Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode09)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode09)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
9
ہر گزرتے دن کے ساتھ زخرف کی زندگی مشکل ہوتی جا رہی تھی۔اس کے جسم کی ابھی ٹھیک سے نشوونما نہیں ہوئی تھی،ہڈیاں کمزور تھیں، اس حالت میں ایک بچے کو جنم دینا پہاڑ سر کرنے جتنا مشکل تھا۔اب بھی وہ کچن میں لکڑیاں جلانے کی کوشش کر رہی تھی جب کانوں میں ساز جیسی آواز گونجی۔صبح سے موسم کافی خراب تھا۔آسمان پر بادلوں کی آنکھ مچولی جاری تھی اور اب مینہ برسنے لگی تھی۔اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔سب کچھ وہیں چھوڑ کر وہ تیزی سے اٹھی،پھر برآمدے کی سمت بڑھ گئی۔بارش تیزی سے برسنے لگی۔زخرف نے ہاتھ آگے بڑھا کر بارش کے موٹے موٹے قطروں کو ہتھیلی پر محسوس کیا۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے وہ گدگدا سی گئی۔اگلے لمحہ اس نے چادر اتار کر چارپائی پر رکھی اور صحن کے وسط میں ہاتھ پھیلائے کھڑی ہو گئی۔بارش کے قطرے اسے بھگونے لگے۔وہ دونوں ہاتھ پھیلائے اب آہستہ آہستہ گھومنے لگی۔لبوں کی ہلکی مسکراہٹ قہقہوں میں تبدیل ہونے لگی۔اس نے جوتے پرے اچھالے اور بارش کے پانی میں کودنے لگی۔اس کے بال چہرے سے چپک رہے تھے مگر وہ ہر چیز سے بے نیاز کھیلنے میں مصروف تھی۔کبھی وہ آسمان کی جانب دیکھتے اپنا منہ کھولتی،معنوں بارش کا پانی پینا چاہ رہی ہو تو کبھی ان قطروں کو ہاتھ سے پکڑنا چاہتی۔
سِمَاک جب دروازے سے اندر داخل ہوا تو زخرف کو صحن کے وسط میں اچھلتے ہوئے پایا۔اس کی آنکھوں میں خون دوڑ آیا،وہ تیزی سے چل کر زخرف کی جانب گیا اور اسے بازو سے دبوچ کر اندر کمرے میں لے گیا۔
”یہ کیا کر رہی تھی تم؟“اس کی گرجدار آواز سے وہ سہم گئی۔وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔نجانے کیوں بدلتا جا رہا تھا۔
”وہ میں…..“اس نے مدھم آواز میں صفائی دینے کی کوشش کی۔
”تم پاگل ہو کیا؟چوتھا مہینہ ہے تمہیں اور تم اس طرح اچھل کود کر رہی ہو؟بچی نہیں ہو تم اب،بیوی ہو میری۔اپنے اندر کے بچپنے کو نکال کر باہر پھینکو۔“جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور دہلیز پار کر گیا۔وہ ساکت سی وہیں کھڑی رہ گئی۔چہرے پر ٹھہری پانی کی بوندوں میں آنسو گھلنے لگے۔بوجھل قدموں سے اس نے الماری کھولی اور ایک سوٹ نکالا۔اس کے پاس گنتی کے چند ہی کپڑے تھے اور سب کے سب غانیہ کے تھے۔غانیہ نے اس کے سائز کے مطابق انہیں سل کر اسے دیا تھا۔اس کی بنیادی ضروریات تک پوری نہیں کی جاتی تھیں۔
کپڑے تبدیل کر کے وہ خاموشی سے بستر پر آ بیٹھی تھی۔سرمئی آنکھوں والی چڑیا کا دل بجھ سا گیا تھا۔اس نے سامنے لگے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔چہرہ پچکا پچکا سا لگنے لگا تھا۔ہاتھوں کی رگیں نمایاں تھیں۔زخرف نے اپنے دائیں رخسار پر ہاتھ رکھا پھر بائیں پر……کبھی یہ گال بھرے ہوتے تھے۔جب وہ ہنستی تو چہرہ سرخ پڑ جاتا۔اس کی مورے کہتی تھیں کہ وہ اس بستی کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو گی مگر خوبصورتی تو نکھرنے سے پہلے ہی ماند پڑتی جا رہی تھی۔
”اے زخرف،بارش میں کیا کر رہی تھی؟“وہ چنگھاڑتی ہوئی آواز بیگم جان کی تھی۔وہ سہم کر بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔”کیا سِماک نے اس کی شکایت کی تھی؟“
”بلایا ہے میں نے آج دائی کو،اگر بیٹی ہوئی تو تجھے زندہ دفنا دوں گیئں۔“انہوں نے اس کا منہ دبوچ کر کہا، پھر ایک حقارت بھری نگاہ اس پر ڈالی اور دروازے کی جانب چل دیں۔دروازے تک پہنچ کر قدم رکے،مڑ کر غصے سے کہا۔
”اگر دوبارہ میں نے تجھے کھیلتے ہوئے دیکھا تو ٹانگیں توڑ دوں گیئں۔“زخرف نے ہاتھ پیٹ پر رکھا اور بستر پر ڈھے گئی۔ان چند مہینوں میں اس نے ہر روز گڑگڑا کر بیٹے کے لیے دعا مانگی تھی۔وہ اپنے لیے نہیں لڑ سکتی تھی تو اپنی اولاد کے لیے کیسے لڑتی؟یا پھر شاید لڑ سکتی تھی،ماں تو اولاد کے معاملے میں ہر محاذ سر جاتی ہے۔مگر وہ یہ محاذ سر نہیں کرنا چاہتی تھی۔اسے بیٹا ہی چاہیے تھا۔
”یا اللہ! بیٹا ہو۔“اس نے تڑپ کر دعا کی تھی اور دعا قبول بھی ہو گئی تھی۔خاتون اس کا معائنہ کر کے جا چکی تھی۔زخرف فاطمہ ایک بیٹے کی ماں بننے والی تھی۔
چلو ایک محاذ تو سر ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت وہ پھر چولہے کے آگے بیٹھی تھی۔سِماک کے کچھ دوست آ رہے تھے اور کھانا بنانے کی ذمہ داری بیگم جان نے ہمیشہ کی طرح زخرف کو سونپی تھی۔اس کا آدھا دن کچن میں تو آدھا دن گھر کے دوسرے کاموں میں گزرتا تھا۔
”کیسی ہو زخرف؟“صور پھونکتی مردانہ آواز پر وہ کرنٹ کھا کر اٹھی تھی۔اختر اس کے سامنے کھڑا تھا۔وہ واپس لوٹ آیا تھا۔ایک سال بعد وہ پھر سے آ گیا تھا۔
”بیٹے کی بہت بہت مبارک ہو۔“وہ چل کر اس کے قریب آیا تھا۔زخرف نے قدم پیچھے ہٹانے چاہے مگر اختر نے اسے اپنی جانب کھینچا پھر جھک کر ہوس بھری نگاہیں اس کی معصوم آنکھوں میں گاڑھی۔
”اب تو تم بڑی ہو گئی ہو۔اب دوستی کر لو مجھ سے۔کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔میں بہت خوش رکھوں گا تمہیں۔“وہ ایک سال سے شہر میں کام کر رہا تھا۔یہ غانیہ کی بدولت ممکن ہوا تھا۔اس نے اختر کے والد کو یہ سوچنے پر مجبور کیا تھا کہ اختر کو کام کے سلسلے میں باہر جانا چاہیے۔اس کے بعد سے زخرف کی زندگی کافی سہل ہو گئی تھی۔اس نے سِماک کو کچھ بتانا ضروری نہ سمجھا تھا کیونکہ اختر تو جا چکا تھا۔اور یہیں اس نے سب سے بڑی غلطی کی تھی۔
”مجھے نہیں کرنی تم سے دوستی۔جاؤ یہاں سے۔“خوف کی وجہ سے اسے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔
”وہ تو تمہیں کرنی پڑے گی ورنہ میں سب سے کہوں گا کہ یہ بچہ میرا ہے۔تم رات کے اندھیرے میں چھپ چھپ کر مجھ سے ملتی رہی ہو۔“زخرف نے چیخ روکنے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھا۔اس کا ننھا سا دل کانپ اٹھا۔ایک اور آزمائش…..
”یہ…..یہ جھوٹ ہے۔“اس نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔سارا بدن کانپنے لگا تھا۔
”کون یقین کرے گا؟تم تو خون بہا میں آئی ہو نہ،تمہاری بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر جب یہ کہوں گا تو تمہارا کیا ہو گا زخرف؟“وہ اسے ڈرا رہا تھا اور وہ حد سے زیادہ ڈر گئی تھی۔اس پر لرزا طاری ہوا تھا۔پیٹ میں درد اٹھنے لگا تھا۔
”آج رات سٹور میں مجھ سے آ کر ملو۔اگر غانیہ کو بتانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہو گا۔“وہ اسے دھمکا کر جا چکا تھا۔وہ چکراتے سر کے ساتھ وہیں گری تھی۔پیٹ میں شدید درد اٹھا تھا۔
”آہ!“وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے اب چلانے لگی تھی۔ایک کام کا بوجھ اور دوسرا اختر کی باتیں…..اس کی ذہنی اور جسمانی صحت تباہ ہوتی جا رہی تھی۔
اس کی چیخیں سن کر بیگم جان تیزی سے اندر داخل ہوئیں تھیں۔
”کیا ہوا ہے تجھے؟“
”مجھ……مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔“وہ فرش پر پری سسک رہی تھی۔
”اگر کھانا نہیں بنانا تھا تو پہلے بتا دیتی۔عین وقت پر یہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟“وہ بےبس نگاہوں سے انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔سرمئی آنکھیں فریاد کر رہی تھیں مگر سامنے کھڑی خاتون کا دل معنوں پتھر کا تھا۔
”زخرف……“غانیہ بھی ان کی چیخیں سن کر تیزی سے کچن کی جانب آئی تھی۔اس نے ایک ہاتھ سے بمشکل زخرف کو سہارا دے کر کھڑا کیا تھا۔
”چلو یہاں سے…..“وہ اسے اپنے ساتھ کچن سے باہر لے جا رہی تھی۔
”اب کھانا کون بنائے گا؟“بیگم جان کی آواز پر غانیہ نے ایک قہر آلود نگاہ ان پر ڈالی اور آگے بڑھ گئی۔
غانیہ نے اسے بستر پر بٹھایا اور پانی پلایا۔
”تم لیٹ جاؤ۔“زخرف کو بستر پر لٹا کر وہ اس کے ہاتھ پیر مسلنے لگی۔
”فکر نہ کرو زخرف، میں حمیدہ ترورہ(خالہ) کو بلا کر لاتی ہوں۔“غانیہ نے چادر اوڑھی اور بیساکھی کے سہارے تیزی سے باہر نکلی۔کچھ دیر بعد وہ اپنی ایک ہمسائی کو لے کر گھر لوٹی۔وہ ایک وقت میں دائی رہ چکی تھیں مگر اب کافی بوڑھی ہو چکی تھیں۔
”یہ بہت کمزور ہے۔اس کی جو حالت ہے،مشکل ہے کہ یہ بچے کو جنم دے سکے۔اگر ایسا ہوا تو بچے کے ساتھ ماں کی جان بھی جا سکتی ہے۔“غانیہ کا دل کانپ اٹھا تھا۔زخرف اندر لیٹی ہوئی تھی،حالت اب پہلے سے کچھ بہتر تھی۔غانیہ بوڑھی خاتون کے ساتھ باہر برآمدے میں کھڑی تھی۔
”کوئی حل نہیں ہے اس کا؟“
”اس سے کوئی کام نہ کرواؤں اب۔بہتر ہے کہ بستر سے ہی نہ اٹھے،خوراک کا خیال خاص خیال رکھو اور اسے کسی قسم کی کوئی ذہنی اذیت نہیں پہنچنی چاہیئے۔“بوڑھی خاتون کے جانے کے بعد غانیہ غصے سے کچن میں داخل ہوئی۔بیگم جان زخرف کو کوستے ہوئے اب نیچے چوکی پر بیٹھی ہاندی میں چمچ گھما رہی تھیں۔
”آج کے بعد زخرف کوئی کام نہیں کرے گی۔“اس نے گو کہ ان کے سر پر بم پھوڑا تھا۔
”ہائے ہائے،کیوں نہیں کرے گی؟“انہوں نے حیرت سے مڑ کر غانیہ کی جانب دیکھا۔
”وہ ماں بننے والی ہے۔“
”تو کون سا انوکھا بچہ جن رہی ہے؟بچے ہم نے بھی پیدا کیے ہیں۔ہمارے زمانے میں……“
”یہ آپ کا زمانہ نہیں ہے بیگم جان!آج کل کی لڑکیوں میں وہ جان نہیں ہے جو آپ کے زمانے کی خواتین میں ہوتی تھی۔اب نہ تو ہوا وہ رہی ہے اور نہ خوراک۔اب آپ جیسی پرانے خیالات کی مالک خواتین کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج کی خواتین کے مسائل مختلف ہیں۔اگر آپ نے بغیر کسی تکلیف کے بچے پیدا کیے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کی بہو بھی پیدا کرے۔وہ چھوٹی ہے بیگم جان اور بالفرض نہ بھی ہوتی تب بھی آج کے زمانے کی لڑکیاں جسمانی لحاظ سے بہت کمزور ہیں۔سب نہیں مگر اکثریت کو بےشمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ کہنے کے بجائے کہ ہم بھی اس دور سے گزرے ہیں،آپ لوگوں کو انہیں سمجھنا چاہیے۔ان کا علاج کروانا چاہیئے۔“
”اے بی بی،بس کر دے۔چار جماعتیں پڑھ کر خود کو ڈاکٹرنی نہ سمجھنے لگ جا۔“بیگم جان پھنکارتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
”اسلام میں بھی کم عمر لڑکیوں کی شادیاں……“
”اسلام کو درمیان میں مت لائیں۔“انگلی اٹھائے وہ گرجی تھی۔بیگم جان لمحہ بھر کو ٹھٹھک سی گئی تھیں۔
”اسلام میں سے اپنے مطلب کی باتیں مت نکالیں۔اسلام یہ کہتا ہے کہ نابالغ بچی کی شادی کر دو؟اور شادی کب ہوئی؟یہ تو کھلم کھلا گناہ ہے۔اسلام کب کہتا ہے کہ خون بہا کے طور پر لڑکی گھر لے آؤ؟اسلام کب کہتا ہے کہ اس لڑکی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دو؟اسلام کب کہتا ہے کہ کم عمر لڑکی اگر ماں بننے والی ہو تو اس سے جانوروں کی طرح کام کرواؤ،مارو پیٹو اور کھانے کو بھی نہ دو؟دوبارہ اسلام کا نام نہ لیجیے گا۔“نہایت سرد لہجے میں اپنی بات مکمل کی اور ٹوکری سے ایک پلیٹ نکال کر اس میں نہاری ڈالنے لگی۔
”یہ کیا کر رہی ہے تو؟“
”زخرف کے لیے لے کر جا رہی ہوں۔“
”اس نے میرا کلیجہ چیڑ دیا اور میں اسے گوشت کھلاؤں؟“بیگم جان نے غانیہ کے ہاتھ سے پلیٹ جھپٹی۔
”جب وہ یہ سب پکا سکتی ہے تو کھا کیوں نہیں سکتی؟“غانیہ نے پلیٹ واپس لینی چاہی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔
”کون سے کام کیے ہیں اس نے؟نہاری بنا کر احسان کر گئی، قوفتے اور زردہ کون بنائے گا؟“
”آپ بنا لیں ناں بیگم جان،آپ کے زمانے کی خواتین تو ویسے بھی بہت پھرتیلی ہوتی ہیں ناں۔“بھگو کر طنز کیا اور ایک اور پلیٹ میں کل کی بنی ہوئی دال ڈالی اور ساتھ دو روٹیاں رکھیں۔جانتی تھی کہ بیگم جان زخرف کو گوشت تو ہر گز نہیں کھانے دیں گیئں۔
”اگر یہ زخرف کو کھلایا تو آج کا کھانا تجھے نہیں ملے گا غانیہ۔“انہوں نے اسے ڈرانا چاہا مگر وہ غانیہ سِماک تھی،وہ ڈرنا نہیں جانتی تھی۔
”ٹھیک ہے۔“تابعداری سے کہا،اور پلٹ گئی۔بیگم جان کو اس کی تابعداری کھٹکی۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ سکتیں، غانیہ نے ڈوپٹے میں چھپایا ہوا شکر کا ڈبہ باہر نکالا اور نہاری کے پتیلے میں الٹ دیا۔
”اگر میں نہیں کھاؤں گیئں تو پھر کوئی بھی نہیں کھائے گا۔“اونچی آواز میں کہا اور باہر نکل گئی۔بیگم جان ماتھا پیٹتی اسے صلواتیں سناتی رہیں مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
کمرے میں آ کر اس نے کنڈی چڑھائی اور پلیٹ سامنے میز پر رکھ دی۔
”زخرف اٹھو۔“غانیہ نے تکیہ درست کیا اور اسے اٹھنے میں مدد دی۔وہ بمشکل ٹیک لگا کر بیٹھی۔
”یہ لو کھا لو۔“غانیہ نے نوالہ بنا کر اس کی سمت بڑھایا۔زخرف نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
”کھا لو زخرف۔“غانیہ نے پیار سے اسے پچکارا۔
”نہیں،بیگم جان ماریں گیئں۔“
”انہوں نے خود دیا ہے۔تمہاری طبیعت جو خراب ہے۔“
”میرے بھالو کی عادتیں خراب ہو جائے گیئں پھر یہ روز مانگے گا۔“اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کراہتے ہوئے کہا۔
”ساتھ والی ترورہ(خالہ) نے کہا ہے کہ اگر تم ٹھیک سے کھانا نہیں کھاؤ گی تو تمہارا بھالو مر جائے گا۔“غانیہ کی صاف گوئی پر زخرف کا دل دھک سے رہ گیا۔آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔
”انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایسے ہی رو گی تو بھی بچہ مر سکتا ہے۔کیسی ماں ہو تم،اپنے بچے کی فکر نہیں ہے تمہیں؟“
”مجھے ہے۔میں نہیں رو رہی۔“اس نے فوراً آنکھیں رگڑیں اور غانیہ کے ہاتھ سے پلیٹ پکڑی۔پہلا نوالہ منہ میں ڈالتے ہی اس کی آنکھیں بھیگ گیئں۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
”کیا ہوا ہے زخرف؟“غانیہ نے گھبرا کر پوچھا۔
”فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۞“اس کے لب آہستگی سے ہلے اور پھر وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔
غانیہ نے تاسف سے اسے دیکھا اور گلے لگا لیا۔یہ کل کی بچی ہوئی دال زخرف کے لیے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھی۔اسے یاد نہیں تھا کہ آخری بار اس نے کب سبزی یا دال کھائی ہو۔وہ ان کا ذائقہ بھول چکی تھی۔
بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”بابا صاحب،آپ زخرف کو شہر کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔“رات کے پہر غانیہ نے سماک سے کہا تھا۔
”کیوں؟“اس نے ناسمجھی سے غانیہ کی جانب دیکھا۔
”اس کی طبیعت کافی خراب ہے۔“
”ظاہر ہے بچوں کی طرح کھیلے گی تو یہ تو ہو گا ہی۔“سِماک نے افسوس سے سر جھٹکا۔
”آپ بھول رہے ہیں کہ وہ بچی ہی ہے۔اگر آپ نے اسے بیوی ہونے کا درجہ دے ہی دیا ہے تو پھر اس رشتے کو نبھائیں بھی۔بیگم جان سے کہیں کہ اس سے اتنا کام نہ لیا کریں۔“
”میں ان سب چیزوں سے بہت تھک چکا ہوں۔وہ خون بہا کے طور پر لائی گئی ایک لڑکی ہے،یہی اس کا مقدر ہے۔میں سمجھ گیا ہوں،تم اسے بھی سمجھا دو۔میں مجبور ہوں غانیہ!میں چاہ کر بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔“وہ کہہ کر آگے چلا گیا۔غانیہ اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی۔افسوس سے،تاسف سے…….
”مرد مجبور نہیں ہوتا بابا صاحب!اگر آپ چاہتے تو زخرف کے ساتھ کبھی کچھ غلط نہ ہوتا مگر آپ نے چاہا ہی نہیں۔“اس نے آنکھیں بند کیں،پھر کھولیں۔آنکھوں میں سرخ خراشیں واضح ہوئیں،دکھ اور ملامت کی خراشیں…….
سماک نے ابھی گھر سے باہر قدم ہی رکھا تھا کہ فون کی بیپ بجی۔شگوفہ کی کال دیکھ کر سِماک نے بلا تاخیر کال اٹھائی۔
”سِماک،میں اپنے گھر پر ہوں۔کیا آپ آ سکتے ہیں؟“اس کی درد بھری آواز پر سِماک سب کچھ بھول گیا۔اپنی بیوی،اپنا ہونے والا بچہ،ہر چیز…….
آدھے گھنٹے کے اندر اندر وہ شگوفہ کے گھر موجود تھا۔
”انہوں نے مجھے رکھنے سے انکار کر دیا۔میرے پاس اس گھر کے سوا اب اور کچھ نہیں بچا۔میں اکیلی رہ گئی ہوں سِماک!میں بہت مجبور ہو کر آج آپ سے مدد مانگ رہی ہوں۔کیا آپ مجھے کوئی کام دلوا سکتے ہیں؟“جوتوں پر نگاہیں جمائے اس نے بہت بھاری دل سے مدد مانگی تھی۔چادر سے چہرہ چھپا رکھا تھا۔
”تمہیں کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے شگوفہ،میں ہوں ناں۔تمہارا سارا خرچہ میں اٹھاؤں گا۔“اپنے محبوب کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ پگھل گیا تھا۔
”مجھے کوئی احسان نہیں چاہیئے سِماک، آپ بس کام کا کوئی بندوبست…….“
”کوئی احسان نہیں ہے۔میں نکاح کروں گا تم سے اور اب منع مت کرنا۔یہ حق اسلام مجھے دیتا ہے۔کسی بیوہ کو سہارا دینا غلط نہیں ہے۔“
”اور زخرف……“
”فلحال اور کسی کے بارے میں مت سوچو شگوفہ۔اب ہم صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔نکاح کر لیتے ہیں۔“شگوفہ نے سِماک کی جانب دیکھا پھر ہار مان کر نگاہیں جھکا لیں۔حالات سے لڑتے لڑتے وہ اب تھک چکی تھی۔اب اسے بھی ایک سہارے کی ضرورت تھی۔
اس رات سِماک نے اپنی دس سالہ بیوی سے بے وفائی کی تھی۔اس نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ معصومیت،وفاداری،کم عمری کوئی چیز معنی نہیں رکھتی۔اگر معنی رکھتی ہے تو صرف محبت……وہ محبت جو اس نے شگوفہ سے کی تھی۔وہ رات سِماک کی زندگی کی سب سے خوبصورت رات تھی جبکہ زخرف کی زندگی کی سیاہ رات……وہ ساری رات درد سے تڑپتی رہی تھی۔اختر کے کہے الفاظ نے اسے بےحد ڈرا دیا تھا۔وہ اس کے کہنے پر سٹور میں نہیں گئی تھی۔اب نجانے وہ صبح کیا کرنے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میز پر رکھی فائلیں بے ترتیب پڑی تھیں۔ان پر جھکا شخص عمیق سوچوں میں گم تھا۔انگلیاں غیر محسوس انداز میں قلم کو گھما رہی تھیں۔وہ اپنی کمپنی کے دفتر میں موجود تھا۔جعفر چچا نے پولیس کو کیسے روکا تھا،یہ وہی جانتے تھے۔کام کی بھاگ دوڑ اب قتادہ سنبھال رہا تھا۔ان کے درمیان کیا بات ہوئی تھی،یہ صرف چار لوگ جانتے تھے۔جعفر چچا،قتادہ،اسد اور…….فون کے وائبریٹ ہونے پر قتادہ نے ناگواریت سے ویڈیو کال اٹینڈ کی۔
”کیسے ہو مسٹر اکڑو؟“غزوان نے اپنی جانب سے طنز کیا تھا،جوابا قتادہ نے اسے گھوری سے نوازا۔
”پتا ہے کہ تم بہت مس کر رہے ہو مجھے مگر میں بالکل نہیں کر رہا۔تمہاری ڈوبلیکیٹ سے روز ملاقات ہوتی رہتی ہے۔“غزوان نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی اور قانتہ کو سوچا۔
”کیوں کال کی ہے؟“قتادہ نے آبرو ریز کر کے اشارے میں پوچھا۔
”تم جذباتی ہو رہے ہو۔مان کیوں نہیں لیتے کہ سحر……“
”زندہ ہے۔میرا دل کہتا ہے کہ وہ زندہ ہے اور میں اسے ڈھونڈ لوں گا۔چاہے مجھے دنیا کے آخری کونے میں بھی جانا پڑے۔“قتادہ نے ناگواریت سے کال کاٹی اور اٹھ کھڑا ہوا۔
اس کا رخ اب اپنی گاڑی کی جانب تھا۔اسد اس کے ساتھ ہی تھا۔
گاڑی اب سڑک پر چلنے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کے وقت گاڑیاں اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھیں۔ایک آدمی نے گود میں بچے کو اٹھایا ہوا تھا۔اس نے احتیاط سے سڑک کراس کی اور کنارے پر آ کر ٹھہر گیا۔وہ اب کسی سے فون پر بات کرنے میں مصروف تھا۔بچے کو گود سے اتار کر وہ اس کی انگلی تھام چکا تھا۔بچے نے حسرت سے سڑک کے وسط میں پڑے اپنے کھلونے کی جانب دیکھا جو سڑک پار کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا تھا۔اگلے لمحہ وہ اپنے باپ کا ہاتھ چھڑوا کر سڑک کی سمت بھاگا۔تھوڑا دور سکوٹی کے پاس کھڑی لڑکی نے چلا کر اس کے باپ کو متوجہ کرنا چاہا مگر وہ فون پر بات کرنے میں مصروف تھا۔
”اپنے بیٹے کو دیکھیں۔“وہ ایک بار پھر چلائی۔بچہ سڑک کے وسط تک پہنچ چکا تھا۔ایک تیز رفتار گاڑی اس کی سمت بڑھ رہی تھی۔لڑکی چیخ اٹھی۔اس سے پہلے کہ گاڑی بچے کو کچلتی، کوئی شخص پھرتی سے اسے گود میں اٹھائے ایک طرف ہوا تھا۔وہ قتادہ ذوالفقار تھا۔
اس نے بچے کو اس کے باپ کے حوالے کیا اور کھا جانے والی نگاہوں سے اسے گھورا پھر لڑکی کی سمت بڑھ گیا۔اسد اس کے پیچھے لپکا۔
اس نے اسد کو اشارہ کیا کہ وہ اس کے اشاروں کا ترجمہ کرے۔اسد نے منت بھرے انداز میں اسے دیکھا مگر قتادہ کی گھوری پر اسد کو ناچار بولنا ہی پڑا۔
”تم ایک نہایت بدتمیز لڑکی ہو۔تم چاہتی تو اس بچے کو بچا سکتی تھی مگر تم نے یہاں کھڑے رہ کر چلانے کو فوقیت دی۔“سکوٹی کے پاس کھڑی لڑکی کا دماغ بھک سے اڑا۔چہرہ سرخ پڑا۔اس نے پھاڑ کھا جانے والی نگاہوں سے قتادہ کو گھورا۔
”ایک بچے کو بچا کر تم خود کو ہیرو سمجھنے لگے ہو۔شکل تو بالکل زیرو جیسی ہے۔“منہ چڑایا اور سکوٹی پر بیٹھ گئی۔
قتادہ تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔اسد نے بمشکل لب دبائے۔یہ ملی تھی کوئی ٹھکر کی اسے۔
”تم خود کو سمجھتی کیا ہو بدتمیز لڑکی؟“
”جانتی ہو کہ میں کون ہوں؟ایک لمحہ میں تمہارے مستقبل کی دھجیاں بکھیر سکتا ہوں۔“وہ اشارے کرتا رہا مگر اسد نے اس کی کسی بات کا ترجمہ نہ کیا۔
لڑکی ہیلمنٹ پہن کر سکوٹی آگے بڑھا گئی۔قتادہ ہاتھ چلاتا رہا مگر اسد نے تو معنوں اپنے لب سل لیے تھے۔
لڑکی کے جانے کے بعد قتادہ نے گھور کر اسد کی جانب دیکھا۔
”ہی ہی ہی“اسد نے اسے اپنی بتیسی دکھائی۔قتادہ نے کھینچ کر مکا اس کے دانتوں پر مارا اور آگے بڑھ گیا۔اسد بیچارہ وہیں گر گیا۔سامنے والا دانت ٹوٹ کر زمین پر آ گرا۔خون کی لکیر سڑک پر گرنے لگی۔اس نے افسوس بھری نگاہ سے قتادہ کی پشت کو گھورا جو اس کا تیسرا دانت توڑ چکا تھا۔(افف!اب ایک اور نقلی دانت کا خرچہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے وقت بارسلونا کی سڑکیں آہستہ آہستہ زندگی کی آہٹ محسوس کرنے لگیں۔پرندوں کے چہچہاہٹ اور درختوں کی سرسراہٹ صبح ہونے کا ثبوت دے رہی تھی۔
محمود یزدانی جیکٹ پہنے، جیبوں میں ہاتھ ڈالے آرام دہ قدموں سے واک کر رہے تھے۔وہ کئی بار پہلے بھی اسپین آ چکے تھے۔یہاں کے شہروں میں گھومنا انہیں بےحد پسند تھا۔
”محمود……“کسی شناسا آواز پر وہ چونکے، پھر پلٹے۔پلٹتے ساتھ ہی ان کے چہرے پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات بکھر گئے۔سامنے جہانزیب کھڑے تھے، ان کے بچپن کے دوست…….
”جہانزیب، تم یہاں؟“وہ گرمجوشی سے ان سے بغل گیر ہوئے۔
”میں تو بارسلونا میں ہی رہتا ہوں مگر تم……“
”میں کچھ دنوں کے لیے بارسلونا آیا ہوں،اپنی بیٹی سے ملنے اور دیکھو تم مل گئے۔“انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔
”واقعی مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا۔“جہانزیب نے قہقہ لگایا اور دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے۔پرانی یادیں تازہ ہونے لگیں۔دونوں پارک کے بینچ پر بیٹھ گئے۔
”تمہاری بیٹی یہاں رہتی ہے؟“
”ہاں،وہ جاب کرتی ہے حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے مگر اس کا شوق ہے۔“سورج کی نرم شعاعیں ان کے چہروں پر گرنے لگیں، معنوں بارسلونا شہر ان کے دوبارہ ملنے پر بےحد خوش ہو۔
”بہت اچھی بات ہے۔بچے اس عمر میں اپنے شوق پورے نہیں کریں گے تو پھر کب کریں گے؟“
”ہاں،یہ تو ہے۔میری بیٹی بہت ذہین ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ضدی بھی ہے۔تم بتاؤ پٹھان صاحب،کتنے بچے ہیں؟“محمود نے انہیں چھیرتے ہوئے پوچھا۔وہ دل کھول کر ہنس دیے۔
”ایک ہی بیٹا ہے جس نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔عرصہ ہوا، بستی چھوڑے ہوئے۔یہیں بارسلونا میں مقیم ہیں۔اچھا سیٹ اپ ہے۔“محمود متاثر ہوئے۔
”کسی دن تم آؤ نہ میرے گھر۔“
”ضرور۔“محمود نے دعوت قبول کی۔
”اور سناؤ زندگی میں سب کیسا چل رہا ہے۔“جہانزیب کے سوال پر محمود نے تاسف سے نفی میں سر ہلایا۔
”اکلوتی بیٹی نے اشاروں پر نچا رکھا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ وہ شادی کر لے مگر محترمہ کو کوئی پسند ہی نہیں آتا۔جب بھی کسی لڑکے سے ملواتا ہوں،اسے بھگا دیتی ہے۔میرا دل دکھتا ہے جہانزیب۔بھائی کی نگاہ میری پراپرٹی پر ہے۔چاہتے ہیں کہ قانتہ کی شادی ان کے بیٹے سے کروا دوں،میں یہ نہیں ہونے دوں گا۔وہ وہاں خوش نہیں رہے گی۔بس ڈر لگتا ہے کہ اگر کل مجھے کچھ ہو گیا تو میری بیٹی کا کیا ہو گا؟“انہوں نے اپنا آپ کھول کر جہانزیب کے سامنے رکھا۔جہانزیب سوچ میں پڑ گئے۔
”میں بھی اپنے بیٹے کے لیے لڑکی تلاش کر رہا ہوں۔تمہاری بیٹی سے زیادہ اچھی لڑکی مجھے اور کیاں ملے گی؟اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو۔“جہانزیب نے معنوں محمود یزدانی کے سر سے بوجھ اتار دیا تھا۔
”تمہارے بیٹے کو کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا؟“
”وہ ہوتا کون ہے اعتراض کرنے والا؟مجھے یقین ہے کہ وہ میرے فیصلے کا احترام کرے گا۔“
”مگر میری بیٹی کا کچھ کہہ نہیں سکتے۔“انہوں نے خدشہ ظاہر کیا۔
”ایک کام کرتے ہیں،چند دنوں کے لیے کوردوبا چلتے ہیں۔تم اور میں اپنی فیملی کے ساتھ وہاں چلے گے۔دونوں بچے ایک دوسرے سے ملیں گے،ایک دوسرے کو جانیں گے تب ہی کوئی بات بنے گی ناں۔“محمود سوچ میں پڑ گئے۔چند لمحے سوچتے رہے پھر انہوں نے سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔
”میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ قانتہ میری سگی بیٹی نہیں ہے۔میں نے اسے اڈاپٹ کیا ہے۔“لمحہ بھر کو سکوت سا چھا گیا۔محمود نے ایک سرد آہ بھری اور مسکرا دیے۔
”کوئی بات نہیں جہانزیب،میری بیٹی کو رشتوں کی کمی نہیں۔یہ چیز ہماری دوستی کو خراب نہیں…..“جہانزیب نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور کچھ برہمی سے کہا۔
”خون جس کا بھی ہو مگر تربیت تم نے کی ہے۔یہی کافی ہے، دوبارہ یہ بات مت کرنا۔میرے بیٹے کی شادی تمہاری بیٹی سے ہی ہو گی۔“محمود یزدانی کے کندھوں کا بوجھ معنوں اتر سا گیا تھا۔
”جلدی مت کرو، آرام سے اپنی بیوی اور بیٹے سے بات کر کے پھر مجھے بتانا۔اور ہاں جہانزیب،میری بیٹی اس بارے میں نہیں جانتی اور نہ میں چاہتا ہوں کہ وہ جانے۔اگر اسے علم ہو گیا تو ٹوٹ جائے گی۔اپنے اصل کو کھوجنے پاکستان جائے گی،جو میں نہیں چاہتا۔“انہوں نے پریشان کن لہجے میں کہا۔وہ ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ قانتہ پاکستان جائے۔چاہتی تو وہ بھی نہیں تھی مگر تقدیر کا لکھا کون جانے؟اگر اس کا جانا لکھا تھا تو اسے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
