61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode16)

”یہ آپ……کیا کہہ رہے ہیں ڈیڈ؟“اس نے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی ہوئی سنائی دی۔کسی گہری، تاریک کھائی سے…..جس میں قانتہ کا وجود کہیں گم ہو گیا تھا۔کچھ اس طرح کہ شاید ہی کوئی اسے ڈھونڈ پاتا۔
”وہی جو تم سن رہی ہو۔شادی تو کرنی ہی ہے ناں، آج نہیں تو کل۔“وہ نہایت سکون سے کہہ رہے تھے جبکہ قانِتہ ایکدم بھڑک اٹھی تھی۔
”آپ سے کس نے کہا کہ میں غزوان سے شادی کروں گیئں؟“تمام تر لحاظ بھلائے وہ نہایت اشتعال انگیز لہجے میں چلائی تھی۔
”کسی کو پسند کرنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس سے شادی کر لوں؟انسان ٹائم پاس بھی تو کر سکتا ہے ناں؟“اس کی ہٹ دھڑمی پر دونوں میاں بیوی دنگ رہ گئے۔قانِتہ نے شاید ہی کبھی ان سے اس لہجے میں بات کی ہو البتہ شادی کے ذکر یا کسی نئے رشتے کے آنے پر وہ کچھ چڑچڑی ہو جاتی تھی مگر اس قدر مشتعل وہ شاید پہلی بار ہوئی تھی۔
”تو پھر کسے پسند کرتی ہو؟“مسٹر محمود نے اسی تحمل کے ساتھ کہا۔وہ سمجھ گئے تھے کہ اب بات صرف کسی کو پسند کرنے کی نہیں تھی بلکہ وہ اسے نکاح کا کہہ رہے تھے۔اتنا ردعمل تو بنتا ہی تھا۔
”کسی کو بھی نہیں۔“اس کا لہجہ اتنا ہی ترش تھا۔
”جھوٹ…..“مسٹر محمود نے صرف ایک لفظ نہیں کہا تھا بلکہ آڑے سے اس کا جسم کاٹ کر دیا تھا۔قانِتہ کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا۔آنکھوں میں ایک ساتھ کئی کرچیاں چھبنے لگیں۔محمود یزدانی نے محض ایک لفظ نہیں کہا تھا،انہوں نے قانِتہ کو آئینہ دکھایا تھا،وہ آئینہ جو وہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
”میں کچھ نہیں جانتا، تمہارا آج غزوان کے ساتھ نکاح ہے۔میں نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ میری بیٹی میرے فیصلے کا احترام کرے گی۔“وہ بڑی آسانی سے سارا بوجھ اس کے کندھوں پر لاد گئے تھے۔ارمانوں کا بوجھ، امیدوں کا بوجھ، بیٹی ہونے کا بوجھ……اس نے نہایت دکھ سے باپ کی جانب دیکھا تھا۔شاید وہ اس پر کچھ رحم کر دیں مگر نہیں…..وہ اپنے اوپر سختی کا خول چڑھائے ہوئے تھے۔
”آپ مجھ سے اپنے احسانات کی قیمت وصول کر رہے ہیں؟“اس نے وہ کہہ دیا تھا،جو اسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔مسٹر اور مسز محمود کے سینے میں باہم کچھ پیوست ہوا۔وہ جنخر نہیں تھا، وہ قانِتہ کے کہے الفاظ تھے۔
محمود یزدانی چل کر قانِتہ کے پاس گئے۔نہایت ضبط سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
”کیسے احسانات؟کیا وضاحت دو گی؟“آواز البتہ دھیمی تھی مگر تھی کرخت……وہ اپنا زخمی دل سنبھالے اپنی بیٹی کے سامنے کھڑے تھے،اس کے دل کا حال سننے کے لیے۔ یہ جاننے کہ لیے کہ وہ اب کیا کہے گی؟
”میں اڈاپٹڈ ہوں۔آپ نے میری پرورش کی ہے۔اب آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے احسانات کا بدلہ غزوان سے شادی کی صورت میں چکاؤں۔کیا آپ کی انکل جہانزیب سے کوئی ڈیل ہوئی ہے؟“اس نے گو کہ کھینچ کر تمانچہ اپنے باپ کے منہ پر مارا تھا۔تمانچے کی گونج وہاں موجود ہر چیز نے سنی تھی۔پاس پڑی کرسی نے،دیوار پر لٹکی پینٹنگز نے،کھڑکی کے باہر چلتی خنک ہوا نے،کوردوبا کی تاریخی گلیوں نے……وہ آج ہر لحاظ بھول بیٹھی تھی۔
”قانِتہ……“مسز محمود نے کچھ غصے اور صدمے سے اسے باز رہنے کا کہا مگر مسٹر محمود نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔آج وہ قانِتہ کو سننا چاہتے تھے۔اپنا ضبط آزمانا چاہتے تھے۔دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ آخر کس حد تک ان کا دل زخمی کر سکتی ہے۔
”تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں بیچ رہا ہوں؟“ان کے لہجے میں گھلی افسردگی نے جیسے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا تھا۔اسے اب اپنے الفاظ کی ترشی کا اندازہ ہوا تھا۔
”میرا یہ مطلب نہیں تھا۔اچھا ٹھیک ہے،میں غزوان سے ہی شادی کروں گیئں مگر ابھی نہیں۔ابھی منگنی کر لیتے ہیں۔“اس نے اپنے سابقہ جملوں کی تلخی کو کچھ کم کرنے کی کوشش کی۔منگنی کا کیا تھا؟منگنی تو وہ کسی بھی معمولی جھگڑے پر توڑ سکتی تھی مگر نکاح….. نکاح تو آسانی سے نہیں توٹتے۔
”مجھے اپنی زندگی کا خوف لاحق نہ ہوتا تو کبھی تمہیں مجبور نہ کرتا۔میرے بھائی مکھیوں کی طرح جائیداد پر قبضہ کرنے کے لیے بھنبھنا رہے ہیں۔تمہاری شادی اپنے بیٹوں سے کرنے کے خواہشمند ہیں۔ان میں سے کوئی قابل اعتماد نہیں ہے۔مجھے کچھ ہو گیا تو تمہارے ساتھ……“
”آپ کو کچھ نہیں ہو گا ڈیڈ اور قانِتہ یزدان کمزور نہیں ہے۔میں ہر مشکل کا سامنا تنہا کر سکتی ہوں اور جہاں تک بات ہے جائیداد کی،تو آپ کی جائیداد پر میرا کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی مجھے کوئی لالچ ہے۔آپ یہ سب انہیں دے دیں۔“اس نے نہایت فراخ دلی نے نہ صرف جائیداد کی تقسیم کا مشورہ دیا تھا بلکہ غزوان سے شادی کی تمام وجوہات کو مسترد بھی کر دیا تھا۔محمود یزدانی کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتے رہے۔ان کی آنکھوں میں رنج اور ملال تھا۔
”ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھیں۔“انہوں نے ایک اور حربہ آزمایا۔جذباتی پن کا حربہ……
”میں نے انکار تو نہیں کیا ڈیڈ۔آپ جہاں کہیں گے میں وہیں شادی کروں گیئں مگر ابھی نہیں۔کچھ سال بعد……“کمرے میں موجود تینوں نفوس جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہی تھی۔وہ یہ جھوٹ ہزار بار بول چکی تھی اور سیکڑوں بار دوبارہ بھی بول سکتی تھی۔
وہ شادی کبھی نہیں کرے گی۔نہ پچس سال کی عمر میں، نہ پچاس سال کی عمر میں….. یہاں تک کہ محمود اسے بلیک میل کر کے آج راضی نہ کر لیتے۔یہ ایک مشکل مرحلہ تھا مگر وہ اسے آج سر کیے بغیر پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔
”اگر کچھ سال بعد میں زندہ نہ رہا پھر؟“ایک زبردست گھونسا قانِتہ کے دل پر لگا تھا۔”آپ مجھے بلیک میل کر رہے ہیں ڈیڈ۔“اس کی آواز رندھ گئی۔وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر وہ اسے رلا رہے تھے۔
”مجھے لاسٹ سٹیج کینسر ہے۔ایک ہفتے پہلے معلوم ہوا ہے مگر تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔تم تو اڈاپٹڈ ہو ناں۔“اسے کسی نے تپتی دھوپ میں ننگے پیر کھڑا کیا تھا پھر انگاروں پر چلنے کے لیے کہا تھا اور وہ چل رہی تھی۔اس کے پیر جھلس رہے تھے مگر وہ چل رہی تھی۔آنکھیں ابل رہی تھیں مگر وہ چل رہی تھی۔وجود جل رہا تھا مگر وہ چل رہی تھی۔”کینسر؟لاسٹ سٹیج؟“وہ کیا کہہ رہے تھے؟اسے پہلے کیوں نہیں بتایا انہوں نے؟تو کیا وہ اپنے باپ کو کھونے والی تھی؟نہیں……ہر گز نہیں……وہ ٹھیک ہو سکتے تھے۔اگر وہ علاج کروا لیتے تو ہاں، وہ بالکل ٹھیک ہو سکتے تھے۔
”ڈیڈ یہ آپ……آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔سب…..سب ٹھیک ہو جائے گا۔ہو جائے گا ناں؟“اس نے آخر میں موہوم سی امید کے ساتھ پوچھا۔مسز محمود اس تمام گفتگو میں خاموش ہی رہی تھیں۔چاہتی تھیں کہ دونوں باپ بیٹی خود ہی اس مسئلے کو حل کر لیں۔
”میں ٹھیک ہو جاؤں گا، اگر میری بیٹی میری خواہش کا احترام کرے تو۔“
”ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں گے۔آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔“
”تم آج غزوان سے نکاح کرو گی یا نہیں؟“
”آپ جو کہیں گے،میں کروں گئیں۔“اس نے گو کہ ہتھیار ڈال دیے۔وہ ایک سمجھدار لڑکی تھی،مگر فلحال اس کی آنکھوں پر باپ کی محبت کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔اسے فلحال اپنے باپ کی بیماری نظر آ رہی تھی۔آج ایک بار پھر جیت باپ کی ہی ہوئی تھی،بیٹی ہار گئی تھی۔
وہ کافی دیر روتی رہی تھی۔اپنے باپ سے اپنے رویے کی معافی مانگتی رہی تھی۔اپنی ماں کے گلے لگ کر سسکتی رہی تھی۔محمود یزدانی کی بیماری نے اسے بےحد خوفزدہ کر دیا تھا۔
قانِتہ کے جانے کے بعد مسز محمود نے کچھ خفگی سے اپنے شوہر کی جانب دیکھا۔
”آپ نے اس سے اپنی بیماری کے متعلق جھوٹ کیوں بولا؟“محمود یزدانی نے شکست خوردہ حالت میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی اور ایک گہری تھکان بھری سانس اندر کھینچی۔
”کیا خوشیوں کا میری بیٹی کی زندگی پر کوئی حق نہیں؟“
”اگر وہ وقت مانگ رہی تھی تو آپ کو اسے وقت دینا چاہیئے تھا۔اتنے سالوں میں پہلی بار اس نے کسی لڑکے میں دلچپسی ظاہر کی ہے۔شادی کے لیے بھی مان ہی جاتی۔“محمود یزدانی کے لبوں پر ایک مسکراہٹ آ ٹھہری۔سر جھٹک کر وہ سیدھا ہو بیٹھے اور نگاہیں اپنی بیوی پر مرکوز کر لیں۔
”وہ میری بیٹی ہے۔اسے میں نے پالا ہے۔رگ رگ سے واقف ہوں میں اس کی۔تمہیں کیا لگتا ہے کہ وہ غزوان کے ساتھ کیوں گھوم پھر رہی ہے؟وہ یہ سب ہمیں دکھانے کے لیے کر رہی ہے کہ وہ غزوان کو پسند کرنے لگی ہے تا کہ رشتہ ٹوٹنے کے بعد وہ یہ ظاہر کر سکے کہ وہ سر تا پیر غزوان کی محبت میں ڈوب چکی ہے۔اگلے پانچ،دس سال تک شادی نہیں کرے گی۔“اپنے شوہر کی دورندیشی پر وہ دنگ رہ گئیں تھیں۔نا چاہتے ہوئے بھی قانِتہ کی اس چالاکی پر انہیں بے ساختہ پیار آیا تھا۔وہ شروع سے ایسی ہی چھوٹی چھوٹی چالیں چلنے کی عادی تھی اور محمود یزدانی سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں اسے پکڑ لیتے تھے۔وہ کبھی ان سے جیت نہیں سکی تھی اور جیتنا چاہتی بھی نہیں تھی۔
”لیکن پھر بھی کیا یہ زیادتی نہیں ہے؟“وہ اب بھی کچھ تشویش کا شکار تھیں۔
”بالکل نہیں،کل غزوان سے بات کرنے کے بعد تو بالکل بھی نہیں۔میں مطمئن ہوں۔غزوان قانِتہ کے لیے بہترین انتخاب ہے اور میں نہیں چاہتا کہ وہ اپنی کسی بیواقوفی کی وجہ سے غزوان جیسا ہیرا گنوا دے۔“یہ سب وہ صرف جہانزیب کی دوستی کی وجہ سے نہیں کہہ رہے تھے۔انہوں نے ذاتی طور پر غزوان کے متعلق اتنی معلومات اکھٹی کروا لی تھی، جتنی شاید اس کے پاس بھی نہیں تھی۔پچھلے چھ دنوں سے وہ غزوان کی ہر عادت،ہر عمل پر نظر رکھے ہوئے تھے۔وہ اس کا بےحد قریب سے تجزیہ کر چکے تھے۔وہ ہر لحاظ سے قانِتہ کے لیے بہترین انتخاب تھا۔ان کے فیصلے اور انتخابات بہت کم غلط ثابت ہوتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ اگر کسی کی زندگی آسان ہوتی جا رہی تھی تو وہ شگوفہ تھی اور اگر کسی کی مشکل تو وہ زخرف تھی۔آزمائشیں تھیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔آج ایک اور آزمائش اس کی منتظر تھی۔ماضی پھر سے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔وہ برآمدے کے فرش پر بیٹھی پرانت میں موجود چاول کھا رہی تھی۔کچے،بھیگے ہوئے چاول……یہ چاول بھی اسے تب نصیب ہوئے تھے جب بیگم جان نے انہیں خراب کہہ کر پھینکے کا حکم دیا تھا اور زخرف نے اسے غنیمت سمجھ کر کھانا……وہ انہیں پکا کر نہیں کھا سکتی تھی۔ایسے کرتے ہوئے وہ پکڑی جاتی، مگر وہ انہیں کچھ دیر بھگونے کے بعد ضرور کھا سکتی تھی اور اس نے یہی کیا تھا۔بیگم جان ابھی سو نہ رہی ہوتیں تو وہ کبھی اتنی دلیری سے کھلم کھلا برآمدے میں بیٹھ کر چاول نہ کھاتی۔اسے اب کچھ بھی برا نہیں لگتا تھا۔وہ اپنی زندگی کے بدترین دنوں میں بھی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی خوشی تلاش کر لیتی تھی۔
اب بھی وہ بےحد رغبت سے چاول کھانے میں مصروف تھی جب خود پر کسی کا سایہ پڑتے ہی اس نے یکدم چونک کر نگاہیں اٹھائی تھیں اور پھر نگاہیں ہٹانا بھول گئی تھی۔اس کی زندگی کا سب سے بڑا خوف لوٹ آیا تھا۔اختر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ہاتھ میں بھرے چاول ایکدم نیچے گرے تھے۔اس کا کھلا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔
”کیسی ہو زخرف؟“اختر کے معنی خیزی سے کہے جملے پر وہ سٹپٹا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔سر پر اوڑھی ہوئی چادر کو اس نے اچھے سے کس لیا تھا۔اختر کو تو وہ کب کا بھول چکی تھی۔آج اسے اتنے عرصے بعد اپنے پیروں پر کھڑا دیکھ وہ سٹپٹا گئی تھی۔
”تمہیں کیا لگا تھا کہ میں اتنی آسانی سے تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گا؟“اختر نے جھک کر اسے بازو سے دبوچا۔زخرف اس کی آنکھوں کی وحشت دیکھ کر بری طرح گھبرائی۔اس نے مزاحمت کی کوشش کی مگر اختر نے اس کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
”ہم سب وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے چھوڑا تھا۔تم آج رات سٹور میں مجھ سے مل رہی ہو ورنہ میں سِماک سے کہہ دوں گا کہ جو بچہ مرا ہے،وہ میرا تھا۔“اس نے وہیں کھڑے کھڑے زخرف کے قدموں تلے زمین کھینچ لی۔بےبسی اور خوف کے عالم میں زخرف کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔وہ نجانے اسے اور کتنی دھمکیاں دے کر چلا گیا تھا۔زخرف زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔اس کی آنکھیں بے اختیار آنسو بہانے لگیں تھیں۔اختر نامی تلوار ایک بار پھر اس کے سر پر لٹکنے لگی تھی۔اسے کسی کی مدد لینی چاہیئے تھی۔اسے کسی کو یہ سب بتانا چاہیئے تھا اور یہ کسی صرف ”غانیہ“ تھی۔
وہ آنکھیں رگڑتے فوراً اٹھی تھی۔ابھی وہ برجستگی سے پلٹی ہی تھی کہ قدم اٹھنے سے انکاری ہو گئے۔زخرف فاطمہ وہیں جم گئی۔سامنے شگوفہ کھڑی تھی اور جن نگاہوں سے وہ اسے دیکھ رہی تھی،صاف ظاہر تھا کہ وہ سب سن اور دیکھ چکی ہے۔

ہوگا بہت شدید تمازت کا انتقام

سائے سے مل کے روئے گی دیوار دیکھنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زخرف ڈری سہمی شگوفہ کے ساتھ کمرے میں بیٹھی تھی۔اس کا پور پور کانپنے لگا تھا۔نجانے شگوفہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہو گی؟
”وہ تمہیں تنگ کرتا ہے؟“وہ تھوڑا جھجھکی پھر تذبذب کا شکار ہوتے بالآخر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔شگوفہ کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی۔اس کی دعا قبول ہونے والی تھی۔زخرف فاطمہ کا پتا کٹنے والا تھا۔
”کب سے؟“زخرف سر جھکائے لب کاٹتی رہی۔اسے شگوفہ کو کیا بتانا چاہیئے تھا اور کیا نہیں؟وہ اب یہ سوچ ہی رہی تھی جب شگوفہ نے اس کی مشکل آسان کر دی تھی۔
”دیکھو زخرف،مجھے غلط مت سمجھو۔مجھے سب کچھ بتا دو۔میں تمہاری مدد کروں گیئں۔“زخرف نے چونک کر نگاہیں اٹھائیں۔”مدد،کیسی مدد؟“وہ سوچنے لگی تھی۔آخر شگوفہ اس کے لیے کیا کر سکتی تھی؟
”میں اختر سے تمہاری جان چھڑوا سکتی ہوں،بشرطیکہ تم مجھے ساری بات شروع سے بتاؤ۔“زخرف فاطمہ نے آج اپنی زندگی کی وہ فاش غلطی کی تھی جس کی سزا اسے مستقبل کے کئی سالوں تک بھگتنی تھی۔اس نے شگوفہ کو الف تا ے ہر چیز بتا دی تھی،اس امید کے ساتھ کہ وہ اس کی مدد کرے گی۔غانیہ نے بار ہا اسے کہا تھا کہ وہ شگوفہ پر اعتبار نہ کرے مگر اس نے پھر بھی یہ غلطی کر دی تھی۔شگوفہ نے ساری بات بےحد تحمل کے ساتھ سنی تھی البتہ زخرف کے کہے ہر جملے پر اس کی آنکھوں کی چمک بڑھتی جا رہی تھی مگر زخرف نے اس طرف دھیان نہ دیا اور اگر دے بھی دیتی تب بھی اس کی آنکھوں کی مکاری کبھی سمجھ نہ پاتی۔
”کیا تم نے سِماک کو اس بارے میں کبھی بتایا ہے؟“زخرف کے نفی میں سر ہلانے پر شگوفہ کے کندھے سے معنوں آخری بوجھ بھی اتر گیا تھا۔
”ٹھیک ہے،تم انہیں کچھ بتاؤ گی بھی نہیں۔تم ایک کام کرو، آج رات اختر سے ملنے سٹور میں چلی جانا، باقی میں سنبھال لوں گیئں۔“زخرف نے ہراساں نگاہوں سے شگوفہ کی جانب دیکھا،کچھ کہنا چاہا مگر شگوفہ نے اسے روک دیا۔
”مجھ پر اعتبار کرو زخرف۔اختر سے جان چھڑانے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ہو گا اور ہاں……“اس نے سر تا پیر زخرف کا جائزہ لیا اور کچھ توقف کے بعد گویا ہوئی۔
”ایسے مت جانا۔کوئی صاف ستھرا لباس پہننا اور اچھے سے بال بنانا۔یہ لو،یہ بھی لگا لینا۔“اس نے زخرف کی جانب عطر اور اپنی ایک لپسٹک بڑھاتے ہوئے کہا۔زخرف نے عجیب نگاہوں سے عطر اور اس لپسٹک کی جانب دیکھا۔اس نے یہ سب کبھی نہیں لگایا تھا اور نہ تیار ہونے کا مقصد اسے سمجھ آیا تھا مگر شگوفہ نے کہا تھا تو وہ یہ ضرور کرے گی۔یقینا اس کے پاس کوئی زبردست ترکیب تھی جس سے اختر نامی بلا سے زخرف کی جان چھوٹ جاتی اور وہ غلط نہیں تھی۔آج زخرف فاطمہ کی واقعی اختر سے جان چھوٹ جانی تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ اسے کیا کیا سہنا تھا،اس کا اندازہ اسے آج رات ہو جانا تھا۔
”ویسے زخرف،مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی۔تمہاری تو ایک بڑی بہن ہے ناں، تو پھر تمہیں کیوں خون بہا میں یہاں بھیجا؟“یہ وہ بات تھی جو شگوفہ کو ہمیشہ پریشان کرتی تھی۔آخر مینہ گل کے بجائے زخرف کا نکاح سِماک سے کیوں کروایا گیا تھا اور آج یہ معمعہ بھی حل ہو گیا تھا۔زخرف نے جذبات میں آ کر اپنی سوتن کو وہ سب بتا دیا تھا جو کوئی سمجھدار لڑکی اپنے شوہر کو بھی نہ بتائے۔اس نے اپنی زندگی کے ساری ڈوریں شگوفہ کے ہاتھ میں تھما دی تھیں۔اب وہ جیسے چاہے،جہاں چاہے زخرف کو کتھ پتلی کی طرح نچا سکتی تھی۔شگوفہ نے زخرف کو سختی سے تاکید کی تھی کہ وہ غانیہ کو یہ سب نہ بتائے اور زخرف نے اس کی بات مان لی تھی۔اس گھر میں شگوفہ کا سکہ چلتا تھا یہ بات تو وہ اچھی طرح جانتی تھی۔اس سے دوستی کے بہت فائدے تھے۔نہ صرف اختر سے جان چھوٹ جاتی بلکہ وہ اپنے بچے کو بھی ضرور زخرف کو دے دیتی۔(یہ زخرف کا ذاتی خیال تھا)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن

ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

یہ رات زخرف کی زندگی کی سب سے سیاہ رات ہونے والی تھی۔شگوفہ نے غانیہ کو بہانے سے آج کسی رشتے دار کے گھر بھیج دیا تھا اور اس طرح زخرف نے آج رات اپنی واحد حمایتی اور گواہ بھی کھو دی تھی۔اپنے ایک پرانے مگر قدرے بہتر سوٹ کو زیب تن کرنے کے بعد اس نے بالوں کی چٹیا بنائی تھی، پھر آنکھوں میں کاجل ڈالا تھا، پھر لبوں پر سرخ لپسٹک لگائی تھی اور آخر میں عطر……وہ خود کو آئینے میں دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔زرد رنگت اور بےتحاشہ کیل مہاسوں کے باوجود بھی وہ کافی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔اس کا پلس پوائنٹ اس کی آنکھیں تھیں۔سرمئی بڑی بڑی آنکھیں……
اس کا دل اسے کسی انجانے خطرے کا سگنل دے رہا تھا مگر اس نے شگوفہ کی باتوں پر زیادہ توجہ دی تھی۔چادر کو اچھی طرح اوڑھے وہ سٹور کی جانب چل دی تھی۔راستے میں اس نے کئی بار ادھر اُدھر کچھ تلاش کرنا چاہا تھا۔وہ شگوفہ کو تلاش کر رہی تھی۔اسے یقین تھا کہ وہ یہیں کہیں چھپی ہو گی اور اختر کو رنگے ہاتھوں پکڑے گی پھر اس کی خوب کلاس لے گی اور وہ ڈر جائے گا،اس طرح زخرف فاطمہ کی اس سے جان چھوٹ جائے گی۔
زخرف فاطمہ نے سٹور میں پہلا قدم رکھا،پھر دوسرا،پھر تیسرا……اختر وہیں اس کا انتظار کر رہا تھا۔زخرف کو سٹور میں آئے ابھی ایک ثانیہ بھی نہیں گزرا تھا کہ پیچھے کسی کے بھاری قدموں کی چھاپ سنائی دی تھی۔زخرف یہ چھاپ پہچانتی تھی۔اس کی آنکھوں میں یکدم بہت سے ستارے جگمگائے تھے۔یقینا شگوفہ نے ہی اسے وہاں بھیجا تھا۔یقینا شگوفہ نے سِماک کو سب کچھ بتا کر زخرف کی مدد کے لیے بھیجا تھا۔وہ اس کی پشت پر کھڑا تھا اور یہی تحفظ کا احساس بہت تھا زخرف کے لیے۔اس کے لبوں پر مدھم مسکراہٹ نے بسیرا کر لیا تھا۔اس نے بہت اعتماد سے اختر کی جانب دیکھا تھا،وہ بھی مسکرا رہا تھا؟وہ کیوں مسکرا رہا تھا، یہ معمعہ زیادہ دیر تک معمعہ نہیں رہا تھا۔
سِماک نے اسے بازو سے کھینچ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا۔وہ لمحہ بھر کو ہل نہیں سکا تھا۔اس کی بیوی پوری تیاری کے ساتھ رات کے اس پہر اس کے کزن سے ملنے آئی تھی۔سِماک کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا تھا اور آخرکار اس نے وہی کیا تھا جو ایک غیرت مند شوہر کو کرنا چاہیئے تھا۔اس نے کھینچ کر تھپڑ زخرف کے منہ پر مارا تھا۔وہ فرش پر جا گری تھی۔حیرت اور رنج کے عالم میں اس کی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔یہ تھپڑ نادر پلار،بیگم جان یا اختر نے مارا ہوتا تو وہ کبھی اتنی تکلیف محسوس نہ کرتی مگر تھپڑ مارنے والا سِماک تھا۔اس کا شوہر،اس کی محبت……
”بے حیا……“سِماک نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور پھر گھسیٹتے ہوئے صحن میں لا پٹخا تھا۔گھر کے سارے افراد وہاں جمع ہو چکے تھے۔اختر اور شگوفہ کے درمیان معنی خیز نگاہوں کا تبادلہ ہوا تھا۔سِماک کو یہ خبر اختر نے دی تھی کہ زخرف رات کے پہر اس سے ملنے آتی ہے۔سِماک غصے سے آگ بگولہ ہو گیا تھا۔اس نے اختر کا گریبان بھی پکڑا تھا، جوابا اختر نے رات کے وقت اسے خود وہاں آ کر یہ سب دیکھنے کی دعوت دی تھی۔نتیجہ سامنے تھا۔
سِماک کے سر پر اس وقت خون سوار تھا۔اس نے ہر لحاظ بالائے طاق رکھ کر زخرف کو بہت پیٹا تھا۔وہ صدمے سے گنگ اپنے شوہر کی مار کھا رہی تھی،یہ جانے بغیر کہ اس کا قصور کیا ہے۔کسی نے بھی سِماک کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔واحد شخصیت جو یہ کام کرتی وہ وہاں تھی ہی نہیں اور اچھا ہی تھا کہ وہ آج رات یہاں نہیں تھی۔وہ کسی بھی صورت زخرف پر ہوئے ظلم کو نہیں روک سکتی تھی مگر اپنے باپ کا یہ روپ دیکھ کر اسے شدید دکھ ہوتا۔
”میں تمہیں کیا سمجھتا تھا اور تم کیا نکلی؟“سِماک نے اسے گردن کی پشت سے دبوچ کر کھڑا کیا تھا۔زخرف کے منہ اور ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔وہ نقاہت زدہ سی بےبسی سے اسے دیکھ رہی تھی۔تکلیف اس بات کی نہیں تھی کہ اسے مار پڑ رہی تھی۔وہ اس مار پیٹ کی عادی تھی۔تکلیف اس بات کی تھی کہ مارنے والا ہرجائی تھا۔
”میں تو خود بوکھلا گیا تھا جب اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو۔فورا سے پہلے میں نے سب ورور(بھائی) کو بتا دیا۔کہتی ہے کہ میرا شوہر میری خواہشات پوری نہیں کر سکتا۔توبہ توبہ“اختر نے بے اختیار کانوں کو ہاتھ لگایا۔اس کام کی نہ صرف شگوفہ نے اختر کو بھاری رقم ادا کی تھی بلکہ یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ سِماک کے زخرف کو چھوڑنے کے بعد وہ جو چاہے اور جتنی بار چاہے زخرف کے ساتھ کر سکتا ہے۔
سِماک پہلے ہی غصے سے پاگل ہو رہا تھا اور اختر کی بات پر وہ مزید مشتعل ہوا تھا۔اس نے کھینچ کر تمانچہ زخرف کے منہ پر مارا تھا۔وہ تڑپ اٹھی تھی۔پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اسے صرف مار نہیں کھانی بلکہ اپنی صفائی بھی دینی ہے۔
”میں نے کچھ نہیں کیا۔یہ جھوٹ بول رہا ہے۔آپ کچھ کہتی کیوں نہیں ہیں؟آپ انہیں بتائیں کہ آپ نے مجھے اختر کے پاس بھیجا تھا۔“اس نے مدد طلب نگاہوں سے شگوفہ کی جانب دیکھا تھا۔ایک آس سے اس سے بھیک مانگی تھی۔اسے یقین تھا کہ شگوفہ کے سب کو سچ بتانے کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔سِماک کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔وہ زخرف سے معافی مانگ لے گا اور اختر کو دھکے دے کر گھر سے نکال دے گا مگر شگوفہ کے سچ نے زخرف کے قدموں تلے زمین کھینچ لی تھی۔
”لڑکی جھوٹ کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔اپنے گناہ میرے سر مت ڈالو اور یہ کیا……تم نے میری لپسٹک چرائی ہے؟“لہو لہان زخرف کو آج زندگی نے ایک اور سبق پڑھا دیا تھا۔سوتن پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیئے۔غانیہ ٹھیک کہتی تھی،وہ ہمیشہ سے ٹھیک کہتی تھی بس زخرف ہی نہیں سمجھ سکی تھی۔
”خدارا ایسا مت کہیں۔مجھ پر رحم کریں۔“وہ شگوفہ کے قدموں میں جا گری تھی۔وہ کبھی اتنی بےحس نہیں تھی مگر حسد نے اسے ایسا بنا دیا تھا۔سِماک اس کا شوہر تھا، زخرف کی یہاں کوئی جگہ نہیں تھی۔
”ورور سِماک، اس کے محلے کے دوسرے لڑکوں سے بھی چکر ہیں۔مجھے تو شک ہے کہ کہیں وہ بچہ بھی……“اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی تھی۔بیگم جان نے باقاعدہ منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔نادر پلار کی آنکھیں شاک سے پھیل گیئں تھیں اور سِماک……وہ شرم کے مارے زمین میں گڑھ گیا تھا۔تو یہ تھا زخرف کا اصل چہرہ؟وہ کوئی معصوم، پاکباز چھوٹی سی لڑکی نہیں تھی۔وہ ایک بےحیا،بدکردار لڑکی تھی۔یہاں کھڑے اسے یہ یقین بھی ہو گیا تھا کہ وہ بچہ اس کا نہیں کسی اور کا تھا۔
”جھوٹ ہے یہ،بکواس ہے۔“زخرف تڑپ اٹھی تھی۔اب وہ چیخ چیخ کر سب کو اپنی پاکدامنی کی گواہی دے رہی تھی۔سِماک کے سامنے قسمیں کھا رہی تھی کہ وہ بچہ اس ہی کا تھا مگر سِماک وہیں جم سا گیا تھا۔اس کا وجود حرکت کرنے سے انکاری تھا۔یہ اس کے لیے زندگی کا سب سے بڑا شاک تھا۔زخرف نے اسے دھوکہ دیا تھا۔زخرف بدکردار تھی۔
بیگم جان جو اتنی دیر سے صرف اس لیے خاموش کھڑی تھیں تا کہ ان کا بیٹا اپنی بیوی کو اچھی طرح پیٹ لے،اختر کی اس بات پر وہ آگ بگولہ ہو کر اب زخرف کو پیٹنے لگی تھیں کیونکہ سِماک تو مجسمہ بنا کھڑا تھا لہٰذا باقی کی کسر انہیں ہی پوری کرنی تھی۔
”اللہ غارت کرے تم سب کو۔اللہ کا عذاب نازل ہو تم سب کو۔میں کبھی معاف نہیں کروں گیئں تم سب کو۔اللہ کبھی نہیں بھولتا۔وہ تم سب سے حساب لے گا۔“بےبسی جب آخری حد تک پہنچی تو اس نے وہی کیا تھا جو اس کے بس میں تھا۔وہ جی بھر کر انہیں بددعائیں دینے لگی تھی۔انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے لگی تھی مگر کیا واقعی انہیں کسی عذاب کی پرواہ تھی۔
”اللہ کے عذاب سے ہمیں ڈرا رہی ہو، خود اپنے کرتوتوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟بتاؤ ذرا سب کو کہ تمہاری بڑی بہن کی جگہ تمہیں کیوں سوارہ دیا گیا؟بتاؤ سب کو کہ کیسے تمہارے گھر والوں نے اپنی بدنامی کا طوق ہمارے گلے میں ڈال دیا۔“اختر نے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھوک دیا تھا۔
”یہ سب جھوٹ ہے۔“وہ ایک بار پھر چلائی تھی۔
”کھاؤ اپنی مری ہوئی ماں کی قسم اور بتاؤ کہ اس دن ایک لڑکے نے تمہیں گلاب کے پھول کے ساتھ اظہار محبت نہیں کیا تھا۔کیا تمہارے چچا زاد نے تمہیں رنگے ہاتھوں نہیں پکڑا تھا؟“شگوفہ نے بندوق اختر کے کندھے پر رکھ کر چلائی تھی اور ساری گولیاں بالکل نشانے پر لگی تھیں۔اتنی دیر سے بت بنا کھڑا سِماک چل کر زخرف کی جانب گیا تھا۔بیگم جان اسے مار مار کر اب تھک گئیں تھیں۔یہ بڑھاپے کا تقاضا تھا، وہ زخرف کو اتنا ہی مار سکتی تھیں لہٰذا اب چارپائی پر بیٹھی اپنی اکھڑی سانسیں درست کرنے لگیں تھیں۔
”اختر جو کہہ رہا ہے، کیا وہ سچ ہے؟“سِماک نے نہایت سرد لہجے میں پوچھا تھا۔وہ آج پھر وہیں آ کھڑی ہوئی تھی جہاں کچھ سال پہلے کھڑی تھی۔بس لوگ اور جگہ ہی تو تبدیل ہوئی تھی۔یہ اس کا میکہ نہیں سسرال تھا۔باپ،بھائی اور کزن کی جگہ شوہر،ساس،سسر اور دیور نے لے لی تھی۔سب کچھ وہیں سے دوبارہ شروع ہوا تھا۔
”بولو زخرف……“سِماک کے جھنجھوڑنے پر اس نے بے ساختہ اثبات میں سر ہلایا۔
”ہاں دیا تھا اس لڑکے نے مجھے پھول مگر میں اسے نہیں……“سِماک کی جانب سے پڑنے والے ایک اور تھپڑ نے اس کی زبان روک دی تھی۔وہ کل بھی بد کردار کہلائی گئی تھی اور آج بھی بدکردار کہلائی جا رہی تھی۔منہ پر ہاتھ رکھے اس نے شاک کی کیفیت میں پہلے سِماک اور پھر اس کے پیچھے مسکراتے کھڑے اختر کو دیکھا تھا۔اس کا سارا وجود بھڑک اٹھا تھا۔
”تمہیں تو میں چھوڑوں گیئں نہیں۔“زخرف بھپڑتی ہوئی اختر کی جانب گئی تھی۔اس نے ہاتھ پیر چلائے تھے مگر وہ تقریباً گیارہ سال کی عمر میں اس کا کیا بگاڑ سکتی تھی؟
”کتے کی موت مرو گے تم سب۔پانی تک نصیب نہ ہو تم سب کو۔اللہ انصاف کرے گا،وہ ضرور کرے گا۔کسی کو نہیں بخشوں گیئں میں۔یاد رکھنا،ایک دن میرا بھی آئے گا۔“وہ دیوانہ وار چلاتے ہوئے سب کو منہ بھر بھر کر بددعائیں دے رہی تھی۔اس کے علاؤہ وہ فلحال کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
”بس…..“سِماک کی دھاڑ پر اس کی چلتی زبان کو بریک لگی تھی۔سِماک غضب ناک انداز میں اس کی جانب پلٹا تھا۔
”میں اس بے حیائی کی پوٹلی کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا۔اسے واپس اس کے گھر بھیجیں۔جاؤ زخرف،میں نے تمہیں آزاد کیا۔دفع ہو جاؤ۔“وہ کہہ کر رکا نہیں تھا،تیزی سے گھر کے باہر چلا گیا تھا۔شگوفہ کا دل یکدم مسروریت سے جھومنے لگا تھا۔اختر بھی اس فیصلے سے بےحد خوش تھا۔زخرف فاطمہ صدمے کی حالت میں گنگ وہاں کھڑی رہ گئی تھی۔پیشانی سے ٹپکتی خون کی لکیر اس کے رخساروں پر بہہ رہی تھی۔ہونٹ کے کنارے سے خون بہہ کر اس کی قمیض پر گر رہا تھا۔
”جاؤ زخرف،میں نے تمہیں آزاد کیا۔دفع ہو جاؤ۔“وہ وہیں فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔صرف دو بول ہی تو بولے تھے سِماک نے اور زخرف فاطمہ کی زندگی اجڑ گئی تھی۔وہ چڑیا کو قید سے آزاد کر گیا تھا جبکہ چڑیا تو قید میں خوش رہنے لگی تھی۔وہ غش کھاتے وہیں زمین پر گری تھی۔سب اس پر لعنت ملامت کر کے اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔وہ اس سرد رات میں وہیں بیہوشی کی حالت میں پڑی رہی تھی۔

ظلم تو بے زبان ہے لیکن

زخم کو تو زبان کب دے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزوان اور قانِتہ کا نکاح اس ہی ہوٹل میں جہانزیب اور طیبہ کے کمرے میں ہو رہا تھا۔وہ اس وقت کسی عروسی لباس میں ملبوس نہیں تھی۔سفید رنگ کے ایک سادہ سے سوٹ میں ملبوس تھی مگر اپنی ماں کی بےجا ضد پر اس نے جیولری کے نام پر دو عدد ائیر رنگز،ایک انگوٹھی ایک بریسلٹ پہن رکھا تھا۔اس کی ماں نے زبردستی اس کا ہلکا پھلکا میک اپ بھی کر دیا تھا جس پر دو تین بار اعتراض اٹھانے کے بعد وہ خاموش ہو گئی تھی۔اس سادگی میں بھی وہ بےحد حسین لگ رہی تھی۔غزوان چاہ کر بھی اس پر سے نگاہیں نہیں ہٹا پا رہا تھا۔وہ تھی ہی اتنی حسین،اتنی ہوش ربا……وہ کسی بھی مرد کی حسرت بن سکتی تھی۔وہ چاہے جانے کے قابل تھی۔وہ ایک بار پلٹ کر واپس دیکھے جانے کے قابل تھی۔وہ قانِتہ یزدان تھی۔غزوان کی پری وَش……وہ واقعی پریوں جیسی حسین تھی۔
”ایک بار پھر سوچ لو۔کیا واقعی نکاح کرنا چاہتے ہو مجھ سے؟“مولوی صاحب کے آنے میں ابھی کچھ دیر تھی لہٰذا قانِتہ نے غزوان کو آخری بار خبردار کرنا اپنا فرض سمجھا تھا۔
”یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے؟“وہ اسے مذاق سمجھا تھا۔اسے جب سے جہانزیب نے یہ اطلاع دی تھی کہ قانِتہ شادی کے لیے راضی ہے،غزوان خود کو ساتویں آسمان پر اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔اسے کہیں نہ کہیں یہ خوش فہمی شروع سے ہی تھی کہ قانِتہ اسے پسند کرتی ہے ورنہ کیوں ہر جگہ اس کے ساتھ گھومتی اور کڑوی ہی سہی مگر باتیں کرتی۔قانِتہ کے نیک خیالات کا اگر اسے علم ہو جاتا تو یہ خوش فہمی بھی ختم ہو جاتی۔
”گھاٹے کا سودا کر رہے ہو۔“اس نے اس بار اسے ڈرانا چاہا۔
”محبت میں سودا نہیں ہوتا۔“وہ تلخی سے ہنس دی۔
”مجھے تم پر ترس آ رہا ہے۔“کچھ دیر بعد اس نے قانِتہ کو کہتے سنا۔اس کی آواز میں غزوان کو گیلا پن محسوس ہوا۔شاید یہ اس کی غلط فہمی ہی تھی ورنہ قانِتہ جیسی لڑکی اور روئے؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔وہ تو لوگوں کو رلانے کے لیے پیدا ہوئی تھی۔
”پچھتاؤ گے۔“اس نے ایک بار پھر کہا۔
”نہیں پچھتاؤں گا۔“اسے یقین تھا۔
”میں وہ دیمک ہو جو قیمتی سے قیمتی لکڑی کی وقعت ختم کر سکتی ہے۔“وہ نجانے اسے کس چیز کے لیے اکسا رہی تھی۔شاید انکار کے لیے…..
”تم نے کیا واقعی مجھے قیمتی کہا؟“اس نے قانِتہ کی بات کو ایک بار پھر مذاق میں اڑایا۔
”یعنی تم پیچھے نہیں ہٹو گے؟“ایک عجیب سی بےبسی تھی اس کے لہجے میں۔غزوان نے یہی محسوس کیا تھا۔
”نہیں……“قانِتہ ہنس دی۔
”تو پھر ٹھیک ہے،بربادی بہت بہت مبارک ہو سینور غزوان۔“وہ عجیب طرز سے کہہ رہی تھی۔یہ طنز نہیں تھا، یہ کچھ اور تھا۔
”تمہیں بھی سینوریٹا قانِتہ!“اس نے اپنے تئیں اسے چھیڑا تھا مگر وہ سر جھکائے ایک بار پھر ہنس دی تھی۔اس کے یوں ہنسنے کی وجہ غزوان نہیں سمجھ سکا تھا۔وہ فلحال سمجھ بھی نہیں سکتا تھا۔وقت نے ابھی اسے بہت کچھ سمجھانا تھا۔
مولوی صاحب کے آتے ہی نکاح نامہ پر کیا جانے لگا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔قانِتہ نے بالآخر اپنی زبان کھول دی۔
”میں نکاح اپنی شرائط پر کروں گیئں۔“مسٹر اور مسز محمود سر پکڑتے پکڑتے رہ گئے۔وہ اس سے کیسے اچھی امید رکھ سکتے تھے؟
مسٹر اور مسز جہانزیب نے معنی خیز نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔نکاح سے عین پہلے یہ شرائط والی بات انہیں کھٹکی تھی۔
”مجھے ساری شرائط منظور ہیں۔“غزوان نے بلاتوقف کہا۔اسے قانِتہ کو کسی قیمت پر نہیں گنوانا تھا۔چاہے کچھ بھی ہو جائے۔وہ جو بھی مطالبات کرتی،وہ انہیں پورا کرنے کو تیار تھا۔زیادہ سے زیادہ وہ کیا مانگ لیتی؟کوئی بھاری بھرکم حق مہر،زیورات،گاڑی یا پھر بنگلہ……وہ یہ سب دینے کو تیار تھا۔وہ قانِتہ یزدان کے عشق میں گرفتار ہو چکا تھا اور عاشق تو محبوب کے لیے سر دھر کی بازی لگا دیتے ہیں۔وہ بھی لگا دینا چاہتا تھا مگر قانِتہ نے یہاں بھی اسے بری طرح غلط ثابت کیا تھا۔اس کی شرائط سن کر وہاں موجود سب لوگ گنگ رہ گئے تھے۔
”پہلی شرط،میں زخصتی کے بعد بھی اپنی جاب نہیں چھوڑوں گیئں۔(حالانکہ رخصتی کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا)“پہلی شرط بالکل بجا تھی اور وہاں موجود کسی فرد کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔لیکن صرف پہلی شرط ہی ایسی تھی جس پر سب نے اسے حق بجانب سمجھا تھا۔
”دوسری شرط میرا حق مہر 50 یورو(15000 پاکستانی روپے) ہو گا۔“غزوان نے شدید حیرت سے اسے دیکھا۔یہی حال غزوان کے والدین کا بھی تھا۔وہ کسی بڑے مطالبے کا گمان کر رہے تھے۔
”مجھے کسی قسم کی کوئی سیکیورٹی،کوئی زیور کچھ نہیں چاہیئے۔میں نکاح سے پہلے ہی غزوان کو دوسری بلکہ تیسری اور چوتھی شادی کی بھی اجازت دیتی ہوں البتہ اسے میری اجازت کی ضرورت نہیں مگر میں کبھی اس کی خوشیوں میں رکاوٹ نہیں بنوں گیئں۔کل کسی بھی وجہ سے ہماری علیحدگی ہو جاتی ہے تو میں جائیداد پر کوئی کلیم نہیں کروں گیئں۔مجھے خرچہ بھی نہیں چاہیئے۔مجھے کچھ نہیں چاہیئے،کچھ بھی نہیں۔“وہ جتنے سکون سے اپنی شرائط بتا رہی تھی،وہاں موجود ہر شخص کے چہرے کا رنگ اتنا ہی فق پڑا تھا۔غزوان ہونق بنا اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔
”یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟“بالاخر وہ صدمے سے دو چار بول ہی پڑا۔
”تمہارے لیے راہیں ہموار کر رہی ہوں۔کل اگر تمہیں مجھ سے شادی پر ذرا بھی پچھتاوا ہو تو تم بغیر کسی مشکل کے فوراً مجھے چھوڑ سکتے ہو۔“اس کی باتیں سن کر غزوان کے کانوں سے دھویں نکلنے لگے۔وہ یہاں بیٹھ کر اپنے حسین مستقل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ان کی ویڈنگ نائٹ کیسی ہو گی۔وہ قانِتہ کے لیے کیا خاص کر سکتا تھا۔وہ اسے منہ دکھائی پر کیا دے گا۔وہ شادی کی پہلی صبح اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر کس طرح سرپرائز کرے گا۔وہ ہنی مون پر کہاں جائیں گے۔وہ ہر ویک وینڈ کیسے گزاریں گے۔وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا اور وہ شادی سے پہلے ہی عجیب باتیں کر رہی تھی۔وہ طلاق اور علیحدگی کی باتیں کر رہی تھی۔اس کا دماغ گھومنے لگا تھا۔ہر ایک نے قانِتہ کو بہت سمجھایا سوائے محمود یزدانی کے…..وہ اب قدرے مطمئن تھے۔جانتے تھے کہ وہ کیا اور کیوں کر رہی ہے۔وہ اپنی شرائط پر کمپرومائز کرنے کو بالکل تیار نہ تھی اور آخرکار جیت اس ہی کی ہوئی۔ان تمام شرائط کے ساتھ قانِتہ اور غزوان کا نکاح طے پایا۔مولوی صاحب کے پوچھنے پر اس نے اپنے لبوں پر ہلتا پایا۔”قبول ہے“ لب ہل رہے تھے مگر اندر بہت کچھ بکھر رہا تھا۔وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی تھی۔
نکاح نامے پر سائن کرتے اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔غزوان کے لیے یہ کافی حیران کن تھا۔قانِتہ کے ہاتھ کیسے کانپ سکتے تھے؟دو سیکنڈ میں سائن کرنے کے بجائے اس نے تین منٹ لیے تھے۔پین بار بار اس کے ہاتھ سے چھوٹ رہا تھا۔یہاں بھی اس کی ماں نے اس کی مدد کی تھی۔اگر وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی نہ دیتیں تو شاید وہ اگلے تین گھنٹوں تک دستخط نہ کر سکتی۔
نکاح کے فوراً بعد وہ طبیعت خرابی کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی۔غزوان کے والدین یہ بات سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ وہ اس نکاح پر خوش نہیں ہے۔غزوان کا اپنا منہ لٹک گیا تھا مگر فلحال وہ قانِتہ کو وقت دینا چاہتا تھا۔
کمرے کو اچھے سے لاک کرنے کے بعد قانِتہ بستر پر آ بیٹھی۔اسے عجیب سی گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔بستر کی چادر کو دونوں ہاتھوں میں دبوچے وہ کتنی دیر ایسے ہی بیٹھی رہی پھر جب بےچینی حد سے زیادہ بڑھی تو اس نے ایک دراز کھول کر وہاں سے ایک بڑا سا پھولا ہوا پیکٹ نکالا اور بستر پر الٹ دیا۔دوائیوں کے پتے بستر پر بکھر گئے۔اس نے جلدی جلدی ہر پتے سے دوائی نکالی اور بغیر پانی کے نگل گئی۔اس کی سانس اب اکھڑنے لگی تھی۔وہ بےسود بستر پر گر گئی۔چھت کو گھورتے ہوئے اس کی آنکھ کے گوشے پر کچھ چمکا تھا۔اس نے غزوان سے کہا تھا کہ اس کا کمرہ دروائیوں سے بھرا رہتا ہے تو ٹھیک کہا تھا۔اس نے کہا تھا کہ ہر ہفتے وہ ڈاکٹر کے چکر لگاتی ہے تو یہ بھی ٹھیک تھا۔اس نے کہا تھا کہ اسے کینسر ہے،تو ٹھیک کہا تھا۔اسے کینسر تھا،اسے یادوں کا کینسر تھا۔اسے ماضی کا کینسر تھا۔اسے تنہائی کا کینسر تھا۔اسے خوف کا کینسر تھا۔
قانتہ یزدان نے کبھی غزوان جہانزیب سے جھوٹ بولا ہی نہیں تھا۔مذاق میں کی گئی ہر بات سچی تھی۔وہ جھوٹ نہیں بولتی تھی۔
کچھ دیر یونہی لیٹے رہنے کے بعد وہ میکانکی انداز میں چل کر دراز قد آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔سپاٹ نگاہوں سے اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا اور دوپٹہ نوچ کر پھینک دیا،پھر اسی بے رحمی سے ائیر رنگز نوچے اور انگلی میں پہنی انگوٹھی اور پھر بریسلیٹ……بے دردی سے لبوں پر لگی لپسٹک صاف کی اور انگارہ نگاہوں سے اپنا عکس آئینے میں دیکھا۔اسے اپنا آپ نہایت بدصورت لگا تھا۔وہ بدصورت تھی،بےحد بدصورت……یہ دنیا تھی جو اس کے حسن کے گن گاتی تھی۔اگر کوئی قانِتہ سے پوچھتا کہ بدصورتی کا دوسرا نام کیا ہے تو وہ بلاتوقف اپنا نام لیتی۔لپسٹک مٹانے کی کوشش کے بعد اس نے اپنی آنکھیں رگڑیں۔وہ سارا میک اپ پھیلا چکی تھی۔
”قید مبارک ہو۔“اس نے خود کو کہتے سنا پھر قہقہ لگاتے ہوئے۔اس نے ایک بار پھر خود کو آئینے میں دیکھا،پھر ہنس دی۔وہ کس چیز پر ہنس رہی تھی خود نہیں سمجھ سکی تھی۔غزوان کی بدقسمتی پر،اپنے جذباتی پن پر یا اپنے باپ کی چالاکی پر…….
ہنسنے کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا۔منظر کچھ دھندلا سا گیا تھا۔اس نے ٹشو پیپر سے نہایت بے دردی سے آنکھیں صاف کیں۔آئی شیڈز کے پھیلنے کی وجہ سے وہ بےحد بھیانک لگنے لگی تھی مگر منظر اب صاف تھا۔وہ اب باآسانی اپنا عکس آئینے میں دیکھ سکتی تھی۔سرمئی آنکھوں نے ایک بار پھر اپنی بدصورتی دیکھی تھی، قہقہ ایک بار گونجا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔