Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode06)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode06)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
یہ منظر بارسلونا کی ایک عمارت کا تھا۔JZ انٹرپرائزز کے ایک عالیشان دفتر میں غزوان سربراہی کرسی پر کچھ متفکر سا بیٹھا ہوا تھا۔دونوں ہاتھ میز پر باہم پیوست کیے وہ اپنے سیکریٹری کی بات سن رہا تھا۔پیچھے شیشے کی دیوار سے چھن کر دھوپ ٹکراتی واپس جا رہی تھی۔دیواروں پر قیمتی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔
”کیا تمہیں یقین ہے؟“ہر بار کی طرح ایک بار پھر وہی سوال دہرایا گیا تھا۔
”جی سنیور غزوان!“غزوان نے سانس بھری پھر چھوڑ دی، نڈھال سا کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔
”قتادہ کو پتا چلے گا تو آپے سے باہر ہو جائے گا۔وہ وہاں اس امید پر خاموش بیٹھا ہے کہ میں اس کی بہن کو ڈھونڈ لوں گا۔“غزوان نے پیشانی مسلتے نفی میں سر ہلایا۔ایک ہاتھ کرسی کے ہتھے پر اضطراب کی حالت میں گھمایا۔
”ایک بار پھر پاکستان میں پتا کرو۔ہو سکتا ہے کہ پولیس کو غلط فہمی ہو گئی ہو۔“
”یہ ممکن نہیں ہے سینیور غزوان،بچی کو اغواء ہوئے ایک عرصہ گزر گیا ہے۔اطلاع کے مطابق وہ اب زندہ نہیں ہے۔اتنا عرصہ کوئی کیسے زندہ رہ سکتا ہے اور وہ بھی صحیح سلامت؟“
”ہاں یہ تو ہے مگر قتادہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔اسے یقین ہے کہ اس کی بہن زندہ ہے۔اس کی خاموشی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ورنہ اس کے عتاب سے کوئی نہیں بچ سکتا۔“غزوان نے جھرجھری لی اور سیکرٹری کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔وہ سر ہلاتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔
••••••••••••••••
بارسلونا کے ایک مشہور اور کلاسیکل ریسٹورنٹ لاسارٹے کے قریب سے گزرتے ہوئے قانِتہ کے قدم رکے تھے۔وہ خریداری کے لیے قریبی مارکیٹ آئی تھی جب نگاہیں ریسٹورنٹ سے تھوڑے فاصلے پر ایک روتی ہوئی بچی پر جا رکی تھی۔حلیے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کوئی فقیر ہے۔اس نے بے اختیار قدم اس جانب بڑھائے تھے۔
”کیا ہوا؟“مقامی زبان میں اس نے روتی ہوئی بچی سے پوچھا۔
”میرا بریڈ…..میرا بریڈ گرا دیا۔“اس نے فاصلے سے سڑک کی جانب اشارہ کیا جہاں بریڈ کا ٹکڑا کچلی ہوئی حالت میں پڑا تھا۔لوگ اس پر سے گزرتے ہوئے آگے جا رہے تھے۔قانِتہ نے دکھ سے بچی کو دیکھا پھر یاسیت سے مسکرائی۔
”کھانا کھاؤ گی؟“اس کے کہنے پر بچی کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے تیزی سے اثبات میں سر ہلایا۔قانِتہ نے اس کی انگلی تھامی اور اسے ساتھ لے کر ریسٹورنٹ کی جانب بڑھ گئی۔
اندرونی حصہ سنہری روشنیوں سے منور تھا۔فرش پر عمدہ لکڑی کا کام،دیواروں پر فریمز اور میزوں پر جدید طرز کے سفید میز پوش دیکھنے میں بھلے معلوم ہوتے تھے۔
اس نے کونے میں ایک میز منتخب کی اور بچی کو لے کر وہاں بیٹھ گئی۔
آرڈر آنے کے بعد بچی رغبت سے کھانا کھانے لگی جبکہ قانِتہ ادھر اُدھر نگاہیں گھمانے لگی،ایک میز پر جا کر اس کی نظریں رکیں۔غزوان کسی کے ساتھ محو گفتگو تھا،اس نے دفعتاً بات کرتے دائیں جانب دیکھا اور نگاہ قانِتہ پر جا ٹھہری۔پھر ان نگاہوں نے ساتھ بیٹھی بچی کا جائزہ لیا اور ماتھا ایکدم ٹھنکا۔وہ اپنے ساتھی سے ایکسکیوز کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔اس کے قدم قانِتہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔قانِتہ نے ناگواریت سے رخ موڑا۔
”اسے عزت راس نہیں ہے۔“وہ بڑبڑائی،پھر بے چینی سے پہلو بدلا۔
”قانِتہ“غزوان نے اس کے قریب قدم روکتے فکرمندی سے اسے پکارا۔وہ غصے سے بپھرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”اپنی حد میں رہو۔تم اس طرح میرا پیچھا نہیں کر سکتے۔مجھے ہریس نہیں کر سکتے۔“تمام تر لحاظ بالائے طاق رکھے وہ چلا اٹھی تھی۔ریسٹورنٹ میں بیٹھے لوگ،بیرے ہر ایک کی نگاہیں اس میز پر جم گئی تھیں۔
”قانِتہ،میری بات سنو۔“اس نے کچھ کہنا چاہا مگر قانِتہ نے درشتی سے اس کی بات کاٹ دی۔
”مجھے تم جیسے گھٹیا انسان کی کوئی بات نہیں سننی۔جاؤ یہاں سے۔“سرخ دوڑیں غزوان کے چہرے پر مرکوز تھیں، چہرہ جلتی بھٹی میں دہکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
”قانِتہ،تم مجھے اس طرح انسلٹ نہیں کر سکتی۔“وہ ضبط کے آخری دہانے پر کھڑا تھا۔
”او شٹ اپ!جاؤ یہاں سے۔“
”تم میری بات…..“
”میں نے کہا کہ جاؤ۔“غزوان نے سرخ چہرے سے اسے دیکھا، پھر مٹھی بھینچ کر ایک گہری سانس لی اور وہاں سے چل دیا۔
قانِتہ نے خود کو ریلکس کیا اور کرسی پر بیٹھ گئی۔کچھ دیر میں ویٹر بل لے کر وہاں آیا۔قانِتہ نے بددلی سے اپنا بیگ اٹھانے کے لیے میز پر ہاتھ رکھا۔سانس اٹکی،چہرے کا رنگ تبدیل ہوا۔میز پر نہ بیگ تھا اور نہ موبائل۔اس نے بوکھلاتے ہوئے اردگرد دیکھا مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔نظر سامنے خالی کرسی کی جانب اٹھی، وہ خالی تھی۔ذہن میں ایک جھماکہ سا ہوا،گلے میں گلٹی ابھری۔
”یا اللہ!“اس نے سختی سے آنکھیں میچیں،خود کو کوسا پھر رحم طلب نگاہوں سے ویٹر کی جانب دیکھا۔عین اس ہی وقت عقب سے ایک آواز نمودار ہوئی،وہ کوئی اور بیڑا تھا۔
”ان کا بل ادا ہو چکا ہے۔“قانِتہ کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔ایک کرنٹ وجود میں آ کر گزرا۔
”اس کا بل ادا کر دیا تھا مگر کس نے؟“وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ ایک ورکر اس کے پاس آ کر رکا تھا۔
”میم ٹیکسی باہر آپ کا ویٹ کر رہی ہے۔آ جائیں۔“اسے دوسرا جھٹکا لگا تھا۔کچھ کہنے کے لیے لب کھولے پھر تذبذب کا شکار ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
”وہ کرایہ……“ٹیکسی تک پہنچتے اس نے ڈرائیور سے پوچھا تھا۔
”وہ ادا کر دیا گیا ہے۔“دل پر ایک گھونسا سا لگا تھا۔وہ اتنے سالوں سے بارسلونا میں مقیم تھی پھر بھی اس جال میں پھنس گئی تھی۔وہ بچی جان بوجھ کر وہاں کھڑی کی گئی تھی تا کہ مالدار لوگوں کو لوٹا جا سکے۔(افف!اس کی بیواقوفی)
”کتنا کچھ کہہ دیا غزوان کو۔“شاید وہ اسے یہی بتانا چاہ رہا تھا مگر اس نے سنا ہی نہیں۔شدید قسم کی شرمندگی نے اسے آ گھیرا۔اب وہ کیسے اس کا سامنا کرے گی؟اسے اپنا آپ شرمندگی کے سمندر میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔
کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اس نے پہلی بار غزوان کے بارے میں کچھ اچھا سوچنا شروع کیا تھا۔اتنی بےعزتی کے بعد بھی کیسے غزوان نے اس کی مدد کی۔کیسے اس کا بل ادا کیا،ٹیکسی کا کرایہ دیا۔بےاختیار لبوں پر مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی۔اس بات سے بے خبر کہ وہ کس راستے پر گامزن ہے، وہ بس غزوان کو سوچ رہی تھی۔
ہوش تب آیا جب ٹیکسی اپنی منزل کے قریب پہنچ چکی تھی۔ٹیکسی کی منزل قانِتہ کا گھر ہر گز نہیں تھا۔
”یہ…..یہ تم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو؟“اس نے گھبراتے ہوئے اردگرد نگاہیں دوڑائیں، بند دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔
”کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے؟“پوری شدت سے چلاتے ہوئے اس نے ڈرائیور سے پوچھا مگر عین اسی وقت گاڑی رکی اور کوئی دوسری طرف کا دروازہ کھولتے اس کے برابر آ بیٹھا۔وہ غزوان تھا۔
”بہت عزت سے کہہ رہا ہوں،خاموش بیٹھی رہو۔“اس کے لہجے میں بیک وقت نرمی اور سختی کا امتزاج تھا۔قانِتہ کو اپنی جان فنا ہوتی محسوس ہوئی۔
”تم…..تم کیا کرنے والے ہو؟“زبان فلحال سوچ کو ان ہی الفاظ میں ڈھال سکی،لہٰذا اس نے کہہ ڈالے۔
”تمہارے ساتھ ایک اچھا سا لنچ پری وَش، اس کے بعد ہم نکاح کریں گے۔“اس نے معنی خیزی سے اسے دیکھتے کہا۔قانِتہ کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا۔فضاء میں آکسیجن ختم ہوتی محسوس ہوئی۔غزوان کی پر تپاک نگاہیں اب بھی اس پر جمی تھیں۔اس کی اڑی ہوئی رنگت اسے اندر تک سکون پہنچا رہی تھی۔وہ بس اسے تنگ کر رہا تھا۔زبردستی نکاح کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہ تھا۔
”گاڑی روکو۔“غزوان نے اسے کہتے سنا۔وہ گہرے گہرے سانس لیتی بس بیہوش ہونے کے قریب تھی۔
”دروازہ کھولو۔“دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے اس کا تنفس بری طرح پھول چکا تھا۔چہرہ پسینے سے بھیگنے لگا اور ہاتھ کپکپانے لگے۔
”قانِتہ!“اس کی بگڑتی حالت دیکھ غزوان کے چہرے پر فکرمندی چھا گئی۔
”پلیز کھول دو۔میں نہیں بھاگوں گیئں۔مجھے سانس کا مسئلہ ہے۔پلیز!“وہ گہرے گہرے سانس لیتی اب رو رہی تھی۔آنسو کیا تھے؟وہ تو معنوں تیزاب کی بوندیں تھیں، جو سیدھا غزوان کے دل پر گری تھیں۔اسے اپنا آپ جلتا ہوا محسوس ہوا۔
”گاڑی روکو۔“سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ ڈرائیور پر چلایا۔
گاڑی سڑک کے کنارے روک دی گئی۔غزوان تیزی سے باہر نکلا، پھر اس نے قانِتہ کی سائیڈ کا دروازہ کھولا۔وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔
”قانِتہ، قانِتہ!“غزوان نے اسے جھنجھوڑا مگر وہ نیم بیہوشی کی حالت میں ایسے ہی لیٹی رہی۔
”یا اللہ!“غزوان نے پریشانی کی حالت میں پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔اس کا ذرا سا مذاق اسے اس قدر بھاری پڑے گا،یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
”پانی، پانی۔“وہ ابھی مکمل طور پر بیہوش نہیں ہوئی تھی۔غزوان تیزی سے اس کی جانب کا دروازہ چھوڑ کر فرنٹ سیٹ تک گیا۔ڈرائیور نے فوراً اسے پانی کی بوتل پکڑائی۔وہ مڑا،پھر ٹھٹھک کر رک گیا۔قانِتہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔
”ہم ابھی ہسپتال جائیں گے،تم ٹھیک……“وہ تشویش کن لہجے میں اس کی جانب بڑھا۔قانِتہ نے پھرتی سے چاقو آستین کی اندرونی جیب سے نکالا اور غزوان کے کندھے پر وار کیا،اسے دھکہ دیا اور وہاں سے بھاگ گئی۔وہ حیرت اور درد کے ملے جلے تاثرات سے اپنے خون آلود کندھے کی جانب دیکھنے لگا جہاں اب بھی چاقو پیوست تھا۔ڈرائیور کب باہر نکلا،وہ کب چلایا،قانِتہ کس سمت گئی،اس کی آنکھوں کے گرد کب اندھیرا چھایا،وہ سمجھ نہیں سکا۔
گرچہ تم تازہ گل گلشن رعنائی ہو
پھر بھی یہ عیب ہے اک تم میں کہ ہرجائی ہو
••••••••••••••
”میں نے رات ایک خواب دیکھا۔“وہ اس وقت غانیہ کے کمرے میں موجود اسے پرجوش سی اپنے خواب کے بارے میں بتا رہی تھی۔
”میں نے دیکھا کہ ایک Superman آ کر مجھے بچا لیتی ہے۔میری ایک سہیلی نے مجھے سپر مین کے بارے میں بتایا تھا۔ہمارے گھر میں تو ٹی وی نہیں مگر اس کے گھر تھا۔وہ کہتی ہے کہ سپر مین بہت طاقتور ہوتی ہے، وہ جب آتی ہے تو برے لوگوں کی پٹائی کرتی ہے اور مظلوموں کی مدد۔“
”سپر مین ہوتی نہیں ہوتا ہے۔“غانیہ کی ذرا سی تصدیق پر زخرف کے چہرے کا رنگ اڑا،سرمئی آنکھیں پھیل گئیں۔
”کیا مطلب؟“وہ صدمے سے چلا اٹھی تھی۔
”مطلب یہ کہ سپر مین کوئی عورت نہیں مرد ہوتا ہے۔“زخرف کی سانس اٹکی،منہ سارا کا سارا کھل گیا۔اگلے لمحہ وہ منہ بسور کر بیٹھ گئی۔
”ساری اچھی اچھی چیزیں لڑکے ہی ہوتے ہیں۔لڑکیاں کیا کچھ نہیں ہو سکتیں؟“اسے واقعی گہرا صدمہ پہنچا تھا۔جس سپر مین کی تعریف اس کی سہیلی کرتی تھی،وہ ایک آدمی تھا۔گہرا صدمہ تھا۔
”اگر سپر مین لڑکا ہوتا ہے تو پھر لڑکی کو کیا کہتے ہیں؟“ننھے دماغ نے ایک اور سوال بنا۔
”سپر وویمن یا پھر سپر گرل۔“سرمئی آنکھیں چمک اٹھیں۔ہونٹوں کے کنارے ذرا سے اوپر اٹھے اور لبوں پر پرتپاک مسکراہٹ کا بسیرا ہو گیا۔
”ایک دن نہ میری سپر وومین آئے گی اور مجھے یہاں سے کہیں دور لے جائے گی۔جہاں میں پیٹ بھر کر کھانا کھاؤں گیئں۔اسکول جاؤں گیئں۔کھیلوں گیئں اور مجھے کوئی نہیں مارے گا۔وہ میرا خیال رکھے گی۔“وہ خوش تھی،بے انتہا خوش۔ذہن آزاد پہاڑیوں پر دوڑنے کے خواب بننے لگا تھا۔
”کوئی کسی کے لیے نہیں آتا زخرف،اپنی زندگی کی سپر وومین تمہیں خود بننا ہو گا۔مارنے والا یا مرنے والا نہ بنو، زہر بن جاؤ۔خنجر بن جاؤ۔جنجر کو نہیں معلوم کہ کون مرا، کس نے مارا،کس کو سزا ملی اور کس کی دنیا اجڑی؟خنجر کو صرف اتنا پتا ہے کہ میں نے چلنا ہے،کاٹنا ہے چاہے سامنے کوئی سیب ہو یا پھر کسی کی گردن۔تمہاری طرح میں نے بھی بہت خواب دیکھے ہیں مگر میں زہر یا خنجر نہیں بن سکی۔اگر تمہیں موقع ملے تو ضرور بننا۔“وہ غانیہ کی ایک ایک بات کو ذہن میں محفوظ کر رہی تھی۔چاہے کچھ سمجھ آئے یا نہیں،وہ بس ان باتوں کو حفظ کر رہی تھی۔
سارے کام نمٹا کر وہ جب کمرے میں داخل ہوئی تو سِمَاک بستر پر چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔زخرف کو بیگم جان نے رات کے وقت کمرے میں سونے کی اجازت دے دی تھی۔ان کے اصل مقصد کے ماخذ کو جانے بغیر وہ اس بات پر بہت خوش تھی۔وہیں دوسری جانب سِمَاک پر بچے کا پریشر بڑھتا جا رہا تھا۔
زخرف خاموشی سے اپنی طرف آ کر لیٹ گئی تھی جبکہ سِمَاک مختلف سوچوں میں جکڑا ہوا تھا۔کبھی اپنی ماں کی کوئی بات یاد آ جاتی تو کبھی اپنے باپ کی،آخر میں شگوفہ کا کیا گیا انکار جو کسی بھاری لکڑی کی طرح اس کے سینے پر وزن ڈال رہا تھا۔
”میں اپنی دور کی خالہ کے پاس جا رہی ہوں سماک۔مجھے بھول جاؤ اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ۔اپنی بیوی کے ساتھ مخلص ہو جاؤ۔“اس نے گہری سانس لے کر کمرے میں گھلی سوگواریت کو اندر اتارا۔دل زخمی تھا،بےحد زخمی۔
”ایک بات پوچھوں آپ سے؟“گال کے نیچے ہاتھ رکھ کر زخرف نے اس کی جانب کروٹ لی۔
”پوچھو۔“سِمَاک نے نگاہیں اس کے پر شفاف چہرے پر جمائیں۔
”اگر ہم اپنا گھر کسی شہر میں بنا لیں اور وہاں ایک پیارا سا اسکول ہو اور میں روز یونیفارم پہن کر اسکول جاؤں تو؟“وہ بہت پرجوش انداز میں پوچھ رہی تھی۔سماک تاسف سے مسکرا دیا۔
”جو خواب تم دیکھ رہی ہو،ان کی کوئی تعبیر نہیں۔“بہت نرمی سے سمجھایا گیا تھا۔
”پھر بھی سوچنے میں کیا حرج ہے۔اگر میں اسکول گئی اور اول آئی تو آپ مجھے تحفے میں کیا دیں گے؟“سماک ایسے ہی چت لیٹا رہا،نگاہیں زخرف پر ٹھہری ہوئی تھیں۔چند لمحے خاموشی کی نذر ہوئے۔زخرف تجسّس بھری نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی، یہاں تک کہ سماک کے لب آہستگی سے ہلے۔
”اگر ایسا ممکن ہوا تو میں تحفے میں تمہیں آزادی دوں گا۔ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے۔بات صرف عمر کی نہیں ہے، بات سوچ کی ہے، بات پسند کی ہے۔مجھے تم پسند نہیں اور کبھی ہو بھی نہیں سکتی۔مجھے ایسی بیوی نہیں چاہیئے تھی۔“
”تو پھر آپ کو کیسی بیوی چاہیئے تھی؟“
”جو مجھے سمجھے۔میری ہم خیال ہو۔جس کے ساتھ میں اپنی مشکلات،اپنی خوشیاں بانٹ سکوں۔تمہاری تو سوچ بھی بچکانہ ہے۔تم اسکول اور پوزیشن کے بارے میں سوچ رہی ہو۔یہ غلط بھی نہیں ہے، تم اس عمر میں اور کیا سوچ سکتی ہو؟میں تم سے یہ توقع نہیں رکھوں گا کہ تم مجھے سمجھو اور نہ تم مجھ سے یہ توقع رکھنا۔میں تمہارے ساتھ تمہاری عمر کے مطابق برتاؤ نہیں کر سکتا۔“آنکھوں میں خواہشات کا مقبرہ تھا۔اس نے ہر قبر میں اپنی ایک ایک خواہش کو خود اپنے ہاتھوں سے دفن کیا تھا،کچھ اس طرح کہ کوئی امید باقی نہ رہے۔
زخرف ایسے ہی ناسمجھی سے اسے تکتی رہی۔کچھ باتیں سمجھ آتیں تو کچھ سر پر سے گزر جاتیں۔کچھ باتیں صحیح وقت پر ہی سمجھ آتی ہیں۔نہ اس کے پہلے،نہ بعد میں۔
”کیا تمہیں آزادی چاہیئے زخرف؟“
”ہاں،مجھے چاہیئے۔جب میں آزاد ہو جاؤں گیئں تو پھر آپ کی مورے مجھے ماریں گیئں تو نہیں نہ؟“
”پتا نہیں زخرف،لیکن ایک بات ہے،میں تمہیں آزاد نہیں کر سکوں گا۔اس قید کو اپنا مقدر سمجھو کیونکہ صرف تم قید نہیں ہو،میں بھی قید ہو۔ہم دونوں اس بندھن میں جکڑے ہوئے ہیں اور رہائی ممکن نہیں۔“زخرف نے اب اس کی کسی بات پر کان نہ دھرے تھے۔وہ اپنے خوابوں میں گم خود کو کبھی بکری کے بچے کے پیچھے دوڑتا ہوا تو کبھی یونیفارم میں ملبوس کلاس میں اول آتے دیکھ رہی تھی۔وہ خوابوں کی دنیا میں بےحد خوش تھی۔کس نے کہا کہ خواب دیکھنے کے لیے سونا ضروری ہے؟حقیقی خواب تو وہی ہوتے ہیں نہ جو جاگتے ہوئے دیکھے جائیں۔خوابوں کی تعبیر جو مرضی ہو،مگر آنکھیں سپنے تو بنتی ہیں ناں۔وہ بھی ریشم کے دھاگے سے سپنے بننے لگی تھی،تعبیر سے ناآشنا بس ایک کے بعد دوسرا خواب بن رہی تھی۔
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
••••••••••••••
وہ بکھری حالت میں جیسے گھر پہنچی تھی،یہ وہی جانتی تھی۔
”قانِتہ!“گرینی دروازے سے بےحال داخل ہوتی قانِتہ کو دیکھ چیخ اٹھی تھیں۔
”قانِتہ،کیا ہوا؟“وہ بھاگ کر اس تک آئی تھیں۔قانِتہ نے دھندلی نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“میں نے…..میں نے قتل کر دیا گرینی۔میں نے اسے مار دیا۔“دل معنوں پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار تھا۔حلق خشک جبکہ الفاظ گم ہوتے محسوس ہوئے۔
”بیٹا،کیا ہو گیا ہے؟چلو آؤ اندر آؤ۔“وہ اسے بمشکل سہارا دے کر اندر تک لے گئیں۔گرینی نے بچپن سے اسے پالا تھا۔اب جب اس نے اسپین میں رہنے کی فرمائش کی تھی تو انہیں بھی خیال رکھنے کے لیے ساتھ ہی بھیجا گیا تھا۔
”گرینی،فون، فون دیں۔ڈیڈ کو بلائیں پلیز!“گرینی نے اسے پانی پلانا چاہا مگر وہ بار بار فون کی ضد کر رہی تھی۔
لہٰذا گرینی نے اسے اپنا فون لا کر دیا۔قانِتہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے کال ملائی جو کہ پہلی ہی رنگ پر ریسیو کر لی گئی۔
”ہیلو ڈیڈ، ڈیڈ مجھ سے قتل ہو گیا۔میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔میں مارنا نہیں چاہتی تھی۔میں جیل نہیں جانا چاہتی۔پولیس مجھے پکڑ لے گی۔ڈیڈ،آپ پلیز آ جائیں۔پلیز آ جائیں۔“روتے روتے اس کی سانس اٹکنے لگی،پیر جم سے گئے گو کہ جسم میں خون نے سرایت کرنا چھوڑ دی ہو۔
”کیا کہہ رہی ہو بیٹا؟اچھا، اس طرح مت رو۔میں آ رہا ہوں اپنی بیٹی کے پاس۔گرینی کو فون دو۔“اس نے جھٹ سے فون گرینی کو پکڑایا اور سر ہاتھوں میں گرائے سسکتی رہی۔اس نے یہ سب اپنے آپ کو بچانے کے لیے کیا تھا۔وہ غزوان کو مارنا نہیں چاہتی تھی۔وہ اس کی جان نہیں لینا چاہتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نجانے کب سے اضطراب کی حالت میں چکر لگا رہی تھی۔اگلا دن چڑھ گیا تھا مگر نہ غزوان کی کوئی خبر تھی اور نہ ہی ابھی تک پولیس نے اس کے گھر کا رخ کیا تھا۔
اس کے ڈیڈ نے اسے سکون سے گھر میں رہنے کی تلقین کی تھی مگر صبر کرنا محال تھا۔
خوف کے مارے اس کے ہاتھ پیر پھول رہے تھے۔دفعتا فون کی گھنٹی بجنے پر وہ اچھلی تھی۔اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھایا،نمبر دیکھ کر جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔غزوان اسے کال کر رہا تھا۔یعنی وہ زندہ تھا۔
اس نے بغیر سوچے سمجھے کال ریسیو کی۔
”غ…..غزوان……“گھٹی گھٹی سی آواز میں اسے پکارا۔
”ہمم! غزوان بات کر رہا ہوں۔وہی غزوان جسے تم نے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔“قانِتہ کی آنکھوں سے موتی بہہ نکلے۔دل میں ایک سکون سا اترا،صد شکر کہ وہ زندہ تھا۔
”سینوریٹا،پولیس مجھ سے تفتیش کر رہی ہے،ظاہر ہے میں ایک بڑے باپ کا بیٹا ہوں۔ابھی تک تمہارا نام نہیں لیا،کیا لے لوں؟“سپیکر سے ابھرتی گھمبیر اور سخت آواز نے قانِتہ کو اندر تک لرزا دیا۔
”نہیں،پلیز نہیں۔“اس نے فوراً کہا۔
”تمہارے پاس دو آپشنز ہیں۔پہلا جیل میں چکی پیسو، ایک گواہ موجود ہے میرے پاس اور دوسرا……“اس نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا۔
”دوسرا؟“قانِتہ کی بے چینی سے وہ کافی محظوظ ہوا۔
”ہسپتال میں مجھ سے ملنے آؤ۔قاضی اور چار گواہوں کا انتظام میں نے کر رکھا ہے۔نکاح کرو اور میرے ساتھ عزت سے گھر چلو۔اپنے زخمی شوہر کی تیمارداری کرو اور ثواب کماؤ۔“بہت آرام سے وہ قانِتہ کو اندر تک جھلسلا گیا تھا۔سارا خوف پل بھر میں غائب ہوا،غصہ غالب آیا۔
”میں مر کر بھی تم سے نکاح نہیں کروں گیئں۔“دانت پیس کر گویا ہوئی۔
”تو مر کر نکاح کرنے کو کس نے کہا ہے گلابے؟جیتے جی کریں گے ناں،وہ بھی ہسپتال میں۔“
”میں نہیں کروں گیئں۔“
”لوکیشن بھیج رہا ہوں۔آدھے گھنٹے میں تم یہاں نہیں پہنچی تو پھر پولیس تمہارے گھر پہنچ جائے گی۔“اپنی کہی اور کال کاٹ دی۔قانِتہ گنگ سی موبائل کی تاریک سکرین کو گھورتی رہی۔وہ اسے بلیک میل کر رہا تھا اور وہ ہو بھی گئی تھی۔
”نکاح یا جیل؟“دل اور دماغ جنگ لڑنے لگے۔
”نکاح ٹھیک ہے،بعد میں طلاق لے لوں گیئں۔“بس فیصلہ ہو گیا تھا۔اس نے جیل جانے پر نکاح کو ترجیح دی تھی۔گرینی اور اپنے والد کی باتوں اور ہدایات کو نظر انداز کرتے وہ اب ہسپتال کے لیے روانہ ہو رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
