Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 41)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 41)
قانِتہ صدمے سے گنگ اس جانب دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ ابھی ابھی گیا تھا۔اس کے قدموں کی چاپ جیسے دیواروں میں گم ہو گئی تھی۔
”اس دنیا میں کتنی خواتین ہیں جن کی گود بھرنے سے پہلے ہی اجڑ جاتی ہے۔اس کا مطلب یہ تو نہیں وہ امید ہی چھوڑ دیں۔“
”ذرا جلدی کھانا لگا دو زخرف۔مجھے بھوک لگی ہے۔“اس کے کہے الفاظ لمحہ بھر کے لیے ہوا میں معلق ہوئے تھے پھر دھڑام سے اس کے سر پر آ گرے۔
قانِتہ نے زور سے آنکھیں بند کیں جیسے وقت کو روکنے کی کوشش کر رہی ہو۔اس کے کہے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو مگر بری طرح ناکام ٹھہری۔اس کی سانسیں تیز ہو گیئں۔دل دھونکی کی مانند بجنے لگا۔
”نہیں،نہیں……“اس نے خود کو کہتے سنا پھر قدم خودبخود لاؤنچ کی جانب اٹھنے لگے۔فرش ٹھنڈا تھا مگر اس کے اندر آگ بھڑک رہی تھی۔
وہ کال کاٹ کر پلٹا تو وہ سامنے کھڑی پھترائی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
”کیا ہوا؟“اس نے کچھ شرارت اور نرمی سے پوچھا۔
”کھانا لگ گیا کیا؟“اس نے ابھی پوچھا ہی تھا کہ وہ لپک کر اس کا گریبان پکڑ چکی تھی۔
”کیا جانتے ہو تم اور کیسے جانتے ہو؟“آنکھوں میں آگ،چہرے پر طوفان اور انداز میں بھونچال…..اس کی آواز جلتی آگ کی مانند تھی۔آنکھیں دہکتے انگارے برسا رہی تھیں۔
”میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہو غزوان؟“غزوان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گیئں۔وہ پل بھر کو ساکت ہو گیا۔
”قانِتہ……“غزوان کے لبوں سے اس کا نام آزاد ہوا۔
”قانِتہ نہیں زخرف……یہی کہا ناں تم نے۔تم نے کہا کہ زخرف کھانا لگا دو۔“بارسلونا کی فضا یکدم بوجھل ہو گئی جیسے ہوا نے چلنا چھوڑ دیا ہو۔ہر شے تھم گئی۔
چلتی ہوئی سانسیں،دل کی دھڑکن اور یہاں تک کہ پلکوں کی جنںش بھی۔
”میرے بچے کی موت کے بارے میں کیسے جانتے ہو تم اور…..اور میرا سابقہ نام کیسے پتا چلا تمہیں؟“اس کے قدموں تلے زمین کھسکنے لگی۔قانِتہ کی آنکھوں میں سوال تھے اور غزوان کے پاس جواب سوچنے تک کا وقت نہ بچا تھا۔
اس کے لب ہلے مگر آواز کہیں گم ہو گئی۔گلے میں گرہیں پڑنے لگیں۔ہونٹ خشک ہو گئے۔
”یہ تم…..کیا کہہ رہی ہو؟کون…..زخرف؟“وہ مستحکم انداز میں بولا مگر الفاظ نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ہر حرف اپنے وزن سے بری طرح لڑکھڑایا۔
”مجھے تمہاری طبیعت….. ٹھیک نہیں لگ رہی۔تم بیٹھو میں……“اس نے قانِتہ کو شانوں سے تھاما مگر وہ اسے فوراً خود سے دور دکھیل گئی۔
”اور کیا کیا جانتے ہو تم میرے بارے میں؟“آواز چنگھاڑتی ہوئی تھی۔
”میں کچھ نہیں جانتا۔میرا یقین کرو۔میں صرف اتنا ہی جانتا ہوں جتنا تم نے مجھے بتایا ہے۔اس کے علاؤہ میں…..“
”تم نے مجھے زخرف کہہ کر پکارا۔تم نے بچے کا ذکر کیا۔اب تم مکر نہیں سکتے۔جھوٹ مت بولنا مجھ سے۔میرے اندر اب مزید سکت نہیں رہی۔“اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔
”گرینی میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہیں؟وہ تمہیں سب کیسے……“
”گرینی نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔“اس نے ایک کے بعد دوسری غلطی کی تھی۔غلطی کا احساس ہوتے غزوان نے فوراً دانتوں تلے زبان دبائی مگر اب دیر ہو چکی تھی۔
قانِتہ کے ہاتھ پہلو میں آ گرے۔وہ تیزی سے چلتی ہوئی غزوان کی سمت بڑھی۔
”گرینی نے نہیں بتایا تو پھر کس نے بتایا؟“
”کسی نے کچھ نہیں بتایا قانِتہ۔میں تو جانتا ہی نہیں کہ تم کیا کہہ رہی ہو۔میں کسی زخرف کو نہیں جانتا۔“وہ سرے سے انکار کر گیا تھا۔
”پھر تم نے زخرف کا نام کیوں لیا؟“
”مجھے نہیں یاد کہ میں نے ایسا کوئی نام بھی لیا ہے یا پھر ہو سکتا ہے کہ لیا ہو۔شاید اس نام کی میری کوئی گرل فرینڈ رہی ہو گی،آج روانی میں نام نکل گیا ہو گا منہ سے۔“اس نے کندھے اچکا کر بہت آرام سے اپنے کردار کو مشکوک بنا دیا۔
وہ گلابی مائل آنکھوں سے بس اسے دیکھتی رہ گئی۔بےبسی سے،افسوس سے…..
”بارسلونا میں کتنی زخرف نام کی لڑکیاں ہوں گیئں غزوان؟مجھ سے مزید جھوٹ مت بولو۔تم جھوٹ بولتے ہو تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔میں صرف سچ سننا چاہتی ہو۔تم میرے بارے میں کیا جانتے ہو؟“وہ کئی لمحے اسے دیکھتا رہا پھر گہری سانس ہوا کے سپرد کر کے وہ اس کے قریب آیا۔
ہاتھوں کے پیالے میں اس کے چہرے کو بھرا۔
”کیا ماضی اہم ہے؟جو گزر گیا اسے بھول جاتے ہیں ناں۔ہم اپنی زندگی میں خوش ہیں پھر ان سب باتوں کا کیا مطلب؟“
”میں صرف سچ جاننا چاہتی ہوں۔“اس کی آواز روندھی ہوئی تھی۔غزوان نے سر جھکایا پھر جب اٹھا کر اسے دیکھا تو نگاہوں میں کرب اور شکست تھی۔
”سچ یہ ہے کہ میں زیادہ نہیں مگر کچھ حد تک تمہارے ماضی سے واقف ہوں۔“
”کب سے؟“غزوان نے گہری سانس اندر کھینچی اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
”کچھ عرصے سے۔“
”کتنے عرصے سے؟“وہ اگر یہ سوچ رہا تھا کہ باآسانی اس کی جان خلاصی ہو جائے گی تو یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔
”یہ اہم……“
”میرے لیے یہ اہم ہے۔“اس کی گلابی مائل آنکھوں میں نمی کے ساتھ سختی بھی تھی۔
”زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔“غزوان نے اس کے چہرے سے اپنے ہاتھ ہٹائے اور چل کر صوفے تک آیا پھر وہاں بیٹھ گیا۔کتنا مشکل تھا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولنا۔
”کس نے بتایا؟“رخسار پر بہتی پانی کی ایک لڑی کو بی دردی سے صاف کرتے ہوئے اس نے پھر پوچھا۔
”قانِتہ آخر تم اس بات کو چھوڑ کیوں نہیں دیتی؟“
”یعنی تم ایسے نہیں بتاؤ گے؟“وہ عجیب طرز سے ہنسی پھر اثبات میں سر ہلاتے کچن کی جانب بڑھی،واپس لوٹی تو ہاتھ میں چاقو تھا۔
”اب تو تم سب بولو گے۔“اس نے چاقو کلائی پر رکھا۔غزوان وہیں جم گیا۔
”تم پاگل ہو گئی ہو؟“وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور اس کی جانب بڑھنے لگا۔
”کب سے جانتے ہو تم سب؟“دو قدم پیچھے ہٹتے وہ چلائی تھی۔
”تم ایک سمجھدار لڑکی ہو قانِتہ۔میں جانتا ہوں کہ تم ایسا ویسا کچھ نہیں کرو گی۔“وہ فلحال ہوش میں نہیں تھی،وہ سمجھ چکا تھا۔
”تمہیں کس نے کہا میں خودکشی کروں گیئں؟میں قانِتہ یزدان ہوں،میں مرتی نہیں مارتی ہوں۔میں نس نہیں کاٹوں گیئں مگر خود کو اتنے گہرے گھاؤ دوں گیئں کہ تم ساری زندگی جیل میں سڑتے رہو گے۔میں تم پر تشدد کا کیس کروں گیئں۔“وہ اپنے تیئں اسے دھمکی دے رہی تھی جبکہ صحیح معنوں میں وہ ایک بار پھر اس کا دل توڑ رہی تھی۔وہ خود کو اس لیے زخم دینا چاہتی تھی تا کہ غزوان کو جیل ہو۔کیا وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے وجود پر پڑتے ہر گھاؤ پر غزوان کو کس قدر تکلیف ہوتی؟
”بیواقوفی مت کرو قانِتہ۔تمہیں چوٹ لگ جائے گی۔“وہ اب سنبھلتے ہوئے قدم آگے بڑھا رہا تھا۔
”جیل کے نام سے ڈر گئے تم۔چلو پھر اب سچ بولو۔“
”ٹھیک ہے۔“وہ شکست تسلیم کر چکا تھا۔مرد من پسندیدہ عورت سے ہمیشہ ہار ہی جاتا ہے۔
”شروع دن سے جانتا ہوں کہ تم زخرف ہو اور تمہاری شادی ٹین ایج میں ہی کسی سے ہو گئی تھی۔اس لیے تم شادی سے خوفزدہ ہو۔“
”شروع دن سے تمہاری کیا مراد ہے؟“قانِتہ کا دل ڈوب کر ابھرا۔وہ آخر کب سے یہ سب جانتا تھا؟
”ہماری شادی کے وقت سے۔“اس کی آواز مدھم تھی۔
”رخصتی کے وقت یا نکاح کے وقت؟“وہ تذبذب کا شکار ہوا تھا۔ایک نظر اسے دیکھا اور دوسری نظر اس کے ہاتھ میں موجود چاقو کو پھر اس نے بےبسی سے آنکھیں میچیں۔”نکاح کے وقت…..“
قانِتہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔اس کے قدم بری طرح لڑکھڑائے۔وہ اول روز سے سب جانتا تھا۔یہ کیسے ممکن تھا؟
”نکاح سے…..نکاح سے پہلے یا بعد میں؟“اسے اپنے گلے میں گرہیں پڑتی محسوس ہوئیں۔اتنی مشکل سے تو اس نے کسی پر اعتبار کیا تھا۔اپنا گھر تعمیر کرنا شروع کیا تھا اور پہلی بنیاد رکھتے ہی اس کا آشیانہ ڈھنے لگا تھا۔
”پہلے…..“وہ اعتراف کر رہا تھا اور قانِتہ کے گلے میں پڑا پھندا تنگ ہونے لگا تھا۔
”کتنا پہلے؟“اس کے الفاظ بےجان ہوتے جا رہے تھے۔اعتبار ٹوٹ رہا تھا۔گزرے حسین لمحات کرچی کرچی ہونے لگے تھے۔
”ایک دن،نہیں دو شاید ایک ہفتہ یا پھر……مجھے نہیں پتا۔“قانِتہ نے کرب سے آنکھیں میچیں۔
”کس نے بتایا؟“اس کی ہمت ٹوٹ رہی تھی۔قانِتہ یزدان بکھر رہی تھی۔
”یہ اہم…..“
”کس نے بتایا؟“وہ پوری قوت سے چلائی تھی۔
”محمود انکل نے۔انہوں نے کہا کہ تم شادی سے خوفزدہ ہو۔میں اس سب سے نکلنے میں تمہاری مدد…….“قانِتہ کے ہاتھ سے چاقو چھوٹ کر گیا۔وہ دو قدم پیچھے کی جانب لڑکھڑائی۔
”یعنی تمہیں مجھ سے محبت نہیں تھی۔تم ڈیڈ کے کہنے پر میرے ساتھ ہمدردی جتا رہے تھے۔یعنی تمہارا میری زندگی میں آنا اتفاق نہیں تھا۔“اس نے سنجیدگی سے غزوان کی جانب دیکھا پھر یکایک اس کے ہونٹوں پر بے ربط سی مسکراہٹ پھیل گئی۔پھر وہ زور سے ہنس دی۔اس ہنسی میں ٹوٹ پھوٹ کی بازگشت واضح تھی۔
”تم نے ڈیڈ کے ساتھ مل کر مجھے بیواقوف بنایا۔“ہنستے ہنستے اس نے تالیاں بجاتے غزوان کو جیسے داد پیش کی۔
”ایسا کچھ نہیں ہے قانِتہ۔میں محبت کرتا ہوں تم سے۔“ایک بار پھر یقین دلانے کی کوشش کی گئی۔
”جسٹ شٹ اپ۔محبت کی بےحرمتی مت کرو۔“وہ دھاڑی جیسے کوئی زخمی شیرنی غرائی ہو۔
”ڈیڈ نے تم سے کہا اور تم مان گئے۔ایسا تو ہو نہیں سکتا۔کیا ڈیل ہوئی تھی تمہاری ڈیڈ سے؟مجھ سے محبت کا دھونگ رچانے کے لیے کیا دیا انہوں نے تمہیں؟“اس کے منہ سے الفاظ نہیں آگ برس رہی تھی۔ہر جملہ خنجر کی طرح فضا کو چھیر رہا تھا۔
”تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو۔“اس نے بےبسی سے قانِتہ کی جانب دیکھا۔آنکھوں میں التجاء تھی۔
قانِتہ کا کہا ہر لفظ اس کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو رہا تھا۔وہ تکلیف محسوس رہا تھا،بےحد تکلیف…….
”میں بھی کہوں آنکھوں دیکھی مکھی کون نگلتا ہے؟میں نے تمہیں سب سچ بتایا اور ایک ہی دن میں ہمارے درمیان سب ٹھیک ہو گیا مگر تم تو سب پہلے سے جانتے تھے۔“وہ ایک بار پھر ہنس دی۔
”آخر ایک بیوہ…..سے محبت کیوں کرو گے تم؟تم نے تو کبھی مجھ سے محبت کی ہی نہیں۔تم نے تو بس……“
”بس کر دو قانِتہ۔“وہ تڑپ کر اس تک آیا۔اسے شانوں سے تھاما اور بے قراری سے کہا۔
”میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔ایک دفعہ میری بات……“
”ہماری پہلی ملاقات پری پلینڈ تھی۔تمہیں love at first sight نہیں ہوا،تم مجھے ٹریپ کر رہے تھے۔“وہ اس کی سن ہی نہیں رہی تھی۔دھچکہ بڑا تھا،بہت بڑا تھا۔
”قانِتہ…..“
”تم نے میرے ساتھ یہ کیوں کیا غزوان؟میں نے تمہیں کہا تھا کہ اگر دھوکا دینا تو جلدی دینا۔جتنی دیر کرو گے،تکلیف اتنی ہی زیادہ ہو گی۔مبارک ہو غزوان جہانزیب،تم نے قانِتہ یزدان کو ہرا دیا۔“اس نے آہستگی سے اپنے کندھوں سے غزوان کے ہاتھ ہٹائے اور ایک قدم پیچھے ہٹی۔
”قانِتہ……“اس نے بےبسی سے ایک بار پھر اسے پکارا۔
”گرینی کیا یہ سب جانتی تھیں؟“اس سوال پر وہ نگاہیں چرا گیا تھا۔
قانِتہ سمجھ نہ سکی کہ اسے رونا چاہیئے،ہنسنا چاہیئے یا چیخنا چاہیئے۔تعمیر کیے گئے اعتبار کے سارے ستون ایک ہی بار ڈھے گئے۔جن لوگوں کو وہ اپنا مانتی تھی،ان سب نے اسے دھوکا دیا تھا۔جب خون کے رشتوں نے وفا نہ کی تھی تو منہ بولے رشتے کیوں کرتے۔
”اسی لیے…..اسی لیے وہ بار بار مجھے تمہاری طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔مجھے کہتی تھیں کہ غزوان کو ایک موقع دے دو۔“اسے چکر آنے لگے۔غزوان کا چہرہ دھندلانے لگا۔سارے راستے،سارے دروازے بند ہوتے چلے گئے۔اسے کوئی راہ،کوئی نشان،کوئی راستہ نظر نہیں آیا۔ہر طرف خاموشی اور ویرانی چھا گئی۔
”تم غلط سمجھ رہی ہو۔ایک بار میری بات……“غزوان نے اسے چھونا چاہا،وہ اس کا ہاتھ جھٹک گئی۔
”بس بہت ہو گیا،اب اور نہیں۔تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں یہاں تک ایسے ہی پہنچ گئی ہوں۔میں نے اپنا گھر چھوڑا اور ڈیڈ باہیں پھیلائے کھڑے تھے۔کہ آؤ زخرف،میں تمہیں اپنی بیٹی بنا لیتا ہوں۔“صبر کا بند ٹوٹ گیا۔اس کے لفظوں کی آگ نے غزوان کو جلانا شروع کیا۔وہ زخمی تھی،لاوا ایک نہ ایک دن تو بہنا ہی تھا اور آج قانِتہ نے اس لاوے کو بہنے دیا تھا۔
”نہیں سینور غزوان،ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔میں نے تنہا آگ کا دریا پار کیا ہے۔میں نے جو بھی کیا،تنہا کیا۔اکیلی تھی میں ہمیشہ سے۔تم یا تمہاری سو کولڈ ہمدردی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔میں آج ہاری ضرور ہوں،مجھے تکلیف بھی ہو رہی ہے مگر میں گر کر اٹھنا جانتی ہوں۔میں زخرف فاطمہ نہیں ہوں،میں قانِتہ یزدان ہوں۔“
”Its over.”
اس کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر پورے گھر میں گونجی۔وہ پلٹی تو آنکھوں میں آنسوؤں کے بجائے غصے کی چنگاریاں تھیں۔
وہ اب تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ہر قدم فیصلے پر مہر تھا۔
غزوان نے قدم آگے بڑھانے چاہے،اسے روکنا چاہا مگر آواز گلے میں ہی کہیں دب گئی۔
قانِتہ نے ایک بار بھی پلٹ کر نہ دیکھا۔کمرے کا دروازہ کھولا اور پھر ایک زوردار آواز کے ساتھ دروازہ بند ہو گیا۔
ان کے رشتے پر آخری مہر لگ گئی۔
غزوان خالی نگاہوں سے اس بند کمرے کو دیکھتا رہ گیا۔ایسا محسوس ہوا جیسے زندگی کے تمام در اب بند ہو چکے ہوں۔خوشیوں نے منہ موڑ لیا ہو۔ایک جھوٹ نے سب برباد کر دیا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ بند کرنے کے بعد وہ نڈھال قدموں سے چل کر بستر تک آئی۔ایک زبردست ٹھوکر لگی اور وہ بےجان ہوتی ٹانگوں کے ساتھ فرش پر آ گری۔اس نے اٹھنے کی کوشش نہ کی۔یہ اتنا آسان نہیں تھا۔گر کر اٹھنا کبھی اتنا آسان نہیں ہوتا۔
آنکھوں سے بے آواز آنسو بہنے لگے۔ہر قطرہ اپنے ساتھ ایک یاد،ایک لمحہ،ایک جملہ ساتھ لاتا تھا۔
”ان سے ملیے، یہ ہیں غزوان جہانزیب، میرے قریبی دوست اور مسٹر غزوان، یہ ہیں ہماری کمپنی کی ٹیلنٹڈ امپلائی، مس قانتہ یردان۔“
”میں غزوان۔ہم کل پارٹی میں ملے تھے۔میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔“
”مجھے آپ سے پہلی نظر میں محبت ہو گئی ہے۔کوئی افیئر نہیں چلانا چاہتا، شادی کرنا چاہتا ہوں۔“
اس نے روتے روتے ہنسنا شروع کر دیا۔اس ہنسی میں درد تھا،بےیقینی تھی۔اس نے تو ابھی ٹھیک سے خواب بننا شروع بھی نہیں کیے تھے اور ادھورے خوابوں کا جنازہ بھی اٹھایا جا چکا تھا۔بس اب تدفین کرنا باقی تھا۔
”کیا کمال اداکاری کی تم نے غزوان۔“اس کے ذہن میں وہ تمام حسین لمحات گھومنے لگے جو انہوں نے ساتھ گزارے تھے۔
”آج میں تم سے زندگی بھر کا ساتھ مانگتا ہوں۔کیا تمہیں ساری زندگی کے لیے غزوان جہانزیب قبول ہے؟“
”آئی لو یو۔“
”مجھ سے پہلے تم کیا تھی یہ اہم نہیں ہے۔“
”میرے دل میں تمہاری محبت اللہ نے ڈالی ہے۔تم اس سے کہہ دینا کہ میرے شوہر کے دل سے میری محبت نکال دے۔میں ہر نماز میں دعا کروں گا کہ تمہاری دعا بری طرح رد ہو جائے۔آمین!“اس کے کہے محبت بھرے الفاظ آج زہر بن کر اس کے دل میں اتر رہے تھے۔
اسے لگا جیسے کمرے کی دیواریں اس پر ہنس رہی ہیں۔جیسے ہر شے جانتی ہو کہ وہ بیواقوف بنائی گئی ہے۔
اس نے بستر کی پائنتی سے ٹیک لگایا اور تھک کر آنکھیں موند لیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے پہر جیل کے اس سیل میں نہ ٹھیک سے ہوا آتی تھی اور نہ روشنی۔دبلی پتلی سی زخرف ایک کونے میں دبکی بیٹھی تھی۔اسے یہاں آئے کتنے روز گزرے تھے،اسے اندازہ نہ تھا۔چہرے اور بازوؤں پر جگہ جگہ نیل کے نشانات تھے اور کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے۔
اس نے یہاں آتے ہی جیلر سے اچھی خاصی بدتمیزی کی تھی جس کے اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑے تھے۔چند دنوں کی سزا چند مہینوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔
اس نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہاں ناخنوں کے نشانات تھے جو چیخ چیخ کر یہ گواہی دے رہے تھے کہ انسانیت کب کی ختم ہو چکی ہے۔
اس نے زمین پر سر رکھ کر سجدہ کیا،جیل کی مٹی اس کے آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔
زخرف کے عدت کے دن وہیں گزر رہے تھے کہ اچانک ایک دن جیل میں کسی قیدی کی آمد ہوئی۔جیل کے اندر ایک شور سا برپا ہوا۔سپاہیوں کے رویے تبدیل ہو گئے جیسے کسی خاص شخصیت کی آمد ہو۔ایک پچاس سالہ خاتون جس کا لباس کچھ بھڑکیلا سا تھا۔جوڑے میں گیندے کے پھول لگے ہوئے تھے۔ناک میں نتھ جبکہ پاؤں میں پائل تھی۔
وہ ایسے چل رہی تھی جیسے فرش پر نہیں کسی تخت پر قدم رکھ رہی ہو۔
زخرف حیران رہ گئی تھی،آخر اس حلیے میں کیسے کسی قیدی کو لایا جا سکتا ہے؟
چند دن ایسے ہی گزرے پھر ایک دن اس کے حصے میں آئی کھانے کی تھالی خالی رہ گئی۔اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔وہ جیلر پر چلائی بدلے میں ایک زبردست تمانچہ اس کے منہ پر پڑا۔
وہ تھر تھر کانپنے لگی اور آنکھوں میں بےبسی چمکنے لگی مگر آج اس نے ہمت نہ ہاری۔
اس نے غصے سے جیلر کی جانب دیکھا۔
”اس عورت کو تو تم سب جھک جھک کر سلام کرتے ہو اور مجھ جیسے بے گناہوں کو تم لوگ پاؤں کی جوتی بھی نہیں سمجھتے۔یہ سراسر زیادتی ہے۔“یہ جملہ کسی تیر کی طرح ہوا میں تیرتا ہوا اس عورت کے کانوں تک جا پہنچا۔
وہ پچاس سالہ خاتون جو بینچ پر ایک طرف رعونت سے بیٹھی تھی،چل کر زخرف تک آئی پھر وہیں ٹھٹھک گئی۔اس میلی کچیلی لڑکی میں ایسا کچھ تھا جس نے اسے رکنے پر مجبور کیا تھا۔وہ تھیں اس کی آنکھیں،سرمئی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں……
”تمہیں کھانا چاہیے تو آؤ ہمارے ساتھ۔“وہ زخرف کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے گئی۔زخرف تذبذب کا شکار ہوئی پھر اسی خاموشی کے ساتھ آگے چل دی۔
”یہ لو کھاؤ۔“اس نے زخرف کے سامنے ایک بھری ہوئی پلیٹ رکھی۔وہ کچھ دیر مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی پھر پلیٹ اٹھا کر رغبت سے کھانے لگی۔وہ عورت اتنی بری نہیں تھی۔وہ سوچ کر مطمئن ہوئی۔زخرف فاطمہ کو زندگی ایک اور سبق پڑھانے جا رہی تھی۔
”نام کیا ہے تمہارا؟“پچاس سالہ خاتون نے نرمی سے پوچھا۔
”زخرف……زخرف فاطمہ……“
”کیا جرم کیا ہے تم نے؟“
”میں بے قصور ہوں،میں نے کچھ نہیں کیا۔“وہ خاتون عجیب طرز سے ہنسی۔
”سب یہی کہتے ہیں خیر جیلر بتا رہی تھی کہ تمہارے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔کہاں کی رہنے والی ہو؟“
”کہیں کی نہیں۔میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔“
”آنکھیں تو بہت خوبصورت ہیں تمہاری۔ان آنکھوں سے تو ہزاروں مرد گھائل ہو سکتے ہیں۔تھوڑی سی تراش خراش کے بعد صورت بھی نکل آئے گی تمہاری۔“اس نے جوڑے میں لگے پھول کو چھوتے ہوئے کہا۔
”آپ کس جرم میں آئی ہیں یہاں؟“زخرف کے سوال پر وہ گہرا مسکرائی۔
”ہمارا تو آنا جانا ہے یہاں۔بس ریڈ پڑ گئی تھی تو مجبوراً ہمیں یہاں آنا پڑا مگر فکر نہ کرو،چند دنوں میں ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔“اس خاتون نے گردن اکڑا کر کہا۔
”آپ کون ہیں؟“پچاس سالہ خاتون نے دلچسپ نگاہوں سے اسے دیکھا پھر اس کی ٹھوڑی کو انگلی کی مدد سے اوپر اٹھایا۔
”ہم طوائف زادی ہیں۔بازار میں ہمارا اپنا کوٹھا ہے۔“
”کیا مطلب؟“وہ نہیں سمجھی تھی۔اتنی آسانی سے وہ یہ سمجھ بھی نہیں سکتی تھی۔
”مطلب یہ کہ بڑے بڑے با اثر لوگ ہمارے قدموں میں بیٹھتے ہیں۔ہمارے کوٹھے پر پچاس کے قریب لڑکیاں ہیں۔کھانا،پینا،نئے کپڑے،میک اپ وہاں سب کچھ ہے۔دنیا کی ہر آسائش اور ہر آسانی میسر ہے۔“وہ بغور ان کی باتیں سن رہی تھی۔حفظ کر رہی تھی۔
”کیا آپ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گیئں۔یہاں پر مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔میں آپ کی بہت خدمت کروں گیئں۔سارے کام کروں گیئں،کھانا بنانے سے لے کر صفائی تک سب کچھ……“وہ اب منت کر رہی تھی۔چند مہینوں کی قید نے اس کی عقل سلب کر دی تھی۔
”تم بہت بہتر جگہ پر ہو زخرف۔یہ جیل کوٹھے سے بہت بہتر ہے۔“
”نہیں،میں یہاں نہیں رہ سکتی۔مجھے لگتا ہے میں مر جاؤں گیئں۔آپ مجھے بےشک اپنے ساتھ نہ لے کر جائیں بس کسی طرح یہاں سے نکال دیں۔میں یہاں نہیں رہ سکتی۔“
”ہم مفت میں کسی کا کام نہیں کرتے۔اگر تمہیں یہاں سے نکالیں گے تو کوٹھے پر ہی لے کر جائیں گے۔اور ہم نہیں چاہتے کہ تم وہاں جاؤ لہٰذا یہیں رہو۔“
”تو مجھے لے جائیں ناں۔میں اب تھک گئی ہوں۔مجھے بھی آپ کی طرح نئے کپڑے پہننے ہیں۔آپ کی طرح میک اپ کرنا ہے۔میں چاہتی ہوں کہ آپ کی طرح یہ سب میری بھی ایسے ہی عزت کریں۔“وہ خاتون ہنس دی تھی۔”عزت…..؟“اس نے تاسف سے زخرف کی طرف دیکھا پھر سر جھٹک دیا۔
”وہاں جانے کی قیمت بہت بڑی ہے اور واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ایک بار پھر سوچ لو۔“
”میں ہر قیمت چکانے کے لیے تیار ہوں۔“زندگی نے سب کچھ تو چھین لیا تھا اس سے۔ہر چیز،ہر ظلم تو وہ برداشت کر چکی تھی پھر اب بچا ہی کیا تھا؟وہ سب کچھ پہلے ہی سہہ چکی تھی،اب اس سے برا اور کیا ہو سکتا تھا؟
”ٹھیک ہے تو پھر کچھ دن صبر کرو،ہم تمہیں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے اور ہمیں پورا یقین ہے،تم آنے والے بیس سالوں تک کوٹھے پر راج کرو گی۔بڑے سے بڑے عہدے پر فائز مرد تمہارے قدموں میں ہو گا۔“وہ اتنے مہینوں میں پہلی بار مسکرائی تھی۔ذلت کی زندگی کو وہ عزت سے گلے لگانے جا رہی تھی۔زندگی نے اسے تھکا دیا تھا۔باپ بھائی کے آگے اسے بولنے کی اجازت نہ تھی۔شوہر نے کبھی اسے بیوی کا درجہ نہیں دیا تھا۔اختر جیسا دیور عذاب بن کر اس کے سر پر نازل رہتا تھا۔مرد ذات سے اسے نفرت ہو گئی تھی۔اب نجانے ایسی کون سی دنیا تھی جہاں جا کر وہ اتنی افضل اور اتنی معتبر ہو جاتی کہ یہی مرد اس کے قدموں میں پھول بچھانے لگتے۔اسے وہاں جانا تھا تو صرف مرد ذات کو اپنے آگے جھکتے دیکھنے کے لیے،اپنی انا کی تسکین کے لیے۔
یہ فیصلہ کرنے سے پہلے اگر وہ ایک بار وہاں موجود کسی بھی شخص سے طوائف زادی کا مطلب پوچھ لیتی تو وہیں زمین میں گڑ جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر کے مصروف راستوں سے گزرتے وہ دونوں ڈیزائنر اسٹوڈیو تک پہنچے تھے۔اسٹوڈیو کا دروازہ دکھیل کر وہ جب اندر داخل ہوئے تو ہر طرف بکھرے رنگوں نے ان کا استقبال کیا۔
”اتنی جلدی کیوں کر رہے ہیں آپ قتادہ؟ہم بعد میں بھی لہنگا خرید سکتے تھے بلکہ اس کی کیا ضرورت ہے۔میں کچھ بھی پہن لیتی۔“اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
”اس سے پہلے کہ تمہارا ارادہ بدل جائے میں ساری تیاریاں کر لینا چاہتا ہوں اور ایسے کیسے کچھ بھی پہن لو گی؟شادی ایک بار ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم ایک مکمل دلہن لگو۔“وہ دھیرے سے مسکرا دی۔
ڈزائنر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور وہ اب انہیں مختلف ڈزائنر کے لہنگے دکھا رہی تھی۔
”ویسے آپ کے دوست کا کیا ہوا؟اس کے بغیر نکاح کیسے ہو گا؟“
”اس کی تم فکر مت کرو۔بس شادی کے جوڑے کی تصویر بھیجنے کی دیر ہے تم دیکھنا کیسے وارد ہوتا ہے۔“غزوان کا خیال ذہن میں آتے ہی وہ ہنس دیا تھا۔
”تمہیں پتا ہے وہ مجھے کال پر کیا کہہ رہا تھا؟“غانیہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
”وہ کہہ رہا تھا کہ برتن اور کپڑے دھونا سیکھ لو۔شادی کے بعد کام آئے گا۔مطلب حد ہے،مرد یہ سارے کام تھوڑی کرتے ہیں؟“
”تو کیا آپ شادی کے بعد میرے لیے یہ سب نہیں کریں گے؟“آنکھوں میں خفگی لیے وہ اسے اب گھور رہی تھی۔وہ بری طرح گڑبڑا گیا۔
”بتائیں قتادہ،کیا آپ میرے لیے یہ نہیں کریں گے؟“وہ جس استحاق سے کہہ رہی تھی،وہ انکار نہیں کر سکا تھا۔
”میں تمہارے لیے یہ ضرور کرتا مگر ہمارے گھر میں تو ملازم ہوں گے ناں۔“اس نے نہ انکار کیا اور اقرار۔بلاشبہ اس نے ذہانت کا مظاہرہ کیا تھا۔
”ہاں لیکن میں ہمیشہ سے چاہتی تھی، اگر میری شادی ہو تو میرا شوہر گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹائے۔زیادہ نہیں بس تھوڑا بہت۔میں جب بابا صاحب اور مورے کو دیکھتی تھی تو ہمیشہ سوچتی تھی کہ کاش بابا صاحب مورے کا ہاتھ بٹائیں۔وہ ساتھ بیٹھ کر ڈھیر ساری باتیں کریں۔وہ مورے کا احساس کریں مگر ہمارے گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا۔بس پھر طے ہو گیا،آپ گھر کے کاموں میں میری مدد کریں گے۔ہم مل کر بستر کی چادر تبدیل کریں گے۔میں برتن دھوؤں گیئں اور آپ خشک کریں گے۔صبح کی چائے میں بناؤں اور رات کی آپ۔کھانا میں بنا لوں گیئں،لگا آپ دیجیے گا۔روز روز نہیں بس ہفتے میں دو دن۔دو دنوں کے لیے ہم ملازمین کو چھٹی دے دیں گے بلکہ ملازموں کی ضرورت ہی کیا ہے۔ہم دو تو لوگ ہیں،مل جل کر سارے کام……“
”پانی…..مجھے پیاس لگی ہے۔میں پانی پی کر آتا ہوں تم ڈریسز دیکھو۔“اپنی پیشانی پر ابھرتی پسینے کی ننھی بوندوں کو صاف کرتے وہ وہاں سے پلٹا اور اسٹوڈیو سے باہر جا کر ہی سانس لیا۔
”یہ سارے کام تو میرے فرشتے بھی نہ کریں۔ابھی انکار نہیں کروں گا۔کیا معلوم شادی سے ہی انکار کر دے۔شادی کے بعد خود ہی ایڈجسٹ کر لے گی۔“وہ سوچ کر کچھ حد تک ریلیکس ہوا۔شادی شدہ زندگی کا جو خاکہ اس کے ذہن میں تھا اس میں کہیں بھی گھر کے کاموں میں غانیہ کی مدد کرنا شامل نہ تھا۔اس نے اپنی ساری زندگی دھکے کھائے تھے،لوگوں کی چاکری کی تھی مگر ذہن میں اپنے گھر کا نفشہ ثبت تھا۔اس کے والد حاکم اور ماں محکوم تھی۔اس کی سوچ اور مزاج البتہ اپنے والد سے بےحد مختلف تھا مگر بیوی کے معاملے میں اس کی سوچ روایتی ہی تھی۔
۔
