Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 38)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 38)
”کھانا اچھا بنایا ہے تم نے۔“شام کے پہر برتن سمیٹتے ہوئے اس شخص نے زخرف سے کہا تھا۔
”شکریہ۔“وہ مدھم آواز میں بس اتنا ہی کہہ سکی تھی۔
”کہاں کی رہنے والی ہو؟“وہ خاموش رہی تھی۔اس سوال کا جواب دینا اتنا آسان تو نہیں تھا۔
”گھر سے بھاگ کر آئی ہو؟“وہ سہم گئی۔انجانے خوف نے اسے جکڑ لیا۔ذہن میں ہزار چیزیں ایک ساتھ گھومنے لگیں۔وہ صرف بھاگ کر تو نہیں آئی تھی۔اس نے تو قتل بھی کیا تھا۔وہ بھی ایک نہیں دو دو۔غانیہ اسے وہاں سے بھگا کر تو لے آئی تھی۔اسے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ لوگ اس کی جان لینا چاہتے ہیں مگر اس نے زخرف فاطمہ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ قاتلہ نہیں ہے۔وہ بے قصور ہے۔
”ڈرو مت۔مجھے اپنا ہی سمجھو۔اب بتاؤ کہ کہاں جاؤ گی؟کوئی ہے تمہارا؟“وہ خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی تھی پھر وہ ڈرتے ڈرتے منمنائی تھی۔
”غانیہ…..مجھے واپس جانا ہے۔اپنے گھر جانا ہے۔غانیہ مجھے ڈھونڈ رہی ہو گی۔سماک مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے۔نہیں،وہ مجھے کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں؟وہ تو…..“کہتے کہتے اس کی زبان رکی تھی۔سرمئی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔آواز روندھ گئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے سسکیاں شروع ہو گئی تھیں۔
”ارے ارے رو مت۔میں تمہیں کچھ دنوں تک تمہارے گھر لے کر جاؤں گا۔تم ایسا کرو کہ آج رات میرے گھر پر رک جاؤ۔قریب ہی ہے۔“زخرف کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ گئے۔سانس معنوں تھم گئی۔
”میں اکیلا نہیں رہتا۔میرے ساتھ میری بیٹی بھی رہتی ہے۔ویسے بھی رات کہیں نہ کہیں تو رکو گی ناں؟“نرم شائستہ لہجہ،آنکھوں میں ہمدردی اور فکر……وہ کیسے یقین نہ کرتی؟یقین کرنے کے علاؤہ اس کے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت دن کی روشنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔سورج افق کے پار جا چکا تھا اور دھندلکے نے سڑک پر سست روی سے قبضہ جما لیا تھا۔
وہ پچپن کے قریب بھاری بھرکم آدمی زخرف کو اپنے ہمراہ پرانے گھر لے آیا تھا۔زخرف فاطمہ نے خاموشی سے اس گھر میں قدم رکھا تھا۔وقت کے تھپیڑوں نے اس کی سوجھ بوجھ معنوں چھین ہی لی تھی۔
کچے صحن کے آگے بنے چھوٹے سے کمرے سے ایک لڑکی نکلی جو اس شخص کی بیٹی تھی۔باپ کی اس وقت آمد کی وجہ سے وہ ہمیشہ دروازہ کھول دیتی تھی ورنہ ذرا سی دیر پر وہ ہنگامہ برپا کر دیتا تھا۔
بیٹی نے باپ کو دیکھا پھر اس کے ساتھ چھوٹی سی لڑکی کو…..وہ لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گئی۔اس کی آنکھوں میں حیرت نہیں حقارت تھی۔بیٹی کی کاٹتی ہوئی نگاہیں زخرف پر جم گئیں۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ان تک آئی اور خطرناک تیوروں کے ساتھ باپ سے پوچھا۔
”کون ہے یہ؟“اس کی آنکھوں میں محض وحشت تھی۔
”بےسہارا ہے۔رات گزارنے کے لیے لایا ہوں۔“باپ نے خود پر نرمی کا لبادہ اوڑھتے ہوئے کہا۔
بیٹی نے برف جیسی نگاہ باپ پر ڈالی اور زخرف کو بازو سے پکڑا پھر اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔لمحہ بھر کے لیے اس کی آنکھیں پھیل گیئں پھر یہی آنکھیں باپ کے چہرے پر جا رکی۔اب ان آنکھوں میں محض افسوس اور حقارت تھی۔
”لڑکی تم اندر کمرے میں چلی جاؤ۔تھوڑی دیر آرام کرو پھر مل کر کھانا کھاتے ہیں۔“اس شخص نے اسے پچکارتے ہوئے کہا۔وہ میکانکی انداز میں کمرے کے اندر چلی گئی۔
”اپنی حرکتوں سے باز کیوں نہیں آتے ابا؟تمہاری ایک جوان بیٹی ہے۔چھوٹی بچی کو اٹھا کر گھر لے آئے تم۔“اس کی آنکھوں میں شعلے اور لہجے میں شدید ناگواری تھی۔
”میں بیاہ کروں گا اس سے۔“چہرے سے ساری ہمدردی دھواں بن کر جھٹ گئی۔اب وہاں صرف خباثت تھی۔
”تم پہلے تین شادیاں کر چکے ہو اور یہ…..یہ چھوٹی سی بچی ہے۔“بیٹی کا دل چاہا زہر کھا کر مر جائے۔
”اس نے زیادہ تو نہیں مگر تھوڑا بہت بتایا ہے اپنے بارے میں۔اتنی بھی بچی نہیں ہے۔میں اس کی مرضی کے خلاف اس سے نکاح نہیں کروں گا۔وہ خود رضامندی ظاہر کرے گی۔“رات کے سائے گہرے ہوتے چلے گئے اور اس شخص کے چہرے پر لگا نقاب بھی اترتا گیا۔
”یعنی ورغلاؤ گے اب اسے تم؟“باپ خباثت سے ہنسا اور آگے بڑھ گیا۔بیٹی نے افسوس بھری سانس اندر کھینچی اور کمرے کی جانب چل دی۔
”ابا تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔“رات لکڑیوں پر ہاتھ سیکتے ہوئے اس نے گو کہ زخرف کے سر پر دھماکہ کیا۔
”اچھا آدمی نہیں ہے وہ۔میری اماں کو بہت مارتا تھا یہاں تک کہ وہ ایک دن مر گئی۔دوسری شادی کی تو سال بھر میں بیوی نے طلاق لے لی۔تیسری ناراض ہو کر میکے بیٹھی ہے۔اب تمہارے ساتھ وہ کیا کرے گا یہ تم خود سوچ لو۔میری مانو تو بھاگ جاؤ۔جب صبح اس کے ساتھ کام پر جاؤ گی تو موقع پا کر بھاگ جانا۔“وہ لڑکی چوکی سے اٹھی اور وہاں سے چل دی جبکہ زخرف سن وجود کے ساتھ وہیں بیٹھی رہ گئی۔خیالات کا شور تھم گیا معنوں دماغ نے ہر جملہ،ہر ربط،ہر فکر سے منہ موڑ لیا ہو۔ایک انجانی کپکپی ریڑھ کی ہڈی سے ہو کر دماغ کی رگوں تک پھیل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی مدھم روشنی آسمان کے کنارے پر پھیل رہی تھی جیسے رات نے ہولے سے صبح کی چادر کھینچ دی ہو۔پرندوں کی مدھم چہچہاہٹ اور دور سے آتی اذان کی آواز فضا میں پاکیزہ سکوت گھول رہی تھی۔مگر سرمئی آنکھوں والی چڑیا کے لیے یہ صبح ایک اور پنجرے کا دروازہ کھولنے والی تھی۔
ڈھابے کے مالک نے چائے کا دیگچہ چولہے پر رکھا اور زخرف کو پوریاں تلنے کا کہا۔وہ دھیمے قدموں سے آگے بڑھی۔وہ رات بھر سے صرف یہی سوچ رہی تھی کہ یہاں سے کیسے بھاگنا ہے۔
ڈھابے پر کام کرنے کے دوران وہ بھیڑ کو دیکھتی رہی اور ساتھ یہ بھی سوچتی رہی کہ آخر کیسے وہ آزادی کا راستہ تلاش کرے۔
پوریاں تلنے سے لے کر برتن دھونے تک وہ بس موقع کا انتظار کرتی رہی۔بالآخر وہ لمحہ آ ہی گیا۔
ڈھابے کے پیچھے گلی سنسان تھی۔مالک کسی گاہک سے بحث میں الجھا تھا۔
زخرف نے اس وقت برقعہ کے بجائے بڑی سی چادر میں خود کو لپیٹا ہوا تھا۔چادر کے ایک کونے کو دانتوں تلے دبائے اب وہ آدھا چہرہ چھپا چکی تھی۔
اس نے ایک آخری نگاہ اردگرد ڈالی اور تیزی سے گلی کی جانب دوڑ لگا دی۔
”اوئے……“ڈھابے کے مالک کی نظر اس پر پڑ چکی تھی۔زخرف کا دل اچھل سا گیا مگر قدموں میں تیزی آتی گئی۔وہ سر پٹ دوڑ رہی تھی مگر کب تک……
”کہاں بھاگ رہی ہے؟“ڈھابے کے مالک نے اسے گردن کی پشت سے پکڑا اور اپنے ساتھ پیچھے کی جانب گھسیٹنے لگا۔
”چھوڑو مجھے،چھوڑو۔“وہ مزاحمت کرتی ہاتھ پیر چلانے لگی۔
”پاگل ہو گئی ہے۔کہاں جائے گی؟میں نے تجھے سہارا دیا ہے۔“
”نہیں چاہیے تمہارا سہارا۔مر جاؤں گئی مگر تم سے شادی نہیں کروں گیئں۔“ڈھابے کے مالک کی گرفت ڈھیلی پڑی پھر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔وہ سارا معاملہ اب کہیں جا کر سمجھا تھا۔
”میں دیکھتا ہوں تو کیسے نہیں کرتی؟“
اچانک گلی کے نکڑ پر وردی میں ملبوس ایک تھانے دار دکھائی دیا۔ماتھے پر شکنیں اور آنکھوں میں شبہات لیے اس نے پوچھا۔
”کیا ہو رہا ہے یہاں؟“تھانے دار کی آواز بلند اور بارعب تھی۔ڈھابے کے مالک کی سٹی گم ہو گئی۔
”یہ…..یہ چوری کر کے بھاگ رہی تھی۔میں نے غریب سمجھ کر کھانا کیا کھلا دیا۔یہ تو میرا بٹوہ لے کر ہی بھاگ گئی۔“ڈھابے کے مالک نے تھانے دار کی نگاہوں سے بچ کر اپنا بٹوہ زمین پر گرایا اور پھر زمین سے اٹھا کر تھانے دار کو دکھایا۔
تھانے دار نے ایک نگاہ لڑکی پر ڈالی جس کی سانس پھولی ہوئی اور چہرہ گردآلود…..
”یہ جھوٹ ہے،میرا یقین کرو یہ جھوٹ ہے۔میں نے کوئی چوری نہیں کی۔“وہ سسکتے ہوئے اپنی بے گناہی کی گواہی دے رہی تھی۔
”خاموش ہو جاؤ لڑکی۔سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا…..اس کا فیصلہ میں کروں گا۔“تھانے دار نے زخرف کو بری طرح جھڑکا اور یہاں اس کا صبر ٹوٹ گیا۔
”ڈر نہیں لگتا تم لوگوں کو اللہ سے؟خوف نہیں ہے تمہیں آخرت کا؟تم سب کے سب ایک جیسے ہو۔بےحس،مفاد پرست اور ہوس پرست…….“اس نے انگلی اٹھا کر پہلے ڈھابے کے مالک کی طرف دیکھا اور پھر تھانے دار کی طرف……تھانے دار کا خون کھول اٹھا۔
اسے ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا اور پھر کچھ دیر بعد وہ سلاخوں کے پیچھے تھی۔خاموش اور ساکت……
باہر دن روشن ہو رہا تھا اور اس کے حصے میں جیل کی تاریکی آئی تھی۔
اس بند کوٹھڑی میں اسے شدت سے اپنا گھر یاد آیا تھا۔سماک یاد آیا تھا،غانیہ یاد آئی تھی،نوراں اور بیگم جان بھی…….
گھر پر ایک اختر نے نقب لگائی تھی یہاں ہزاروں تیار بیٹھے تھے۔گھر پر اسے بچانے والی غانیہ تھی۔اس کے زخموں پر مرہم بھی وہی رکھتی تھی۔سماک بھی کبھی کبھی اسے اپنے پن کا احساس دلا دیتا تھا مگر یہاں وہ اکیلی تھی۔
چھاؤں اور دھوپ کا مطلب اسے اب سمجھ آیا تھا۔چڑیا قید سے تو آزاد ہو گئی تھی مگر چڑیا کو اڑنا نہیں آتا تھا۔چڑیا ہر قدم پر گر جاتی تھی اور ہر قدم پر کوئی شکاری اس کے لیے جال پھیلائے بیٹھا ہوتا تھا۔چڑیا کو اپنا پنجرہ یاد آیا تھا اور شدت سے یاد آیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی پہلی روشنی ابھی کھڑکی کے درزوں سے اندر آنا شروع ہوئی تھی لیکن کمرے میں انجانی گھٹن اب بھی چھائی ہوئی تھی۔قانِتہ نے ایک دم سے آنکھیں کھولیں۔سانسیں تیز جبکہ ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔جیسے وہ کسی اندھے کنویں میں قید ہو اور آنکھیں کھولتے ہی اس کی جان بچ گئی ہو۔
بستر کی چادر بے ترتیب تھی معنوں پوری رات جاگتی رہی ہو۔سرمئی آنکھیں چھت پر جمی تھیں لیکن نگاہوں میں دھندلی تصویریں جھلک رہی تھی۔ماضی کے دھندلے چہرے،سلاخیں اور اندھیرے……
تیز تنفس کے ساتھ وہ اٹھ بیٹھی جیسے جسم تھکن سے چور ہو۔ہاتھ کانپ رہے تھے اور دل کی دھڑکن کسی انجانے خوف سے معمول سے تیز تھی۔
اس نے تھکی تھکی نگاہوں سے اردگرد دیکھا تو خود کو تاریک کوٹھری کے بجائے بارسلونا کے سٹائلش گھر میں پایا۔ہاتھ گود سے ہٹا کر نیچے رکھا تو گداز بستر کو محسوس کیا۔لبوں پر تشکر بھری مسکراہٹ رینگ آئی۔جانتی تھی یہ خواب محض خواب نہیں ماضی کی دردناک یاد تھی۔ایسا زخم جو سوتے ہوئے پھر سے رسنے لگا تھا۔
سر جھٹک کر اس نے خود کو تمام خوابوں کی زنجیروں سے آزاد کیا اور بستر سے اٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد بستر پر دو بیگ کھلے پڑے تھے۔قانِتہ وارڈراب کھولتی ایک ایک جوڑا تہ کرتی اپنے بیگ میں رکھ رہی تھی جبکہ غزوان کے بیگ سے وہ کپڑے نکال نکال کر وارڈراب میں سجا رہی تھی۔وہ رات سے گھر نہیں آیا تھا۔کہاں گیا تھا،یہ جاننے کی اس نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔اسے اب صرف اتنا معلوم تھا کہ اس گھر میں اور غزوان کی زندگی میں اب اس کی کوئی جگہ نہیں تھی۔
وہ بڑی سرد مہری سے اپنے کپڑے بیگ میں ڈال رہی تھی معنوں اس رشتے کی ہر یاد سمیٹ رہی ہو۔
اس کے چہرے پر سکون نہیں تھا مگر دکھ بھی نہیں تھا۔وہ اب بس تھک چکی تھی۔اس رشتے کا بوجھ اٹھا اٹھا کر اب اس کی بس ہو چکی تھی۔غزوان کے اس فیصلے پر اسے ذرا برابر افسوس نہ ہوا تھا۔وہ اپنی جگہ ٹھیک تھا،حق پر تھا۔آنکھوں دیکھی مکھی کون نگلتا ہے؟یہ بات قانِتہ یزدان جانتی تھی بس اسی وجہ سے اس نے سچ کہا تھا۔یا تو آر یا پار…..اس رشتے کی کشتی کو کسی کنارے تو لگنا ہی تھا اور لگ بھی چکی تھی۔
غزوان کے کپڑے وارڈراب میں سجانے کے بعد اس نے وارڈراب کا دروازہ بند کیا اور خاموشی سے اپنے بیگ کی زپ بند کرنے لگی۔دروازے تک پہنچ کر وہ لمحہ بھر کو رکی مگر پلٹ کر پیچھے نہ دیکھا۔وہ خاموشی سے غزوان جہانزیب کی زندگی سے نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قانِتہ نے دروازہ دکھیلا اور بوجھل قدموں سے اپنے فلیٹ میں داخل ہوئی۔صوفے پر چائے پیتی گرینی ایک جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھیں۔
”قانِتہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“وہ اٹھ کر تیزی سے اس کی جانب بڑھیں۔وہ کل ہی قانِتہ کے سسرال سے یہاں آئی تھیں اور آج وہ خود واپس لوٹ آئی تھی۔
اس نے بیگ فرش پر رکھا اور صوفے کے کنارے پر آ کر ٹک گئی۔
”بس سمجھ لیں کہ غزوان نام کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔“اس کی آواز میں دراڑ تھی جیسے برسوں پرانا دل کا زخم پھر سے کریدا گیا ہو۔
گرینی کا دل سمٹ سا گیا۔اس نے سراسیمگی سے قانِتہ کی جانب دیکھا،اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔اذیت بھری مسکراہٹ……
”میں جب تک آفس کے لیے تیار ہوتی ہوں تب تک آپ ناشتہ بنا دیں۔“وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔دروازہ بند ہوتے ہی بہت سی آوازیں فلیٹ میں گونجنے لگیں۔ٹوٹی امیدوں کی آوازیں،بکھرے رشتے کی آوازیں اور طویل خاموشی کی آوازیں…….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ڈھل چکی تھی۔آسمان پر بادلوں کی تہہ چھائی ہوئی تھی اور ہواؤں میں عجیب سی اداسی تھی۔قدموں میں تھکن تھی مگر دل کی تھکن اس سے زیادہ گہری تھی۔دفتر کی چمکتی روشنیوں،فائلوں کی کھڑکھڑاہٹ سے نکل کر وہ گھر پہنچی تھی۔سارا دن اس امید پر گزرا تھا کہ شاید وہ کوئی میسج کر دے یا پھر کوئی کال……
دروازہ کھولا تو ہال میں خاموشی کا راج تھا۔وہ آہستہ قدموں سے اندر داخل ہوئی۔دل کے کسی گوشے میں موجود مدھم امید بھی اب بجھ چکی تھی۔
سب ختم ہو چکا تھا پھر بھی دل بے چین تھا۔نجانے کیسا احساس تھا جو اسے اندر ہی کھائے چلا جا رہا تھا۔
اس کی بھٹکتی تھکی ہوئی نگاہ صوفے پر پڑی اور پھر وہیں ٹھہر گئی۔اس لمحے جیسے وقت نے سانس کھینچ لی ہو۔
صوفے پر وہ اکڑوں بیٹھا تھا،کمر جھکی ہوئی،دونوں کہنیاں گھٹنوں پر ٹکی تھیں۔اس کی انگلیاں آپس میں الجھی ہوئی تھیں اور نگاہیں فرش پر جمی تھیں۔
قانِتہ کے ہاتھ سے پرس چھوٹ کر گرا۔اس نے پلکیں جھپکا کر غور سے دوبارہ دیکھا،وہ وہیں تھا۔غزوان وہیں تھا۔
پرس کے گرنے کی آواز پر وہ چونکا اور قانِتہ کی جانب دیکھا۔بال بکھرے ہوئے تھے جبکہ آنکھیں شب خوابی کی وجہ سے گلابی مائل…….
وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔قانِتہ کے قدم لڑکھڑائے۔
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا۔قانِتہ کی سانس تھم گئی۔
دوسرے قدم پر اسے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔
پھر تیسرا قدم پھر چوتھا اور پھر پانچواں……
اس نے قانِتہ کو بازو سے پکڑا اور پھر گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ کمرے میں لے جانے لگا۔وہ کچھ سمجھ نہ سکی۔غزوان نے اسے کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہ دیا۔کمرے میں آ کر غزوان نے دروازہ بند کیا اور قانِتہ کو دروازے سے پن کیا۔
”کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟“اطراف میں دونوں ہاتھ رکھتے اس نے نہایت سرد مگر مدھم لہجے میں پوچھا۔
وہ اسے دیکھتی رہی۔انجان،بےیقین نگاہوں سے….. کہیں وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی تھی۔
”سمجھتی کیا ہو تم خود کو؟“اس نے ہاتھ زور سے دیوار پر مارا اور تقریباً دھاڑا۔قانِتہ کے حواس فوراً بحال ہوئے۔یہ خواب نہیں تھا۔کم از کم وہ خواب میں اس قدر اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتا تھا اور حقیقت میں…….اس کی سوچ پر وہیں گرہ لگی۔وہ حقیقت میں بھی اس انداز میں بات نہیں کرتا تھا۔
”میری جان لینے کے بعد ہی کیا سکون آئے گا تمہیں؟“
”ایسا مت کہو۔“زبان سے بے اختیار نکلا تھا۔دل لمحہ بھر کے لیے رکا تھا۔نجانے کیوں اسے تکلیف ہوئی تھی۔
”تو پھر کیا کہوں؟آخر چاہتی کیا ہو تم؟کبھی کچھ ایسا کہہ دیتی ہو کہ میں گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہوں کبھی خود بلاوجہ گھر کی دہلیز پار کر لیتی ہو۔نہیں رہنا میرے ساتھ؟نہیں رہنا تو آخری بار بتا دو۔بس ایک آخری بار اپنی زبان سے کہہ دو کہ میں نہیں رہنا چاہتی تمہارے ساتھ غزوان۔طلاق چاہیئے مجھے۔بس ایک آخری بار…..“غزوان نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔سرمئی آنکھوں میں ڈھیروں نمی جمع ہونے لگی۔
”تم میرے ساتھ….. نہیں رہنا چاہتے۔اپنے الفاظ میرے منہ میں مت ڈالو۔“وہ مضبوط لڑکی رو پڑی تھی۔
”میں…..“غزوان نے اسے چھوڑا اور حیرانگی سے انگلی اپنی سمت اٹھائی۔
”میں نہیں رہنا چاہتا اور ذرا روشنی ڈالو کہ میں کیوں نہیں رہنا چاہتا؟“
”کیونکہ میں بیوہ……“وہ بولتے بولتے رکی۔آواز روندھ گئی۔لب کو آپس میں پیوست کیے اس نے خود پر قابو پانے کی کوشش کی۔
”میں زندہ سلامت تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔کیوں مجھے مارنے پر تلی ہو؟“وہ اب خفگی اور بےبسی سے پوچھ رہا تھا۔
”تم سے پہلے…..“
”مجھ سے پہلے تم کیا تھی یہ اہم نہیں ہے۔“اب کی بار وہ جب بولا تو لہجہ شکست خوردہ تھا۔قانِتہ نے چونک کر اسے دیکھا۔چہرے پر سوالات کے ساتھ بے یقینی بھی در تھی۔
”تم کتنی بری ہو قانِتہ۔تم خود تو یہاں چلی آئی ساتھ اتنا کچھ چرا کر بھی لے آئی۔“وہ اب بھی سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
”میرا سکھ چین،میری خوشیاں،میرا دل تم تو سب ہی لے آئی یار۔چلو واپس کرو مجھے سب اور اگر نہیں کر سکتی تو پھر گھر واپس چلو۔“وہ لمحے بھر کو ایسے جمی معنوں ساری حسیں مفلوج ہو گئی ہوں۔
کمرے میں پھیلی روشنی،دیوار پر لٹکی گھڑی،فرش پر بچھا قالین ہر چیز پس منظر میں چلی گئی۔وہاں صرف وہ دونوں تھے۔وہ بول رہا تھا اور وہ سن رہی تھی۔جو وہ بول رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔
”ساری رات سوچا میں نے اور اس نتیجے پر پہنچا کہ نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔تمہارا ماضی جو بھی ہے مگر حال صرف میں ہوں۔ایسا ہی ہے ناں؟“اس نے تصدیق چاہی اور وہ بے اختیار اثبات میں سر ہلا گئی۔
”گھر چھوڑ کر کیوں آئی؟“
”میں نے سوچا اس سے پہلے تم جانے کا کہو میں خود چلی جاتی ہوں۔“اس نے آنسو پونچھتے مدھم آواز میں کہا۔
”تم مجھ پر احسان کرو،کچھ بھی مت سوچا کرو۔تم جب بھی سوچتی ہو،غلط ہی سوچتی ہو۔“اسے غصہ نہیں آیا تھا،ہنسی آئی تھی۔وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا۔اپنے تئیں تو اس نے بہت کچھ سوچ لیا تھا۔جو کچھ اس نے سوچا تھا اس میں کہیں بھی غزوان کی واپسی یا ساتھ نہیں تھا۔
”اگر ایسا تھا تو پھر تم رات میں ایسے کیوں گئے؟“
”میری بیوی مجھے اپنی سابقہ شادی کے بارے میں بتا رہی تھی،کیا گلے لگاتا میں اسے؟تھوڑا وقت تو دیتی مجھے بلکہ تمہیں آنا چاہیے تھا میرے پیچھے۔مجھے مناتی،تفصیل سے سب سمجھاتی لیکن تم تو سارے ہتھیار ڈال کر میدان جنگ سے ہی بھاگ گئی۔“قانِتہ نے سر جھکا لیا۔نگاہیں جیسے زمین میں پیوست ہوں گیئں۔
”کتنی بار پوچھا تم سے کہ قانِتہ،اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے شیئر کرو۔میں سمجھوں گا تمہیں۔ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں مگر تم نے مجھے اس قابل ہی نہیں سمجھا۔بتایا بھی تو کب جب……“وہ کہتے کہتے رکا۔قانِتہ کے کندھوں پر شرمندگی کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔
”دھوکہ تو نہیں دو گے تم مجھے؟“چند ثانیوں بعد جب اس نے نگاہیں اٹھائیں تو ان میں شبہات تھے۔وہ بس اسے دیکھتا رہ گیا۔آنکھوں میں فریاد تھی۔اس نے ایک لفظ نہ کہا پھر بےبس نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔وہ اب بھی اس پر شک کر رہی تھی۔او خدایا،وہ آخر کیا چاہتی تھی۔
”میں دیوار میں ٹکر دے ماروں گا اگر اب تم نے دھوکے کا نام بھی لیا تو۔“وہ بولنے لگا تو آواز بلند ہوتی چلی گئی۔سانسیں تیز ہو گئیں جیسے اندر لاوا ابل رہا ہو۔الفاظ غصے کی آگ میں تپ کر نکلے تھے مگر قانِتہ کو بے اختیار ہنسی آئی تھی۔اسے غزوان کے جملے سے زیادہ لہجے نے ہنسنے پر مجبور کیا تھا۔
”میری زندگی کی بینڈ بجا کر تم ہنس رہی ہو۔شاباش…..“وہ اور تپ گیا تھا۔
”تمہیں سچ میں میری پہلی شادی پر اعتراض نہیں ہے؟“اب کی بار اس نے کچھ سنبھل کر پوچھا تھا۔
”تم جس سٹیج پر آ کر مجھے سب بتا رہی ہو،اس جگہ سے واپسی ممکن نہیں ہے۔تم نے جھوٹ بولا،غلط کیا۔اب میں اس جھوٹ کی بناء پر تمہیں چھوڑ دوں گا تو یہ اس سے بھی زیادہ غلط ہو گا۔تمہارے ساتھ نہیں میرے اپنے ساتھ۔“اس کے چہرے سے لاچاری صاف ٹپک رہی تھی۔وہ مجبور تھا،محبت کے ہاتھوں مجبور……
”اتنی محبت مت کرو مجھ سے۔“وہ نا چاہتے ہوئے بھی کہہ اٹھی تھی۔
”میرے دل میں تمہاری محبت اللہ نے ڈالی ہے۔تم اس سے کہہ دینا کہ میرے شوہر کے دل سے میری محبت نکال دے۔میں ہر نماز میں دعا کروں گا کہ تمہاری دعا بری طرح رد ہو جائے۔آمین!“قانِتہ چند لمحوں کے لیے اسے دیکھتی رہی،یقین اور بے یقینی کے درمیان…… آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے مگر یہ دکھ کے آنسو نہیں تھے۔یہ اس ادھورے خواب کی تکمیل کے آنسو تھے جو دل کے کسی کونے میں مدفن تھا۔
وہ آگے بڑھی اور تیزی سے غزوان کے سینے سے لگ گئی۔
”تم مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہو۔مجھے تم سے تھوڑی سی بھی محبت نہیں ہے لیکن میں پھر بھی ساری زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔“اس کے منفرد اظہار پر وہ لمحہ بھر کو سکتے میں چلا گیا پھر لبوں پر حیرت اور خوشی کے امتزاج بھری مسکراہٹ ابھری۔اس کے قانِتہ کے گرد حصار قائم کیا پھر اس کے بالوں پر اپنے لب رکھ دیے۔
وہ دونوں اب خاموش کھڑے ایک دوسرے کی موجودگی کو محسوس کر رہے تھے۔یہ خاموشی لفظوں سے زیادہ پراثر تھی۔ٹوٹے دل محبت کی تار سے پھر جڑنے لگے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالکنی میں ہلکی سی خنکی تھی۔سمندر کی نمکین ہوا نرمی سے ان کے چہروں کو چھو رہی تھی۔دور نیلے پانی کی سطح چاندنی میں چمک رہی تھی۔
قانِتہ اور غزوان خاموش کھڑے تھے۔ہاتھوں میں کافی کے مگ اور نگاہیں دور پانی میں گم تھیں۔
یہ خاموشی قانِتہ نے توڑی۔
”تمہیں پتا ہے غزوان،میں جب چھوٹی تھی تو خواب دیکھتی تھی کہ ایک دن سمندر کنارے مٹی کا گھر بناؤں گیئں۔“دل میں چھپی بات دھیرے سے لبوں پر آ ٹھہری۔
غزوان نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر مسکرایا۔
”پھر بنایا تم نے؟“
”نہیں،اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔دیکھو ہمارا گھر سمندر سے کچھ فاصلے پر ہے۔ہو گئی نا خواہش پوری۔“وہ عجیب طرز سے ہنسی تھی۔
”مگر ہمارا گھر مٹی کا نہیں ہے۔“غزوان کے کہنے پر قانِتہ نے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھا۔اس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔قانِتہ نے فوراً نفی میں سر ہلایا مگر وہ ماننے والا کب تھا۔
”پانچ منٹ کا تو فاصلہ ہے۔چلو چلتے ہیں۔“وہ معنوں تیار کھڑا تھا۔
”ہم بچے نہیں ہیں غزوان۔“اس کی یاددہانی پر غزوان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کے لاکھ احتجاج کے باوجود اسے گھر سے باہر لے آیا۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں ساحل سمندر پر موجود تھے۔
سمندر کنارے ہوا میں نمکین خوشبو رچی ہوئی تھی جو لہروں کی سانسوں میں شامل ہو کر فضا کو مہکا رہی تھی۔
آسمان پر ستارے کسی پینٹنگ میں موجود اسٹاک کی مانند بکھرے ہوئے تھے۔
قانِتہ اور غزوان خاموشی سے ساحل پر چل رہے تھے۔نرم ریت پر ان کے قدموں کے نشان ساتھ ساتھ بن رہے تھے جیسے وقت خود کو محفوظ کر رہا ہو۔
”اگر تم مجھ سے کچھ اور بھی شیئر کرنا چاہتی ہو تو کر سکتی ہو۔“غزوان نے آہستگی اور نرمی سے کہا۔
”بتانے لائق کچھ ہے ہی نہیں۔بس والدین کا ایک غلط فیصلہ تھا۔ہم ایک دوسرے کو سمجھ نہیں سکے بس اس لیے رشتے میں کچھ پیچیدگیاں آ گئیں اور پھر ایک دن اس کا انتقال ہو گیا۔اتنی سی بات ہے۔“اس نے کندھے اچکا کر بس اتنا ہی کہا۔غزوان نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔اس لمس میں سکون تھا،وعدہ تھا،احترام تھا۔
”بس پھر ٹھیک ہے ہم آج کے بعد یہ سب ڈسکس نہیں کریں گے۔“اس نے جیسے قانِتہ کو تسلی دی۔
”ارے گھر تو بنایا نہیں ہم نے۔“اچانک یاد آنے پر اس نے چونک کر کہا تھا۔
”تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے۔“وہ ہنس دی تھی۔
”تم نہ بناؤ،میں تو بناؤں گا۔مجھے مٹی بہت پسند ہے۔“
”ہاں تم تو سب کرو گے ناں۔میرے کہنے پر پھولوں سے نام لکھا پانی پر۔پولیس والے کا موبائل چرا کر بھاگ گئے۔مطلب حد ہے۔“وہ اب باقاعدہ اس کا مذاق اڑا رہی تھی۔
”تم نے خود ہی یہ شرائط رکھی تھیں۔“وہ اب خفگی سے یاد کروا رہا تھا۔
”میں امتحان لے رہی تھی تمہارا اور تم بری طرح سے فیل ہو گئے۔اصولا تمہیں انکار کرنا چاہیے تھا۔تمہیں کہنا چاہیے تھا کہ قانِتہ تمہاری سوچ کتنی بچکانہ ہے۔میں مرد ہوں اور میں کسی عورت کی کوئی فضول خواہش پوری نہیں کرنے والا۔اگر تم ایسا کہتے تو پاس ہو جاتے۔“غزوان اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔کیا سوچتی تھی وہ اور کیا کرتی تھی۔اس نے باقاعدہ جھرجھری لی۔اس کے ساتھ زندگی آسان نہیں تھی۔اس کی سوچ حد سے زیادہ منفی تھی مگر اسے یقین تھا کہ وہ زیادہ نہیں مگر کچھ حد تک اسے بدل لے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
