61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode02)

Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi


زنگ آلود لوہے کی سلاخوں کے پیچھے مدھم روشنی قیدیوں کے چہروں پر لرزاں تھی۔سیلن زدہ دیواروں کی ہر اینٹ پر وحشت نقش تھی۔دور ایک کوٹھڑی سے مسلسل چیخنے اور گالیاں بکنے کی آوازیں آ رہی تھی۔دو کانسٹیبل بری طرح ایک قیدی پر ڈنڈے برسا رہے تھے۔دیواروں سے ٹکرانے والی آوازیں ان دو اہلکاروں کی تھیں،قیدی بالکل خاموش اور سنجیدہ چہرہ لیے مار کھا رہا تھا۔اس کے ماتھے پر نہ کوئی شکن تھی،نہ چہرے پر درد کی کوئی لکیر۔
”سائن نہیں کرے گا تو؟“ایک اور ڈنڈا برسایا گیا تھا۔
”دیکھتے ہیں کتنی جان ہے تجھ میں؟“اس بار کمرے میں چمڑے کے کوڑے کی وحشت ناک سرسراہٹ گونجی تھی۔
وہ سنگی مجسمہ بنا خاموش بیٹھا تھا۔
پسینے سے شرابور اہلکار مکے برسا رہا تھا۔ایک کے بعد دوسرا گھونسہ پسلیوں سے جا لگا۔پیٹ پر لات پڑی مگر قیدی کے لب پھر بھی سلے رہے۔چہرے پر اذیت کا کوئی تاثر نہ تھا۔
”سائن کر دے اور قبول کر کہ قتل تو نے کیا ہے۔“ہانپتے ہوئے اہلکار نے کوڑا ایک طرف پھینکا تھا۔وہ مار مار کر اب تھک چکے تھے۔قیدی نے نگاہیں اٹھا کر دونوں اہلکاروں کی جانب سنجیدگی سے دیکھا۔اس کی نگاہوں میں ایک ٹھہراؤ تھا،پراسراریت تھی۔اگلے لمحے ہونٹوں کے کنارے ہلکے سے اٹھے،ایک معنی خیز مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھری،لمحہ بھر کی تاخیر کیے بغیر اس نے ایک آنکھ ماری،معنوں انہیں اور مارنے پر اکسا رہا ہو یا ان کی بےبسی کا مذاق اڑا رہا ہو۔دونوں اہلکاروں کے چہرے غصے سے تمتما اٹھے۔ایک اہلکار نے کھینچ کر چابک اسے مارا اور دونوں گالیاں بکتے باہر چلے گئے۔تنفس اس قدر بے ترتیب ہو چکا تھا کہ مزید مارنے کی ہمت نہ تھی۔ان کے جانے کے بعد وہ دیوار سے پشت ٹکائے پُرسکون بیٹھ گیا۔چہرہ اب کرخت تھا،پتھریلا، سخت……
سامنے موجود کوٹھری میں دو قیدی سر جوڑے سرگوشیاں کر رہے تھے۔
”اسے کیوں پکڑا ہوا ہے؟“نئے قیدی نے پرانے سے پوچھا تھا۔
”اس پر اپنے باپ کے قتل کا الزام ہے۔“نو گرفتار قیدی کی آنکھیں پھیل گئیں۔
”کیا سچ میں اس نے اپنے باپ کو مارا ہے؟“
”معلوم نہیں،لیکن سنا ہے کہ قتل کرنے کے بعد یہ بھاگ گیا تھا پھر سالوں غائب رہا اور ایک دن اچانک یہ پولیس اسٹیشن کے باہر بیٹھا پایا گیا۔اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا گیا اور پچھلے کچھ عرصے سے اس پر کافی تشدد ہو رہا ہے۔پتا نہیں کن کاغذات پر دستخط کروانا چاہتے ہیں؟معاملہ کچھ اور ہی لگتا ہے۔“اس نے کچھ افسوس اور دکھ سے کہا تھا۔نو گرفتار قیدی کی آنکھیں تجسس سے چمکنے لگیں،گو کہ اس راز میں گہری دلچسپی ہو۔
”تمہارے خیال سے کن کاغذات پر دستخط کروا چاہتے ہیں؟“
”کہتے ہیں کہ اقبال جرم کے کاغذات ہیں مگر بات کچھ اور ہی لگتی ہے۔اس کا چچا بار بار جیل کے چکر لگاتا ہے مگر یہ دستخط کرنے پر آمادہ نہیں۔اگر کوئی زبردستی کرتا ہے تو یہ مرنے مارنے پر اتر آتا ہے۔اب تک چار دفعہ اہلکاروں پر حملہ کر چکا ہے۔بہت خطرناک آدمی ہے۔“اس نے جھرجھری لیتے ہوئے کچھ خوفزدہ آواز میں کہا تھا۔
”ہاں،کل رات بھی تو ایک قیدی سے بھڑ گیا تھا۔ویسے اتنی مار پڑنے کے باوجود بھی میں نے اسے چیختے ہوئے نہیں دیکھا۔“پرانے قیدی کے کندھے جھک گئے، چہرے پر مایوسی کی لکیر نمایاں ہوئی،رک کر سرد گہری سانس اندر کھینچی۔
”وہ بول نہیں سکتا۔“نو گرفتار قیدی کی سانس تھمی، آنکھیں پھیلیں،چہرے پر بےیقینی چھا گئی۔
”نام……نام کیا ہے اس کا؟”
”قتادہ…… قتادہ ذوالفقار……“
ویران کوٹھری میں قتادہ بنجر نگاہیں دیوار پر جمائے ہوئے تھا۔ایک ہاتھ کی مٹھی وہ مسلسل زمین پر مار رہا تھا۔کندھے زندگی کے بوجھ سے لدے ہوئے تھے۔ذہن میں ماضی کی دردناک رات گھوم رہی تھی۔درندے نما انسان،ہوس بھری نگاہیں اور طویل رات میں بے آواز گونجتی سسکیاں اور آہیں۔

اتنا مانوس ہوں سناٹے سے
کوئی بولے تو برا لگتا ہے
صبح کے وقت اس نے مرغیوں کو دانہ ڈالنے کے لیے دروازہ کھولا تو اندر ایک بیہوش بچی کو دیکھ اس کی چیخ نکل گئی۔آنکھیں اس قدر پھیل گیئں گو کہ کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔
”کیا مصیبت ہے؟“بیگم جان چھنگاڑتی ہوئی صحن تک آئی تھیں۔
”یہ…..یہ کون ہے؟“غانیہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے بےسود پڑی لڑکی کی جانب اشارہ کر کے پوچھا۔
”ماں ہے تمہاری جسے کل تمہارا باپ بیاہ کر لایا ہے۔“غانیہ نے حیرت زدہ نگاہوں سے زخرف کی جانب دیکھا اور اگلے لمحے جسم میں کڑواہٹ بھر گئی۔چہرہ دہکا،لب سکڑے اور آنکھیں مرچیں اگلنے لگیں۔
اس نے ملازمہ کو آواز دے کر زخرف کو باہر نکلوایا۔وہ مدھم مدھم سانسیں لے رہی تھی گویا زندگی ختم ہونے والی ہو مگر زندگی تو ابھی شروع ہوئی تھی۔
ٹھنڈا پانی منہ پر پڑتے ہی گہری سانس لے کر اس نے ڈھیروں آکسیجن اندر اتاری۔پسینے سے شرابور چہرے کے ساتھ آنکھیں تھوڑی سی کھولیں،کوئی دھندلا عکس سامنے لہرایا۔اگلے لمحے ایک دہشت بھری آواز کانوں میں گونجی۔
”اٹھو کھڑی ہو۔“وہ اندر تک لرز گئی،وجود میں کپکپی دوڑ گئی۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اٹھ نہ سکی۔
”میں نے کہا اٹھو۔“غانیہ نے اسے پیر سے ٹھڈا مارا، وہ لاغر وجود کے ساتھ کپکپاتے ہوئے بامشکل اٹھ کھڑی ہوئی۔ٹانگیں اب بھی لرز رہی تھیں، دل زور وشور سے دھڑکنے لگا۔
”تو تم ہو وہ بلا، جس نے ہم سے ہماری خوشیاں چھین لیں۔“سختی سے منہ دبوچا گیا تھا۔دھندلا عکس واضح ہوا ۔سامنے کھڑی لڑکی کے ہاتھ میں ایک بیساکھی تھی اور چہرے پر شدید غصہ.
”میری ماں کی جگہ لو گی تم۔“غانیہ نے اسے پیچھے دھکیلا۔
وہ جو بمشکل کھڑی تھی، ایکدم لڑکھڑا کر فرش پر جا گری۔سر چکرایا اور آنکھیں آنسوؤں سے لبالب بھر گئیں۔
”اس گھر میں رہنا ہے تو کام کرنا پڑے گا۔گھر کے تمام افراد کے کپڑے یہ دھوئے گی۔“ملازمہ کو حکم صادر کر کے وہ آگے بڑھ گئی۔زخرف سسکتے ہوئے فرش پر بیٹھی اپنی غلطی تلاش کرنے لگی۔یقینا اس نے کچھ تو غلط کیا ہی ہو گا۔بہت سوچنے پر بھی اسے ایسی کوئی بات یاد نہ آئی۔

میں حصار ظلمت شب میں ہوں جو بھٹک رہا ہوں گلی گلی

مجھے تیرگی سے گلا نہیں مجھے روشنی کی تلاش ہے
دروازے پر ہوتی دستک نے غانیہ کے کمرے کے جانب اٹھتے قدموں کو روکا تھا۔وہ اب داخلی دروازے کی سمت بڑھی۔آدھ دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر ایک تھیلا کندھے پر لٹکائے کھڑی خاتون پر پڑی۔ہاتھ میں رجسٹر اور پولیو کی ویکسین کی شیشی تھی۔
”گھر میں کوئی بچہ موجود ہے تو بھیج دیجیئے،پولیو کے قطرے پلانے ہیں۔“غانیہ لمحہ بھر کو معنوں سکتہ میں چلی گئی پھر اس نے ایک نگاہ ہاتھ میں پکڑی بیساکھی کو دیکھا تو دوسری نگاہ پولیو ورکر کو۔
”آپ نے دیر کر دی۔“الفاظ بےساختہ زبان سے پھسلے۔
”کیا مطلب؟“خاتون نے کچھ تشویش سے پوچھا تھا۔
”کچھ نہیں،آپ اندر آئیں۔“آنسووں کا گولہ گلے سے اتار کر اس نے دروازہ پورا کھولا تھا۔خاتون اندر داخل ہوئیں۔غانیہ کے ہاتھ میں بیساکھی دیکھ وہ لمحہ بھر کو چونکی پھر آنکھوں میں یاسیت چھا گئی۔
غانیہ سِمَاک یوسفزئی ایک ٹانگ سے معذور لڑکی تھی،وجہ بچپن میں پولیو کے قطرے نہ پلانا تھا۔کچھ سالوں سے ان کے علاقے اور آس پاس کے کچھ علاقوں میں پولیو کے متعلق من گھڑت کہانیوں کا کافی حد تک خاتمہ ہو چکا تھا۔پہلے پہل ان علاقوں میں قطرے پلانے کسی ٹیم کو بھیجا ہی نہیں جاتا تھا اور کچھ یہاں کے لوگوں کی توہمات مگر اب حالات قدرے بہتر تھے۔
خاتون ورکر غانیہ کے پیچھے ایک کمرے تک گئی تھیں۔وہاں بستر پر ایک نوزائیدہ بچی خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔خاتون ورکر نے اسے قطرے پلائے،نشان لگایا اور باہر کی جانب چل دی۔بچی ہلکا سا کسمائی اور واپس نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔غانیہ بچی کے قریب بیٹھی اب تاسف بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔آنکھوں کے کناروں پر پانی جمع ہونے لگا۔اس نے جھک کر بچی کی پیشانی چومی۔
اب بیساکھی کو ایک طرف رکھ کر وہ بستر پر چڑھ کر بیٹھ گئی۔اس نے ایک ہاتھ اپنے بے جان،مڑے ہوئے،بے حرکت پیر پر پھیرا۔دور پہاڑی بستی کی تنگ گلیوں میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجی۔ان کے تیز قدموں کی آہٹ اسے ہمیشہ بےچین کر دیتی۔وہ بھی ایسے ہی دوڑنا چاہتی تھی،اونچی پہاڑیوں پر چڑھنا چاہتی،آسمان میں اڑنا چاہتی مگر اپنی اس معذوری کی وجہ سے وہ کچھ نہ کر سکی۔
”کچھ حد تک حالات بدل گئے ہیں۔لوگ اپنے بچوں کو قطرے پلانے لگے ہیں۔ہم معذور افراد کو نشان عبرت بنا کر اپنے بچوں کو آگاہی بھی فراہم کرتے ہیں مگر کوئی ہماری زندگی کی مشکلات کے بارے میں نہیں سوچتا۔میری زندگی کے اٹھارہ سال گزر گئے،کسی کی زندگی کے بیس تو کسی کے تیس….. ہمارے بارے میں کوئی سوچتا ہی نہیں،کوئی بات ہی نہیں کرتا مگر تم فکر نہ کرو نوراں،تمہاری زندگی مجھ سے بہت مختلف ہو گی۔میں پہاڑوں کی بلندیوں پر چڑھ کر آسمان میں اڑنا چاہتی ہوں۔مجھے پیرا گلائڈنگ کرنی ہے مگر کوئی سنتا ہی نہیں۔ایک اکیڈمی سے بات کی،وہ کہتے ہیں کہ تم معذور ہو غانیہ۔معذور لوگ پیرا گلائڈنگ کر سکتے ہیں،میں نے خود سرچ کیا مگر وہ مانتے ہی نہیں اور پھر مجھے کون اجازت دے گا؟بیگم جان تو مجھے جان سے مار دیں گیئں اور بابا صاحب……“اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا تھا پھر جھک کر بچی کو ہاتھ میں اٹھایا۔
”نوراںیکن تم اپنے سارے خواب پورے کرنا۔دوڑنا،پہاڑوں پر چڑھنا اور آسمان میں اڑنا۔“بےحد محبت سے اس نے اپنی چند دن کی بہن کی پیشانی چومی تھی جسے جنم دیتے ہی اس کی ماں اس دنیا سے چل بسی۔

یہ لمحہ لمحہ زندہ رہنے کی خواہش کا حاصل ہے

کہ لحظہ لحظہ اپنے آپ ہی میں مر رہا ہوں میں
یہ بارسلونا میں رات کے وقت منقعد کی جانے والی ایک بزنس پارٹی تھی۔روشنی کے نیلے دائرے ادھر سے اُدھر گردش کر رہے تھے۔سوئمنگ پول کے پانی میں روشنی کے ٹکڑے لہرا رہے تھے معنوں کسی جادوگر نے جادو کیا ہو۔نرم موسیقی نے پارٹی کی فضاء میں ایک عجیب سا سکوت بکھیر دیا تھا۔لوگ چمکتے گلاس ہاتھوں میں تھامے محو گفتگو تھے۔
دفعتاً ایک شخص اپنی تمام تر وجاہت سمیت وہاں داخل ہوا۔بال سلیقے سے ایک طرف جمائے ہوئے تھے۔چال میں خود اعتمادی تھی۔پرفیکٹ فٹنگ سوٹ،ہاتھ میں چمچماتی گھڑی اور پیروں میں برانڈڈ جوتے، اسے وسائل کی کمی نہ تھی۔لوگوں کی ہنسی اور موسیقی کی دھن اسے برابر سنائی دے رہی تھی۔وہ چند قدم آگے بڑھا اور پھر ٹھٹھک کر رک گیا۔ایک کونے میں محو گفتگو اس لڑکی کی کھنک کی آواز نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔وقت تھم گیا،پارٹی کی رنگینیاں مدھم پڑ گئیں،اب غالب صرف وہ لڑکی تھی۔نرم مسکراہٹ،پراسرار چہرہ، جھکی نگاہیں جو اس نے ابھی اٹھائیں اور وہ وہیں ساکت ہو گیا۔اس کی نظریں چاند کی چمک سے زیادہ دلکش تھیں۔
عین اس وقت اس کے دوست نے آگے بڑھ کر گرمجوشی سے اس کا استقبال کیا،وہ سر کو ہلکا سا خم دے کر مسکرایا مگر نگاہیں اب بھی اس لڑکی پر ہی جمی تھیں۔وہ بے اختیار قدم آگے بڑھا گیا۔اس کا دوست گڑبڑا کر اس کے پیچھے گیا جب اس نے مدھم آواز میں اس لڑکی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔دوست لمحہ بھر کو جھجکا پھر سنبھل کر اسے ساتھ لیے اس سمت بڑھ گیا۔
”اوہ-لا(Hola) مس یزدان!“
“اوہ-لا(ہائے)“لڑکی نے کچھ حیران کن اور خوشگوار تاثرات سے کہا تھا۔
”ان سے ملیے،یہ ہیں غزوان جہانزیب،میرے قریبی دوست اور مسٹر غزوان،یہ ہیں ہماری کمپنی کی ٹیلنٹڈ امپلائی، مس قانتہ یردان۔“
”یہ قَانِتَہ ہے۔“اس نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ تصحیح کی۔غزوان کا دل تیزی سے دھڑکا۔وقت کا دھارا پل بھر کو رکا۔اب وہاں صرف غروان اور قَانِتَہ تھے، باقی ہر فرد پش پشت رہ گیا۔
اس نے اپنی پوری زندگی میں اس قدر ہوش ربا خاتون نہیں دیکھی تھی۔وہ پہلی نظر کی محبت پر یقین نہیں رکھتا تھا مگر آج محبت نے زور زور سے دل کے دروازے پر دستک دی اور غزوان نے بلا کسی چوں چاں کے فراخ دلی سے دروازہ کھول دیا۔اسپین کے شہر بارسلونا میں یہ ان کی پہلی ملاقات تھی،مگر آخری نہیں۔اس پہلی ملاقات میں غزوان جہانزیب نہ صرف اس لڑکی کو دل کے مسند پر بٹھا چکا تھا بلکہ اسے ایک نام سے بھی نواز چکا تھا۔وہ نام جو پہلی ہی نظر میں اسے دیکھتے ذہن کے پردے پر اجاگر ہوا تھا۔
”پری وش، پری جیسی حسین“
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

شام کے وقت سورج کی الوداعی کرنیں بارسلونا کی عمارتوں پر الوداعیہ روشنی بکھیر رہی تھیں۔لاس رمبلاس کی سڑک پر زندگی اپنے عروج پر تھی۔شاہرہ کے اطراف میں سرسبز درختوں کی چھاؤں میں کیفے اور ریستوران سے بھاپ اڑاتی کافی کے کپ اور اسپینش کھانے شیشے کے پار دیکھنے میں بھلے معلوم ہوتے تھے۔کچھ سیاح سڑک پر چل رہے تھے تو کچھ کھانوں اور کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
لوگوں کے ہجوم میں ایک وہ بھی تھی،قانِتہ یزدان۔لمبے گھنے بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے، سیاہ کوٹ میں اس نے خود کو چھپا رکھا تھا۔ایک ہاتھ میں فون تھامے وہ کسی سے محو گفتگو تھی۔کبھی وہ دھیرے سے ہنس دیتی،جیسے کوئی مدھم سا ساز اور کبھی قہقہہ لگا اٹھتی۔
اس بات سے انجان کہ اس ہجوم میں دو اور قدم اس کے پیچھے ہیں،وہ بے نیازی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ایک قد آور مرد،بھوری جیکٹ میں ملبوس،آنکھوں میں گہری چمک لیے اس کے پیچھے چل رہا تھا۔نہ وہ زیادہ قریب تھا اور نہ زیادہ دور۔فون کان سے ہٹائے وہ ایک سٹریٹ پرفارمر کے قریب رکی،اس کے ساتھ پیچھا کرتا شخص بھی رکا،سٹریٹ پرفارمر کانسی کے مجسمے کی مانند ساکت کھڑا تھا۔
قانِتہ دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں ڈالے دلچسپی سے اسے دیکھنے لگی،اگلے لمحے اس نے کوٹ کی جیب سے ہاتھ نکالا،ایک سکہ اچھال کر اس کی ٹوکری میں پھینکا اور ساکت کھڑے سٹریٹ پرفارمر میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔
وہ کھلکھلا اٹھی،بالوں کو جھٹکا دیا اور آگے بڑھ گئی۔پیچھا کرنے والا شخص بھی ساتھ ہی آگے بڑھا۔تھوڑا آگے جا کر وہ ایک بار پھر رکی۔گٹار بجانے والے موسیقار کو دیکھا،جو دھیمے سروں میں اسپینش میلوڈی چھیڑ رہا تھا،سکہ جیب سے نکال کر اس کی ٹوکری میں ڈالا اور مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔پیچھے میلوڈی کی دھنیں فضاء میں تحلیل ہو کر شہر میں سحر بکھیرنے لگیں۔
اس نے ایک بار پھر نمبر ڈائل کر کے اردگرد دیکھا،شاید وہ کسی سے ملنے آئی تھی۔اچانک کسی غیر مرئی احساس سے وہ چونکی،اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا مگر پھر مسکرا کر کندھے اچکائے اور آگے بڑھ گئی۔
سامنے پھولوں کی ایک دکان نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔وہ قدم آگے بڑھا گئی۔گلاب،للی،ٹیولپ،کملا اور مختلف رنگوں کے آرکڈز ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔قانِتہ نے للی کے پھولوں کو ابھی چھوا ہی تھا،کہ عقب سے آتی آواز پر وہ بے ساختہ چونکی،پھر مڑی۔
”قانِتہ“سامنے ایک دراز قد سیاہ آنکھوں والا شخص کھڑا تھا۔
”میں غزوان۔ہم کل پارٹی میں ملے تھے۔میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔“وہ بری طرح ٹھٹھکی،پھر سنبھلی اور سر کو خم دیے اس کے ساتھ ایک کیفے تک چل دی۔
”میں بالکل سیدھی بات کروں گا۔مجھے آپ سے پہلی نظر کی پہلی محبت ہو گئی ہے۔کوئی افیئر نہیں چلانا چاہتا، شادی کرنا چاہتا ہوں۔“وہ حد سے زیادہ صاف گو تھا۔اس قدر سیدھے پرپوزل پر قانِتہ کا چہرے کا رنگ پل میں متغیر ہوا۔اس طرح کون پرپوز کرتا ہے؟اس کا چہرہ سرخ پڑا،کچھ سخت کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ دماغ میں ایک جھماکہ ہوا۔پرموشن ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں گزرے تھے،اور اس نے کمپنی میں ہزاروں دشمن بنا لیے تھے۔غزوان اس کے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کا دوست تھا،ایک اور دشمن وہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔
نگاہیں اطراف میں گھمائیں،ریسٹورنٹ میں لگے قمقمے کو دیکھ ذہن کا قمقمہ بھی روشن ہوا۔پرسکون چمکدار نگاہیں اب غزوان کے چہرے پر جمائیں،میز پر ہاتھ رکھے،آگے کو جھکی۔
”میں شادی شدہ ہوں۔“نہایت آرام سے بم پھوڑا۔وہ پہاڑ کی طرح وہیں جم گیا،ساکت ہو گیا۔کل ساری رات وہ ہنی مون سے لے کر بچوں کے نام تک کی پلاننگ کر چکا تھا اور وہ شادی شدہ نکلی تھی۔
”آپ….. آپ کے ڈاکومینس میں تو ایسا کچھ نہیں لکھا۔“زبان لڑکھڑائی مگر خود کو حوصلہ دیا۔قانِتہ کی بھنوئیں اٹھیں، یعنی وہ مکمل تیاری کے ساتھ آیا تھا۔
”وہ میری ڈائیورس ہو گئی ہے۔دو بچے بھی ہیں۔“اعتماد وہی تھا،بس اب کی بار لہجہ افسردہ سا تھا۔غزوان اگلی سانس نہیں لے سکا،یعنی اسے ایک طلاق یافتہ دو بچوں کی ماں سے محبت ہوئی تھی۔ریسٹورینٹ کی چھت اس کے سر پر گری۔چند ثانیے وہ کچھ بول نہیں سکا۔
”آپ….. آپ شادی شدہ لگتی تو نہیں ہیں؟“دل کو سنبھالا، حیرت کے تاثرات کچھ غالب آئے، پیشانی پر پانی چمکا۔
”بس سر…..اب میں کیا کہوں۔“مژگاں کے کنارے سے نادیدہ آنسو پونچھا،کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور ایک سرد آہ بھری۔
”آپ کی طلاق کیسے ہوئی؟“اخلاقا اسے یہ نہیں پوچھنا چاہیے تھا مگر وہ پوچھ بیٹھا تھا۔وہ ٹھٹھکی،آنکھیں اردگرد گھمائیں اور سیدھی ہو بیٹھی۔شاید اس سوال کی توقع نہ تھی۔
دونوں ہاتھ باہم ملائے،میز پر دھرے اور تھوڑا آگے کو جھکی۔
”بس سر، یہ شوہر ہوتے ہی بہت ظالم ہیں۔کھانے میں ذرا سی مرچ تیز ہو گئی،سر پھاڑ دیا اور پھر طلاق دے دی۔“نگاہیں جھکائے نہایت غمگین انداز میں آپ بیتی سنائی گئی،مقابل کی آنکھیں پوری کی پوری کھل گیئں۔کیا اتنی پیاری لڑکی کے ساتھ کوئی ایسا ظلم کر سکتا تھا؟دل میں ایک گھونسا لگا،محبت کی جگہ ہمدردی نے لے لی۔
”ایسے شخص کو تو پھانسی چڑھا دینا چاہیئے۔“آنکھوں میں مرچیں چھبیں،شدت جذبات سے ہاتھ میز پر دے مارا۔
”ہے ناں…..ایک تو کھانے میں مرچ تیز کر دی اور اگر میں نے سر پھاڑ ہی دیا تھا تو طلاق دینے کی کیا ضرورت تھی؟صبر بھی تو کر سکتا تھا ناں۔نبھانے والے نبھا لیتے ہیں۔پتا نہیں آجکل کے مردوں کو کیا ہو گیا ہے؟ذرا ذرا سی بات پر نوبت طلاق تک پہنچا دیتے ہیں۔جنہوں نے گھر بسانا ہوتا ہے ناں،وہ صبر و شکر سے بسا لیتے ہیں۔ویسے آجکل ممی میرے لیے رشتہ تلاش کر رہی ہیں۔آپ کھانا تو بنا لیتے ہیں ناں؟“وہ جتنی معصومیت سے کہہ رہی تھی،غزوان کا سر اتنا ہی گھوما تھا۔اس نے بے اختیار پیشانی مسلی،ٹھنڈ میں گرمی سی لگی۔آخر کیا بلا تھی وہ؟
چند لمحے وہ خاموشی سے اسے گھورتا رہا پھر مٹھیاں بھینچیں،گردن سیدھی کی اور بھرپور سانس اندر کھینچ کر فیصلے تک پہنچا۔
”آپ سیدھا سیدھا بھی انکار کر سکتی ہیں،اس جھوٹی کہانی کی ضرورت نہیں۔“سخت لہجے میں ایک بار پھر صاف گوئی سے کام لیا گیا۔قانِتہ کے چہرے کے طوطے اڑ گئے، گلے میں گلٹی ابھری،اگلے لمحے وہ پھر سنبھلی، نگاہیں غزوان کے چہرے پر جمائیں اور بولنا شروع کیا۔
”ٹھیک ہے،میں نے جھوٹ بولا۔دراصل کسی طلاق یافتہ سے اس کی طلاق کی وجہ پوچھنا اخلاقیات کے خلاف ہے۔“وہ اب بھی ڈٹی رہی۔غزوان نے سوالیہ آبرو اٹھائی،معنوں اس کی بات پر یقین نہ ہو۔
”میں ایک مجبور خاتون ہوں سر!اپنے بچوں کے لیے نوکری کرتی ہوں،آپ پلیز میرے اس انکار کو انا کا مسئلہ مت بنائیں گا۔آپ ایک کنواری اور خوبصورت لڑکی ڈیزرو کرتے ہیں۔“اس کی جانب سے یہ فل سٹاپ تھا مگر غزوان اب بھی مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے مس قانِتہ،لیکن آپ نے سچ بولا،مجھے خوشی ہوئی۔میں آپ کو آپ کے بچوں سمیت ڈنر پر انوائیٹ کرتا ہوں۔مجھے بہت خوشی ہو گی اگر آپ کل رات کا کھانا میری طرف کھائیں۔میں ایسی خواتین کا بہت احترام کرتا ہوں جو تنہا اپنے بچوں کو پالنے کے لیے محنت کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی مجھے وہ خواتین سخت ناپسند ہیں جو محض رشتے سے انکار کی خاطر جھوٹ بولتی ہیں۔“قانِتہ کا سانس اٹکا،رنگت زرد پڑی اور نوکری ہاتھ سے جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔ڈیپارٹمینٹ کے ہیڈ کے ساتھ آج صبح ہی تو جھگڑا ہوا تھا،اس نے جاب سے نکالنے کی دھمکی بھی تو دی تھی۔
کرسی پیچھے کھسکاتے وہ اٹھ کھڑا ہوا،وہ بھی بوجھل قدموں سے اٹھی۔چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔عین اس وقت اس کی نظر ریسٹورانٹ میں داخل ہوتی اپنی دوست پر پڑی،آنکھوں میں چمک ابھری۔وہ لپک کر اس سمت بھاگی۔
”میری بیٹی…..“اس کے ہاتھ سے بچی جھپٹی اور فاتحانہ انداز میں غزوان کی جانب مڑی۔وہ وہیں ساکت ہو گیا،دل مرجھایا،آنکھوں میں شکست ابھری۔
”ذنر پر انوائیٹ کرنے کا بہت شکریہ مگر میں یہ آفر قبول نہیں کر سکتی۔میرے خیال سے یہ غیر مناسب ہے۔میری بیٹی سے ملیں۔بیٹا ماموں کو اوہ-لا(ہائے) کہو۔“بچی کا زبردستی ہاتھ ہلا کر اس نے ساکت کھڑے غزوان کو ”ہائے“ کروایا اور دوست کا بازو کھینچتی باہر چلی گئی۔غزوان نے آنکھیں بند کر کے عمیق سانس اندر کھینچی، جیسے ریسٹورنٹ میں موجود تمام لوگوں کے دکھوں کو آغوش میں سمیٹ لیا ہو۔پہلی محبت ادھوری رہ گئی۔
قانِتہ تیزی سے اپنی دوست کو ساتھ لیے اب شاہراہ پر چل رہی تھی، بچی گود میں ہی تھی۔
”کون تھا وہ اور تم کیا کہہ رہی تھی اس سے؟“
”فلحال یہاں سے چلتے ہیں،پھر تفصیل سے بتاؤں گیئں لیکن ایک بات ہے،تم اور تمہاری بہن کی بیٹی مجھے کبھی اتنے اچھے نہیں لگے، جتنے آج لگ رہے ہو۔“ہنسی کی کھنک لاس رمبلاس کی شاہراہ میں گونجی۔