Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273

Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Last updated: 27 September 2025

61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi

”آپ نے آج پھر نشہ کیا؟“خاتون کے لہجے میں کچھ برہمی اور تشویش کا عنصر شامل تھا۔ ”میرے معاملات میں ٹانگ مت اڑاؤ۔“وہ ترش اور لرزتی ہوئی آواز میں بیوی کو جھڑک کر صوفے تک آیا۔نشے کے اثر کے باعث اس کی آنکھیں سرخ اور خمار آلود ہو رہی تھیں۔ ”آپ چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ سب؟مت جایا کریں دوسری عورتوں کے پاس۔مجھے تکلیف ہوتی ہے۔آخر کیوں کرتے ہیں یہ سب؟“بیوی نے منت بھری ہوئی نگاہوں سے شوہر کو دیکھا اور مدھم سنجیدہ آواز میں کہا، معنوں فریاد کی ہو۔شوہر نے ایک تیز نگاہ اپنی بیوی پر ڈالی،اگلے لمحے وہ غصے سے اٹھ کھڑا ہوا جیسے الفاظ نے اندر آگ لگا دی ہو۔ ”بکواس کرتی ہو۔“اس کی آنکھیں کسی شکاری کی طرح چمک رہی تھیں۔بیوی نے سہم کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر شوہر نے برق رفتاری سے اس کا منہ دبوچ لیا۔وہ فریاد کرنا چاہتی تھی،منت کرنا چاہتی تھی مگر اس کی سخت گرفت سے سارے الفاظ منہ میں ہی دب گئے۔اگلے لمحے شوہر نے وحشیانہ انداز میں بیوی کو صوفے پر دکھیل دیا۔وہ دھڑام سے گری،لمحے بھر کو سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی،شوہر کی انگلیاں بیلٹ کی بکل تک جا پہنچی تھیں۔ ”ہوتی کون ہو مجھ سے سوال جواب کرنے والی؟“شوہر کی دھاڑتی آواز بنگلے کی دیواروں میں گونجنے لگی تھی۔ خود میں سمٹتے بیوی نے کچھ کہنا چاہا مگر گلے میں جمع آنسوؤں کے گولے نے اسے کچھ بھی کہنے نہ دیا۔ پہلا وار پڑا تو وہ درد کی شدت سے چیخ اٹھی۔روز کا معمول آج پھر دہرایا جا رہا تھا۔چمڑے کی سخت پٹی جسم پر نشان چھوڑتی جا رہی تھی۔ ”دوبارہ زبان چلانے کی جرات مت کرنا۔“وہ غرایا اور بیلٹ کا ایک اور وار کیا۔ ”مت مارو،پلیز!“وہ بلکنے لگی مگر نشے میں دھت شخص کو اس پر رحم نہ آیا۔ کچھ فاصلے پر موجود کمرے میں وہ گہری نیند سویا ہوا تھا جب لاؤنچ میں ہوتی چیخ و پکار نے اسے ایک جھٹکے سے اٹھا دیا۔اس کی سماعتوں سے پہلے اپنے باپ کی گرجتی ہوئی دھاڑ ٹکرائی پھر ماں کی درد بھری چیخوں کی آواز۔ لمحہ بھر میں اس نے بستر چھوڑا اور بے قابو ہوتے ہوئے لاؤنچ کی طرف دوڑنا شروع کیا۔جیسے ہی وہ لاؤنچ میں پہنچا،دل دہلا دینے والا منظر اس کے سامنے تھا۔اس کا باپ بےدردی سے اس کی ماں کو پیٹ رہا تھا۔ ہراساں نگاہوں سے وہ گھبراتے ہوئے اپنے باپ کی سمت بڑھا۔اس نے ان کا بازو پکڑ کر انہیں روکنے کی کوشش کی مگر وہ اسے پرے دکھیل کر وحشیانہ انداز میں اپنی بیوی کو پیٹنے لگا۔ اس لڑکے کی نظر اب میز پر پڑے لوہے کے مجسمے پر پڑی۔خوف کو ایک طرف رکھتے اس نے وہ مجسمہ اٹھا لیا۔اگلے لمحے اس نے پوری شدت سے مجسمہ اپنے باپ کے سر پر دے مارا۔باپ کا ہاتھ بے اختیار سر کی پشت کی جانب بڑھا۔آنکھیں پھیلیں،قدم ڈگمگائے اور وہ دھڑام سے فرش پر جا گرا۔سر سے بہتا لال خون سفید فرش پر پھیلتا چلا گیا۔ بنگلے میں لمحہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ لڑکے نے خوفزدہ نگاہوں سے اپنے باپ کی جانب دیکھا اور پھر ہاتھ میں تھامے مجسمے کی جانب۔دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ہاتھ لرزنے لگے۔وہ بےیقینی سے مجسمے کو دیکھ رہا تھا۔ ”یہ اس نے کیا،کیا تھا؟یہ اس سے کیسے ہو گیا تھا؟“وہ ابھی ٹھیک سے سوچ بھی نہیں پایا تھا جب ایک زناٹے دار تھپڑ اس کی گال پر رسید ہوا تھا۔ ”یہ تم نے کیا کر دیا؟“بیٹے کو جھنجھوڑتے ہوئے ماں ایک کے بعد دوسرا تھپڑ رسید کر رہی تھی۔وہ مسلسل چلاتی ہوئی اپنے بیٹے کو ملامت کر رہی تھی۔ ”اپنے باپ کو مار دیا تم نے۔“لڑکے کی آنکھیں بھیگ گئیں۔لب بری طرح پھڑپھڑانے لگے۔روتے روتے وہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہا تھا۔وہ اپنے عمل کی نفی کر رہا تھا۔فرش پر پڑا بے سود وجود،خون کے دھبے،ماں کی چیخ و پکار......اس وحشت ناک رات نے اسے گہرا صدمہ دیا تھا۔ عین اس وقت کوئی طوفان کی مانند داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔سامنے کا منظر دیکھ کر چہرے پر ہوائیاں چھانے لگیں۔ ”بھائی صاحب.....“وہ بھاگ کر اپنے بےجان پڑے بھائی کے پاس جا بیٹھا،اس کے شانے ہلانے لگا مگر بےجان وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ ”بھائی صاحب کیا ہو گیا آپ کو؟اٹھیں.....“انہوں نے ایک بار پھر اپنے بھائی کو جھنجھوڑا۔نگاہیں پہلے فرش پر پھیلے خون پر پڑیں،پھر کانپتی زخمی بھاوج پر اور آخر میں ہاتھ میں لوہے کا فن پارہ تھامے کھڑے اپنے بھتیجے پر......ان کی آنکھوں میں وحشت سمت آئی۔ ”یہ کس نے کیا؟“چنگھاڑتی آواز میں پوچھا گیا۔ماں ڈھال بنی بیٹے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ”یہ سب......یہ سب میں نے کیا ہے۔“چچا نے حیرت سے ماں کی طرف دیکھا۔زخموں سے چور وہ تھر تھر کانپتی کمزور خاتون......وہ یہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔اب ان کی نگاہیں ماں کے پیچھے چھپے اس لڑکے پر پڑیں۔ ”اس نے کیا ہے۔یہ سب اس نے کیا ہے۔میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔میں ابھی پولیس کو بلاتا ہوں۔“لڑکا پیچھے ہٹنے لگا،اس کے قدم ڈگمگانے لگے معنوں زمین پیروں تلے کھسک رہی ہو۔ماں نے اسے بازو سے دبوچا،رخ اس کی جانب پھیرا۔ ”بھاگ جاؤ۔چلے جاؤ۔“وہ حیرت سے اپنی اجڑی ماں کو دیکھتا ہی رہ گیا۔وہ اب بھی اسے بچا رہی تھیں۔بچپن سے لے کر آج تک وہ اسے ہر سرد گرم سے بچاتی رہی تھی اور آج بھی انہوں نے شوہر پر بیٹے کو فوقیت دی تھی۔ لڑکے کے آنسو گال پر پھسلنے لگے۔وہ پھتر بن چکا تھا۔قدم اٹھنے سے انکاری تھے۔

چلے جاؤ۔“ماں نے اسے دروازے کی سمت دکھیلا۔

”کہاں بھیج رہی ہو اسے؟یہ اب صرف جیل جائے گا۔“چچا نے لڑکے کی جانب قدم بڑھانے چاہے مگر ماں درمیان میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔

”بھاگ جاؤ بیٹا۔چلے جاؤ۔میں سب سنبھال لوں گیئں۔کہیں دور چلے جاو۔لوٹ کر مت آنا۔“وہ پوری قوت سے چلاتی اسے جانے کا کہہ رہی تھی۔لڑکے نے آخری بار ماں کو خوف اور دکھ سے دیکھا اور اگلے لمحے اس کے قدم ہوا سے باتیں کرنے لگے۔

چیخنے چلانے کی آوازیں،ماں کی منتیں،چچا کی دھمکیاں، ہر چیز اب پیچھے رہ گئی تھی۔