Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode15)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode15)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
کافی دیر زخرف کے پاس بیٹھنے کے بعد سِماک اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ بستر پر آ لیٹا تھا۔شگوفہ بستر کی دوسری جانب لیٹی بے مقصد چھت کو گھور رہی تھی۔
”کیا ہوا؟“اس کی خاموشی سِماک کو کھلی تھی۔
”زخرف کے پاس تھے آپ؟“بغیر کسی لگی لپٹی کے اس نے سیدھا سوال کیا تھا۔
”ہاں…..!“اطمینان بھرے جواب نے شگوفہ کو اندر تک جھلسا دیا تھا۔وہ جو سوچ رہی تھی کہ وہ شرمندہ ہو گا یا کم از کم ہکلائے گا تو ضرور،تو وہ غلط تھی۔
”وہ دکھی ہے،ماں کو کھونا کوئی چھوٹی بات تو نہیں۔اسے تسلی کی ضرورت تھی۔“شگوفہ کے اندر بہت کچھ جل رہا تھا،بھسم ہو رہا تھا۔وہ زخرف سے جلن محسوس کرنے لگی تھی
”ویسے زخرف کو دیکھ کر مجھے آپ سے بہت ہمدردی محسوس ہوتی ہے۔“شگوفہ اٹھ کر بیٹھی اور قدرے تاسف سے سِماک کی جانب دیکھا۔سِماک کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
”میرا مطلب ہے کہ آپ کا اس کے ساتھ کوئی جوڑ ہی نہیں ہے۔ایک تو ہے بھی کم عقل اور اوپر سے بدصورت۔“
”وہ بدصورت نہیں ہے۔“سِماک کے بے ساختہ کہے جملے پر شگوفہ کی زبان معنوں تالو سے چپک گئی۔اسے سِماک کی جانب سے اس قسم کے کسی جملے کی توقع نہیں تھی۔
”وہ جب یہاں آئی تھی تو ایسی نہیں تھی۔یہ سب شاید حمل کی وجہ سے ہوا ہے یا پھر سارا دن چولہے پر کام کرنے کی وجہ سے۔ویسے بھی،ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے؟لڑکیاں تو پندرہ سولہ سال کی عمر میں روپ رنگ نکالتی ہیں۔“اس نے بڑی بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا تھا۔وہ تمام جملے جو اس نے کبھی زخرف سے نہیں کہے تھے،شگوفہ سے کہہ ڈالے تھے۔یہیں اس نے سب سے بڑی غلطی کی تھی۔ایک بیوی کی تعریف دوسری بیوی کے سامنے کر دی تھی۔شگوفہ کوئی انیس بیس سالہ جذباتی لڑکی نہیں تھی مگر تھی تو عورت ہی…..زخرف کے لیے ناپسندیدگی کچھ اور بڑھ گئی تھی۔سِماک کے گفتگو کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ زخرف میں دلچسپی رکھتا ہے۔شگوفہ کے اس گھر میں آنے کے بعد بھی وہ زخرف کی جانب پیش قدمی ضرور کرے گا۔
اس رات سِماک گہری نیند سویا تھا۔سِماک کی دلجوئی کے بعد زخرف کو بھی نیند نے اپنے آغوش میں لے لیا تھا مگر شگوفہ……شگوفہ کی ساری رات انگاروں پر گزری تھی۔وہ ساری رات سوچتی رہی تھی،مختلف تار جوڑتی رہی تھی۔
”بیگم جان اور کتنے سال جی لیں گیئں اور نادر پلار بھی؟“وہ اب اندازہ لگا رہی تھی۔خود سِماک کی عمر پچاس کے قریب تھی،یقیناً اس کے والدین کی عمر ستر کے قریب تو ضرور ہو گی۔
”میرا حسن کب تک برقرار رہے گا؟“رات بیتتی جا رہی تھی اور بات سے بات نکلتی جا رہی تھی۔”زیادہ سے زیادہ دس سال…..“اس کا گلا سوکھنے لگا۔عجیب سی گھٹن محسوس ہونے لگی۔
”اور زخرف……“اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔”وہ جوان ہو گی،خوبصورت ہو گی۔“
”اگر اس کے ہاں بیٹا ہو گیا پھر؟“نئے خدشہ نے اسے آ گھیرا۔شگوفہ کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوئیں۔اس نے بے اختیار خشک پڑتے گلے پر ہاتھ پھیرا۔ابھی زخرف کی اہمیت گھر میں پڑی ہوئی ردی کے برابر بھی نہ تھی مگر آج سے کچھ سالوں بعد……بیگم جان اور نادر پلار کے انتقال یا بہت زیادہ بوڑھے ہو جانے کے بعد…… حکومت صرف زخرف کی ہوتی۔شگوفہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ساتھ پڑے گلاس میں پانی انڈیلا اور گلاس لبوں سے لگا لیا۔اندر لگی آگ کچھ حد تک ٹھنڈی پڑی۔
”میں بیوہ تھی اور زخرف کنواری……چند سالوں بعد میرے بالوں میں چاندی اترنے لگے گی۔زخرف بڑی ہو جائے گی،سمجھدار ہو جائے گی پھر اس کی کوئی حرکت سِماک کو بری نہیں لگے گی۔وہ ان کی پسندیدہ بیوی بن جائے گی۔“آگ پھر سے بھڑکنے لگی مگر آگ کے شعلے اب صرف اندر نہیں رہے تھے، وہ باہر موجود ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لینے کی تگ و دو کرنے لگے تھے،خاص طور پر زخرف کو……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوردوبا کی سڑکوں پر، ہوٹل سے کچھ دور وہ بے مقصد پیدل چل رہی تھی۔صبح کی ٹھنڈی سرگوشیاں اس کے وجود کو تازگی بخش رہی تھی۔دونوں ہاتھ لمبے کوٹ کی جیبوں میں ڈالے قانِتہ مسروریت سے آگے بڑھ رہی تھی۔صبح کے وقت بہت سے لوگ یہاں چہل قدمی کر رہے تھے۔قریب ہی پارک تھا۔
”میرے بارے میں سوچ رہی ہو پری وَش؟“عقب سے ابھرتی آواز نے اس کا سارا موڈ خراب کر دیا تھا۔”نجانے یہ کس گناہ کی سزا تھی؟“قانِتہ نے کوفت سے اسے دیکھ کر سوچا۔
”کیا پتا اجر ہوں۔“وہ ٹھٹھی،ماتھے پر ایک ساتھ کئی شکنیں نمودار ہوئیں اور آنکھوں میں حیرت…..کیا وہ اس کی سوچ پڑھنے لگا تھا؟
”میرے ساتھ ایک دوڑ لگاؤ گی؟“اس کی احمقانہ خواہش پر قانِتہ معنوں صدمے میں ہی چلی گئی۔وہ چپکو ہونے کے ساتھ ساتھ بچکانہ حرکتیں بھی کرتا تھا۔غزوان کا امیج قانِتہ کی نگاہوں میں کچھ مزید خراب ہوا۔
”کیا تمہیں ہارنے کا ڈر ہے؟“وہ اب اسے چیلنج کر رہا تھا۔
”تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے اکسانے پر مان جاؤں گیئں تو تم غلط ہو۔تمہیں تھوڑا سا میچور ہو جانا چاہیئے۔“وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ دوڑ لگانے میں کون سا بچپنا ہے مگر فلحال پوچھا نہیں۔
”چلو ٹھیک ہے پھر کبھی لگا لیں گے۔“چند ثانیے خاموشی رہی۔وہ ایسے ہی قدم سے قدم ملا کر چلتے رہے۔یہاں تک کہ غزوان نے ایک دھن بجانا شروع کی اور قانِتہ کے چہرے پر پھیلی ناگواریت کچھ مزید گہری ہوئی مگر فلحال اس نے کچھ نہ کہا۔وہ صبح صبح باہر آئی ہی اس لیے تھی کہ اس تاریخی شہر کی سڑکوں پر کچھ وقت گزار سکے۔ان جگہوں پر قدم رکھ سکے جہاں سے کسی دور میں بادشاہ اور خلیفہ گزرتے تھے۔وہ یہ سفر تنہا طے کرنا چاہتی تھی مگر غزوان نامی بلا کے جیتے جیتے یہ کیسے ممکن تھا؟وہ تو معنوں اپنے کمرے کی کھڑکی سے دور بین لگائے قانِتہ کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا کہ کب وہ کمرے سے باہر نکلے اور غزوان کو اس کا سر کھانے کا ایک اور موقع مل جائے۔
تھوڑا آگے چلنے پر سامنے تیزی سے آتا ہوا ایک مقامی لڑکا قانِتہ کے پاس سے کچھ اس انداز میں گزرا،کہ اس کے کندھے سے اپنا کندھا مس کیا۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ اگر وہاں کوئی مشرقی لڑکی ہوتی تو شاید یہ سوچتی ہی رہ جاتی کہ آیا ایسا کچھ ہوا بھی ہے یا نہیں،یا پھر اس حرکت کو نظر انداز کر دیتی مگر سامنے قانِتہ یزدان تھی۔لمحہ کے ہزارویں حصے میں اس کا چہرہ دہک اٹھا تھا۔وہ برجستگی سے پلٹی اور تیزی سے آگے بڑھتے اس لڑکے کی شرٹ پیچھے سے دبوچ لی۔غزوان دھن بجانے اور موسم انجوائے کرنے میں اتنا مصروف تھا کہ اس جانب اس کا دھیان ہی نہیں گیا۔ہوش اسے تب آیا جب تیر کمان سے نکل چکا تھا،یعنی قانِتہ یزدان اس لڑکے تک پہنچ چکی تھی۔
”بھاگ کر کہاں جا رہے ہو؟صرف کندھا مس کرنا تھا،چھونا نہیں ہے مجھے؟“اس کے سامنے کھڑے ہوتے قانِتہ نے اس کا کالر دبوچا۔لڑکا اس افناد پر گھبرا گیا۔
”کیا کہہ…..رہی ہیں آپ؟“
”یہی کہ ہاتھ لگاؤ مجھے۔نمبر چاہیئے یا پھر گھر پر ملنے آؤں؟“گھما کر لات اس کے پیٹ میں مارنے کے بعد وہ پھر رکی نہیں تھی۔کوئی مکا اس لڑکے کے جبڑے پر پڑ رہا تھا تو کوئی کہاں……وہ چاہتی تو فوراً ہراسمنٹ کی رپورٹ درج کروا سکتی تھی مگر وہ قانِتہ یزدان تھی،وہ اس معاملے کو نہایت شائستگی سے خود حل کر سکتی تھی اور اس نے یہی کیا تھا۔پندرہ منٹ بعد غزوان کیسے منتیں کر کے اسے وہاں سے لے کر گیا تھا،یہ بس وہی جانتا تھا۔وہ اب قریبی کیفے میں بیٹھے تھے۔قانِتہ اطمینان سے کولڈ کافی پی رہی تھی جبکہ غزوان بس اسے دیکھتا ہی جا رہا تھا،کچھ غصے سے، کچھ بےبسی سے…….
”اگر کوئی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھی؟“چند ثانیوں کی خاموشی کو غزوان نے ہی توڑا تھا۔قانِتہ نے اس ہی اطمینان سے کافی کا آخری گھونٹ لیا اور کپ ٹیبل پر رکھ کر ویٹر کو بلایا اور دوبارہ اپنا آرڈر لکھوایا۔
آرڈر لکھوانے کے بعد بالآخر وہ غزوان کی جانب متوجہ ہوئی،جو کافی دیر سے اس کے جواب کا منتظر تھا۔
”تم اندھے تو نہیں ہو۔وہیں موجود تھے،دیکھ لیتے۔“اتنی دیر بعد جس درشتی سے اسے جواب ملا تھا،وہ صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گیا تھا۔قانِتہ سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی تھی؟
”کہیں تمہارا شجرہ نصب چنگیز خان سے تو نہیں ملتا؟“غزوان کے پوچھنے پر قانِتہ نے سوالیہ آبرو اٹھائی، معنوں پوچھنا چاہ رہی ہو کہ اب یہ کون ہے۔
”تم اپنے شجرہ نصب اور قوم پر دھیان کیوں نہیں دیتے؟“اس نے بھگو کر طنز کیا گیا تھا،دوسرے معنوں میں غزوان کے دل پر چوٹ کی تھی۔اپنی قوم اور برادری اسے بےحد عزیز تھی۔
”میری قوم کے بارے میں کچھ مت کہنا۔“اس نے سختی سے باور کروایا۔”ہم یوسفزئی ہیں اور ہمارا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔وہاں پر ہم پٹھانوں کی بستیاں آباد ہیں۔ہاں،مجھے وہاں گئے کافی عرصہ گزر چکا ہے مگر مورے جاتی رہتی ہیں۔ان کا تو میکہ بھی وہیں پر ہے۔پاپا سے شادی کے بعد بارسلونا شفٹ ہوئیں تھیں۔ہماری بستی بہت خوبصورت ہے،مجھے اچھے سے یاد ہے اور وہاں کے لوگ بہت ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔تم ایک دفعہ چلو تو سہی،تمہاری ایسی خاطر داری ہو گی کہ سب بھول جاؤ گی۔“وہ بولنے پر آیا تھا تو بولتا ہی چلا گیا تھا۔کچھ جذبات میں،کچھ جوش میں…..وہ اپنے اصل سے کبھی نہیں بھاگا تھا۔اپنے اصل سے کبھی بھاگنا بھی نہیں چاہیئے۔اسے اپنی قوم،اپنی پہچان پر فخر تھا اور قانِتہ کو اس گفتگو سے فلحال بےحد چڑ محسوس ہو رہی تھی۔
”تم کیا اپنا قوم نامہ بند کر سکتے ہو؟میرا دماغ خراب ہو رہا ہے۔“قانِتہ نے نگاہیں گھمائے نہایت کوفت سے کہا۔غزوان گہری سانس لے کر رہ گیا۔وہ کم از کم اس کی قومیت سے متاثر ہونے والی نہیں تھی۔
”کیا اس طرح بیچ سڑک پر یہ حرکتیں تمہیں زیب دیتی ہیں؟کچھ کام ہیرو کے لیے چھی چھوڑ دیتے ہیں۔بجائے کہ میں اسے مارتا،مجھے اسے بچانا پڑا۔تم تو جان سے ہی مار دیتی اسے۔اچھے خاصے مردانہ ہاتھ ہیں تمہارے۔کسی کی یاد دلاتی ہو تم۔“غزوان کی ساری باتوں کو اس نے سرے سے نظر انداز کر دیا تھا سوائے ”مردانہ ہاتھ“ والی بات کے۔
”لگتا ہے تم ان مردانہ ہاتھوں سے مار کھانا چاہتے ہو۔“اس نے غرا کر ایک ہاتھ میز پر مارا۔غزوان کی نظر اس کی مخروطی انگلیوں پر جا ٹھہریں۔اس قدر خوبصورت ہاتھ کو مردانہ ہاتھ کہنا سراسر توہین تھی مگر وہ بات ساخت کی نہیں طاقت کی کر رہا تھا۔
”دا اللہ پناہ(اللہ کی پناہ)“غزوان نے ڈرتے ہوئے ہاتھ کھڑے کیے۔قانِتہ بدستور اسے گھورتی رہی۔
”ویسے میں سوچ رہا تھا کہ مورے سے کھانا بنانا سیکھ لوں۔برابر نمک اور مرچ کے ساتھ…..“قانِتہ نے کچھ ناسمجھی سے اسے دیکھا پھر اس کی بات کا مطلب سمجھ آتے ہی وہ بے اختیار ہنس دی۔ماحول یکدم خوشگوار ہو گیا۔کیفے کے اطراف میں محبت کے نغمے بجنے لگے،وہ نغمے جنہیں غزوان ہی سن سکتا تھا۔وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ ہنستے ہوئے بےحد حسین لگتی ہے مگر فلحال ایسا کوئی بھی بے ساختہ جملہ پیڑول پر آگ چھڑکنے کے مترادف تھا۔
”تم مجھے کسی کی یاد دلاتی ہو۔“
”کس کی؟“
”ہے کوئی سر پھرا پاگل انسان۔ایسے ہی بغیر دیکھے مکے برساتا رہتا ہے۔کبھی کسی کی ناک توڑ دیتا ہے تو کبھی دانت۔“
”کاش تمہاری زبان بھی کاٹ دے۔“قانِتہ نے دلچسپی ظاہر کی۔
”تم سے ملواؤں گا، پھر مشورہ دے دینا۔“نہایت بے نیازی سے آفر دی گئی تھی جسے بروقت قبول کیا گیا تھا۔
”اگر وہ میری سنے گا تو میں تمہاری ٹانگیں اور ہاتھ بھی توڑنے کا کہوں گیئں۔“اس نے نخوت سے گردن اکڑا کر کہا تھا، غزوان اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔کیا اتنا تنگ تھی وہ اس سے؟اس معصوم نے تو ابھی کچھ کیا بھی نہیں تھا۔
”ویسے یہ کام میں خود بھی کر سکتی ہوں۔“کچھ سوچتے ہوئے قانِتہ نے جیسے پچھلا ارادہ ترک کیا۔اسے کیا ضرورت تھی کسی سے غزوان کو پٹوانے کی؟وہ یہ کام خود باآسانی کر سکتی تھی اور وہ بھی نہایت صفائی سے۔غزوان تاسف سے اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔وہ جسے دل کی ملکہ بنانا چاہتا تھا،وہ اس کی ٹانگیں توڑنا چاہتی تھی۔(افف! یہ ظالم لڑکی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ شگوفہ کے اندر کی آگ بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔اگر سِماک چھ راتیں شگوفہ کے ساتھ گزارتا تھا تو ایک رات زخرف کے ساتھ……اور یہ ایک رات شگوفہ پر قیامت بن کر گزرتی تھی۔اسے زخرف زہر لگنے لگی تھی۔وہ کسی بھی طرح اسے اپنی زندگی سے کہیں بہت دور بھیجنا چاہتی تھی۔
ابھی بھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھی کوئی منصوبہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہی تھی جب زخرف دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی تھی۔ہاتھ میں پھلوں کی پلیٹ تھی۔
”یہ کھا لیں۔وہ آپ کے لیے لے کر آئے ہیں۔اس حالت میں آپ کو اپنا خیال رکھنا چاہیئے۔“سِماک کے معافی مانگنے کے بعد وہ یکسر تبدیل ہو چکی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ سِماک نے اپنے کسی وعدے کا پاس رکھا تھا یا زخرف کے حالات میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی تھی،اس کے حالات اب بھی بدترین ہی تھے مگر اس معافی کے بعد وہ خوش رہنے لگی تھی۔اس نے سمجھوتہ نہیں کیا تھا،وہ واقعی خوش تھی۔اسے ان مظالم کی عادت ہو چکی تھی اور جب ظلم سہنے کی عادت ہو جائے تو پھر ظلم ظلم نہیں لگتا،وہ زندگی کا ایک حصہ لگنے لگ جاتا ہے۔سب کچھ نارمل لگنے لگتا ہے،جیسے سب ٹھیک ہو۔بالکل پرفیکٹ ہو۔اسے بھی یہی لگنے لگا تھا۔اس کے ذہن نے سب قبول کر لیا تھا۔
”یہ میں یہاں رکھ رہی ہوں۔“زخرف نے پلیٹ میز پر رکھ دی تھی۔
”میں رات کو سونے سے پہلے روز آپ کو دودھ کا گلاس دوں گیئں۔آپ کو کچھ اور کھانا ہو تو مجھے بتا دیجیے گا بلکہ آپ اپنے کپڑے بھی مجھے دے دیں۔میں دھو دوں گیئں اور آپ چھت پر تو بالکل مت جائیں گا اور کوئی وزنی چیز……“وہ اپنے تئیں شگوفہ کو وہ تمام احتیاطی تدابیر بتا رہی تھی جو اس نے کبھی نہیں کی تھیں۔اسے شگوفہ کی فکر تھی،اس کے بچے کی فکر تھی۔وہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ شگوفہ کے بچے کو کچھ ہو۔
”میرے سر میں درد ہے۔تم جاؤ یہاں سے۔“شگوفہ نے کچھ ضبط سے کہا۔آنکھوں میں لپٹے انگارے زخرف کو راکھ کر دینا چاہتے تھے۔اس کی معصومیت،اس کی مسکراہٹ،اس کی فکر…..ہر چیز شگوفہ کو مصنوعی لگ رہی تھی۔
”آپ کے سر میں درد ہے تو کیا میں دبا دوں؟ یا پھر تیل…..“
”تمہیں ایک بار میں سمجھائی گئی بات سمجھ نہیں آتی۔جاؤ یہاں سے۔“وہ بلند آواز میں چیخی تھی۔عین اس ہی وقت سِماک کمرے کے اندر داخل ہوا تھا۔
”کیا ہوا شگوفہ؟“اس نے فکرمندی سے شگوفہ کی جانب دیکھا اور پھر برہمی سے زخرف کی جانب۔یقینا اس ہی نے کچھ کیا تھا۔
”میں تو بس پھل دینے آئی تھی۔یہ کھا ہی نہیں رہیں ۔“زخرف نے فوراً مدافعاتی بیان دیا مبادا وہ ناراض ہی نہ ہو جائے۔
”کیوں شگوفہ؟“اس کے تنے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے۔وہ پلیٹ اٹھا کر شگوفہ کے قریب جا بیٹھا۔
”مجھے…..“اس نے کچھ کہنا چاہا پھر ایکدم کسی خیال کے تحت اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔اس نے ایک نظر زخرف کی جانب دیکھا پھر مسکرا کر سِماک کی جانب۔
”آپ کھلائیں گے تو کھاؤں گیئں۔“اس نے کچھ لاڈ سے کہا۔سِماک اس کی فرمائش پر حیران رہ گیا۔دراصل یہ فرمائش نہیں زخرف کو جلانے کی ایک کوشش تھی۔
”شگوفہ……“زخرف کے سامنے اس فرمائش پر سِماک کچھ تذبذب کا شکار ہوا۔
”کیا ہوا کھلائیں ناں؟زخرف تم ہی کہو نہ ان سے؟“شگوفہ کی دلچسپ نگاہیں اب زخرف پر جمی تھیں۔اسے تو جل کر بھسم ہو جانا چاہیئے تھا،شاید رونا بھی چاہیئے تھا یا اس کمرے سے اترا چہرہ لیے چلے جانا چاہیے تھا مگر زخرف فاطمہ نے اس کے ہر خیال کو غلط ثابت کر دیا تھا۔
”ہاں بالکل،آپ انہیں سارے پھل کھلا دیجیے اور ان کا بہت خیال رکھیں۔میں تو ہر نماز کے بعد دعا کرتی ہوں کہ اللہ پاک آپ کو چاند سا بیٹا دے بلکہ سات بیٹے دے۔“اس نے جس جوش اور خوشی سے کہا،سِماک سر جھکائے ہنس دیا تھا جبکہ شگوفہ سر تا پیر جھلس گئی تھی۔”کیا کمال کی اداکارہ تھی وہ لڑکی؟“یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ جلن اور حسد محسوس نہ کرے؟یقینا اندر ہی اندر وہ کڑھ رہی ہو گی۔ہاں،ایسا ہی تھا۔زگوفہ نے خود کو تسلی دی۔
وہ یقیناً یہ بات بھول چکی تھی کہ مقابل اس کی سوتن ضرور ہے مگر ہے کم عمر اور ناسمجھ……ہاں،زخرف اکثر بےحد سمجھداری کی باتیں کرتی تھی مگر یہ سب حالات کے زیر اثر تھا۔
”ویسے جب آپ کا بچہ پیدا ہو گیا تو کیا میں اسے بھالو بلا سکتی ہو؟“وہ تھوڑا آگے آئی اور نہایت اشتیاق سے سِماک سے پوچھا۔اور یہ تھا زخرف فاطمہ کا اصل مقصد۔یہ تھی وہ اداکاری،وہ مکاری جس سے شگوفہ خار کھا رہی تھی۔وہ بس ان کے بچے کو پیار کرنا چاہتی تھی۔اسے بھالو کہہ کر پکارنا چاہتی تھی۔بس یہی تھا اس کا مفاد۔
”ہاں،کیوں نہیں۔“سِماک نے کھلے دل سے اجازت دی تھی۔شگوفہ صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئی تھی۔زخرف اب مکمل طور پر سِماک کی جانب متوجہ تھی۔اس سے بچے کے متعلق پوچھ رہی تھی۔وہ کیسا دکھتا ہو گا؟وہ کیا پہنے گا؟وہ کتنا چھوٹا ہو گا اور کب بڑا ہو گا؟وہ شہر کے کس بڑے اسکول میں پڑھے گا؟وہ کیسے اسے اپنی گود میں اٹھائے گی اور کیسے اسے پیار کرے گی؟سِماک نہایت اشتیاق سے اس کی ساری گفتگو سن رہا تھا جبکہ شگوفہ نے چادر کو سختی سے مٹھیوں میں بھینچا ہوا تھا۔
”اپنے بچے کو اٹھانا تو دور میں تو تمہارا سایہ بھی اس پر نہ پڑنے دوں۔“اس نے تلخی سے سوچا۔دل بھٹی میں پک کر سخت ہو چکا تھا۔اتنا سخت کہ زخرف فاطمہ کے لیے وہاں کوئی نرم گوشہ نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زخرف قالین پر آلتی پالتی مارے سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی۔اس کی کلاس پچھلے بیس منٹ سے جاری تھی۔
”نہایت یواقوف ہو تم،کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ اس چڑیل سے دور رہا کرو۔سمجھ نہیں آتا تمہیں؟کیا ضرورت ہے اس کے آگے پیچھے پھرنے کی اور کمرے میں جانے کی؟“غانیہ ایک بار پھر اس پر غرائی تھی۔
”وہ اتنی بھی بری نہیں ہے۔“زخرف کی منمناہٹ پر غانیہ کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھا۔
”وہ تمہاری سوتن ہے۔“اس نے دانت پیس کر کہا۔
”لیکن وہ بہت اچھی ہے۔ان کا بیٹا پیدا ہونے والا ہے اور میں اسے بھالو کہہ کر پکاروں گیئں۔“وہ ایکدم پُرجوش ہوئی تھی جبکہ ساری کہانی اب کہیں جا کر غانیہ کو سمجھ آئی تھی۔وہ بیواقوفوں کی سردارنی کو دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔
”تم دوبارہ اس کمرے میں نہیں جاؤ گی اور شگوفہ سے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کرو گی۔“غانیہ نے سختی سے اسے لتارا۔وہ زخرف کی طرح شگوفہ کو بھی نام سے ہی پکارتی تھی۔
”اگر ان کے سات بیٹے ہو گے تو کیا پتا وہ ایک پکا پکا مجھے دے دیں؟“وہ ایک بار پھر اسی پُرجوش انداز میں کہہ رہی تھی۔غانیہ اپنا سر پیٹ کر رہ گئی۔زخرف کو کچھ سمجھانا بیکار تھا۔ننھی چڑیا اب نیا خواب دیکھنے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”جی ممی،آپ نے بلایا؟“وہ دروازے ناک کرنے کے بعد کمرے میں داخل ہوئی تھی۔مسٹر محمود اور مسز محمود تشویش کن حالت میں سامنے ہی بیٹھے تھے۔
”آؤ بیٹا بیٹھو۔“
”سب خیریت ہے؟“اسے کچھ عجیب سا لگا۔
”بیٹا،ہم آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔“محمود نے چند لمحوں کا توقف لیا پھر نہایت محتاط انداز میں گویا ہوئے۔
”ہم یہاں سے دبئی جائیں گے اور تم بارسلونا…..“توقف ایک بار پھر لیا گیا۔قانِتہ کے دل میں ابال اٹھنے لگے۔
”تم غزوان کو پسند کرتی ہو۔مجھے بھی وہ اچھا لگتا ہے۔بیٹا،شادی تو کرنی ہی ہے ناں۔ہم نے اور غزوان کے پیرنٹس نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ آج ہی تم دونوں کا نکاح کروا دیا جائے۔رخصتی بعد میں ہو جائے گی۔“قانِتہ کے وجود میں معنوں کسی نے پھلجڑیاں چھوڑ دیں۔پسند اور وہ غزوان کو؟نکاح اور وہ بھی آج؟اس کا سر گھومنے لگا۔ایکدم ہی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔سانس لینی تھی یا نہیں……وہ بھول چکی تھی۔
