Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode12)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode12)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
اے حرمِ قرطبہ! عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود
رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزہَ فن کی ہے خون جگر سے نمود
تیری فضا دل فروز، میری نوا سینہ سوز
تجھ سے دلوں کا حضور، مجھ سے دلوں کی کشود
قطرہَ خون جگر، سِل کو بناتا ہے دل
خونِ جگر سے صدا سوز و سرور و سرود
عرشِ معلّٰی سے کم سینہَ آدم نہیں
گرچہ کفِ خاک کی حد ہے سپہرِ کبود
پیکرِ نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیا
اس کو میسر نہیں سوز و گدازِ سجود
کافرِ ہندی ہوں میں ، دیکھ مرا ذوق و شوق
دل میں صلوٰۃ و درود، لب پہ صلوٰۃ و درود
شوق مری لَے میں ہے، شوق مری نَے میں ہے
نغمہَ اللہ ہو، میرے رگ و پے میں ہے
دن کے وقت سورج نیلگوں آسمان پر براجمان دیواروں پر روشنی بکھیرنے لگا تھا۔سورج کی کرنیں کھڑکیوں سے چھن کر اندر آتی سنگ مرمر کے فرش پر سنہری چمک چھوڑ رہی تھی۔ہوا میں ایک قدیم خوشبو رچی بسی تھی۔
کیتھڈرل کے اندر داخل ہوتے ہی غزوان کے قدم رکے تھے۔وہ جو لمحہ پہلے کسی اور دنیا میں تھا…..رک گیا…..ٹھہر گیا۔آنکھیں طلسماتی طور پر جھپکنا بھول گیئں۔دل زور سے ڈھڑکا۔وہ اپنی آنکھوں سے چاند کو زمین پر اترتے دیکھ رہا تھا۔
وہ قانِتہ یزدان کو دیکھ رہا تھا۔سفید سوٹ میں ملبوس وہ لڑکی دوپٹہ اوڑھے ہوئی تھی۔وہ ہلکا سا مڑی تو ریشم کے دھاگوں میں لپٹا روشن چہرہ مزید واضح ہوا۔دفعتا اس نے آنکھوں پر لگائی سن گلاسز اتاریں، غزوان سانس لینا بھول گیا۔اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی مقناطیسی طاقت تھی۔وہ چاہ کر بھی اس سے دور نہیں رہ سکتا تھا۔
اردگرد کے شور نے اسے معنوں ہوش دلایا۔اس کے پیرنٹس اور قانِتہ کے پیرنٹس ایک دوسرے سے مل رہے تھے،باتیں کر رہے تھے۔مختلف لوگ ادھر سے اُدھر چہل قدمی کر رہے تھے۔غزوان نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور مٹھی سختی سے بنا کر اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کی مگر نگاہیں تو اس پر سے ہٹنے سے انکاری تھیں۔
وہ اب ہاتھ پر ہاتھ باندھے کھڑی ناگواری سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔اس کے چہرے کے تاثرات غزوان کو ہنسنے پر مجبور کر گئے۔وہ اس طرح منہ بناتی غزوان کو بہت کیوٹ لگی تھی۔وہ لب دبائے چل کر آگے آیا۔
”قانِتہ کو تاریخ میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی ہے۔بیٹا،جاؤ غزوان کے ساتھ اور اسے سارا چرچ دکھاؤ۔آپ بچے کیا کرو گے ہمارے درمیان؟“وہ پہلے چونکی،معنوں اس چیز کی توقع نہ ہو پھر بےبسی سے مسٹر محمود کی جانب دیکھا اور پھر آخر میں دانت کچلا کر پرسکون کھڑے اس مصیبت کو…..ہاں،وہ اسے مصیبت ہی لگتا تھا۔
”بالکل سینوریٹا قانِتہ،میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے گائیڈ کریں۔“قانِتہ کا چہرہ دہکنے لگا۔بمشکل غصے کو قابو کر کے لبوں پر جبری مسکراہٹ لائی۔
”کیوں نہیں سینور غزوان، آئیں چلتے ہیں۔(تمہاری قبر بنانے)“آدھا جملہ ضبط کیا اور غصے سے بل کھاتی پلٹی۔چہرہ جھکائے غزوان نے بامشکل قہقہہ ضبط کیا۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی جبکہ غزوان اچھے سیاح کی طرح اس کے ساتھ خاموشی سے چل رہا تھا۔
”آج کا چیلنج پری وَش؟“بالاخر اس خاموشی کو اس ہی نے توڑا تھا۔وہ رکی پھر خفگی سے اس کی جانب دیکھا۔
”دوسرا چیلنج،زہر کھا کر مر جاؤ۔“دانت پر دانت جما کر کہا اور سرخ اور سفید پتھروں کے دو محرابوں سے بنے ستون کو پار کرتی آگے بڑھ گئی۔(یہاں کی خاصیت یہ بھی ہے کہ یہاں ایک کے بجائے دو محرابوں پر ستون کھڑے کیے گئے ہیں)
”واہ گلابے،باقی کی چار شرطیں گورکن پوری کرے گا یا فرشتے؟“اس کے ہمقدم ہوتے غزوان نے شرارت سے کہا۔
”تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟“وہ سخت جھنجھلا گئی۔سنگ مرمر اور جیپسر سے تراشے گئے ستون دلچسپی سے کھڑے ان کی گفتگو سن رہے تھے۔
”چھوڑ دیتا ہوں پھر تم وعدہ کرو کہ میرے ہمقدم چلو گی۔“قانِتہ نے کچھ کہنا چاہا پھر ضبط سے لب بھینچ کر رہ گئی۔ستونوں پر روشنی کے سائے قدیم خواب تشکیل دیتے رہے۔
”میری زندگی میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے۔“چند لمحوں بعد اس نے آہستگی سے مگر تھکے تھکے انداز میں کہا۔مسجد کے ستونوں پر پڑتی سنہری روشنی لمحہ بھر کو مانند پڑ گئی۔
”میں بنا لوں گا۔“لہجہ میں ایک الگ ہی جذبہ تھا،اپنی منزل کو پانے کی جستجو تھی۔وہ خاموش رہی۔محرابوں پر سائے ایسے ہی کھیلتے رہے۔
”ویسے تم مجھے گائیڈ کر رہی تھی؟“غزوان کی یاددہانی پر وہ تمتلا گئی۔
”اندھے ہو؟دکھائی نہیں دے رہا سب؟یہ ستون ہے،محرابیں ہیں،فرش ہے،آگے جا کر چرچ ہے۔خود دیکھ لو۔“وہ ایک ایک چیز کی جانب اشارہ کرتے تقریباً چیخ رہی تھی۔
”تم یہاں پہلی بار آئی ہو؟“قانِتہ کا دل دھک سے رہ گیا۔(افف!کتنا ذہین تھا وہ)
”بالکل نہیں،بہت بار آ چکی ہوں۔“خفت مٹانے کی کوشش کی گئی۔
”اچھا تو پھر مجھے یہاں کی تاریخ کے متعلق کچھ بتاؤ۔“اگر یہ چیلنج تھا تو قانِتہ یزدان کو قبول تھا۔
وہ چلتے چلتے سب سے خوبصورت اور مقدس مقام کی جانب آ گئے تھے۔یہ ایک شاندار محراب تھی جو موزیک اور سبز شیشوں سے سجی ہوئی تھی۔
”میں کوردوبا (قرطبہ) دو بار آئی ہوں مگر مسجد قرطبہ(جو کہ اب کیتھیڈرل ہے) پہلی بار آئی ہوں۔“اس نے گو کہ اعتراف کیا۔محراب کے آس پاس جنگلہ لگا کر راستہ بند کیا ہوا تھا۔وہ تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوئے تھے۔
”یہاں کی فضا سوگوار ہے۔مجھے عجیب سی وحشت ہوتی ہے۔ایک وقت میں قرطبہ میں تین ہزار کے قریب مساجد ہوا کرتی تھیں اور مسجد قرطبہ سب سے عالیشان مسجد تھی۔یہاں مسلمانوں کی حکومت تھی مگر آج یہاں نہ تو آذان دینے کی اجازت ہے اور نہ نماز پڑھنے کی۔“محراب کے اوپر کنندہ روشنی میں جھلملاتی آیات کو دیکھتے اس نے کچھ دکھ سے کہا۔غزوان نے اس دکھ کو برابر محسوس کیا۔
”آج یہ جگہ کیتھڈرل(گرجا گھر) کہلاتی ہے۔تقریبا آیات اور خطاطی کو مٹا یا چھپا دیا گیا ہے۔اس سے بڑا زوال اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی مقدس جگہ پر شرک ہوتے دیکھیں؟“اس کی آنکھوں میں درد کی کرچیاں چھبیں۔دل بھر سا گیا۔
”کیا تم یہاں نماز پڑھنا چاہتی ہو؟“غزوان نے آہستگی سے پوچھا۔بازنطینی اور ہسپانوی فن تعمیر کے نقوش اب بھی روشنی میں جگمگا رہے تھے۔اس حصے میں ایک عجیب سا سکون تھا معنوں صدیوں پرانی دعائیں اب بھی یہاں گونج رہی ہوں۔
”ہاں، یا پھر شاید نہیں۔یہ اب ایک گرجا گھر ہے، ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے۔یہاں کے قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے۔ہم نے اسے کھو دیا،یہ ہماری بد نصیبی ہے۔اب زبردستی یہاں نماز پڑھ کر کیا کریں گے؟“اس نے کندھے اچکا کر ایک گہری سانس لی،معنوں خود کو ریلیکس کرنا چاہ رہی ہو۔
”تمہیں پتا ہے، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے یہاں نہ صرف آذان دی تھی بلکہ نماز بھی پڑھی تھی۔انہوں نے انتظامیہ سے خصوصی اجازت مانگی تھی اور اس کے بعد انہوں نے اپنی مشہور نظم مسجد قرطبہ بھی لکھی۔“وہ شاید متاثر ہوئی یا پھر شاید نہیں،وہ اندازہ نہیں کر سکا۔
”جو بھی ہے غزوان،اب یہ صرف ایک گرجا گھر ہے۔ہر جگہ تو انہوں نے صلیب اور مورتیاں بنا رکھی ہیں۔“اس نے کچھ ناگواریت سے کہا پھر دونوں ایک ساتھ آگے بڑھ گئے۔
(مسجد قرطبہ سے ہمارے ذہن میں ایک مسجد کا ہی نقشہ ابھرتا ہے مگر درحقیقت یہ اسلامی فن تعمیر پر کھڑی کی گئی عمارت تو ضرور ہے مگر اب مسجد نہیں رہی۔)
وہ چلتے چلتے مرکزی حصے تک پہنچے جہاں کیتھڈرل کا بلند و بالا گنبد کھڑا تھا۔دیواروں پر مسیحی نفش و نگار بنے ہوئے تھے۔چرچ اونچا اور شان و شوکت سے بھرپور تھا، معنوں اپنے اونچے ستونوں پر فخر کر رہا ہو۔
کچھ دیر وہ ادھر ادھر گھومتے رہے۔وہ اسے چھیرتا رہا اور وہ اسے لتارتی رہی۔پھر گھوم پھر کر واپس مرکزی دروازے کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔
فون کی گھنٹی پر قانِتہ نے چونک کر کال ریسیو کی۔
”بیٹا،آپ غزوان کے ساتھ آ جانا۔ہم لوگ ہوٹل کے لیے نکل چکے ہیں۔“اس پر معنون بم گرا تھا۔جس شخص کو ایک لمحہ برداشت کرنا مشکل تھا،اسے اب مزید چند گھنٹے برداشت کرنا تھا(کیا مصیبت تھی؟)
”تو پری وَش،اب کہاں جائیں؟“وہ بےحد پُرسکون انداز میں پوچھ رہا تھا،معنوں فون پر دیے گئے حکم سے پہلے ہی واقف ہو۔
قانِتہ نے منہ چڑا کر نگاہیں ادھر اُدھر گھمائیں،دماغ کا بلب جلا،اچانک لبوں پر شاطرانہ مسکراہٹ رینگ آئی۔
”وہ گاڑی کے پاس کھڑا آفیسر نظر آ رہا ہے تمہیں؟“اس نے سڑک پار کھڑے پولیس آفیسر کی جانب اشارہ کرتے کہا۔غزوان نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔
”تمہیں اس آفیسر کا موبائل چرانا ہے۔“اب کی بار بم غزوان کے سر پر گرا تھا۔آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں،چہرے کی ہوائیاں اڑ گیئں۔
”تمہارا تو سچ میں باقی کی شرائط گورکن سے پوری کروانے کا ارادہ ہے۔نہ ہیرے،باقی کی شرائط میں نے پوری کرنی ہیں اور شادی بھی میں نے ہی کرنی ہے تم سے۔“اس نے گو کہ قانِتہ کو یاددہانی کروائی۔
”یہ کرنے کے لیے تمہارے پاس پورے دس منٹ ہیں۔اگر نہ کر سکے تو رشتے سے انکار کرو گے۔“وہ گردن اکڑا کر رعونت سے گویا ہوئی۔غزوان کا دل بیٹھتا چلا گیا۔سینے میں جلن سی ہوئی اور آنکھوں کے گرد اندھیرا چھانے لگے۔
”اس کا حساب میں شادی کے بعد لوں گا۔“انگلی اٹھا کر وارننگ دی اور گہری سانس بھر کر خود کو تروتازہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔
وہ ہاتھ پر ہاتھ باندھے دلچسپی سے غزوان کو دور جاتا دیکھتی رہی۔پولیس آفیسر سے تھوڑا دور کھڑے ہوتے غزوان نے ایک بار پھر مڑ کر قانِتہ کو دیکھا،اس کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔وہ کڑھ کر رہ گیا۔سر کھجاتے اس نے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے آفیسر کو دوبارہ دیکھا،پھر گاڑی کی چھت پر پڑے موبائل کو……تاسف بھری سانس اندر کھینچی اور گھوم کر گاڑی کی دوسری جانب آ کھڑا ہوا۔آہستگی سے اپنا فون نکالا اور گاڑی کی چھت پر آگے کی جانب کھسکا کر رکھ دیا۔آفیسر کی نگاہ ابھی اس پر نہیں پڑی تھی۔پھر اس ہی آہستگی سے آفیسر کا موبائل اٹھا لیا۔ابھی وہ اپنی کاروائی کر کے ہٹا ہی تھا کہ آفیسر کی نگاہ اس پر پڑی۔غزوان کو سانس لینے میں دقت پیش آئی۔کسی بھی خوش کلامی یا خوشگوار ردعمل سے پہلے ہی غزوان نے خود کو بھاگتے پایا۔وہ ہوا سے باتیں کرتے سڑک پر بھاگ رہا تھا۔آفیسر نے غصے سے اسے چند گالیاں نکالی اور اس کے پیچھے دوڑا۔
دور کھڑی قانِتہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔اسے امید نہیں تھی کہ غزوان سچ میں اس کی بات مان لے گا۔
سڑک کنارے پہنچ کر غزوان نے آگے بھاگنے کے بجائے پیچھے آفیسر کی جانب دوڑ لگائی۔
”او لا(holla)“ہاتھ ہلا کر گرمجوشی سے کہا،تنفس البتہ پھولا ہوا تھا۔
آفیسر نے غضب ناک نگاہوں سے اسے دیکھا،ساتھ دو چار القابات سے بھی نواز دیا۔قانِتہ دور کھڑی کچھ تذبذب کا شکار ہوئی۔نجانے وہ کیا گفتگو کر رہے تھے؟اور غزوان واپس کیوں آیا؟لمحہ بھر کو دل چاہا کہ پاس جا کر باتیں سنیں پھر جیل کا خیال آتے ہی ارادہ ترک کر دیا۔غزوان جانے اور اس کا کام جانے،قانِتہ کو کیا؟
”کیا ہوا آفیسر؟“اس نے قدرے لاعلمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
”تم میرا فون لے کر بھاگے ہو۔“آفیسر نے ایک تیز نگاہ اس کے معصومیت بھرے چہرے پر ڈالی اور دوسری اس کے ہاتھ میں موجود فون پر۔
”آہ….؟کیا…..؟“غزوان نے کچھ حیرت سے اپنے ہاتھ میں پکڑے فون کی جانب دیکھا۔
”اوہ،مجھے لگا کہ یہ میرا فون ہے۔“کوردوبا شہر کی ساری معصومیت سمٹ کر اس کے چہرے پر آ ٹھہری۔
”جھوٹ بولتے ہو۔“آفیسر غصے سے دھاڑا۔
”میں سچ کہہ رہا ہوں آفیسر،میں نے آپ کی گاڑی پر اپنا موبائل رکھا تھا،غلطی سے آپ کا اٹھا لایا۔“
”اگر ایسی بات ہے تو بھاگے کیوں؟“طیش اب بھی برقرار تھا۔
”وہ……“اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا،جان بوجھ کر وقفہ لیا پھر گلا کھنکھار کر گویا ہوا۔
”دراصل مجھے نہ آپ پر کرش سا آ گیا ہے تو اس لیے میں نے چھپ کر آپ کی تصویر لے لی۔میرا دوست مصور ہے،میں نے سوچا آپ کی پینٹنگ بنوا کر آرٹ گیلری میں رکھوا دوں۔“آفیسر کے اعصاب قدرے ڈھیلے پڑے مگر شک اب بھی برقرار تھا۔
موبائل اور اس میں موجود تصویر(جو غزوان نے بہت چالاکی سے کھینچی تھی) کی وجہ سے بالآخر کچھ دیر بعد غزوان کی جان خلاصی ہو گئی تھی۔
دوسرا محاذ بھی سر ہو چکا تھا۔ابھی چار محاذ اور باقی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش میں تڑپتی زخرف کی چیخوں نے پہاڑی بستی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اسے بمشکل اٹھا کر کمرے میں لے جایا گیا تھا۔گھر پر کوئی مرد موجود نہ تھا۔
”اسے ہسپتال لے کر جانا ہو گا بیگم جان!“غانیہ نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔زخرف کی یہ حالت دیکھ کر وہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔
”ہائے، اس کی کیا ضرورت ہے؟مجھے لگتا ہے کہ وقت ہو گیا ہے۔میں دائی کو بلا کر لاتی ہوں۔“وہ اب بھی قدرے مطمئن تھیں۔انسان سے زیادہ ظالم بھی کوئی ہو سکتا یے؟انسان سے بڑا کوئی انسان کا دشمن بھی ہو سکتا ہے؟
”بیگم جان،اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔آپ بابا صاحب کو بلائیں۔ان سے کہیں کہ اسے ہسپتال لے کر جائے۔“وہ تڑپتی،سسکتی بستر پر بےسود پڑی تھی۔اس قدر تکلیف جھیلنا اس کے بس سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔دس سال کی عمر میں جب وہ جسمانی اور ذہنی دونوں لحاظ سے کافی کمزور تھی،ایک بچے کو جنم دینا واقعی بہت مشکل تھا۔
زخرف تڑپتی رہی، غانیہ چلاتی رہی مگر بیگم جان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔وہ دائی کو بلانے چلی گیئں۔
”زخرف تم فکر مت کرو۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔“غانیہ نے اس کی گال تھپتھپاتے اسے حوصلہ دیا۔زخرف کے کپڑے بھیگ چکے تھے،بال چہرے سے چپکے ہوئے تھے۔چہرے کا رنگ زرد سے زرد ہوتا چلا گیا۔
”مجھے……لگتا ہے،میں مر جاؤں گیئں۔اگر میں…..مر گئی تو آپ…..میرے بچے کا…… خیال رکھے گیئں ناں؟“اس نے جس تڑپ سے کہا،غانیہ رو دی۔
”نہیں،میں نہیں رکھوں گیئں۔تم اپنے بچے کا خیال خود رکھو گی۔تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔تمہیں تو ابھی اپنے خواب پورے کرنے ہیں۔“وہ بری طرح رو رہی تھی۔جسم لرزنے لگا تھا۔زخرف کی تکلیف اس کا سینہ چیڑ گئی تھی۔
”میرے خواب میرا بچہ…..پورے کرے گا۔“چادر کو سختی سے مٹھیوں میں بھینچے اس نے خشک پڑتے لبوں سے کہا۔ہر سانس کے ساتھ درد تیز ہوتا جا رہا تھا،معنوں پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بیتاب ہو۔
”اپنے خوابوں کا بوجھ اپنی اولاد پر نہیں ڈالنا چاہیئے۔تمہارے اور تمہارے بچے کے خواب مختلف ہوں گے زخرف۔تم اپنے خواب پورے کرو،وہ اپنے کرے گا۔اپنی حسرتوں کو کسی اور کے کندھے پر نہیں لادتے زخرف۔“زخرف نے چادر کو مزید سختی سے پکڑا۔سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔پسینے کے قطرے ماتھے پر ابھرنے لگے۔زبان نے ساتھ چھوڑ دیا۔اسے اپنا پورا وجود آگ میں لپٹا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔باہر طوفان میں شدت آتی جا رہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد بیگم جان اپنے ساتھ ایک اور خاتون کو بلا لائیں۔اس نے جلدی سے زخرف کا معائنہ کیا۔وہ نیم بیہوش ہو چکی تھی۔غانیہ اور بیگم جان کمرے سے باہر کھڑی تھیں۔
”یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔لڑکی بہت زیادہ کمزور ہے۔اسے شہر لے کر جانا ہو گا ورنہ اس کا بچنا ممکن نہیں۔“غانیہ نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر چیخ کو روکا۔اب کی بار بیگم جان کو بھی تشویش ہوئی۔معاملہ اتنا سیدھا نہیں تھا،جتنا نظر آ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس طوفانی بارش میں،خراب رستوں سے گزارتے اسے بمشکل ہسپتال لایا گیا تھا۔وہ اب مکمل طور پر بیہوش ہو چکی تھی۔اس کا کیس کافی خراب تھا۔ڈاکٹر سِمَاک اور بیگم جان پر بھڑک اٹھی تھی۔
”کیا عمر ہے آپ کی بہو کی؟“نہایت سخت لہجے میں استفسار کیا۔
”پورے دس سال کی ہے۔“بیگم جان کے کہنے پر ڈاکٹر لمحہ بھر کو سکتے میں چلی گئی۔(وہ صرف کی جگہ پورے کا لفظ استعمال کر رہی تھیں)
”آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی اتنی چھوٹی بچی کی شادی کرتے ہوئے؟ماں باپ کہاں ہیں اس کے اور شوہر….. شوہر کون ہے؟“سِمَاک پر آ کر نظر رک گئی۔ڈاکٹر نے جس انداز سے اسے دیکھا،وہ نگاہیں چرانے پر مجبور ہو گیا تھا۔
”جہالت کی انتہا ہے۔ابھی اس کے جسم کی صحیح طور پر نشوونما نہیں ہوئی، بہت کمزور ہے وہ۔اپنا بوجھ اٹھا رہی ہے،کیا یہ کافی نہیں تھا جو ایک بچے کا بوجھ اس کے کندھے پر لاد دیا؟پولیس کیس ہے یہ۔یہ غیر قانونی ہے۔پولیس کے آنے تک کہیں نہیں جا سکتے آپ لوگ۔“ڈاکٹر کہہ کر چلی گئی۔بیگم جان ہاتھ اٹھا اٹھا کر ڈاکٹر کو برا بھلا کہتی رہیں۔
”چار جماعتیں پڑھ کر خود کو پتا نہیں کیا سمجھنے لگ جاتی ہیں۔اسلام کا کچھ پتا نہیں ہے انہیں۔اسلام تو خود کہتا ہے کہ لڑکی کی جلدی شادی کر دو۔ذرا سی بات کو بڑھا چڑھا کر بتاتی ہیں یہ ڈاکٹرنیاں……“انہوں نے منہ بنا کر کہا۔اپنے مطلب کے مطابق کانٹ چھانٹ کر مذہب سے کوئی بات نکالی اور اسے ایک الگ رنگ دے دیا۔
زخرف کو چھ خون کی بوتلیں لگیں۔اس کا وجود بالکل ٹھنڈا پڑ چکا تھا،معنوں جینے کی امید ہی چھوڑ دی ہو۔آپریشن کافی لمبا چلا اور بالآخر سرمئی آنکھوں والی چڑیا نے اپنا واحد سہارا،اپنا بھالو کھو دیا۔حمل میں اس سے جس حساب سے کام لیے جاتے تھے اور کھانے کے نام پر جو اسے دیا جاتا تھا، اس کے بعد اس کا خود بچنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
پولیس آئی،اچھا خاصا ہنگامہ ہوا مگر یہاں ہمیشہ کی طرح اثر و رسوخ کام آئے۔دے دلا کر معاملہ رفع دفع کیا گیا۔معاملہ قبائلی علاقے کا تھا،ایسے کیسز میں پولیس کم ہی عمل دخل کرتی ہے۔
ان علاقوں کا اپنا قانون ہوتا ہے، اپنا جرگہ،اپنی اجارہ داری……
چند دنوں بعد زردی مائل ڈھانچے کو گھر لایا گیا۔ہاں،وہ ڈھانچہ ہی تھا۔سرمئی آنکھوں والی چڑیا کے پاس اب کچھ نہیں بچا تھا۔
بیگم جان،نادر پلار دن رات اسے طعنے دیتے رہتے مگر وہ خاموش ہو گئی تھی،بالکل خاموش……ذہن کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔وہ ایک پنجرے میں قید تھی اور اس پنجرے میں اسے ایک خوشی کی کرن ملنے والی تھی جو کہ اب مایوسیوں کی گہری وادیوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔گھر میں صرف غانیہ ہی اس کا دھیان رکھ رہی تھی۔اس معذوری کے ساتھ وہ نوراں اور زخرف کو کیسے سنبھال رہی تھی،یہ صرف وہ جانتی تھی۔
سِمَاک نے کئی بار زخرف سے بات کرنی چاہی مگر وہ ایسے ہی خاموش کبھی چھت تو کبھی دیوار کو گھورتی رہتی۔
”زخرف،کچھ کھا لو۔“اب بھی وہ اس کے سرہانے بیٹھا اس سے کہہ رہا تھا۔وہ بستر پر چت لیٹی چھت کو گھورنے میں مصروف تھی۔
”تمہارے لیے پھل لایا ہوں۔کھاؤ گی نہیں تو ٹھیک کیسے ہو گی؟“اس نے ایک بار پھر کہا۔
”اپنی مورے سے اجازت طلب کی تھی یا نہیں؟“وہ سپاٹ لہجے میں پہلی بار گویا ہوئی تھی۔
”وہ میرا مسئلہ ہے۔تم کھاؤ۔“زخرف نے چھت سے نگاہیں ہٹا کر سِمَاک کی جانب دیکھا پھر چادر کو مٹھی میں بھینجے اٹھ بیٹھی۔درد کی ایک لہر وجود میں دوڑی مگر اب اسے برداشت کرنے کی عادت ہو گئی تھی۔
”نہیں سِمَاک یوسفزئی،پہلے جاؤ جا کر اپنی مور سے اجازت طلب کرو کیونکہ تم ابھی بچے ہو۔اپنی مور کی مرضی کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتے۔جاؤ شاباش،اجازت لے کر آؤ۔“بستر پر اوکڑوں بیٹھے اس نے نہایت سنجیدگی سے کہا تھا۔چہرے پر بلا کی سختی تھی۔وہ ”آپ“ سے ”تم“ ہو گیا تھا۔وہ اسے اس کے نام سے پکار رہی تھی۔ساری عزت،سارا لحاظ اب ختم ہو چکا تھا۔
سماک لمحہ بھر کو ششدر رہ گیا۔کان سائیں سائیں کرنے لگے۔وہ کیا کہہ رہی تھی اور کس لہجے میں کہہ رہی تھی؟وہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
”تم…..کیا کہہ رہی ہو؟“
”وہی جو سچ ہے۔میرا بچہ مر گیا مگر میں تو بہت خوش ہوں۔“اس نے کندھے اچکائے اور مسکرا کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لیا۔
”سوچ رہی ہوں کہ شکرانے کے سو نوافل ادا کروں کہ میرا بیٹا مر گیا۔“اس نے زور دار قہقہہ لگایا اور ساتھ ہی تالی بھی پیٹی۔وہ ایک بیٹے کو جنم دینے والی تھی۔
”بہت اچھا ہوا۔تم لوگوں کے ساتھ رہتا،تمہارے جیسا بنتا پھر ایک زخرف کی زندگی برباد ہوتی۔بہت اچھا ہوا کہ مر گیا۔“وہ اب ہنس ہنس کر دہری ہوتی جا رہی تھی۔سِمَاک شاک کی کیفیت میں اس کے پاگل پن کو دیکھنے لگا۔
”تم……ہوش میں تو ہو؟“
”اب ہوش میں آ گئی ہوں اور تم…..“اس نے انگلی اٹھا کر سماک کی دیکھا۔”دفع ہو جاؤ یہاں سے۔اپنے بیٹے کے قاتل کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی میں۔“سرد اور کھردرے لہجے میں کہا اور واپس بستر پر لیٹ گئی۔سِمَاک بالکل بھونچکا رہ گیا۔کیا یہ زخرف تھی؟کیا یہ واقعی زخرف تھی؟
”تم ابھی صدمے میں ہو۔تمہیں آرام کرنا چاہیئے۔“کسی فیصلے پر پہنچتے اس نے پلیٹ میز پر رکھی اور اٹھ کھڑا ہوا۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں۔ہوش میں کہہ رہی ہوں سب۔“
”تم ہوش میں نہیں ہو۔اگر ہوتی تو کبھی مجھ سے اس طرح سے بات نہ کرتی۔“اسے بہت مان تھا۔اس کا مان درست بھی تھا۔اس کی بیوی اس لہجے میں بات نہیں کر سکتی تھی مگر سامنے تو ایک ماں تھی۔وہ ماں جس سے اس کا بچہ چھین گیا تھا۔
”بالکل،مجھے تو تمہارا منہ توڑ دینا چاہیئے۔“وہ استہزایہ ہنسی۔
”زخرف،تم اب حد پار کر رہی ہو۔میں شوہر ہوں تمہارا۔“آخر تھا تو مرد ہی۔اپنی بیوی کے ہاتھوں کیسے اس تذلیل کو برداشت کرتا؟
”مجھے طلاق چاہیئے۔“چت لیٹے اس نے اپنے اوپر چادر درست کی اور نہایت پُرسکون لہجے میں کہا۔سِمَاک کے پیروں تلے معنوں زمین کھسک گئی۔وہ آج ہر جملے پر اسے چونکا رہی تھی۔
”تمہیں طلاق کا مطلب بھی پتا ہے؟“آواز اب کی بار کافی تیز مگر حیرانگی سے بھرپور تھی۔آنکھیں ضبط سے سرخ پڑ گئیں۔زخرف نے ایک بےبس نگاہ سماک کر ڈالی پھر آہستگی سے گویا ہوئی۔
”مجھے تو شادی کا مطلب بھی نہیں پتا تھا۔“وہ بالکل لاجواب ہو گیا۔وہ ہوش میں نہیں تھی۔اولاد کے غم نے نہ صرف اسے پاگل کر دیا تھا بلکہ شاید مضبوط بھی۔
”تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔“وہ معنوں اس پر مٹی ڈال کر کمرے سے باہر جانے لگا جب دہلیز پر زخرف کے کہے الفاظ نے قدم زنجیر کر دیے۔
”جاؤ جاؤ،اس کے کندھے پر سر رکھ کر آنسو بہانا اور بتانا کہ میں اتنا بےبس ہوں کہ اپنی دوسری بیوی کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتا۔“سِمَاک نے ضبط سے گردن ترچھی کر کے اسے گھورا۔وہ محض اس کی حالت کا لحاظ کر رہا تھا ورنہ نجانے کیا کر گزرتا۔
”تم نے مجھ سے میرا بھالو تو چھین لیا ہے مگر میرے خواب نہیں چھین سکتے۔طلاق تو تم دو گے ورنہ میں……“اس نے توقف لیا۔سِمَاک اسے سن رہا تھا۔جاننا چاہتا تھا کہ اس ”ورنہ“ کے آگے وہ کیا کہے گی۔
”میں بھاگ جاؤں گیئں یہاں سے۔“اس نے جملہ مکمل کیا اور سر تک چادر تان لی۔سماک سر جھٹک کر کمرے سے باہر نکل گیا۔چادر کے اندر زخرف کی آنکھوں سے بےآواز آنسو بہتے رہے۔اس نے اپنا دائیاں لرزتا ہاتھ پیٹ پر رکھا، اگلے لمحے لبوں سے ایک سسکی آزاد ہوئی پھر یہ سسکیاں بڑھتی گیئں۔اندھیری رات میں کمرے کی اونچی دیواریں ان سسکیوں کو قید کرتی رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
