61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 30)

گاڑی سڑک کے سنسان حصے پر کھڑی تھی۔اردگرد کی روشنیاں مدھم تھیں اور شیشوں پر باہر کی دنیا کی جھلک دھندلی سی تھی۔
”یہ لیجیے میڈم،آپ کی چائے۔“ڈرائیورنگ سیٹ پر بیٹھتے قتادہ نے مسکرا کر اسے کپ تھمایا تھا۔غانیہ نے مسکرا کر کپ تھاما اور سامنے سڑک پر نگاہیں جما لیں۔
”ایک بات پوچھوں تم سے؟“چند ثانیوں بعد قتادہ کے سوال پر وہ پہلے چونکی پھر مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
”تم اپنی بہن سے ملنے کیوں نہیں جاتی؟“غانیہ کی آواز کہیں کھو گئی معنوں کسی نے زور سے گلا دبایا ہو۔چہرے کا رنگ فق پڑ گیا۔دل پر لگا زخم جو وہ سالوں سے سل رہی تھی وہ قتادہ کی ایک بات سے پھٹ گیا تھا۔
”آئی ایم سوری اگر تمہیں برا لگا ہو تو…..“قتادہ نے فوراً معذرت کی۔”میرا مقصد تمہیں دکھ پہنچانا……“
”وہ وہاں خوش ہو گی۔مجھے یقین ہے۔“اس کے لب آہستگی سے ہلے۔آواز کمزور تھی معنوں اپنے بیان پر خود یقین نہ ہو۔
”پھر بھی تمہیں ایک بار تو اپنی فیملی سے ملنے جانا چاہیے۔“اس نے ایک بار پھر اصرار کیا تھا۔
”کون سی فیملی…..؟ہمارے یہاں بندوقیں پہلے چلتی ہیں،گناہ بعد میں پوچھا جاتا ہے۔ساری بستی میں مشہور ہوں گی میں۔مائیں اپنی بیٹیوں کو میرے جیسا نہ بننے کی نصیحت کرتی ہوں گیئں مگر بات کی شروعات اور اختتام گالی سے کرتی ہوں گیئں۔“وہ عجیب طرز سے ہنسی تھی۔اس کی آنکھوں سے پانی کا ایک قطرہ گرا معنوں درد کا ایک قطرہ آنکھ کے رستے خاموشی سے بہہ نکلا ہو۔
اس کی بات سن کر قتادہ کے اردگرد کی فضاء ساکت ہو گئی۔اس کی چلتی سانسیں رک سی گئیں معنوں وقت نے اس کے ساتھ سانس لینا چھوڑ دیا ہو۔
”میں…..میں ساتھ چلوں گا۔دیکھتا ہوں کوئی کیسے آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے تمہاری طرف۔“وہ نم آنکھوں سے ہنس دی تھی پھر ہنستے ہنستے نفی میں سر ہلایا۔
”یعنی میرے ساتھ اپنی قبر بھی بنوانا چاہتے ہیں۔“
”تم ڈر پوک لگتی تو نہیں ہو۔“
”کیوں نہیں لگتی؟انسان ہوں اور انسان زندگی میں کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی ڈرتا ضرور ہے۔اپنے لیے ڈر نہیں لگتا بس اپنی بہن کے لیے لگتا ہے۔میں نہیں چاہتی کہ وہاں جاؤں اور کوئی میری بہن کو میرے نام کے طعنے دے۔“
”تو اسے اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔کہو گی تو اغواء کروا لوں گا۔“غانیہ نے آنکھیں کھولے حیرت سے اسے دیکھا معنوں اس کی بات پر یقین نہ آیا ہو۔یہ کون سا روپ تھا؟کم از کم وہ اس سے واقف نہ تھی۔
”میرا مطلب ہے کہ ہم دونوں جا کر اسے اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔پولیس کی بھی مدد لے سکتے ہیں۔“قتادہ نے فوراً وضاحتی بیان دیا مبادا وہ بددل نہ ہو جائے۔
”اس کی ضرورت نہیں ہے۔میں اسے اپنے ساتھ نہیں لانا چاہتی۔اسے اپنوں کے درمیان رہنا چاہیے۔مجھے یقین ہے،نادر نیکه نے اسے سینے سے لگا کر رکھا ہو گا۔آپ کو پتا ہے وہ بیگم جان سے چھپ چھپ کر مجھے چیزیں لا کر دیتے تھے۔اچھے انسان ہیں وہ۔بابا صاحب کے جانے کے بعد تو وہ نوراں کی ڈھال بن گئے ہوں گے۔بیگم جان کچھ کہتی ہوں گیئں تو فوراً جھڑک دیتے ہوں گے بلکہ بیگم جان بھی کچھ کیوں کہتی ہوں گیئں؟ہو سکتا ہے انہیں بھی نوراں سے پیار ہو گیا ہو۔“وہ بہت پرجوش انداز میں ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے قتادہ کو اپنے خاندان کے بارے میں بتا رہی تھی اور وہ مدھم مسکراہٹ لبوں پر سجائے بغور اسے سن اور دیکھ رہا تھا۔نہایت فرصت سے،نہایت اپنائیت سے……
”بیگم جان میری مورے کو بہت طعنے دیتی تھیں کہ بیٹا پیدا کیوں نہیں کیا۔بابا صاحب کو بار بار کہتی تھیں کہ دوسری شادی کر لو۔یہاں تک کہ مورے نے تنگ آ کر ایک دفعہ خود ہی کہہ دیا کہ کر لو دوسری شادی……بابا صاحب نے انکار کر دیا۔کہنے لگے کہ آخری سانس تک وفا کروں گا اور انہوں نے کی۔مورے کے انتقال تک دوسری شادی نہیں کی۔“اس کی آواز بھیگ گئی۔آنکھوں کے کنارے بہت سا پانی جمع ہونے لگا۔غانیہ نے ڈھیروں پانی اندر اتارا۔وہ قتادہ کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔
”پھر کیا ہوا؟“اس کے لمبے توقف کی وجہ سے اسے پوچھنا پڑا۔
”پھر سب الٹ گیا۔مجھے پتا تھا کہ بابا صاحب مورے کے انتقال کے بعد شگوفہ سے نکاح کر لیں گے۔مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ماں کا درجہ نہ سہی مگر بابا صاحب کی بیوی کا درجہ ضرور دیتی اسے لیکن پھر زخرف بیچ میں آ گئی۔اس کی تو وہاں کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔وہ مس میسجڈ تھی۔بابا صاحب کی شگوفہ سے شادی غلط نہیں تھی لیکن زخرف سے شادی بہت غلط فیصلہ تھا۔یہاں انہوں نے زیادتی کی۔ایک دفعہ تو میں نے کہہ دیا کہ زخرف کو آزاد کر دیں بابا صاحب۔اسے جانے دیں۔کہنے لگے کہ کہاں جائے گی؟تمہیں لگتا ہے غانیہ،وہ کہیں جا سکتی ہے؟ٹھیک کہا تھا انہوں نے،اس کا کوئی نہیں تھا۔نجانے کہاں ہو گی؟بیواقوف اور معصوم ہے وہ۔پتا نہیں سروائیو کر بھی سکی ہو گی یا نہیں۔“اس نے تھکان سے چور پشت سے ٹیک لگا لی تھی۔ ہاتھ میں پکڑی چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔اس کی آواز میں ایک درد تھا،ایسا دکھ جس میں نہ آہ تھی اور نہ فریاد…..وہ مضبوط تھی اور مضبوط انسان ہر حال میں خود کو تھامے رکھتے ہیں۔اس نے اپنے آپ کو تھام رکھا تھا۔اپنے خون رستے دل کو ڈپٹ کر سمجھا رکھا تھا۔
”اگر تم سروائیو کر گئی ہو تو یقیناً اس نے بھی کر لیا ہو گا۔“
”وہ میرے جیسی نہیں ہے۔“وہ دو بدو کہہ اٹھی تھی۔
”تمہاری طرح بہادر؟“
”نہیں،بہادر تو وہ ہے،مجھ سے زیادہ ہے بس اسے لوگوں کو پرکھنے کا ہنر نہیں ہے۔غلط انسان کو صحیح سمجھ بیٹھتی ہے اور صحیح کو غلط۔پتا نہیں کہاں ہو گی۔ہو گی بھی یا……“
”خود کو اذیت مت دو غانیہ۔تم جتنا کر سکتی تھی تم نے کیا۔اب بھول جاؤ ماضی کو۔چلو اپنا گھر تعمیر کرتے ہیں۔نئی دنیا بساتے ہیں۔بتاؤ پھر شادی کرو گی مجھ سے؟“وہ نرم مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے استفسار کر رہا تھا۔غانیہ نے ٹھہر کر اسے دیکھا۔اس کا چہرہ سرخ پڑا پھر اس نے نگاہیں کھڑکی سے باہر مرکوز کر لیں۔قتادہ کے پور پور میں سکون اتر گیا۔وہ مان گئی تھی۔بالاخر وہ مان ہی گئی تھی۔
”لیکن شادی کے بعد میں پہاڑ سر ضرور کروں گیئں۔“اس نے گردن موڑ کر اسے یقین دہانی کروائی تھی۔
”یہ شادی کے بعد دیکھیں گے۔“اس نے سوچا تھا۔وہ فلحال یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ تمہاری خواہش بیواقوفانہ ہے۔وہ اسے ناراض نہیں کر سکتا تھا۔شادی کے بعد تو بہت کچھ بدل جاتا ہے۔لڑکیاں سمجھوتہ کر لیتی ہیں۔اسے یقین تھا کہ غانیہ بھی کر لے گی۔اسکائی ڈائیونگ ایک ایڈوینچر تھا،زندگی میں ایک بار اسے کرنے میں کوئی حرج نہ تھی مگر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنا سراسر بیواقوفی تھی۔اسے بیوی چاہیئے تھی جس کے ساتھ وہ گھر تعمیر کر سکے۔ایسی کسی خواہش کی ان کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں تھی۔
”ویسے تم چاہتی تو بہت سال پہلے اپنا شوق پورا کر سکتی تھی۔کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی پھر کیوں نہیں کیا؟یہ مت کہنا کہ ڈر لگتا تھا۔میں یقین نہیں کروں گا۔“وہ مدھم مسکرائی پھر گہری سانس لے کر سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔گردن کو ہلکا سا خم دے کر قتادہ کی جانب دیکھا۔
”سنا ہے کہ خواب جب پورے ہو جائیں تو تعبیر بدل جاتی ہے۔میں نہیں چاہتی تھی کہ تعبیر بدل جائے۔کچھ خواب ادھورے بھی تو رہنے چاہیئے ناں۔“
”پھر میرے کہنے پر کیوں پورا کیا اپنا خواب؟“
”آپ جانتے ہیں قتادہ،میں نے اپنے دل پر ہزار پہرے بٹھائے تھے۔ڈپٹ کر سمجھایا تھا کہ خبردار جو کسی سے محبت کی۔تمہیں یہ حق نہیں ہے غانیہ، مگر جب محبت ہوئی تو سارے پہرے داروں کو خود بھگا دیا۔حکم دیا کہ اب چلے جاؤ یہاں سے،غانیہ یوسفزئی نے فیصلہ بدل لیا ہے۔آپ جانتے ہیں پہرہ داروں نے کیا کہا؟“
”کیا کہا؟“وہ نہایت دلجمعی اور دلچسپی سے اسے سن رہا تھا۔
”کہنے لگے کہ تمہیں محبت کرنے کا حق نہیں ہے غانیہ۔ایک بار پھر سوچ لو۔“اس نے گردن سیدھی کر کے اب سامنے دیکھا۔
”پھر تم نے کیا کہا؟“وہ جاننا چاہتا تھا۔اسے یقیناً یہ سننا تھا۔
”میں نے کہہ دیا کہ چلو بھاگ جاؤ یہاں سے۔میں خودمختار ہوں۔اپنے فیصلے خود لے سکتی ہوں۔“وہ گردن جھکا کر ہنس دیا پھر نگاہیں اٹھا کر غانیہ کی جانب دیکھا۔رشک سے،اپنائیت سے،محبت سے،احترام سے……یہ اس کی قسمت تھی تو پھر وہ کیوں رشک نہ کرتا۔اس کی بیوی کو ایسا ہی ہونا چاہیئے۔نڈر،بہادر،خوبصورت اور ذہین……
”سارے پہرے ہٹا کر آپ پر بھروسہ کیا ہے قتادہ،کبھی بھی میرا بھروسہ مت توڑیں گا۔کبھی کوئی جھوٹ مت بولیں گا۔“وہ بہت مان سے کہہ رہی تھی۔بہت امید سے…… بھروسہ توٹتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے۔وہ اس تکلیف سے نہیں گزرنا چاہتی تھی۔
”کبھی نہیں توڑوں گا۔“وہ اسے امید دلا رہا تھا۔اعتماد دے رہا تھا۔وہ اس کے کہے پر ایمان لے آئی تھی۔
”چائے تو ٹھنڈی ہو گئی۔میں اور لے کر آتا ہوں بلکہ چھوڑو،یہاں کی چائے اچھی نہیں ہے۔ایک ڈھابہ ہے،وہاں چلتے ہیں۔کیا کمال چائے ملتی ہے وہاں پر۔“
”ڈھابہ…..؟“وہ حیران ہوئی تھی۔
”میری ڈریسنگ یا گاڑی سے متاثر مت ہونا۔میں نیا نیا امیر ہوا ہوں۔ساری زندگی سڑکوں پر ہی گزاری ہے۔“اس نے کہتے ساتھ ہی گاڑی سٹارٹ کر دی تھی۔
وہ سارا دن ساتھ رہے تھے۔چائے کے بعد مووی اور مووی کے بعد وہ اسے شاپنگ پر لے کر گیا تھا۔قتادہ کی دی ہوئی رنگ غانیہ ہمیشہ پہن کر رکھتی تھی۔غانیہ نے اس انگوٹھی کو منگنی کی انگوٹھی سمجھ کر قبول کیا تھا۔
شاپنگ کرنے کے بعد وہ دونوں مال سے باہر نکل رہے تھے جب ان کا ٹکراؤ ایک لڑکی سے ہوا تھا۔
”ہائے قتادہ…..کیسے ہو؟“وہ ایک ماڈرن لڑکی تھی جو کہتے ساتھ ہی فورا قتادہ کے گلے لگی تھی۔غانیہ کیا قتادہ خود ہکا بکا رہ گیا تھا۔
”او ہنی،کہاں ہوتے ہو تم آجکل؟“وہ اس کے قریب کھڑی نہایت پر تکلف انداز میں کہہ رہی تھی۔وہ قتادہ کی کزن تھی۔وہ مشکل ہی اسے پہچان سکا تھا۔
”کون ہے یہ؟“سوال کرنے والی غانیہ تھی۔
”میں قتادہ کی منگیتر ہوں۔بچپن میں ہماری بات طے ہوئی تھی مگر کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔اس لیے قتادہ آجکل مجھے جیلس کرنے کے لیے کسی اور لڑکی کے ساتھ گھوم پھر رہا ہے۔غصہ تھوک بھی دو نہ اب ڈارلنگ۔“اس نے نہایت بے باکی سے قتادہ کے بازو میں بازو ڈالا تھا۔غانیہ کے ہاتھ میں پکڑے پیکٹس گر گئے تھے۔اس نے بے یقینی سے قتادہ کی جانب دیکھا،آنکھوں میں نمی تھی اور نمی میں کرچیاں،یقین ٹوٹنے کی کرچیاں……
قتادہ نے نفی میں سر ہلاتے وضاحت دینی چاہی مگر غانیہ فوراً وہاں سے چلی گئی۔وہ اپنا بازو چھراتا اس کے پیچھے گیا تھا مگر وہ جا چکی تھی۔
پارکنگ ایریا تک پہنچتے قتادہ کا کسی سے ٹکراؤ ہوا تھا۔وہ اتفاقاً یا بد قسمتی سے اسد تھا۔
”ارے باس،آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ہمم!بھابھی کے ساتھ آئے ہیں ناں؟“اس نے انگلی اٹھا کر نہایت دوستانہ اور شریر لہجے میں پوچھا۔جوابا قتادہ نے اس کی انگلی پکڑ کر زور سے دبائی اور ساتھ ایک مکا اس کے منہ پر جڑا اور آگے چلتا بنا۔
اسد کو سمجھ نہ آئی کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔بس اسے اپنے گرد ستارے گھومتے دکھائی دینے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشنی سے لبریز گھر کے کچن کے ساتھ جڑی لانڈری روم میں ڈٹرجنٹ کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔کونے میں لگی سفید رنگ کی واشنگ مشین کی گھومتی ہوئی ڈرم سے ہلکی ہلکی گھرگھراہٹ سنائی دے رہی تھی۔بارسلونا کی شام نے کھڑکی سے اندر جھانکا تو آستینیں چڑھائے غزوان جہانزیب کو ایک ایک کپڑا نہایت احتیاط سے مشین میں ڈالتے ہوئے پایا۔نارنجی روشنی میں بھیگا آسمان اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیا۔اس کے چہرے پر دنیا جہان کی بیزاری تھی۔وہ منہ میں کچھ بڑبڑاتا اور کپڑے مشین میں ڈالتا جاتا۔
”اس دن پر لعنت جب میں نے جھاڑو لگایا۔“اس نے کوفت سے مشین کا بٹن دبایا اور ہاتھ باندھ کر کھڑکی کے پاس آ کھڑا ہوا۔اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو دو کبوتروں کو ساتھ والی بلڈنگ کی چھت پر بیٹھا پایا۔ایک کبوتر آہستہ آہستہ آگے چل رہا تھا جبکہ دوسرا اس کے پیچھے۔کبوتر تھوڑا آگے جاتا تو پچھلا کبوتر اس کے قدموں کی پیروی کرتے ہوئے اس کے پیچھے……یہاں تک کہ پیچھے آنے والے کبوتر نے چونچ آہستگی سے دوسرے کبوتر کے سر پر ماری(مبادا منانے کی کوشش کی ہو)دوسرے کبوتر نے ایک دم سے پر پھیلائے اور اس کبوتر پر جھپٹ پڑا۔یہاں تک کہ وہ سہم کر بری طرح پیچھے دبکا۔
اسے بے اختیار ہنسی آئی۔وہ پورے وثوق سے بتا سکتا تھا کہ کبوتر کون ہے اور کبوتری کون……اس کے ساتھ کچھ انوکھا نہیں ہو رہا تھا۔یہی قدرت کا نظام تھا۔اس کا غم کچھ ہلکا ہوا۔وہ کھڑکی بند کر کے اب مشین کی جانب پلٹا جب فون کی گھنٹی نے اس کا دھیان اپنی جانب کھینچا۔
”ہاں بولو اسد…..“
”میری بس ہو گئی ہے۔میں مزید اس شخص کے ہاتھوں مار نہیں کھا سکتا۔خالہ کی بیٹی کے ساتھ دو دن میں منگنی ہے۔سارا منہ سوجھا دیا اس نے۔“ائس بیگ سے ٹکور کرتے وہ روہانسی آواز میں غزوان کو اپنا غم سنا رہا تھا۔
”اب کیا ہو گیا؟“اس نے کوفت سے آنکھیں گھما کر پوچھا۔
”اس کی سابقہ منگیتر کی وجہ سے نئی منگنی ٹوٹ گئی۔بس یہی وجہ ہے۔بہت زور سے مارا ہے۔اگر اس کی وجہ سے میری منگنی ٹوٹی نہ تو میں بتا رہا ہوں،خودکشی کر لوں گا۔“
”تو پھر سب سے آسان حل ہے۔منگنی نہ کر،سیدھا شادی کر لے۔“
”کیا مطلب؟“اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
”مطلب یہ کہ اپنے مسئلے خود سلجھاؤ۔یہاں میری اپنی زندگی کی چٹنی بنی ہوئی ہے۔بلا معاوضہ نئی نوکری کر رہا ہوں آجکل،جھاڑو،برتن اور اب کپڑے بھی……“اس نے منہ بناتے ہوئے بٹن بند کیا اور دھلے کپڑے سوکھنے کے لیے ڈالنے لگا۔
”کیا بکواس کر رہا ہے؟“اسد جھنجھلا گیا۔
”کچھ نہیں،بس تو منگنی کے بجائے شادی کر لے اور قتادہ سے بھی کہے کہ بس شادی کر لے۔سابقہ منگیتر سے کرے یا نئی سے……بس کر لے۔زندگی جنت نہ بنی تو نام بدل دینا میرا۔“
”جب سے تیری شادی ہوئی ہے،تیرا دماغ چل گیا ہے۔“
”تو بھی کر لے۔دماغ ٹھکانے نہ آیا تو پھر کہنا۔ بلکہ ایک ٹرسٹ شروع کرتے ہیں۔اس دنیا میں جتنے بھی کنوارے لوگ ہیں ناں،سب کی پکڑ پکڑ کر شادی کروا دیتے ہیں۔ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گیئں۔کپڑے ہی کپڑے…..میرا مطلب ہے کہ سکون ہی سکون ہو گا۔“
”جا کر سو جا۔تیرا تو اپنا دماغ چل گیا ہے،میرے مسئلے کیا حل کرے گا۔“اسد نے ناگواری سے کال کاٹ دی۔
”دھل گئے کپڑے؟“قانِتہ نے دروازے سے جھانکتے ہوئے پوچھا۔غزوان نے جبرا ہونٹوں کو مسکراہٹ میں ڈھالا اور اثبات میں سر ہلایا۔
”ارے واہ،تم تو بہت سگھڑ ہو۔“وہ شاید نہیں یقیناً پہلی بار اس سے متاثر ہوئی تھی۔
”اچھا سنو…..“وہ چل کر اس کے قریب آئی۔
”انکل آنٹی جب گھر آئے گے اور پوچھیں گے کہ کپڑے کس نے دھوئے ہیں تو تم کیا کہو گے؟“وہ اب نہایت میٹھے لہجے میں مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔
”وہی جو سچ ہے۔“قانِتہ کی بھنویں اٹھیں۔
”اور سچ کیا ہے؟“اس نے گھور کر غزوان کو دیکھا۔
”یہی کہ تم نے دھوئے ہیں۔“اگر تابعداری کی کوئی حد تھی تو وہ پار کر چکا تھا۔قانِتہ ایکدم ریلیکس ہوئی۔
”چلو پھر کھانا کھاتے ہیں۔میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے بنایا ہے۔“وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ڈائنگ ٹیبل تک لے گئی تھی۔وہ تھکا ہارا کام سے واپس لوٹا تھا اور قانِتہ نے اسے پھر سے کام پر لگا دیا تھا۔وہ خود اس کے ساتھ ہی آفس سے واپس آئی تھی۔طے یہی پایا تھا کہ غزوان کپڑے دھوئے گا اور قانِتہ کھانا بنائے گی۔
”میں تمہاری پلیٹ لگاتی ہوں۔“وہ نہایت خوش دلی سے اب اس کے لیے کھانا نکال رہی تھی جبکہ کھانا دیکھ کر غزوان کی چمکی ہوئی بھوک مر چکی تھی۔
کھانے کے نام پر وہاں جلے ہوئے ٹوسٹ تھے اور دوسری پلیٹ میں نجانے کیا تھا۔وہ بہت سوچنے کے باوجود بھی سمجھ نہ پایا۔
”یہ کھانا ہے پری وَش؟“وہ اس سے مزدوری کروانے کے بعد جو اسے پیش کر رہی تھی وہ کوئی فقیر بھی قبول نہ کرے۔
”اچھا ہے ناں۔“وہ پُرجوش سی اس کے قریب کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی تھی۔
”گھر پر کھانا کون بناتا تھا؟“وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
”دبئی میں تو میڈ بناتی تھی۔کبھی کبھی ممی بھی بنا لیتی تھیں۔یہاں بارسلونا میں گرینی بناتی تھیں۔تم کیوں پوچھ رہے ہو؟“
”ویسے ہی……“وہ ہنسا تھا۔اس ہنسی میں بےبسی تھی۔انکار کی صورت میں یا کچھ برا کہنے کی صورت میں وہ ناراض ہو سکتی تھی اور غزوان اسے ناراض نہیں کر سکتا تھا۔
”کھاؤ ناں…..“
”یہ تو ٹوسٹ ہے،یہ کیا ہے۔“
”افف او غزوان،یہ چیز آملیٹ ہے۔تمہیں اتنا ہی نہیں پتا۔“قانِتہ نے گو کہ اس کی عقل پر ماتم کیا تھا۔وہ ایک بار پھر ہنسا تھا۔اس ہنسی میں بےبسی پہلے سے کئی زیادہ تھی۔
”چیز کہاں ہے اور آملیٹ کہاں…..؟“وہ بڑبڑاتے ہوئے ٹوسٹ منہ تک لے گیا تھا۔
”آملیٹ بھی کھاؤ ناں؟“غزوان نے بمشکل فورک کی مدد سے آملیٹ منہ میں ڈالا۔چہرے کے تاثرات کی باقاعدہ جنگ چھڑ گئی۔
نمک شاید رستہ بھٹک کر چینی کی شکل اختیار کر چکا تھا۔
انڈے شاید ہڑتال پر تھے۔کالی مرچ بے ہوش ہو چکی تھی جبکہ چیز تو آملیٹ کی بربادی پر ماتم منا رہی تھی۔
”کیسا بنا ہے؟“وہ شام کے کھانے میں اسے ٹوسٹ اور آملیٹ دے رہی تھی اور وہ بھی اتنا لذیذ کہ غزوان کے پاس تعریف کے لیے الفاظ ہی نہیں بچے تھے۔اسے ناچار تھبز اپ کا اشارہ کر کے آملیٹ کی تعریف کرنی پڑی تھی۔
”بٹر……“وہ پانی مانگتا تو یقیناً قانِتہ کو شک سا گزرتا لہذا اس نے احتیاط سے کام لیتے مکھن مانگا تھا۔
”اوہ،میں بھول گئی۔ابھی لاتی ہوں۔“وہ اٹھ کر کچن کاؤنٹر کی جانب بڑھی جب غزوان نے فوراً ٹشو پیپر میں منہ میں رکھا آملیٹ نکالا۔صد شکر کہ وہ نہ دیکھ سکی تھی۔
”یہ لو بٹر……“قانِتہ نے مکھن اس کے سامنے رکھا۔وہ بے دلی سے ٹوسٹ پر مکھن لگانے لگا۔شاید وہ کھانے کے قابل ہو جائے۔شاید……
وہ کرسی پر بیٹھی مسلسل مسکراتی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی۔آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
”یہ تو صرف ٹریلر ہے سینور غزوان،آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا۔دیکھتے ہیں کہ آخر کتنی برداشت ہے تم میں۔کب تک مجھے اور میری حرکتوں کو برداشت کرتے ہو۔“وہ بظاہر مسکرا رہی تھی مگر اندر بہت کچھ پک رہا تھا۔خوشیاں اسے راس نہیں تھیں۔اسے کسی بھی طرح اپنا گھر برباد کرنا تھا تو پھر کرنا تھا۔وہ غزوان کو زچ کر رہی تھی اور اچھا خاصا زچ کر رہی تھی۔
اب دیکھنا یہ تھا کہ اس کھیل میں جیت کس کی ہو گی۔قانِتہ کی یا غزوان کی……..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔قتادہ صوفے پر آگے کو جھک کر بیٹھا ہوا تھا۔ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں الجھی ہوئی تھیں معنوں ماضی کو تھامنے کی کوشش کر رہا ہو۔اس کے ماتھے پر بھاری شکنیں تھیں۔اس کے ذہن میں شور سا اٹھا تھا۔ہنسی،آنسو،وعدے،شکستیں……سب ایک ساتھ اس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔
ایک پرانی تصویر میز پر پڑی تھی۔اس کے خاندان کی تصویر……اس کی ماں،باپ،بہن اور وہ خود……اس کے پاس اب کچھ نہیں بچا تھا اور اب غانیہ بھی…..وہ نہ اس کی کال اٹینڈ کر رہی تھی اور نہ اس کے میسجز کا رپلائی دے رہی تھی۔
قتادہ نے شکست خوردہ انداز میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں۔
وہ وہاں بیٹھا تھا مگر ذہن ماضی کو جھیل رہا تھا۔ہر پل،ہر گھڑی…….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی ماں کو اپنے چچا کے ساتھ دیکھ کر وہ بالکل ٹوٹ چکا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ کبھی پلٹ کر واپس وہاں نہیں جائے گا مگر اگلے سال وہ بہن کی محبت میں تڑپ کر ایک بار پھر اس دہلیز تک جا پہنچا تھا۔اس بار جو انکشاف اس پر ہوا تھا وہ پہلے سے زیادہ بھیانک تھا۔
”کون ہو تم اور کس سے ملنا ہے؟“گارڈ نے ایک بار پھر اسے روکا تھا۔
وہ اسے پرے دکھیل کر اندر داخل ہوا تھا۔اتفاقا آج بھی گھر پر کوئی موجود نہ تھا۔
”قتادہ تم……“اسے گھر کے اندر داخل نہیں ہونا پڑا تھا۔مالی کاکا نے اسے پہچان لیا تھا۔
وہ تڑپ کر ان کے گلے لگا تھا پھر اس نے اشاروں میں اپنی بہن کے متعلق پوچھا تھا۔مالی کاکا نے گارڈ کو واپس بھیج دیا تھا اور قتادہ کو وہ کہانی سنائی تھی جسے سن کر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی۔اس کی بہن بہت سال پہلے اغواء ہو چکی تھی۔پولیس اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اب تھک چکی تھی۔یہ کیس کب کا بند ہو چکا تھا۔
قتادہ کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔وہ الٹے پاؤں بھاگتا ہوا وہاں سے گیا۔مالی کاکا آواز دیتے رہے مگر وہ نہ رکا۔
تپتی دھوپ میں مصروف سڑکوں پر گاڑیوں کا شور جاری تھا۔وہ ہر چیز سے ناآشنا سڑک پر چلتا جا رہا تھا۔منظر دھندلا گیا۔وہ لڑکھڑاتے ہوئے سڑک کے کنارے آ بیٹھا۔گردن جھکی ہوئی تھی اور آنکھوں سے آنسو روانی سے بہتے جا رہے تھے۔
اس نے ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا معنوں یہ سب بس ایک خوفناک خواب ہو۔وہ چہرے پر سے ہاتھ ہٹائے اور سب ٹھیک ہو جائے۔وہ وہی بارہ سالہ قتادہ بن جائے مگر یہ ممکن نہ ہوا۔
اس نے چہرے پر سے ہاتھ ہٹائے تو منظر تبدیل نہ ہوا بس منظر میں ایک شخص کا اضافہ ہو گیا تھا۔اس کی نظر کسی کے چمچماتے جوتوں تک گئی پھر وہاں سے جینز تک اور جینز سے شرٹ تک……سامنے ایک چھوٹا سا لڑکا کھڑا تھا۔برانڈڈ کپڑے اور جوتے پہنے،بالوں کو سٹائل سے بائیں طرف جمائے……یہ قتادہ اور غزوان کی پہلی ملاقات تھی۔غزوان اس سے کافی چھوٹا تھا۔
شاک قتادہ کو اسے دیکھ کر نہ لگا تھا بلکہ اس کے ہاتھ میں پکڑے کرنسی نوٹ کو دیکھ کر لگا تھا۔
”یہ رکھ لو۔“وہ چھوٹا سا لڑکا اسے فقیر سمجھ رہا تھا۔قتادہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
”اس سے زیادہ نہیں دے سکتا میں۔پاکستان کے beggars بہت لالچی ہیں۔“وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ایکشن سے گویا ہوا تھا۔وہ پاکستان سے نہیں تھا مگر اردو اچھی بول لیتا تھا۔قتادہ نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔آنکھیں غصے سے سرخ ہو گیئں۔اسے فلحال اپنی بہن کا غم تھا لہٰذا اسے یاد نہ رہا کہ آگے کون ہے۔
”رکھ بھی لو اب۔“غزوان نے نوٹ اس کی گود میں رکھا اور بس یہیں قتادہ کا پارہ چڑھ گیا۔اس نے نوٹ مٹھی میں دبوچا اور غزوان کو بازو سے پکڑا اور نوٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
”او مائی گاڈ،ایک beggar نے مجھے ہاتھ لگایا۔یہ تو میں ضرور کرسٹی کو بتاؤں گا۔“وہ اپنی کسی دوست کا ذکر کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ کو اس قدر حیرت سے دیکھ رہا تھا معنوں کسی شہزادے نے اسے چھوا ہو۔
قتادہ نے ناگواری سے اس بچے کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔یہاں اس کی جان خلاصی نہیں ہوئی تھی۔غزوان اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا تھا۔
”کیا تم مجھے انٹرویو دینا پسند کرو گے مسٹر بیگر؟باقی بیگرز کے منہ پر مٹی لگی ہوتی ہے،تمہارے کیوں نہیں لگی؟تم نے پینٹ شرٹ کیوں پہن رکھی ہے؟تمہارے کپڑے کیوں نہیں پھٹے ہوئے؟“سوالات کی ایک لمبی لسٹ اس کے پاس تیار تھی۔قتادہ خاموشی سے آگے چلتا رہا جبکہ آنکھیں سرخ سے سرخ تر ہوتی جا رہی تھیں۔
”کیا تمہیں اور پیسے چاہیئے؟تمہیں کتنے پیسے چاہیئے؟میں پاپا سے لے کر دے دوں گا۔تم کچھ بول کیوں نہیں رہے؟کیا تم گونگے ہو؟“اور یہاں قتادہ ذوالفقار کا ضبط ختم ہوا تھا۔وہ ایڑیوں کے بل گھوما اور اس نے غزوان کو کالر سے دبوچا اور پھر نہ آؤ دیکھا اور نہ تاؤ،دو مکے اس کی ناک پر جڑ دیے۔غزوان کو نہ صرف دن میں تارے نظر آئے بلکہ وہ غش کھا کر زمین پر گرا تھا۔ناک سے نکسیر پھوٹ چکی تھی۔
اگلے آدھے گھنٹے میں وہ قریبی سرکاری ہسپتال داخل تھا۔اسے یہاں لانے والا قتادہ ہی تھا۔اس کی فیملی کو اطلاع دے دی گئی تھی۔
”کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو؟“سوال پوچھنے والے جہانزیب تھے۔قتادہ خاموش رہا،یہی خاموشی تو اس کا مقدر تھی۔
”یہ سب کیسے ہوا غزوان اور کس نے کیا؟“وہ وارڈ میں ایک بستر پر ٹیک لگا کر لیٹا ہوا تھا۔منہ سوجھا ہوا جبکہ آواز نقاہت زدہ تھی۔
”پاپا وہ کسی beggar نے مارا ہے مگر میرے دوست نے بچا لیا۔“قتادہ اسے دیکھنے پر مجبور ہو گیا۔وہ نہ صرف جھوٹ بول رہا تھا بلکہ اسے دوست بھی کہہ رہا تھا۔کیسا دوست،کہاں کا دوست؟ان کی دوستی کب ہوئی تھی؟قتادہ کو گہرا دھچکہ لگا تھا۔جس کا نام تک وہ نہیں جانتا تھا،اسے دوست کہہ رہا تھا۔
”اکیلے گھر سے نکلے کیوں تھے؟کیا ایک ہی دن میں سارا پاکستان گھوم لو گے؟“جہانزیب اب ہمیشہ کی طرح اس کی کلاس لے رہے تھے اور وہ خاموشی سے سر جھکائے سن رہا تھا۔
”میں ڈسچارج پیپرز بنوا رہا ہوں،ہم گھر جا رہے ہیں۔“وہ کہہ کر پلٹے پھر قتادہ کے سامنے آ کر رکے۔”شکریہ بیٹا۔“اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر صرف اتنا کہا اور آگے چل دیے۔قتادہ کو سمجھ نہ آئی،وہ شرمندہ ہو یا غزوان کے ایک اور جڑ دے۔
”اگر پاپا کے سامنے تمہارا نام لے لیتا تو اس وقت جیل میں ہوتے تم۔“وہ ٹوٹی پھوٹی حالت میں بستر پر پڑا اب قتادہ کو للکار رہا تھا۔قتادہ اس کی ہمت دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
”ڈونٹ وری!کوئی احسان نہیں کیا میں نے تم پر۔اگر تم مجھے ایسے ہی مکے مارنے سکھا دو تو آئی پرامس میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔“آج اتنے عرصے بعد قتادہ پہلی بار دل کھول کر مسکرایا تھا مگر اس نے فوراً ہی اپنی مسکراہٹ چھپا لی تھی۔وہ لڑکا اب اسے دھمکی دے رہا تھا۔وہ واقعی سلیوٹ کے قابل تھا۔
”اوکے پلیز……سکھا دو آخرکار ہم بچپن کے دوست ہیں۔“قتادہ نے ٹھٹھک کر آبرو اچکائی۔وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ کس کا بچپن……میرا یا تمہارا؟
”اچھا ٹھیک ہے۔میں تمہیں پھول دوں گا۔مجھے جو لوگ اچھے لگتے ہیں میں انہیں پھول دیتا ہوں مگر پاکستان میں صرف لڑکوں کو…… یہاں کی لڑکیاں مجھے سیریس نہیں لیتیں۔بچہ سمجھ کر گال کھینچ کر چلی جاتی ہیں۔ویسے تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے؟“اس کی پٹر پٹر ایک بار پھر شروع ہو چکی تھی۔قتادہ نے بے اختیار پیشانی مسلی۔اسے اب یہاں سے چلے جانا چاہیے تھا ورنہ عین ممکن تھا کہ یہ لڑکا اس کا دماغ بھون کر کھا جاتا۔
”اگر ہے تو اسے لازمی پھول دینا بلکہ مجھے بتا دینا۔تمہاری طرف سے میں اسے پھول دے دوں گا۔اور جو کہنا ہو وہ بھی بتا دینا،میں کہہ دوں گا بلکہ پھول تم دے دینا،جو کہنا ہو گا میں کہہ دوں گا ویسے تم خود بھی کہہ سکتے ہو۔تم بولتے کیوں نہیں ہو؟“اس سے پہلے کہ قتادہ کے اندر کا لاوا پھٹتا وہ غزوان کو ایسے بولتا چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
اپنے تئیں غزوان سے یہ اس کی پہلی اور آخری ملاقات تھی مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ غزوان جہانزیب اتنی آسانی سے اس کا پیچھا چھوڑنے والا نہیں تھا۔اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ بچپن کے دوست ہیں تو پھر جب تک یہ بات قتادہ اپنے منہ سے تسلیم نہ کر لیتا،غزوان پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔