Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 27)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 27)
رات گہری سے گہری ہوتی جا رہی تھی۔ستارے اور چاند مکمل طور پر دھند میں لپٹے ہوئے تھے۔عجیب سی سوگواریت اور وحشت نے ہر چیز کو احاطہ میں لیا ہوا تھا۔
شگوفہ اپنی گود میں لیٹے بچے کو فیڈر پلا رہی تھی۔درحقیقت ایک ماں اپنے نوزائیدہ بچے کو زہر پلا رہی تھی۔دھند میں چھپے ستارے خوف سے لرزنے لگے تھے۔درختوں کی شاخیں گو کہ بین کرنے لگی تھیں۔
”بس آج کی رات فرہاد،پھر خوشیوں کا سورج روشن ہو گا۔سب کچھ میرے بیٹے کا ہو گا۔کسی قسم کی کوئی شراکت داری نہیں۔“اس نے فیڈر میز پر رکھا اور فرہاد کا گال چوم کر اسے اپنے قریب لٹا دیا۔فرہاد چند ثانیوں میں گہری میٹھی نیند سو چکا تھا۔وہ نیند جو اس کی ماں کی بدولت اسے نصیب ہوئی تھی۔
دور کہیں قبرستان میں مختلف سرگوشیاں سنائی دینے لگیں معنوں کسی کی آمد کی خبر سے روحوں میں ہلچل مچ گئی ہو۔قبروں پر سایہ فگن درختوں کے سائے کفن معلوم ہونے لگے۔کل کی صبح گورکن کو رزق ملنے والا تھا۔کل دو قبریں کھودی جانے تھیں۔ایک باپ اور بیٹا ایک عورت کی سازش کا شکار ہو چکے تھے۔باپ کے کندھوں پر نہ بیٹے کے جنازے کا بوجھ آیا تھا اور نہ بیٹے کے کندھوں پر باپ کے جنازے کا…..بس ایک بوڑھے کمزور شخص کے کندھوں پر اکلوتے بیٹے اور پوتے کے جنازے کا بوجھ آ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا بوجھل تھی اور فضا میں ان دیکھے بوجھ کی گرد سی جمی تھی۔الو کی ڈراؤنی آواز سے لے کر گلی میں کتے کے بھوکنے کی آواز بھی اب سنائی نہ دیتی تھی۔گمان ہوتا تھا آج ہر کوئی خوف سے دبکا بیٹھا ہے۔
زخرف پُرسکون سی نئے خواب بنتے بنتے سو چکی تھی۔کمرے میں ہر طرف صرف خاموشی کا راج تھا۔اچانک اس خاموشی میں خلل پیدا ہوا تھا۔پہلے ایک گھٹی گھٹی سی آواز ابھری اور پھر کسی کے کھانسنے کی آواز۔اچانک کھانسنے کی آواز میں شدت آتی گئی۔سماک کے ہونٹوں سے خون بہنے لگا۔ایک پتلی گرم خون کی دھار…..اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔زخرف نیند میں کسمسائی پھر اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔کھانسنے کی شدت بڑھتی گئی۔سِماک نیند میں ہاتھ پیر چلا رہا تھا۔زخرف کی خماری ایک دم اتری۔وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
سماک ایک ایک سانس کا محتاج تھا۔اس کے لبوں پر خون کے دھبے تھے اور آنکھوں میں اذیت…..
”سِماک……“وہ چیختی ہوئی اس کے قریب آ بیٹھی۔
”یا اللہ!یہ آپ کو…..“اس کی آنکھیں برسنے لگیں۔اس کا شوہر اس کی نظروں کے سامنے تڑپ رہا تھا۔اس سے دور جا رہا تھا۔اس نے تو نئے خواب بن لیے تھے۔سِماک کے ساتھ کے خواب…..ایسے کیسے اپنے خوابوں کو ٹوٹتے دیکھتی؟
سماک کھانستے ہوئے نیچے کی جانب جھکا اور خون تھوکنے لگا۔اسے اب خون کی الٹی آئی تھی۔زخرف نے گھبرا کر چلانا شروع کر دیا۔وہ چلا چلا کر ہر ایک کو آواز دے رہی تھی۔ہر اس شخص کو جو اس کی مدد کر سکتا تھا۔
سِماک نے ہمت جمع کرتے کچھ کہنا چاہا مگر سکت ختم ہو گئی۔وہ بستر سے گرتا چلا گیا۔زخرف بھاگ کر اس تک آئی۔آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔دل پرندے کی طرح پھڑپھڑانے لگا تھا۔
”کوئی ہے؟بیگم جان،غانیہ،نادر پلار…..کوئی ہے؟“اس نے سماک کے چہرے پر ہاتھ رکھا اور اگلے لمحے دروازے کی سمت بھاگنے لگی جب سماک نے اس کی کلائی تھام لی۔
”کیا دیا ہے تم نے مجھے؟“اس کی لرزتی آواز پر زخرف معنوں سکتے میں چلی گئی۔اس نے کیا دیا تھا؟وہ کیا پوچھ رہا تھا؟کیا وہ اپنی اس حالت کا ذمہ دار اسے سمجھ رہا تھا؟
”میں…..میں نے……؟“اس کے گلے سے گھٹی گھٹی سی آواز نکلی۔
”کیا زہر…..دیا ہے؟“اس کی سانسیں تیز تھیں۔چہرے اور قمیص پر خون کے نشانات تھے اور آنکھوں میں…… شاید بےاعتباری……
زخرف کا دل دھک سے رہ گیا۔کیا وہ زہر کہہ رہا تھا؟کیا وہ اسے زہر دے سکتی تھی۔سماک نے اذیت سے اسے دیکھا پھر کھانستے ہوئے ہنس دیا۔ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
”یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔“اس نے گو کہ اپنے بیان کی نفی کی۔زخرف یہ نہیں کر سکتی تھی۔اسے یقین تھا۔
”آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔میں…..“اتنے میں دروازہ بجنے لگا۔بیگم جان چلا رہی تھیں،نادر پلار چیخ کر دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔وہ جانا چاہتی تھی مگر کلائی سماک کی گرفت میں تھی۔
”کہا تھا کہ……طلاق نہیں دوں گا تمہیں۔آزادی میری….. موت کی صورت….. میں ملے گی۔تمہیں آزادی چاہیئے تھی نہ۔جاؤ پھر چن……لو اپنا آسمان۔مجھے موت کا فرشتہ نظر آ رہا ہے زخرف۔“زخرف کے دل میں عجیب سا درد اٹھا معنوں کسی نے اس کا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔پسلیاں درد سے چیخنیں لگیں۔جسم برف کی سل میں تبدیل ہونے لگا۔آنکھوں کے گرد دھند سی چھانے لگی۔سماک کا چہرہ اب دھند میں لپٹا ہوا نظر آ رہا تھا۔وہ اپنی باتوں سے اس کی جان نکال رہا تھا۔وہ مر نہیں رہا تھا،وہ اسے مار رہا تھا۔
”اگر کبھی بھاگنے کا موقع ملے…..تو بھاگ جانا۔معافی نہیں مانگوں گا،وہ پہلے…..مانگ چکا ہوں۔بس ایک آخری بات…..“سانسیں اور آواز مدھم پڑتی جا رہی تھیں۔جسم ڈھیلا ہوتا جا رہا تھا۔بولنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی مگر وہ پھر بھی بول رہا تھا۔آج بولنا ضروری تھا۔
”فرہاد کے پاس شگوفہ ہے اور……نوراں کے پاس غانیہ…… زخرف کے پاس کوئی نہیں ہے۔زندگی موقع دے تو اپنے لیے کوئی ڈھونڈ لینا۔کوئی ایسا جو….. تمہارے ساتھ بارش میں کھیلے اور…..سمندر کنارے گھر بنائے۔رات جو خواب دکھائے تھے تمہیں…..جھوٹے تھے۔سارے وعدے جھوٹے تھے۔صرف…..صرف ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کہا تھا سب مگر……“اس نے وقفہ لیا۔سانسیں مزید مدھم پڑتی گیئں۔آنکھوں میں وحشت تھی۔وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر زندگی نے اسے کم ہی مہلت دی تھی۔
”وعدے جھوٹے تھے مگر محبت سچی تھی۔“یہ آخری الفاظ تھے جو آخری سانس کے ساتھ فضا میں تحلیل ہو گئے تھے۔
یہ آخری گفتگو ہی تھی جس نے زخرف فاطمہ کی زندگی کی دوڑ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سِماک سے باندھ دی تھی۔وہ مرتے وقت اس سے اظہار محبت کر گیا تھا۔اب تا عمر سماک کے نام کی تسبیح کرنا زخرف فاطمہ نے خود پر فرض کر لیا تھا۔
اس رات وہ بہت روئی تھی،بہت سسکی تھی۔اتنا وہ اپنی رخصتی پر نہ روئی تھی۔اتنا وہ مرغیوں کے ڈربے میں بند کیے جانے پر نہ روئی تھی۔اتنا وہ اپنے بال کٹنے،مار پیٹ،کھانا نہ ملنے پر بھی نہ روئی تھی۔اتنا تو وہ اپنے بھالو کی موت پر بھی نہ روئی تھی۔آج تو اس کی دنیا اجڑ گئی تھی۔آج تو محبت منوں مٹی تلے جا سوئی تھی۔
دروازہ اس نے کھولا نہ تھا بلکہ باہر کھڑے افراد نے توڑ دیا تھا۔
گھر کے ہر شخص پر قیاممت ٹوٹی تھی۔نادر پلار اور بیگم جان سماک کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر اٹھا رہے تھے اور غانیہ کا رو رو کر برا حال تھا لیکن کوئی تھا جو سکتے کی حالت میں زمین پر جما کھڑا تھا۔شگوفہ نے ایک نظر سماک کو دیکھا تھا تو دوسری نظر دودھ کے خالی گلاس کو…..وہ پھترا گئی تھی۔اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنا سہاگ اجاڑ دیا تھا۔زخرف کو برباد کرتے کرتے وہ خود بھی برباد ہو گئی تھی۔
”یہ تو نے کیا کیا منہوس؟“بیگم جان زخرف پر چڑھ دوڑی تھیں۔وہ بین بھی کر رہی تھیں،ساتھ اسے پیٹ بھی رہی تھیں۔سماک کی روح پرواز کر چکی تھی مگر پھر بھی نادر پلار حکیم کو بلانے دوڑے تھے۔باپ کا دل تھا،باپ کا دل اولاد کے معاملے میں ہمیشہ کمزور ہوتا ہے۔
”کیا دیا ہے تو نے میرے بیٹے کو؟بول کیا دیا ہے؟“وہ زخرف کو بری طرح جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھ رہی تھیں۔غانیہ صدمے سے گنگ باپ کے پاس بیٹھی تھی۔باپ تو دھوپ میں سایہ ہوتا ہے،صحرا میں پانی اور سمندر میں کشتی……باپ کے بغیر زندگی،زندگی کہاں رہتی ہے؟آج ماں کے بعد اس کے سر سے باپ کا سایہ بھی اٹھ گیا تھا۔وہ تنہا رہ گئی تھی۔
”بتا کیا،کیا ہے تو نے میرے بیٹے کے ساتھ؟“بیگم جان اب اس کا گلا دبا رہی تھیں۔زخرف کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔اس لمحہ اس نے دعا کی کہ یہ سانسیں اکھڑ ہی جائیں۔وہ سماک کے ساتھ ہی منوں مٹی ٹلے جا سوئے مگر اس کی مراد پوری نہ ہو سکی تھی۔زخرف فاطمہ کی کہانی ابھی باقی تھی۔
”میں نے صرف دودھ دیا تھا۔“اس کے لبوں سے گھٹی گھٹی آواز نکلی تھی۔عین اس ہی لمحے شگوفہ گھٹنوں کے بل زمین پر گری تھی۔جنت کیا اور جہنم کیا…..یہ زندگی اس کے لیے بس ایک عذاب بننے والی تھی۔پچھتاوے کا عذاب……اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں مارنے کا عذاب……
”میں نے انہیں اور فرہاد کو دودھ دیا تھا،بس اور تو کچھ نہیں دیا۔“اور یہاں اس نے شگوفہ پر دوسرا بم گرایا تھا۔اس نے سانس روکے پہلے زخرف کو دیکھا تھا پھر وہ دوڑتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی۔
”فرہاد……“اس نے لپک کر فرہاد کو گود میں اٹھایا تھا۔سِماک کی طرح اسے خون کی الٹی نہیں آئی تھی بس ہونٹوں کے گرد جھاگ سی بنی تھی جو شاید اب خشک ہو چکی تھی۔
”میرے بیٹے،میرے لعل….. اٹھو……“وہ اب اس کا گال تھپک رہی تھی،اسے جھنجھوڑ رہی تھی،پکار رہی تھی،چلا رہی تھی مگر فرہاد کی سانسوں کی دوڑیں بھی کٹ چکی تھیں۔
اس نے اپنے ہاتھوں سے نہ صرف اپنا سہاگ اجاڑا تھا بلکہ اپنی گود بھی اجاڑ دی تھی۔جس شخص کے لیے وہ زخرف سے جنگ لڑ رہی تھی،وہ تو اب رہا ہی نہیں تھا۔وہ ایک بار پھر بیوہ ہو چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی خاموشی پر پہلی اذان نے دستک دی۔مسجد سے بلند ہوتی اذان میں ایک عجیب سی سوگواریت محسوس ہوتی تھی معنوں مؤذن بھی کسی بات پر آج افسردہ ہو۔
فرش پر اب بھی خون کے دھبے تھے جبکہ بستر پر سفید چادر کے نیچے پڑا جسم ساکت تھا۔گھر محلے والوں اور رشتے داروں سے بھرتا جا رہا تھا۔ہر جانب سے رونے اور بین کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
پھچلے صحن میں بنے سٹور روم کے ایک کونے میں وہ پڑی تھی۔بےسود،زخمی اور قید میں…… کپڑوں پر جگہ جگہ خون کے نشانات تھے۔یہ سِماک کا خون نہیں تھا،یہ زخرف فاطمہ کا خون تھا جسے سماک کو مارنے کے الزام میں خوب پیٹا گیا تھا۔اس سب میں اختر اور اس کا خاندان پیش پیش تھے۔وہ زخرف کے کردار کی مکمل طور پر دھجیاں بکھیر چکے تھے۔اس کے کندھوں پر دو لوگوں کے قتل کا بوجھ ڈال چکے تھے۔
وہ کب سے یونہی پڑی تھی،ہوش اور بیہوشی کے درمیان جھولتی ہوئی……ذہن میں صرف سِماک تھا۔کیا وہ واقعی مر گیا تھا؟نہیں نہیں، یہ کیسے ممکن تھا؟سماک کیسے مر سکتا تھا؟یقینا وہ زندہ تھا پھر سب لوگ کیوں رو رہے تھے؟یہاں آ کر اس کا ذہن بالکل مفلوج ہو جاتا۔اسے لگتا وہ مکمل طور پر ہوش کھو بیٹھے گی مگر رات ہوئے سانحہ کی بےرحم زنجیریں اسے کھینچ کر ہوش میں لا پٹختی۔وہ ابھی حقیقت اور خواب کے درمیان ہی جھول رہی تھی کہ یکدم دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔زخرف نے ورم زدہ آنکھوں سے سامنے دیکھنے کی کوشش کی۔بڑی سی چادر پہنے کوئی لڑکی بیساکھی کے سہارے چل کر اس تک آ رہی تھی۔
”اٹھو زخرف،صبح ہونے سے پہلے یہاں سے نکلنا ہے ورنہ مار دیں گے تمہیں۔“غانیہ نے اس سے کچھ کہا مگر کانوں پڑی آواز سنائی نہ دی۔وہ بس خالی خالی نگاہوں سے اسے گھورنے لگی معنوں یہ چہرہ غیر شناسہ ہو۔وہ پہلی بار غانیہ کو دیکھ رہی ہو۔
”جنازے کے بعد جرگہ بیٹھے گا اور جرگے میں فیصلہ ہو گا کہ تمہیں کیسے مارنا ہے۔اٹھو جلدی کرو۔“غانیہ نے جھک کر اسے اسے بازو سے پکڑا اور کھڑا کیا۔وہ میکانکی انداز میں کھڑی ہو گئی۔
”میں نے سارا بندوبست کر لیا ہے۔صبح ہونے سے پہلے ہی ہمیں یہاں سے نکلنا ہو گا ورنہ بہت برا ہو گا۔“وہ اب اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جا رہی تھی۔زخرف کو کسی چیز کا ہوش نہ تھا۔اس حالت میں اسے کوئی کچھ بھی کہتا تو وہ یقیناً مان لیتی۔
غانیہ نے خود بھی ٹوپی والا برقعہ پہن رکھا تھا اور اس ںے زخرف کو بھی وہی پہننے کو دیا تھا۔
(اسے شٹل یا پشاوری برقعہ بھی کہتے ہیں۔یہ ایک لمبی چادر ہوتی ہے جو نہ صرف پورے جسم کو ڈھانپتی ہے بلکہ سر بھی اچھے سے چھپا لیتی ہے۔انہوں نے اسے اس انداز میں پہنا ہوا تھا کہ چہرہ ڈھک جائے بس آنکھوں کے گرد ایک جالی دار پردہ تھا جس سے دیکھنے میں آسانی ہو۔)
یہ چند روز پہلے سماک زخرف کے لیے لایا تھا۔کوئی چاہتا ہی نہیں تھا کہ وہ اسے بھولے۔ہر چیز،ہر یاد اس کے دل میں سماک کی محبت کی زنجیریں ڈال رہی تھیں۔نجانے یہ محبت تھی،انس،عقیدت،عادت یا پھر کچھ اور……زخرف فاطمہ اسے محبت کا نام دیتی تھی۔
منہ اندھیرے دو لڑکیوں نے گھر کی دہلیز پار کی تھی۔زخرف فاطمہ اور غانیہ سماک نے بستی کو الوداع کہا تھا۔وہیں دوسری طرف شگوفہ سِماک کے سرہانے فرش پر بیٹھی تھی۔شگوفہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی۔گود میں فرہاد تھا۔اس نے سفید کپڑا فرہاد کے وجود پر نہ ڈالنے دیا تھا۔کوئی اس سے فرہاد کو چھیننے کی کوشش کرتا تو وہ کاٹ کھانے کو دوڑتی۔ہر آنے والی خاتون کی امد پر وہ فرہاد کو سینے سے لگائے اس کی جانب بھاگتی۔
”دیکھو،میں نے مار دیا اپنے بیٹے کو۔میں نے اپنے ہاتھوں سے دودھ پلایا تھا۔میں نے اپنے شوہر کو بھی مار دیا۔میں نے سب کو مار دیا۔“وہ ایک ایک عورت کے پاس جا کر اپنا جرم قبول کر رہی تھی مگر سب تو زخرف کو قصور وار ٹھہرا رہے تھے۔ان کے نزدیک شگوفہ صدمے میں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشرقی افق پر ہلکی نیلگوں روشنی کا سایہ ابھرنے لگا تھا۔وہ پچھلے دروازے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی تھیں مگر باہر خاندان کے مردوں کا تانتا بندھا تھا۔زخرف اور غانیہ دیوار کی اوٹ میں چھپی کھڑی تھیں۔وقفے وقفے سے سنائی پڑنے والی قدموں کی آہٹ خطرے کا پیش خیمہ محسوس ہوتی تھیں۔
”چلو…..“غانیہ نے محتاط انداز میں ادھر اُدھر دیکھا اور اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنے لگی جب زخرف نے اس کا سوال کیا۔
”ہم کہاں جا رہے ہیں؟“
”بستی سے دور خانہ بدوشوں کا پراؤ ہے۔اگر وہاں تک پہنچ گئے تو آگے سے کوئی بس یا کوئی سواری مل جائے گی۔“
”مگر وہاں تک کیسے پہنچے گے؟“
”ساتھ والی ترورہ کے بیٹے کے پاس گاڑی ہے۔وہ ہماری مدد کریں گے۔“
”نوراں ساتھ نہیں جائے گی ہمارے؟“
”نہیں،میں تمہیں چھوڑ کر واپس آؤں گیئں۔“
”مگر میں کہاں جاؤں گیئں؟“
”پتا نہیں۔“
”میں انہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گیئں۔وہ مجھے بلا رہے ہیں۔“اس نے غانیہ کا ہاتھ جھٹکا اور واپس جانے لگی جب غانیہ نے سختی سے اس کا بازو دبوچ لیا۔
”پاگل مت بنو۔چلو میرے ساتھ۔“وہ اسے گھسیٹتے ہوئے آگے لے جانے لگی مگر زخرف بھرپور مزاحمت کرتی اب چیخنے لگی تھی۔
”اگر بابا صاحب سے واقعی محبت کرتی ہو تو خاموشی سے میرے ساتھ چلو گی۔“اور یہاں زخرف فاطمہ کی ساری مزاحمتیں دم توڑ گیئں۔وہ یہاں سے جا بھی رہی تھی تو سماک کے نام پر…..اس کی محبت پر…..
غانیہ زخرف کا ہاتھ تھامے محتاط سی آگے بڑھ رہی تھی۔انہیں کھیتوں تک پیدل پہنچنا تھا۔وہاں سے آگے گاڑی میں…..
گلیوں سے گزرتے ہوئے وہ گھاٹی تک پہنچی تھیں۔غانیہ کی معذوری کے باعث ان کی رفتار زیادہ نہ تھی۔اگر غانیہ ساتھ نہ ہوتی تو زخرف فاطمہ تنہا یہ سفر کبھی نہیں طے کر سکتی تھی۔وہ یقیناً واپس پلٹ جاتی۔سماک سے لپٹ جاتی۔اس کے ساتھ قبر میں چلی جاتی۔
وہ دونوں لڑکھڑاتے ہوئے بھاگ رہی تھیں۔دلدلی زمین میں پیر دھنس رہے تھے۔جھاڑیوں کے کانٹے کپڑوں میں الجھ رہے تھے مگر غانیہ نے ہمت نہ ہاری تھی۔وہ زخرف کو اپنے ساتھ گھسیٹ کر آگے لے جا رہی تھی۔درختوں کی اوٹ میں ایک پتلی سی پکڈنڈی تھی۔آگے سے کھیت شروع ہوتا تھا۔راستہ نزدیک تھا۔
سفید رنگ کی چھوٹی پرانی کار اب نظر آنے لگی تھی۔قدم زخمی تھے اور سانسیں بے ترتیب مگر وہ پھر بھی آگے بڑھ رہی تھیں۔
”کہاں رہ گئیں تھیں تم دونوں؟“ایک لڑکے نے کچھ خفگی سے پوچھا پھر گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول دیا۔وہ دونوں خاموشی سے اندر بیٹھ گیئں۔
یہ ان کی ہمسائی کا بیٹا تھا تو کام کے سلسلے میں شہر رہتا تھا۔غانیہ کی ان خاتون سے اچھی جان پہچان تھی۔زخرف کے معاملے میں ان کا دل کافی موم تھا لہٰذا غانیہ کے مدد مانگنے پر وہ انکار نہ کر سکی تھیں۔
وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں۔گاڑی اپنی منزل کی جانب بڑھنے لگی تھی مگر دو آنکھیں انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ چکی تھیں۔وہ اختر کا دوست تھا۔مشکل ہی وہ انہیں پہچان پاتا اگر غانیہ کے پاس بیساکھی نہ ہوتی۔
سارا راستہ غانیہ آنسو بہاتی آئی تھی جبکہ زخرف ساکت سی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔کیا ہو رہا تھا اور کیوں؟اسے کا ذہن فلحال کچھ سمجھ نہ پا رہا تھا۔
کچھ دور پہنچ کر انہیں شور سا سا سنائی دیا۔گاڑی چلاتے ہوئے لڑکے نے شیشے میں دیکھا تو ایک فوج ان کے تعاقب میں تھی۔لوگوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور نجانے کیا کیا تھا۔غانیہ نے گھبرا کر پیچھے دیکھا تو سربراہی کرتی ایک پرانی کار نظر آئی۔اسے سوچنا نہ پڑا کہ سربراہ کون ہے؟
”یہ سب کیا ہے؟“وہ لڑکا بری طرح گھبرایا۔
”موت کے فرشتے تعاقب میں آئے ہیں۔گاڑی تیز چلاؤ اور کسی خم دار جگہ روک دینا۔“غانیہ کی آواز پر لڑکے نے رفتار بڑھا دی۔
”کہاں جا رہی ہو تم دونوں ہمارے خاندان کی عزت کا جنازہ نکال کر؟کس کے ساتھ بھاگ رہی ہو؟“اختر نے چہرہ گاڑی سے باہر نکال کر بلند آواز میں کہا اور ہوائی فائرنگ کر دی۔زخرف فاطمہ کو ہوش اس ہوائی فائرنگ پر آیا تھا۔
گاڑی کی رفتار مزید بڑھ گئی۔ایک خم دار موڑ پر لڑکے نے گاڑی موڑی اور غانیہ اور زخرف تیزی سے باہر نکل کر جھاڑیوں کی جانب بھاگ گئیں۔لڑکے نے گاڑی واپس کچی سڑک پر دوڑا دی۔اسے جان کا خطرہ تھا۔جان تو سب کو عزیز ہوتی ہے مگر قسمت خرابی کچھ فاصلے پر ہی اختر نے اسے دبوچ لیا۔
”کہاں ہیں وہ دونوں؟“اس کی بندوق کا نشانہ وہ لڑکا تھا۔
”مجھے چھوڑ دو۔مجھے جانے دو۔میں کچھ نہیں جانتا۔“موت کے خوف سے وہ تھر تھر کانپنے لگا۔
”بتاؤ مجھے،کہاں ہیں وہ دونوں؟“اختر دھاڑا۔
”پیچھے راستے کے کنارے پر اتر گیئں تھیں۔“اختر پیدل اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس جانب دوڑا۔
غانیہ اور زخرف زمین سے چپکی،سانسیں روکے جھاڑیوں کے پیچھے دبکی بیٹھی تھیں۔قدموں کی آواز اب قریب سے سنائی دینے لگی تھی۔آہستہ آہستہ روشنی سیاہی پر غالب آتی جا رہی تھی۔کانٹے دار شاخیں ان کے چہروں سے چپک رہی تھیں مگر وہ حرکت تک نہ کر سکیں۔
”کدھر جائیں گیئں دونوں؟یہیں کہیں ہوں گیئں،ڈھونڈوں بےغیرتوں کو۔غیرت مند لوگ ہیں ہم۔ہماری خواتین زندہ درگور تو ہو سکتی ہیں مگر بھاگ نہیں سکتیں۔“اختر کی چنگھاڑتی آواز پر غانیہ نے اذیت سے آنکھیں میچی۔
”ہاں،ہماری غیرت کو للکارا ہے انہوں نے۔آج یہ بھاگی ہیں،کل انہیں دیکھ کر اور خواتین بھی بھاگے گیئں۔ان کا انجام ایسا دردناک ہونا چاہیے کہ قیامت تک کوئی نہ بھولے۔“ایک اور دل دہلا دینے والی آواز……زخرف کا دل بھی قید پنچھی کی مانند پھڑپھڑانے لگا تھا۔
”لگتا ہے کھیتوں کی طرف گئی ہوں گیئں۔“اختر کی آواز کی سب نے پیروی کی۔جب قدموں کی آواز دور ہوئی تو غانیہ بمشکل اٹھ بیٹھی۔آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔چہرے پر درد کے آثار واضح تھے۔
”اب واپس نہیں جا سکتی۔“وہ شکست خوردہ آواز میں سسکی۔
”کیوں؟“زخرف نے ناسمجھی سے پوچھا۔
”سنا نہیں تم نے،وہ کیا کہہ رہا تھا۔غیرت مند قوم ہے۔مار ڈالیں گے۔“
”ہم ان سے بات کر لیتے ہیں۔انہیں سمجھاتے ہیں کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔“
”فضول باتیں مت کرو زخرف۔جب لڑکی گھر کی دہلیز پار کر لیتی ہے تو واپسی کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں۔یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے،صرف تمہاری وجہ سے۔“وہ روتے روتے وہاں سے سرکتے ہوئے نیچے جانے لگی جہاں خشک ندی تھی۔زخرف نے اس کی پیروی کی۔
ندی کنارے چٹانوں میں گہرے شگاف بنے ہوئے تھے۔وہ دونوں ایک دراڑ میں دبک گیئں۔کان اوپر چلتے قدموں اور آوازوں پر لگے تھے۔بیساکھی تو کب کی اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی۔
”نوراں کا کیا ہو گا؟“زخرف نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
”وہ یہاں خوش رہے گی۔بیگم جان چار طعنے دیں گیئں مگر چار نوالے روٹی کے بھی دے گیئں۔وہ بابا صاحب کی بیٹی ہے۔وہ نوراں سِماک یوسفزئی ہے۔غانیہ سِماک یوسفزئی کی بہن…..وہ جیے گی۔اسے جینا پڑے گا۔اگر بیگم جان زیادتی کرے گیئں ناں تو نادر نیکہ ڈھال بن کر سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔میں تو خود معذور ہوں۔کہاں لے کر جاؤں گیئں اسے۔پتا نہیں زندہ بھی بچوں گیئں یا نہیں؟“وہ تلخی سے ہنس دی تھی۔زخرف کی جان بچانے کے لیے اس نے بہت بڑی قربانی دی تھی۔آزادی ہمیشہ قربانی مانگتی ہے۔عرصہ پہلے اگر زخرف نے اپنا بھالو کھویا تھا تو آج غانیہ نے اپنی نوراں کھو دی تھی۔
دھوپ پہاڑ کی چوٹی پر اترنے لگی تھی۔وہ زیادہ دیر تک اس شگاف میں نہیں رہ سکتی تھیں لہٰذا دبے پاؤں آگے بڑھیں۔غانیہ کو زخرف نے تھام رکھا تھا۔وہ اب اس کے سہارے چل رہی تھی۔خشک راستے پر چلتے ہوئے ان کے پیر زخمی ہونے لگے تھے۔یاد تک نہ تھا کہ کس کا جوتا پہلے اترا تھا اور کس کا بعد میں……بس دونوں ننگے پیر تھے۔
راستے میں بکھرے نوکیلے پتھر پیروں کو زخمی کر رہے تھے مگر درد کا احساس تو معنوں کہیں دب چکا تھا۔
وہ خشک ندی عبور کر کے بہتی ندی تک پہنچے تھے۔پانی کا بہاؤ کم تھا مگر کناروں پر موجود نم مٹی پر قدموں کے نشانات ثبت ہو سکتے تھے۔
غانیہ نے چوکس ہو کر ادھر اُدھر نگاہیں گھمائیں۔ذرا سی بے احتیاطی ان کے لیے موت کا پروانہ لکھ سکتی تھی۔
وہ محتاط انداز میں ندی میں اتر گیئں۔پانی نے انہیں گھٹنوں تک بھگو دیا۔ان کے ندی میں چلنے کی وجہ سے پانی میں ہلکی سی غرغراہٹ پیدا ہوئی مگر پانی کے بہاؤ کے شور کی وجہ سے یہ آواز کہیں دب سی گئی۔کنارے بہت سی جھاڑیاں اور سرکنڈے تھے۔وہ دونوں سرکنڈوں کے درمیان دبک کر بیٹھ گیئں۔
(سرکندے ایک لمبی اور گھنی گھاس ہوتی ہے جو عام طور پر ندیوں اور دلدلی علاقوں کے کنارے اگتی ہے۔یہ انسانوں اور جانوروں کے چھپنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔)
کچھ دیر بعد ہجوم خشک ندی تک پہنچ چکا تھا۔قدموں کی آواز اب قریب سے سنائی دینے لگی تھی۔
”یہیں کہیں ہوں گے،ڈھوندو انہیں۔“کسی نے چلا کر کہا۔
”قدموں کے نشانات تلاش کرو۔“ایک اور آواز۔غانیہ نے آنکھیں میچ لیں۔
”تم دونوں بلاوجہ وقت ضائع کر رہی ہو۔غانیہ معذور ہے، زخرف۔وہ نہیں بھاگ سکتی۔کچھ تو خیال کرو۔اگر تم خود باہر آ جاؤ گی تو میں غانیہ کو جانے دوں گا۔وعدہ رہا۔“اس آواز پر زخرف الرٹ ہوئی تھی۔اس نے چمکتی آنکھوں سے غانیہ کی جانب دیکھا تھا۔غانیہ کی آنکھوں میں تنبیہ سے زیادہ التجاء تھی۔
”نوراں کا خیال کر لو زخرف۔غانیہ کے بغیر مر جائے گی بیچاری۔“ایک اور حربہ آزمایا گیا تھا۔اس کا بھالو مر چکا تھا،سِماک مر چکا تھا۔وہ جی کر کیا کرتی؟نوراں کی زندگی زیادہ اہم تھی۔اختر ٹھیک کہہ رہا تھا۔وہ بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔اس سے پہلے وہ اختر کو یہاں آنے کا دعوت نامہ دیتی،غانیہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔
”تمہیں اللہ کا واسطہ،نہ کچھ بولو گی نہ یہاں سے ہلو گی ورنہ میں دعا کروں گئیں کہ تم روز محشر بھی اپنے بھالو سے نہ مل سکو۔“سرد سرگوشی نے اسے ایک بار پھر روک دیا تھا۔سارا راستہ یوں ہی کٹنا تھا۔قسمیں اور واسطے دے کر……
اس سے پہلے کہ وہ لوگ نم مٹی کی جانب بڑھتے اور نشانات کی پیروی کر کے ان تک پہنچتے،غانیہ نے ایک پتھر اٹھا کر دور نیچے جنگل میں پھینکا تھا۔
”وہ جنگل میں چھپی ہوئی ہیں۔“ہجوم غیرت سے پاگل ہوتا جنگل کی سمت بڑھا۔غانیہ کی سانس میں سانس آئی۔
”اختر کی بات ماننے میں کوئی حرج نہیں تھی۔“سرمئی خفا خفا آنکھوں نے غانیہ کو گھورا۔غانیہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔وہ اس کے لیے کیا کیا چھوڑ کر آئی تھی اور ایک وہ تھی کہ……
”زیادہ بکواس کی تو ندی میں پھینک دوں گیئں تمہیں۔گل سڑ کر مر جاؤ گی۔“اپنے تئیں اس ںے زخرف کو لتاڑا تھا۔
”ندی میں پانی کا بہاؤ کم ہے۔نہیں مروں گیئں میں۔“غانیہ کا دل چاہا،اپنا سر پیٹ لے۔
سرکنڈوں میں چھپے چھپے ہی وہ سرکتے ہوئے اب آگے بڑھ رہی تھیں۔
”کیا ہم واپس جا کر نوراں کو ساتھ نہیں لا سکتے؟“اسے خود سے زیادہ نوراں کی پرواہ تھی۔
”نہیں…..“غانیہ کے دو ٹوک جواب پر زخرف کا دل بیٹھ سا گیا۔
”اگر اختر نے اسے کوئی نقصان……“
”اس کی اتنی جرات نہیں۔نادر نیکه(دادا) کے ہوتے ہوئے وہ نوراں کی جانب آنکھ بھی نہیں اٹھا سکتا۔“اس کا غرور ٹھیک تھا۔نادر پلار کے ہوتے ہوئے کوئی نوراں کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا تھا۔وہ جانتی تھی کہ اس کی بہن عیش و عشرت کی زندگی گزارے گی۔اب تو فرہاد بھی نہیں رہا تھا۔نادر پلار اپنے بیٹے کی آخری نشانی کو سینے سے لگا کر رکھے گے۔
ندی کے سرکنڈوں سے نکل کر وہ دونوں بھیگی،کپکپاتی آگے بڑھنے لگیں۔آگے راستہ اور بھی دشوار تھا۔کہیں مٹی تھی تو کہیں نوکیلے پتھر……زخمی پیر مزید زخمی ہو رہے تھے مگر وہ رک نہیں رہی تھیں۔پیچھے موت تھی تو آگے زندگی بچنے کی امید……
ہوا پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرا کر خوفناک سرگوشیاں کر رہی تھی۔دونوں کے جسم تھکن سے چور تھے مگر وہ پھر بھی چل رہی تھیں۔سامنے چٹانوں کے دہانے پر غانیہ کو کچھ نظر آیا۔”ایک غار“
غانیہ نے محتاط انداز میں اردگرد دیکھا پھر زخرف کا ہاتھ کھینچ کر جھکتی ہوئی غار کے اندر داخل ہوئی۔غار کی چھت سے پانی کے جما دینے والے قطرے ٹپک رہے تھے۔دونوں اندرونی دیوار سے لگ کر بیٹھ گیئں۔چادر چہرے سے ہٹا کر اب وہ اپنی سانسیں درست کر رہی تھیں۔
باہر کہیں دور تعاقب کاروں کے قدموں کی آوازیں اب بھی گونج رہی تھیں۔
غانیہ دیوار کی پشت سے ٹیک لگائے اب بے آواز رو رہی تھی۔اس نے ایک نظر غار سے باہر دیکھا۔دن دھیرے دھیرے سرک رہا تھا۔اس کا دل بیٹھتا چلا گیا۔
”نجانے جنازہ کب ہو گا؟“وہ بڑبڑائی اور گھٹنوں میں سر دیے رونے لگی۔زخرف نے بھی اس کی نظروں کا تعاقب کرتے باہر دیکھا۔
”کافی وقت گزر گیا ہے۔میں نے تو ناشتہ بھی نہیں بنایا۔“اس نے جس فکرمندی سے کہا،غانیہ اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔کیا وہ ہوش میں تھی؟
”ہائے اللہ، انہوں نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہو گا۔“وہ اپنا سر ایسے پیٹ رہی تھی جیسے خود کو کوس رہی ہو۔غانیہ کو سمجھ نہ آیا،اس پر ترس کھائے یا غصہ کرے۔اس نے اپنا باپ کھویا تھا تو زخرف نے بھی اپنا شوہر کھویا تھا۔
”غانیہ، کیا ہم واپس نہیں جا سکتے۔میں ناشتہ بنا کر واپس آ جاؤں گیئں۔وعدہ رہا۔“غانیہ کو شدت سے رونا آیا۔اس نے آگے جھک کر زخرف کو گلے سے لگا لیا۔زخرف کو سمجھ نہ آیا کہ اسے رونا ہے یا غانیہ سے رونے کی وجہ دریافت کرنی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختر انہیں تلاش کر کے واپس جا چکا تھا۔اسے ہی سارے معاملات سنبھالنے تھے اور جنازے میں شرکت بھی کرنی تھی مگر تعاقب کاروں کو ان کے پیچھے چھوڑ چکا تھا۔اس کی بلا سے غانیہ جیتی یا مرتی،اسے زخرف سے سروکار تھا۔وہ نہ صرف سماک کی مار کا بدلہ اس سے لینا چاہتا تھا بلکہ ساری زندگی کے لیے اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔وہ خون بہا کے طور پر آئی لڑکی تھی۔اس کے گھر والوں کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا۔پھر اس پر قتل کا الزام بھی تھا۔جرگہ یقیناً اسے موت کی سزا سناتا۔اگر وہ اختر کے ہاتھ لگ جاتی تو وہ اسے کہیں چھپا کر لے جاتا اور اس کی مرنے تک اس کے جسم اور روح کو نوچتا رہتا۔
سورج مغرب میں ڈوبنے کے قریب تھا۔دن ڈھلنے والا تھا۔غانیہ اور زخرف ابھی بھی غار میں چھپی ہوئی تھیں۔اس وقت کے انتظار میں جب تعاقب کار تھک ہار جاتے اور یہاں سے چلے جاتے۔
دوسری جانب بستی کی گلیوں سے جنازے جا رہے تھے۔پوری بستی میں سوگ کی فضا تھی۔دو میتیں ایک ساتھ آگے بڑھ رہی تھیں۔لوگ جنازوں کو اٹھائے خاموشی سے جنازہ گاہ کی سمت بڑھ رہے تھے۔
نادر پلار بوجھل قدموں سے جنازے کے ساتھ چل رہے تھے۔کندھے جھکے ہوئے اور چہرہ بجھا ہوا تھا۔
جیسے جنازہ قبرستان کے قریب پہنچا،نادر پلار کا ہاتھ سینے پر جا رکا۔گھٹی گھٹی چیخ ان کے لبوں سے نکلی اور وہ ایک دم زمین پر ڈھے گئے۔
”انہیں کیا ہوا؟“ایک کہرام سا مچ گیا۔کوئی انہیں جھنجھوڑ رہا تھا تو کوئی پانی کے چھینٹے منہ پر پھینک رہا تھا مگر اب دیر ہو چکی تھی۔جنازے دو سے تین ہو چکے تھے۔
بوڑھا باپ بیٹے اور پوتے کے جنازے کا بوجھ نہ اٹھا سکا تھا۔
گھر میں پہلے ہی صف ماتم بچھی تھی،نادر پلار کی موت کی خبر نے گھر کو قبرستان بنا دیا۔چھوٹی سی نوراں صبح سے گرتی پڑتی غانیہ کو تلاش کرتی کرتی رو رو کر ہلکان ہو چکی تھی۔اس نے ماں کے روپ میں ہمیشہ غانیہ کو دیکھا تھا۔ماں کو نہ پا کر بچہ تو ہلکان ہوتا ہی ہے۔
سورج کے آخری سنہرے ذرے زمین پر بکھرتے جا رہے تھے۔فضا میں سسکیوں اور آہوں کی گونج پھیل چکی تھی۔
کوئی بتاتا قبر میں سوئے سماک کو،صرف زخرف فاطمہ اکیلی نہیں رہی تھی۔اب شگوفہ کے پاس نہ فرہاد رہا تھا اور نہ نوراں کے پاس غانیہ……کوئی بتاتا غانیہ کو،اس کی نوراں کی آخری ڈھال ٹوٹ چکی ہے۔اس کی حفاظت کرنے والا اب کوئی نہیں رہا تھا۔جس کے بھروسے وہ اپنی بہن کو چھوڑ کر آئی تھی،وہ بوڑھا شخص زندگی کی جنگ ہار گیا تھا۔
کوئی بتاتا بستی کی پہاڑیوں کو…. یوسفزئی خاندان کے پاس کوئی وارث نہ بچا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
