61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode08)

Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi


برف سے ڈھکی پہاڑیاں سورج کی کرنوں سے پگھلنے لگی تھیں۔خزاں کے پتے ٹوٹ کر بکھرنے لگے تھے۔تنگ گلیوں کی دیواروں پر ماضی کی یادیں نصب تھیں۔چٹانوں پر کہیں دور اب بھی کسی کے قہقہوں کی آوازیں قید تھیں۔نرم نم گھاس پر کسی کے دوڑتے قدموں کے نشان کہیں اب بھی ثبت تھے۔پہاڑ،بہتی ندیاں، سبزہ زار ہر چیز وہیں تھی سوائے سرمئی آنکھوں والی چڑیا کے…….
پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی پک ڈنڈی سے ہوتے ہوئے دور تنگ گلیوں کے بعد ایک بڑا سا کھلا گھر……گھر کے ایک نیم تاریک کمرے میں وہ بستر پر چت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔سرمئی آنکھوں والی چڑیا کی زندگی ایک سال آگے بڑھ چکی تھی۔زخرف فاطمہ دس برس کی ہو چکی تھی۔اس گزرے ایک سال نے سب بدل دیا تھا۔اس نے زخرف فاطمہ کو بدل دیا تھا۔وہ پہلے سے کئی زیادہ کمزور ہو چکی تھی۔مسکرانا تو وہ کب کا چھوڑ چکی تھی اور اب تو وہ رونا بھی تقریباً بھول چکی تھی۔
خاتون اس کا معائنہ کر کے کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔بیگم جان کی متجسس نگاہیں اس پر آ ٹھہری تھیں۔
”مبارک شہ!آپ کی بہو ماں بننے والی ہے۔“بیگم جان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ان کے دل کی مراد پوری ہو گئی تھی۔
”بیٹا ہے ناں؟“نہایت اشتیاق سے پوچھا۔
”ابھی کم دن گزرے ہیں۔بہت جلد پتا چل جائے گا۔“خاتون کے جانے کے بعد وہ کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔زخرف بستر سے ٹیک لگائے سپاٹ چہرہ کے ساتھ بیٹھی تھی۔نگاہیں دیوار پر جمی تھیں۔
”اے زخرف،تو نے یہ منہوس شکل کیوں بنا رکھی ہے؟تو ماں بننے والی ہے۔“ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔برسوں بعد آج ان کی خواہش پوری ہونے جا رہی تھی۔
زخرف نے ایک سپاٹ نگاہ ان پر ڈالی اور واپس دیوار کو تکنے لگی۔
”دیکھ زخرف،بیٹا ہونا چاہیے۔“وہ اب بھی خاموش رہی تھی۔چہرے پر وہی ویرانی،وہی خاموشی۔
”تو نے مجھے آج خوش کر دیا ہے۔مانگ،کیا مانگتی ہے؟“اس ایک سال میں پہلی بار وہ بغیر کوئی القابات سنائے اس سے تحمل سے بات کر رہی تھیں۔
”میں اپنی مورے سے ملنا چاہتی ہوں۔“اسے صرف اپنی ماں سے ہی ملنا تھا،باپ یا بھائی کا نام اس نے نہیں لیا تھا۔
”ہاں ہاں،ٹھیک ہے۔ایک دن تو رہ آ اپنے میکے۔“بغیر کسی تاخیر کے انہوں نے اجازت دے دی تھی۔
بیگم جان کے جانے کے بعد وہ کافی دیر ایسے ہی بیٹھی رہی پھر لرزتا ہاتھ اٹھا اور پیٹ پر جا رکا۔پلکیں بھیگیں،پھر رخساروں پر گرم قطرے گرنے لگے۔لب مسکرا اٹھے۔
”میں ماں بننے والی ہوں۔“وہ اس احساس کو محسوس کرنے لگی۔خوشی کی خوشبو کمرے میں پھیلنے لگی۔
”اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔“پچھلے ایک سال سے اسے یہی طعنے تو سننے کو مل رہے تھے اور اب ایک سال بعد اس کی گود بھر چکی تھی۔اب تو سب ٹھیک ہو جانا چاہیے تھا،مگر کیا سب اتنی آسانی سے ٹھیک ہو جاتا ہے؟
اس بات کا اندازہ زخرف کو اسی دن ہو گیا تھا۔حالات اب بھی ویسے ہی تھے۔اسے گھر کے اتنے ہی کام کروائے جا رہے تھے۔بس مار پیٹ کی جگہ اب صرف طعنے ملنے لگے تھے۔سوکھی روٹی کی جگہ تازی روٹی نے لے لی تھی مگر دن میں ایک بار……زندگی اب بھی بہت مشکل تھی۔
شام کے وقت وہ کھانا بنا کر نڈھال سی کمرے میں آرام کی نیت سے داخل ہوئی تھی۔سِمَاک بستر پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ تھی۔
”کہاں تھی تم؟“وہ چل کر اس کے پاس گیا تھا۔لہجے میں شکوہ تھا۔
”وہ میں کھانا……“
”زخرف،تمہیں اب اپنا خیال رکھنا چاہئیے۔“وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے بستر تک لے گیا تھا۔وہ قد میں اس سے بہت چھوٹی تھی۔
”یہ دیکھو،میں کیا لایا ہوں۔“سماک نے پیکٹ سے ایک سوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔زخرف نے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے تھاما تھا۔
”یہ ہماری بیٹی کے لیے لائے ہیں؟“اس نے چہک کر پوچھا تھا۔آنکھوں میں خوشی کے جگنو ٹمٹما رہے تھے۔
”بدھو،تمہارے لیے لایا ہوں۔“سِمَاک نے گو کہ اس کی عقل پر ماتم کیا تھا۔جسے ایک نومولود بچوں کے کپڑوں کے سائز کے متعلق خبر ہی نہیں تھی۔زخرف کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگے۔اس نے ڈر کر سوٹ کو خود سے دور رکھا تھا۔
ذہن کے پردے پر وہ خوفناک منظر گھومنے لگا جس میں اختر نے نا صرف اسے مارا تھا بلکہ اس کے بال بھی کاٹے تھے۔
اس کے بعد سے لے کر اب تک سِمَاک اس کے لیے کبھی کوئی تحفہ نہیں لایا تھا۔
”بیگم جان ناراض ہوں گیئں۔“اس نے گھبراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کی۔
”نہیں ہوں گیئں۔تم اتنی بڑی خوشخبری سنا رہی ہو،وہ بہت خوش ہیں۔اور ہاں، یہ بیٹی والی بات آج تو کر دی یے،پھر مت کرنا۔بیگم جان تمہیں مار ڈالیں گیئں۔“زخرف کا دل زور سے ڈھڑکا۔اس نے سہم کر سماک کی جانب دیکھا۔
”اگر بیٹی ہو گئی پھر؟“خدشہ زبان پر آ گیا۔
”اللہ نہ کرے۔“اس کے چہرے کی ناگواریت دیکھ کر زخرف کا دل دھک سے رہ گیا۔ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گیئں۔سرمئی آنکھوں کے تمام جوت بجھ گئے۔
”پہلے دو بیٹیاں ہیں،اب بیٹا چاہیئے۔تمہیں بیٹا پیدا کرنا ہو گا زخرف ورنہ بہت مشکل ہو جائے گی۔اس گھر میں تمہاری جگہ ہی نہیں ہے تو تمہاری بیٹی کی کیسے ہو گی؟“وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔کیا اس نے صحیح سنا تھا۔”تمہاری بیٹی“کیا وہ صرف زخرف کی بیٹی ہوتی؟سرمئی آنکھیں جھک گیئں۔پلکوں کے کنارے ڈھیر سارے آنسو جمع ہونے لگے۔اس نے سختی سے بستر کی چادر کو دبوچا۔عجیب سی گھٹن نے کمرے کا احاطہ کیا۔ایک اور آزمائش،ایک اور مشکل……اب اسے ہر نماز میں شدت سے دعا کرنی تھی کہ بیٹا ہی ہو۔

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کے وقت سِمَاک اسے اس کے میکے چھوڑ کر گیا تھا۔وہ خاموشی سے دہلیز پار کرتی اندر داخل ہوئی تھی۔برآمدے میں اس کا ٹکراؤ اپنے بھائی سے ہوا تھا۔
”زخرف……“بھائی نے حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھا پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔”کیسی ہو؟“وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔پھاڑ کھانے والی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا اور اندر کی کڑواہٹ باہر نکالی۔
”سر پر ہاتھ مت رکھو لالہ۔سر پر ہاتھ رکھنے والے محافظ ہوتے ہیں۔“اپنی کہی اور تیزی سے آگے بڑھ گئی۔بعض زخم بہت گہرے ہوتے ہیں، تکلیف زخموں کی گہرائی سے زیادہ زخم کا سبب بنے لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
وہ صرف اپنی ماں سے ملی تھی۔بڑی بہن کی شادی ہو چکی تھی اور والد اور بھائی سے اسے کوئی سروکار نہ تھا۔اس کی ماں کتنی دیر اس سے لپٹی روتی رہی تھیں، اس کے چہرے کو چومتی رہی تھیں مگر وہ نہیں روئی تھی۔ایک آنسو بھی اس کی پتھر آنکھ سے نہیں بہا تھا۔
اپنی بیٹی کا یہ حال دیکھ کر ماں کلیجہ چیڑ سا گیا تھا۔
”کیا حال ہو گیا ہے میری بچی کا۔“اس کے روکھے بالوں میں تیل ڈالنے کے بعد اب وہ چٹیا بنا رہی تھیں۔وہ خاموش ہی رہی تھی۔کون سا شکوہ کرتی اور کون سا نہیں…..بہتر ہی تھا کہ خاموش رہتی۔
”تو فکر نہ کر۔بیٹا ہو جائے گا نہ تو حالات کافی بہتر ہو جائیں گے۔سماک کی صرف بہنیں ہی ہیں۔تو اس خاندان کو وارث دے گی۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔“کمرے میں ماں کی چوڑیوں کی ہلکی کھنک کے ساتھ کنگھے کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔
”میں نے آج اپنی بیٹی کے لیے بہت کچھ بنایا ہے۔پلاؤ، کباب، یخنی اور……“بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد ماں چٹیا گوندھنے لگی۔
”مجھے یہ سب کھانے کی عادت نہیں ہے۔“پہلی بار اس نے خاموشی توڑی۔
”وہ تو ہیں ہی ظالم، یہاں تو یہ سب کھا سکتی ہے نہ۔“ماں نے ربن باندھنے کے بعد اس کے سر پر بوسہ دیا۔زخرف کے گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا۔اسے نہیں رونا تھا، مگر ممتا کی اس چھاؤں میں آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔
”میری عادتیں خراب نہ کر مورے۔میں تو پھر بھی برداشت کر لوں گیئں مگر یہ……یہ سمجھتا ہی نہیں۔“اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھا، آنسوؤں کی ایک لڑی گال پر بہہ نکلی۔
”یہ کھانا مانگتا ہے۔مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔مجھے الٹیاں آتی ہیں،چکر آتے ہیں۔طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔کوئی کام نہیں ہوتا۔میں کیا کروں مورے؟“اس نے جس بےبسی سے اپنی ماں کی جانب دیکھا، وہ رو دیں۔انہوں نے سختی سے زخرف کو خود میں بھینچا۔
”وہ کہتے ہیں بیٹا چاہیئے۔اگر بیٹی ہو گئی تو اسے مار ڈالیں گے۔میں اپنی بیٹی کو مرنے نہیں دوں گیئں۔میں سب سے لڑ جاؤں گیئں۔میں اپنی سپر وومین خود بن جاؤں گیئں۔“سرمئی آنکھیں آنسو بہاتی جا رہی تھیں۔دل دھیرے دھیرے اپنی جگہ سے سرکتا جا رہا تھا۔
”مگر مورے…..“اس نے سر اٹھایا، نم آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا۔”اگر اسے بھی خون بہا میں دے دیا پھر؟“اس نے تڑپ کر کہا تھا۔ماں نے سختی سے دوبارہ اسے خود میں بھینچا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔
”پھر تم میرے جیسی نہ بننا۔تم ایک بہادر مورے بننا جو اپنی بیٹی کے لیے ہر محاذ سر کر جائے۔“زخرف اپنی ماں کے سینے سے لگی کافی دیر سسکتی رہی۔کمرے کی اداسی میں آنسو گرتے رہے۔باہر سورج کی روشنی مدھم پڑنے لگی۔دن کی روشنی شام میں بدلنے لگی۔

پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی گہرائی میں چاروں سمت سناٹا چھایا ہوا تھا۔جیل کی دیواریں کوئی ان کہی داستان سنا رہی تھیں۔چوکیدار کے بوٹوں کے سوا وہاں اور کوئی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔آسمان بادلوں کی دبیز چادر میں چھپ سا گیا تھا۔ایک سیل کی سلاخوں کے پیچھے ایک قیدی بےحس و حرکت پڑا تھا، جیسے گہری نیند سو رہا ہو۔پہرے دار نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی اور آگے بڑھ گیا۔اس کے جاتے ہی قیدی نے پٹ سے آنکھیں کھولیں، ذہن کے پردے پر کسی کے کہے الفاظ اُجاگر ہوئے۔
”غزوان کی جانب سے پیغام ہے،آپ کی بہن کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی۔یقین کر لیں کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں۔“آنکھوں میں خون دوڑ آیا،وہ ایکدم سیدھا ہو بیٹھا۔دبے قدم اب جیل کے ایک کونے کی جانب اٹھے۔کمبل ہٹایا اور پنجوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔وہاں ایک سرنگ تھی۔قتادہ نے خاموش نگاہوں سے سرنگ کو دیکھا پھر اگلے لمحے وہ اس اندھیری سرنگ میں گھس گیا۔
چند ثانیوں بعد ایک شور اٹھا ”سیل نمبر 50 کا قیدی بھاگ گیا ہے۔“ مشعلیں جل اٹھیں، اہلکار ادھر اُدھر دوڑنے لگے مگر سیل نمبر 50 کا قیدی پولیس اسٹیشن کے سائے سے دور کہیں اندھیرے میں غائب ہو چکا تھا۔

وہ انتقام کی آتش تھی میرے سینے میں

ملا نہ کوئی تو خود کو پچھاڑ آیا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جعفر بے چینی سے آفس کے کمرے میں ادھر اُدھر ٹہل رہا تھا۔ایک فون کال سے سارا سکون بے چینی کی وادیوں میں گم ہو چکا تھا۔
”قتادہ جیل سے بھاگ چکا ہے۔“جعفر چچا نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور سانس لینے کی کوشش کی۔گھڑی کی سوئیاں سست روی سے چل رہی تھیں، معنوں ہر گزرتا لمحہ جعفر چچا پر بوجھ بڑھاتا جا رہا ہو۔
انہوں نے پہلے موبائل کی سکرین کی جانب دیکھا پھر بے مقصد میز تک آئے، اور کاغذات کو الٹنے پلٹنے لگے۔
باہر راہداری میں کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی مگر انہوں نے دھیان نہ دیا۔
اچانک چڑچڑاہٹ سے دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔جعفر چچا چونک کر سیدھے ہوئے پھر وہیں جم گئے۔سامنے سوٹ بوٹ میں ایک وجیہہ شخص کھڑا تھا، لبوں پر پر اسرار مسکراہٹ کا بسیرا تھا اور آنکھیں سرد، برفانی……
”قتادہ…..“ان کے لبوں سے بمشکل نام آزاد ہوا۔
وہ چل کر میز تک آیا پھر سربراہی کرسی تک پہنچتے ایک اچنٹی نگاہ جعفر چچا پر ڈالی اور پوری شان سے کرسی پر براجمان ہو گیا۔دونوں ٹانگیں میز پر رکھ لیں، ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی اور سر کے نیچے دونوں ہاتھ رکھ کر پُرسکون سا ہو گیا۔
”تم……جیل سے بھاگے ہو۔میں ابھی پولیس……“الفاظ منہ میں ہی تھے جب ایک کرخت آواز نے ان کے کانوں میں صور پھونکی۔کوئی سایہ دروازے سے اندر داخل ہوا۔
”کریں آپ پولیس کو فون۔ایسے بہت سے راز ہیں جو پولیس نہیں جانتی۔“سیاہ کوٹ پہنے ایک شخص اندر داخل ہوا۔جعفر چچا ہونک بنے اسے دیکھتے رہے۔
”اب آپ میرا تعارف مانگے گے۔مجھے آپ مسٹر قتادہ کا ٹرانسلیٹر،وکیل یا پھر دوست…..جو مرضی سمجھ سکتے ہیں۔“اسد آرام سے صوفے پر آ بیٹھا۔ساتھ اس نے جعفر چچا کو بھی بیٹھنے کا کہا۔
”سر قتادہ پراپرٹی کے پیپرز پر سائن کرنے کو تیار ہیں۔آپ کو صرف ان کی بہن کے بارے میں بتانا ہے۔وہ کہاں ہے؟“
”قتادہ، میرا یقین کرو،میں کچھ نہیں جانتا۔سحر اغواء ہو گئی تھی اور اس کے بعد وہ کہاں گئی،میں نہیں جانتا۔“جعفر چچا نے بے چارگی سے قتادہ کی جانب دیکھا جو کہ آنکھیں بند کیے کہیں اور ہی پہنچا ہوا تھا۔
”مسٹر جعفر آپ کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا ہی ہو گا ورنہ ایسی بہت سی باتیں ہیں جو منظر عام پر لائی گیئں تو یقیناً بہت برا ہو گا۔“اسد نے پروفیشنل مگر نہایت سرد لہجے میں دھمکی دی تھی۔جعفر چچا کے چہرے کی رنگت زرد پڑنے لگی۔انہوں نے بے اختیار تھوک نگلی اور گردن پر ہاتھ پھیرا۔
”آپ کے پاس دو دن کا وقت ہے، اچھے سے سوچ لیجیے اور یہ فائل……“اسد نے فائل ان کے سامنے رکھی۔”اسے ضرور پڑھ لیجیے گا۔“اٹھا، کوٹ کا بٹن بند کیا اور قتادہ کی سمت بڑھا۔
”چلیں سر……“نہایت ادب سے کہا،قتادہ نے آنکھیں کھولیں، قہر آلود نگاہ اسد پر ڈالی،معنوں اسد اس کی نیند میں مخل ہوا ہو،پھر اٹھ کھڑا ہوا۔
دروازے سے پہلے قتادہ باہر نکلا پھر اسد…..جعفر نے فائل کے پہلے صفحے پر نگاہ ڈالی،وہ سانس نہیں لے سکے۔وہاں ان کے کالے کارناموں کی فہرست مرتب تھی۔
قتادہ اس بار پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا۔
لمبی راہداری میں وہ تیز تیز قدم آگے بڑھا رہا تھا جبکہ اسد اس کے ساتھ قدم ملانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔
”قتادہ،بات تو سنو۔“اس نے ہانپ کر کہا۔قتادہ کے قدم رکے،ماتھے کی تیوری چڑھی۔گردن کو ہلکا سا ترچھا کر کے اسد کو گھوری سے نوازا۔
”میرا مطلب ہے سر قتادہ……“اس کے ہم قدم کھڑے ہوتے اسد منمنایا۔
قتادہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پیچھے کھڑے ہونے کا کہا۔اسد فوراً ایک قدم پیچھے ہوا۔
”وہ غزوان آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔“
”میں نہیں کرنا چاہتا۔اسے کہو کہ مزید کسی بھی مدد کی کوئی ضرورت نہیں۔قتادہ خود سب دیکھ لے گا۔“اس نے اشاروں میں اپنی بات سمجھائی۔
”مگر غزوان…..“
”اسے کہو کہ اپنی ناکام محبت کا سوگ منائے۔میرے معاملات میں ٹانگ نہ اڑائے۔بہت اچھا کیا اس لڑکی نے جو اسے ریجیکٹ کر دیا۔وہ اسی قابل ہے۔“اپنی بات سمجھائی اور آگے بڑھ گیا۔اسد اس کے پیچھے لپکتا لفٹ تک آیا۔لفٹ میں پہلے قتادہ اور پھر اسد چڑھا۔قتادہ نے ماتھے پر بل ڈالے اسد کو سیڑھیوں کا راستہ دکھایا۔اسد نے معصوم صورت بنائے رحم کی التجاء کی مگر التجاء بری طرح رد کر دی گئی۔لہذا اسد کو سیڑھیوں کا رخ کرنا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے وقت سورج کی کرنوں نے بارسلونا شہر کو روشن کیا ہوا تھا۔لاونچ میں قانتہ سر جھکائے بیٹھی تھی جبکہ محمود یزدانی پشت پر ہاتھ باندھے غصے سے ادھر اُدھر چکر کاٹ رہے تھے۔مسز محمود پریشانی کی حالت میں دوسرے صوفے پر بیٹھی تھیں۔
”اس لیے آنا چاہتی تھی اسپین؟یہی حرکتیں کرنی تھیں؟“ان کی آواز اپنے تئیں بہت سخت تھی مگر قانِتہ کو نجانے کیوں ہنسی آ رہی تھی۔اس کی جھکی آنکھوں میں شرارت ہی شرارت تھی۔
”بتاؤ مجھے کون تھا وہ جس نے تمہیں ہریس کیا؟“
”ڈیڈ،میں نے سب سنبھال…..“
”قانِتہ،میں کیا پوچھ رہا ہوں؟“ان کے لہجے میں گرج تھی۔
”یہ اہم نہیں ہے۔میں نے ہینڈل کر لیا ہے،آپ بےفکر رہیں۔آئی ایم سوری! میری وجہ سے آپ لوگوں کو پریشانی ہوئی، دوبارہ ایسا نہیں ہو گا۔“
”کیا مطلب ہوا اس بات کا؟ہم تمہارے والدین ہیں،ہم پریشان نہ ہوں تو اور کون ہو گا؟“مسز یزدانی اس پر برسیں۔
”اچھا ٹھیک ہے،آپ لوگ مجھے دوپہر میں ڈانٹ لیجیے گا۔فلحال میں آفس سے لیٹ ہو رہی ہوں۔“وہ اپنا بیگ پکڑے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”خبردار،جو آفس کا نام بھی لیا تو……بس ختم سب، تم ہمارے ساتھ واپس دبئی جا رہی ہو۔“انہوں نے اپنا حتمی فیصلہ سنایا۔قانِتہ کے چہرے کا رنگ لمحہ بھر کو فق پڑا۔اس نے خود کو سنبھالا،پھر قدرے ناگواریت سے کہا۔
”یہ ٹیپیکل پیرنٹس والی باتیں نہ کریں ڈیڈ۔ریلیکس ہو جائیں،کوئی بچی نہیں ہوں میں۔واپسی پر بات کرتے ہیں۔“اپنی کہی اور تیزی سے باہر کی سمت بڑھ گئی۔محمود یزدانی صاحب افسوس سے سر جھٹک کر رہ گئے۔
ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی میٹینگ روم میں لیٹ پہنچی تھی۔سب کی ملامت بھری نگاہوں کو نظر انداز کر کے وہ خاموشی سے کرسی پر آ بیٹھی۔
”ہم اپنی ریسرچ کو وہیں سے شروع کریں گے،جہاں روکا تھا۔“ایک خاتون نے سلائیڈ چلائی۔
”ہم بات کر رہے تھے،کم عمری میں ماں بننے کی……یہ ہر جگہ ہوتا ہے۔بہت سی لڑکیاں کم عمری میں ماں بن جاتی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت پیچیدہ بھی ہے۔کم عمری میں کیونکہ جسم کی نشوونما ٹھیک سے نہیں ہو پاتی تو یہ بہت سی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔دس یا بارہ سالہ بچیاں جب ماں……“
”ایک سیکنڈ، آپ ہوش میں تو ہیں سینوریٹا؟دس، بارہ سال کی عمر میں conceive کرنا ممکن ہی نہیں ہے اور اس عمر میں کون سے والدین اپنی بچیوں کی شادیاں کرواتے ہیں؟“توقع کے عین مطابق سوال قانِتہ کی جانب سے ہی اُٹھایا گیا تھا۔سلائیڈز شو کرتی خاتون نے کھا جانے والی نگاہوں سے قانِتہ کی جانب دیکھا تھا۔وہ جان بوجھ کر دوسروں کو زچ کرتی تھی۔
”شاید آپ اس دنیا میں نہیں رہتیں سیوریٹا قانِتہ!“دانت پر دانت جمائے نہایت ضبط سے کہا گیا۔
”میں اس دنیا میں ہی رہتی ہوں مگر شاید آپ صدیوں پہلے جنگلات کے زمانے میں پہنچ چکی ہیں۔یہ اکیسویں صدی ہے، یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔“وہ پر اعتماد تھی۔
”اس دنیا کی سب سے پہلی لڑکی جو کم عمری میں ماں کے عہدے پر فائز ہوئی، اس کی عمر محض پانچ سال تھی۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوعمری میں لڑکیاں conceive کر سکتی ہیں مگر ہم یہاں ان لڑکیوں کی جسمانی نشوونما کی بات کر رہے ہیں۔ہر ایک کا جسمانی نظام الگ ہوتا ہے اور……“
”ہا ہا ہا“وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے قہقہے کو روک نہیں سکی تھی۔میٹنگ کا پروفیشنل ماحول عجیب سا ہو گیا تھا۔ہر ایک کی آنکھ اس پر جمی تھی اور وہ سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اپنی ہنسی دبانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
اس کے بعد وہی ہوا، جو ہونا چاہیے تھا۔وہ اپنے باس کے کمرے میں سر جھکائے کھڑی تھی اور اس کی کلاس جاری تھی۔
”آپ کا رویہ بہت غیر سنجیدہ ہے،آپ کو اس ٹیم سے باہر نکالا جاتا ہے۔آپ کوئی ڈاکومنٹری نہیں بنا رہیں،خاموشی سے آفس ورک کریں۔“وہ مسکین سی صورت بنائے دفتر سے باہر نکلی تھی۔آہستگی سے دروازہ بند کر کے وہ اب راہداری میں اگے قدم بڑھا رہی تھی۔لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔جو وہ چاہتی تھی،وہ ہو گیا تھا۔
تھوڑا آگے جا کر اس نے ایک دفتر کے شیشے میں ٹھہر کر اپنا عکس دیکھا۔خوبصورت چہرہ،روشن آنکھیں،پونی ٹیل میں جکڑے لمبے بال……
”قانِتہ یزدان ایک بار جو ٹھان لیتی ہے،وہ کر کے رہتی ہے۔نہیں جانا کسی تھرڈ کلاس ملک،تو نہیں جانا۔“گردن اکڑائی اور رعونت سے آگے بڑھ گئی۔

بہت غرور تھا سورج کو اپنی شدت پر

سو ایک پل ہی سہی بادلوں سے ہار گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چل کر آگے جا رہی تھی جب غزوان پہاڑ کی مانند اس کی راہ میں حائل ہوا۔قانِتہ کے حلق میں کڑواہٹ گھلی،چہرے پر ناگواریت پھیل گئی۔آخر یہ سدھرتا کیوں نہیں تھا؟
”تم سے ضروری بات کرنی ہے،ایک بار سن لو۔“اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی،شاید ندامت بھی۔قانِتہ نے کچھ سخت کہنے کے لیے لب کھولے مگر غزوان نے اسے روک دیا۔
”بس ایک آخری بار قانِتہ،اس کے بعد میں تمہیں کبھی پریشان نہیں کروں گا۔“قانِتہ نے ڈھیر ساری آکسیجن اندر اتاری اور غزوان کو آگے چلنے کے لیے کہا۔
قریبی ریسٹورنٹ کی کھڑکی کے پاس وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔قانِتہ کا کافی کا کپ ویسے ہی بھاپ اڑا رہا تھا۔اس نے ایک گھونٹ بھرنا بھی گوارا نہ کیا تھا جبکہ دوسری جانب غزوان بے مقصد جوس کے گلاس میں سٹرا گھما رہا تھا۔
”میرا یقین کرو،میں تمہیں اغواء نہیں کر رہا تھا۔میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔وہ بس ایک چھوٹا سا مذاق تھا،تم نے مجھ پر حملہ کر کے حساب برابر کر لیا۔“
”جب حساب برابر ہو گیا ہے تو اس ملاقات کا مقصد؟“
”ہسپتال میں جو ہوا،اس کے لیے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔نکاح اس طرح نہیں ہوتے،سمجھ گیا ہوں۔“
”تو اب میں جاؤں؟“اس نے آگے ہو کر سوالیہ ابرو ریز کی۔
”قانِتہ،کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتی؟“غزوان نے امید سے اس کی جانب دیکھا۔
”اگر میں معاف کر دوں تو کیا میرا پیچھا چھوڑ دو گے؟“
”یہ ہماری اس حوالے سے آخری ملاقات ہے۔اگر دوبارہ کبھی ملیں گے بھی تو پروفیشنلی طور پر…..معافی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔اس کا انحصار تم پر ہے۔چاہو تو معاف کر دو چاہو تو……“زرد اور نارنجی نرم روشنیاں ہر جانب پھیلی ہوئی تھیں، معنوں باہر کی ساری گہما گہمی کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہو۔
”میں تمہیں معاف نہیں کر سکتی۔تم نے مجھے disrespect کیا ہے۔غزوان تمہیں سمجھنا چاہیے کہ انکار کا مطلب انکار ہوتا ہے۔تم زبردستی نہیں کر سکتے۔“اب کی بار لہجہ تھوڑا نرم تھا۔غزوان نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
”میں سمجھ گیا ہوں۔میں تمہارے انکار کی عزت کرتا ہوں۔سوری ونس اگین، اگر گنجائش ہو تو معاف کر دینا۔“اس نے کوٹ کا بٹن بند کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
موبائل فون اٹھانے کے بعد وہ پلٹا پھر کسی احساس کے تحت وہ واپس گھوما۔
”میں نے تم سے جھوٹ کہا تھا قانِتہ،بستی میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی موجود ہے مگر تم سے زیادہ نہیں۔غزوان جہانزیب نے ایسا حسن نہ پاکستان میں دیکھا اور نہ اسپین میں۔اب یہ واقعی تمہارا حسن ہے یا میری آنکھوں پر بندھی تمہارے عشق کی پٹی،میں نہیں جانتا۔“اپنے دل کا حال کھول کر قانِتہ کے سامنے رکھا اور آگے چل دیا۔وہ لمحہ بھر کے لیے ساکت سی وہیں بیٹھی رہی پھر کڑواہٹ سے منہ بنایا اور سر جھٹکا۔
”فلرٹ نہ ہو تو……“اس کی رائے اب بھی وہی تھی۔اتنا آسان نہ تھا قانِتہ یزدان کے دل تک رسائی حاصل کرنا۔یقینا غزوان جہانزیب کو خاصی محنت کرنی پڑتی مگر وہ تو ہتھیار ڈال چکا تھا۔اس نے قانِتہ کے فیصلے کا احترم کیا تھا۔اپنی غلطی کو تسلیم کیا تھا۔اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر معافی مانگی تھی۔یہ ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ہر کسی کو وقت رہتے اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو معافی مانگنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔