Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 26)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 26)
وہ بستر پر لیٹی مسلسل چھت کو گھور رہی تھی پھر بے مقصد نگاہیں غزوان پر جا ٹھہریں جو اس کے برابر میں ہی لیٹا موبائل چلانے میں مصروف تھا۔
”تم غزوان کو بھی دھوکا دے رہی ہو۔سوچو جب اسے علم ہو گا کہ تم پہلے سے شادی شدہ ہو۔تم نے اپنے پہلے شوہر کا قتل کیا ہے تو وہ کیا کرے گا تمہارے ساتھ؟“وجود کو جما دینے والے الفاظ کانوں میں گونجے تھے۔کمرے میں تاریکی کے سائے گہرے ہوتے محسوس ہوئے۔یہ سائے اسے نگلنے کے در پر تھے۔وہ غزوان کو دھوکا دے رہی تھی۔یہ خیال ہی جان لیوا تھا۔انکشاف پر نجانے وہ کیا کرتا؟
”کیا دیکھ رہی ہو؟“غزوان کی آواز نے جیسے اسے ہوش دلایا تھا۔
”کچھ نہیں…..“وہ فوراً نظریں چرا گئی تھی۔
”تم مجھے دیکھ رہی ہو۔کیا جھگڑا کرنے کا ارادہ ہے؟“اس کے کہے الفاظ پر وہ پہلے چونکی پھر ماتھے پر بل ڈالے اس کی جانب دیکھا تھا۔
”کیا مطلب؟کیا میں صرف جھگڑا کرنے کے لیے تمہاری طرف دیکھتی ہوں؟“وہ تائید کرنا چاہتا تھا مگر رات کے اس پہر نہ تو وہ اس سے لڑنا چاہتا تھا اور نہ ہی کمرے سے باہر جانا چاہتا تھا،لہذا نفی کی۔
”میں نے ایسا کب کہا؟“
”تمہارا مطلب تو یہی تھا۔“
”چھوڑ دو پری وَش۔صبح لڑیں گے۔“اس جملے پر یقیناً اسے غصہ آتا اگر فلحال وہ کچھ اور نہ سوچ رہی ہوتی۔
”ایک بات کہوں تم سے۔“قانِتہ نے کروٹ بدلی۔کہنی کے بل ذرا سا اٹھ کر اس کی جانب دیکھا۔
”کہو…..“غزوان نے بھی اس کی جانب کروٹ لی۔
”تم دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے؟“وہ حد درجہ سنجیدہ تھی جبکہ غزوان کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔وہ کسی بھی لمحے،کسی بھی بات پر اسے حیران بلکہ پریشان کر دیتی تھی۔
”میں دوسری شادی کیوں کروں گا؟“اس نے بےبسی سے پوچھا تھا۔وہ اسے بےبس کر دیتی تھی۔
”ہو سکتا ہے کہ تمہاری دوسری بیوی تمہاری بہت خدمت کرے۔تمہاری عزت کرے۔تمہارا خیال رکھے۔تمہیں اس سے محبت ہو جائے۔“
”یہ سب تو تم بھی کر سکتی ہو۔بخدا میری محبت میں اضافہ ہی ہو گا۔“سرمئی آنکھوں نے جھیل نما گہری آنکھوں میں دیکھا تھا۔وہاں سمندر جیسی گہرائی تھی۔وہاں اعتبار کی گونج تھی،کوئی ایسی سرگوشی جو سیدھا دل میں اترتی تھی۔اس کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں۔
”میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں۔“اس نے سچ کہنے کا فیصلہ کیا۔وہ غزوان کو دھوکا نہیں دے سکتی تھی۔چاہے انجام جو بھی ہو۔
”میں سن رہا ہوں۔“اس کی آنکھوں میں کچھ تھا،شاید بیقراری یا پھر کوئی اور جذبہ…..نجانے وہ کیا سننے کے لیے بیقرار تھا؟
قانِتہ نے کہنے کی کوشش کی مگر زبان گنگ ہو گئی۔تمام الفاظ کہیں گم ہو گئے۔
”مجھے نیند آ رہی ہے۔“اس نے کروٹ لی اور اپنی جانب کا لیمپ بجھا دیا۔غزوان کئی لمحے اس کی پشت کو دیکھتا رہا۔تاسف سے،رنج سے،امید سے……پھر ایک گہری سانس ہوا کے سپرد کر کے اس نے تکیہ درست کیا اور آنکھیں موند لیں۔دونوں کے درمیان ایک نادیدہ دیوار کھڑی ہو گئی۔یہ دیوار قانِتہ کی جانب سے کھڑی کی گئی تھی۔اب پیش قدمی بھی اسے ہی کرنی تھی۔
”تم نہیں جانتے غزوان،میں کون ہوں۔میں ایک قاتلہ ہوں۔مجھے خوش رہنے کا کوئی حق نہیں۔میں نے ایک چھوٹے بچے کی جان لی ہے۔“پلکوں پر ٹھہرا ہوا آنسو بوجھل ہو کر نیچے گرا اور گال کی نرم سطح کو چھو کر تکیے میں جذب ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(گیارہ سال پہلے)
24 ستمبر رات دس بجے
رات کی سیاہ چادر بستی پر چھا چکی تھی۔چاند کہیں بادلوں کی اوٹ میں دبکا بیٹھا تھا اور ستارے معمول سے ہٹ کر آج مدھم تھے،معنوں کسی چیز کا سوگ منا رہے ہوں۔
ہوا آہستگی سے بستی میں سرسراتی پھر رہی تھی۔
پہاڑی بستی میں کچے صحن کا وہ گھر آج ساکت کھڑا تھا مگر اس کے اندر آج پچھتاؤں کی روح بھٹک رہی تھی۔
گھر کے ایک بوسیدہ کمرے کے بستر کے کنارے پر وہ بےجان سی بیٹھی تھی۔سرمئی آنکھوں کے جوت بجھے ہوئے تھے۔دونوں ہاتھ گود میں دھرے وہ خلا میں نگاہیں جمائے ہوئے تھی۔
پلنگ کے وسط میں فرہاد گہری نیند سو رہا تھا جبکہ سماک زخرف سے تھوڑا فاصلے پر بیٹھا شاید کوئی مناسب الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔اس کے ماتھے پر شرمندگی کی لکیر واضح تھی مگر یہ کوئی پہلی بار تو نہیں ہو رہا تھا۔وہ پہلے بھی ہزار بار زخرف کو نئے خواب دکھا چکا تھا۔اس سے مختلف عہد و پیماں کر چکا تھا۔
”میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔“بالاخر وہ مناسب الفاظ تلاش کر چکا تھا۔زخرف ایسے ہی بیٹھی رہی،معنوں کچھ سنا ہی نہ ہو۔اسے سماک کے الفاظ بےمعنی اور بےوزن محسوس ہوئے۔
”زخرف،کیا تم مجھے ایک آخری موقع نہیں دے سکتی؟“وہ اس کا ہاتھ تھامے بہت امید سے استفسار کر رہا تھا۔
ہوا کھڑکی سے اندر سرک رہی تھی،پردے برابر ہل رہے تھے مگر فضا میں خاموشی برقرار رہی تھی۔
”یہ سب شگوفہ نے کیا۔میں…..“
”یہ سب آپ نے کیا۔“پہلی بار کمرے میں اس کی مضبوط آواز گونجی تھی۔وہ مکمل طور پر اسے توڑ چکا تھا۔اب معافی اور پھچتاوے اس کے کھوئے ہوئے اعتماد کو مشکل ہی واپس لا سکتے تھے۔
”نو سال کی عمر میں میرا کسی سے کیا تعلق ہو سکتا تھا سِماک؟میں تو گڑیا سے کھیلتی تھی۔میری مورے نے مجھ سے کہا کہ زخرف،تمہیں تین بار قبول ہے کہنا ہے۔ایسا کرو گی تو تمہیں بہت سارے کھلونے ملیں گے۔میں نے کہہ دیا۔کھلونے نہیں ملے۔گڑیا نہیں ملی۔صرف ذلت،رسوائی اور مار پیٹ ملی۔آپ نے کیسے کہہ دیا کہ وہ بچہ آپ کا نہیں؟“وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔اب بلند مضبوط آواز میں اس سے جواب طلب کر رہی تھی۔وہ کٹہرے میں کھڑا تھا۔وہ مجرم تھا،وہ ملزم تھی۔وہ جابر تھا،وہ مظلوم تھی۔وہ حاکم تھا،وہ رعایا تھی۔وہ بادشاہ تھا،وہ کنیز تھی۔حساب تو بادشاہوں کا بھی ہوتا ہے۔خدا تو سب کا ایک ہے۔
”زخرف میں…..“اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ کہنے سے روک دیا۔باہر صحن کے پچھلے حصے میں موجود درخت کے پتے بھی تھکن سے بوجھل اب ہلکے ہلکے لرز رہے تھے۔زمین پر گرے کسی سوکھے پتے کے نیچے ہلتا کیڑا بھی آج دکھ کا سانس لے رہا تھا۔آج زخرف سمیت ہر چیز ہی معنوں تھکن سے چور تھی۔آج سب کا صبر جواب دے گیا تھا۔
”کیا شگوفہ نے کہا تھا کہ زخرف کو سارا سارا دن کھانا نہ دو یا پھر جانوروں کی طرح اس سے سارے کام کرواؤں۔شگوفہ نے کہا تھا کہ دس سال کی عمر میں اس پر ایک بچے کا بوجھ ڈال دو۔کیا آپ نہیں جانتے تھے کہ مجھ میں سکت نہیں ہے۔کم از کم چند مہینے ہی میرے ساتھ رحم دلی کا مظاہرہ کر لیتے۔میں ہر تکلیف برداشت کر رہی تھی آپ کی اولاد کو اس دنیا میں لانے کے لیے۔آپ تھوڑی سی پرواہ کر لیتے۔“
”میں نے کچھ نہیں کیا تمہارے ساتھ۔سب کچھ مورے نے…..“ایک اور کمزور دلیل دینے کی کوشش کی گئی تھی جسے بری طرح رد کر دیا گیا تھا۔
”آپ دودھ پیتے بچے نہیں ہیں۔آپ چاہتے تو آپ کی مورے کبھی میرے ساتھ یہ سب نہ کرتیں لیکن آپ نے کبھی چاہا ہی نہیں۔“وہ اب سسک رہی تھی مگر کمزور نہ پڑی تھی۔صبر کا گڑھا اب ٹوٹ چکا تھا۔
”میں اب تمہارا خیال رکھوں گا۔تمہارے لیے پھل اور دودھ بھی لایا ہوں میں۔“وہ استہزایا ہنسی تھی۔
”مجھے بخش دیں سِماک۔آپ پلیز چلے جائیں۔اسے بھی لے جائیں۔“اس نے فرہاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
”کیا تم ایک بار اسے گود میں نہیں اٹھاؤ گی؟کیا تم اسے پیار نہیں کرو گی؟“وہ بس مصالحت کی کوشش کر رہا تھا۔اسے زخرف فاطمہ سے کوئی غرض نہ تھی۔ایک بار وہ اسے معاف کر دیتی،وہ پہلے کی طرح لاپرواہ ہو جاتا۔وہ بس اپنے ضمیر کے بوجھ سے آزاد ہونا چاہتا تھا۔
”یہ آپ کا بچہ ہے،میرا نہیں ہے۔“وہ سِماک سے زیادہ خود کو یقین دلا رہی تھی۔کمرے کی دیواروں میں ہزاروں آنسو قید تھے۔بہت سی سسکیاں ہوا میں تحلیل ہو رہی تھیں۔
”زخرف،ایک بار اسے دیکھو تو سہی…..“سماک فرہاد کو گود میں اٹھائے اس تک آیا تھا۔وہ ایک قدم پیچھے ہٹی تھی۔
”چلیں جائیں سِماک۔اللہ کے لیے چلے جائیں۔میرا دم گھٹتا ہے آپ کے ساتھ۔دل کرتا ہے کہ مر جاؤں یا…..پھر آپ…..مر جائیں۔ہاں،آپ مر کیوں نہیں جاتے؟“وہ بےبسی سے چلائی تھی۔
”میں مر جاؤں گا تو جی لو گی تم؟“اور یہاں اس کی زبان پر فقل لگا تھا۔اس نے تڑپ کر سِماک کی جانب دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں فتح تھی۔یعنی وہ ایک بار پھر ہار چکی تھی۔
”یہ تمہارا بھی بیٹا ہے زخرف۔کیا اسے ایک بار گود میں نہیں اٹھاؤ گی۔“وہ اب اس کے دل پر چوٹ کر رہا تھا۔بارہ سالہ کمزور لڑکی کو بہلانا آسان تھا اور وہ یہی کر رہا تھا۔
”میں وعدہ کرتا ہوں،تمہاری ہر ضرورت کا خیال رکھوں گا۔تمہارے سارے حقوق پورے کروں گا۔ہم خوش رہیں گے۔ایک بار اعتبار کر لو۔“عہد و پیمان کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو چکا تھا۔وہ لفظوں کی چوٹ کر رہا تھا۔محبت کی زبان بول رہا تھا۔وہ تو ویسے ہی پیار کی بھوکی تھی۔وہ اسے سراب کا راستہ بتا رہا تھا،وہ ننگے پیر اس کے دکھائے گئے راستے پر چلنے لگی تھی۔
ہاں،وہ ہار گئی تھی۔سِماک یوسفزئی نے ایک بار پھر زخرف فاطمہ کو ہرا دیا تھا۔ایک بار پھر سرمئی آنکھوں نے نئے خواب بنے تھے۔یہ خواب آزادی کے نہیں بلکہ قید کے تھے،سِماک کے ساتھ کے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شگوفہ چت بستر پر لیٹی تھی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔اس کی آنکھوں میں انگارے سلگ رہے تھے۔سماک زخرف کے پاس تھا،یہ سوچ ہی اذیت ناک تھی۔وہ اسے بیٹے کی خوشی دے چکی تھی مگر پھر بھی وہ زخرف کے پاس چلا گیا تھا اور فرہاد کو بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔اس کے وجود میں تپش بڑھتی چلی جا رہی تھی۔
”بس بہت ہو گیا۔اب اور نہیں۔“وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔آنکھوں میں جلن کے شعلے دہک رہے تھے۔
”آج رات تمہاری زندگی کی آخری رات ہو گی زخرف۔“وہ ایک عہد سے اٹھی تھی اور سیدھا کچن کی جانب گئی تھی۔کچن کے ایک کونے میں دودھ کا برتن پڑا تھا۔یہ دودھ سماک خصوصی طور پر زخرف کے لیے لایا تھا۔شگوفہ کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔وہ چل کر برتن تک گئی تھی اور پیڑی گھسیٹ کر وہاں بیٹھ گئی تھی۔اب وہ ہاتھ میں دبائی پڑیا کو دودھ میں ڈال رہی تھی۔
”الوداع زخرف۔“اس نے چمچے سے دودھ ملایا اور اوپر ڈھکن دے دیا۔
سماک زخرف کے لیے کچھ لائے،یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس چیز کو استعمال نہ کرے؟
رات تقریباً بارہ بجے کے قریب زخرف فرہاد کے رونے کی وجہ سے اس کا فیڈر لے کر کچن میں آئی تھی۔شگوفہ عمر میں کافی بڑی تھی لہٰذا صحت کی خرابی کی وجہ سے فرہاد کو فارمولا پلایا جاتا تھا۔
یہ اتفاق ہی تھا کہ فورمولہ شگوفہ کے کمرے میں نہیں کچن میں پڑا تھا۔سماک نے رات کو ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا تھا لہٰذا وہ اس کے لیے بھی اب دودھ گرم کر رہی تھی۔گھر کے لیے لایا گیا دودھ ختم ہو چکا تھا،وہ اب نہایت محبت سے اپنے حصے کا دودھ اس کے لیے گرم کر رہی تھی۔ساتھ ہی وہ فرہاد کے لیے فیڈر بھی بنا رہی تھی۔لبوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی۔ننھی چڑیا کو بڑے بڑے خواب دکھائے گئے تھے۔اس کی آنکھیں اب سراب کی خواہشمند تھیں۔سماک کے ساتھ ایک خوشحال زندگی،فرہاد کے ساتھ وقت گزارنا،اسے گود میں اٹھانا اور پیار کرنا…..اس نے مسکرا کر دودھ گلاس میں ڈالا اور نادانستگی میں فیڈر میں پانی کی جگہ دودھ ڈال دیا۔
”افف…..“اپنی غلطی کے احساس پر اس نے اپنا سر پیٹا۔
”ویسے دودھ تو دودھ ہوتا ہے،جو مرضی ہو۔“وہ خود بارہ سال کی تھی،اسے خبر نہ تھی کہ نوزائیدہ بچے کو کون سا دودھ دینا ہے اور کون سا نہیں۔
”کہیں بیمار نہ ہو جائے۔“ایک خدشہ نے اسے آ گھیرا۔
”زخرف…..“سِماک کی آواز پر وہ گلاس تھامے ہڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
”پہلے انہیں دے دیتی ہوں پھر فرہاد کا فیڈر دوبارہ سے بنا دوں گیئں۔“سِماک کی پکار پر وہ سب بھول گئی تھی۔اسے یاد نہ رہا تھا کہ فرہاد رو رہا تھا۔وہ اس کا دودھ لینے یہاں آئی تھی۔
کچن کے دروازے پر اس کے قدم رکے تھے۔سامنے شگوفہ کھڑی تھی۔اس کے لبوں پر ٹھہری ہوئی آسودہ مسکراہٹ تھی۔زخرف اسے دیکھ کر لمحہ بھر کو گھبرا گئی تھی۔
”یہاں کیا کر رہی ہو زخرف؟تمہیں تو اس وقت سِماک کے ساتھ ہونا چاہیے۔“اس نے معنی خیز نگاہوں سے دودھ کے گلاس کو دیکھا تھا۔اسے یقین تھا کہ زخرف اسے پیے گی مگر رات میں ہی…..یہ اس کی توقع کے برعکس تھا۔
”وہ میں…..میں فرہاد کے لیے دودھ…..وہ رو رہا تھا۔“اس کی زبان نا چاہتے ہوئے بھی لڑکھڑائی تھی۔فرہاد شگوفہ کا بیٹا تھا۔وہ اسے کسی بھی وقت زخرف سے چھین سکتی تھی۔
”اسے تو میں تمہارے کمرے سے لے آئی ہوں۔اور تم…..“شگوفہ نے اسے کندھوں سے تھاما۔
”تم دودھ پیو اور سِماک کے پاس جاؤ۔“زخرف کو گہرا دھچکہ لگا تھا۔کیا یہ واقعی شگوفہ تھی؟
”اب رہنا تو ہمیں ساتھ ہی ہے تو پھر پچھلی باتیں بھول جاتے ہیں۔وہ تمہارے بھی تو شوہر ہیں اور فرہاد…..وہ تمہارا بھی تو بیٹا ہے ناں۔کیا تم مجھے معاف کر سکتی ہو زخرف؟“اس نے جس تاسف سے کہا تھا،زخرف کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔سب کچھ ایک حسین خواب کی مانند تھا۔سب ٹھیک ہو رہا تھا۔پہلے سماک اور اب شگوفہ…..
”کیا تم مجھے معاف کرو گی زخرف؟“شگوفہ کے ایک بار پھر پوچھنے پر اس نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔آج قسمت اس پر مہربان معلوم ہوتی تھی۔
”جاؤ پھر اپنے شوہر کے پاس۔“زخرف مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھی۔آج جیسے اسے ایک نئی زندگی مل گئی تھی۔قید اب قید نہیں لگ رہی تھی۔
”اس گھر میں آخری رات مبارک ہو زخرف۔“بند کمرے کے دروازے کو دیکھتے اس نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔اب وہ کچن کے اندر داخل ہوئی تھی۔دودھ کی پتیلی خالی تھی۔نجانے وہ کس گمان میں تھی کہ دودھ زخرف اپنے لیے لے کر گئی ہے۔وہ غلط بھی نہیں تھی۔سِماک کی لائی چھوٹی سی چھوٹی چیز کو لے کر وہ بہت ٹچی تھی۔یہاں تک کہ سماک کا لایا ہوا ربن تک وہ غانیہ کو چھونے نہ دیتی تھی مگر شگوفہ یہاں ایک چیز بھول رہی تھی۔وہ دودھ کسی اور کے لیے نہیں سِماک کے لیے لے کر جا رہی تھی۔اس شخص کے لیے تو زخرف فاطمہ اپنا سب کچھ قربان کر سکتی تھی۔
(وہ اس کی زندگی میں آیا پہلا شخص تھا۔پہلا شخص اچھا یا برا نہیں ہوتا۔وہ بس پہلا شخص ہوتا ہے۔)
شگوفہ نے پھر فیڈر اور فارمولے کی جانب دیکھا۔زخرف فرہاد کے لیے فیڈر بنا چکی تھی۔اس نے فیڈر اٹھایا پھر ڈھکن لگایا اور اسے ہلاتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
