61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode11)

Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi

اختر کومہ میں جا چکا تھا۔کوئی اور اس بات سے خوش ہو یا نہ ہو مگر زخرف بہت خوش تھی۔اب بھی وہ اپنے کمرے میں گڑیا کے ساتھ بیٹھی کھیل رہی تھی۔یہ گڑیا اسے غانیہ نے سل کر دی تھی۔سماک کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے گڑیا کو تکیے کے پیچھے چھپایا اور سیدھی ہو بیٹھی۔وہ بہت کم ہی گھر آتا تھا۔اس کے دن رات شگوفہ کے ساتھ گزرتے تھے۔

”روٹی بنا دو۔“وہ زخرف کی گڑیا کو دیکھ چکا تھا مگر سراسر نظر انداز کیا۔

”آپ کہاں تھے؟گھر کیوں نہیں آتے؟“

”دماغ خراب مت کرو میرا۔کھانا دو مجھے۔“شدید ناگواریت اور حقارت سے کہا اور بستر کی دوسری جانب آ کر بیٹھ گیا۔

زخرف کا دل بجھ سا گیا۔اس کے یوں جھڑکنے پر وہ ہمیشہ ہی دل برداشتہ ہو جاتی تھی۔بھاری دل کے ساتھ وہ بستر سے اٹھی مگر اچانک پیٹ میں درد سا اٹھا۔

”آہ!“وہ پیٹ پر ہاتھ رکھتی واپس بستر پر بیٹھ گئی۔

”مجھے…..“

”درد ہو رہا ہے۔ہے ناں؟“سِماک غصے سے بھپرا اٹھ کھڑا ہوا۔آواز قدرے بلند تھی۔زخرف نے سہم کر اسے دیکھا۔

”تمہارا روز کا یہی ہے۔سارا سارا دن کمرے سے باہر گزارتی ہو اور جب کمرے میں آتی ہو تو کبھی پیٹ،کبھی سر اور کبھی کیا پکڑ کر بیٹھ جاتی ہو۔مورے ٹھیک کہتی ہیں،تم ایک نمبر کی ڈرامے باز ہو۔کام نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈتی ہو۔“وہ اپنے اندر کی کڑواہٹ کو باہر انڈیل رہا تھا۔زخرف کی دنیا دھندلا گئی۔پیٹ پر رکھا ہاتھ پہلو میں جا گرا۔ہلکی سی کپکپاہٹ وجود میں رینگ گئی۔

”ماں بننے والی ہو اور کھیلتی گڑیا سے ہو تم۔سچ تو یہ ہے کہ تمہیں یہ بچہ چاہیئے ہی نہیں۔مگر زخرف……“تیزی سے چل کر اس تک گیا اور بازو سے کھینچ کر اسے کھڑا کیا۔زخرف کے تمام الفاظ لبوں تک آ کر دم توڑ گئے۔لبوں پر فقل لگ گیا۔

”تم ہی بار بار مجھ سے کہتی تھی نہ کہ تمہیں ماں بننا ہے۔بچہ ہو جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا پھر یہ سب کیوں کر رہی ہو؟“وہ اتنا زور سے دھاڑا،زخرف لرز کر رہ گئی۔بمشکل لبوں پر لگا فقل توڑا۔

”میں…..ڈرامہ نہیں کر رہی۔سچ میں مجھے بہت درد ہوتا ہے۔مجھ سے…..کام نہیں…..ہوتے۔“آواز رندھ گئی۔آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔

”پتا نہیں کون سے کام کرتی ہو تم؟پانچ بہنیں ہیں میری۔کسی کی شادی سولہ سال کی عمر میں ہوئی تو کسی کی اٹھارہ سال کی عمر میں،سب سے چھوٹی بہن کی شادی تو پندرہ سال کی عمر میں ہوئی۔سب کے بچے ہیں اور وہ صحت مند بھی ہیں مگر تم نے تو ہر چیز کو ہوا ہی بنا لیا ہے۔شاید تم بھول رہی ہو کہ تم خون بہا میں آئی ہو اور خون بہا  میں آئی لڑکی کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے؟تمہارے ساتھ تو کسی نے کچھ بھی نہیں کیا۔“ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور تھوڑا دور کھڑا پیشانی مسلنے لگا۔غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

”پوچھ رہی تھی نہ کہ میں گھر کیوں نہیں آتا؟“اس کا ہاتھ پکڑ کر آئینے کے سامنے کھڑا کیا۔

”اس لیے نہیں آتا میں گھر۔دیکھو خود کو آئینے میں۔“سِماک نے اس کے سر سے چادر اتار پھینکی۔وہ سسکی،روئی مگر وہ ایسے ہی الفاظ کے خنجر برساتا رہا۔

”آخری بار کب بال بنائے تھے تم نے؟آخری بار کب نہائی تھی تم؟کپڑے کب تبدیل کیے تھے؟چہرہ دیکھو اپنا،کیل اور مہاسوں سے بھرا ہوا ہے۔کچھ بھی نہیں ہے تمہارے پاس جو مجھے یہاں روک سکے۔مجھے ایک شریک حیات کی ضرورت تھی نہ کہ تم جیسی ڈرامے باز لڑکی کی۔“سِماک نے اسے گھما کر رخ اپنی جانب کیا۔وہ چیخی پھر ہراساں نگاہوں سے اسے دیکھا۔اسے شانوں سے تھام کر وہ تھوڑا جھکا۔آتشی نگاہیں سرمئی آنکھوں میں گاڑھی۔

”میرا بس چلے تو تمہیں اپنی زندگی سے نکال کر باہر پھینک دوں۔اتنی زہر لگنے لگی ہو تم مجھے۔بیویاں ایسے نہیں ہوتی۔“اسے چھوڑ کر وہ نفی میں سر ہلاتا سیدھا کھڑا ہوا۔وہ زخرف کا موازنہ شگوفہ سے کر رہا تھا۔جس طرح شگوفہ اس کا خیال رکھتی تھی،اس کا غم بانٹی تھی،اس کے لیے تیار ہوتی تھی،مسکرا کر کھانا پیش کرتی تھی،زخرف کو بھی یہ سب کرنا چاہیئے تھا۔زخرف کبھی اس کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی تھی یا پھر شاید سِماک کی توقعات بہت زیادہ تھیں۔وہ نا صرف شگوفہ اور زخرف کی عمر کا فرق بھول بیٹھا تھا بلکہ ان کے مختلف حالات بھی بھول گیا تھا۔

اس کے کمرے سے جانے کے بعد وہ نجانے کتنی دیر سسکتی رہی تھی پھر اس نے دھندلی آنکھوں سے اپنا عکس آئینے میں دیکھا۔

کپڑوں پر ہاتھ پھیرا پھر بالوں پر،پھر چہرے پر……

کیل مہاسے تو پریگنینسی کے بعد نکلنا شروع ہوئے تھے۔کپڑے تو اس کے پاس تھے ہی نہیں اور بال……کیا اتنا وقت ہوتا تھا اس کے پاس کہ وہ خود کو سنوار سکے؟اگر ہوتا بھی تھا تو اسے کہاں یہ چونچلے آتے تھے؟اسے تو کبھی کسی نے کچھ بتایا ہی نہیں،کبھی کچھ سمجھایا ہی نہیں۔

وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔وہ پہلے تو ایسا نہیں تھا یا پھر شاید وہ شروع سے ایسا ہی تھا،بس وہ سمجھ نہیں سکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوٹل کی کھڑکیوں سے جھانکتی رات کی نیلی سیاہی میں کوردوبا کی قدیم عمارتوں کے سائے ہلکے ہلکے لرز رہے تھے۔ہوٹل کے ایک کمرے کی بالکونی میں رکھی میز کے گرد ایک خاندان بیٹھا تھا۔مسٹر محمود،مسز محمود اور قانِتہ چمکتی ہوئی شمع کی روشنی میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

”مجھے غزوان پسند ہے۔“قانِتہ کے آہستگی سے کہے جملے پر وہ دونوں چونکے پھر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اسے دیکھا۔

”کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟“مسز محمود نے یقین کرنا چاہا۔

”بالکل،بس آپ ابھی رشتے کے لیے ہاں نہ کیجیے گا۔میں چاہتی ہوں کہ غزوان اور میں ساتھ میں کچھ وقت گزاریں اور ایک دوسرے کو سمجھیں پھر ہی بات آگے بڑھے۔“

”ہاں ہاں بیٹا،کیوں نہیں۔جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہو گا۔“دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں مطمئن رہنے کا اشارہ دیا۔قانِتہ کے اس فیصلے پر وہ بےحد خوش تھے۔

ماحول میں ایک لطیف سا سحر بکھر گیا۔

دور قدیم عمارتوں کو دیکھتے قانِتہ کا ذہن نئی سازش بن رہا تھا۔

”غزوان کے شادی سے انکار کرنے کے بعد میں کہہ دوں گیئں کہ میرا دل ٹوٹ گیا ہے اور اب دوبارہ شادی نہیں کروں گیئں۔چار،پانچ سال تو سکون سے گزر ہی جائیں گے۔“دور کہیں ہسپانوی گیت کی مدھم آواز کو سنتے اس نے مسروریت سے سوچا۔

وہ اپنے والدین کے ساتھ یہاں بالکنی میں موجود تھی جبکہ دوسری طرف غزوان اپنے خاندان کے ساتھ ٹیرس پر موجود تھا۔

”تم ہمیشہ مجھے شرمندہ کرتے آئے ہو۔اگر قانِتہ نے محمود کو تمہاری حرکتوں کے بارے میں بتا دیا تو میری کیا عزت رہ جائے گی؟“جہانزیب نے خفگی سے غزوان کی جانب دیکھا۔مسز جہانزیب کے چہرے کے تاثرات بھی کافی سخت تھے۔

”آپ فکر نہ کریں پاپا۔اس نے کچھ بتانا ہوتا تو اب تک بتا چکی ہوتی۔اور ویسے بھی آپ اب بس شادی کی تیاریاں کریں،اسے میں منا لوں گا۔“رات کی خنکی میں ہلکی سی نمی گھلنے لگی۔غزوان کے چہرے پر فتح کے اثرات نمایاں تھے۔

”کچھ الٹا سیدھا مت کرنا۔“جہانزیب کی تنبیہ پر وہ اثبات میں سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا ۔

جہانزیب اور طیبہ باتوں میں مصروف ہو چکے تھے اور غزوان چل کر ٹیرس کی ریلنگ تک آیا۔ایک ہاتھ میں کافی کا بھاپ اڑاتا کپ تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے جیب سے موبائل نکال کر قانِتہ کا نمبر ڈائل کیا۔گوادالکویر دریا کے پانی کی مدھم سرگوشیاں رات کے سحر میں اضافہ کرنے لگیں۔

”کیسی ہو پری وَش؟“

”کیا مسئلہ ہے؟“وہ اکھڑے اکھڑے لہجے میں پوچھنے لگی۔

”سورج ڈھل گیا،آج کی شرط نہیں بتائی تم نے؟“بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے قانِتہ کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ آئی۔

”کس بات کی جلدی ہے؟میں چاہوں تو ایک ہی دن میں ساری شرائط پوری کروا لوں۔سو جاؤ سینور غزوان،کل ایک ساتھ دو کام کرنے ہیں تم نے۔“قانِتہ کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔کوردوبا کی پراسرار رات میں اس کی آنکھیں جگمگا رہی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی

مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی

رات کے تین بجے وہ اوندھے منہ بستر پر گہری نیند سو رہا تھا۔سفر کی تکان کی وجہ سے نیند جلد اس پر مہربان ہو گئی تھی۔فون کی گھنٹی پر وہ ذرا سا کسمسایا مگر آنکھیں نہ کھولیں۔دوسری کے بعد تیسری گھنٹی پر اس نے جھنجھلا کر بستر پر ہاتھ مارا اور بغیر دیکھے کال ریسیو کی۔

”کسے موت پڑی ہے؟“اس نے خمار آلود آواز میں کہا۔

”تمہاری پری وَش کو۔“شیریں مدھم آواز پر دل زور سے دھڑکا،نیند بھک سے اڑی۔وہ سیدھا ہو بیٹھا۔

آنکھیں جھپکائیں اس نے سکرین پر جگمگاتا نمبر ایک،دو،تین،چار،پانچ بار دیکھا۔لب حیرت سے کھل گئے۔وقت دیکھا پھر اس کے کہے جملے کو سوچا اور فون دوبارہ کان سے لگا لیا۔

”پری وش؟“یقین کرنا چاہا۔

”تمہارے پاس چار بجے تک کا وقت ہے۔گوادالکویر دریا جاؤ اور دریا کے پانی پر گلاب کے پھولوں سے میرا نام لکھو اور تصویر بھیجو۔اگر چار بجے تک مجھے تصویر نہ موصول ہوئی تو صبح تم شادی سے انکار کرو گے۔“کال ڈسکنیکٹ ہو چکی تھی اور غزوان سکتے کی حالت میں بستر پر بیٹھا تاریک سکرین کو گھورتا رہ گیا۔

”دریا تو دو کلومیٹر دور ہے اور پانی پر کیسے گلابوں سے…..یہ پاگل ہو گئی ہے کیا؟“اب اسے قانِتہ کی سازش کا علم ہوا تھا۔اس کی چالاکی اسے اب سمجھ آنے لگی تھی۔

وہ ایکدم بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور جوتے پہن کر باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔

یہ چھ دن اسے بہت مہنگے پڑنے والے تھے۔

قانِتہ چار بجنے تک اس کے میسج کا انتظار کرتی رہی۔لبوں پر سکون بھری مسکراہٹ رقصاں تھی۔جانتی تھی کہ جو کام اس نے غزوان کو دیا ہے،وہ ناممکن ہے۔

اس نے موبائل کی سکرین کو دیکھا،چار بجنے میں ایک منٹ رہتا تھا۔لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔موبائل ایک طرف رکھا اور سیدھی ہو لیٹی۔اب وہ سکون سے سو سکے گی۔غزوان نامی مصیبت ٹل جو گئی تھی مگر یہ کیا؟ٹھیک دس سیکنڈ پہلے بیپ کی آواز نے اس کا سکون غارت کر دیا۔قانِتہ ٹھٹھکی پھر ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔پریشانی سے موبائل اٹھایا اور میسج کھولا۔

”پری وش……“اس کے لب ہولے سے ہلے۔دریا کے پانی پر پھولوں سے اس کا نام لکھا تھا۔وہ سانس نہیں لے سکی۔دل کسی گلیشیر کی طرح پھسلتا ہوا محسوس ہوا۔”یہ اس نے کیسے کیا؟“اس کے ذہن نے تقریباً کام کرنا چھوڑ دیا۔

فون کی گھنٹی پر اس نے فوراً کال ریسیو کی۔

”اچھا چیلنج تھا پری وَش،میں نے انجوائے کیا۔“شوخ آواز کے بعد قہقہہ گونجا۔قانِتہ ابھی تک سکتے میں تھی۔

”یہ……یہ تم نے کیسے کیا؟“حیرت میں ڈوبی آواز پر وہ محظوظ ہوا 

”گاڑی بھیج رہا ہوں۔آ کر دیکھ لو۔“

”میں نہیں آ رہی۔“وہ گڑبڑائی۔غزوان کے لبوں پر ہلکا سا تبسم بکھر گیا۔”تم آؤ گی،مجھے یقین ہے۔“نرمی سے کہا اور کال کاٹ دی۔قانتہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔نجانے یہ کون سا احساس تھا جو وہ محسوس کرنے لگی تھی؟

سر جھٹکا اور بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

اسے دریا کے پانی پر پھولوں سے اپنا نام لکھا دیکھنے کا اشتیاق ہوا۔نجانے یہ غزوان نے کیسے کیا تھا؟

گوادالکویر کے ساحل پر رات کی تاریکی دھیرے دھیرے تحلیل ہونے گی۔لہریں آہستہ آہستہ کنارے سے ٹکرا رہی تھیں۔قانتہ ریت پر رفتہ رفتہ قدم رکھتی آگے بڑھ رہی تھی جب اسے دور کشتی سے ہاتھ ہلاتا غزوان نظر آیا۔اس کے ماتھے پر شکنیں ابھریں اور ساتھ لبوں پر ہلکا سا تبسم……ٹراؤزر شرٹ پہنے رف سے حلیے میں وہ اسے عجوبہ لگ رہا تھا۔کشتی کنارے پر آ کر ٹھہر گئی۔غزوان چل کر اس تک آیا۔قانتہ نے غور سے اس کے بکھرے بال اور سرخ آنکھیں دیکھیں۔یقینا وہ گہری نیند سو رہا تھا۔لمحہ بھر کو افسوس ہوا،صرف لمحہ بھر کو……پھر چہرے پر واپس وہی سختی آ ٹھہری۔

”چلیں…..“اس نے قانتہ کو ساتھ چلنے کا کہا۔وہ خاموشی سے کشتی میں جا بیٹھی۔کشتی دریا میں آگے بڑھ گئی جبکہ ریت پر قدموں کے نشان وہیں ثبت رہے جنہیں پانی کی لہروں نے ابھی مٹانا تھا۔سارا راستہ خاموشی سے گزرا۔کشتی وسط میں جا کر رکی۔غزوان اپنی جگہ سے اٹھا،ساتھ قانتہ بھی اٹھی۔

اس نے دریا کے پانی پر کچھ تلاش کرنا چاہا مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔اس نے گھبرا کر غزوان کی جانب دیکھا جو شوخ سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

”تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟“اپنی بیواقوفی پر خود کو ہزار بار ملامت کی۔

”میں کب لایا؟تم خود آئی ہو۔“جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور آہستگی سے شانے اچکائے۔قانتہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گیئں۔

”وہ تصویر……“اب کی بار آواز مدھم پڑی۔

”وہ…..وہ تو میں نے جینریٹ کی تھی۔یہ کون سا مشکل کام ہے؟“وہ اب بھی اس ہی بے نیازی سے گویا ہوا تھا۔

”تم……“وہ لب بھینچ گئی۔الفاظ ٹوٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔

”دھوکہ باز کہیں کے۔تمہاری نیت شروع دن سے خراب ہے لیکن میں بھی قانتہ یزدان ہوں۔اتنے تمہارے پاس پینترے نہیں ہوں گے جتنے میرے پاس ہتھیار ہیں۔کچھ الٹا سیدھا سوچنا بھی مت۔“ہاتھ اٹھا کر سختی سے وارننگ دی گئی۔غزوان نے تاسف سے اسے دیکھا پھر نفی میں سر ہلانے لگا۔

”تم میرے بارے میں اتنا غلط کیوں سوچتی ہو؟“کچھ دکھ سے کہا اور چل کر ایک قدم نزدیک آیا۔قانتہ پھرتی سے کنارے سے جا لگی۔ذہن تیزی سے کام کرنے لگا۔اسے خود کودنا تھا یا پھر غزوان کو دھکا دینا تھا؟وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی جب غزوان نے آہستگی سے اس سے کہا۔

”آنکھیں بند کرو۔“قانتہ نے حیرت سے اسے دیکھا پھر کچھ سخت کہنے کے لیے لب کھولے مگر غزوان نے اسے ٹوک دیا۔

”پلیز پری وش،تھوڑا تو اعتبار کرو۔“وہ منت کر رہا تھا مگر قانتہ ایسے ہی مشکوک نگاہوں سے اسے گھورتی رہی۔

”ٹھیک ہے،مت کرو۔“اس نے گویا ہار مانی اور جھک کر ایک تھیلا اٹھایا،پھر کنارے پر پنجوں کے بل بیٹھ گیا۔تھیلے سے پھول کی پتیاں نکالیں اور پانی پر ”P“ اور ”G“ لکھا۔قانتہ سانس روکے اس کے اس عمل کو دیکھتی رہی۔نہ پتیاں بکھری ،نہ ڈوبیں۔افق پر پھیلی مدھم روشنی میں دو حروف جگمگانے لگے،جیسے کسی خواب کی خوبصورت تعبیر……

”یہ تم نے کیسے کیا؟“وہ چل کر اس کے قریب آئی اور حیرانگی سے پانی پر بہتے دو حروف کو دیکھنے لگی۔

”جادو…..“غزوان نے شانے اچکا کر کہا۔

”بکواس نہ کرو، بتاؤ کیسے کیا تم نے؟“وہ غصے سے پھنکاری۔غزوان نے فوراً ہاتھ اٹھا کر ڈرنے کی ایکٹنگ کی۔

”نیچے مچھلی کا جال بچھایا پھر اوپر پھول بکھیر دیے۔یہاں ویسے بھی پانی کی رفتار کم ہے۔پہلے بھی یہ کر سکتا تھا مگر چاہتا تھا کہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھو۔“

”تم شرط ہار گئے غزوان۔میں نے کہا تھا کہ……“

”تم نے کہا تھا کہ دریا کے پانی پر تمہارا نام لکھوں اور تمہیں تصویر بھیجوں،میں نے دونوں کام کیے ہیں پری وَش مگر الگ الگ۔شرط پوری ہوئی، اب اگلا چیلنج بتاؤ۔“وہ ہاتھ باندھے عزم سے کہہ رہا تھا۔قانتہ نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور شکست خوردہ حالت میں بیٹھ گئی۔غزوان بھی اس کے سامنے بیٹھا۔

”مجھے تم پر ترس آ رہا ہے۔“قانِتہ نے مدھم آواز میں کہا۔دور کہیں درخت کان لگائے ان کی گفتگو سننے لگے۔دریا کا پانی اب دو حروفوں کو منتشر کرنے لگا۔گلاب کی پتیاں پانی کے بہاؤ سے آگے بہنے لگیں۔

”کیوں؟“ہوا کے نرم جھونکے اس کے بال ماتھے پر بکھیرنے لگے۔

”تم پاگل ہو۔ساری دنیا میں تمہیں ایک میں ہی ملی ہوں؟عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہے تمہارے پاس؟“وہ واقعی جاننا چاہتی تھی۔

”تمہارے آگے مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔“اس نے آہستگی سے اپنے ہاتھ کی ایک انگلی پانی میں پھیری۔

”مجھ میں ایسا کیا ہے؟“وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔

”تم میری کل کائنات ہو پری وَش۔جب میں نے قدم پیچھے ہٹائے تو میرا دل سو ٹکروں میں بٹ گیا تھا۔ہر چیز بے معنی لگنے لگی۔اب جب پھر سے امید ملی ہے تو میں تمہیں پانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔“

”زبردستی کرو گے؟“آبرو ریز کیے پوچھا۔وہ نفی میں سر ہلاتا مسکرا دیا۔

”تمہارے دل اور زندگی میں جگہ بنانے کی پوری کوشش کروں گا۔“

”تم سچ میں پاگل ہو۔“قانِتہ نے افسوس سے سر جھٹکا۔

”تمہارے عشق میں…..“غزوان نے جملہ مکمل کیا اور ہاتھ سے پانی اچھال کر اس کی طرف پھینکا۔وہ غصے سے بھپڑ گئی۔

”بدتمیز…..“گھور کر کہا۔غزوان ہنس دیا۔

”تمہیں پتہ ہے مجھے پانی کا فوبیا تھا۔“قانِتہ نے چونک کر اسے دیکھا۔

”تھا،اب نہیں ہے۔میں نے اپنے ڈر پر قابو پا لیا۔تمہاری زندگی کا سب سے بڑا ڈر کیا ہے؟“وہ بس باتوں سے باتیں نکال رہا تھا تا کہ زیادہ سے زیادہ وقت قانِتہ کے ساتھ گزار سکے۔کشتی آہستگی سے کنارے کی جانب بڑھنے لگی۔سورج کی روشنی رفتہ رفتہ ہر طرف پھیلنے لگی۔

قانِتہ نے دور افق پر ابھرتے سورج کو دیکھا پھر کچھ سوچ کر گویا ہوئی۔

”شادی……“یک لفظی لفظ غزوان کو حیرت میں مبتلا کر گیا۔وہ آنکھیں جھپکائے بغیر اس کے چہرے پر بکھرتی سورج کی روشنی کو دیکھتا رہا۔وہ ایسے ہی سنجیدہ تاثر لیے آسمان کو تک رہی تھی۔

”پتا نہیں کس ماں کا دلار ہو گا جس کی قسمت پھوٹے گی۔جہاں تک میں خود کو جانتی ہوں،میرے بہت سے مسائل ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ غصہ ہے۔کبھی بھی آ جاتا ہے۔نجانے کیا ہو گا اس بیچارے کا؟“آسمان سے نگاہیں ہٹائیں اور کچھ بے چارگی سے غزوان کی جانب دیکھا۔

”اگر تم مجھے ڈرا رہی ہو تو میں نہیں ڈرنے والا۔“غزوان نے گویا ناک سے مکھی اڑائی۔

”تم کیوں ہر وقت مجھ سے چپکے رہتے ہو؟کوئی اور کام نہیں ہے تمہیں؟“

”تم پر نیگیٹو چارجز جو ہیں۔میں ٹھہرا سر سے پیر تک پازیٹیو انسان…… نا چاہتے ہوئے بھی تمہاری جانب کھینچتا چلا جاتا ہوں۔“قانِتہ نے اچھنبے سے اسے دیکھا اور اگلے لمحہ ہنس دی۔وہ غلط فلاسفی دے رہا تھا۔اس کی ہنسی کی کھنک پانی کی لہروں میں تیرتی چلی گئی۔

”عجیب ہو تم۔“قانِتہ نے اس کی عقل پر ماتم کیا۔

”اچھا ویسے جب تم نے کہا کہ شادی تمہارا سب سے بڑا ڈر ہے تو میں بالکل شاک ہو گیا تھا۔“

”یہ میری زندگی کا سب سے بڑا ڈر نہیں ہے بلکہ اس کی زندگی کا ہو گا،جسے پتھر سے سر پھوڑنے کا شوق ہے۔میں نہیں مانتی کہ شادی لڑکی کے لیے کوئی خوف ہے۔ہاں،ایک کمٹمنٹ ہے جسے دونوں نے نبھانا ہوتا ہے مگر تمہارے برصغیر کی خواتین اسے کچھ زیادہ ہی برا بنا کر پیش کرتی ہیں۔“

”مطلب؟“غزوان نے سوالیہ آبرو اٹھائی۔

”میں جب دبئی میں تھی تو میری دوست پاکستانی تھی۔ہر روز اپنے سسرال والوں کی برائی کرتی رہتی تھی۔وہ پاکستانی ڈرامے دیکھتی تھی۔اس کے کہنے پر میں نے بھی دو تین ڈرامے دیکھے۔میرا تو سر گھوم کر رہ گیا۔ساس نہ ہو گئی،ولن ہی ہو گئی اور شوہر ایسا کانوں کا کچا…..اللہ معاف کرے۔کوئی کردار ہی نہیں تھا اس کا۔بس لو میرج کر لی اور اس کے بعد ماں اور بہنوں کی باتوں میں آ کر بیوی پر ظلم ڈھانے شروع کر دیے۔مطلب کچھ بھی…..“قانِتہ نے برا سا منہ بنا کر جھرجھری لی۔

”پھر ایک جگہ ساس اپنی بہو کو جلانے کی کوشش کر رہی تھی،مطلب حد ہی ہو گئی۔اتنا جھوٹ دکھاتے ہیں یہ لوگ۔حقیقتا تو ایسا کچھ نہیں ہوتا۔“

”تمہیں کس نے کہہ دیا کہ ایسا نہیں ہوتا؟بہت سارے گھرانوں میں خواتین کے ساتھ ظلم ہو رہے ہیں۔“

”میں نہیں مانتی۔میڈیا سب بڑھا چڑھا کر دکھاتا ہے۔“

”تم یہ سب اس لیے کہہ رہی ہو کیونکہ تم نے کبھی یہ سب دیکھا نہیں ہے۔“

”بالکل،میں نے جو چیزیں کبھی دیکھی نہیں، ان پر یقین نہیں کروں گیئں۔“کشتی کنارے تک پہنچ چکی تھی۔وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

”اگلے چیلنج کا بےصبری سے انتظار ہے مجھے۔“وہ ریت پر آگے بڑھ رہی تھی جب غزوان کی آواز پر قدم رکے۔سر ہلکا سا موڑ کر کشتی میں کھڑے غزوان کی جانب دیکھا۔بال ہوا کے جھونکوں سے اڑنے لگے۔ایک ہاتھ سے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا اور منہ چڑا کر آگے بڑھ گئی۔پیچھے گوادالکویر کے پانی میں غزوان کا قہقہہ گونجا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارش کی بوندیں تڑ تڑ چھت پر گر رہی تھیں۔کھلے دروازے سے یخ ٹھنڈے ہوا کے جھونکے کمرے کے اندر داخل ہو رہے تھے۔بستر پر دبلی پتلی سی زخرف لیٹی ہوئی تھی۔اس کا پیٹ ابھرا ہوا تھا۔اسے آٹھواں مہینہ تھا۔چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔یہ وقت وہ کیسے کاٹ رہی تھی، صرف وہی جانتی تھی۔اس حالت میں جو کچھ ایک پچس،چھبیس سالہ خاتون بھی نہ سہہ سکے،وہ دس سال کی عمر میں سہہ رہی تھی۔باقی دنوں کی نسبت آج حالت زیادہ خراب تھی۔وہ کروٹ بدلنا چاہتی تھی مگر چاہ کر بھی نہ بدل سکی۔

عین اسی وقت سِمَاک کمرے کے اندر داخل ہوا۔زخرف نے بےبسی سے اسے دیکھا مگر کچھ نہ کہا۔

”کام سے جا رہا ہوں،رات نہیں آؤں گا۔“اس نے گو کہ بتا کر احسان جتلایا۔

”مت جائیں۔میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“پلنگ کی چادر کو ہاتھ میں دبوچا اور بمشکل اٹھ بیٹھی۔

”کب ٹھیک ہوتی ہے تمہاری طبیعت؟“سر جھٹک کر طنز کیا اور بالوں میں کنگھی پھیرنے لگا۔

”غانیہ کو بلا لو اپنے پاس یا پھر تم چلی جاؤ اس کے کمرے میں۔صبح آ جاؤں گا۔“

”مجھے آپ کی ضرورت ہے۔“اس نے سسک کر فریاد کی۔سِمَاک نے گہری سانس لی اور تیوری چڑھا کر اس کی جانب مڑا۔

”مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے۔مجھے تنگ مت کیا کرو۔“

”آپ میرے ساتھ یہ کیوں کر رہے ہیں؟“پیٹ کر ہاتھ رکھا،کراہی،پھر بمشکل بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”میں کیا کر رہوں تمہارے ساتھ؟“غصے سے چل کر اس تک آیا پھر سخت لہجے میں استفسار کیا۔

”آج مت جائیں۔“زخرف نے ایک آس سے اس کا ہاتھ تھاما جسے سِمَاک نے فوراً جھٹک دیا۔

”مجھے پریشان مت کرو زخرف۔“وہ اکتایا اکتایا سا تھا۔

”آپ کسی اور کو چاہتے ہیں؟“اب وہ اتنی ناسمجھ بھی نہیں رہی تھی کہ سارے معاملات نہ سمجھ سکتی۔

”ہاں…..“روز روز کے جھوٹ سے تنگ آ کر اس نے بالآخر سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔وہ تھوڑا سا جھکا اور سختی سے سرمئی آنکھوں والی چڑیا کی جانب دیکھا۔

”صرف چاہتا نہیں ہوں۔شادی کر چکا ہوں،اس سے جو میری محبت ہے۔اگر تمہارا بھائی میرے بھائی کو قتل نہ کرتا تو تم کبھی میرے راستے کی رکاوٹ نہ بنتی مگر خیر……“سیدھا ہوا اور کندھے اچکائے۔

”اسلام مجھے چار شادیوں کا حق دیتا ہے۔تم فکر مت کرو، تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔“اپنی کہی اور چلتا بنا۔پیچھے زخرف کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔اسے اپنا آپ ایک اندھیری کھائی میں گرتا ہوا محسوس ہوا۔سانسیں بے ترتیب ہو گیئں،چہرہ پسینے سے بھیگنے لگا۔

”نہیں،نہیں……“ہوا میں آکسیجن کم ہوتی محسوس ہوئی۔

”صرف چاہتا نہیں ہوں۔شادی کر چکا ہوں۔اس سے جو میری محبت ہے۔“اس کے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں۔منظر دھندلا سا گیا۔

”نہیں سِمَاک……مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔اس کے پاس مت جائیں۔“اگلے لمحہ اس نے خود کو بھاگتے ہوئے پایا۔وہ اندھا دھند کمرے کی دہلیز پار کرتی راہداری سے گزری پھر صحن تک پہنچی۔بارش پوری شدت سے برس رہی تھی۔

”سِمَاک…..“اس نے پوری قوت سے اسے پکارا مگر وہ کہیں نہیں تھا۔وہ جا چکا تھا۔وہ زخرف فاطمہ کو چھوڑ کر جا چکا تھا۔بارش میں بھیگتی زخرف نے ایک بار پھر دروازے کی جانب دوڑ لگانی چاہی مگر کیچڑ کی وجہ سے اس کا پیر بری طرح پھسلا اور وہ پیٹ کے بل آگے جا گری۔

ہولناک چیخیں ہوا میں تحلیل ہونے لگیں۔”اللہ!“اس نے تڑپ کر پکارا اور پیٹ کو تھامے بلکنے لگی۔”اللہ!“آنسو بارش کے پانی میں گھلنے لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔