61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode05)

Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi

نہ ہو احساس تو سارا جہاں ہے بے حس و مردہ

گداز دل ہو تو دکھتی رگیں ملتی ہیں پتھر میں

”قانِتہ تمہیں یہ سب مذاق لگ رہا ہے؟کیا تم نہیں جانتی کہ خواتین کے ساتھ کتنا ظلم ہوتا ہے؟“قہقہوں کے ساتھ سنائی کہانی کے بعد عزیزہ نے کچھ دکھ سے پوچھا تھا۔اسے قانِتہ کا رویہ سخت ناگوار گزرا تھا۔
”کم آن!میں یہ سب نہیں مانتی۔آجکل خواتین خود مختیار ہیں۔میرا نہیں خیال کہ کوئی مرد کسی عورت پر ظلم کر سکتا ہے۔اب مجھے ہی دیکھ لو۔“کافی کا سپ لیتے اس نے ناگواری سے کہا تھا۔وہ دونوں گداز صوفے پر بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں۔
”عصمت دری کے کیسز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“
”او کم آن!یہ صرف عورت کارڈ ہے جسے اس قسم کی خواتین کھیلتی ہیں۔کیوں پھرتی ہیں مردوں کے ساتھ؟کیوں اعتبار کرتی ہیں؟جو بھی ہوتا ہے ناں،ان کی اپنی مرضی سے ہوتا ہے۔پھر پکڑے جانے پر سارا ملبہ مرد پر گرا کر خود بری الزمہ ہو جاتی ہیں۔“اس نے تنفر سے سر جھٹکا۔
عزیزہ کی آنکھیں پھیل گئیں،وہ پلکیں جھپکنا بھول گئی۔قانِتہ کی سوچ سے اسے بےحد دکھ پہنچا۔
”اب دیکھو ناں،میں پچھلے تین سال سے اسپین میں ہوں۔ہزاروں مردوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے،پارٹیز اٹینڈ کرتی ہوں،مجال ہے کوئی آج تک میرے ساتھ فری ہوا ہو۔قصور لڑکیوں کا ہوتا ہے،جب تک لڑکی نا چاہے تب تک اس کے ساتھ ایسا ویسا کچھ نہیں ہو سکتا۔“اس کے لہجے میں مان تھا، یقین تھا۔شاید اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا،جن پر جب تک خود نہ گزرے،یقین نہیں کرتے۔
عزیزہ نے کچھ نہ کہا،خاموش رہی۔قانِتہ نے اسے کچھ کہنے کے قابل ہی کہاں چھوڑا تھا۔
عزیزہ کے جانے کے بعد وہ برتن سمیٹ کر کچن میں رکھ رہی تھی،جب رنگ پر اس نے موبائل اُٹھایا۔نام دیکھ کر لبوں پر مسکراہٹ بکھری،کال اٹینڈ کی اور فون کان سے لگایا۔
”ہائے ڈیڈ!کیسے ہیں آپ؟“اس نے پرجوش لہجے میں پوچھا۔
”یہ آپ کیا…..ایک منٹ ڈیڈ،کیا ہو گیا ہے؟“سپیکر کی دوسری جانب سے کہے الفاظ نے اسے بے چین کر دیا تھا۔
”برین ٹیومر……ڈیڈ،ایک منٹ،آپ سے کس نے…..“ایک دم زبان رکی تھی۔آنکھیں طیش سے سرخ پڑیں، آس پاس دھماکے ہوئے۔سمجھ گئی کہ یہ کس کا کام تھا۔
”ڈیڈ میری بات سنیں۔“چل کر باہر آئی پھر تحمل سے سب سمجھایا۔
رابطہ منقطع کرنے کے بعد ایک اور نمبر ڈائل کیا۔وہی نمبر جس سے رپورٹ بھیجنے کے لیے میسج کیا گیا تھا مگر اس نے توجہ نہ دی۔
”سیوٹا ڈیلا پارک میں مجھ سے ملو۔“اپنی کہی اور رابطہ منقطع کر دیا۔

••••••••••••

Ciutadella park
پارک سیوٹا ڈیلا میں فضاء خوشبوؤں سے معطر تھی۔داخلی دروازے کی پتھریلی روش کے اطراف میں بلند درخت راستے پر سایے بکھیرے ہوئے تھے۔پارک کے ایک کونے میں ایک دلکش فوارے سے پانی بلند ہو کر نیچے بہہ رہا تھا، معنوں بارش کے بعد کوئی مور ناچ رہا ہو۔
پارک کے ایک کنارے پر خوبصورت قدیم مجسمہ کھڑا تھا جس کے سامنے باغیچہ تھا۔
تھوڑا دور جھیل کے کنارے غزوان ہاتھ میں گلاب کا پھول تھامے قانِتہ کا انتظار کر رہا تھا۔لبوں پر مسکراہٹ رقصاں تھی۔پارک کا جادوئی منظر اسے وقت کی دھار سے معنون آزاد کروا لے گیا تھا۔
وہ اردگرد نظریں دوڑاتا کسی خاص چہرے کی تلاش میں تھا۔عین اس وقت وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دکھائی دی تھی۔دل زور سے دھڑکا تھا۔قانِتہ نے اسے یہاں کیوں بلایا تھا،وہ بھی رات کے پہر؟وہ سوچ رہا تھا،سمجھ رہا تھا۔دل گدگدا سا گیا تھا۔
”تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟“اس کے پاس آ کر ٹھہری،تمام لحاظ بالائے طاق رکھے اور روکھائی سے کہا۔غزوان کے ماتھے پر شکنیں ابھریں اور آنکھوں میں سوال۔
”عزت نفس نام کی کوئی چیز ہے تمہارے پاس؟ایک بار انکار کر دیا تو کیوں پیچھے پڑے ہو۔میں نے تم سے کینسر کے حوالے سے جھوٹ کہا اور تم نے میرے ڈیڈ تک بات پہنچا دی۔“چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا،آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔
”وہ ہارٹ پیشنٹ ہیں،اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو میں تمہیں جان سے مار دیتی۔“وہ سرد لہجے میں پھنکار رہی تھی۔اس پر برس رہی تھی جبکہ وہ سن کھڑا اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
”کیا اسے ٹیومر نہیں تھا؟“جو بات اسے سمجھ آئی تھی،وہ یہی تھی۔
”تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟نہیں کرنی تم سے شادی تو نہیں کرنی۔“وہ پوری قوت سے چلائی تھی۔جھیل کے پانی کی سطح پر درختوں کی پرچھائیاں لرزنے لگیں،دور کہیں فوارے سے بہتے پانی کی آواز بے سری سی لگی۔
”بس خاموش ہو جاؤ۔“ہاتھ اٹھا کر درشتی سے اسے خاموش کروایا۔کان کی لوئیں تک سرخ ہوئیں،آنکھوں میں سرخی دوڑ آئی۔
”میں تمہارے والد کو جانتا تک نہیں تو یہ بات ان سے کیسے کہہ سکتا ہوں؟یہ بات میں نے صرف تمہاری کمپنی کے باس سے کی تھی تا کہ تمہیں چھٹیاں مل سکیں،تم آرام کر سکو۔میں تمہارے لیے بہترین ڈاکٹر ڈھونڈ سکوں۔تمہارا علاج کروا سکوں اور تم……“تاسف سے اسے دیکھا،نفی میں گردن ہلائی۔
”تم نے مجھ سے جھوٹ کہا؟تم میرے جذبات کے ساتھ ایسے کیسے کھیل سکتی ہو؟“دوسرے ہاتھ میں پکڑا گلاب کا پھول مٹھی میں مسلا،قدرے بلند آواز میں دریافت کرنا چاہا۔وہ جوابا سر جھٹک کر ہنس دی۔
”کچھ غلط نہیں کیا میں نے۔مجھے تم سے شادی نہیں کرنی، بس اتنی سی بات ہے۔“
”وجہ بتاؤ۔کیا کمی ہے مجھ میں؟“
”میں یہ سب نہیں کہنا چاہتی تھی مگر تم نے مجھے مجبور کر دیا ہے۔تمہارے بارے میں معلومات اکھٹی کی ہیں میں نے۔اصل مسئلہ تمہارا بیک گراؤنڈ ہے۔“اب کی بار اس نے صاف گوئی سے کام لیا تھا۔غزوان کے ماتھے پر شکنیں ابھریں، سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر جمائیں۔
”کیا مطلب؟“
”تمہارا تعلق پاکستان کے ایک قبیلے سے ہے۔میرا اپنا ایک اسٹیٹس ہے۔میرے ڈیڈ کی دبئی میں ایک ساکھ ہے۔میں ان کی اکلوتی بیٹی ہوں،میں کسی پٹھان سے شادی نہیں کر سکتی۔“
”بس،بہت ہو گیا۔میری بستی کے بارے میں ایک لفظ مت کہنا۔“اس کی دھاڑ میں ایسی وحشت تھی کہ قانِتہ کے کانوں کے پردے تک لرز گئے،دل سہم گیا اور وجود میں معنوں کپکپی سی دوڑ گئی۔اس نے غزوان کو اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
”میں نے ساری عمر باہر گزرای ہے۔میرے ڈیڈ کا یہاں بزنس سیٹ ہے مگر پھر بھی مجھے اپنی بستی اور لوگوں بےحد محبّت ہے۔ان کے بارے میں ایک لفظ نہیں۔“اس کے ہر لفظ میں معنوں تباہی چھپی تھی۔قانِتہ گنگ سی اسے دیکھتی رہی۔
”مجھے اپنے اصل پر فخر ہے۔مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور تم……تم میں واقعی ایسا کچھ نہیں، جو غزوان جہانزیب اپنا وقت تم پر ضائع کرے۔بہت ناز ہے تمہیں اپنی خوبصورتی پر، کسی دن میرے قبیلے آنا،میں تمہیں دکھاؤں گا کہ حسن کہتے کسے ہیں؟“اس بار آواز قدرے مدھم تھی مگر ایسی کہ ذہن پر وحشت طاری کر دے۔
”ہاں تو جاؤ ناں اپنی تھرڈ کلاس بستی میں، اور وہیں سے اپنے لیے بیوی منتخب کر لینا کیونکہ قانِتہ یزدان تو کبھی مر کر بھی تمہاری بستی میں قدم نہیں رکھے گی۔اس ہی میں تمہاری اور تمہاری بستی والوں کی بھلائی ہے کیونکہ جس دن میں وہاں گئی،دن میں تارے دکھا دوں گیئں سب کو۔“پتھریلی آواز نے لمحہ بھر کو غزوان کے وجود کو سن کر دیا پھر کچھ سنبھل کر گویا ہوا۔
”تم ایک مغرور اور انا پرست لڑکی ہو۔میں نے تم سے محبت کر کے غلطی کی۔“
”بالکل،تم اپنے قبیلے سے کوئی تین چار بیویاں ڈھونڈ لینا پھر دس بارہ بچے پیدا کر کے سکون بھری زندگی گزارنا۔ان پڑھ اور گنوار عورتیں خوشی خوشی رہ لے گیئں تمہارے ساتھ۔ویسے بھی میں نے سنا ہے کہ تم لوگوں کے علاقے میں نابالغ بچیوں کے نکاح ساٹھ ساٹھ سال کے بوڑھوں سے کروائے جاتے ہیں۔پہلے تو یقین نہیں آیا مجھے مگر اب لگ رہا ہے کہ یہی سچ ہے۔اتنی ہوس ہے تمہارے علاقے کے مردوں میں۔“
”بکواس بند کرو اپنی ورنہ مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہو گا۔“اس کی دھاڑ میں خاموشی کو چیڑنے والی گرج تھی۔آس پاس موجود لوگوں نے پلٹ کر ان دونوں کو دیکھا مگر وہ ہر چیز سے بے خبر آگ میں لپٹے شعلوں کی مانند جھلستی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
”تم سے برا کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔“آخری کڑوی نگاہ اس پر ڈالی اور سر جھٹک کر پلٹی،اور آگے چل دی۔
غزوان نے مسلا والا پھول نیچھے پھینکا،غصے سے اس کی پشت کو گھورتا رہا، یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
”ایک چیز بتانا تم بھول گئی قانِتہ،ہم پٹھان اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کرتے۔ہماری دشمنیاں صدیوں تک چلتی ہیں۔غزوان جہانزیب کی پہلی بیوی تو تم ہی بنو گی۔“ایک عزم تھا اس کے لہجے میں۔الفاظ برف کی مانند سرد اور زہریلے تھے۔وہ ضد پر اڑ گیا تھا،وہ اسے ضد دلا گئی تھی۔
•••••••••••••••
رات کے پہر وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا جب فون کی گھنٹی نیند میں مخل ہوئی۔سماک نے بغیر دیکھے فون اٹھایا اور کان سے لگایا۔دوسری طرف نسوانی سسکیوں کی آواز سن کر وہ بے چینی سے اٹھ بیٹھا۔
”شگوفہ…..“بنا کچھ کہے بھی وہ اسے پہچان سکتا تھا۔
”مورے……مورے بیہوش ہو گئیں ہیں۔میں اکیلی ہوں سِمَاک،مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔“
”میں آ رہا ہوں۔“وہ ایک جھٹکے سے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔بجلی کی تیزی سے چادر لپیٹی اور باہر کی سمت چل دیا۔اسے بلانے والی اس کی محبوبہ تھی،وہ کیسے نہ جاتا؟
اس کے جانے کے ٹھیک دو گھنٹے بعد رات گیارہ بجے برآمدے میں سوئی ہوئی زخرف اٹھی۔محتاط انداز میں ارد گرد دیکھا،پیٹ پر ہاتھ پھیرا،لبوں پر مسکراہٹ رینگ آئی۔اچھے سے سر پر چادر اوڑھی اور دبے قدموں پچھلے حصے میں بنے سٹور کی جانب چل دی۔
آہستگی سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔چاروں اطراف اچھے سے نگاہ دوڑائی مگر کہیں کھانا نظر نہ آیا۔
اچانک دروازہ بند ہونے کی آواز سے وہ برجستگی سے پلٹی، اختر کو سامنے دیکھ لمحہ بھر کے لیے گھبرائی پھر مسکرا کر دوڑتی ہوئی اس کی جانب بڑھ گئی۔
”کھانا…..؟“معصومیت سے اس کے آگے ہاتھ پھیلایا۔اختر نے سر تا پیر حوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور اس کا بازو دبوچ لیا۔زخرف کراہ اٹھی۔
”شش……کھانا چاہیئے تو بالکل خاموش۔جو میں کہوں گا، تم کرو گی پھر ہی میں تمہیں کھانا دوں گا۔“
”کیا کرنا ہو گا؟“للچاتی نگاہوں سے تیزی سے پوچھا۔اختر نے بچا کچا فاصلہ طے کیا۔نیچے جھکا اور اسے چھوا۔
زخرف سٹپٹا کر پیچھے ہٹی۔
”یہ……یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟“چھٹی حس نے کوئی سگنل دیا۔کیا ہو رہا تھا،وہ نہیں جانتی تھی، مگر اتنا ضرور جانتی تھی کہ کچھ غلط ہے۔
”بہت خوبصورت ہو تم۔اس بستی کی سب سے حسین لڑکی۔“اختر کی جسارتیں بڑھنے لگیں۔زخرف نے مچل کر خود کو چھڑوانا چاہا۔
”چھوڑیں مجھے۔مجھے جانا ہے۔“اس نے دروازے کی سمت قدم بڑھانے چاہے جب اختر نے اسے فرش پر دھکا دیا۔
”چھوڑیں مجھے۔مجھے نہیں چاہیئے کھانا۔“وہ مزاحمت کرتی چیخ اٹھی۔اختر نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔وہ بری طرح سسکی۔
آج کی رات جب اس کا شوہر اپنی محبوبہ کے انسو پونچھنے میں مصروف تھا،وہ یہاں سٹور میں سسک رہی تھی۔
”کون ہے اندر؟“نسوانی آواز پر اختر بوکھلا سا گیا۔زخرف کے منہ پر گرفت کچھ ڈھیلی پڑی مگر وہ اب بھی خود کو آزاد نہیں کروا سکی مگر دبی دبی سسکیاں ضرور دیواروں میں گونج رہی تھیں۔
”میں نے کہا،کون ہے اندر؟“لکڑی سے دروازے کو باہر سے زور سے کسی نے ہلایا۔اختر ڈرتے ہوئے فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
”کہیں کوئی چور تو نہیں۔بیگم جا……“اس سے پہلے کہ غانیہ چلا کر سب کو اکھٹا کرتی،اختر نے دروازہ کھول دیا۔لمحہ بھر ضائع کیے بغیر وہ وہاں سے بھاگ گیا۔
غانیہ کئی لمحے ششدر سی کھڑی اس کاروائی کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی جب اس کی نظر فرش پر بے حال پڑی اپنی نو سالہ ماں کی طرف پڑی۔اس نے سختی سے بیساکھی کو تھاما،ذہن سن ہونے لگا۔تیزی سے قدم زخرف کی جانب بڑھائے۔اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
”یہ سب……تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“اس پر غرائی مگر وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں ایسے ہی کھڑی رہی۔
”چلو یہاں سے۔“اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آئی۔بستر پر بٹھایا،پھر پوچھا۔
”کیا کر رہی تھی تم وہاں؟“دھاڑ ایسی تھی کہ زخرف لرز گئی۔
”وہ….. انہوں نے کہا تھا کہ کھانا دیں گے۔“کہتے ساتھ ہی چہرہ ہاتھوں میں چھپایا اور رو دی۔لمحہ لگا تھا،غانیہ کو سب سمجھنے میں۔
”ادھر دیکھو میری طرف۔“اس کے ہاتھ ہٹائے، چہرہ دبوچا اور اوپر اٹھایا۔
”کیا،کیا ہے اس نے؟“سختی سے استفسار کیا۔
”پتا نہیں،مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔شاید….. شاید وہ مجھے جان سے مارنا چاہتے تھے۔میں دوبارہ کھانا نہیں مانگوں گیئں۔مجھے نہیں چاہیئے۔“غانیہ نے سکھ کا سانس لیا اور اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔
”آج جو کچھ بھی ہوا، تم اس کا ذکر کسی سے نہیں کرو گی۔سمجھی؟“سختی سے کہنے پر زخرف نے تیزی سے اثبات میں سر ہلایا۔غانیہ نے بیساکھی ایک طرف رکھی،سہارا لے کر اس کے قریب بستر پر بیٹھ گئی۔چند لمحے کمرے میں صرف زخرف کی سسکیاں گونجتی رہیں پھر غانیہ مدھم آواز میں گویا ہوئی۔
”بھوک سے مر جانا زخرف مگر عزت کا سودا نہ کرنا۔عزت چلی جائے تو انسان جیتے جی مر جاتا ہے۔مرے ہوئے انسان کو بھوک کا احساس نہیں ہوتا۔“وہ اسے سمجھا رہی تھی، ننھا ذہن سمجھنے کی کوشش میں جت گیا تھا مگر الفاظ ابھی سر سے گزرتے معلوم ہوئے تھے۔
”تم آج سے میرے کمرے میں سو گی۔دوبارہ اختر نے یا کسی نے بھی تمہیں چھونے کی کوشش کی تو مجھے بتانا۔تمہاری مرضی کے بغیر تمہیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔“
”مگر آپ کے پلار نے تو لگایا تھا۔“غانیہ نے ٹھٹھک کر اس کی جانب دیکھا۔سانس معنوں رکی تھی۔
”کیا…..کیا مطلب؟“
”انہوں نے میرے ہاتھ پر دوائی لگائی تھی۔“غانیہ کی سانس میں سانس ائی۔
”ہاں، ٹھیک ہے ان کے علاؤہ کوئی تمہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔“دل پر پتھر رکھ کر ناگواری سے کہا۔اپنی ماں کی جگہ کسی اور کو دینا آسان نہ تھا۔
”مگر بیگم جان تو روز مجھے ہاتھ لگاتی ہیں اور مارتی بھی ہیں۔“
”اب اگر کوئی بکواس کی تو ایک تھپڑ ماروں گیئں۔“غانیہ کی دھاڑ پر وہ سہم کر خود میں سمٹی۔
”وہ فیڈر نظر آ رہا ہے، اس میں سے دودھ نکال کر گلاس میں ڈالو اور پی لو۔“زخرف نے فیڈر کو دیکھا،پھر بستر پر سوئی نوراں کو۔
”مگر پھر نوراں کیا پیے گی؟“
”اس کی فکر تم مت کرو، فلحال تمہیں اس کی ضرورت ہے۔مجھ سے جتنا ہوا،میں تمہیں کھانے کے لیے دوں گیئں لیکن روز روز مجھ سے یہ توقع مت رکھنا۔“وہ ایکدم ہی چہک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
”شکریہ…..“اس نے زور سے غانیہ کو گلے لگایا۔
”اچھا بس،پیچھے ہٹو۔“غانیہ نے ناگواری سے اسے پیچھے دکھیلا۔وہ دل کی بری نہیں تھی،بس حالات نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔
•••••••••••••
وہ صبح صادق گھر لوٹا تھا اور آتے ہی سو گیا تھا۔آٹھ بجے کے قریب اسے اپنی ماں اور باپ کے بلاوے کی اطلاع ملی تھی۔شگوفہ کے پاس اس کی ہمسائی تھی لہٰذا وہ مطمئن ہو گیا تھا۔
”آپ نے بلایا؟“دروازے پر دستک دی اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا۔
”آؤ بیٹھو سماک!“بیگم جان کے کہنے پر وہ بیٹھ گیا۔
”ہمیں تم سے ضروری بات کرنی تھی۔دلاور کے انتقال کے بعد تم ہمارا سب کچھ ہو۔تمہاری پہلی بیوی تو ہمیں کوئی خوشی نہ دے سکی۔پہلی بیٹی معذور،پھر یکے بعد دیگرے کئی بچے پیٹ میں ہی مر گئے اور آخری پھر بیٹی۔“بیگم جان نے کچھ افسوس سے کہا۔سِمَاک ان کی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرنے لگا مگر سمجھ نہ آئی۔
”ہاں بیٹا،اب تم اپنی بہنوں کے اکلوتے بھائی ہو۔اس گھر کے فرزند،تمہارے بعد نسل آگے کون بڑھائے گا؟“نادر پلار نے بے چارگی سے کہا۔
”آپ لوگ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“وہ اب بھی نہیں سمجھا تھا۔
”یہی کہ ہمیں پوتا چاہیئے۔اس خاندان کا وارث۔“
”میں بالکل نہیں سمجھا مورے۔آپ کیا چاہتی ہیں،ذرا کھل کر کہیں۔“
”خون بہا میں آئی لڑکی ہے،روز ہمارا خون پیتی ہے،اب کم از کم ایک پوتا تو دے ہی سکتی ہے ناں۔“یکدم سِمَاک کا دم گھٹنے لگا۔ایسا لگا معنوں دل پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔کان سائیں سائیں کرنے لگے۔
”یہ آپ…..آپ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟“کمزور سی آواز میں لرزش تھی۔
”ہمیں تمہارا اور زخرف کا بیٹا چاہیئے۔“
”وہ نو سال کی ایک کمزور سی بچی ہے مورے۔“جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا،بےیقینی سے اپنے والدین کی جانب دیکھا۔چہرے کا رنگ سفید پڑا،معنوں کسی نے زندگی کے سارے رنگ نچوڑ لیے ہوں۔
”بچی نہیں بیوی ہے تمہاری۔نو سال کوئی کم عمر تو نہیں، اس عمر میں لڑکیاں سارا گھر سنبھالتی ہیں۔“بیگم جان نے کڑوا سا منہ بنایا اور تنفر سے سر جھٹکا۔
”میری بات کان کھول کر سن لیں آپ دونوں۔ایسا کچھ نہیں ہو گا۔“سختی سے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔بیگم جان تلملا کر اٹھنے لگیں جب نادر یوسفزئی ںے انہیں تسلی دی۔
”میں اس معاملے کو خود سنبھال لوں گا۔“بیگم جان ضبط سے بیٹھی رہیں۔
سِمَاک غصے سے برآمدے کو پار کرتا آگے بڑھا جب فون کی بیپ نے اس کے قدم روکے۔
ناگواری سے فون جیب سے نکالا مگر شگوفہ کا نام دیکھ کر ٹھٹھک گیا،برجستگی سے کال ریسیو کی۔
”میں برباد ہو گئی سماک۔میری دنیا اجڑ گئی۔میری مورے مجھے چھوڑ کر چلی گئیں۔میرا کوئی نہیں رہا۔“اس کے آنسو سیدھا سِمَاک کے دل پر گرے۔فون پر گرفت ڈھیلی پڑی،ہاتھ پہلو میں جا گرا۔نظر سامنے صحن میں جھاڑو دیتی اپنی بیوی پر جا ٹکی پھر نظر اٹھا کر فون کی جانب دیکھا۔
لمحہ لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں۔ایک بےسہارا کو سہارا دینے کا فیصلہ۔اپنی محبت کو حاصل کرنے کا فیصلہ۔اپنی نو سالہ بیوی سے بے وفائی کا فیصلہ۔
••••••••••••••