61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 28)

رات کی تاریکی ہر چیز پر دبیز چادر کی طرح چھا چکی تھی۔غار کی ٹھنڈی اور نم آغوش میں وقت گزارنے کے بعد زخرف اور غانیہ آہستگی سے باہر نکلی تھی۔ہر سوں خاموشی کا راج تھا مگر وہ جانتی تھیں کہ تعاقب کار اب بھی ان کے پیچھے ہیں۔پہاڑوں کی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے وہ اب محتاط انداز میں چراگاہوں کی سمت بڑھنے لگیں۔راستہ کھردرا اور دشوار تھا۔گرنے کا خدشہ تھا مگر انہوں نے مضبوطی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔

کہیں دور سے کسی کے بولنے کی آواز آئی،دونوں کے دل دھک سے رہ گئے۔

”یا اللہ!“وہ جلدی سے ڈھلوانی راستے پر جھک گیئں جہاں چراگاہ کا وہ بنکر موجود تھا جسے چرواہے خراب موسم میں جانوروں کو چھپانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔سانس پھولا ہوا تھا۔دونوں جلدی سے بنکر کے اندر گھس گیئں۔غانیہ نے اپنے اور زخرف کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔قدموں کی آواز اب قریب سے سنائی دینے لگی۔

”کیا مصیبت ہے؟جانے کہاں چھپ کر بیٹھی ہیں؟“ایک آدمی جھنجھلا کر گویا ہوا۔روشنی کی ایک لکیر ان کے چہروں پر پڑی۔دونوں نے سانسیں روک لیں۔وہ یقیناً مشعل کی روشنی تھی۔

کوئی آدمی چل کر اب ان کی جانب بڑھنے لگا۔غانیہ اور زخرف کے دل معنوں رک سے گئے۔وہ پکڑی گئی تھیں۔او خدایا!وہ پکڑی گئی تھیں۔

”وہاں کیا کر رہے ہو؟یہ جانوروں کی جگہ ہے۔چلو ایک بار پھر جنگل میں تلاش کرتے ہیں۔“کسی کی آواز پر وہ آدمی منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا الٹے پاؤں واپس گھوما۔قدموں کی آواز اب دور جاتی سنائی دی،یہاں تک کہ مکمل خاموشی چھا گئی۔ان کے جانے کا یقین کرتے غانیہ نے سرگوشی نما آواز میں کہا۔

”بس قبیلہ کچھ دور ہو گا۔وہاں پہنچ کر کچھ نہ کچھ کھانے پینے کو مل جائے گا اور کوئی سواری بھی۔تم ہمت مت ہارنا زخرف۔“وہ خود زخموں اور تھکان سے چور تھی مگر نہ خود ہمت ہار رہی تھی اور نہ زخرف کو ہارنے دے رہی تھی۔وہ ایک بہادر لڑکی تھی۔

اگلا اور آخری مرحلہ سب سے دشوار تھا۔انہیں کسی بھی طرح خانہ بدوش قبیلے تک پہنچنا تھا جو کچھ عرصہ بعد اپنا پراؤ یہاں ڈالتا تھا۔بنکر سے نکل کر وہ اب تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں۔غانیہ نے اپنی مدد کے لیے ایک مضبوط لکڑی کا سہارا لیا ہوا تھا۔وہ سارا بوجھ زخرف پر نہیں ڈال سکتی تھی۔زخرف ویسے بھی غائب دماغی کے ساتھ چل رہی تھی۔نجانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا؟اس حادثہ کا اس کے ذہن پر کیا اثر ہوا تھا۔

اندھیرے میں وہ درختوں کے سائے میں چھپتی چلتی رہیں۔جانوروں کی خوفناک آوازیں کانوں سے ٹکراتی رہیں مگر اصل خطرہ تو وہ تعاقب کار تھے۔

پہاڑ کے اس پار پہنچتے ہی انہیں دور سے روشنی نظر آئی پھر خیمے…… ریاضتیں ضائع نہیں گئی تھیں۔غانیہ نے تشکر سے آسمان کی جانب دیکھا اور زخرف کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔

خانہ بدوشوں کے قبیلے میں خواتین بھی تھیں جو ملنسار اور کافی رحم دل تھیں۔

کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں آگ کے گرد خواتین کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ساری آپ بیتی غانیہ نے ہی انہیں سنائی تھی۔زخرف تو نجانے کن سوچوں میں گم تھی۔

”بس کسی بھی طرح ہمیں شہر تک پہنچا دیں۔“غانیہ نے منت کی تھی۔

”وہ سب تو ٹھیک ہے مگر شہر میں تمہارا کوئی جاننے والا ہے؟“

”میری ایک دوست ہے۔ٹیلی فون پر بات بھی ہوئی ہے میری اس سے۔چند سال پہلے یہاں سے ہجرت کر کے شہر چلے گئے تھے وہ لوگ۔وہ مدد کرے گی بس کسی بھی طرح شہر پہنچ جائیں۔“خاتون گہری سوچ میں پڑ گئی۔

”پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر شہر جانے والی سڑک ہے مگر رات کے اس پہر کوئی بس یا سواری نہیں ملے گی۔اگر صبح…..“

”صبح تک بہت دیر ہو جائے گی۔ہمیں رات میں ہی نکلنا ہو گا۔“

”اچھا پھر میں اپنے شوہر سے بات کرتی ہوں۔ان کے پاس ٹریکٹر ہے۔سڑک تک پہنچا دے گے تمہیں،وہاں سے کنٹینر شہر جائے گا،اگر ڈرائیور مان جائے تو شہر پہنچ جاؤ گی۔“

”میں اس کی منت کر لوں گیئں،بس آپ سڑک تک پہنچا دیں۔“

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا اندھیرا ابھی مکمل طور پر چھٹا نہیں تھا۔خانہ بندشوں کے خیموں میں ابھی دھیمی ہلچل تھی۔زیادہ تر لوگ گہری نیند سو چکے تھے۔

زخرف اور غانیہ ٹریکٹر کے پیچھے لگی چھوٹی سی ٹرالی میں دبک کر بیٹھ چکی تھیں۔بوڑھے چرواہے نے ٹریکٹر سٹارٹ کیا تھا۔پہیوں کی گھرگھراہٹ اور انجن کی گرج کے ساتھ ٹریکٹر آگے بڑھنے لگا۔ہر جھٹکے پر غانیہ کے وجود میں درد کی ٹیس اٹھتی مگر وہ آنکھیں میچ کر خاموشی سے سہہ جاتی۔زخرف البتہ خاموش تھی۔نجانے وہ کچھ محسوس کر پا رہی تھی یا نہیں۔رات کی خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ہر طرف مٹی اڑ رہی تھی۔

کچھ دیر بعد ٹریکٹر ایک سنسان سڑک کے قریب رکا۔وہاں دور ایک کنٹینر کے سوا اور کوئی سواری نظر نہ آ رہی تھی۔زخرف اور غانیہ فوراً ٹریکٹر سے اتریں اور کنٹینر کی جانب بڑھ گیئں۔

ڈرائیور اور دو اور لڑکے سامان سیٹ کرنے میں مصروف تھے جب غانیہ نے انہیں مدد کے لیے پکارا۔

”لالہ،ہمیں شہر تک چھوڑ دیں۔بڑا احسان ہو گا۔“مضبوط جسامت والے ڈرائیور نے مشکوک نگاہوں سے دونوں لڑکیوں کو گھورا پھر پوچھا۔

”کون ہو تم دونوں اور کہاں سے آئی ہو؟“

”خانہ بدوش ہیں،مدد کی درخواست ہے۔خدارا شہر تک پہنچا دیں۔“ڈرائیور نے گہری نظر سے دونوں کا جائزہ لیا۔چہرہ دھانپ رکھا تھا مگر شٹل جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے اور مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔

”کہیں کوئی مسئلہ تو نہیں؟“

”نہیں نہیں،کوئی مسئلہ نہیں۔بس شہر تک پہنچا دیں۔“

”مفت میں تو نہیں لے کر جاؤں گا۔“ڈرائیور نے لالچ بھرے انداز میں کہا۔غانیہ لمحہ بھر کو سوچ میں پڑ گئی پھر اس نے اپنی بالیاں اتار کر ڈرائیور کو دیں۔سونے کی بالیاں دیکھ کر ڈرائیور کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

”ٹھیک ہے،کچھ دیر انتظار کرو۔سامان ڈال لیں پھر دونوں چڑھ جانا۔اگر کوئی پوچھے تو کہنا کہ مزدور ہو۔“

”بہت بہت شکریہ لالہ!“غانیہ کی آنکھیں تشکر سے نم ہو گیئں۔ڈرائیور لڑکوں کے ساتھ سامان ڈالنے لگا جبکہ غانیہ زخرف کو لے کر تھوڑا دور جا کر بیٹھ گئی۔

تھوڑی دیر بعد لڑکے سامان ڈال کر چلے گئے۔ڈرائیور نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں بلایا۔وہ دونوں اٹھ کھڑی ہوئیں مگر عین اس وقت پہاڑوں میں گولی کی آواز گونجی۔گولی غانیہ کی ٹانگ پر لگی تھی اور مارنے والا اختر تھا۔وہ سڑک کے کنارے پر کھڑا تھا۔

”کہاں جا رہی ہو خبیث عورتوں،اختر کے چنگل سے بچنا اتنا آسان نہیں ہے۔“گولی لگنے کی وجہ سے غانیہ درد سے کرہاتی زمین پر جا گری تھی۔زخرف بھی ایک چیخ کے ساتھ اس کے قریب بیٹھی اب قدرے خوفزدہ تھی۔ڈرائیور نے خوف کے مارے انجن سٹارٹ کرنا چاہا مگر کنٹیکنر چلنے سے انکاری تھا۔ساتھ ہی وہ ایک لڑکے کو پچھلا شٹر گرانے کا کہہ رہا تھا مگر لڑکے نے خوف کے مارے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کی۔

”غانیہ یہ……“

”بھاگ جاو زخرف،بھاگ جاؤ۔“غانیہ نے تڑپتے ہوئے کہا تھا۔

”نہیں،آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گیئں۔“وہ بری طرح رو رہی تھی۔

”میری قربانی کو رائگاں نہ جانے دو۔چلی جاؤ۔تمہاری خاطر اپنے باپ کی میت اور چھوٹی بہن کو چھوڑ کر آئی ہوں،اب یوں مت کرو میرے ساتھ۔“اختر اب چلتا ہوا قریب آ رہا تھا۔آنکھیں سرخ مگر چہرہ مطمئن تھا۔اسے ان تک پہنچنے میں کوئی جلدی نہ تھی۔جانتا تھا کہ وہ اب نہیں بھاگ سکتیں۔

”آپ میرے ساتھ چلیں گیئں۔“وہ بضد تھی۔

”ایک ٹانگ سے پہلے معذور ہوں،اب تو دوسری بھی کسی کام کی نہیں رہی۔ساتھ چلوں گیئں تو یقیناً پکڑے جائیں گے۔دیکھو انجن سٹارٹ ہو گیا ہے،خدارا چلی جاؤ،جاؤ۔“وہ زخرف کو ایک ہاتھ سے پیچھے کی جانب دکھیل رہی تھی یہاں تک کہ اختر ان تک پہنچ چکا تھا۔اختر نے زخرف کو بالوں سے دبوچ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔

”کس کے ساتھ بھاگ رہی تھی ہاں؟“اس نے کھینچ کر تھپڑ زخرف کی گال پر مارا تھا۔وہ بری طرح کراہی تھی۔

غانیہ نے زمین پر ہاتھ مارا۔اندھیرے میں اس کے ہاتھ ایک نوکیلا پتھر آیا،اس نے کھینچ کر پتھر اختر کے سر پر دے مارا۔وہ چیختا ہوا ایک طرف جا گرا۔

”بھاگ جاؤ زخرف۔اللہ کا واسطہ ہے تمہیں بھاگ جاؤ۔“زخرف کے قدم خودبخود پیچھے کی جانب اٹھتے چلے گئے۔لڑکا اب شٹر بند کرنے کے لیے آگے بڑھا تھا۔

”خبردار جو تم اس دنیا کے ہاتھوں بےبس ہو کر مری یا تم نے خودکشی کی۔یاد رکھنا،غانیہ یوسفزئی تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔روز محشر تمہیں حساب دینا ہو گا۔جی کر دکھاؤ گی تم اس دنیا کو۔اپنی سپر وومین خود بنو گی۔“زخرف الٹے قدم پیچھے چلتی جا رہی تھی۔غانیہ کی آواز اس کی سماعتوں میں گونج رہی تھی۔اختر کراہتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ زخرف کے پیچھے بھاگتا،غانیہ نے اس کی ٹانگ دبوچ لی تھی۔

زخرف کنٹینر پر چڑھ چکی تھی۔

”یاد رکھنا زخرف،دنیا بہت ظالم ہے۔تمہیں مارنے والا یا مرنے والا نہیں بننا۔تمہیں خنجر بننا ہے،تمہیں زہر بننا ہے۔تمہیں صرف اپنے خواب پورے نہیں کرنے،صرف اپنی زندگی نہیں جینی۔تمہیں خون بہا میں آئی ہر لڑکی کی زندگی جینی ہے۔ہر لڑکی کا خواب پورا کرنا ہے۔ہر لڑکی کو امید دلانی ہے۔“شٹر بند ہو چکا تھا۔اختر اپنی ٹانگ چھڑانے کے لیے غانیہ کو بری طرح ٹھڈے مار رہا تھا۔

ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا مگر زخرف فاطمہ کی زندگی کا سورج جلد طلوع ہونے والا تھا۔ایک آخری جملہ اس کی سماعتوں سے ٹکرایا پھر ہر طرف سکوت سا چھا گیا۔

”آزادی مبارک ہو زخرف۔“

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(گیارہ سال بعد)

رات کی تاریکی صبح کی روشنی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ادھ کھلی کھڑکی کی وجہ سے کمرے میں ہلکی سی خنکی تھی۔لحاف اوڑھے سوئی قانِتہ کی آنکھیں پہلے پھڑپھڑائیں،پھر ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔

”غانیہ…..“وہ ایکدم چونک کر اٹھی۔سانسیں اتھل پتھل تھیں جبکہ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔خوفزدہ آنکھیں ادھر اُدھر دیکھنے لگیں معنوں بھیانک خواب حقیقت کا روپ دھار لے گا۔مگر خواب تو سالوں پہلے حقیقت کا روپ دھار چکا تھا۔

اس کی آنکھیں میں پانی جمع ہونے لگا۔نڈھال سی پشت سے ٹیک لگا گئی۔

”روز محشر مجھ سے خفا نہ ہونا غانیہ۔زخرف نے وعدہ پورا کیا ہے۔“اس نے بے دردی سے آنکھیں رگڑیں اور باتھ سپیس کی جانب بڑھ گئی۔نل کے نیچے ہاتھ رکھا،پانی کی دھار خودبخود بہہ نکلی۔ہاتھوں میں پانی بھرا اور منہ پر پھینکا۔تازگی کے احساس سے خواب کا اثر کچھ کم ہوا۔تولیے سے منہ رگڑ کر کچن میں گئی اور اپنے لیے کافی بنا کر بالکنی میں آ ٹھہری۔فون کی تھرتھراہٹ پر اس نے چونک کر سکرین پر نگاہ دوڑائی۔لبوں پر مسکراہٹ رینگ آئی۔

”کیسی ہیں گرینی؟“

”میں بالکل ٹھیک ہوں،تم کیسی ہو؟“

”میں بھی ٹھیک۔“

”غزوان کیسا ہے؟“یہاں قانِتہ کے لبوں کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔یکدم اسے کوفت محسوس ہونے لگی۔

”مجھے کیا پتا۔“اس نے شدید ناگواری سے کہا۔

”بیٹا پتا رکھا کرو۔شوہر ہے تمہارا۔“

”زیادہ عرصے تک نہیں رہے گا۔“آنکھیں گھمائیں اور کافی کا ایک سپ لیا۔حلق میں کڑواہٹ گھل گئی۔کافی کا کپ سائیڈ پر پٹخا اور اندر کمرے میں پلنگ پر آ بیٹھی۔

”قانِتہ بیٹا،آخر کیوں خود پر اور اس پر ظلم کر رہی ہو؟“گرینی نے کچھ بےبسی سے پوچھا۔

“کسی پر ظلم نہیں کر رہی گرینی۔میں تو بس اس قید سے رہائی چاہتی ہوں۔مزید بے وفائی نہیں کر سکتی۔“

”کیسی بےوفائی؟“

”سِماک کی امانت ہوں،مزید خیانت نہیں کر سکتی۔“گرینی لمحہ بھر کو سکتے میں چلی گئیں۔جب ہوش آیا تو دل چاہا کہ سر پیٹ لیں۔

”ہوش میں ہو؟“انہوں نے تصدیق چاہی۔

”وہ میرے خواب میں آئے تھے۔کہہ رہے تھے کہ تم نے بے وفائی کی ہے زخرف۔اب تو طلاق فرض ہے مجھ پر۔“

”پھر سے دماغ الٹ گیا ہے تمہارا۔کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ مت سوچا کرو اس کے بارے میں۔“وہ دبا دبا سا غرائی تھیں۔

”میں نہیں سوچتی گرینی۔وہ خود ہی ذہن میں آ جاتے ہیں۔“اس معاملے میں وہ بےبس تھی یا شاید خود کو بےبس ظاہر کرتی تھی۔

”ہوش کے ناخن لو قانِتہ۔خدارا خود پر رحم کرو۔“وہ شروعات میں اکثر بہکی بہکی باتیں کرتی تھی۔پھر رفتہ رفتہ خود ہی نارمل ہو گئی تھی مگر اب شادی کے بعد وہ پھر سے عجیب باتیں کرنے لگی تھی۔

”میں ہوش میں ہوں گرینی،بالکل ہوش میں ہوں۔میں ساری زندگی ان کی محبت کے سہارے گزار دیتی،نجانے یہ غزوان کہاں سے بیچ میں آ گیا۔“غزوان کا نام لیتے ہی اس کے چہرے کے تاثرات بگڑ گئے تھے۔وہ اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔کیوں نہیں لگتا تھا،یہ اس نے سوچنے کی زحمت نہ کی تھی۔اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔اس کے دل و دماغ پر تو سماک کا قبضہ تھا۔

”کون سی محبت؟“گرینی نے کچھ تاسف سے پوچھا۔

”اس نے کہا تھا گرینی ”وعدے جھوٹے تھے مگر محبت سچی تھی۔“اس کے لہجے میں غرور تھا۔محبت کا غرور……

”محبت کو کب تصدیق کی ضرورت پڑ گئی؟محبت کب سے سچی یا جھوٹی ہونے لگی؟محبت یا تو ہوتی ہے یا پھر نہیں ہوتی۔اگر ہوتی ہے تو وعدے جھوٹے نہیں ہوتے۔“وہ اس کے دل پر چوٹ کر رہی تھیں۔وہ تڑپ اٹھی تھی۔فون پر گرفت کچھ مضبوط ہوئی تھی۔اس نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا۔

”انہوں نے مرتے وقت اقرار کیا تھا۔“اس بار لہجے میں غرور نہیں تھا۔دلیل بھی کمزور تھی۔

”مرتے وقت کلمہ یاد نہیں آیا،محبت یاد رہی؟“وہ ایک کے بعد دوسری ضرب لگا رہی تھیں۔آج یہ ضروری بھی تھا۔ضروری تھا کہ وہ آج اپنی آنکھیں کھول لے۔اس سے پہلے کہ ایک بار پھر برباد ہو جائے۔

وہ کافی دیر لب کترتی رہی تھی۔یقینا مناسب الفاظ تلاش کر رہی تھی۔اس سے پہلے سماک کے حق میں کوئی ٹھوس دلیل دیتی،سپیکر سے آواز ابھری تھی۔

”چلو آج ایک انکشاف میں تم پر کرتی ہوں۔ذرا دل تھام کر سننا بیٹا جی……“انداز طنزیہ تھا مگر سچ بولنا آج بےحد ضروری تھا۔

”اسے تم سے محبت نہیں تھی۔کم بخت!مرتے مرتے بھی جھوٹ بول کر گیا ہے۔“فون پر رکھا زخرف کا ہاتھ کانپا تھا۔دل سمندر میں غوطے کھانے لگا تھا۔سانس رکنے لگی تھی۔

”ایسا نہ کہیں گرینی،میری جان نکل جائے گی۔“اس کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔وہ سامنے ہوتیں تو وہ پیروں میں گر جاتی۔منت کرتی کہ خدارا یہ سب مت کہیں۔زخرف فاطمہ تو جی ہی اس آس پر رہی تھی۔وہ اس سے آج جینے کی آخری امید بھی چھین رہی تھیں۔

”اگر ہمت والی ہو تو اگلا انکشاف بھی سن لو۔تمہیں بھی اس سے محبت نہیں ہے۔تم تو محبت کے ”میم“ سےبھی واقف نہیں ہو۔کوئی بہرا بھی تمہاری کہانی سنے گا نہ،تو وثوق سے کہہ اٹھے گا کہ سِماک یوسفزئی کو زخرف فاطمہ سے محبت نہیں تھی۔“قانِتہ کے چہرے کا رنگ فق پڑ گیا معنوں کسی نے سارا خون نچوڑ لیا ہو۔لب فریاد کرنے کے لیے ہلے مگر آواز گلے میں کہیں گھٹ گئی۔وہ کہنا چاہتی تھی کہ ”بس کر دیں۔میں مزید نہیں سن سکتی“ مگر کہہ نہ سکی۔اس میں تو اتنی سکت بھی نہ رہی کہ کال کاٹ سکے۔گرینی نے بھی آج ہار نہ مانی۔وہ ایک کے بعد دوسرا انکشاف کرنے لگیں۔روز روز مرنے سے تو بہتر تھا کہ وہ ایک ہی دن مر جاتی۔پھر مر کر جب زندہ ہوتی تو ماضی کی ساری یادیں ذہن سے مٹ جاتیں۔

”وہ مرد تھا اور مرد بہت شاطر ہوتا ہے۔مرتے مرتے بھی تمہارے پیروں میں اپنی محبت کی بیڑیاں باندھ گیا۔جب عورت مر رہی ہوتی ہے تو سوچتی ہے کہ میرے بعد میرے مرد کا کیا ہو گا،میرے بچوں کا کیا ہو گا۔کہیں دوسری عورت نہ بیاہ لائے۔بالکل اسی طرح جب مرد مر رہا ہو تو سوچتا ہے کہ کہیں میری عورت کسی اور کی نہ ہو جائے۔“ہوا میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔اس کے کانوں میں گرینی کے الفاظ گونجنے لگے۔ہاتھ بری طرح لرز رہے تھے مگر وہ ایک جگہ فریز تھی۔اس وقت پلنگ پر نہ بیٹھی ہوتی تو یقیناً گر جاتی۔

”مرد اپنے اختیار میں آئی عورت کو لے کر بہت حساس ہوتا ہے بیٹا۔اس نے تمہاری آنکھوں میں بغاوت دیکھ لی ہو گی۔ڈر رہا ہو گا کہ کہیں زخرف کسی اور کی نہ ہو جائے بس اس لیے کر دیا اظہار محبت۔اور دیکھو،وہ سچا ثابت ہوا نہ،تم آج تک کسی کی نہیں ہوئی۔“قانِتہ یزدان پتھر ہو گئی۔غرور کے بت میں دراڑیں پڑنے لگیں مگر وہ ایسے کیسے ہار مان سکتی تھی۔اسے کوشش کرنی تھی،کم از کم ایک آخری کوشش…..

”مرتا ہوا انسان جھوٹ….. جھوٹ نہیں بولتا۔“ناچاہتے ہوئے بھی آواز لڑکھڑا گئی تھی۔

”کہاں لکھا ہے؟“اس کی زبان پر لمحہ بھر کے لیے فقل لگ گیا تھا پھر ہمت جمع کر کے ایک بار پھر سماک کے دفاع میں آواز بلند کی۔

”مرتے وقت انہوں نے خود کہا تھا کہ اپنا آسمان چن لینا۔کسی ایسے کو ڈھونڈ لینا جو تمہارے ساتھ بارش میں کھیلے اور سمندر کنارے گھر بنائے۔“اس کی دائیں آنکھ سے آنسو بہہ نکلا تھا۔ہونٹ بری طرح کپکپا رہے تھے مگر دفاع تو اسے کرنا ہی تھا۔

”یہی تو منافقت ہے۔ایک طرف تمہیں آزاد کر کے تمہاری نظر میں فرشتہ بن گیا،دوسری طرف محبت کا ذکر کر کے تمہیں قید کر لیا۔تم آج بھی قید ہو زخرف۔خدا کے لیے،خود کو ان بیڑیوں سے آزاد کروا لو۔غزوان کے ساتھ دوبارہ سے گھر بناؤ۔سب بھول جاؤ۔ایک موقع دو اسے۔سِماک کو تم سے محبت نہیں تھی،اگر اسے واقعی تم سے محبت تھی تو پھر میری دعا ہے کہ اللہ اس دنیا سے محبت نام کا لفظ ہی مٹا دے۔“

”چپ کر جائیں۔خدا کے لیے چپ کر جائیں۔آپ سب لوگ مجھے پاگل کر دیں گے۔“اس نے چیختے ہوئے فون دیوار پر دے مارا پھر سر تھام کر بستر پر ڈھے گئی۔آنسو آنکھوں سے بہتے رہے مگر ہار اس نے پھر بھی نہ مانی۔

ایک جھٹکے سے اٹھی اور بےدردی سے آنکھیں رگڑیں۔اب اس کا رخ وارڈاب کی جانب تھا۔وہ جانتی تھی کہ سارے سوالات کے جوابات کہاں ملے گے۔سکون کہاں ملے گا۔وہ آج کافی عرصے کے بعد سائیکالوجسٹ کے پاس جا رہی تھی۔

غزوان صبح صبح کہاں گیا تھا۔رات گھر آیا بھی تھا یا نہیں۔اسے اس سب سے کوئی غرض نہ تھی۔