61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 45)

”غزوان اٹھو۔اب اٹھ بھی جاؤ۔“ویک اینڈ کے دن وہ صبح سویرے اسے اٹھانے کی تگ و دو میں مصروف تھی۔ پندرہ منٹ کی محنت کے بعد بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوا تھا۔مگر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔اتنی آسانی سے ہار مارنا اس کے مزاج کے خلاف تھا۔
”اگلے دو منٹ میں تم نہ اٹھے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔“قانِتہ کو کہیں باہر جانا تھا۔وہ بضد تھی کہ غزوان اس کے ساتھ جائے مگر غزوان کی نیند پوری ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
”یار کہاں جانا ہے تمہیں صبح صبح؟خود چلی جاؤ ناں۔“نیند میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے منہ تکیے میں دیا تھا۔اور قانِتہ کا پارا فوراً سوا نیزے پر چڑھا تھا۔اس نے غزوان کو جھنجھوڑنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے پھر رک گئی۔آنکھوں میں عجیب سی چمک در آئی۔
”تمہیں تو میری پرواہ ہی نہیں ہے۔طبیعت خراب نہ ہوتی تو کبھی ڈاکٹر کے پاس چلنے کا نہ کہتی میں۔اگر تمہیں نیند عزیز ہے تو پھر میں خود ہی چلی جاتی ہوں۔“وہ کہہ کر پلٹ گئی۔غزوان ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
”کیا ہوا ہے تمہیں؟“وہ حواس باختہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔وہ گہری چمکتی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔
”طبیعت کو کیا ہوا ہے؟“وہ فکر مندی سے پوچھ رہا تھا۔وہ اس کے لیے پریشان تھا۔قانِتہ اسے دیکھتی رہی۔غزوان کی آنکھوں کی فکر،چہرے کی پریشانی اسے اچھی لگی تھی۔کوئی تھا جس کے لیے وہ اہم تھی،یہ احساس ہی روح کی تازگی تھا۔
”کچھ نہیں ہوا۔ٹھیک ہوں میں۔“آنکھوں کی نمی چھپاتے وہ مسکرائی۔
”کیا مطلب؟تم نے ابھی کہا ناں کہ تم…..“
”میں بالکل ٹھیک ہوں غزوان۔یہ بس تمہیں جگانے کی ایک کوشش تھی۔چلو اب جلدی سے تیار ہو جاؤ،ہمیں جانا ہے۔“اس کا بازو تھامے وہ اب اسے پیچھے کی جانب دیکھیل رہی تھی۔
”تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟“اس نے قدرے غیر یقینی سے پوچھا۔قانِتہ نے ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
غزوان کے چہرے کے تاثرات یک لخت تبدیل ہوئے۔خمار آلود آنکھوں میں غصہ ابھرنے لگا۔ماتھے کی رگیں تن گیئں۔
”اس قسم کا فضول مذاق کوئی کرتا ہے کیا؟جان نکل گئی تھی میری۔“اس کے احساسات صرف اس کے تھے۔سامنے کھڑی شخصیت کے لیے بے معنی اور بے وقعت……
”بڑی سستی ہے تمہاری جان،اتنی سی بات پر نکل گئی؟“انداز تمسخرانہ تھا۔
وہ اکثر و بیشتر اپنے الفاظ اور اعمال سے اسے ہرٹ کر دیتی تھی۔جان بوجھ کر یا انجانے میں وہ غزوان کا بار ہا امتحان لے چکی تھی۔ہر امتحان میں وہ پاس تو ہو جاتا تھا مگر پرچہ حل کرتے کرتے اس کے ہاتھ زخمی ہو جاتے تھے۔
”اچھا اب بس کرو۔جلدی سے تیار ہو جاؤ،ہمیں باہر جانا ہے۔“وہ پرجوش تھی۔خوش تھی تو غزوان کیسے اس کی خوشی برباد کرتا۔وہ مسکرایا مگر اذیت سے۔
وہ اس کے لیے اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی محبت اپنی جگہ مگر وہ اس کے لیے ضرورت سے زیادہ حساس تھا۔
کچھ دیر بعد جب وہ کپڑے تبدیل کر کے باہر آیا تو یکدم ٹھٹھک گیا۔وہ لمحہ جیسے زمین نے اپنی سانس روک لی۔کمرے میں جگمگاتی روشنی قوس قزاح کے سات رنگوں میں بکھر گئی۔ہر رنگ قانِتہ کے وجود سے ٹکراتا غزوان کی آنکھوں میں سما رہا تھا۔
وہ اسے پری وَش پکارتا تھا اور آج بلا توقف اس کا دل اس بات کا اقرار کر رہا تھا کہ وہ پری جیسی حسین نہیں پری ہی تھی۔
سادہ سے کھلے سوٹ کے اوپر اس نے اسکارف پہن رکھا تھا۔اسکارف لینے کا طریقہ سٹائلش تھا مگر وہ پھر بھی حسین لگ رہی تھی۔اسے اپنی جانب دیکھتے پا کر وہ مدھم مسکرائی۔
”چلیں؟“اس کے پوچھنے پر وہ جیسے ٹرانس کی کیفیت سے باہر آیا پھر مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
کسی غلط چیز کو چھوڑ کر صحیح راستے پر چلنا مشکل ہوتا ہے مگر اس سے کئی زیادہ مشکل صحیح راستے سے بھٹک کر غلط راستے پر چلنا اور پھر ہدایت پا کر صحیح راستے پر آنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”بس یہیں روک دو۔“قانِتہ کے کہنے پر اس نے بر وقت بریک لگائی مگر سڑک کے دائیں طرف بنے گروسری سٹور کو دیکھ اس کی آنکھیں پوری کی پوری کھل گیئں۔
”سرئیسلی….؟“اس نے قدرے تاسف اور شاک سے قانِتہ کی جانب دیکھا جو اسے صبح سویرے جگا کر گروسری خریدنے لائی تھی۔
”چلو جلدی اترو۔“قانِتہ نے اس قدر پرجوش انداز میں دروازہ کھولا معنوں وہ دنیا کی قیمتی شے خریدنے آئے ہوں۔
غزوان ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔
طیبہ مورے قانِتہ کو اس حالت میں اکیلے چھوڑنے پر راضی نہ تھیں مگر اس نے اپنی فصاحت اور بلاغت سے کام لیتے ہوئے انہیں اور جہانزیب پاپا کو ایسے ایسے دلائل دیے تھے کہ طیبہ کل کی فلائیٹ سے پاکستان جا چکی تھیں۔
سٹور کے اندر وہ اب مختلف چیزیں ٹرالی میں ڈال رہی تھی۔براؤن بریڈ،رائس،اوٹس،ہربل چائے،نٹس اور بھی بہت کچھ۔
”یار بس کر دو ناں۔“وہ شاید اکتایا ہوا تھا۔
”تھوڑی تو ذمہ داری کا ثبوت دو۔اب مورے گھر نہیں ہیں تو ضروری چیزیں تو ہمیں ہی خریدنی پڑیں گی ناں۔“ڈارک چاکلیٹ رکھنے کے بعد اس نے اب اچار اٹھایا تھا۔
”کچھ زیادہ ہی ضروری نہیں ہے یہ سامان؟“وہ جیسے متاثر ہوا تھا۔
”ہاں ہے اور اپنے سامان کی پیمنٹ میں خود کروں گیئں۔“کاؤنٹر تک پہنچتے اس نے کچھ خفگی سے کہا اور بیگ کی زپ کھولنے لگی۔
”تمہارا نان نفقہ میرے ذمے ہے۔“غزوان نے مسکرا کر اپنا وائلٹ نکالا۔
”او ہاں،یہ میں کیسے بھول سکتی ہوں۔“پرجوش انداز میں زپ بند کی اور غزوان کی جانب دیکھا۔
”مجھے کچھ اور بھی خریدنا ہے۔“اسی انداز میں وہ کہہ کر پلٹ گئی۔غزوان حیران پریشان وہیں کھڑا رہ گیا۔
اب وہ مختلف فلیورز کی آئس کریم،چوروس،ڈرنکس اور نجانے کیا کیا اٹھا رہی تھی۔غزوان بےبسی سے اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔اسے جلد از جلد یہاں سے نکلنا تھا مگر قانِتہ اچھا خاصا وقت ضائع کر رہی تھی۔
حیرت اس کی خریداری پر نہیں چیزوں کی مقدار پر تھی۔وہ کم سے کم سات سے دس لوگوں کا سامان اکھٹا کر رہی تھی اور چاکلیٹس،کیک،آئس کریم یہ گھر میں قانِتہ کے علاؤہ اور کون کھاتا۔وہ اتنا سب اکیلے کیسے کھائے گی،غزوان کو اس چیز کی فکر شدت سے ستا رہی تھی۔
”ویسے نان نفقے میں یہ سب نہیں آتا۔“واپسی پر ڈرائیو کرتے ہوئے اس نے یاد دلانا اپنا فرض سمجھا تھا۔
”بیوی کو خوش رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔“اس نے گو کہ جتایا تھا۔
”تم نے اتنے پیسے فضول چیزوں پر ضائع کیے۔اتنے میں تو ہم شاپنگ کر سکتے تھے۔“اس نے قدرے ناگواری سے کہا۔وہ سامان کی مقدار پر اب بھی پریشان تھا۔
”شاپنگ تو تم رات میں ویسے بھی مجھے کروا ہی رہے ہو۔“غزوان نے قدرے تعجب سے اسے دیکھا پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے گو کہ سراہا تھا۔
”اگر ایسا ہی تھا تو تم اکیلے آ جاتی۔ویسے بھی تمہیں میری نہیں میرے کارڈ کی ضرورت تھی۔“
”مجھے تمہاری بھی ضرورت تھی۔ڈرائیو کرنے کا میرا کوئی موڈ نہیں تھا اور ویسے بھی اتنا سارا سامان کون اٹھاتا پھر؟ابھی دو تین اور جگہ بھی جانا ہے ہمیں۔“غزوان نے باقاعدہ گردن موڑ کر اسے دیکھا۔شاک اور بے یقینی سے۔
آگر اسے کسی قسم کی خوش فہمی تھی بھی تو قانِتہ نے فوراً اسے دور کر دیا تھا۔
”یعنی تم مجھے گاڑی چلانے اور سامان پکڑنے کے لیے ساتھ لائی ہو؟“غیر یقینی کی انتہا تھا۔قانِتہ نے بلاتوقف اثبات میں سر ہلایا۔غزوان ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔
”مزے ہیں تم عورتوں کے۔ایک دستخط کر کے مفت کا غلام مل جاتا ہے تمہیں۔“وہ صحیح معنوں میں چرا تھا۔
”اصل خوش قسمت تو تم مرد ہوتے ہو۔بیٹھے بیٹھائے خود سے درجنوں بہتر اور خوبصورت بیوی مل جاتی ہے۔جو تمہیں پکا پکا کر کھلائے۔تمہاری خدمت کرے،تمہارا خیال بھی رکھے۔اور کیا چاہیے تم لوگوں کو؟“
”اس ایک بیوی جیسی دو تین مزید۔“اس نے پھلجھڑی چھوڑ دی تھی۔لمحے بھر کے لیے سب ساکن ہو گیا۔
قانِتہ نے نگاہیں شیشے کے پار چلتی مارکٹس اور لوگوں پر ٹکا لیں۔غزوان کے الفاظ تیز دھار آلے کی مانند دل میں کہیں کھب گئے۔ہر حرف نے دوہرا زخم دیا۔
اس ایک لمحے میں اسے بہت کچھ یاد آیا۔بہت سی اذیت ناک یادیں آنکھوں کے سامنے سے آ کر گزریں۔
”میں مذاق کر رہا تھا۔“حالات کا احساس ہوتے اس نے فوراً وضاحت دی مگر اب دیر ہو چکی تھی۔تیر کمان سے نکل بھی چکا تھا اور نشانے پر لگ بھی چکا تھا۔
”تمہیں کیا لگتا ہے تم دوسری شادی کرو گے تو میں مر جاؤں گیئں؟نہیں غزوان،میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا،مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“اس کا بند ٹوٹ چکا تھا۔آنکھیں انگارے برسا رہی تھیں اور چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا۔
”قانِتہ میں مزاق……“وضاحت دینے کی ایک اور ناکام کوشش کی گئی۔
”تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہاری محبت میں اس قدر ڈوب چکی ہوں کہ ایک دن تم آ کر مجھے بتاؤ گے کہ تم دوسری شادی کر چکے ہو تو میں پاگل ہو جاؤں گیئں۔میری طبیعت خراب ہو جائے گی۔تم میرا ہاتھ جھٹک کر اپنی دوسری بیوی کے پاس جاؤ گے تو میں تمہاری منتیں کروں گیئں؟“اس کی آواز تیز سے تیز ہوتی چلی گئی۔غزوان کو سمجھ نہ آیا کہ وہ اسے کیا کہے،کیسے سمجھائے۔وہ محض اسے چھیڑ رہا تھا مگر سوئی ہوئی شیرنی کو چھیڑنا اسے بےحد مہنگا پڑے گا،یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
”تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے پیچھے آؤں گیئں اور پھر بارش کے پانی کی وجہ سے سلپ ہو کر گر جاؤں گیئں۔درد میں تڑپ کر تمہیں پکاروں گیئں؟اور پھر میرا بچہ مر جائے گا؟یاد رکھو تم،اس بار ایسا نہیں ہو گا۔بالکل بھی نہیں ہو گا۔یہ بچہ میرے لیے بہت قیمتی ہے اور میں کسی قیمت پر اسے خود سے دور نہیں جانے دوں گیئں۔چاہے دنیا ادھر سے اُدھر ہو جائے۔“اس کا لہجہ ایسا تھا جیسے ہر لفظ کسی زہر میں بچھا ہوا ہو اور اس کا اثر چھری کی طرح کاٹ دار ہو۔غزوان بالکل بھونچکا رہ گیا۔
”کیا ہو گیا ہے تمہیں قانِتہ؟نہیں کر رہا میں دوسری شادی۔پلیز ریلیکس ہو جاؤ۔تم نے تو بیٹھے بیٹھے کہانی ہی بنا لی۔“ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کے لیے وہ آخر میں ہنسا تھا۔
قانِتہ نے آنکھیں بند کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔اب وہ گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔
”اچھا بتاؤ کہ کہاں چلنا ہے؟“
”مجھے گھر جانا ہے۔“صاف دو ٹوک الفاظ۔
”اوکے۔“فلحال تابعداری سے کام نہ لیتا تو عین ممکن تھا کہ وہ اپنے خریدے گئے سامان میں سے سب سے بھاری چیز اٹھا کر اس کے سر پر دے مارتی۔
”ویسے تم نے یہ دس لوگوں کے حساب سے خریداری کیوں کی ہے؟“وہ اب گفتگو کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہا تھا مگر صحیح معنوں میں وہ ایک بار پھر اپنے پیر پر کلہاڑا مار چکا تھا۔
قانِتہ ایکدم سیدھی ہوئی اور اس نے گھور کر غزوان کی جانب دیکھا۔
”دس لوگوں کے حساب سے کب خریداری کی ہے میں نے؟گھر کا کچھ سامان لیا ہے اور باقی ساری میری چیزیں ہیں۔“وہ کاٹ کھانے کو دوڑی تھی۔
”اچھا صحیح۔پھر یہ چھ مہینے کا سامان کیوں خریدا ہے تم نے؟آدھی سے زیادہ چیزیں تو ایکسپائر ہو جائیں گیئں۔“اب کی بار اس نے اپنے دوسرے پیر پر کلہاڑی ماری تھی۔
”چھ مہینے کا سامان کب لیا میں نے؟پندرہ دن کا سامان ہے بس۔“اب کی بار وہ باقاعدہ غرائی تھی۔غزوان سمجھ نہ کہا کہ وہ اب کیا کہے؟اگر اسے زیادہ فضول خرچی کرنے پر بیواقوف کہتا تو وہ یقیناً بھڑک اٹھتی۔اس بات پر تو وہ شرط لگا سکتا تھا کہ قانِتہ پندرہ دنوں میں اتنا سب اکیلے نہیں کھا سکتی۔
اگر داد دیتا تو پھر اس سے بڑا بیواقوف کوئی نہیں تھا۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ مناسب الفاظ تلاش کر کے انہیں ترتیب دے پاتا،قانِتہ نے اپنے بیگ سے کچھ نوٹ نکال کر سامنے ڈیش بورڈ میں پٹخے تھے۔
”نہیں چاہیئے تمہارے پیسے۔“معاملہ سنورنے کے بجائے مزید بگڑ چکا تھا۔غزوان کی صلح کی کاوش بیکار گئی تھی۔
”میرا یہ مطلب نہیں تھا۔“روٹھنے اور منانے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا تھا۔
”کم ہوں تو بتا دینا۔“
”تم غلط سمجھ رہی ہو۔“
”میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم میرے کھانے پینے پر نظر رکھو گے۔“
”ایسا کچھ نہیں ہے۔میری بات تو سنو۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج آہستہ آہستہ ڈھل رہا تھا جیسے آسمان پر کوئی خواب ٹوٹ رہا ہو۔روشنی سنہری سے نارنجی اور پھر گلابی ہو رہی تھی۔درختوں کے سائے لمبے ہو چکے تھے۔پتے خاموشی سے،آواز پیدا کیے بغیر ادھر سے ادھر جھوم رہے تھے۔
صحن میں رکھی کرسی پر قتادہ جبکہ سامنے بچھی چارپائی پر غانیہ بیٹھی تھی۔دونوں کے درمیان خاموشی کا لمبا وقفہ در آیا تھا۔
”آئی ایم سوری۔“بالآخر غانیہ نے خود کو کہتے سنا۔
انہیں واپس آئے دو دن گزر چکے تھے۔ان کے درمیان کسی قسم کی گفتگو کا تبادلہ نہ ہوا تھا۔آج بھی قتادہ بس اس کی دوست سے اس کا حال پوچھ کر جانے ہی لگا تھا جب غانیہ نے اسے روک لیا تھا۔
”یو شڈ بی۔“قتادہ نے گہری سانس خارج کر کے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔وہ نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
”میرے لیے نہیں اپنے لیے۔تم نے اپنے لیے کیا چن لیا غانیہ؟اگر تمہیں کچھ ہو جاتا پھر؟“اس کی آنکھوں میں خفگی سے زیادہ فکر تھی،چاہت تھی،محبت تھی۔
”تم نے اتنے سال بقاء کی جنگ پڑی اور تم جیت گئی،یہ قسمت تھی مگر ہر بار ایسا ہی ہو گا،یہ ضروری نہیں۔مرد کے سہارے کے بغیر عورت ادھوری ہے۔عورت چاہے جتنی بھی کامیاب ہو جائے،مرد کے بغیر یہ معاشرہ اسے کہیں نہ کہیں پیروں تلے روندنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔اگر میں تمہیں بار بار منع کر رہا تھا تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی وجہ ہو گی۔دشمن تو نہیں ہوں میں تمہارا۔برا تو نہیں سوچوں گا میں تمہارے بارے میں۔“غانیہ کی آنکھیں بہنے لگیں تھیں۔اس نے آج ان آنسوؤں کو نہیں روکا تھا۔زندگی میں پہلی بار وہ غلط ثابت ہوئی تھی۔زندگی میں پہلی بار اس کے غلط فیصلے کی سنگین سزا اسے بھگتنی پڑتی۔اگر قتادہ صحیح وقت پر نہ پہنچتا تو اس کے ساتھ کیا نہیں ہو سکتا تھا۔اس نے سوچ کر ہی آنکھیں میچ لیں۔
”میں ریزائن کر دوں گیئں اور ان لوگوں کا میں وہ حشر…..“
”تم اب کچھ نہیں کرو گی۔جو بھی کروں گا میں خود کروں گا۔“اس نے سختی سے تنبیہ کی تھی۔غانیہ نا چاہتے ہوئے بھی خاموش ہو گئی تھی۔
”تمہیں اگر واقعی کچھ کرنا ہے تو آرام سے بیٹھ کر سوچو کہ میرے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے یا نہیں۔ایک مہینے کا وقت دے رہا ہوں تمہیں۔آرام سے سوچ لو۔اب کی بار انکار کرو گی تو وعدہ کرتا ہوں،پلٹ کر نہیں دیکھوں گا۔“وہ اٹھ کھڑا ہوا۔غانیہ بھی بے چین ہوتی ہوئی اس کے ساتھ اٹھی۔
”قتادہ میری بات تو سنیں۔“
”نہیں غانیہ،تم واقعی سوچ لو۔میں تمہارے لیے اہم ہوں یا نہیں۔“
”آپ میرے لیے اہم ہیں۔“اس کی آواز بھرا گئی تھی۔
”مگر تمہاری پہلی ترجیح نہیں ہوں۔تم نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ ہم شادی جلدی کر لیتے ہیں۔ایک بار بھی نہیں۔تم نے تو سیدھا کہہ دیا کہ شادی پاسپون کر دو۔تمہارے لیے مجھ سے شادی اس قدر غیر اہم ہے،میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔تم ایک بار کہتی تو سہی۔کیا میں شادی کے بعد تمہیں کسی آفیشل میٹنگ پر نہ جانے دیتا؟“وہ اب اسے شرمندہ کر رہا تھا۔غانیہ کا دل چاہا کہ کہیں چھپ جائے۔ان سوالات اور چھبتی نگاہوں سے کہیں بہت دور۔
”اگر کوئی اور کمپنی ہوتی تو یقیناً جانے دیتا مگر تم نے مجھ پر اعتبار ہی کب کیا؟“وہ بےحد ہرٹ نظر آ رہا تھا۔غانیہ کے ساری وضاحتیں دم توڑ گئیں۔کندھے ان دیکھے بوجھ تلے دب سے گئے۔
”تم آرام سے سوچو اور جب فیصلہ کر لینا تو مجھے بتا دینا۔“وہ پلٹا اور تیز تیز قدم اٹھاتے دہلیز پار کر گیا۔
درختوں کے سائے غانیہ کے آس پاس منڈلانے لگے۔شام کی سرخی رات کے سیاہی پن میں تبدیل ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح جیسے اپنے ساتھ ایک نیا طوفان لے کر آئی تھی۔فون پر جو خبر جہانزیب نے سنی تھی،وہ ان کے قدموں تلے زمین کھینچ گئی تھی۔
آفس میں گرنے سے بچنے کے لیے انہوں نے کرسی کا سہارا لیا۔غزوان اس وقت کسی کام کے سلسلے میں ان کے دفتر میں ہی موجود تھا۔
”کیا ہوا ہے پاپا؟“وہ فکرمندی سے ان کی جانب بڑھا اور انہیں تھام کر کرسی پر بٹھایا۔
”تمہاری مورے…..اسے ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔میں کہتا تھا غزوان،میں کہتا تھا کہ اتنا لمبا سفر مت کرو۔طبیعت ٹھیک نہیں رہتی مگر اس نے میری سنی ہی نہیں۔“زندگی میں پہلی بار وہ واقعی ہار گئے تھے۔بیوی کی تکلیف نے انہیں توڑ ڈالا تھا۔
یہ خبر سن کر غزوان کی اپنی حالت خراب ہو چکی تھی مگر فلحال جہانزیب کو سنبھالنا زیادہ ضروری تھا۔
”پاپا پلیز خود کو سنبھالیں۔مورے کو کچھ نہیں ہو گا۔“اس نے مضبوط لہجے میں انہیں تسلی دی۔
”فلائیٹ بک کروانی ہے۔مجھے پاکستان جانا ہے۔“وہ عزم سے کہتے کرسی سے اٹھے تھے۔
”آپ فکر نہ کریں۔میں بک کرواتا ہوں۔ہم پاکستان جائیں گے۔“
”نہیں بیٹا،صرف میں جاؤں گا۔تم یہیں رکو۔بزنس سنبھالو اور قانِتہ کو بھی تمہاری ضرورت ہے۔“
”مگر پاپا مورے……“
”اسے میں سنبھال لوں گا۔تم یہاں سب سنبھالو۔“وہ کہہ کر باہر چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔