61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 34)

باب نمبر 5:حلفِ وفا
زبان حال پہ صبر و رضا کے لہجے میں
نوائے غم ہے ترے بے نوا کے لہجے میں
یہ پائے جبر سے روندی ہوئی تمنائیں
ہیں محو گریۂ پیہم دعا کے لہجے میں
ہوا کا شور گراں ہے سماعت گل پر
سو میں ہوں تجھ سے مخاطب صبا کے لہجے میں
وقار عہد محبت، لحاظ شرط وفا
شکست خوردہ پڑے ہیں انا کے لہجے میں
یہ شعر یوں ہی نہیں معتبر ہوئے لوگوں
وفاؔ کا رنگ ہے ابن وفا کے لہجے میں
(محب وفا)

فلک پر ٹمٹماتے ستاروں کو دیکھ کر وہ گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔نیلی چادر پر چمکتے جگنو اسے ہمیشہ بھاتے تھے مگر آج ان جگنوؤں کی چمک مدھم پڑ چکی تھی۔شاید وہ بھی آج اس کے غم میں شریک تھے۔وہ غمزدہ تھی مگر مضبوط تھی۔
ہوا میں گھلی خنکی کو محسوس کرتے اس نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں موند لیں پھر گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتے سرمئی آنکھوں کو پلکوں کے بوجھ سے آزاد کیا۔آسمان پر ٹمٹماتے ستاروں نے اپنی جگہ تبدیل کر لی تھی۔ٹیرس پر کھڑی قانِتہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا ہوئی۔
آسمان پر اسے کسی کا عکس نظر آیا۔لمبے بالوں والی معصوم لڑکی کا……بڑی سرمئی آنکھیں اور دلفریب نقوش۔وہ زخرف فاطمہ تھی۔
”کیا ہوا قانِتہ؟ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟“سرمئی آنکھوں والی چڑیا نے کھلکھلا کر پوچھا تھا۔قانِتہ یزدان نے سانس روک لی۔وہ مژگاں جھپکانا بھول گئی۔
”پھر سے دھوکا ملا تمہیں؟“یہ سوال نہیں تھا،یہ طنز تھا۔قانِتہ کی آنکھیں بھر آئیں،ہونٹ لرزنے۔اس نے فوراً ریلنگ کو تھام لیا۔
”اچھا ہے۔تم نے سِماک سے بے وفائی کی اور غزوان نے تمہارے ساتھ۔مجھے لگتا ہے اس کی زندگی میں یقیناً کوئی ہو گا۔“ننھی چڑیا نے شہادت کی انگلی کو ٹھوڑی پر رکھتے ہوئے سوچا پھر چمکتی آنکھوں سے قانِتہ کی جانب دیکھا معنوں اسے چیلنج کر رہی ہو۔
”میں نے بے وفائی…… نہیں کی۔“ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑی ہونے والی قانِتہ کی زبان آج لڑکھڑائی تھی۔چلتی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی اور آواز کو مغموم کر گئی۔
”مگر تم تو یہی سوچتی ہو اور میں تمہاری سوچ ہی تو ہوں۔“انداز اب بھی طنزیہ تھا۔
”میں نہیں جانتی۔مجھے کچھ نہیں پتا۔بس مجھے اپنی زندگی میں کوئی مرد نہیں چاہیئے۔نہ سِماک اور نہ غزوان۔“وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتی چیخی۔نیلی چادر پر ابھرے ہوئے عکس نے زوردار قہقہہ لگایا۔”چچ چچ چچ!تم ترس کے قابل ہو قانِتہ،تمہاری زندگی میں کوئی مرد نہیں رہا۔نہ شوہر اور نہ بیٹا۔یاد ہے تمہیں اپنا بیٹا؟“قانِتہ کے پیر منجمند ہو گئے۔جسم میں درد کی لہر ڈور گئی۔زخرف فاطمہ نے قانِتہ یزدان کو بری طرح شکست دی۔
زخم ابھی مندمل ہی کہاں ہوئے تھے جو پھر سے وار کیا گیا تھا۔
”وہ میرا بیٹا نہیں تھا۔وہ قانِتہ کا بیٹا نہیں تھا۔وہ زخرف کا بیٹا تھا،تمہارا خون تھا۔میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔تم چلی جاؤ،بس کہیں چلی جاؤ۔مجھے اکیلا چھوڑ دو۔قانِتہ یزدان کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔“وہ چیخی تو آواز میں کرب تھا،قلق تھا،آزردگی تھی۔
اس سے پہلے نیلی چادر پر ٹھہری ننھی چڑیا مزید کچھ کہتی،قانِتہ کا فون تھرتھرایا تھا۔اس نے چونک کر میز کی جانب دیکھا پھر چل کر وہاں تک گئی۔سکرین پر”گرینی کالنگ“ لکھا ہوا آ رہا تھا۔
قانِتہ نے ایک نگاہ سکرین پر ڈالی اور دوسری نگاہ آسمان پر…..ستارے منتشر ہو گئے۔ننھی چڑیا غائب ہو گئی۔اس نے تاسف بھری سانس اندر کھینچی اور کال اٹینڈ کی۔
”یہ کیا بیواقوفی ہے قانِتہ؟“خبر وہاں تک پہنچ چکی تھی۔اسے اندازہ تھا کہ یہی ہو گا۔وہ تحمل اور مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرسی پر بیٹھی اور سپیکر آن کر کے فون میز پر رکھ دیا۔
”بیواقوفی نہیں فیصلہ ہے جو اب نہیں بدلے گا۔“نہ زبان لرزی اور نہ ہونٹ کپکپائے۔وہ خود کو سہارا دے چکی تھی۔
”غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے۔“انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”اس نے بھرے بازار میں میرے منہ پر تمانچہ مارا ہے۔زخرف فاطمہ ہوتی تو سہار جاتی مگر قانِتہ یزدان کی عزت نفس بہت بڑی ہے۔“وہ اب میز پر انگلی گھما رہی تھی۔اس نے سب سے پہلے اپنا نام لکھا تھا۔”قانِتہ“ اب وہ بار بار یہی لکھ رہی تھی۔خود کو یقین دلانے کے لیے کہ وہ اب قانِتہ ہے۔
”میں نہیں مانتی۔“
”آپ صرف ایک بار اس سے ملی ہیں۔ایک ملاقات کسی کو جانچنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔“قانِتہ لکھتے لکھتے وہ زخرف لکھنے لگی تھی۔دماغ ڈپٹ دیتا تو انگلی پھر سے قانِتہ لکھنے لگتی۔دل پچکارتا تو ہاتھ خودبخود زخرف لکھتے۔عجیب کشمکش تھی۔وہ اس وقت دو کشتیوں پر سوار تھی۔دو کشتیوں میں سوار انسان منزل تک کہاں پہنچ سکتا ہے؟وہ بیچ سمندر میں ہی ڈوب جاتا ہے۔اسے ایک کشتی چننی تھی،کوئی ایک منزل……مگر دونوں کشتیوں کے مالکان نے تو اسے دھتکار دیا تھا۔ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔وہ اسے مسافر بنانے کو تیار نہ تھے اور وہ بھی ان کی ہم سفر بننے کو تیار نہ تھی۔
”اس ہی چیز کا تو افسوس ہے۔میں نے ایک ملاقات میں جو دیکھ لیا وہ تم اتنے مہینے نہ دیکھ سکی۔“شہادت کی انگلی نے میز کے ایک سرے پر زخرف لکھا اور دوسرے سرے پر قانِتہ…..پھر اس نے زخرف کے ساتھ بھالو لکھا۔اس کا بیٹا جو اب اس دنیا میں نہیں تھا۔
”کیا اس ساحر نے آپ پر کوئی سحر کیا ہے؟“اس نے اب بھالو کے ساتھ سِماک لکھا پھر مٹا دیا۔ایک بار پھر لکھا اور پھر مٹا دیا۔
”کاش کہ تم پر بھی کوئی سحر کر دیتا۔“سپیکر سے ابھری ناگوار آواز پر اس کا قہقہہ ابھرا۔
”کیا معلوم کیا ہو مگر میرے صبح شام کے اذکار نے مجھے بچا لیا ہو۔“اس نے شیشے کی میز پر لکھے نادیدہ ناموں پر محبت سے ہاتھ پھیرا۔زخرف اور بھالو……
”کیا بہتر نہیں تھا کہ تم اس سے بیٹھ کر بات کر لیتی؟“وہ اب بھی خفا تھیں۔
”آپ کو کال اس نے کی ہے یا جہانزیب انکل نے؟“اس نے اب زخرف کو بھی مٹا دیا تھا۔وہاں صرف بھالو لکھا ہوا تھا جبکہ میز کے دوسرے سرے پر لکھے قانِتہ پر اس کا دھیان ہی نہیں گیا تھا۔
”کیا تم نے اسے اس قابل چھوڑا ہے کہ وہ مجھے کال کرے؟تمہیں رشتوں کی قدر نہیں ہے قانِتہ۔تم محمود صاحب کے ساتھ بھی یہی کرتی تھی۔کتنا تڑپتے تھے وہ تمہارے لیے مگر تم نے کبھی قدر نہیں کی۔“بےاختیار اس کا ہاتھ میز کے دوسرے سرے کی جانب بڑھا۔اس نے قانِتہ کے ساتھ غزوان لکھا۔
”اب اگر انہیں مجھ میں اپنی بیٹی نظر آتی تھی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟“اس نے کندھے اچکائے اور غزوان کا نام مٹانے کے لیے ہاتھ اٹھایا پھر رک گئی،ٹھہر گئی،تھم گئی۔
”تمہیں تو ان کی موت کا غم بھی نہیں ہے۔“وہ فریز ہو گئی۔گرینی نے بہت بری چوٹ کی تھی،بہت بری……اسے اپنے وجود پر کوڑے برستے ہوئے محسوس ہوئے۔
”یاد بھی نہیں کرتی ہو گی تم انہیں۔سوچتی ہو گی کہ اچھا ہوا جو جان چھوٹ گئی۔اب کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں بچا۔“اس پر وقت نزع کی کیفیت طاری ہونے لگی معنوں کوئی بہت بے رحمی سے اس کے جسم سے روح کھینچ رہا ہو۔پہلے قدموں تلے،پھر ہاتھ،پھر بدن اور پھر گردن…… یہاں آ کر سانس اٹک گئی۔روح نکالنے والے نے اسے تڑپانے کے لیے چند سانسیں چھوڑ دیں پھر اذیت یہ تھی کہ وہ نہ چلا سکتی تھی اور نہ احتجاج کر سکتی تھی۔
”ٹھیک کہہ رہی ہیں گرینی،مجھے کوئی غم نہیں۔“اس کی آواز روندھ گئی۔اٹکی سانسوں کے باوجود وہ بولنے لگی،بقا کی جنگ لڑنے لگی۔
”کیونکہ میں جانتی تھی کہ یہ ہو گا۔میں جسے چاہتی ہو،وہ مجھ سے دور نہ جائے یہ کیسے ممکن ہے؟غزوان نے مجھے دھوکا دیا،مجھے حیرت نہیں ہوئی۔مجھے علم تھا کہ وہ یہی کرے گا۔اسے یہی کرنا چاہیے تھا۔قانِتہ یزدان سے وفا کر کے آخر کیا ہی کرتا؟میرے پاس تو اسے دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔“اس نے تھکان سے چور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔گرینی نے اسے تھکا دیا،توڑ دیا۔اس سب میں وہ بھول گئی کہ اسے اپنا اور غزوان کا نام مٹانا تھا۔آسمان پر چمکتے ستاروں نے ان دو نادیدہ ناموں کو روشنی بخشی اور فلک پر کہیں محفوظ کر لیا۔
”اپنے ساتھ کیوں ظلم کر رہی ہو بیٹا؟“گرینی نے اپنی بےبسی ظاہر کی۔
”آپ جانتی ہیں گرینی،مجھے آٹھواں مہینہ تھا جب بیگم جان نے حکم دیا کہ سِماک کے کچھ دوست آ رہے ہیں اور مجھے آٹھ مختلف کھانے تیار کرنے ہیں۔آپ جانتی ہیں ان دوستوں کی تعداد کتنی تھی؟وہ بیس لوگ تھے۔مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔بیس مہمانوں کا کھانا بنانا ظلم نہیں ہے مگر ایک دس سال کی لڑکی سے جب اس کا آٹھواں مہینہ چل رہا ہو۔وہ جسمانی طور پر کمزور ہو۔اسے ٹھیک خوراک مہیا نہ کی جاتی ہو…..جب اس سے اکیلے یہ کام کروایا جائے تو پھر یہ ظلم ہے۔آپ جانتی ہیں گرینی،رات میں جب میں بیگم جان کو کوس رہی تھی تو غانیہ نے مجھ سے کیا کہا؟“منتشر ہوئے ستارے اس کی بات کان لگا کر سن رہے تھے۔سن تو چلتی ہوا بھی رہی تھی۔پاکستان کی ہوا نے یہ سب ہوتے ہوئے دیکھا تھا اور آج بارسلونا کی ہوا کو یہ سب سننا نصیب ہوا تھا۔
”اس نے مجھ سے کہا کہ بابا صاحب نے غلط کیا اور نظریں چراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔میں بالکل حیران رہ گئی۔غانیہ پر غصہ بھی آیا۔غلط تو بیگم جان نے کیا پھر وہ کیوں سِماک کو برا کہہ رہی تھی۔زخرف چھوٹی تھی،سمجھ نہیں سکی مگر قانِتہ سب سمجھتی ہے۔ظلم بیگم جان نے نہیں میرے اپنے شوہر نے کیا تھا۔“کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اب اس نے گیلی آنکھوں سے آسمان کی جانب دیکھا۔ٹمٹماٹے ستارے دھندلا گئے پھر اچانک فلک پر کہیں سے چلتی ہوئی بدلیاں آنے لگیں۔وہ ہر ایک منظر اپنے ذہن میں محفوظ کر رہی تھی۔
”پھر بھی تم کہتی ہو کہ تمہیں اس سے محبت ہے؟“وہ بستر پر بیٹھی ہوئی مسلسل اس سے سوال جواب کر رہی تھیں۔اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔دل چاہا کہ اڑ کر قانِتہ کے پاس پہنچ جائیں اور اسے کچھ عقل دے دیں۔
”ڈاکٹر نے بھی یہی پوچھا تھا۔میں نے کہہ دیا کہ ہے نہیں، تھی۔“
”تمہیں نو سال کی عمر میں محبت کا مطلب پتا تھا؟“ان کے لہجے میں بیزاری تھی۔گفتگو جہاں سے بھی شروع ہوتی،سِماک ہمیشہ چیف گیسٹ بن کر سامنے آ جاتا تھا۔وہ اسے اس مسند پر بٹھا دیتی تھی۔
”جب نو سال کی عمر میں شادی کا مطلب پتا چل سکتا ہے تو محبت کا کیوں نہیں؟“گرینی لمحہ بھر کے لیے لاجواب ہو گیئں۔
”میں جانتی ہوں کہ اس نے میرے ساتھ بہت غلط کیا۔مجھے جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچائی مگر پھر بھی وہ میرے لیے اہم تھا اور اہم ہے۔عورت اپنی زندگی میں آئے پہلے مرد کو کبھی نہیں بھولتی۔وہ جب خواب سجاتی ہے تو تخیل میں ایک ہی مرد ہوتا ہے۔کسی دوسرے کے خیال کو بھی وہ گناہ سمجھتی ہے۔میں تو کھلونوں کی لالچ میں ایک بندھن سے بندھ گئی تھی۔کھیلنے کی عمر میں رشتوں کے بوجھ کو اٹھایا میں نے۔اس شخص کی ایک نظر کرم پر ساری اذیتیں بھلا دیں۔اس نے غلط کیا تو میں نے بدلہ لے لیا گرینی۔میں نے اسے مار دیا۔میں نے اس کے بیٹے کو بھی مار دیا۔“اس کا دل بھر آیا۔کال ڈسکنیکٹ کر کے قانِتہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا۔وہ بے آواز رونے لگی۔وہ سِماک اور فرہاد کی موت کا ذمہ دار خود کو ٹھہراتی تھی۔وہ اس کے پیچھے ہوئی سازش کو کبھی نہ جان سکی تھی۔اصل قصور وار کون تھا یہ اس نے جاننے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی تھی۔
آسمان پر ہر طرف بدلیاں چھا گئیں۔سارے جگنو بادلوں کی اوٹ میں گہری نیند جا سوئے۔
وہ کافی دیر وہیں بیٹھی سسکتی رہی پھر اٹھ کر ریلنگ تک آئی اور ٹیک لگا کر نیچے فرش پر بیٹھ گئی۔چلتی ہواؤں میں تیزی آتی گئی۔بارسلونا کی ہوائیں بارش کا پتا دینے لگیں۔
اس نے ریلنگ سے ٹیک لگائے کونے میں پڑے سانس لیتے پودے کی جانب دیکھا۔ہرا رنگ جینے کی امید دلانے لگا۔وہ پودے کے قریب جا بیٹھی۔ہاتھ سے ان پتوں کو چھوتے اس نے خود کو زندگی کی نوعید سنائی۔ریلنگ سے ٹیک لگا کر اس نے آنکھیں موند لیں۔ایک ہاتھ مسلسل پتوں کی تازگی اور خنکی کو محسوس کرنے لگا۔
اس سے پہلے کہ نیند اس پر مہربان ہوتی،فون ایک بار پھر تھرتھرایا۔
”گرینی…..“وہ فوراً اٹھی اور میز پر پڑا فون اچک لیا۔سکرین پر جگمگاتا نام گرینی کا نہیں غزوان کا تھا۔
وہ جامد ہو گئی مگر دل میں اُبھرتے تمام جذبات جنہیں وہ صندوق میں قید کر چکی تھی،شور مچانے لگے۔وقت منجمند ہو گیا۔اسے اپنا آپ خلا میں تیرتا ہوا محسوس ہوا جہاں سانس لینا جرم سمجھا جاتا تھا۔
انگوٹھے نے سکرین کو چھوا اور کال اٹینڈ ہو گئی۔قانِتہ نے میکانکی انداز میں فون کان سے لگایا۔
”کیا تم گھر پہنچ گئی ہو؟“بھاری گھمبیر آواز سپیکر سے ابھرتی سیدھا دل میں اتری۔اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اسے کال کرے گا اور کال کر کے یہ پوچھے گا۔
آنکھوں کا ارتکاز اور دل کی ڈھرکن سست روی سے چلنے لگی۔منجمد وقت آہستہ آہستہ پگھلنے لگا۔
”ہاں……“حلق سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی۔وہ غیر شعوری طور پر چل کر واپس اس گملے کے پاس آ بیٹھی۔ریلنگ سے ایک بار پھر ٹیک لگا لی۔
بلڈنگ کے نیچے دور سڑک پر کھڑی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے شخص نے اس کے خوبصورت بالوں پر نگاہ جمائی پھر ہنکارا بھرا”ہممم…..“
”مورے پریشان ہو رہی تھیں بس اس لیے پوچھا۔“اگر وہ ذہین ہوتی تو لازمی کہتی کہ ”وہ خود کال کر کے پوچھ سکتی تھیں“ مگر اس نے یہ کہنا تو دور سوچا تک نہیں۔وہ کہہ رہا تھا تو پھر یہی سچ تھا۔وہ مزید بددل ہوئی۔
”طلاق نامہ میرے ہاتھ میں ہے۔آخری بار پوچھتا ہوں تم سے۔ساتھ نبھاؤں گی یا نہیں؟“قانِتہ کو بے اختیار غصہ آیا۔دھوکا دینے کے بعد اس کی یہ پوچھنے کی جرات کیسے ہوئی۔اس نے گملے سے ایک پتے کی سانس چھینی اور اسے ہاتھ میں مسلا۔
”نکاح نامے پر سائن کرتے میرے ہاتھ سے قلم چھوٹ کر گرا تھا۔طلاق نامے پر سائن کرتے میں وہی قلم توڑ دوں گیئں۔“اس نے ایک ساتھ بہت سے پتوں کی سانس کھینچی اور انہیں ہاتھ میں مسلنے لگی یہاں تک کہ ایک کانٹا اس کی ہتھیلی پر چھبا۔
”سس…..“لبوں سے ہلکی سی سسکی آزاد ہوئی۔اس نے زور سے ہاتھ کو جھٹکا۔سسکی اس کے لبوں سے آزاد ہوئی مگر تکلیف کسی اور کو ہوئی تھی۔
”میرا غصہ پودوں پر کیوں نکال رہی ہو؟“وہ پہلے چونکی پھر ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔مڑ کر دیکھا تو دور سڑک پر گاڑی کے ساتھ کھڑا وہ نظر آیا۔
ماتھے کی تیوری چڑھی اور چہرہ سرخ پڑ گیا۔
”تم یہاں کیا کر رہے ہو؟“وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی۔
”سڑک تم نے خرید نہیں رکھی لہٰذا یہ سوال مت پوچھو۔“درشت اور کٹیل لہجہ۔
”یہاں کیا لینے آئے ہو تم؟“
”تمہیں منانے تو ہر گز نہیں آیا۔تم چار دیواری میں وہ سب کہتی تو برداشت کر لیتا مگر تم نے میرے والدین کے سامنے مجھے دو کوڑی کا کر دیا۔یہ معاف نہیں کروں گا۔کبھی نہیں کروں گا۔“اس کی آنکھوں میں درد کی کرچیاں تھیں۔زخم گہرا تھا،چوٹ بڑی تھی۔وہ اسے توڑ چکی تھی۔اب واپسی ممکن نہ تھی۔
”معافی مانگی کس نے ہے؟شرمندہ تو تمہیں ہونا چاہیئے مگر تم تو بہت ڈھیٹ ہو۔تمہیں تو اپنی غلطی کا احساس ہی نہیں۔“
”احساس ہے۔میں نے تم سے دل لگا کر بہت بڑی غلطی کی اور دیکھو،اس غلطی کی سزا مجھے پل پل مل رہی ہے۔“وہ بےبسی سے ہنسا تھا۔
”تمہارا پلین فیل ہو گیا تو اب پھر سے مجھے بہلانے کی کوشش کر رہے ہو۔میرا فیصلہ اٹل ہے۔طلاق نامے پر دستخط کر کے قلم توڑ دوں گیئں۔“
”اگر یہی تمہارا آخری فیصلہ ہے تو پھر ٹھیک ہے۔تم اپنا قلم توڑ دینا لیکن پھر تمہیں نیا قلم خریدنا پڑے گا پری وَش۔میرے تحریر اختتامِ زیست(Death certificate) پر دستخط کرنے کے لیے۔وصیت کر کے جاؤں گا میں کہ یہ کار خیر تم ہی کرو۔“کال ڈسکنیکٹ ہو گئی۔وہ تیزی سے گاڑی میں بیٹھا اور زن سے اسے بھگا کر لے گیا۔
قانِتہ کو سمجھ نہ آئی کہ دل کی کس کیفیت کو چہرے پر لائے اور کسے چھپائے۔”آخر مرد اپنے اختیار میں آئی عورت کو بلیک میل کرنا اپنا حق کیوں سمجھتا ہے؟“
سِماک بھی اسے ایموشنل بلیک میل کرتا تھا اور اب غزوان بھی…..وہ اسے دھمکی دے کر گیا تھا۔
قانِتہ کے کندھے ڈھلک گئے۔اس کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا تھا۔لوگ اپنی مرضی کے مطابق اس کا استعمال کرتے تھے مگر اس بار وہ ایسا نہیں ہونے دے گی۔وہ غزوان کی باتوں میں نہیں آئے گی۔چاہے جو مرضی ہو جائے وہ اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کرے گی۔وہ اس بندھن سے آزاد ہو جائے گی،ہر قیمت پر…….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارسلونا کی گلیوں میں صبح کا اجالا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا،گلابی روشنی سے فضا مہک رہی تھی۔چمکدار سورج کی کرنیں درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر سنہرے دائرے بنا رہی تھیں۔گھنٹی بجنے کی آواز پر قانِتہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو ٹھٹھک گئی۔سامنے جہانزیب کھڑے تھے۔ان کے لبوں پر نرم مسکراہٹ تھی معنوں ہر تکلیف دہ بات کو نظر انداز کر کے یہاں اس کے در تک پہنچنے ہوں۔قانِتہ لمحہ بھر کو بالکل گنگ رہ گئی۔
”کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“وہ پہلے ٹھٹھکی پھر فوراً شرمندہ ہوتے راستہ چھوڑ دیا۔
”میں کچھ لاتی…..“
”اس کی کوئی ضرورت نہیں۔میں فلحال اپنی بیٹی سے بات کرنا چاہتا ہوں۔آؤ بیٹھو۔“وہ تھوڑا تذبذب کا شکار ہوئی پھر صوفے کے سرے پر ٹک گئی۔
”محمود اور میں بہت اچھے دوست تھے۔آپ کو میں نے ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا ہے۔مجھے امید ہے آپ میری بات کا پاس رکھو گی۔“انہوں نے بات کے اختتام پر قانِتہ کی جانب امید سے دیکھا۔وہ سر جھکائے سپاٹ چہرہ لیے بیٹھی رہی۔جہانزیب اس کے لیے قابل احترام تھے۔اسے کبھی ان سے کوئی شکوہ نہ رہا تھا۔مرد حضرات سے نفرت کے باوجود وہ محمود یزدانی سے کبھی نفرت نہ کر سکی تھی۔ان کے انتقال کے بعد یہ جگہ جہانزیب نے لے لی تھی۔
”دیکھو بیٹا،جو بھی مسائل ہوں مگر یوں گھر چھوڑ کر آنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔بیٹھ کر بھی مسئلہ حل کیا جا سکتا تھا۔اگر غزوان سے کوئی شکایت تھی تو آپ مجھ سے کہتیں،میں آپ کا ساتھ نہ دیتا تو بےشک آپ گھر چھوڑ دیتیں۔“وہ نرمی اور شفقت سے اسے سمجھا رہے تھے۔قانِتہ دم سادھے انہیں سن رہی تھی۔سسر کے اس روپ سے وہ ناواقف تھی۔اسے نادر پلار یاد آئے تھے۔کیسے ان کے سامنے اس کی تذلیل کی جاتی،اسے مارا پیٹا جاتا مگر وہ خاموش رہتے اور یہاں جہانزیب پاپا کہہ رہے تھے کہ وہ اس کا ساتھ دیتے۔وہ مرد کے کس روپ پر یقین کرتی اور کس پر نہیں۔کیا یہ محض دکھاواتھا یا حقیقت……؟وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی الجھ گئی تھی۔بےیقینی کی مکڑی نے اس کے ذہن میں ایسے جالے بنے تھے کہ کسی پر بھی اعتبار کرنا اب تقریباً ناممکنات میں سے تھا۔
”لو سینتو(سوری) انکل،مجھے آپ سے بات کرنی چاہیے تھی مگر میں کیا کرتی۔آپ کے بیٹے نے سر بازار مجھے رسوا کر دیا۔وہ بدلہ لے رہا تھا مجھ سے۔نکاح جیسے مقدس رشتے کا مذاق بنایا اس نے۔ڈیڈ نے اپنی طرف سے میرے لیے بہترین ساتھی کا انتخاب کیا مگر والدین کا فیصلہ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتا۔میں لے پالک تھی پھر بھی انہوں نے میرا بہت خیال رکھا۔مجھے سکھایا کہ اپنی عزت نفس پر کبھی سمجھوتہ مت کرنا۔“جہانزیب لمحہ بھر کو بھونچکا رہ گئے۔وہ اپنی اڈاپشن کے متعلق جانتی تھی مگر کیسے؟بقول محمود کہ وہ لاعلم تھی۔
”آپ جانتی ہیں کہ آپ اڈاپٹڈ…..“
”جی میں جانتی ہوں۔“جہانزیب گہری سانس لے کر رہ گئے۔قانِتہ کی شادی کے سلسلے میں محمود اتنا بڑا جھوٹ نہیں بول سکتے تھے لہٰذا انہوں نے سچ کہا تھا مگر ساتھ یہ تاکید ضرور کی تھی کہ قانِتہ کو اس بارے میں نہ بتایا جائے اور یہ کہ وہ کبھی بھی پاکستان نہ جائے۔انہوں نے اپنی طرف سے قانِتہ کے لیے آسانی کا سوچا تھا۔اس متعلق بات ہوتی تو یقیناً قانِتہ کو تکلیف پہنچتی،اس لیے انہوں نے جہانزیب سے کہا کہ وہ اس متعلق نہیں جانتی لہٰذا اس بارے میں بات نہ کی جائے۔
پاکستان قانِتہ کے لیے ڈراؤنا خواب تھا جس کی تکمیل وہ کبھی نہیں چاہتی تھی۔وہ کبھی کبھی وہاں جانے کا سوچتی ضرور تھی مگر سوچ کر ہی اس کی روح کانپ جاتی تھی۔
”خیر آپ ایک دفعہ غزوان سے بیٹھ کر بات کر لیں۔مجھے یقین ہے کہ یہ غلط فہمی ہی ہو گی۔وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا۔“رات شک کے بیج نے دل میں جڑیں ضرور پکڑیں تھیں مگر اعتماد کے پانی نے ان جڑوں کو سینچ کر محبت کے پودے میں تبدیل کر دیا تھا۔غزوان کچھ بھی کر سکتا تھا مگر یہ نہیں۔انہیں یقین تھا۔
”جو ایک لڑکی کو گاڑی میں ہریس کر سکتا ہے۔ہسپتال میں زبردستی نکاح کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔وہ یہ کیوں نہیں کر سکتا؟“جہانزیب بالکل لاجواب ہو گئے۔اعتماد سے سینچے محبت کے پودے سے نرم دھوپ چھین لی گئی تھی۔ان کا سر شرمندگی سے جھک گیا تھا۔اولاد کئی موقعوں پر والدین کے لیے صحیح آزمائش بن جاتی ہے۔
”وہ اپنے کسی دوست سے اپنی بیوی کے متعلق ایسی بات نہیں کر سکتا۔“اب کی بار جب وہ بولے تو لہجہ کسی مضبوط چٹان کی مانند سخت تھا۔پرورش ان کی تھی،یقین کرنا جائز تھا۔
وہ مسکرا کر رہ گئی تھی۔باپ تھے،آخر بہو کا کتنا ساتھ دیتے؟بیٹے کی محبت غالب تو آنی ہی تھی۔
”اچھا ٹھیک ہے،میں اسے بلاتا ہوں۔جو بات ہو گی آمنے سامنے ہو گی۔“جہانزیب نے اپنا فون نکالا اور غزوان کا نمبر ڈائل کیا۔فون انہوں نے سپیکر پر رکھا۔وہ چاہتے تھے کہ ہر بات قانِتہ کے سامنے ہی ہو۔
”جی پاپا،میں بس آفس کے لیے نکل ہی رہا ہوں۔“اس نے چند فائلز کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔مطلوبہ فائل اب بھی نہ ملی۔
”آفس نہ آؤ،قانِتہ کے گھر پہنچو۔جو بھی بات ہو گی اب آمنے سامنے……“
”میں وہاں نہیں جاؤں گا اور آپ بھی وہاں نہیں جائیں گے۔سب ختم کر چکی ہے وہ۔میں بھی اب تھک چکا ہوں۔“اس نے فائلز کا پلندہ زور سے بستر پر پٹخا۔نجانے مطلوبہ فائل کہاں گم ہو گئی تھی۔
جہانزیب نے ایک نظر قانِتہ کی جانب دیکھا اور پھر دوبارہ گویا ہوئے۔وہ ہمہ تن گوش تھی۔
”مجھے لگتا ہے کہ اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔“
”نہیں پاپا اسے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔وہ ٹھیک کہتی ہے۔میں اتنا بے غیرت ہوں کہ آدھی رات کو اپنی بیوی کے متعلق اپنے دوستوں سے باتیں کرتا ہوں۔اسے گھٹ……“اس نے لب بھینچ لیے۔جہانزیب نے پہلو بدلا اور قانِتہ نے نگاہیں چرا لیں۔
”یعنی تم مانتے ہو تم نے یہ کہا؟“فون اب بھی سپیکر پر تھا۔غزوان یہ بات جانتا تو کب کی کال کاٹ چکا ہوتا۔وہ اس کے اعتماد کو اچھا خاصا ٹھیس پہنچا چکی تھی۔اس کی محبت کو گالی بنا چکی تھی۔اس کی خفگی جائز تھی۔
”ہاں میں نے کہا لیکن آپ اگر اس سے ملیں تو لازمی پوچھیں گا کہ میں نے ساری گفتگو میں کتنی بار اس کا نام لیا۔“قانِتہ نے جھکی پلکیں اٹھائیں۔دل میں ابال سا اٹھا۔ناخن صوفے میں گاڑ لیے۔وہ بے چین ہو رہی تھی۔وہ اسے بے چین کر رہا تھا۔
”اگر تم قانِتہ کی بات نہیں کر رہے تھے تو پھر کس کی بات کر رہے تھے؟کسی خاتون کے متعلق اس قسم کی گفتگو تمہیں زیب دیتی ہے؟“
”ٹھیک ہے میں نے غلط الفاظ کا چناؤ کیا مگر آپ خود سوچیں پاپا،اگر میں کسی عورت کے متعلق ایسا کچھ کہہ رہا ہوں تو پھر وہ کتنی بری ہو گی؟“مطلوبہ فائل اب بھی نہ ملی۔اس نے فون سپیکر پر رکھا اور بستر پر ڈھے گیا۔ساری رات اس کی اور نیند کی جنگ چلتی رہی تھی،بالاخر وہ جیت گیا تھا مگر جیت کا انجام کچھ اچھا نہ ہوا تھا۔اس کے سر میں اب درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں تھیں۔
”تم قانِتہ کے ساتھ بیٹھ کر بات کیوں نہیں کرتے؟“
”وہ اپنا قلم توڑنا چاہتی ہے۔میں بھی اب یہی چاہتا ہوں کہ وہ یہ کرے۔“قانِتہ کے دل کی دھڑکن جیسے مٹھی میں قید ہو گئی۔اس کے الفاظ کی گرفت نے اس کی سانسیں روک دیں۔وہ علیحدگی کی باتیں کر رہا تھا۔یہ باتیں اسے زیب نہیں دیتی تھیں۔یہ حق تو محض قانِتہ یزدان کے پاس تھا۔غزوان جہانزیب اس کی حق تلفی کیسے کر سکتا تھا؟
”تم اسے منا کر گھر لے آؤ۔“ہاتھ سے پیشانی مسلتے وہ رکا پھر عجیب طرز سے ہنسا۔
”روٹھنا منانا تو محبت میں ہوتا ہے جنگوں میں صرف تلواریں چلتی ہیں۔وہ اپنی تلوار سے میری روح کو زخمی کر چکی ہے۔ایسا گھاؤ دیا ہے اس نے،شاید زندگی بھر نہ سکے گا۔“قانِتہ کی زندگی سے معنون چین نے منہ موڑ لیا۔ہر لمحہ وجود کے ساتھ ساتھ دل بھی الجھنوں میں تڑپنے لگا۔اس نے قالین کے کسی بے معنی دھبے پر نگاہیں جمائیں مگر دماغ بار بار غزوان کے کہے الفاظ کی درشتی کی جانب بھٹک جاتا۔
”میں اسے نہ مناؤں گا اور نہ لینے جاؤں گا۔اگر آنا ہو گا تو خود آ جائے گی بلکہ خود بھی کیوں آئے گی؟اس گھر میں نہیں آ سکتی اب وہ۔جب تک مجھ سے معافی نہیں مانگے گی،میں اسے معاف نہیں کروں گا۔“غزوان نے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔وہ مزید قانِتہ کے متعلق بات نہیں کر سکتا تھا۔
قانِتہ پر معنوں سکتہ طاری ہو گیا۔جہانزیب اب بھی اس سے کچھ کہہ رہے تھے،شاید معذرت یا غزوان کی باتوں کو نظر انداز کرنے کے بارے میں……مگر وہ وہیں پتھر ہو گئی۔وہ کیسے کہہ سکتا تھا کہ وہ……یعنی قانِتہ،اس کی پری وَش اس سے معافی مانگے؟
اس کے ذہن میں موجود تمام الفاظ ریت کی مانند بکھر گئے۔خیالات کا کارواں حیرت کی دھول میں گم ہو گیا۔
وہیں دوسری طرف غزوان جھنجھلا کر بستر سے اٹھا اور نہایت غصے کی حالت میں فائل ڈھونڈنے لگا جو نجانے اس نے کہاں رکھی تھی۔اس نے کمرے کی ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی۔وہ اکثر انسانوں کا غصہ چیزوں پر ہی نکالتا تھا۔
ہر چیز تہس نہس کرنے کے بعد اس نے پلنگ پر بچھے میٹرس کو اٹھایا تھا اور ایک کونے میں اسے کچھ نظر آیا تھا۔فائل نہیں وہ ایک لفافہ تھا۔یقینا اسے چھپا کر رکھا گیا تھا۔یہ سوچنا مشکل نہ تھا کہ چھپانے والی کون ہے۔غزوان کے ماتھے پر شکنیں ابھریں۔اس نے جھک کر لفافہ اٹھایا اور میٹرس ٹھیک کرتے ساتھ ہی لفافہ کھول کر بستر پر الٹ دیا۔پھولے ہوئے لفافے سے کوئی ڈھیروں ڈھیر دوائیوں کے پتے گرے۔شاک سے اس کی آنکھیں پھیل گیئں۔اتنی ساری دوائیاں تو کوئی مریض بھی نہ لے پھر یہ سب……وہ بستر پر بیٹھ گیا۔اس نے آدھ خالی پتوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔نجانے یہ کس چیز کی دوائیاں تھیں اور انہیں لیتا کون تھا؟
”کہیں قانِتہ……“اس کی آنکھوں کے سامنے ایک تیز دھماکہ ہوا پھر اچانک ذہن اندھیرے میں ڈوبنے لگا معنوں زبردست جھٹکا لگا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کیفے شہر کے شور سے ذرا ہٹ کر تھا معنوں ایک چھوٹی سی الگ دنیا…… جہاں وقت چائے کی بھاپ میں تحلیل ہو جاتا تھا۔وہ شام ویسی ہی تھی جیسے ان دونوں کو پسند تھی۔نرم اور ہلکی سی ٹھنڈی۔
وہ اس چھوٹے سے کیفے کے باہر لکڑی کے میز کے گرد آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ہاتھوں میں کاغذی کپ تھے۔
دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے پر ہی جمی تھیں۔لبوں پر نرم ٹھہری ہوئی مسکراہٹ کا بسیرا تھا۔
فون کی گھنٹی نے اس کے طلسم کو توڑا۔غانیہ نے چونک کر کال ریسیو کی۔اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر خوشی کی پھوار پھوٹ پڑی۔
”جی…..؟“لمحہ بھر کا توقف ہوا۔اس کے ہونٹ ہلے مگر الفاظ ٹوٹ گئے۔
”جی میں آ جاؤں گیئں۔“اس نے فون رکھا اور حیرانگی میں غرق قتادہ کی جانب دیکھا۔
”میں نے آپ کو بتایا تھا نہ کہ میں اتنے عرصے سے ایک جاب کے لیے محنت کر رہی ہوں،بالاخر وہ مجھے مل گئی۔“اس کا وجود خوشی سے جھوم اٹھا معنوں روح نے آسمان میں اپنے پر پھیلا دیے ہوں۔اسے اپنا آپ خلا میں اڑتا ہوا محسوس ہوا۔اس نے جگمگاتی نگاہوں سے قتادہ کی جانب دیکھا معنوں اس کی مبارکباد کے بغیر خوشی ادھوری ہو۔
قتادہ نے لمحہ بھر خاموشی سے اسے دیکھا پھر ہونٹوں کو مسکراہٹ میں پھیلا لیا۔اس کی آنکھوں کا فخر اور مان غانیہ کو اندر تک سرشار کر گیا۔
”چلیں بس اب گھر چلتے ہیں۔بہت دیر ہو گئی ہے۔“وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔قتادہ بھی اس کے ساتھ ہی اٹھا۔لبوں پر اب بھی وہی مسکراہٹ تھی۔پرسکون،محبت سے لبریز،دلفریب مسکراہٹ……
غانیہ نے آخری بار مسکرا کر اسے دیکھا اور گاڑی کی سمت بڑھ گئی۔قتادہ کے لبوں پر ٹھہری مسکراہٹ آہستہ آہستہ عنقاء ہو گئی۔آنکھوں میں روشنی کی جگہ سائے اترنے لگے۔محبت سے لبریز تاثر کہیں ہوا میں تحلیل ہو گیا،وہاں اب صرف سلگتی ہوئی سرخی تھی۔
اس نے سرد آہ بھری اور آسمان کی جانب دیکھا۔وہ خوش نہیں تھا۔وہ غانیہ یوسفزئی کو کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا دیکھ خوش نہیں تھا۔یہ احساس کمتری تھی یا کچھ اور…..اس کے اندر بہت سے سوالات نے شور اٹھایا۔
”وہ میرے بغیر بھی مکمل ہے۔“دل کے ایک گوشے نے چیخ چیخ کر کہا۔چہرے پر سختی عود آئی۔جبڑے کی لکیر تھوڑی سی ابھری،مٹھی خود بہ خود بند ہونے لگی۔اسے غصہ آ رہا تھا۔سمجھ نہ سکا کہ یہ غصہ خود پر ہے یا غانیہ پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔