکراہٹ کے ساتھ قانِتہ کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی۔بارش کے پانی کی وجہ سے اس کے بال ماتھے پر بکھر چکے تھے مگر چہرے پر محبت کا ہر رنگ واضح نظر آ رہا تھا۔برستی بارش بھی ان رنگوں کو مٹا نہ سکی تھی۔یہ محبت کے رنگ تھے،انہیں مٹانا آسان نہ تھا۔
”مجھے میری بیوی اپنی زندگی سے زیادہ پیاری ہے۔مجھے اپنی بیوی سے بےانتہا محبت ہے۔اتنی محبت کہ اس کی ایک مسکراہٹ پر اپنا سب کچھ وار دو۔اس کی ایک نظر پر فنا ہو جاؤں۔اس کے ایک اقرار پر سرشار ہو جاؤں۔بتاؤ پھر کیا تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے؟“وہ بہت قریب سے اس کے چہرے پر بکھرے رنگوں کو دیکھ رہی تھی۔شاک سے،حیرت سے،بےچینی سے…… لمحہ بھر کے لیے اسے لگا کہ وہ یہیں گر جائے گی۔اگر وہ اسے تھامے ہوئے نہ ہوتا تو شاید وہ گر جاتی۔تیز گرتی بوندوں نے اس کے وجود کو بےجان کر دیا تھا۔وہ اقرار کی بات کر رہا تھا اور قانِتہ یزدان کی زبان پر فقل لگ چکا تھا۔اس کا دماغ مفلوج ہونے لگا تھا۔
”اب کہہ بھی دو پری وَش۔“غزوان نے ایک انگلی سے اس کے چہرے پر ٹھہری بوند ہٹائی۔
”چلو اسے اور آسان کرتے ہیں۔“غزوان نے گہری سانس لے کر ہاتھوں کے پیالے میں اس کا بھیگا چہرہ تھاما۔قانِتہ پتھرا گئی۔وہ مزاحمت تو دور ہل تک نہ سکی۔
غزوان نے جھک کر اس کی پیشانی کو چوما پھر اپنا سر اس کے سر سے ٹکا دیا۔قانِتہ نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔
”اب وہ لمحے سوچو جو ہم نے ساتھ گزارے ہیں پھر بتاؤ کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے یا نہیں۔“اس لمحہ کائنات کی سانس معنوں تھم گئی۔رقص کرتی بارش کی بوندیں اپنی جگہ ٹھہر گیئں۔
قانِتہ کی آنکھیں ہنوز بند تھیں۔وہ غیر نادانستگی میں غزوان کی باتوں پر عمل کر رہی تھی۔بند آنکھوں سے اس نے ان لمحات کو یاد کرنے کی کوشش کی جب وہ دونوں ساتھ تھے۔
”دشمن کی بیٹی کو کوئی نہیں بساتا۔بہتر یہی ہے کہ صبر و شکر کے ساتھ مورے کی ہر بات مان لیا کرو۔“اسے جو یاد آیا تھا وہ غزوان نہیں سِماک تھا۔تمام تر سوچوں کو جھٹکتے اس نے ایک بار پھر غزوان کو سوچنے کی کوشش کی۔
”بے حیا……“اس بار پھر وہی یاد آیا تھا۔
”بتاؤ کس کا بچہ تھا وہ؟“اس کے لب لرزنے لگیں۔سانسیں اتھل پتھل ہو گیئں۔
”زخرف،کیا تم مجھے ایک آخری موقع نہیں دے سکتی؟“اس کی دائیں آنکھ سے آنسو بہہ کر چہرے پر ٹھہری بوندوں میں کہیں گم ہو گیا۔
”وعدے جھوٹے تھے مگر محبت سچی تھی۔“اس نے آنکھیں میچ رکھی تھیں۔چہرے پر بے چینی رقصاں تھی اور دل بے قابو ہو چکا تھا۔غزوان کہیں پس منظر میں چلا گیا تھا۔اس کے دماغ پر اس وقت صرف سِماک کی حکومت تھی۔
”آئی لو یو پری وَش۔“غزوان نے بند آنکھوں سے ایک بار پھر اقرار کیا۔قانِتہ نے فوراً آنکھیں کھول دیں اور پوری قوت سے غزوان کو خود سے دور دکھیلا۔وہ اس حملے کے لیے تیار نہ تھا لہٰذا چند قدم پیچھے کی جانب لڑکھڑایا۔
”جھوٹ مت بولو تم۔چھوٹی بچی نہیں ہوں جو تمہاری باتوں میں آ جاؤں گیئں۔تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے اور مجھے بھی تم سے کوئی محبت نہیں ہے۔دوبارہ مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرتا۔“سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ انگلی اٹھا کر وہ پہلے غرائی پھر تقریباً بھاگتی ہوئی وہ وہاں سے چلی گئی۔
غزوان شاک کی کیفیت میں وہیں کھڑا رہ گیا۔اسے لگا تھا کہ آج وہ موم کا ڈھیر ہو جائے گی۔کم از کم آج وہ اظہار کر دے گی مگر وہ غلط تھا،بالکل غلط تھا۔اس نے تاسف بھری سانس اندر کھینچی پھر آسمان کی جانب دیکھا اور ایک ہاتھ سے بالوں کو پیچھے کیا۔
”اظہار نہ کرتی پری وَش مگر یوں تو نہ دھتکارتی۔“اس کے اندر کسی نے آواز اٹھائی۔وہ بھیگتا رہا،بارش برستی رہی اور دل…..دل خاموشی سے ٹوٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طیبہ بے چینی سے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی۔ان کے قدموں کی چاپ سے قالین دب رہی تھی مگر وجود میں گھلی بے چینی صاف نظر آ رہی تھی۔وہ کبھی کھڑکی کے پٹ ہٹا کر باہر دیکھتیں پھر جھنجھلا کر واپس پلٹ آتیں۔بستر پر نیم دراز لیٹے جہانزیب ایک نگاہ فائل پر دوڑا رہے تھے جبکہ دوسری اپنی بے چین بیوی پر…..
”کیا مسئلہ ہے طیبہ؟“بالاخر وہ پوچھ بیٹھے۔
”مسئلہ آپ کی بہو ہے۔نجانے کیا جادو کیا ہے اس نے میرے بیٹے پر،بالکل ہی بدل گیا ہے۔“وہ جو کب سے پھٹنے کو تیار تھیں اب پھٹ چکی تھیں۔
”کیا مطلب؟“
”اوپر چھت پر گئے تھے دونوں۔سوچیں ذرا،غزوان اور بارش……“انہوں نے جھرجھری لی۔”اسے تو بارش سے چڑ تھی۔پتا نہیں جب سے شادی ہوئی ہے تب سے غزوان کو کیا ہو گیا ہے۔“ان کی شکایت پر جہانزیب مسکرا دیے۔
”مان لو طیبہ،تمہارا بیٹا بچپن سے ہی ایسا ہے۔اسے کبھی کوئی چیز پسند آ جاتی ہے تو کبھی کوئی۔وہ بچپن سے ہی زندہ دل ہے بس پچھلے تین سال……“وہ کہتے کہتے رکے۔طیبہ نے چونک کر انہیں دیکھا۔چہرے پر خوف کے آثار واضح ہوئے۔دل معنوں مٹھی میں بند ہو گیا۔جہانزیب کا اپنا رنگ فق پڑ گیا۔انہوں نے سر جھٹکا اور مدھم آواز میں اپنی بات مکمل کی۔
”تمہیں تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ زندگی کی طرف لوٹ آیا ہے۔مجھے تو ڈر تھا کہ کہیں وہ اس شادی کو لے کر غیر سنجیدہ نہ ہو مگر جب ان دونوں کی نوک جھوک اور محبت دیکھتا ہوں تو سارے خدشات ختم ہو جاتے ہیں۔“وہ اب مطمئن اور خوش نظر آ رہے تھے۔
طیبہ اب بھی بے چین تھیں۔وہ چل کر جہانزیب تک آئیں اور ان کے قریب بیٹھ گئیں۔”محبت کہاں نظر آتی ہے آپ کو؟بس میرا بیٹا لٹو کی طرح اس کے پیچھے گھومتا رہتا ہے۔کیا کبھی آپ نے غزوان کو کسی لڑکی کے پیچھے اتنا دیوانہ دیکھا ہے؟“
”وہ اس کی بیوی ہے۔“جہانزیب نے باور کروایا۔
”جو بھی ہے مگر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔“
”بلاوجہ وہم نہ کرو طیبہ۔“جہانزیب نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے ہوئے کہا۔
”میں یہاں اپنے پوتے اور پوتیوں کے خواب سجا کر بیٹھی ہوں مگر مجھے آپ کی بہو کے اردارے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔“اس بات پر جہانزیب دل کھول کر ہنس دیے۔
”اوہ،تو یہ بات ہے۔ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے ان کی شادی کو؟انہیں اپنا گھونسلہ خود بنانے دو۔اپنی خواہشات کا بوجھ ان کے کندھوں پر مت ڈالو۔“وہ بےحد نرمی سے سمجھا رہے تھے۔طیبہ کچھ حد تک سمجھ بھی گئی تھیں مگر دل اب بھی خدشات میں گھرا تھا۔
”ہاں لیکن میں مرنے سے پہلے اپنے بیٹے کی خوشیاں دیکھنا چاہتی ہوں۔“
”تمہارا بیٹا بہت خوش ہے اور تم فکر مت کرو،اتنی جلدی نہیں مرنے والی۔ہماری شادی کے وقت تمہاری عمر کافی کم تھی۔“اس بات پر طیبہ سلگ اٹھیں۔غصے سے ان کا ہاتھ جھڑکا اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔
”میرے مرنے کا بڑا پتا ہے آپ کو۔“وہ اب خفگی سے ان کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
”بیوی ہو، اتنا تو علم رکھنا پڑتا ہے۔“وہ اب انہیں تنگ کر رہے تھے۔
”دونوں باپ بیٹا ایک جیسے ہیں۔“ایک تیز نگاہ ان پر ڈال کر وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئیں۔جہانزیب سر جھکا کر ہنس دیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قانِتہ ٹاول سے اپنے بال رگڑ رہی تھی جب غزوان کمرے میں داخل ہوا۔اس نے زور سے وارڈراب کا دروازہ کھولا اور اپنے کپڑے نکالے پھر دھڑ سے دروازہ بند کر دیا۔قانِتہ کو اسے مڑ کر دیکھنا پڑا۔اسی تیزی سے وہ باتھ اسپیس کی جانب بڑھا اور ”دھپ“ کی آواز کے ساتھ دروازہ بند ہو گیا۔قانِتہ کئی لمحے شاک سے گنگ بند دروازے کو دیکھتی رہی۔
وہ اب ڈرائیر سے بال خشک کر رہی تھی جب اسی آواز کے ساتھ دروازہ ایک بار پھر کھلا اور بند ہوا۔اس نے کن اکھیوں سے غزوان کی جانب دیکھا،اس کے چہرے پر سختی کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔
غزوان نے اپنے ٹاول سے بال رگڑے اور گیلا تولیہ بستر پر پھینک دیا۔قانِتہ ضبط کے گھونٹ بھر کر رہ گئی۔
اب وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکا اور برش اٹھا کر بال سیٹ کرنے لگا۔قانِتہ کو کھسک کر ایک طرف ہونا پڑا کیونکہ ساری جگہ پر غزوان کا قبضہ تھا۔اس نے یہاں بھی صبر سے کام لیتے ہوئے بالوں کو خشک کرنے کا عمل جاری رکھا جب غزوان نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے ڈرائیر چھین لیا۔وہ ہکا بکا اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔
”کس بات کا غصہ ہے تمہیں؟“وہ پھٹ پڑی تھی جبکہ وہ اب بے نیازی سے اپنے بال سکھا رہا تھا۔قانِتہ کو اس نے ایسے نظر انداز کیا معنوں وہ وہاں پر ہو ہی نہ۔
”مجھے بارش پسند نہیں تھی بس اس لیے واپس آ گئی۔“وہ نا چاہتے ہوئے بھی اب وضاحت دے رہی تھی۔غزوان نے ڈرائیر پٹخا اور سوئچ آف کر کے بستر کی جانب بڑھا۔
اب وہ تکیے اٹھا اٹھا کر ادھر اُدھر پھینک رہا تھا معنوں کچھ ڈھونڈ رہا ہو۔
”تم کمرہ کیوں خراب کر رہے ہو؟“وہ چل کر اس کے پیچھے آئی۔
”میرا گھر ہے،میرا کمرہ ہے۔میری مرضی جو بھی کروں۔“اس کی جانب دیکھے بغیر وہ نہایت خشک لہجے میں گویا ہوا۔قانِتہ کو اس کی بات سے زیادہ اس کا لہجہ برا لگا۔
”غزوان تم بچوں کی طرح ری ایکٹ کیوں کر رہے ہو؟“وہ جھنجھلائی۔
”کیا بچہ بچہ لگا کر رکھا ہوا ہے۔میں شوہر ہوں تمہارا۔“غزوان نے اس کا بازو تھام کر سرخ نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہا۔
”میرے کچھ احساسات ہیں،جذبات ہیں۔قدر ہے تمہیں کسی چیز کی؟“اس کا لہجہ درشت تھا۔وہ پہلی بار قانِتہ سے اس لہجے میں بات کر رہا تھا۔قانِتہ کو وہ اس وقت کہیں سے بھی وہ غزوان نہ لگا جسے وہ جانتی تھی۔
”میں…..مجھے بارش نہیں پسند۔“اس نے کچھ سنبھل کر مدھم آواز میں وضاحت پیش کی۔
”تمہیں تو شاید میں بھی پسند نہیں ہوں۔“لہجہ طنزیہ تھا یا نہیں مگر قانِتہ نے فلحال یہی محسوس کیا تھا۔
”تمہیں کیا ہو گیا ہے غزوان؟بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔اگر تمہیں میں بری لگنے لگی ہوں یا پھر بےزار ہو گئے تو پھر طلاق دے کر ختم کرو سب۔“اس بات پر وہ استہزایہ ہنسا تھا پھر چل کر دو قدم اس کے مزید نزدیک آیا۔
”تمہیں پتا ہے قانِتہ،جو عورتیں بار بار طلاق کا ذکر کرتی ہیں،ان کے بارے میں کیا سوچا جاتا ہے؟“
”کیا…..؟“اس نے میکانیکی انداز میں پوچھا۔
”یہی کہ ان کے دل میں کوئی اور ہے۔بتاؤ پھر تمہارے دل میں کون ہے؟“یہ سوال نہیں تھا،یہ قانِتہ کے گال پر تمانچہ تھا۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ غزوان کچھ ایسا پوچھے گا۔
”اگر کوئی ہے تو اسے نکال کر باہر پھینک دو۔میں بے وفائی معاف نہیں کرتا۔امانت میں خیانت کرو گی تو اللہ بھی معاف نہیں کرے گا لہٰذا وفا کرو اور توبہ کرو۔“غزوان نے اس کا بازو چھوڑا اور بستر پر نیم دراز ہو گیا۔قانِتہ وہیں پتھرا گئی۔وہ اس کے دل کا حال جان گیا تھا۔اتنی جلدی،اتنی آسانی سے……وہ بے وفائی اور خیانت کی باتیں کر رہا تھا۔یہ باتیں تو کوئی اور بھی اس سے کرتا تھا۔وہی شخص جو اسے خواب میں نظر آتا تھا۔وہ بھی تو اسے بے وفا کہتا تھا اور آج غزوان بھی اسے بے وفا کہہ رہا تھا۔وہ کس سے وفا کرے اور کس سے نہیں؟وہ جتنا سوچتی تھی،ذہن اتنا ہی الجھتا چلا جاتا تھا۔
بستر پر لیٹے غزوان نے پہلے اپنی پیشانی مسلی پھر چند لمحوں بعد جب اسے اپنے الفاظ کی سختی کا احساس ہوا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”ادھر آؤ۔“اس نے ہاتھ بڑھا کر قانِتہ کو اپنے پاس بلایا۔وہ منت نہیں کر رہا تھا،وہ حکم دے رہا تھا۔وہ میکانیکی انداز میں اس کے قریب چلی گئی۔غزوان نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس بٹھایا۔
”غصے میں تھا میں لیکن تمہیں بھی مجھے سمجھنا چاہیے۔اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے شیئر کرو۔میں سمجھوں گا تمہیں۔اب جب شادی ہو ہی گئی ہے تو کیا ہم ایک دوسرے کو ایک موقع نہیں دے سکتے؟“وہ نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا،استفسار کر رہا تھا۔وہ بت بنی بغیر پلکیں جھپکائیں اسے دیکھ رہی تھی۔
”بولو پری وَش،کیا تم اس رشتے کو اور مجھے ایک موقع نہیں دو گی؟“
”تم دھوکا تو نہیں دو گے مجھے؟“نجانے کیسے مگر دل کی بات زبان پر آ ہی گئی تھی۔
”تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں دھوکا دے سکتا ہوں؟“سوال کے جواب میں الٹا سوال نے اس کی زبان پر فقل لگا دیا تھا۔
”ایک بار اعتبار کر کے تو دیکھو۔“وہ اب اصرار کر رہا تھا۔
”سوچوں گی۔“قانِتہ نے اپنا ہاتھ آزاد کروایا اور دوسری سمت دیکھنے لگی۔اس کی نیم رضامندی غزوان کے لبوں پر تبسم بکھیر گئی۔
”کب تک سوچو گی؟“
”اگر تنگ کرو گے تو میں بالکل نہیں سوچوں گیئں۔“اس نے آنکھیں سکیڑ کر غزوان کو دھمکی دی جس پر اس نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ہاتھ کھڑے کیے۔
”تم آرام سے سوچو،کوئی جلدی نہیں ہے لیکن جب سوچ لو تو پھر بیٹھ کر سب ڈسکس کریں گے۔تمہیں جو بھی مسئلہ ہے،مجھے بتاؤ گی اور……“اس نے توقف لیا،قانتہ نے سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز کیں۔
”مجھے اظہار محبت سننا ہے۔“
”اظہار محبت ضروری ہے؟“
”نہیں،محبت ہونا زیادہ ضروری ہے۔“
”اچھا اگر محبت ہو گئی پھر کیا ہو گا؟“وہ اب دلچسبی سے پوچھ رہی تھی۔
”پھر وہ ہو گا جس کا تم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔“وہ آنکھوں میں گہری چمک لیے عجیب طرز سے کہہ رہا تھا۔
”کیا؟“
”یہ تو اس ہی وقت بتاؤں گا۔“وہ مدھم سا مسکرا دی۔وہ اب سنجیدگی سے اس رشتے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئی تھی۔غزوان اسے بے وفا کہہ رہا تھا۔اسے اب ثابت کرنا تھا کہ وہ بے وفا نہیں ہے۔کم از کم کوشش تو کرنی ہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
