61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 24)

”قانِتہ تم ہوش میں تو ہو؟“کچھ دیر بعد وہ قدرے سنبھل کر گویا ہوا تھا۔وہ اکثر عجیب باتیں کرتی تھی۔اکثر غزوان کو اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہوتا۔
”بالکل ہوش میں ہوں۔تم بس چھوڑ دو مجھے۔“وہ حددرجہ سنجیدہ تھی۔
”کیوں چھوڑ دوں؟آخر وجہ کیا ہے؟“وہ اب بھی صبر کا دامن تھامے ہوئے تھا۔جس مطالبے پر کوئی بھی مرد باآسانی بھڑک سکتا تھا،وہ تحمل کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
”میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔“وہ عجیب طرز سے ہنسا تھا۔
”تم کیا مذاق کر رہی ہو میرے ساتھ؟ہماری شادی کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں؟کتنا وقت ساتھ گزارا ہے ہم نے؟میں یہاں ہنی مون پلین کر رہا ہوں اور تم علیحدگی کی باتیں کر رہی ہو؟“لہجہ سخت نہیں تھا،بس خفگی کا عنصر ضرور شامل تھا۔وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔بہت سوچنے پر بھی کوئی جواب نہ بن پایا۔کون سی تاویل دے؟کون سی وضاحت دے؟رشتے کو ختم کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی وجہ تو ضروری تھی ناں۔اسے اب وہ وجہ تلاش کرنی تھی۔
”تم آرام کرو قانِتہ،تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔“وہ اس کی گال تھپتھپاتا اٹھ کھڑا ہوا۔قانِتہ کی نظروں نے نگاہوں سے اوجھل ہونے تک اس کا پیچھا کیا تھا۔اس نے تھک کر آنکھیں موند لیں۔اب اسے اس رشتے کو ختم کرنے کی وجہ ڈھونڈنی تھی۔غزوان کی کوئی کمی جس کی بناء پر وہ جھگڑا کر سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن گزرتے جا رہے تھے اور قانِتہ کی بے چینی عروج پر تھی۔اس کے پیر کا پلاسٹر اتر چکا تھا۔وہ آفس جانے لگی تھی۔غزوان کا رویہ اس کے ساتھ بہت اچھا تھا مگر وہ چاہ کر بھی اس کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کر سکتی تھی۔غزوان کو برا لگتا تھا یا نہیں،البتہ اس نے کبھی شکایت نہیں کی تھی۔
وہ بہت باریک بینی سے اس کے ہر عمل کا تجزیہ کرتی تھی۔طیبہ ٹھیک کہتی تھیں،ہر چیز سلیقہ اور قرینہ سے کرنے والا شخص تھا بس قانِتہ سے بات کرتے وہ کچھ شوخ ہو جایا کرتا تھا۔
”ایسے کب تک چلے گا؟“وہ بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپتی ہوئی چکر کاٹ رہی تھی۔اس میں تو کوئی کمی ہی نہیں تھی،کوئی ایک بھی نہیں……اب وہ کس چیز کو بنیاد بنا کر رشتہ ختم کرتی؟
”وجہ نہ ہو تو وجہ خود بنانی پڑتی ہے۔“اس کے ذہن نے فوراً تجویز پیش کی تھی۔
”مگر کیا کروں؟“ایک اور پریشانی نے اسے آ گھیرا تھا۔
”کسی بات پر جھگڑا کرنا ہو گا۔مرد ہے،غصہ تو آئے گا ہی۔چیخے گا چلائے گا۔ہاتھ بھی تو اٹھا سکتا ہے۔ہو سکتا ہے طلاق ہی دے دے۔“اس کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ نے جھلک دکھلائی تھی۔اب بس غزوان کے کمرے میں آنے کا انتظار تھا۔آج وہ اس کے ضبط کا سخت ترین امتحان لینے والی تھی۔
”قانِتہ ایک کپ کافی تو بنا دو۔“وہ آتے ساتھ ہی صوفے پر ڈھے گیا تھا۔سر میں شدید درد تھا۔طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔اس نے بہت کم ہی قانِتہ سے کوئی کام کہا تھا۔آج اسے کافی بنانے کا کہہ کر اس نے گو کہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مار دی تھی۔وہ اس ہی انتظار میں بیٹھی تھی۔
”ملازمہ نہیں ہوں میں۔اگر تم تھک کر آئے ہو تو میں بھی تھکی ہوئی ہوں۔“غلیل میں رکھ کر جواب مارا گیا تھا۔
”قانِتہ پلیز،میرے سر میں بہت درد ہے۔“وہ آج جھگڑا کرنے کی حالت میں نہیں تھا لہٰذا منت کر رہا تھا۔
”تو میں کیا کروں؟تمہارا سر ہے،تمہارا درد ہے۔مجھے اس سے کیا؟میں ایک خودمختار خاتون ہوں۔تم مجھے اس طرح قید نہیں کر سکتے۔“اس سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا لہٰذا وہ چینج کرنے کی نیت سے اٹھ کر وارڈروب کی جانب آیا جب قانِتہ کی آواز نے پٹ پر رکھے اس کے ہاتھ کو سن کر دیا۔
”تم مجھے طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟ایسی عورت کو ساتھ رکھ کر کیا کرو گے جو تمہارے ساتھ وفادار نہیں؟“غزوان کے دماغ میں شور سا مچا اور اگلے پل خون کھولنے لگا۔
”کیا کہہ رہی ہو تم؟“وہ غصے سے اس کی جانب پلٹا۔آنکھوں میں آگ بھڑکنے لگی۔
”سچ کہہ رہی ہوں۔بس بور ہو گئی ہوں میں۔تم اچھے نہیں لگتے مجھے۔طلاق دو اور میری جان چھوڑ دو۔“وہ نخوت سے کہتی چل کر اس تک آئی تھی۔اب اس کے سامنے کھڑی بے خوفی سے کہہ رہی تھی۔آنکھوں میں کوئی شرمندگی،چہرے پر کوئی جھجھک نہ تھی۔غزوان کی گردن کا پٹھا ہلا،معنوں کچھ پھٹنے والا ہو مگر وہ کمال ضبط سے کھڑا رہا۔
”اگر واقعی میں مرد ہو تو طلاق دو گے مجھے۔“وہ چل کر اس کے مزید قریب آئی تھی۔اسے کچھ تو کرنا چاہیئے تھا۔اسے جھنجھوڑتا،برا بھلا کہتا یا پھر ہاتھ اٹھاتا مگر وہ ایسے ہی کھڑا تھا البتہ پیشانی پر ابھری رگیں اندر کھولتی آگ کا چیخ چیخ کر ثبوت دے رہی تھیں۔
اسے مزید چوٹ کرنے کی ضرورت تھی۔ایک زبردست چوٹ……
”تم میں مردوں والی کوئی بات ہے ہی نہیں۔اگر تمہاری جگہ کوئی غیرت مند مرد ہوتا تو ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکال دیتا مگر تم……“وہ ہنسی تھی۔غزوان نے دونوں ہاتھوں کی میٹھاں بھینچ لیں۔سانسیں بھاری ہو گیئں۔
”تم تو ہو ہی بے غیرت…… تمہاری بیوی تمہارے سامنے کھڑی کہہ رہی ہے کہ اسے تم میں رتی برابر دلچسپی نہیں اور تم تحمل سے کھڑے ہو۔چچ چچ چچ!“غزوان کے جبڑے سختی سے بند تھے۔سرخ آنکھیں پلکیں جھپکائے بغیر قانِتہ کو گھور رہی تھیں۔پھر وہی ہوا جو قانِتہ چاہتی تھی۔اس کا ضبط ٹوٹ گیا۔
”خاموش ہو جاؤ قانِتہ!“اس نے قانِتہ کو بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔یہ واضح تنبیہ تھی کہ اس کے آگے وہ کچھ برداشت نہیں کرے گا۔
”نہ ہوں تو؟کیا کر لو گے؟مارو گے مجھے؟ہاں،ہاتھ اٹھاؤ گے؟اگر اتنے ہی غیرت مند ہو تو اٹھاؤ ناں۔نہیں پسند تم مجھے۔بالکل نہیں پسند۔مجھے کوئی اور پسند ہے۔“
”قانِتہ……“اس نے غصے اور بےبسی سے اسے بلند آواز میں پکارا۔ساتھ بازو پر دباؤ بڑھا دیا۔قانِتہ کو اس کی انگلیاں گوشت میں پیوست ہوتی محسوس ہوئیں مگر وہ پھر بھی خاموش نہ ہوئی۔
”کہیں تمہاری نظر ڈیڈ کی جائیداد پر تو نہیں؟ہاں،اب میں سمجھی۔یقینا تمہارے پاپا نے تمہیں پٹی پڑھائی ہو گی کہ قانِتہ سے شادی کرنے کے بہت فائدے ہیں۔“وہ اب آخری حد بھی پار کر رہی تھی۔وہ اس کے والد کو درمیان میں لا رہی تھی۔
”میں تم سے کہہ رہا ہوں،خاموش ہو جاؤ ورنہ مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہو گا۔“اس کے چہرے کی رگیں تنی ہوئی تھیں۔سانسیں جلتے کوئلے کی مانند گرم تھیں۔آج واقعی غزوان جہانزیب کے ضبط کا امتحان تھا۔
”جائیداد پر میرا کوئی حق نہیں ہے۔سگی بیٹی نہیں ہوں ان کی لیکن تمہاری آنکھوں پر تو لالچ کی پٹی بندھی ہے تب ہی آنکھوں دیکھی مکھی نگل لی۔ہزار بار انکار کیا مگر تم پھر بھی میرے پیچھے آئے۔تمہاری قوم کے لوگوں میں غیرت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔“اب وہ اس کے دل پر سب سے شدید وار کر رہی تھی۔وہ اس کی قوم کو گالی دے رہی تھی۔
غزوان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔اس نے دھاڑتے ہوئے قانِتہ کو دونوں کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑا۔
”تم ہر حد پار کر گئی ہو۔اب ایک اور لفظ مت کہنا۔“اس کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر گونجی۔
ایک جھٹکے سے اسے پیچھے کی جانب دکھیل کر وہ میز تک آیا۔غصے میں میز الٹ دی۔ہاتھ میں جو آیا،اٹھا کر فرش پر پٹخ دیا۔اس کا ضبط کا آئینہ چکنا چور ہو گیا۔
”تم میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو۔“اس نے گو کہ آج اعتراف کیا پھر تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا دروازے تک پہنچا جب قانِتہ دیوار کی مانند اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔وہ ایسے کیسے جا سکتا تھا؟اتنی آسانی سے کیسے؟نہ ہاتھ اٹھایا،نہ کوئی نامناسب الفاظ کہے نہ کچھ اور…… غزوان جہانزیب یہ سب کیے بغیر اس کمرے سے نہیں جا سکتا تھا۔کم از کم قانِتہ یزدان کے ہوتے ہوئے تو بالکل نہیں۔
”اپنی یہ غلطی سدھار لو۔اگر تمہارا تعلق واقعی ایک غیرت مند قوم سے ہے۔اگر واقعی تمہارے والدین نے تمہاری اچھی تربیت کی ہے تو مجھے طلاق دیے بغیر اس کمرے سے نہیں جاؤ گے۔“
”طلاق چاہیئے نہ تمہیں؟تو پھر ٹھیک ہے۔“وہ دہاڑا، یہاں تک کہ کمرے کی ہر چیز ساکت ہو گئی سوائے اس کے اندر بھڑکتی آگ کے جو اب لفظوں کے دائرے سے نکل چکی تھی۔
غزوان نے اسے بازو سے پکڑا اور دیوار سے لگا لیا۔
”قانِتہ یزدان میں تمہیں طلاق……“قانِتہ کا دل زور سے دھڑکا۔اسے فتح حاصل ہوئی تھی۔اگر سماک نے اپنی زبان سے یہ الفاظ کہے تھے تو پھر غزوان کیوں نہیں؟تھا تو مرد ہی ناں……آخر کیسے اتنی تذلیل برداشت کر لیتا؟
”نہیں دوں گا،نہیں دوں گا۔جو کرنا ہے کر لو۔“زور سے ہاتھ دیوار پر مارا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔وہ ساکت سی کئی لمحے وہیں کھڑی رہی۔ساری محنت بیکار چلی گئی یا پھر شاید نہیں……”وہ غزوان کے دل میں اپنا مقام کھو بیٹھی تھی۔“
”نامرد ہو تم۔“وہ چیخی تھی۔
”ہاتھ تک نہیں اٹھا سکتے تم مجھ پر۔“اس کی سانسیں غصے سے تیز ہوتی چلی گیئں۔آنکھیں بھر آئیں۔اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ماضی کی برچھیوں کا طوفان جو دل میں سالوں پہلے پیوست کی گئی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارسلونا کی سرد شام میں وہ وکیل کے دفتر میں بیٹھی تھی۔فضا بوجھل اور سنجیدہ تھی۔نیلی جینز کے اوپر سرمئی قمیض پہنے وہ قدرے مضطرب اور تھکی تھکی سی لگ رہی تھی۔
”آپ طلاق کیوں چاہتی ہیں؟“اس کے مطالبے کے بعد وکیل نے قدرے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
”میں اس رشتے سے تنگ آ گئی ہوں۔میرا صبر جواب دے گیا ہے۔“وکیل نے قلم رکھا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
”ٹھیک ہے تو پھر مجھے سب شروع سے بتائیں۔شادی کب ہوئی؟علیحدگی کی وجہ اور کسی قسم کا تشدد؟۔“وکیل کی بات پر وہ چونکی پھر بے چینی سے پہلو بدلا۔”تشدد…..“زیر لب بڑبڑائی۔
”نکاح کو پچسس دن گزر چکے ہیں اور رخصتی کو دس……“وکیل نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔اس کا صبر دس دن میں ہی جواب دے چکا تھا۔خیر یہ کوئی انہونی بات تو نہیں تھی۔وہ ایسے ہزاروں کیس لڑ چکا تھا۔
”طلاق کیوں چاہتی ہیں؟“
”میرا دم گھٹتا ہے۔اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔“
”وہ سب تو ٹھیک ہے سینوریٹا(مس)،مگر آپ اصل وجوہات بتائیں۔کوئی ٹھوس وجہ…… کیا آپ کے شوہر کا اخلاق اچھا نہیں ہے؟مطلب گالم گلوچ یا پھر مار پیٹ……“
”اس نے مجھ پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔“زبان نے فوراً غزوان کا دفاع کیا تھا۔وہ اسے،اس کی قوم کو،اس کے والدین کو اچھا خاصا بےعزت کر چکی تھی مگر غزوان نے کوئی شدید ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔
”پھر آپ کا خرچہ نہیں اٹھاتے یا پھر کوئی ایکسٹرا میرٹل افیئر؟“
”ان میں سے کچھ نہیں۔“قانِتہ نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔
”پھر کیا مسئلہ ہے؟“وکیل نے تعجب سے آبرو ریز کرتے ہوئے پوچھا۔علیحدگی کے لیے آئی خواتین تو اپنے شوہروں پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتی تھیں۔بتاتی تھیں کہ ان کا شوہر کتنا ظالم اور وہ کتنی مظلوم ہیں۔کچھ کیسز میں قصور وار وہی ہوتی تھیں۔اپنے کسی ایکسٹرا میرٹل افیئر کی وجہ سے وہ علیحدگی چاہتی تھیں اور الزام شوہر پر ڈالتی تھیں۔
”بہت بڑا مسئلہ ہے۔“وہ مزید بے چین ہوئی تھی۔
”کیا…..؟“
”مسئلہ یہ ہے کہ……“اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری اور وکیل کی جانب دیکھا۔
”وہ…..وہ ضرورت سے زیادہ اچھا ہے۔“اس کے انداز سے بےبسی جھلک رہی تھی۔وہ واقعی بےبس تھی۔غزوان کے رویے نے اس کے صبر کو ختم کر دیا تھا۔اس کی عقل کو سلب کر دیا تھا۔
”مرد کو اتنا اچھا نہیں ہونا چاہیے۔“وہ دھیمی آواز میں بڑبڑائی تھی۔آواز میں کپکپاہٹ تھی۔اس کی پتھر آنکھیں خالی تھیں،نہ غصہ،نہ کوئی امید اور نہ کوئی احتجاج……وہ ہتھیار ڈال چکی تھی۔دل نے تسلیم کر لیا تھا کہ وہ باقی سب سے مختلف ہے۔لیکن قانِتہ کو حق نہ تھا اس مختلف شخص کے ساتھ رہنے کا۔اسے غزوان کی زندگی برباد نہیں کرنی تھی۔خوشیوں پر اس کا حق تھا۔کم از کم قانِتہ کے ساتھ تو وہ خوش نہیں رہ سکتا تھا۔
”آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟“وکیل کا حیران ہونا بالکل جائز تھا۔
”مجھے نہیں پتا۔مجھے سچ میں نہیں پتا۔“اس کی آواز میں واضح تھکن تھی،ایسی تھکن جو روح جھنجھوڑ کر رکھ دے۔وکیل نے قدرے تعجب سے اسے دیکھا پھر چند لمحوں بعد آہستگی سے کہا۔
”طلاق ہو جائے گی مگر اس کے لیے ٹھوس ثبوت کی ضرورت ہے۔اگر واقعی آپ کے شوہر سے آپ کو کوئی شکایت نہیں،پھر ہمیں جھوٹے الزامات لگانے ہوں گے۔عدالت میں ثابت کرنا ہو گا کہ وہ آپ پر تشدد کرتا ہے۔اس کے کئی افیرز ہیں۔“
”میں ایسا کچھ نہیں کروں گیئں۔“
”کیوں؟“وکیل نے قدرے دلچسپبی سے اسے دیکھا۔
”اسے دکھ ہو گا۔“اب کی بار اس کی آواز گیلی معلوم ہوتی تھی۔وکیل نے گہری سانس لی اور پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھا۔
”آپ کو طلاق کی نہیں اپنے شوہر سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔اگر چاہیں تو انہیں یہاں لے آئیں۔ہم بیٹھ کر بات کر لیں گے۔“
”مگر میں طلاق چاہتی ہوں۔“اس نے کمزور سا احتجاج کیا۔
”اگر آپ طلاق چاہتی ہیں تو ہو جائے گی۔یہ میرے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں، لیکن میں آپ کو یہی مشورہ دوں گا کہ ایک بار گھر جا کر تسلی سے سوچیں اور پھر فیصلہ کریں۔“وہ کنفیوژ تھی،یہ بات صاف واضح تھی حالانکہ اسے کنفیوژ نہیں ہونا چاہیے تھا۔اس کی گفتگو سے صاف واضح تھا کہ قانِتہ یزدان علیحدگی نہیں چاہتی۔وہ غزوان جہانزیب کے ساتھ رہنا چاہتی ہے مگر وہ اتنی آسانی سے کیسے مان لیتی؟محض دس دنوں کے ساتھ میں وہ یہ کیسے تسلیم کر لیتی؟سالوں پہلے کی اذیت کو کیسے بھول جاتی۔دس دن،محض دس دن میں وہ کیسے اس پر اعتبار کر لیتی۔

طوفاں سے بچ کے ڈوبی ہے کشتی کہاں نہ پوچھ
ساحل بھی اعتبار کے قابل نہیں رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچے راستے ابھی جاگے نہیں تھے مگر درودیوار پر انسانوں کی چالوں کے راز ثبت ہونے لگے تھے۔کچھ بوجھل،کچھ شاطر……
پہاڑی پر پھیلی نمی جیسے گھٹن میں لپٹی ہوئی تھی،ہر اینٹ،ہر پتھر،ہر سانس تھکن سے بوجھل تھی۔
اس بوجھل پن میں ایک سازشی آواز گونجی تھی۔وہ شگوفہ کی آواز تھی۔
”تھوڑا صبر کرو۔سماک اگلے مہینے کسی کام سے باہر جائے گے۔میں کسی بھی بہانے سے زخرف کو تمہارے گھر بھیج دوں گیئں،تب تک کے لیے انتظار کرو۔“شگوفہ کا لہجہ بے نیاز تھا،معنوں وہ زخرف کے بارے میں نہیں بلکہ کسی ٹوٹے ہوئے کھلونے کے بارے میں بات کر رہی ہو۔
دیوار کے پیچھے کھڑی زخرف کا پور پور لرزنے لگا تھا۔اس کی آنکھیں خوف سے پھیلتی چلی گیئں۔
”جو بھی کرنا ہے،جلدی کرو۔مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔“اختر کی صور پھونکتی آواز نے اس پر لرزا طاری کر دیا۔
اس کے ذہن میں باتیں گونجنے لگیں،پرانی اذیت ناک باتیں،طنز کے نشتر،سماک کی آنکھوں میں موجود شک…..
اس نے سہارا لینے کے لیے دیوار کو تھاما اور بھاری قدموں کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔
”کیا ہوا زخرف؟تم ٹھیک ہو؟“وہ سیدھا غانیہ کے کمرے میں آئی تھی۔وہی تو اس کی جائے پناہ تھی۔
”وہ…..وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے…..“اس کا دل اس لمحہ کسی اونچی پہاڑی سے نیچے گرا تھا۔وجود پر کپکپی طاری ہوئی تھی۔
”کیا زخرف؟“غانیہ کے پوچھنے پر اس نے سب اس کے گوش گزار کر دیا تھا۔
”مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔وہ لوگ میرے ساتھ……“
”کوئی تمہارے ساتھ کچھ نہیں کرے گا بلکہ یہی تو وقت ہے انہیں سبق سکھانے کا۔“سرمئی دبڈبائی آنکھوں نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
”ہم وہی کریں گے جو انہوں نے تمہارے ساتھ کیا۔تم اختر کے گھر جاؤ گی،ضرور جاؤ گی۔تمہیں وہاں بھیجنے والی شگوفہ ہو گی لیکن بابا صاحب کو وہاں بھیجنے والی میں ہوں گیئں۔“اس کی آنکھوں میں سازش تھی۔وہ شگوفہ کا کھیل اس ہی پر پلٹانے والی تھی۔اب اس کھیل کا اختتام ہو ہی جانا چاہیئے تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت ملگجی روشنی دھیرے دھیرے پتھریلے آنگن پر جھکنے لگی تھی،محسوس ہوتا تھا جیسے سورج خود بھی ان سازشوں اور منصوبوں سے تھک کر پہاڑوں کے پیچھے سونے کی تیاری کر رہا ہو۔
آج سازشوں کے بےنقاب ہونے کا دن تھا۔سماک کے جانے کے بعد شگوفہ نے کام کے بہانے زخرف کو اختر کے گھر بھیج دیا تھا۔غانیہ کی ہدایت کے مطابق اس نے پہلے احتجاج کیا تھا پھر بیگم جان کی جھاڑ کے آگے خود کو بےبس ظاہر کیا تھا۔
اختر کے بیان کے مطابق گھر میں اس کی ماں موجود تھی،ان کی بیماری کی وجہ سے اس نے زخرف کو بلایا تھا جبکہ درحقیقت گھر میں اس کے علاؤہ اور کوئی موجود نہ تھا۔
زخرف نے ڈرتے ڈرتے گھر کے اندر قدم رکھا تھا۔اسے غانیہ پر اعتبار نہ ہوتا تو کبھی یہاں نہ آتی۔
”آ جاؤ زخرف،کب سے،کتنے سالوں سے تمہارا ہی منتظر ہوں۔“وہ خباثت سے مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا۔زخرف نے سختی سے اوڑھی چادر کے کونے کو مٹھی میں دبایا۔
”چلیں…..“وہ اسے اندر آنے کی دعوت دے رہا تھا جبکہ زخرف انچ برابر نہ ہلی تھی۔
”چلو…..“اختر نے اسے بازو سے دبوچا اور اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
”چھوڑو مجھے۔چھوڑو…..“وہ روتی ہوئی مزاحمت کر رہی تھی۔اختر نے اپنے کمرے میں اسے بستر پر لا پٹخا تھا۔
”بہت خوبصورت ہو تم۔بہت زیادہ……میں تو پہلے دیدار میں تم پر دل ہار بیٹھا تھا۔کیا نظر آتا ہے تمہیں اس بوڑھے شخص میں؟“وہ چل کر بستر تک آیا تھا۔زخرف کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔اسے غانیہ پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے تھا۔عزت کے معاملے میں ایک لڑکی کو کسی پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔
”میرے پاس مت آنا تم۔مجھ سے دور رہو۔“وہ سسکتے ہوئے منت کر رہی تھی۔
”کتنی بار کہا تم سے کہ دوستی کر لو مجھ سے مگر تمہارے سر پر تو وفاداری کا بھوت سوار تھا۔کر لی وفاداری؟کیا ملا؟بیچ چوراہے پر اس نے تمہارے سر سے چادر چھین لی۔مجھ سے دوستی کر لیتی تو سب دیتا تمہیں۔اچھی خوراک،بہترین لباس اور وہ محبت جو تمہیں کبھی سماک نہیں دے سکا مگر تم……“اختر نے اسے بالوں سے پکڑا پھر اس کا منہ دبوچا۔”تمہیں پتا ہے تم کیا ہو زخرف؟“وہ اس پر جھکا،یہاں تک کہ زخرف کے جسم سے روح پرواز کرنے لگی۔جسم سفید پڑتا گیا۔اس نے یہاں آ کر بہت بڑی بیواقوی کی،بہت بڑی۔
”تم وہ آفت ہو جو کسی بھی مرد کا ایمان ڈگمگا دے۔تمہاری یہ دبتی ہوئی رنگت اس شخص کے ساتھ کا نتیجہ ہے۔قدر نہیں ہے اسے تمہاری۔وہ خوش ہے اپنی بیوی کے ساتھ۔اس کی بیوی نے تو بھیجا ہے تمہیں یہاں اور اس رات بھی وہ سب اس ہی کی سازش تھی۔“زخرف کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔اس لمحہ اس نے شدت سے دعا کی کہ یہ سانس رک ہی جائے۔وہ یہ پامالی برداشت نہیں کر سکے گی۔
”تم جانتی ہو کہ کون سی چیز تمہیں مزید حسین بناتی ہے؟“وہ اس کی گرفت میں بری طرح پھڑپھڑا رہی تھی۔گرم سیال آنکھوں سے بہہ کر گالوں پر لڑکھنے لگے تھے۔
”وہ ہیں تمہاری آنکھیں۔سرمئی بڑی بڑی آنکھیں……“عین اس ہی لمحے کوئی آدھ کھلا دروازہ دکھیل کر اندر داخل ہوا تھا اور پھر اختر یوسفزئی کو کچھ اور کہنے کا موقع نہ دیا گیا۔
”دھپ“سِماک نے ایک کے بعد دوسرا مکا اس پر برسایا۔اس اچانک افناد پر اختر سنبھل نہیں سکا۔
”میری بیوی ہے یہ۔ہمت کیسے ہوئی اس پر نگاہ ڈالنے کی؟“اس کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔سچائی بتانے والی اب کی بار اس کی بیوی نہیں بیٹی تھی۔بیوی اور بیٹی کی گواہی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔اب تو وہ اپنے کانوں سے سب سن بھی چکا تھا۔
پہاڑوں کے پیچھے سورج اب بالکل چھپ چکا تھا۔دن کا اختتام راز کے فاش ہونے پر ہوا تھا۔
زخرف نے آہستگی سے چادر اوڑھی اور بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔اسے سِماک کے آنے یا پھر اپنی بے گناہی کے ثبوت پر خوشی نہیں ہوئی تھی۔اسے اپنی عصمت کی حفاظت پر خوشی ہوئی تھی۔وہ سِماک کے پیچھے یا اس کے برابر میں جا کر کھڑی نہیں ہوئی تھی،وہ بس ایک طرف ایک کونے میں کھڑی تماشہ دیکھنے لگی تھی۔حفاظت کرنے والا سِماک نہیں اللہ تھا اور اللہ کے بعد وہ اگر کسی کی مشکور تھی تو وہ غانیہ تھی۔سِماک یوسفزئی کہیں نہیں تھا۔
”ہم پٹھان اپنی غیرت پر سمجھوتا نہیں کرتے۔جب میں نے زخرف کو نہیں بخشا تھا تو تمہیں کیوں بخشوں گا؟“اختر کی گردن سماک کے ہاتھ میں تھی۔عین ممکن تھا کہ وہ اسے جان سے ہی مار دیتا۔
”میرا کوئی قصور نہیں ہے۔اگر کوئی قصور وار ہے تو وہ آپ کی بیوی ہے۔یہ سب شگوفہ کا کیا دھرا تھا۔وہ زخرف کو آپ کی زندگی سے نکالنا چاہتی تھی۔“سِماک کا ہوا میں اٹھا ہاتھ وہیں رک گیا تھا۔اس نے لہو لہان اختر کو وہیں چھوڑا اور زخرف کی جانب بڑھ گیا۔اس کا فیصلہ تو اب جرگے میں ہی ہونا تھا۔
سِماک نے زخرف کی جانب دیکھا اور پہلی بار اس کی آنکھوں میں موجود سچائی کو پہچانا۔اس کی آنکھوں میں پچھتاوا ابھرا،وہی پچھتاوا جو وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔
اس نے زخرف کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہا۔اسے تحفظ دینے کی کوشش کرنی چاہی۔اسے بتانا چاہا کہ وہ ڈھال بن کر اس کے ساتھ رہے گا مگر وہ خاموشی سے اس کے قریب سے گزر گئی۔یہ اعلان تھا کہ زخرف فاطمہ کو سِماک یوسفزئی کی ہمدردیوں اور پچھتاؤں سے ”اب“ کوئی غرض نہیں ہے۔
دہلیز پار کرتے وہ لمحہ بھر کو رکی تھی۔گردن ترچھی کر کے اس نے ایک نگاہ نڈھال اختر پر ڈالی تھی۔اختر کی نظریں بھی اس سے ملی تھیں پھر سرمئی آنکھوں والی چڑیا کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا۔اختر اسے یوں مسکراتا دیکھ صدمے میں چلا گیا جبکہ چڑیا اب گردن تان کر آگے بڑھ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنگن میں نوراں کے سوائے سب اکھٹے تھے۔زخرف کو سِماک کے ساتھ دیکھ کر شگوفہ کے چہرے کا سارا رنگ اڑ چکا تھا۔
”اس رات تم نے مجھے وہاں بھیجا تھا اور آج زخرف کو اختر کے گھر۔وجہ جان سکتا ہوں؟“ایک بار پھر رات کے وقت عدالت لگی تھی۔سب کچھ ویسا ہی تھا بس مجرم تبدیل ہو گیا تھا۔آج کٹہرے میں زخرف کی جگہ شگوفہ کھڑی تھی۔
”بیٹا،یہ تم دونوں کا آپس کا معاملہ ہے۔کمرے میں جا کر بھی حل کر سکتے ہو اور اس کی حالت دیکھو۔وقت قریب ہے۔کچھ تو خیال کرو۔“بیگم جان نے عسل سے زیادہ میٹھی آواز میں کہا۔زخرف چارپائی کے ایک کونے پر نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی جبکہ غانیہ بیساکھی تھامے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔اس کا شدت سے دل چاہا کہ مکئی کے دانوں کو بھون کر کھائے اور ساتھ ہی ساتھ اس شو سے لطف اندوز ہو مگر موقع کی نزاکت کی وجہ سے اسے اپنا دل مارنا پڑا۔اتنی دیر کھڑا ہونا اس کے لیے کافی مشکل تھا۔وہ زخرف کے ساتھ جا کر بیٹھنا چاہتی تھی مگر بیٹھ کر سب کے چہروں کے تاثرات اور اینگلز صحیح سے نظر نہ آتے لہٰذا ”مجبوری میں“ اسے کھڑا ہونا پڑا۔
”آپس کا معاملہ نہیں ہے۔جب زخرف کی بار عدالت یہیں لگی تھی تو شگوفہ کی باری کیوں نہیں؟“وہ نہایت سخت لہجے میں کہہ رہا تھا۔سب کو ہی سانپ سونگھ گیا۔
”میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں شگوفہ؟“آواز بلند ہوتی چلی گئی۔شگوفہ کا پور پور پسینے میں بھیگ گیا۔چال الٹی پڑ چکی تھی۔پاسا پلٹنے والی غانیہ یوسفزئی تھی۔
”میں…..میں نے کچھ نہیں کیا۔یہ زخرف بدکردار……“
”بکواس بند کرو اپنی۔وہ کیا ہے اور کیا نہیں،میں جانتا ہوں۔“زخرف کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی مگر نگاہیں بدستور جھکی رہیں۔
”اس رات تم نے زخرف کو تیار کر کے سٹور میں بھیجا تھا یا نہیں؟“اس کی آواز میں آج کوئی لچک نہ تھی۔شگوفہ کو آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاتا ہوا محسوس ہوا۔
”جواب دو شگوفہ،زخرف کو تم نے بھیجا تھا وہاں؟“اب کی بار کہنے والے نادر پلار تھے۔سرمئی آنکھوں والی چڑیا کو بے اختیار ہنسی آئی جسے وہ فوراً ضبط کر گئی۔
کل تک ایک مرد بھی اس کے ساتھ نہیں کھڑا تھا اور آج دو دو مرد……باقی سب کی نسبت نادر پلار نے اس پر کم ہی مظالم ڈھائے تھے مگر اس پر ہوئے تمام مظالم پر وہ خاموش رہے تھے۔ان کے مطابق وہ اس سب کی مستحق تھی۔وہ دشمن کی بیٹی تھی۔اس شخص کی بہن تھی جس نے ان کے لخت جگر کو منوں مٹی تلے پہنچایا تھا۔وہ واجب القتل تھی۔یہ تو ان لوگوں کی دریا دلی تھی جو اسے زندہ چھوڑ رکھا تھا۔
”بولو شگوفہ……“یہ دھاڑ سِماک کی تھی۔
”ہاں ہاں ہاں۔میں نے بھیجا تھا اسے اور مجھے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔اس منہوس نے میری زندگی عذاب بنا دی ہے۔نہیں ہوتی یہ مجھ سے برداشت،نہیں ہوتی۔“آج اعتراف کا دن تھا،شاید احتساب کا بھی……اس نے اپنی زبان سے سب قبول کر لیا تھا۔
”خون بہا میں آئی تھی نہ یہ پھر کیوں آپ کو یہ اتنی عزیز ہے۔کیوں جاتے ہیں آپ اس کے پاس۔میرا بس چلے تو میں اسے جان سے مار……“وہ زہر اگلتی زخرف پر جھپٹنے کے لیے آگے بڑھ رہی تھی جب سِماک نے اسے بازو سے پکڑ کر نہ صرف روکا تھا۔”چٹاخ“ بلکہ ایک زناٹے دار تھپڑ بھی اس کی گال پر رسید کر دیا تھا۔
وہ اس حالت میں یہ سہار نہ سکی تھی۔شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔وہ پیٹ پر ہاتھ دھرے چلاتی ہوئی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔گھر میں ایک کہرام مچ گیا تھا۔سِماک کے اپنے اوسان خطا ہو گئے تھے۔
وہ اس خاندان کو وارث دینے والی تھی،وہ بےحد اہم تھی۔
اسے بروقت ہسپتال لے جایا گیا۔بیگم جان نے دائی کو بلانے کا رسک نہیں لیا تھا۔(یہ رسک انہوں نے صرف زخرف کی باری ہی لیا تھا۔)
ہجوم جھٹ گیا تھا۔غانیہ منہ میں کچھ بڑبڑا کر اندر چلی گئی۔سارا مزا خراب جو ہو چکا تھا۔زخرف آنگن میں اکیلی رہ گئی تھی مگر وہ سرخرو تھی۔
پہاڑوں پر اندھیرا چھا چکا تھا مگر اس اندھیرے میں سچ روشنی بن کر چمکنے لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شگوفہ کو گھر آئے کافی روز گزر چکے تھے۔اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا لہٰذا سماک کی ساری ناراضگی غائب ہو چکی تھی۔اس سارے وقت میں وہ زخرف سے ایک بار بھی نہیں ملا تھا۔آج وہ نہ صرف اس سے ملنا بلکہ اپنے کیے کی معافی بھی مانگنا چاہتا تھا لہٰذا اپنے بیٹے ”فرہاد“ کو لے کر وہ آج رات زخرف کے پاس گیا تھا۔
آج کی رات پچھتاؤں کی رات تھی۔معافی مانگنے کی رات تھی۔نئے وعدوں اور قسموں کی رات تھی۔سماک کی اس دنیا میں اور زخرف کی اس گھر میں آخری رات تھی۔آج رات زخرف کے کندھوں پر دو لوگوں کے قتل کا بوجھ آنا تھا۔آج کے بعد زخرف فاطمہ کا نام ایک قاتلہ کے طور پر لیا جانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔