61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 32)

وہ زمین پر دونوں گھٹنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔اس کی پشت دیوار سے ٹکی ہوئی تھی۔آنکھیں سرخ تھیں مگر ان میں آنسو کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔آنسو اب درد سہتے سہتے تھک چکے تھے۔اس کے اردگرد خاموشی تھی مگر اندر ایک شور برپا تھا۔ان کہے لفظوں کا،سوالوں کا اور وعدوں کا جو نبھائے نہیں گئے۔قتادہ نے اسے دھوکا دیا تھا۔وہ اور کر بھی کیا سکتا تھا؟آخر کمی ہی کیا تھی اس میں؟صرف بول ہی تو نہیں سکتا تھا۔پیسہ تو بہت تھا اس کے پاس۔پیسہ تو ہر عیب پر پردہ ڈال دیتا تھا۔غلطی تو اس کی تھی،اس نے کیوں پہرے داروں کی بات نہیں سنی؟اس نے کیوں انہیں ڈپٹ دیا۔

غانیہ نے موبائل کی سکرین پر جگمگاتی اپنی اور قتادہ کی تصویر دیکھی۔

”محبت کر کے چھوڑ دیتے مگر یوں ٹائم پاس تو نہ کرتے۔“اس نے فون بند کر کے گھٹنوں میں سر دے دیا۔زمین ٹھنڈی تھی مگر اس کے اندر کا خالی پن اس سے زیادہ سرد تھا۔اس کا دل بری طرح ٹوٹ چکا تھا۔بات محبت کی نہیں تھی،بات اعتماد کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے دوسرے پہر جہاں پہاڑوں میں رہنے والوں نے آنکھیں موند لی تھیں،وہیں اس سنسان سڑک پر کوئی پڑا کراہ رہا تھا۔وہ غانیہ سماک یوسفزئی تھی۔اس کی سانسیں مدھم مگر آنکھیں درخشاں تھیں۔

”چھوڑ کم بخت!“اختر کی ٹانگ اس نے سختی سے جکڑ رکھی تھی۔وہ زخمی تھی مگر حوصلے چٹانوں جیسے بلند تھے۔وہ کمزور تھی مگر پھر بھی آخری سانس تک لڑ رہی تھی۔”نہیں جانے دوں گیئں۔نہ اس تک اور نہ اس کے خوابوں تک۔“اختر نے دوسرے پیر سے اسے ٹھڈا مارا تھا۔کنٹینر آگے بڑھتا جا رہا تھا اور اختر کسی شکاری بھیڑیے کی طرح اس پر جھپٹنا چاہتا تھا مگر غانیہ کے فولادی ارادوں نے اسے روک رکھا تھا۔اختر نے کنٹینر کے ٹائر کو نشانہ بنا کر تین فائر کیے تھے مگر نشانہ چوک چکا تھا۔کنٹینر اب سڑک پر کہیں بھی نہیں تھا۔وہ نگاہوں سے اوجھل ہو چکا تھا۔

”تم بچ کر نہیں جا سکتی زخرف۔تم واپس آؤ گی۔تمہیں واپس آنا پڑے گا۔“اس کی خوفناک آواز پہاڑوں میں گونجی تھی۔پہاڑوں نے اس آواز کو قید کر لیا تھا۔

اختر نے بے رحمی سے تڑپتی غانیہ کی جانب دیکھا،اسے شدید غصہ آیا۔

اس نے چیختے ہوئے غانیہ کو لاتوں سے مارنا شروع کر دیا۔اس کی ٹانگ پر گولی لگی تھی،اس کے علاؤہ بھی اسے کئی زخم آئے تھے۔ہر وار پر غانیہ کا جسم جھٹکے سے لرزتا مگر اس کے ہاتھوں نے پھر بھی اختر کو نہ چھوڑا معنوں اسے خوف لاحق تھا کہ اس کے چھوڑنے پر وہ زخرف کو جا پکڑے گا۔

وہ پاگلوں کی طرح اس پر لاتیں برسا رہا تھا یہاں تک کہ سڑک پر خون پھیلتا گیا تھا۔سر سے خون کی لکیر بہہ کر نیچے کھائی کی سمت جا رہی تھی۔زندگی سے موت تک کی لکیر……

جب وہ تھک چکا تو اس نے پستول غانیہ پر تان لی۔پستول میں ایک ہی گولی بچی تھی اور اختر کی آنکھوں میں کوئی رحم نہ تھا۔

”تم اس ہی قابل ہو۔“اچانک ایک دھماکہ ہوا اور غانیہ کا جسم جھٹکا کھا کر ساکت ہو گیا۔اختر نے حقارت سے اسے دیکھا اور ایک آخری زوردار ٹھڈا مار کر آگے بڑھ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چار دن…..چار دن وہ ہوش اور بیہوشی کے درمیان جھولتی رہی تھی۔اس کے ذہن میں مختلف سوچیں چل رہی تھیں۔دھندلے خواب،آوازیں،چیخیں اور گولی کی آواز…..

وہ ایک جھٹکے سے بستر پر ذرا سا اچھلی پھر آنکھیں تھرتھرائیں معنوں روشنی کو چھو لینے کا حوصلہ کر رہی ہوں۔آنکھیں آہستہ آہستہ کھولیں تو سامنے کپڑے کی چھت تھی۔فضا میں لکڑی کے دھویں اور تیل کی بو پھیلی ہوئی تھی۔

اس کے جسم کا ہر حصہ بوجھل تھا معنوں وہ ایک جگہ فریز ہو چکی ہو۔اس نے ہونٹ ہلانے کی کوشش کی مگر آواز حلق میں ہی کہیں دم توڑ گئی۔تکلیف اور بےبسی سے آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے۔

”ہوش آ گیا ہے۔“ایک عورت کی جوش سے لبریز آواز خیمے میں گونجی۔غانیہ نے اٹھنے کی کوشش کی مگر درد کی شدید لہر پیٹ سے ہو کر جسم میں سرایت کر گئی۔اس کا ہاتھ بے اختیار پیٹ پر جا ٹھہرا جہاں کپڑا بندھا ہوا تھا۔

”گھبراؤ نہیں بیٹی،گولی نکال دی گئی ہے۔تم اب ٹھیک ہو۔“عورت نے نرمی سے اپنا ہاتھ اس کے ماتھے پر رکھ کر تسلی دی۔وہ واپس انہی خانہ بدوشوں کے کیمپوں تک پہنچ گئی تھی۔یہ وہی خاتون تھی جس کے توسط سے وہ لوگ ٹریکٹر میں بیٹھ کر سڑک تک گئے تھے۔غانیہ نے تھک کر آنکھیں موند لیں۔وہ زندہ تھی،یقین کرنا مشکل تھا۔اتنا سب سہنے کے بعد بھی وہ زندہ تھی۔اسے شدت سے سماک یاد آیا،پھر نوراں اور پھر زخرف……. لمحہ بھر کے لیے دل چاہا کہ واپس لوٹ جائے مگر پھر ارادہ ترک کر دیا۔اس بار اختر گولی مارتا تو سیدھا دل کے آر پار ہوتی اور پھر نوراں……نجانے اس کے ساتھ کیا کرتا۔اسے اب واپس نہیں جانا تھا۔جو دہلیز ایک بار پار کر لی سو کر لی۔نوراں اپنوں کے درمیان محفوظ ہو گی،اسے یقین تھا۔وہ واپس جاتی تو اس کی جان خطرے میں ڈال دیتی۔

یہ سب سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگی،اسے خبر تک نہ ہو سکی۔وہ درد سے کراہتے ہوئے نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی۔

چند دنوں بعد جب خطرہ کچھ کم ہوا تو خانہ بدوشوں نے اسے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔وہاں سے اس نے اپنی دوست سے رابطہ کیا جس کے پاس وہ لوگ جا رہے تھے۔اس کی دوست کی ماں ایک این جی او سے جڑ چکی تھی اور یہاں غانیہ سِماک یوسفزئی کو نہ صرف پناہ ملی بلکہ ایک نئی زندگی بھی مل گئی۔

اس ںے کئی بار واپس جانے کا سوچا مگر پھر ارادہ ترک کر دیا۔اس سب میں اسے ہزار بار زخرف کا خیال آیا۔وہ کم عمر تھی،معصوم تھی۔اپنی دوست کے توسط سے اس نے زخرف کو کھوجنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہی۔

زخرف فاطمہ کہاں تھی،یہ معمعہ کبھی حل نہ ہو سکا۔وہ زندہ بھی تھی یا نہیں،غانیہ یہ بھی نہیں جانتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اندھیرے میں دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔سر گھٹنوں میں دیا ہوا تھا۔

”تم سے کوئی ملنے آیا ہے غانیہ۔“اپنی دوست کی آواز پر وہ پہلے چونکی پھر ماتھے پر بل ڈالے،دیوار کا سہارا لے کر اٹھی۔

ایک کرائے کے چھوٹے سے گھر میں وہ تین لڑکیاں رہتی تھیں۔تینوں ہی سوشل ورکرز تھیں۔ان کا گھر اس این جی او کے توسط سے ہی چلتا تھا۔

وہ اپنا گھر نہیں بنا سکی تھی۔اپنا گھر بنانا آسان نہیں تھا۔

برآمدے تک جاتے جاتے وہ سوچ رہی تھی کہ آخر کون اس سے ملنے آ سکتا ہے۔ایک کرسی پر قتادہ کو بیٹھے دیکھ اس کا دماغ چکرا گیا۔وہ اب یہاں کیا لینے آیا تھا؟

”ان سے کہہ دو کہ تشریف لے جائیں۔مجھے کسی سے نہیں ملنا۔“اس نے اپنی دوست سے کہا اور غصے سے پلٹی،عین اس ہی وقت قتادہ پھرتی سے چل کر اس تک آیا اور دیوار بن کر راستے میں حائل ہو گیا۔

”میرا راستہ چھوڑیں۔“غانیہ نے دائیں جانب سے جانے کی کوشش کی،وہ دائیں جانب کھسک گیا۔وہ بائیں جاتی تو وہ بھی بائیں طرف جاتا۔اس کی دوست کھی کھی کرتی ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی۔

”یہ بس ایک غلط فہمی ہے۔“قتادہ نے اشاروں میں اسے سمجھانا چاہا۔

”میرا راستہ چھوڑیں۔“وہ دانت پیس کر گویا ہوئی۔

”تم چائے بنا لاؤ،بیٹھ کر بات کرتے ییں۔“غانیہ کا پارہ سوا نیزے پر چڑھ گیا۔اس کا دل ٹوٹا تھا اور موصوف کو چائے کی پڑی تھی۔

”گھر پر دودھ نہیں ہے۔“اس نے کھا جانے والی نگاہوں سے قتادہ کو گھورتے ہوئے کہا۔قتادہ لمحہ بھر کو ساکن ہو گیا،معنوں گہرا صدمہ پہنچا ہو پھر کچھ توقف کے بعد وہ آہستگی سے گویا ہوا۔”میں لے آؤں؟“آفر اچھی تھی مگر غلط وقت پر غلط انسان کو دی گئی تھی۔

”اس مہربانی کی کوئی ضرورت نہیں۔دروازہ اس طرف ہے۔“غانیہ نے تمام لحاظ ایک طرف رکھ کر نہایت برہمی سے کہا۔

”اچھا چائے رہنے دو۔“(دل پر پتھر رکھ کر کہا)”ہم بس بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں۔“اس نے گو کہ التجا کی۔غانیہ نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا پھر چارپائی پر آ کر بیٹھ گئی۔چہرے کی سختی ہنوز برقرار تھی۔

قتادہ خاموشی سے آ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔اس نے غانیہ کی آنکھوں میں جھانکا اور بات کا آغاز کیا۔

”منگیتر نہیں ہے وہ میری۔بچپن میں کہیں بات طے ہوئی تھی پھر انہوں نے خود رشتہ توڑ دیا تھا۔یہ کہہ کر کہ میں بول نہیں سکتا۔اب جب چچا سے ساری دولت واپس لے چکا ہوں اور میرے والد بھی زندہ نہیں رہے تو خاندان بھر کی لڑکیوں کو مجھ میں گہری دلچسپی ہو گئی ہے۔“غانیہ کے چہرے پر سختی چھائی رہی معنوں اس کے کہے ایک لفظ پر بھی یقین نہ ہو۔

”تم تو مجھے اچھی خاصی سمجھدار لگتی ہو۔اتنی جلدی کیسے کسی کی باتوں میں آ گئی؟“اب کی بار اس کے چہرے پر خفگی تھی۔غانیہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔

”لیکن وہ تو کہہ…..“

”کیا میری کہی بات پر یقین نہیں ہے تمہیں؟اگر نہیں ہے تو اسد سے پوچھ لو بلکہ تم غزوان سے بھی پوچھ سکتی ہو۔“وہ اس کے دوستوں کے متعلق جانتی تھی۔

”اس کی ضرورت نہیں۔“غانیہ نے آہستگی سے کہا اور نگاہیں چرا لیں۔قتادہ نے کرسی کا ہتھا بجا کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔

”پھر میں دودھ لے آؤں؟“وہ نہایت سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔غانیہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔اسے شاپنگ مال میں اس لڑکی کی بات پر رونا نہ آیا اور نہ گھر آ کر اس نے ایک آنسو بھی بہایا مگر اس وقت اس کا دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔اس کی جان کل سے سولی پر ٹنگی تھی۔اس کا دل بری طرح ٹوٹا تھا۔ماضی کی ساری اذیتیں،تکالیف اسے ٹھہر ٹھہر کر یاد آ رہی تھیں اور یہ شخص……اسے چائے پینی تھی۔یعنی چائے……اس کی آنکھیں پل میں بھر آئیں مگر اس نے ان آنسوؤں کو بہنے نہ دیا۔

اتنی دیر میں غانیہ کی دوست شربت لے کر ان تک آئی۔قتادہ نے مسکرا کر گلاس پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر اٹھا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔

”یہ شربت نہیں پیے گئے۔انہیں چائے بنا دو اور جب یہ موصوف چائے پی کر چلے جائیں تو دروازہ اچھے سے بند کر دینا۔“وہ کہہ کر اٹھی اور پیر پٹختی کمرے کی جانب چل دی۔قتادہ کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کس بات پر خفا ہوئی ہے۔ان کے درمیان صلح ہوئی بھی تھی یا نہیں۔اس نے ناسمجھی سے کندھے اچکا دیے۔

”خواتین کا دماغ ویسے ہی ٹیڑھا ہوتا ہے۔انہیں کون سمجھے؟“اس نے خود کو تسلی دی اور پھر مطمئن ہو گیا۔موڈ تو غانیہ کا خود ہی بگڑ گیا تھا،اس نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارسلونا کے گھر کا وہ حصہ جہاں خوشبوئیں حدیں باندھتی تھیں،کھلا ہوا تھا۔کچن میں برتنوں کی کھنک اور کھانوں کی مہک تھی۔

ڈائننگ میز جو کچن کے ساتھ جڑی ہوئی تھی،وہاں تین لوگوں کا دائرہ بنا ہوا تھا۔جہانزیب کسی کام سے شہر سے باہر گئے تھے لہٰذا وہ رات کے کھانے کا حصہ نہ تھے۔طیبہ کھانا لگانے کے بعد کرسی پر بیٹھ چکی تھیں۔غزوان اور قانِتہ پہلے سے وہاں موجود تھے۔قانِتہ کم ہی گھر کا کوئی کام کرتی تھی۔اس بات پر طیبہ یا غزوان نے کبھی کوئی اعتراض نہ اٹھایا تھا۔

”مورے طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی؟“طیبہ کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر غزوان نے کچھ تشویش سے پوچھا تھا۔

”ہاں،بس سر میں تھوڑا درد تھا۔“طیبہ نے پلیٹ اٹھاتے ہوئے ٹالنے والے انداز میں کہا۔

”پاپا کو مس کر رہی ہیں ناں؟ایک دن بھی نہیں رہ سکتی آپ ان کے بغیر۔“اس نے پشتو زبان میں پھلجڑی چھوڑی تھی۔طیبہ کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔

”ساتھ چلی جاتی نہ آپ ان کے۔دونوں گھوم پھر لیتے۔“طیبہ کی گھوری کا بھی اس نے اثر نہ لیا۔

”بہو کے سامنے اس بکواس کا مطلب؟“غصے میں ان کے منہ سے بھی پشتو ہی نکلی تھی۔مسئلہ اس کی بات اور انداز سے زیادہ قانِتہ کی موجودگی تھی۔

”اسے پشتو نہیں آتی۔“قانِتہ کے لبوں پر تبسم لہرایا مگر اس نے فوراً خود کو نارمل ظاہر کیا معنوں سچ میں اسے پشتو نہ آتی ہو۔

”سچ میں نہیں آتی؟“طیبہ نے یقین دہانی چاہی۔غزوان نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔وہ یہ کیسے بھول سکتی تھیں کہ قانِتہ پٹھان نہیں ہے اور نہ ہی اسے یہ زبان آتی ہے۔

”خچر،بےشرم،بے غیرت……“قانِتہ نے ہنسی چھپانے کے لیے بے اختیار گلاس منہ سے لگا لیا۔

”مورے…..“غزوان نے احتجاج کیا۔ٹھیک ہے اس کی بیوی کو پشتو نہیں آتی تھی مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ماں اسے گالیاں دے۔

”تم لوگوں کے گھومنے پھرنے کی عمر ہے۔لے کر جاؤ اپنی بیوی کو کہیں۔“طیبہ نے اسے جھڑکا۔

”ویسے بھی سارا دن دم چھلے کی طرح اس کے پیچھے گھومتے رہتے ہو۔کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں اسے؟نخرے تو ایسے دکھاتی ہے جیسے کہیں کی ملکہ ہو۔“قانِتہ نہایت پُرسکون انداز میں اپنا کھانا کھا رہی تھی معنوں کان پڑی آواز سنائی ہی نہ دے رہی ہو۔طیبہ لاکھ اچھی سہی مگر تھی تو ساس ہی۔اسے ویسے بھی کسی سے کوئی خاص امید نہیں تھی۔کم از کم طیبہ بیگم جان سے لاکھ درجہ اچھی تھی۔

”ویسے یہ بات میں پاپا سے بھی پوچھ سکتا ہوں۔“اس نے گو کہ جتایا تھا۔

”دماغ خراب کر دیا ہے اس لڑکی نے تمہارا۔ٹھکانے پر لگانا جانتی ہوں میں۔“قانِتہ نے پہلی بار نظر اٹھا کر طیبہ اور پھر غزوان کی سمت ناسمجھی سے دیکھا۔غزوان کی نگاہیں بھی اس سے ملیں۔وہ بدقت مسکرایا۔

”میں سوچ رہی تھی کہ پشتو سیکھ لوں۔“اس نے مدھم اور سریلی آواز میں مسکراتے ہوئے کہا۔

”ہاں ہاں کیوں نہیں۔میں سکھاؤں گا نہ تمہیں۔“غزوان کی بات پر وہ مسکرا کر رہ گئی۔وہ اسے کیا سکھاتا،قانِتہ اچھے سے جانتی تھی۔

جس دن گالی کے نام پر غزوان نے جو اسے بولنے کے لیے کہا تھا،قانِتہ صدمے سے گنگ رہ گئی تھی۔اس کا دل چاہا کہ تھپڑ کھینچ کر غزوان کے منہ پر مارے مگر پھر صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرانسلیٹر کا ڈرامہ رچایا جو کامیاب بھی ٹھہرا۔

”ویسے آنٹی کیا کہہ رہی تھیں؟“قانِتہ نے غزوان کی جانب جھک کر مدھم آواز میں پوچھا۔اگر وہ گالیاں دہرا دیتا تو کتنا ہی اچھا ہوتا۔وہ سوچ کر ہی محظوظ ہوئی تھی۔

”وہ کہہ رہی تھیں کہ خوش خبری کب سنا رہے ہو۔“ماں کو زچ کرنے کے بعد اب وہ اپنی بیوی کو زچ کر رہا تھا۔قانِتہ سر تا پیر سرخ ہوئی۔اسے غزوان سے کوئی اچھی امید نہیں تھی مگر کم از کم یہ امید بھی نہیں تھی۔

”میں نے کہہ دیا کہ اس کی فکر آپ مت کریں۔پانچ بچے ہوں گے ہمارے۔“قانِتہ خفت سے زمین میں گڑھتی چلی گئی۔اس نے شدت سے اس لمحے کو کوسا جب اس نے غزوان سے یہ سوال پوچھا تھا۔

”چلو چار سہی……“چند لمحوں بعد اس نے ایک بار پھر قانِتہ کے کان میں سرگوشی کی تھی۔طیبہ تو غصے سے بھپڑی اب کھانا کھانے میں مصروف تھیں جبکہ قانِتہ کی بھوک وہ اڑا چکا تھا۔

”اچھا تین…..اس سے کم نہیں ہوں گے۔“قانِتہ نے سختی سے آنکھیں میچیں۔رخسار دہک رہے تھے۔وہ بےباک تھا،وہ جانتی تھی مگر یوں اس طرح اپنی ماں کی موجودگی میں وہ ڈائننگ میز پر بیٹھ کر اس قسم کی باتیں کرے گا،یہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔حقیقتا وہ اس شخص کو ابھی جانتی ہی نہیں تھی۔وہ کبھی بھی کچھ بھی کہہ اور کر سکتا تھا۔

”اگر اب تم نے کچھ کہا تو یہ پلیٹ اٹھا کر تمہارے سر پر دے ماروں گیئں۔“دانت پیستے ہوئے اس نے مدھم مگر غصیلی آواز میں کہا۔صد شکر کہ طیبہ نے کچھ نہ سنا تھا یا سنا بھی تھا تو ان سنا کر دیا تھا۔

”جس ہاتھ سے پلیٹ اٹھاؤ گی،میں وہی ہاتھ چوم لوں گا۔“قانِتہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔یہ برداشت کی آخری حد تھی۔

”میں پانی لے کر آتی ہوں۔“اس نے بہانہ کیا اور تیزی سے کچن میں چلی گئی۔غزوان سر جھکا کر ہنس دیا۔قانِتہ کو زچ کرنا اس کا پسندیدہ کام بن گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارسلونا کی رات نے ایک خاموش کمبل کی طرح سارے شہر کو احاطہ میں لیا ہوا تھا۔کھڑکیوں کے شیشوں پر دھند کی ہلکی تہہ چڑھی ہوئی تھی۔گھر کے اندر معنوں ہر چیز گہری نیند سو چکی تھی۔قانِتہ نے آہستگی سے کروٹ بدلی،کسی انجانے احساس کے تحت اس کی آنکھ کھل گئی۔غزوان وہاں نہیں تھا۔وہ چونک کر اٹھ بیٹھی۔اسے چونکنے پر غزوان کی غیر موجودگی سے زیادہ اس کی آواز نے مجبور کیا تھا۔بالکنی سے کچھ آوازیں آ رہی تھیں۔آواز واضح نہ تھیں مگر اسے یقین تھا کہ وہ کسی سے فون پر بات کر رہا ہے۔رات کے اس پہر وہ کس سے فون پر بات کر سکتا تھا؟اس کی اندر کی مشرقی بیوی نے اسے لال سنگل دکھایا۔اس نے ٹھنڈے فرش پر قدم رکھے اور ننگے پیر خاموشی سے بالکنی کی جانب بڑھ گئی۔لیمپ کی مدھم روشنی فرش پر سائے ڈالنے لگی۔سلائڈنگ دروازہ کھلا تھا۔پردہ ہلکا سا ہل رہا تھا،ہوا سے یا شاید کسی انکشاف سے…….

”نہیں یار،ابھی طلاق کے پیپرز بنوانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اتنی جلدی کیا ہے؟ابھی تو صرف نیم رضامندی ظاہر کی ہے۔پہلے محبت ہونے دو پھر اقرار ہو گا اور اس کے بعد کہیں جا کر طلاق……“یہ آواز غزوان کی تھی مگر لہجہ اجنبی تھا۔قانِتہ کے پیر برف ہو گئے۔دل کی ڈھڑکن معنوں تھم گئی۔صرف کان ان جنجر نما الفاظ کو سیسے کی طرح اندر انڈیل رہے تھے۔

غزوان کی آواز جاری رہی۔بےنیاز،لاپرواہ آواز……

”اتنی محنت ایسے تھوڑی کی ہے۔صبر کرو یار،ابھی مزا نہیں آئے گا۔کچھ وقت اور دے دو،تم دیکھنا سب ویسا ہی ہو گا جیسا سوچا تھا۔یہ گھٹیا عورت اس ہی کے مستحق ہے۔جب عورت ایک تھپڑ مارے تو پلٹ کر تھپڑ نہ مارو بس اسے اندر سے مار دو۔وہاں لا کر چھوڑو جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔“وہ برجستگی سے پلٹی اور بستر کی سمت بڑھ گئی۔وہ نجانے اور کیا کیا کہہ رہا تھا مگر قانِتہ نے مزید کچھ نہ سنا۔لیمپ کے سائے اب خوفناک معلوم ہونے لگے تھے۔فرش اب دھوکہ اور فریب کے رنگوں سے رنگ چکا تھا۔

وہ خاموشی سے بستر پر آ کر بیٹھ گئی۔دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے اور سر جھکا لیا۔چند لمحے وہ ایسے ہی بیٹھی رہی پھر اچانک وہ ہنس دی۔اسے نہ شاک لگا،نہ غصہ آیا…..اسے بے اختیار ہنسی آئی تھی۔

وہ اسے دھوکہ دے رہا تھا۔او خدایا،وہ کتنا معصوم تھا۔اس نے ہنسی روکنے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔اس وقت اس کا دل چاہا کہ غزوان کے سینے سے لگ جائے۔اس کے ہاتھ چوم لے۔وہ اسے توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔اسے……جو طویل مسافت طے کر کے یہاں تک پہنچی تھی۔جو نفرتوں کی عادی تھی۔وہ کیسے سوچ سکتا تھا کہ ذرا سی محبت قانِتہ یزدان کو توڑ دے گی۔وہ چھوڑ دے گا تو قانِتہ یزدان خالی ہاتھ رہ جائے گی۔

قانِتہ نے سر اٹھایا اور چھت کی جانب دیکھا۔”یہ گھٹیا عورت اس ہی کے مستحق ہے۔“اسے ایک بار پھر ہنسی آئی۔محبت کے سارے دعوے جھوٹے نکلے۔وہ صرف اسے استعمال کر رہا تھا۔انتقام لے رہا تھا۔چلو آج یہ معمعہ بھی حل ہوا ورنہ شاید وہ یہ سوچ سوچ کر ہی پاگل ہو جاتی کہ آخر ”کوئی مرد اتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے؟“

اس نے تکیہ درست کیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔لبوں پر پراسرار مسکراہٹ رقصاں تھی۔وہ آج سکون کی نیند سو سکتی تھی۔قانِتہ نے آنکھیں بند کیں اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔غزوان کے ساتھ اب اسے کیا کرنا تھا،یہ وہ صبح سوچے گی۔وہ اب اتنا اہم بھی نہیں تھا کہ وہ ساری رات اس کے متعلق سوچتی رہتی۔

بند آنکھوں سے اس نے کروٹ بدلی۔کچھ الفاظ ہتھوڑے کی مانند ذہن پر بجے۔”گھٹیا عورت……“اسے ایک بار پھر ہنسی آئی۔پہلے سے زیادہ شدید……یہاں تک کہ آنکھوں میں پانی جمع ہو گیا مگر اس نے ان خوشی کے آنسوؤں کو بہنے نہ دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔