61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode07)

Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi

ہسپتال کے اندر ایک عجیب سی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔سفید فرش پر چلتے پھرتے لوگ،ڈاکٹرز،نرسیز ہر کسی کے چہرے پر پریشانی کی چھاپ تھی۔وہ قدم قدم چلتی راہداری سے گزرتی مطلوبہ کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔بار بار بیگ کی سٹریپ کو ٹھیک کرتے وہ مضطرب سی آگے بڑھ رہی تھی۔ہر اٹھتے قدم پر دل تیزی سے دھڑکنے لگتا، معنوں ابھی باہر آ جائے گا۔

ایک کمرے کے باہر اس کے قدم رکے، دل کو بمشکل سنبھالا اور اندر داخل ہوئی۔سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے پیر لمحہ بھر کو سن ہو گئے۔کمرے میں غزوان سمیت پانچ لوگ اور موجود تھے۔ایک مولوی اور پانچ گواہ۔قانِتہ کا دماغ بھک سے اڑا،یعنی وہ مذاق نہیں کر رہا تھا۔

”آ جاؤ پری وَش،تمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا۔“وہ بستر پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا۔کندھے پر پلاسٹر چڑھا تھا جبکہ چہرہ حد درجہ سنجیدہ تھا۔

ہر اٹھتا قدم من بھر کا تھا۔وہ بے یقینی سے غزوان کی جانب دیکھ رہی تھی۔کیا وہ واقعی اس سے اس طرح انتقام لے رہا تھا؟

”کچھ اچھا ہی پہن لیتی یا پھر کم از کم دوپٹہ ہی اوڑھ لیتی۔“ایک شکوہ کناں نگاہ اس پر ڈالی،قانِتہ نے ضبط سے رخ موڑ لیا۔

”چلو کوئی بات نہیں،میں نے اپنی پری وَش کے لیے سارے انتظامات کر رکھے ہیں۔یہ اوڑھ لو۔“بستر کی پائنتی پر پڑے سرخ دوپٹے کی جانب اشارہ کرتے وہ قانِتہ کو اندر تک جھسلا گیا تھا۔اندر جلتی آگ کے شعلے آنکھوں میں دہکنے لگے،قہر زدہ نگاہیں غزوان پر جمائیں پھر دانت کچلا کر گویا ہوئی۔

”مجھے پری وَش مت کہو۔“اندر جلتی آگ نے ہسپتال کے کمرے کو احاطہ میں لیا۔

”جو حکم ہیرے،مولوی صاحب آپ شروع کریں۔“سر تسلیم خم کرنے کے بعد وہ مولانا صاحب کی جانب متوجہ ہوا۔

”میں تم سے نکاح نہیں کروں گیئں۔“صاف الفاظ میں دو ٹوک انکار کیا گیا تھا۔

”شاہد ذرا آفیسر کو بلانا، میں بیان ریکارڈ کرواؤں۔“

”میں کروں گیئں،کیوں نہیں کروں گیئں؟“اس نے گھبراہٹ کی وجہ سے فوراً سے کہا۔غزوان کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔

”چلیں مولوی صاحب، شروع کریں۔“

”آپ نکاح نامہ پر کروائیں۔“قانِتہ نے بددلی سے اپنے متعلق معلومات لکھوائیں۔

مولوی نے بغیر کوئی سورت یا آیت پڑھے سیدھا اس سے پوچھا۔

”قانِتہ یزدان آپ کو بعوض حق مہر 3000 یورو غزوان جہانزیب کے ساتھ یہ نکاح قبول ہے؟“

”ہر گز نہیں۔“غزوان کی تیوری چڑھ گئی۔

”شاہد ذرا آفیسر…..“

”میرا مطلب ہے کہ 10,000 یورو سے کم پر نکاح نہیں کروں گیئں میں۔“برجستگی سے بات سنبھالی۔غزوان کا غصہ کچھ ٹھنڈا پڑا۔

”مولوی صاحب……“مولوی نے بادل ناخواستہ دوسرا نکاح نامہ تیار کیا۔اسے بھی یہاں زبردستی لایا گیا تھا۔

مولوی صاحب کے ایک بار پھر پوچھنے پر قانِتہ خاموش رہی۔بے چین نگاہیں دروازے پر جا ٹھہری۔

”ادھر کیا دیکھ رہی ہو پری وَش؟تمہارا شوہر تو یہاں ہے۔چلو شاباش،کہو کہ قبول ہے۔“قانِتہ نے تھوک نگلی،خشک لبوں پر زبان پھیری۔انگلیاں گھبراہٹ سے آپس میں مس کیں۔پیر بار بار زمین پر ضرب لگانے لگے۔بیقراری بڑھ گئی۔

”پری وش…..“وہ دھاڑا۔

”Please don’t try again later”

”میں ابھی سنگل موڈ پر رہنا چاہتی ہوں۔“منہ میں جو آیا وہ بول گئی۔ہاتھ پسینے سے بھیگنے لگے۔

”تم کہہ رہی ہو یا میں آفیسر کو بلاؤں؟“اس کا بے قابو ہوتا غصہ آنکھوں میں ابلنے لگا۔

”میرے دماغ کے سگنلز نہیں آ رہے۔“وہ روہانسی ہوئی۔شاید مقابل کو ترس آ جائے مگر وہ سفاک بنا رہا۔

”پری وش……“غزوان نے دانت کچلاتے تیزی سے کہا۔قانِتہ کی آنکھیں بھر آئیں۔

”صبر کرو،ابھی لوڈنگ ہو رہی ہے۔“اس نے بے چین نگاہیں ایک بار پھر بند دروازے پر جمائیں۔ہاتھ سے شرٹ کی نادیدہ شکنیں درست کرنے لگی۔

”قانِتہ……“اب کی بار لہجہ تیز دھار خنجر کی مانند بےرحم تھا۔قانِتہ نے شکست خوردہ انداز میں سر جھکا لیا پھر ایکدم کسی خیال کے تحت فوراً اٹھایا۔

”آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟پہلے اس سے پوچھیں، اب جب زندگی برباد کرنی ہی ہے تو میں پہلے کیوں قبول کروں؟“برہم نگاہوں کا شکار اب مولوی صاحب بنے تھے۔

”پری وش وقت ضائع مت کرو۔شاباش کہو کہ قبول ہے۔لیڈیز فرسٹ۔“

”پہلے تم کہو گے۔“اسے تاخیر کا ایک اور بہانہ مل گیا تھا۔

”نہیں پہلے تم کہو گی۔“غزوان نے بھی ضد باندھ لی۔

”نہیں پہلے تم۔“

”پہلے تم۔“

”بیٹا آپ لوگ جلدی فیصلہ کر لیں،مجھے ایک اور جگہ بھی نکاح پڑھانے جانا ہے۔“مولوی صاحب کا بس چلتا تو کب کے یہاں سے بھاگ جاتے۔چاروں گواہان افسوس سے دلہا اور دلہن کو لڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔

”اوئے مولوی چپ۔“دلہا،دلہن نے بیک وقت کہا تھا۔پہلی بات پر اتفاق ہوا تھا۔

”دکھائی نہیں دے رہا کہ میں اپنی پری وَش سے بات کر رہا ہوں؟اب کچھ کہا تو ٹھوک دوں گا۔“توپوں کا رخ اب مولوی صاحب کی جانب تھا۔انہوں نے ہراساں نگاہوں سے غزوان کی جانب دیکھا۔

”ہاں غزوان،یہ مولوی بلاوجہ دماغ خراب کر رہا ہے۔مجھے یہ بالکل پسند نہیں۔تم مجھے نیا مولوی لا کر دو۔“بہت لاڈ سے فرمائش کی گئی تھی،معنوں وہ اس کی دو دن کی دلہن ہو اور کسی تحفے کے پسند نہ آنے پر نیا لانے کی فرمائش کر رہی ہوں۔

”دماغ تو تم میرا خراب کر رہی ہو۔آخر کہتی کیوں نہیں ہو کہ قبول ہے؟“اس کی دھاڑ نے کسی خوفناک بادل کی مانند کمرے کا احاطہ کر لیا،معنوں ابھی برسے گا اور سب اجاڑ کر رکھ دے گا۔

”میں بتاتا ہوں تمہیں کہ ”قبول ہے“ کیسے کہتے ہیں؟“ہلکی سی چڑچڑاہٹ کے ساتھ دروازہ کھلا اور کوئی بھاری قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔آواز ایسی گرجدار کہ غزوان سمیت اس کے چاروں دوستوں کو سانپ سونگھ گیا۔

”پاپا……“غزوان کے حلق میں گرہیں پڑنے لگیں۔دل ڈھڑکنا بھول گیا۔

(ہسپانوی زبان میں والد کو پادرے یا پاپا کہتے ہیں۔ہم یہاں پاپا کا ہی استعمال کریں گے۔)

قانِتہ ایک دم جوش سے اٹھ کھڑی ہوئی۔انکھیں چمک اٹھیں،لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔آخر کار،وہ پہنچ ہی گئے تھے۔

”کیا ہو رہا ہے یہاں؟“وہ آواز نہیں تھی بجلی تھی جو وہاں موجود سب پر گری تھی۔چاروں گواہان سمیت مولوی صاحب بھی فوراً رفو چکر ہو گئے تھے۔غزوان کی قسمت خرابی،وہ اس وقت بستر پر تھا ورنہ یقیناً وہ بھی بھاگنے کو ہی ترجیح دیتا۔(اس کے دل میں محض ایک شخص کا خوف تھا اور وہ جہانزیب تھے)

”یہ سب کیا ہے غزوان؟“اب عتاب کا نشانہ اس ہی نے بننا تھا۔بہت کوشش کے باوجود بھی اس کے گلے سے ایک لفظ باہر نہ نکلا۔یہ حملے والی بات تو اس نے مخفی رکھی تھی۔اس کے مطابق وہ اس طرح قانِتہ کو بلیک میل کر کے نکاح کر لے گا۔اس سے بدلہ لے لے گا مگر کھیل پلٹ گیا تھا۔قانِتہ یزدان نے بازی الٹا دی تھی۔

”اس سے کیا پوچھ رہے ہیں،مجھ سے پوچھیں۔آپ کے بیٹے نے مجھے شادی کے لیے پرپوز کیا اور میں نے انکار کر دیا۔جناب نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا اور نا صرف مجھے ڈرایا بلکہ اغواء کرنے کی کوشش کی۔“غزوان نے چونک کر اس شیرنی کی طرف دیکھا جو کچھ دیر پہلے بھیگی بلی بنی ہوئی تھی۔(اس نے کب اغواء کرنے کی کوشش کی؟)

”میں نے سیلف ڈیفنس میں اس پر حملہ کیا اور اب یہ جناب مجھے دھمکا رہے ہیں کہ میں تو ایک بہت بڑے باپ کا بیٹا ہوں۔میرا باپ تمہیں جیل کے پیچھے پہنچا دے گا۔تمہارا کیرئیر ختم کر دے گا۔تمہارے سارے خاندان کو برباد کر دے گا۔اگر تم ایسا نہیں چاہتی تو مجھ سے نکاح کرو۔آپ بتائیں سینیور جہانزیب کیا اس طرح نکاح ہوتے ہیں؟“جہانزیب نے ایک کڑی نگاہ اپنی اکلوتے بیٹے پر ڈالی جو ان کے نام کا مسلسل غلط استعمال کر رہا تھا۔غزوان کا دل چاہا کہ سمندر میں ڈوب کر مر جائے اور قانِتہ کو ساتھ بھی لے ڈوبے۔زبان تھی کہ قینچی،روکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

”میں نے آپ کا بہت نام سنا ہے۔میں نے سنا ہے کہ آپ ایک ایماندار اور انصاف پسند انسان ہیں۔مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ یہ آپ کا بیٹا ہے؟“غزوان نے آنکھیں میچیں اور پھر نظریں پھیر لیں۔

”تم مجھ سے اکیلے میں ملو قانِتہ،پھر بتاو گا تمہیں۔“دل ہی دل میں قانِتہ کو جی بھر کر کوسا۔

”میں چاہوں تو آپ کے بیٹے پر کیس کر سکتی ہوں۔پہلے مجھے ہریس کیا،پھر اغواء کرنے کی کوشش کی پھر دھمکایا اور اب یہ زبردستی نکاح اور وہ بھی یوں ہسپتال میں مگر میں اس معاملے کو لمبا نہیں کھینچنا چاہتی۔بہتر ہے اپنے لاڈلے کے گلے میں پٹا ڈال دیں ورنہ مجبوراً یہ کام مجھے ہی کرنا پڑے گا۔“اپنا بیگ اٹھایا اور رعونت سے گردن اکڑا کر دروازے کی سمت بڑھی۔دروازے کے پٹ کر ہاتھ رکھ کر ذرا سا مڑی اور غزوان کو مخاطب کیا۔

”یہ اکیسویں صدی ہے سینیور غزوان، انکار کا مطلب انکار ہی ہوتا ہے۔اگر تم مردوں کی انا ہے تو ہم عورتوں کی بھی ہے۔مر جاؤں گیئں مگر تم جیسے چیپ انسان سے کبھی شادی نہیں کروں گیئں۔“بالوں کو جھٹکا دیا اور کھینچ کر دروازہ بند کیا۔سن گلاسز لگائے اور اسی تمکنت سے آگے بڑھ گئی۔

بند کمرے میں چلانے کی آوازیں آتی رہیں۔یقینا آج کا دن غزوان جہانزیب کبھی نہیں بھولنے والا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس اندھیرے نے رنگ بدلا ہے

دن نہیں ہے سفید رات ہے یہ

افق کے کنارے سورج کی روشنی برفانی چوٹیوں پر اپنی ابتدائیہ روشنی بکھیر رہی تھی۔ہلکی دھند بستی میں اتر رہی تھی۔باورچی خانے میں چولہے کے سامنے وہ بیٹھی روٹیاں بیل رہی تھی۔لکڑیوں سے اٹھتا دھواں چھت کے ایک سوراخ سے باہر نکل رہا تھا۔زخرف کے چہرے پر تکان کے آثار تھے۔دن بدن کاموں کا بوجھ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔وہ کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی تھی۔سرمئی آنکھیں باہر نکلتی جا رہی تھیں جبکہ سیاہ دھوئیں کی وجہ سے رنگ سیاہ پڑتا جا رہا تھا۔روٹیاں پکانے کے بعد اس نے چپ چاپ ادھر اُدھر نگاہ دوڑائی، کسی کو وہاں نہ پا کر خاموشی سے ایک روٹی اپنی چادر میں چھپا لی۔عین اس وقت عقب سے ایک آواز نمودار ہوئی۔

”ہماری چھوٹی سی بھابھی چوری کر رہی ہیں۔“وہ اختر کی آواز تھی۔زخرف کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی، وہ ایک دم سے چوکی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔اب ہانپتے ہوئے ہراساں نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔اس رات نے اسے بےحد خوفزدہ کر دیا تھا۔

”میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا۔“وہ چل کر زخرف تک آیا اور جھک کر اس کی گال کو چھوا۔وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔

”ارے گھبرا کیوں رہی ہو؟میں نے کہا نہ کہ کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔“اس نے زخرف کے کندھے پر ہاتھ رکھا پھر یہ ہاتھ گردن سے سفر کرتا چھاتی پر آ رکا۔زخرف نے چلا کر اسے پیچھے دکھیلا۔

”میں غانیہ کو بتاؤں گیئں۔“اس نے گھبرا کر قدم باہر کی جانب بڑھانا چاہے جب اختر نے اسے اپنی جانب کھینچ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔

”مجھ سے دوستی کر لو زخرف،بہت خوش رکھوں گا تمہیں۔“ایک ہاتھ زخرف کے منہ پر تھا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر گردش کرنے لگا۔وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح مچلتے ہوئے خود کو آزاد کروانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔آنکھوں میں بےبسی کے ساتھ پانی بھی جمع ہونے لگا۔

”اے کمبخت،ناشتہ بنا کہ نہیں؟“بیگم جان کی چنگھاڑتی آواز پر اختر نے گھبرا کر زخرف کو پیچھے دکھیلا۔زخرف فرش پر جا گری۔

”تم یہاں کیا کر رہے ہو؟“بیگم جان نے حیرانگی سے پوچھا۔زخرف فرش پر پڑی بری طرح سسک رہی تھی۔اختر کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔

”یہ…..اس نے……“زخرف نے کچھ کہنا چاہا مگر اختر نے اسے بات مکمل نہ کرنے دی۔

”چوری کر رہی تھی بیگم جان،رنگے ہاتھوں پکڑا ہے میں نے۔“اس نے فوراً خشک پڑتے گلے پر ہاتھ پھیرا۔

”کم بخت ماری!“بیگم جان نے ایک لکڑی اٹھائی اور تن فن کرتی زخرف تک آئیں۔

”چوری کرے گی؟تجھے تو میں بتاتی ہوں۔“انہوں نے نہ آؤ دیکھا اور نہ تاؤ،بس زخرف کو مارنا شروع کر دیا۔

”میں نے کچھ نہیں کیا۔یہ…..اس نے میرے ساتھ……“اس نے ایک بار پھر بولنا چاہا مگر اختر نے پھر بات پلٹ دی۔

”بہت چالاک لڑکی ہے یہ۔مجھے کہہ رہی تھی کہ بازار سے چھپ کر کھانا لا کر دو۔“بیگم جان مزید طیش میں آ گئیں۔مارتے ہاتھوں میں مزید تیزی آئی۔زخرف چیختی رہی، چلاتی رہی مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔

”یہ سوئٹر کہاں سے آیا تیرے پاس؟یہ بھی چوری کیا ہے؟“مار پڑنے کی وجہ سے اوڑھی گئی چادر اتر گئی تھی جس وجہ سے ان کی نظر اب اس کے نئے سوئٹر پر پڑی تھی۔

”بتا کہاں سے آیا تیرے پاس یہ؟“اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کرتے اب انہوں سے غصے سے دوبارہ پوچھا۔

”یہ میں تمہارے لیے لایا ہوں۔سردی بڑھ گئی ہے اور تمہارے پاس پہننے کے لیے کچھ نہیں۔مورے کو مت بتانا کہ میں نے لا کر دیا ہے۔“سماک کے کہے الفاظ کانوں میں گونجنے لگے۔بیگم جان اسے مارتی رہی، پوچھتی رہیں مگر وہ سِمَاک کا نام اپنی زبان پر نہ لائی۔

”تیرا تو میں آج بندوبست کرتی ہوں۔چوریاں کرتی ہے۔“بیگم جان اسے گھسیٹتے ہوئے صحن تک لے گیئں اور اسے فرش پر دھکا دیا۔

”اختر آج اس کی چمڑی اڈھیر دے۔“انہوں نے ڈنڈا اختر کو پکڑایا۔وہ خباثت سے مسکراتا زخرف کی جانب بڑھا۔

”آخری بار پوچھ رہا ہوں،مجھ سے دوستی کرو گی؟“اختر نے اس کے پاس بیٹھتے مدھم سی سرگوشی کی،زخرف نے حقارت سے اسے دیکھا اور اس کے منہ پر تھوک دیا۔اختر آپے سے باہر ہو گیا۔اس نے ہر لحاظ بالائے طاق رکھ کر زخرف کو اتنا مارا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔وہ نو سالہ بچی ایک مرد کی مار نہ سہار سکی تھی۔بیگم جان خاموشی سے کھڑی تماشا دیکھتی رہیں۔سماک اپنے والد کے ساتھ کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا جبکہ غانیہ اپنی سہیلی کے گھر۔

”اختر،اس کے بال کاٹ دے۔“بیگم جان نے اگلا زہر اگلا۔زخرف نے خوفزدہ نگاہوں سے انہیں دیکھا۔

”نہیں،خدارا یہ ظلم نہ کریں۔میرے بال نہیں، نہیں…….“اس کی دل دہلا دینے والی چیخیں گھر کی درودیوار سے ٹکراتی رہیں۔ظلم آج انتہا کو پہنچ چکا تھا۔

”پہلے میرا جوان بیٹا کھا گئی پھر ایک پوتا تک تو دے نہیں سکتی تو ہمیں،کیوں پالیں تجھے مفت میں؟“

”نہیں، نہیں میرے بال نہیں کاٹو۔جو مرضی سزا دے دو مگر بال نہیں…..بال نہیں……“اختر کے ایک ہاتھ میں اس کی گھنی لمبی چوٹی تھی اور دوسرے ہاتھ میں قینچی۔

جیسے ہی اختر نے اس کی چوٹی کاٹی، دل دہلا دینے والی چیخ اس کے لبوں سے آزاد ہوئی ”اللہ!“ اس نے تڑپ پر اللہ کو پکارا پھر غش کھاتی وہیں ڈھے گئی۔

آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں

لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہاڑوں کی گود میں پھیلی سر سبز وادی دھند کی لپیٹ میں تھی۔صبح کا خوشگوار منظر اس کے لیے رات کی سیاہی میں تبدیل ہو چکا تھا۔وہ کسی ٹوٹے ہوئے کھلونے کی مانند بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔اوپر سفید چادر اوڑھ رکھی تھی۔جسم پر جگہ جگہ نیل کے نشانات تھے۔دائیاں بازو کپڑے کی مدد سے گردن سے گزار کر باندھ رکھا تھا۔منہ سوجھا ہوا جبکہ آنکھیں نیم وا تھیں۔کون کہہ سکتا تھا کہ یہ بستی کی سب سے حسین لڑکی تھی؟کیا یہ واقعی ایک آزاد چڑیا تھی جو پہاڑیوں پر بکری کے بچے کے پیچھے دوڑتی تھی؟

”اللہ کے علم میں سب ہے۔وہ ضرور انصاف کرے گا۔“غانیہ نے گلو گیر لہجے میں اسے تسلی دینا چاہی۔وہ جب گھر لوٹی تھی تو زخرف بےحس و حرکت صحن میں پڑی ہوئی تھی۔

”اللہ کو زخرف سے پیار ہی نہیں ہے۔“اس کے بےرحم الفاظ غانیہ کے دل کو آڑے سے کاٹ گئے تھے۔اس کا ننھا ذہن کس سمت جا رہا تھا؟غانیہ کا دل ڈوبنے لگا۔

”ایسا نہیں کہتے زخرف،بہت بری بات ہے۔“اس نے سمجھانا چاہا۔

”میں اب کبھی دعا نہیں کروں گیئں،کبھی نہیں۔میں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا تھا۔میں نے کہا تھا کہ یہ لوگ میرے ساتھ جو مرضی کر لیں مگر میرے بال انہیں نہ کاٹنے دینا مگر اللہ نے سنا ہی نہیں۔اسے زخرف کی تکلیف نظر ہی نہیں آتی۔اگر نظر آتی تو وہ اختر اور بیگم جان کو سزا دیتا،مجھے بچا لیتا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔“وہ بدگمانی اور مایوسی کی آخری سیڑھی پر کھڑی تھی۔ایسا اکثر ہوتا ہے، انسان اپنی کسی تکلیف کا ذمہ دار اللہ کی ذات کو ٹھہرا دیتا ہے۔بغیر کچھ سوچے سمجھے زبان سے نامناسب الفاظ کہہ دیتا ہے،ایسے الفاظ جن پر بعد میں اسے پچھتانا پڑتا ہے۔

”تمہیں پتا ہے زخرف،اللہ پاک رحمٰن اور رحیم دونوں ہیں۔رحمن سے مراد عام رحمت جو سب کے لیے ہے۔چاہے مومن ہو، کافر ہو، ظالم ہو یا مظلوم……اس دنیا میں بہت سی جگہ بہت سے لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے۔بم باری کی جا رہی ہے، مسلمانوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے پھر انسانی ذہن یہ سوچتا ہے کہ اللہ ظالموں کو عذاب کیوں نہیں دیتا؟ان پر کھانا پینا بند کیوں نہیں کر دیتا؟یہ انسانی سوچ ہے۔ایسا اس لیے ہے کیونکہ وہ رحمٰن ہے۔اس کی رحمت ہر ایک کے لیے ہے۔ہم کسی کو گناہ کرتے دیکھ لیں تو اس سے اس قدر نفرت کرنے لگ جاتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر ایک بوند پانی تک نہ دیں مگر وہ ہر روز ہر ایک کو نجانے کون کون سے گناہ کرتے دیکھ رہا ہے مگر پھر بھی رزق دے رہا ہے۔یہی تو اللہ ہے۔وہ ڈھیل دے رہا ہے،وہ دیکھ رہا ہے۔“غانیہ کہہ رہی تھی اور زخرف دم سادھے اسے سن رہی تھی۔اب کوئی بات اسے مشکل نہیں لگتی تھی۔ہر چیز سمجھ آنے لگی تھی۔وہ اپنی عمر سے زیادہ سمجھدار ہونے لگی تھی۔

”اس کے ساتھ اللہ پاک رحیم بھی ہے۔رحیم سے مراد خاص رحمت ہے۔وہ انسان کو مہلت دے رہا ہے مگر یہ مہلت ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گی۔قیامت کے روز اس کی یہ رحمت خاص مومنین کے لیے ہو گی۔رحیم کا لفظ ہم انسانوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں مگر رحمٰن صرف ایک ہی ہے۔اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے زخرف کہ تم ایسے ہی شکایت کرتی رہو گی یا پھر اس کا شکر ادا کرو گی۔اس سے مدد طلب کرو گی۔ہم زندہ ہیں زخرف،یہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ہمارا کہا گیا ایک ”سبحان اللہ“ قبر میں سوئے ہزاروں لوگوں کی لاکھوں نمازوں سے زیادہ قیمتی ہے۔مرنے کے بعد کوئی معافی نہیں، مرنے کے بعد کوئی عبادت نہیں۔جو ہے اس دنیا میں ہے۔دوبارہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسا کہو گی؟“زخرف نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔

”چلو پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اور اس کا شکر ادا کرو، اس نے تمہیں مکمل بنایا ہے۔مجھے دیکھو، میں معذور ہوں مگر پھر بھی اللہ کا شکر کرتی ہوں۔تمہیں بھی کرنا چاہیئے۔“

”تو کیا میں صرف شکر ادا کرتی رہوں اور مار کھاتی رہوں؟“اس کے معصومانہ سوال پر غانیہ ہنس دی تھی۔

”تم بابا صاحب کو اختر کے بارے میں سب بتا دو۔فلحال تم صرف یہ سب برداشت کر سکتی ہو اور اللہ سے مدد کی درخواست کیونکہ تم مظلوم ہو۔جس دن طاقتور ہو جاؤ گی، اس دن چاہے انتقام لے لینا اور چاہے تو معاف کر دینا۔“کمرے کی دیواروں پر پڑتا ادھورا سا اندھیرا معنوں اس کے درد کو اپنا اندر سمونے لگا تھا۔وہ نیم وا سرمئی آنکھوں سے  چھت کو گھورتی رہی تھی۔

مری بے بسی پہ نہ مسکرا یہ بجا کہ میں تری خاک پا

جو ہلا کے رکھ دے فلک کو بھی وہ اثر ہے اب مری آہ میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بارسلونا کی ایک خوبصورت جگہ پر واقع گھر کا منظر تھا۔گیٹلائن طرز تعمیر گھر کی دیواریں ہلکے زرد اور بادامی رنگ کے امتزاج سے رنگی ہوئی تھیں۔گھر کے سامنے ایک دلکش چھوٹا سا باغ تھا جس کی بیلیں بالکنی پر جھول رہی تھیں۔مرکزی دروازہ پر اسپینش طرز کی خوبصورت کندہ کاری کی گئی تھی۔اندر اونچی چھتوں پر کندہ کاری کے نمونے، بڑی کھڑکیاں، ہلکے رنگ کی دیواریں اور فرش پر اسٹائلش نقوش بنے ہوئے تھے۔ایک رہائشی کمرہ سمندر کی جانب کھلتا تھا۔جہاں سے نیلی روشنی اور ٹھنڈی ہوائیں اندر آتی تھیں۔

غزوان گداز بستر پر اپنی ماں کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔اس کی ماں مسلسل اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں۔

”آپ مجھ سے ناراض ہیں مورے؟“اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھامتے خوف سے پوچھا۔

”نہیں بیٹا،میں خود سے ناراض ہوں۔شاید میری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔“انہوں نے نہایت دکھ سے کہا۔غزوان کے دل کو کچھ ہوا،وہ ایکدم سیدھا ہو بیٹھا۔کندھے پر ابھی بھی پلاسٹر تھا۔

”ایسا مت کہیں مورے،میں شرمندہ ہوں۔“اس نے ندامت سے سر جھکاتے ہوئے کہا۔

”تو جا کر اس لڑکی سے معافی مانگو۔“

”میں معافی مانگوں؟مورے اس نے ہماری قوم اور بستی کے بارے میں اتنا غلط کہا اور میں نے تو صرف ایک مذاق کیا تھا۔میرا یقین کریں،میں اسے اغواء نہیں کرنے والا تھا۔“اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھامتے شدت سے انہیں یقین دلانا چاہا۔

”اور اس نے جو کہا،تم نے ثابت کر دیا؟یوں ہسپتال میں کوئی زبردستی کسی سے نکاح کرتا ہے کیا؟“غزوان کی پلکیں بوجھل ہو کر ایک بار پھر جھک گیئں۔

”اگر کوئی انکار کر دے تو کیا یوں زور زبردستی نکاح کرتے ہیں؟فرض کرو اگر کوئی میرے ساتھ یہ کرے یا پھر اگر تمہاری کوئی بہن ہوتی،اس کے ساتھ کوئی یوں کرتا تو تمہیں کیسا لگتا؟“غزوان کے دل پر زبردست گھونسہ لگا۔روح کھینچتی ہوئی محسوس ہوئی۔

”اب میں کیا کروں؟“چند لمحوں بعد اس نے خود کو کہتے سنا۔

”اپنے کیے کی معافی مانگو اور غیرت کا ثبوت دو۔ثابت کرو کہ تمہارا تعلق ایک غیرت مند قوم سے ہے۔ایسی قوم جو خواتین کے فیصلوں کی عزت کرنا جانتی ہے،ان کے انکار کا احترام کرتی ہے۔راستہ بدل لو۔اس بچی کے انکار کا احترام کرو۔“وہ گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔اپنی ماں کی بات اسے کافی حد تک سمجھ آ گئی تھی۔ساتھ ہی اپنی غلطی کا احساس بھی ہو گیا تھا۔رشتے زبردستی تو نہیں بنتے۔ہاں،وہ اب زبردستی نہیں کرے گا۔اگر اس کی قسمت میں قانِتہ نہیں لکھی تھی تو وہ اس فیصلے کا احترام کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی معنوں اندھیرے اور روشنی کے درمیان کوئی جنگ جاری ہو۔ہوا کے جھونکوں کے باعث پردے مسلسل ہل رہے تھے۔زخرف لاچاری کی حالت میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ سماک بستر کی دوسری جانب اس ہی پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔

”تم بیواقوف ہو۔اگر مورے سوئٹر کے بابت پوچھ رہی تھیں تو تم نے میرا نام کیوں نہیں لیا؟“

”آپ نے منع کیا تھا۔“وہ مدھم تھکان زدہ آواز میں گویا ہوئی تھی۔

”تم پاگل ہو۔“سِمَاک نے اس کی عقل پر ماتم کیا۔

”ایک بات پوچھوں آپ سے؟“

”پوچھو۔“

”ماں کیسے بنتے ہیں؟“سماک نے ٹھٹھک کر اسے حیرانگی سے دیکھا۔سرمئی نگاہیں سماک کو ہی دیکھ رہی تھیں۔

”بیگم جان کہہ رہی تھیں کہ میں جب تک انہیں پوتا نہیں دوں گیئں تب تک وہ مجھے ایسے ہی مارتی رہے گیئں۔میں کیسے پوتا لا کر دوں؟کہاں سے ملے گا؟پلیز آپ لا دیں ناں کہیں سے۔“سِمَاک نے بے چینی سے پہلو بدلا۔نگاہیں چرائیں پھر کھنکھار کر گویا ہوا۔

”تم یہ سب مت سوچو۔میں بیگم جان سے خود بات کر لوں گا۔تم ابھی چھوٹی ہو۔“

”مطلب آپ انہیں پوتا لا کر نہیں دیں گے؟“اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا پھر رو دی۔

”زخرف…..“سِمَاک اس کے قریب ہوا پھر اپنی انگلی کے پور سے اس کے آنسو صاف کیے۔

”ہم انہیں پوتا ضرور دیں گے مگر ابھی نہیں۔“اس نے بات بنانی چاہی مگر وہ اپنی کہی بات میں خود بری طرح پھنس گیا۔

”پھر کب؟“اگلا سوال اسے لاجواب کر گیا۔وہ کئی لمحے سوچتا رہا پھر بہت ٹھہر کر جواب دیا۔

”جب تم بڑی ہو جاؤ گی۔“

”کتنی بڑی؟“

”سولہ سترہ سال……“اس نے اپنی طرف سے جان چھڑوانا چاہی۔

”یعنی تب تک بیگم جان زور میرا بازو توڑے گیئں؟“اس کے معصومیت بھرے استفسار پر وہ ہنس دیا۔

”نہیں،میں نے انہیں سختی سے سمجھا دیا ہے۔وہ دوبارہ ایسا نہیں کریں گیئں۔“

”وہ ایک نمبر کی چالاک خاتون ہیں۔آپ کے سامنے اچھی بن جاتی ہیں اور آپ کے جانے کے بعد بہت بری۔“اس نے نخوت سے ناک چڑھائی۔سِمَاک کو ہنسی آ گئی۔

”ایسا نہیں کہتے زخرف۔“سِمَاک نے اسے نرمی سے ڈپٹا۔زخرف نے منہ بسور کر چہرہ پھیر لیا۔مطلب وہ ناراض تھی۔

سماک اس کی حرکت پر ہکا بکا رہ گیا۔اسے ناراض ہونا آتا تھا۔

”کیا تم ناراض ہو گئی ہو؟“

”ہاں!اور اب میں تب بات کروں گیئں جب میں سولہ سال کی ہو جاؤں گیئں۔“سِمَاک کو ایک بار پھر ہنسی آئی۔وہ واقعی بہت معصوم تھی۔

”چلو پھر میں بھی تم سے ناراض ہو جاتا ہوں۔“

”نہیں……“زخرف نے اس کی جانب دیکھتے فورا کہا۔دل خوف سے لرزنے لگا۔

”آپ ناراض نہیں ہوں۔اس گھر میں آپ دوسرے نمبر پر مجھے اچھے لگتے ہیں۔“

”اور پہلے نمبر پر کون اچھا لگتا ہے؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا۔

”غانیہ…..“سماک نے متاثر کن لہجے میں اثبات میں سر ہلایا۔

غانیہ کم ہی لوگوں سے گھلتی ملتی تھی۔اب اگر اس کی دوستی زخرف سے ہو گئی تھی تو یقیناً یہ زخرف کا کمال تھا۔

”ویسے تم بھی اچھی ہو۔“شگوفہ نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ مخلص رہے،وہ اب کوشش کرنے لگا تھا۔ان بچکانہ باتوں میں اسے کتئی کوئی دلچسپی نہ تھی مگر وہ پھر بھی کر رہا تھا۔زخرف کو وقت دے رہا تھا،شاید اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”ایسے ٹوٹی ہوئی اچھی لگ رہی ہوں آپ کو؟“اس نے آنکھیں پھیلا کر جس حیرانگی اور معصومیت سے کہا، سماک دل کھول کر ہنس دیا۔

”تم سچ میں بہت معصوم ہو۔“سِمَاک نے اس کے ہاتھ پر نرمی سے دباؤ دیتے ہوئے کہا۔وہ درد کی شدت کے باوجود کھلکھلا اٹھی۔

اس سے باتوں میں مگن وہ اسے اختر سے متعلق بتانا بھول گئی تھی۔غانیہ نے کمرے سے جاتے وقت اسے سختی سے یاددہانی کروائی کہ وہ ہر ایک چیز سماک کو بتا دے مگر وہ پھر بھی بھول گئی تھی۔سماک کی جانب سے ملنے والی ذرا سی توجہ اور اپنائیت پر اس کے ذہن سے سب غائب ہو گیا تھا اور یہی اس کی سب سے غلطی تھی جس کا خمیازہ اسے بھگتنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔