61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 44)

لاہور کی شام کچھ عجیب سی تھی۔دھند اور گرد کا ملا جلا سا پردہ فضا میں معلق تھا۔ہوٹل کی عمارت شاندار ضرور تھی مگر اندر داخل ہوتے غانیہ کا دل بار بار ڈوب رہا تھا۔یہ لاہور کا دوسرا بزنس ٹرپ تھا۔پہلے ٹرپ کی کامیابی پر وہ قتادہ سے کچھ زیادہ ہی منتفر ہو چکی تھی۔
اسے ہر جگہ سے بلاک کر کے وہ خاصا بےچین ضرور تھی مگر غصے کی شدت ابھی بھی کم نہیں ہوئی تھی۔
استقبالیہ پر رسمی مسکراہٹوں اور مصروف نگاہوں کے درمیان وہ روم نمر سات سات سو گیارہ میں جانے کی غرض سے لفٹ کی جانب بڑھی تھی۔
ہر منزل کے بعد لفٹ میں ایک انجانی خاموشی بڑھتی چلی گئی۔جیسے خاموش دیواریں چیخ چیخ کر کچھ کہہ رہی ہوں مگر وہ سن یا سمجھ نہ پا رہی تھی۔ساتویں منزل پر پہنچ کر ایک انجانی لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔غانیہ نے سر جھٹکا اور آگے بڑھ گئی۔
کمرے کا دروازہ کھولا تو فضاء اور بھی سنجیدہ تھی۔پردے مکمل بند تھے صرف لیمپ کی مدھم روشنی کمرے کو ایک غیر یقینی سا تاثر دے رہی تھی۔
اس کا دل لمحہ بھر کو رکا؟کیا یہی وہ جگہ تھی جہاں میٹنگ رکھی گئی تھی۔پھر اچانک ایک مانوس آواز فضا میں گونجی۔
”آئیں مس غانیہ،ہم آپ ہی کا انتظار کر رہے تھے۔“وہ کئی لمحے وہیں ساکت کھڑی رہی پھر اعصاب یکدم ڈھیلے پڑے اور لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔وہاں پہلے سے تین افراد موجود تھے۔دو کمپنی ورکرز اور ایک شاید کلائنٹ تھا۔
سب نوٹس اور لیپ ٹاپ کھولے پہلے سے ہی کسی موضوع پر بحث کر رہے تھے۔وہ خاموشی سے خالی کرسی پر جا بیٹھی۔کرسی پر بیٹھتے ہی دل کی دھڑکنیں معمول پر آ گئیں۔
”اب تو آپ نے ہمارے پراجیکٹ دیکھ لیا ہے ناں،امید ہے یہ ڈیل ہماری ہو گی۔“اس کے سینئر نے خوش آئیند لہجے میں کلائنٹ سے کہا۔
”جی بالکل،ایسا ہی ہے۔“کلائنٹ نے ایک گہری نگاہ غانیہ پر ڈالتے ہوئے کہا۔وہ کچھ تذبذب کا شکار ہوئی۔لبوں پر مسکراہٹ اب بھی برقرار تھی مگر نجانے کیوں دل آج بےچین سا تھا۔یہ میٹنگ اسے میٹنگ سے زیادہ کچھ اور لگا تھا۔لفظوں میں چھپے مفہوم وہ جب تک سمجھ پاتی،تب تک ڈرنک سرو کی جا چکی تھی۔
غانیہ نے ایک بار پھر تمام برے خدشات کو دماغ سے جھٹکا اور گلاس تھاما۔
میٹنگ ختم ہونے کے بعد تمام لوگوں کے اٹھتے ساتھ ہی وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔عین اس ہی وقت اس کے کولیگ کے ہاتھ سے گلاس کچھ اس انداز میں پھسلا کہ جوس غانیہ کے کپڑوں پر آ گرا۔
”آئی ایم سو سوری غانیہ۔پتا نہیں میرا دھیان کہاں تھا۔آپ ٹھیک تو ہیں؟“اسے غصہ تو بہت آیا مگر فلحال ضبط کر گئی۔
”ہم کلائنٹ کو سی آف کر کے آتے ہیں آپ تب تک یہ صاف کر لیں کہیں داغ نہ پڑ جائے۔“بادل نخواستہ اس نے واش روم کی جانب قدم بڑھائے تھے۔قمیص کو صاف کرنے کے بعد اس نے نل بند کرنے کے لیے ابھی ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسے زبردست چکر آئے تھے۔
غانیہ نے گرنے سے بچنے کے لیے نل کا سہارا لیا۔سر جھٹکا اور نل بند کر کے باہر کی جانب قدم بڑھائے۔واش روم کے دروازے تک پہنچ کر اس کا سر ایک بار پھر چکرایا تھا۔
”یا اللہ!یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔“خود کو سنبھالتے ہوئے وہ بمشکل پلنگ تک آئی پھر وہاں سے دروازے تک پہنچتے پہنچتے اردگرد کا سارا منظر دھندلا گیا۔
اس نے ادھر اُدھر ہاتھ مار کر ہینڈل کو ڈھونڈا اور پھر اسے گھمایا۔دروازہ باہر سے لاکڈ تھا۔
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔قسمت نے کھینچ کر چابک اسے مارا تو ساری انا مٹی کا ڈھیر ہو گئی۔
”دروازہ کھولو۔کوئی ہے۔راشد…..سر فضل…..کوئی ہے۔“وہ اب دروازہ پیٹتے ہوئے زور زور سے چلا رہی تھی۔
”پلیز دروازہ کھول دو۔میں یہاں لاکڈ…..“اسے اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی۔
”کوئی ہے کھولو مجھے۔“وہ لڑکھڑا کر چند قدم پیچھے ہٹی۔دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما۔پھر صوفے پر بیٹھتی چلی گئی۔عین اس ہی وقت کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔
چہرہ دھندلا تھا مگر آواز جانی پہچانی تھی۔
”کیسی ہیں آپ مس غانیہ۔“یہ آواز اس کلائنٹ کی تھی۔دھندلا عکس اور اپنی جانب بڑھتے قدم نے غانیہ کو وہیں شل کر دیا تھا۔
”میں نے جب آپ کی تصویر دیکھی تھی اس ہی وقت یہ ڈیل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔“وہ نجانے اور کیا کیا کہہ رہا تھا،غانیہ کے وجود کو الفاظ کی آگ نے ہر جانب سے لپیٹ میں لے لیا تھا۔
”تمہیں کیا لگتا ہے کہ یہ جاب تمہیں ایسے ہی مل گئی؟کیا جانتا نہیں ہوں اس کمپنی کو؟تم خوبصورت ہو تب ہی تمہیں یہ نوکری ملی ہے۔اب تم شہر سے باہر جانا چاہتی ہو تو شوق سے جاؤ مگر وہاں جو ہو گا،اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں گا۔“دھندلا عکس اب نیم تاریکی میں ڈوبنے لگا تھا۔اسے شدت سے اپنی کم عقلی اور غرور کا احساس ہو رہا تھا۔قتادہ غلط نہیں تھا،غلط وہ تھی۔وہ اسے جو سمجھانا چاہ رہا تھا وہ سمجھ نہ سکی تھی۔
نیم تاریکی اب گھپ اندھیرے میں تبدیل ہونے لگی تھی۔دماغ مکمل طور پر مفلوج ہونے لگا تھا۔آخری چیز جو اسے یاد تھی وہ دھڑ سے دروازہ کھلنے کی آواز تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بھاری خاموشی جیسے اس کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔آنکھیں کھلیں تو سب کچھ دھندلا اور غیر واضح سا تھا۔چھت گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔سر میں شدید ٹیسیں اٹھنے لگیں۔وہ بمشکل اٹھ بیٹھی۔اردگرد دیکھا تو یہ کسی اپارٹمنٹ کا کمرہ معلوم ہوا۔
بستر کی چادر ہلکی سی سلوٹ زدہ تھی۔اس نے ایک ہاتھ سے سر تھاما اور مکمل آنکھیں کھول کر ادھر اُدھر دیکھا۔
”یہ کون سی جگہ ہے اور میں یہاں کیسے؟“ذہن میں سوالات کی بوچھاڑ تھی۔آہستہ آہستہ اسے سب یاد آنے لگا۔
میٹنگ،تین لوگ،ڈرنک،پھر چکر آنا،دروازے کا لاکڈ ہونا اور آخر میں اس کلائنٹ کا کمرے میں داخل ہونا۔اس کے بعد سب سیاہ ہو گیا۔
اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونکی۔دل دھک سے گیا۔سانس معنوں رک سی گئی۔قدموں کی چاپ پر وہ بے اختیار پیچھے ہوئی۔
دروازہ کھلا تو سامنے ایک خوبرو جوان کھڑا تھا۔چہرہ شناسا تھا۔وہ اسے پہچانتی تھی۔وہ اسے ہی تو پہچانتی تھی۔
غانیہ نے بستر پر پڑی چادر اٹھائی اور اچھے سے اوڑھ لی۔
”آئی ایم سوری مجھے اجازت لینی چاہیے تھی۔“اس نے نگاہیں جھکائیں اور باہر جانے لگا۔
”میں یہاں کیسے اور وہ شخص…..“اس نے جیسے یاد کرنے کی کوشش کی۔
قتادہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔سرد مگر بے بس نگاہ سے……
”اپنی من پسند چیزوں کے لیے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہوں۔تم ہزار بار منگنی توڑ دو میں تب تک تمہارے پاس آؤں گا جب تک یہ انگوٹھی تمہارے ہاتھ میں ہے۔“غانیہ نے چونک کر اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا۔انگوٹھی اب بھی اس کے ہاتھ کی شان بنی ہوئی تھی۔
”آرام کرو۔“اس نے دروازے کا ہینڈل گھمایا اور باہر چلا گیا۔غانیہ کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔اس نے کیسے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے تنہا چھوڑ دے گا۔انگوٹھی تو اب بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔وہ چاہ کر بھی اسے اتار نہ سکی تھی۔اسے اتارنے کا خیال سے ہی روح زخمی ہو جاتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔کھڑکی کے پردے ہوا سے سرسراتے تو دیوار پر ابھرتے سائے کسی بھٹکی ہوئی یاد کی مانند لہراتے۔وہ بستر پر بیٹھی خلا میں یوں گھور رہی تھی جیسے وقت تھم گیا ہو۔ہونٹ سلے ہوئے مگر نگاہوں میں ایک الگ ہی شور تھا۔
”قانِتہ…..“غزوان کے پکارنے پر وہ بری طرح چونکی۔
”طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟“قانِتہ نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
”کیا ہوا ہے تمہیں؟میں دیکھ رہا ہوں تم آجکل کافی گم صُم رہنے لگی ہو۔کیا تم خوش نہیں ہو؟“وہ اس کے قریب آ کر بیٹھا۔
”نہیں،میں خوش نہیں ہوں غزوان۔“وہ میکانکی انداز میں کہہ گئی۔
”کیوں؟“وہ حیران سے زیادہ پریشان ہوا۔
قانِتہ نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری اور اس کا ہاتھ سختی سے تھام لیا۔
”کیونکہ یہ بچہ مر جائے گا۔“
”دماغ درست ہے تمہارا؟“وہ ایکدم ہی آپے سے باہر ہو گیا۔
”سچ کہہ رہی ہوں میں۔میرے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔میں جن لوگوں کو چاہتی ہوں،وہ مجھ سے دور چلے جاتے ہیں۔“غزوان اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔اس لمحہ اسے نہ غصہ آیا اور دکھ ہوا۔اسے بس قانِتہ پر ترس آیا تھا۔
وہ کیا کیا سوچے بیٹھی تھی۔
”مگر اس بار ایسا نہیں ہو گا۔مجھے یقین ہے کہ ہم ایک ساتھ یہ خوشی دیکھے گے۔“اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیے وہ نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا۔
”مگر…..“
”مگر اگر کچھ نہیں۔اس طرح بند کمرے میں بیٹھی رہو گی تو یہی فضولیات سوچتی رہو گی۔چلو کہیں باہر چلتے ہیں۔“وہ اس کا ہاتھ پکڑے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
”میرا دل نہیں چاہ رہا۔“
”دل بھی چاہے گا،تم چلو تو سہی۔“وہ انکار کرتی رہی تھی مگر غزوان نے اس کی ایک نہ سنی تھی۔
بادل نا خواستہ قانِتہ کو تیار ہونا ہی پڑا تھا۔
انہوں نے ابھی کمرے کی دہلیز ہی پار کی تھی کہ غزوان کا فون بجا تھا۔
”جی پاپا…..“اس نے قدرے بے نیازی سے پوچھا۔
”گدھے،کہاں ہو تم؟میٹنگ کیا تمہارا باپ اٹینڈ کرے گا؟ایک کام کہا تھا تم سے وہ بھی نہیں کر سکتے تم۔“اسپیکر کے اس پار جہانزیب بھڑک رہے تھے اور اس پار وہ نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا رہا تھا۔سامنے اس کی بیوی کھڑی تھی۔اسے کہیں سے بھی یہ محسوس نہیں کروانا تھا کہ دوسری طرف اس کی عزت افزائی کی جا رہی ہے۔
”اچھا میٹنگ ہے۔میرے بغیر ہو نہیں سکتی۔“اس نے جبرا مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
”دو دن پہلے بتایا تھا تمہیں مگر تم تو ہو ہی خچر۔باپ بننے والے ہو مگر عقل آج بھی گھٹنوں میں ہے۔تم سے کئی زیادہ سمجھدار اور پروفیشنل تو قانِتہ ہے۔تمہاری جگہ اسے کہا ہوتا تو وقت سے پہلے ہی پہنچ جاتی۔“اندر ابال اٹھ رہے تھے مگر لبوں پر بدستور مسکراہٹ تھی۔
”جی جی…..“اس سے بس اتنا ہی کہا گیا۔
”جی جی کے بچے،جلدی پہنچو۔“جہانزیب نے اسے جھڑکا اور کال کاٹ دی۔
”جان،ایک اہم میٹنگ ہے۔تمہیں تو پتا ہے پاپا کا سارا بزنس میں نے ہی تو سنبھالا ہوا ہے۔اب میرے بغیر میٹنگ کیسے ہو گی؟ہم رات میں باہر جائیں گے ہاں۔“اس نے معذرت خوانہ لہجے میں کہا۔قانِتہ دھیرے سے مسکرائی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
”تم اکیلے کمرے میں نہیں بیٹھو گی۔مورے کے ساتھ بیٹھنا۔“اس کی تنبیہ پر وہ ایک بار پھر مسکرا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزوان کے جانے کے بعد وہ کافی دیر طیبہ کے ساتھ ان کے کمرے میں بیٹھی رہی تھی۔اس کے خوش خبری سنانے کے بعد طیبہ کا رویہ یکسر تبدیل ہو چکا تھا۔اس کا بس چلتا تو وہ اسے پلکوں پر بٹھا کر رکھتیں۔
”پھر آپ پاکستان کیوں نہیں گیئں؟اتنی مشکل سے تو پاپا راضی ہوئے تھے۔“
”تمہیں اس حالت میں چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں۔“
”میں بالکل ٹھیک ہوں مورے۔آپ میری وجہ سے اپنا پلین کینسل نہ کریں۔پاپا کا موڈ بدلتے دیر نہیں لگے گی۔“
”اچھا تم یہ سب چھوڑو۔یہ بتاؤ کہ کیا کھاؤ گی۔میں اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کے لیے بناؤں گیئں۔“سرمئی آنکھوں میں کچھ چمکا تھا۔زندگی اس طرح پلٹا کھائے گی،اس نے کہاں سوچا تھا۔
”جو بھی آپ بنا دیں،آپ کے ہاتھ کی تو ہر چیز ہی لذیز ہوتی ہے۔“
“ہاں،غزوان کو بھی میرے ہاتھ کا کھانا بہت پسند ہے۔“وہ دھیما مسکرائیں۔
”آپ مجھے غزوان کی پسند اور نا پسند کے بارے میں بتائیں ناں۔“وہ کچھ پرجوش سا ہو کر سیدھی ہوئی تھی۔
”کوئی خاص پسند نہیں ہے اس کی۔سب ہی کھا لیتا ہے بس میٹھے کا شوقین ہے۔“
”اور کوئی ایسی چیز جو اسے سخت ناپسند ہو۔“
”کھانے میں تو ایسی کوئی چیز نہیں۔ہاں،اسے بارش نہیں پسند۔“قانِتہ ساکت ہو گئی۔لمحہ منجمند ہو گیا۔
”چڑ ہے اسے بارش سے۔جیسے ہی بارش ہوتی ہے،خود کو کمرے میں بند کر لیتا ہے۔کہتا ہے یہ برستی بوندوں کا شور مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔“قانِتہ کے اندر آہستہ آہستہ بہت کچھ ٹوٹنے لگا۔وہ ساکت نگاہوں سے طیبہ کو دیکھتی رہی۔
”اسے زیادہ پانی نہیں پسند اور نہ ہی ایسے مقامات پر جانا۔اب دیکھو ناں،دو سال پہلے ہم نے یہاں شفٹ کیا۔تب سے ضد پر اڑا ہوا ہے کہ کہیں اور جا کر رہتے ہیں۔سمندر مجھے بےچین کرتا ہے۔اس کی لہروں کا شور برداشت سے باہر ہے۔“طیںہ بول رہی تھیں وہ وہ خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔آنکھوں میں نمی آ ٹھہری تھی مگر چہرہ اب بھی سپاٹ تھا۔
تو کیا غزوان نے اس کی خوشی میں خود کو چھپا لیا تھا؟کس قدر بیواقوف تھی وہ،جو یہ سمجھتی رہی کہ ان دونوں کی پسند ملتی ہے۔
اسے رونا بھی آیا اور ہنسی بھی۔اس کا شوہر بڑی صفائی سے جھوٹ بولتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈنر کے بعد دونوں خاموشی سے ساحل کی جانب چل پڑے تھے۔سڑک کنارے روشنیوں کی قطاریں چاندنی کا ساتھ دے رہی تھی۔سمندر کی نم ہوا چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔
وہ دونوں ننگے پیر ریت پر چلتے جا رہے تھے۔
”تمہیں سمندر پسند ہے ناں؟“قانِتہ نے چمکتی آنکھوں سے پوچھا تھا۔اس نے آج خلاف معمول ڈوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔دوپٹہ ہلکی ہوا میں لہراتا تو کبھی کندھے سے دھلک کر بازو پر آ گرتا۔
”بہت…..“قانِتہ کا دل چاہا اس اقرار پر وہ زور سے ہنس دے لیکن پھر فوراً ہی ارادہ ترک کر دیا۔اگر وہ اس کی پسند کو اپنا رہا تھا تو اس میں حرج ہی کیا تھی؟
”ویسے ایک بات کہوں تم سے۔“غزوان نے ایک گہری نگاہ اس ہر ڈالی پھر آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
”تم دوپٹے میں بہت خوبصورت لگتی ہو۔میں نے جب کوردوبا میں تمہیں دوپٹہ اوڑھے دیکھا تھا تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔یقین جانو،بہت مقدس لگ رہی تھی تم۔“وہ شدت جذبات میں چور اب اس پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔
دوپٹے کے کنارے نے قانِتہ کے رخسار کو چھوا پھر وہ دھیرے سے مسکرا دی۔
”ہاں میں پہلے اوڑھتی تھی۔چادر بھی لیتی تھی پھر چھوڑ دیا۔“
”کیوں؟“اسے شاک لگا تھا۔
”بس ویسے ہی۔مجھے کانفیڈنیٹ لگنا تھا۔زندگی میں کامیاب ہونا تھا۔یہ میری زندگی کا بہترین فیصلہ تھا۔اس سے پہلے کوئی سر سے چادر چھین لے،اسے خود ہی اتار دینا چاہیئے۔“وہ تمسخرانہ ہنسی تھی۔لہجے میں تمسخر اور تاسف کا امتزاج تھا۔وہ چاہ کر بھی خود سے ہمدردی نہیں جتا سکی تھی۔اس نے کبھی خود کو ہمدردی کے قابل سمجھا ہی نہیں تھا۔
”اگر کوئی چادر چھیننے کی کوشش کرے تو قصور چادر کا نہیں چھیننے والے کا ہوتا ہے۔خود سے چادر اتار دینا ہار ماننے کے مترادف ہے۔یہ تو ظالم کو جیت کا پیغام دینا ہوا۔چادر محض کپڑا نہیں،یہ ایک نظریہ ہے،ایک نشان ہے عزت اور خودداری کا۔اسے اتارنا گو کہ دنیا کی بے رحم نظر سے بے پردہ ہو جانا ہے۔“وہ بول رہا تھا اور وہ دم سادھے اسے سن رہی تھی۔دل کی دھڑکن موجوں سے ہم آہنگ ہو رہی تھی۔
”یقین جانو تم دوپٹہ اوڑھ کر بھی اتنی ہی کانفیڈنیٹ لگو گی جتنی پہلے لگتی ہو۔“آخر میں وہ گہرا مسکرایا تھا۔
”اگر میں نہ اوڑھوں تو؟“اسے جواب سننے کے لیے بےتاب تھی۔
غزوان نے کندھے اچکائے اور بے نیازی سے گویا ہوا۔
”تمہاری مرضی ہے۔“اس جواب سے اسے مایوسی ہوئی تھی۔کم از کم اسے یہ نہیں سننا تھا۔اسے امید تھی کہ وہ اسے ایک لمبا چوڑا لیکچر دے گا جیسے پہلے دیا تھا۔اسے فورس کرے گا کہ وہ لازمی دوپٹہ اوڑھے مگر ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اس کی امیدوں پر پورا نہیں اترا تھا۔
”تم شروع سے دوپٹہ نہیں اوڑھتی تھی،یہ مسئلہ ہے مگر تم نے اسے اوڑھ کر چھوڑ دیا یہ اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے اور جو وجہ تم نے بتائی وہ غیر منطقی ہے۔تم دوپٹہ اوڑھو یا نہیں،میں تم سے صرف ایک ہی بات کہوں گا۔“
”کیا؟“سوالیہ نگاہیں اس پر ہی جمی تھیں۔
غزوان نے اس کا ہاتھ تھاما اور لبوں تک لے گیا۔
”آئی لو یو۔“اس نے عقیدت سے قانِتہ کا ہاتھ چوما جیسے کسی مقدس چیز کو چھو رہا ہو۔وہ دھیرے سے مسکرا دی۔
”اگر کسی کو واقعی تمہارے اس فیصلے سے فرق پڑنا چاہیئے تو وہ تم خود ہو قانِتہ۔“اس نے نرمی سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
”چلو گھر چلتے ہیں۔کافی وقت ہو گیا ہے۔“وہ دونوں اب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے پلٹ گئے۔سمندر کی لہریں پیچھے سے انہیں پکارتی رہیں۔ریت پر بنے نشانات اب مٹنے لگے۔
ہوا میں ابھی بھی سمندر کی نمکین خوشبو تھی جس میں ریت کی سوندھی مہک اور ہواؤں کی ٹھنڈک ابھی بھی گھلی ہوئی تھی۔
شانے پر دوپٹہ سمیٹتے ہوئے قانِتہ نے تاسف سے سوچا۔
”اس نے اگر چند فیصلے صحیح لیے تھے تو بہت سے غلط بھی لیے تھے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔