61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 35)

قسط نمبر 35
گرمی کی دوپہر تھی،سورج اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا اور دھوپ سڑک کنارے رکھے کنکروں سے ٹکرا کر آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔پرانی،سادہ سی ٹی شرٹ کے نیچے قتادہ نے گھسی ہوئی جینز پہن رکھی تھی۔وہ گھر میں کھڑی سیاہ رنگ کی گاڑی کو بہت محویت سے صاف کر رہا تھا۔ان کی آستینیں کہنیوں تک چڑھی ہوئی تھیں اور چہرے پر پسینے کے قطرے نمودار تھے۔وہ گاڑی کے شیشے پر جھکا سنجیدگی سے کپڑا پھیر رہا تھا۔
اس ہی لمحے کسی کی چہکتی آواز اس کے کانوں میں گونجی۔
”ہائے بیگر!“قتادہ کے ہاتھ رکے۔اس نے گردن کو ہلکا سا خم دے کر پیچھے دیکھا۔قیمتی جوتے،برانڈڈ شرٹ اور شوخ لہجہ…..وہ غزوان جہانزیب تھا۔
”تم اس گھر میں کام کرتے ہو۔واؤ،میں بھی اس گھر میں رہتا ہوں۔یہ میرے پاپا کے دوست کا گھر ہے۔ہم کچھ دنوں کے لیے یہاں آئے ہیں۔“اس نے تالی بجاتے نہایت اشتیاق سے کہا۔
قتادہ کی آنکھوں میں چنگاریاں لپکیں مگر لب خاموش رہے۔اس نے گہرا سانس لیا اور دوبارہ کپڑے کو گاڑی پر رگڑنے لگا۔
”ویسے تم بولتے کیوں نہیں ہو دوست؟“قتادہ کے لب بھینچ گئے۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ غزوان سے اس طرح یہاں ملاقات ہو گی مگر قسمت کے آگے کس کی چلتی ہے؟
”تم نے مجھے پنچ مارنا بھی نہیں سکھایا۔میں کوئی عام لڑکا نہیں ہوں،میرے پاپا بہت بڑے آدمی ہیں۔ہم اسپین میں رہتے ہیں۔تم نے کبھی اسپین دیکھا ہے؟“غزوان اب گاڑی کے گرد چکر لگا رہا تھا درحقیقت قتادہ کا ضبط آزما رہا تھا۔
”یہ جو میرے پاپا کے دوست ہیں ناں،یہ بھی بہت ریچ(امیر) ہیں۔ابھی پچھلے دنوں انہوں نے ایک بہت بڑی کمپنی میں کچھ شیئرز خریدے ہیں۔“وہ اب گاڑی کے اوپر چڑھنے کی ناکام کوشش کرتے قتادہ کو کمپنی کا نام بتا رہا تھا۔قتادہ صرف لمحہ بھر کو ٹھٹھکا پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔وہ جس کمپنی کا نام لے رہا تھا،وہ قتادہ کے باپ کی تھی جس پر فلحال اس کے چچا کا قبضہ تھا۔
اگر یہ بات وہ غزوان کو بتا دیتا تو یقیناً اس کا منہ ”واؤ“ کے انداز میں کھلتا اور وہ یقیناً اسے ”ریچ بیگر(امیر فقیر)“ کے لقب سے نوارتا۔
قتادہ نے سر جھٹک کر کام جاری رکھا۔وہ صاف شیشے کو بار بار رگڑ رہا تھا۔مقصد صرف غزوان کو نظر انداز کرنا تھا۔
”تم بات کیوں نہیں کرتے مجھ سے؟“
”یہ بول نہیں کر سکتا چھوٹے صاحب۔“جواب کسی ملازم نے دیا تھا۔غزوان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گیئں۔
قتادہ نے آخری بار کپڑا گاڑی پر مارا اور وہاں سے جانے لگا مگر غزوان کی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔
”واؤ تم تو بہت محنتی ہو۔میں تم سے متاثر ہوا ہوں۔“قتادہ کے قدم رکے۔آنکھوں میں حیرت در آئی،پلٹ کر غزوان کو دیکھا اور دیکھتا رہ گیا۔وہ پہلا انسان تھا جس کی آنکھوں میں اس کے لیے کوئی ترس یا ہمدردی نہیں تھی۔وہ اس سے متاثر تھا۔عجیب بات تھی مگر قتادہ ذوالفقار ابھی غزوان جہانزیب سے ناواقف تھا۔یہ پہلی حیران کن بات تھی جو اسے غزوان کے بارے میں پتا چلی تھی۔وہ چھوٹا سا لڑکا اسے زندگی کے ہر موڑ پر حیران کرنے والا تھا۔
”یہاں سائن کرو۔“وہ اپنے خیالات میں گم کب سے وہاں کھڑا تھا۔ملازم اور غزوان کب گئے اسے علم نہ ہو سکا۔ہوش اسے تب آیا جب غزوان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ہلایا۔
وہ چہکتے ہوئے قتادہ کے آگے ایک کاغذ اور پین لہرا رہا تھا۔قتادہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا پھر اس کے ہاتھ سے کاغذ تھام لیا۔
”آج سے ہم دوست ہیں۔ہمارا دوستی کا یہ معاہدہ ساری زندگی کے لیے ہے۔تم حلفاً کہہ رہے ہو کہ تم مجھے پنچ مارنا سکھاؤ گے۔“قتادہ کو وہ نوٹ پڑھ کر بے اختیار ہنسی آئی۔اسے غزوان سے یہ بعید نہ تھی۔
”چلو سائن کرو۔“وہ پورے استحقاق سے اسے سائن کرنے کا کہہ رہا تھا۔قتادہ نے استہفامیہ ابرو اٹھائی اور گہری سانس لے کر اس کے ہاتھ سے پین لے لیا۔کاغذ کو گاڑی پر رکھا اور سائن کر کے فوراً اسے تھما دیا۔فلحال جان خلاصی کا یہی ایک طریقہ تھا۔فقط ایک کاغذ پر دستخط کر کے ان کی دوستی نہیں ہو سکتی تھی۔(یہ اس کا ذاتی خیال تھا)
غزوان نے ایک نظر اس کے دستخط پر دوڑائی اور دوسری قتادہ کے چہرے پر…..وہ خوشی سے اچھل پڑا۔اس نے کہا تھا کہ وہ قتادہ سے قبول کروا کر رہے گا کہ وہ دوست ہیں۔اس نے اپنی ضد پوری کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ شہر کے مضافات میں واقع نرسری ہاؤس تھا۔جہاں ہر طرف پتوں کی سرگوشیاں اور نم مٹی کی خوشبو تھی۔یہ جگہ اتنی پُرسکون تھی کہ پتوں پر پڑی پانی کی بوندوں کی آواز بھی سنائی دے۔
پودوں کی قطاروں کے بیچ کچی اینٹوں کی روش تھی۔وہاں ایک لکڑی کے شیڈ کے نیچے قتادہ اور غانیہ کھڑے تھے۔غانیہ کے ہاتھ میں ایک گملہ تھا۔اس کے ہاتھوں پر مٹی لگی ہوئی تھی۔
یہ نرسری این جی او اونر کی تھی۔وہ اکثر یہاں آتی تھی مگر قتادہ کے ساتھ پہلی بار آئی تھی۔وہ پوری دلجمعی سے کام کر رہی تھی جبکہ قتادہ ایک طرف کھڑا اسے یہ سب کرتے دیکھ رہا تھا۔یہ غانیہ کا شوق تھا لہٰذا اسے عزیز تھا۔
”ایک بات کہوں تم سے؟“غانیہ کو اپنی جانب متوجہ پا کر اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے اشارہ کیا۔
”جی…..؟“غانیہ کے لبوں پر پُرسکون مسکراہٹ کا بسیرا تھا۔
”اگر میں تم سے کہوں کہ وہ جاب مت کرو پھر؟“ایک پتا شاخ سے ٹوٹ کر نیچے گرا۔غانیہ کے لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔اس نے گملہ ایک طرف رکھا اور سنجیدگی سے قتادہ سے پوچھا۔
”اس بات کا کیا مطلب ہوا؟“
”میں تمہارا ہونے والا شوہر ہوں۔کچھ سوچ کر ہی کہا ہے میں نے۔وہ نوکری ٹھیک نہیں ہے غانیہ۔تم مت کرنا بلکہ تمہیں کوئی بھی نوکری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں تمہارے سارے خرچے……“
”اس کے آگے ایک لفظ مت کہیے گا۔“غانیہ نے درشتی سے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔چہرے کے تاثرات یک لخت سخت پڑ گئے۔
”آپ صرف میرے منگیتر ہیں لہٰذا شوہر بننے کی کوشش نہ کریں۔اپنا اچھا برا میں سمجھتی ہوں۔“
”جانتا ہوں مگر تم میری بات مان لو غانیہ۔صرف یہ بات مان لو۔میں تمہارا برا نہیں چاہتا۔“اس کے اردگرد موجود تمام پودے اس کی آنکھوں کی صداقت کی خاموش حمایت کرنے لگے مگر غانیہ یوسفزئی کے جلال سے کانپ اٹھے۔
”میں وہ نوکری ہر حال میں کروں گیئں۔اگر آپ کو مسئلہ ہے تو پھر میں یہ منگنی ختم کر رہی ہوں۔“وہ غصے سے پلٹی اور آگے بڑھ گئی۔اس نے ایک بار بھی پلٹ کر دیکھنا گوارا نہ کیا۔قتادہ اپنی جگہ جم گیا۔وہ بات بات پر منگنی توڑ دیتی تھی معنوں اس کے احساسات اور جذبات کی کوئی وقعت ہی نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے پہر کمرے میں گہری خاموشی تھی،جیسے دیواریں بھی سانس روکے بیٹھی ہوں۔پردے آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔کمرے میں ہلکی سی خنکی تھی۔
قانِتہ صوفے پر خاموش بیٹھی تھی۔نظریں کسی غیر مرئی نقطے پر جمی تھیں مگر وہ نقطہ کمرے میں نہیں ماضی کے کسی موڑ پر تھا۔
آنکھوں میں تھکن تھی جیسے اس نے آج خود کو بہت سمجھایا ہو،بہت کچھ ہارا تھا۔
دروازہ آہستگی سے کھلا اور غزوان اندر داخل ہوا۔اس نے آتے ہی سوئچ دبایا اور کمرہ روشنی میں نہا گیا۔اس کی نگاہ قانِتہ پر جا ٹھہری،دل میں جذبات کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔لبوں پر نرم مسکراہٹ نے بسیرا کر لیا۔جب جہانزیب نے فون کر کے اسے قانِتہ کی واپسی کی خبر سنائی تو غزوان کا سارا غصہ جھاگ بن کر اڑ گیا۔اگر وہ انا سے جنگ چھیڑ کر یہاں آ سکتی تھی تو وہ کیوں اس سے خفا رہتا؟
قانِتہ کے دیے گئے سارے زخم جیسے مندمل پڑ گئے۔وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کی طرف آیا۔
قانِتہ نے اس کے قدموں کی آہٹ سنی مگر نگاہیں نہیں اٹھائیں۔اس کی پلکیں ضبط کے بوجھ سے بھاری تھیں۔
وہ قریب آیا۔کچھ دیر والہانہ نگاہوں سے اسے تکتا رہا پھر اس کے نزدیک صوفے پر بیٹھ گیا۔
قانِتہ دونوں ہاتھ گود میں دہرے فرش پر نجانے کیا تلاش کر رہی تھی۔غزوان نے اپنا ہاتھ بڑھایا مگر پھر رک گیا،ٹھہر گیا،جامد ہو گیا۔
”چھونا مت مجھے۔آج ہاتھ پکڑو گے نہ تو سب برباد ہو جائے گا۔میں جب بھی اپنے ہاتھ کی جانب دیکھوں گیئں،مجھے خود سے گھن آئے گی۔“غزوان کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔اس کی آنکھوں کے جوت بجھ گئے۔قانِتہ کے الفاظ،اس کا لہجہ نیزے کی مانند اس کے دل میں کہیں کھب گئے۔
وہ چند لمحے خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔اس کی نگاہوں میں نہ غصہ تھا،نہ کوئی سوال…… وہاں بس زخمی سی حیرت تھی،بےبسی تھی۔
اس نے ہاتھ کی مٹھی بھینچ لی اور تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”واپس کیوں آئی ہو؟“الفاظ کو توڑ جوڑ کر جملے کی شکل دے دی گئی مگر دل کی تراش خراش کا عمل ابھی جاری تھا۔
”انکل کے کہنے پر آئی ہوں اور یہ دیکھنے کہ آخر کب تک تم یہ ڈرامہ کرتے ہو۔ایک نہ ایک دن تو تمہیں اپنا اصل ظاہر کرنا ہی پڑے گا۔“وہ اٹھی اور اس کے عین سامنے آ کھڑی ہوئی۔ڈھٹائی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر کہا۔
غزوان کی آنکھوں میں خاموش فریاد ابھری۔اس نے قانِتہ کو دیکھا،ایک گہری زخمی نظر…….
غزوان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری،ایک تلخ چھبتی ہوئی ریختگی……پھر اس نے اسی مسکراہٹ کے ساتھ آہستگی سے سر جھٹکا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ایک لفظ نہ کہا،وہ اسے کچھ کہنے کے قابل چھوڑتی ہی کب تھی؟
وہ چلا گیا تو نرم روشنی چھبنے لگی۔قانِتہ وہیں ساکت کھڑی رہی۔دل اندر ہی اندر کہیں ٹوٹ گیا،بکھر گیا۔
وہ چلا گیا مگر اس کی زخمی آنکھیں،سر جھٹکنے کا انداز اور بےبسی بھری تلخ مسکراہٹ کمرے میں ہی رہ گئیں معنوں وہ خاموش عدالت لگا کر چلا گیا ہو۔اپنی بے گناہی کے ثبوت چھوڑ کر تختہ دار پر چڑھ گیا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات مکمل خاموش تھی۔ایسی خاموش کہ لفظوں کو کھا جائے۔گھر کی ہر چیز بےجان تھی۔گھڑی کی سوئیوں کی آواز بھی کمرے سے اوب چکی تھی۔دروازہ ہلکی سی چڑچڑاہٹ سے کھلا اور وہ اندر داخل ہوا۔ہاتھ میں گاڑی کی چابی تھی اور کندھے جھکے اور تھکے ہوئے تھے۔چہرے پر شکست کے نقوش ثبت تھے معنوں کوئی سپاہی دل کی جنگ ہار گیا ہو۔
کمرے میں نیم تاریکی تھی۔دیوار کے ساتھ لیمپ جل رہا تھا۔قانِتہ بستر پر ٹیک لگائے نیم دراز تھی۔انگلیاں آپس میں پھنسائے ہاتھ گود میں دھرے ہوئے تھے۔
غزوان بستر کے قریب آیا۔نگاہیں تھکن سے سرخ پڑ چکی تھیں۔اس نے جھک کر تکیہ اٹھایا اور مڑنے لگا۔قانِتہ کے دل میں معنوں زلزلہ برپا ہو گیا۔
”تم بستر پر سو سکتے ہو۔“اس نے دل کو تھام کر اسے روکنا چاہا۔وہ کنفیوژ لگ رہی تھی۔اگر اس نے جانے کا فیصلہ کر لیا تھا تو پھر واپس کیوں آئی تھی؟اگر واپس آ ہی گئی تھی تو پھر اتنا سرد رویہ کیوں؟وہ جتنا سوچتی،اتنا الجھتی چلی جاتی۔
وہ ٹھٹھک گیا۔آنکھوں میں لمحہ بھر کے لیے سناٹا چھا گیا پھر لبوں پر گھائل مسکراہٹ ابھری۔
اس نے گہری سانس لی اور گردن ترچھی کر کے قانِتہ کی جانب دیکھا۔
”رات کو چھپکے سے تمہیں تکنا میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے اور صبح تمہاری بند پلکوں پر بوسہ دینا میرے دن کی ابتداء۔میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ میری بیوی کو اپنے چہرے اور آنکھوں سے گھن آئے۔“اس نے کہا اور چلا گیا۔قانِتہ کا سینہ تنگ ہو گیا۔دل ڈھڑکنے کے بجائے سسکنے لگا۔آنکھوں کے آگے بے یقینی کا دھواں چھا گیا۔
غزوان کے چند جملوں نے قانِتہ کی زبان پر فقل لگا دیا۔اس پر ایسا سکتہ طاری ہوا معنوں بولنے کی حس اس سے چھین لی گئی ہو۔
وہ اس خالی کمرے میں بوجھل خاموشی کے ساتھ اکیلی رہ گئی۔اردگرد موجود ہر چیز ویسے ہی تھی بس اب اجنبی سی لگنے لگی تھی۔دل میں موجود سیاہ سایہ گہرا ہوتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں ہوا بوجھل تھی معنوں خاموشی سانسوں میں جم گئی ہو۔صوفے پر بے ترتیب سی کئی جرابیں پڑیں تھیں۔دراز کھلی تھی،اس کا ہینڈل تھکا تھکا سا لگتا تھا۔
صوفے کے قریب پڑی بڑی سی میز کے اوپر سوٹ کیس رکھا ہوا تھا۔غزوان اپنے کپڑے تہ کر کے سوٹ کیس کے اندر ڈال رہا تھا،انداز کسی چیز کو دفن کر دینے والا تھا۔
قانِتہ چادر اوڑھے بستر پر گہری نیند سو رہی تھی۔اس کی آنکھ دو گھنٹے پہلے ہی لگی تھی۔نیند میں وہ ذرا سا کسمسائی پھر چھت کو دیکھتے آنکھوں کو بھاری پلکوں کے بوجھ سے آزاد کیا۔بغیر تاثر کے اس نے کروٹ بدلی۔غزوان پر نظر پڑتے ہی اسے چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔وہ آنکھیں کھولے شاک سے اٹھ بیٹھی۔
”کہاں جا رہے ہو؟“بےساختہ زبان سے نکلا۔
”کچھ خاص نہیں بس بزنس کے کسی کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جا رہا ہوں۔“اس نے بغیر دیکھے سنجیدگی سے کہا۔وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی یہاں تک کہ غزوان نے بیگ کی زپ بند لی۔
”کتنے دنوں کے لیے جا رہے ہو؟“اگلا سوال زبان پر خودبخود آ گیا۔
غزوان نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے اور بیگ کو کھڑا کیا۔”چند دنوں کے لیے ویسے بھی تمہارے لیے تو بہت اچھا ہے۔کم از کم تمہیں خود سے گھن تو نہیں آئے گی قانِتہ!“اس نے اس کے نام پر زور دیتے ہوئے کہا۔وہ اسے قانِتہ کہہ کر پکارتا تھا مگر بہت کم اور جس انداز سے وہ پکارتا تھا،وہ یہ انداز ہر گز نہیں تھا۔قانِتہ کو پہلی بار اپنا نام برا لگا تھا۔اسے غزوان کے منہ سے ”پری وش“ سننا اچھا لگتا تھا۔
وہ خفا تھا مگر خفا سے زیادہ وہ ہرٹ تھا۔قانِتہ کے الفاظ نے اسے گہرا گھاؤ دیا تھا۔
”اچھی بات ہے،تمہیں جانا چاہیئے۔میرے ذہنی سکون کے لیے یہ ضروری ہے۔“یہ جملہ کمرے میں گونجا
اور یہاں اس نے غزوان کے دل پر اپنی بےحسی کی مہر لگا دی۔
غزوان لمحہ بھر کو رک کر اسے دیکھنے کے لیے مجبور ہو گیا۔آنکھوں میں حیرت نہیں سوال ابھرا۔”کیا وہ اس کی بے سکونی کا سبب تھا؟“
قانِتہ چادر لپیٹ کر واپس سو گئی۔دور جاتے قدموں کی آواز پر بھی اس نے آنکھیں نہ کھولیں۔
اس کی آنکھیں گاڑی کے ہارن کی آواز پر کھلیں۔سرمئی آنکھوں میں کچھ چمکا پھر یکدم ہر سوں خاموشی چھا گئی۔گاڑی بہت آگے بڑھ گئی تھی۔اس خاموشی میں ایک رشتہ بوسیدہ دروازے کی طرح پیچھے رہ گیا۔خاموش،بند اور غیر متحرک…….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ایک مہینے بعد)
غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی

جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے

چائے کی ٹرے مستحکم انداز میں تھامے وہ طیبہ کے کمرے کے سامنے رکی تھی۔دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے گہری سانس اندر کھینچی۔اندر ایک عجیب سا دکھ بسا تھا،ایسا دکھ جو روز پلتا ہے،روز جیتا ہے مگر زبان پر نہیں آتا۔
اس نے دروازہ کھٹکھٹا کر اجازت طلب کی۔طیبہ نے ایک نگاہ دروازے کی سمت دیکھا پھر ناگواری سے اجازت دے دی۔”آ جاؤ۔“
قانِتہ خاموشی سے اندر داخل ہوئی اور ٹرے طیبہ کے قریب رکھ دی۔
”میں اپنے لیے چائے بنا رہی تھی تو سوچا آپ کے لیے بھی بنا لوں۔“اس نے لبوں کو بمشکل مسکراہٹ میں ڈھالتے ہوئے کہا۔اس کے اور طیبہ کے آپسی تعلقات کبھی اتنے اچھے نہ رہے تھے مگر اتنے برے بھی نہیں تھے جتنے ایک مہینے سے ہو گئے تھے۔
طیبہ مورے نے کپ کو چھوا تک نہ۔انہوں نے فقط ایک نگاہ قانِتہ پر ڈالی۔ایسی تلخ نگاہ کہ وہ نگاہیں چرانے پر مجبور ہو گئی۔
وہ چند لمحے تذبذب کا شکار وہاں کھڑی رہی پھر آہستگی سے گویا ہوئی۔
”آنٹی چائے لیں ناں؟“
”میرا دل نہیں چاہ رہا۔“ان کے لہجے میں زہر نہیں تھا،بس سختی تھی۔برف جیسی سختی……ایسی برف جو سالوں میں ایک بار پہاڑوں پر جمتی ہو۔
قانِتہ انگلیاں مڑورتے ادھر اُدھر دیکھنے لگی معنوں صحیح الفاظ تلاش کر رہی ہو۔اسے طیبہ کی ناراضگی اور بات بہ بات طنز و طعنے بہت اذیت دیتے تھے۔وہ چاہتی تھی کہ تعلقات کچھ بہتر ہوں جائیں۔
وہ آہستگی سے طیبہ کے پاس بستر پر بیٹھ گئی۔
”آپ مجھ سے کیوں ناراض ہیں؟“اس نے ہمت جمع کرتے پوچھا۔
”ایک مہینہ ہو گیا ہے۔اس کے قدموں کی چاپ تو دور آواز تک نہیں سنی۔“قانِتہ چاہ کر بھی کچھ بول نہ سکی۔الفاظ جم سے گئے۔پلکیں خود بخود جھکتی چلی گیئں۔کمرے میں چائے کی بھاپ کی جگہ سرد رویوں کا دھواں چھا گیا۔
”میں…..میں نے اسے جانے کے لیے نہیں کہا۔“اب کی بار جب وہ بولی تو آواز بھیگی ہوئی تھی۔
”جانے ہی کیوں دیا؟تم روکتی تو کبھی نہ جاتا۔“ان کا لہجہ ایسا تھا جیسے خزاں میں پیروں تلے کچلے جاتے خشک پتے۔بے جان اور بے رحم……
”تو آپ بلا لیں ناں واپس۔آپ تو ماں ہیں۔آپ کہیں گیئں تو…..“
”میرا بیٹا ہے وہ۔رگ رگ سے واقف ہوں میں اس کی۔کبھی نہیں آئے گا،کبھی بھی نہیں۔اللہ جانے تم نے کیا کہا ہے کہ میرا بیٹا گھر چھوڑ کر ہی چلا گیا۔“ان کا لہجہ پتوں پر گرنے والی شبنم جیسا تھا جو لرزتے ہوئے بھی خود کو تھامنے کی کوشش کر رہا ہو۔قانِتہ کی آنکھوں کو بھاگنے کے لیے کوئی راہ نہ ملی تو اس نے کسی مجرم کی طرح پلکیں جھکا دیں۔
”اس کی قسمت خراب تھی جو تم سے شادی ہو گئی۔“وہ اب اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھیں اور وہ خاموشی سے سر جھکائے سن رہی تھی۔
”آپ سچ کہتی ہیں۔“اس کے لب آہستگی سے ہلے مگر الفاظ کی بازگشت طیبہ کے کانوں تک نہ پہنچ سکی۔
”غلط فہمی ہوئی ہے تمہیں۔میرا بیٹا اپنے کسی دوست سے تمہارے بارے میں ایسی بات نہیں کر سکتا۔وہ عورت کی عزت کرنا جانتا ہے۔تمہیں پتا ہے قانِتہ……تین سال پہلے انہوں( جہانزیب) نے غزوان کا اپنے کسی دوست کی بیٹی کے ساتھ رشتہ پکا کر دیا تھا۔اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔نجانے کہاں سے اسے علم ہوا کہ لڑکی کسی اور کو پسند کرتی ہے۔ہم سے بات کرنے کے بجائے غزوان نے سیدھا اس لڑکی کے والد سے بات کی اور اس کی شادی اس کی منشاء کے مطابق کروا دی۔اس کا شوہر اسے اپنے ساتھ ترکی لے گیا۔تین مہینے بعد ہمیں علم ہوا کہ اس لڑکی کا قتل ہو گیا ہے اور قتل کرنے والا اس کا اپنا شوہر ہے۔میرے بچے کا دل بری طرح ٹوٹ گیا۔گم صم رہنے لگا۔اس سب کا ذمہ دار خود کو ٹھہرانے لگا۔کہتا تھا اگر مجھے علم ہوتا کہ وہ شخص ایسا کچھ کرے گا تو میں خود شادی کر لیتا۔ہمارے درمیان محبت نہ سہی مگر عزت ضرور قائم رہتی۔“بولتے ہوئے ان کی آواز بھرا گئی۔قانِتہ دم سادھے انہیں سن رہی تھی۔
”میرا ہنستا کھیلتا بیٹا چپ سا ہو گیا۔بات تک کرنی چھوڑ دی۔میں جب اسے ایسے دیکھتی تھی تو دل کٹتا تھا میرا پھر ایک دن تم اس کی زندگی میں آئی۔اس رات جب وہ گھر لوٹا تو میں حیران رہ گئی۔اس کی آنکھیں روشن تھیں اور چہرہ ہشاش بشاش۔میرے دل سے اس شخص کے لیے دعا نکلی جس کی بدولت میرا بیٹا زندگی کی طرف لوٹ آیا تھا۔“انہوں نے لمحہ بھر کا توقف لیا۔
”جس دن ہسپتال میں اس نے تمہارے ساتھ نکاح کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے غزوان کو بہت ڈانٹا۔گھر لوٹے تو کہنے لگے خوش ہو طیبہ،تمہارا بیٹا پھر سے بگڑ گیا ہے۔“وہ نم آنکھوں سے ہنس دیں۔طیبہ کی باتیں سن کر قانِتہ کے دل میں کچھ چھبنے لگا۔ان کا دکھ اس نے اپنی رگوں میں اترتا ہوا محسوس کیا۔
”میں نے سمجھایا اسے اور وہ سمجھ گیا۔کہنے لگا کہ معافی مانگ لی ہے اس لڑکی سے،اب دوبارہ اس کے پیچھے نہیں جاؤں گا۔اس کے انکار کا احترام کروں گا۔کوردوبا میں جب تم سے ملاقات ہوئی تو ہم سب ہی ناواقف تھے کہ تم وہی لڑکی ہو۔جہانزیب اس رشتے کے خلاف تھے۔انہیں لگا کہ تم خود ہی انکار کر دو گی مگر غزوان نے کہا کہ وہ ایک کوشش کرنا چاہتا ہے۔جانتی ہو اس نے مجھ سے اور کیا کہا؟“قانِتہ نے سوالیہ نگاہیں ان کے چہرے پر جما لیں۔
”کہنے لگا کہ ایک راز کی بات بتاؤں مورے،آپ قانِتہ اور پاپا کو کبھی مت بتائیں گا۔میرا ہسپتال میں اس سے نکاح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔میں جانتا تھا کہ وہ کچھ نہ کچھ کر کے یہ نکاح ملتوی کر دے گی۔نہ بھی کرتی تب بھی میں خود اسے گھر چھوڑ کر آتا۔ہسپتال کی انتظامیہ سے بات ہوئی تھی میری،پاپا چھاپہ نہ مارتے تو وہ لوگ مار دیتے۔“قانِتہ کا دل ڈھڑک رہا تھا مگر سانس کہیں قید ہو گئی۔آنکھیں حیرت سے اتنی پھیلیں کہ اردگرد موجود ہر چیز چھوٹی لگنے لگی۔
”میں نے پوچھا اگر واقعی نکاح نہیں کرنا تھا تو اس ڈرامے کا کیا مقصد؟“طیبہ نے معنوں اس کے دل میں ابھرتا سوال پڑھ لیا تھا۔
”کہنے لگا غصہ آ گیا تھا۔اس نے مجھ پر وار کیا۔مجھے زخمی کیا۔میں انتقام لینا چاہتا تھا لیکن میں نے غلط کیا۔میں مانتا ہوں کہ میں نے غلط کیا۔میں نے پھر اس سے پوچھا کہ آخر تم نے ہریس کیا ہی کیوں؟جانتی ہو اس نے کیا کہا؟“قانِتہ کا سر خودبخود نفی میں ہلا۔
”کہنے لگا کہ یہی بڑی غلطی ہوئی۔ہریس نہیں کر رہا تھا بس مذاق کر رہا تھا۔اپنے دوستوں کے ساتھ بھی کرتا ہوں،چاہے لڑکا ہو یا لڑکی اور وہ بھی میرے ساتھ کرتے ہیں مگر یہاں میں بھول گیا تھا کہ سامنے دوست نہیں محبت ہے۔صریح غلطی ہوئی،اس کی نگاہوں میں اپنا امیج مزید خراب کر لیا۔احساس ہوا مجھے مگر دیر ہو گئی۔“وہ آخر میں ہنسی۔اس ہنسی میں کرب تھا،ملال تھا،قلق تھا۔
”میں جانتی ہوں کہ میرا بیٹا فرشتہ نہیں ہے مگر وہ شیطان بھی نہیں ہے۔تم بھی انسان ہو قانِتہ لہٰذا اسے بھی انسان سمجھو۔پرانی باتیں بھول کر اب آگے بڑھ جاؤ۔وہ بہت چاہتا ہے تمہیں،تمہاری سوچ سے بہت زیادہ…….تم بلاؤ گی تو فوراً آ جائے گا۔نہیں بلاؤ گی تو ساری زندگی پلٹ کر نہیں دیکھے گا۔بہت ضدی ہے،بہت زیادہ……“قانِتہ کی سوچوں نے اسے جکڑ لیا،ایک ایسے مقام پر جہاں ہر لفظ خود ہی سوال بن جائے۔اس کا دماغ ہر دروازہ بند کر کے اب سوچ کے اندھیرے میں جا چھپا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گرینی کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی۔گرینی خاموشی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں۔وہ بہت پہلے یہاں آنا چاہتی تھیں مگر کسی وجہ سے آ نہیں سکی تھیں۔قانِتہ گرینی کے پاس اپنے گھر میں رہنا چاہتی تھی مگر جہانزیب کی بات مان کر وہ ان ہی کے گھر رہ رہی تھی۔انہوں نے گرینی کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا۔
قانِتہ سپاٹ نگاہوں سے چھت کو تک رہی تھی مگر نگاہوں کے آگے کسی کا چہرہ چھپا تھا۔
”ضد چھوڑ کیوں نہیں دیتی قانِتہ۔رشتے ایسے تو نہیں نبھائے جاتے۔“گرینی نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے آہستگی سے کہا۔
”تو وہ پہل کیوں نہیں کرتا؟کال تو دور میسج تک نہیں کیا اس نے۔“اس کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔
”تو تم کر لو ناں۔آخر کیوں اپنا رشتہ خراب کر رہی ہو؟“
”میں نہیں کر رہی۔وہ خود گھر چھوڑ کر گیا ہے۔بھلا کوئی مرد بھی ایسا کرتا ہے؟“اس نے گرینی سے زیادہ خود سے سوال کیا۔
”یہی تو اس کی خوبی ہے۔اپنا غصہ تم پر نہیں چیزوں پر اتارتا ہے۔تمہیں گھر سے نکالنے یا جھگڑا کرنے کے بجائے وہ خود خاموشی سے چلا گیا۔خفا ہے تم سے مگر اس سے زیادہ وقت دے رہا ہے تمہیں۔جب تک تم خود قدم آگے نہیں بڑھاؤ گی،وہ واپس نہیں آئے گا۔“قانِتہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔اس نے بے یقینی سے گرینی کی طرف دیکھا۔
”آپ کو یہ سب کیسے پتا؟“گرینی مسکرا دیں۔انہوں نے قانِتہ کی گال پر ہاتھ رکھ کر پیار سے کہا۔”تجربہ ہے بیٹا۔“وہ فورا ریلکس ہوئی۔وہ خفا تھا وہ جانتی تھی مگر وہ اسے وقت نہیں دے رہا تھا،یہ بھی وہ جانتی تھی۔گرینی کو یقیناً غلط فہمی ہوئی تھی۔
”لگتا ہے گرینی،مجھے کسی کی بددعا لگ گئی ہے۔شاید شگوفہ کی یا پھر……یا پھر سِماک کی……ہو سکتا ہے کہ وہ زندہ ہو۔ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے ڈھونڈ رہا ہو۔“گرینی کا بے اختیار دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ لیں۔بات کہیں سے بھی شروع ہو،وہ سِماک کو درمیان میں لے ہی آتی تھی۔
”اگر تمہیں اس کے زندہ ہونے پر ذرا بھی شبہ ہوتا تو تم کبھی غزوان کے ساتھ اس بندھن میں نہ بندھتی۔چھوڑ دو بیٹا،اب بس کر دو۔امانت میں خیانت نہ کرو۔صرف غزوان کے بارے میں سوچو،اپنے مستقل کے بارے میں سوچو۔“قانِتہ نے آنکھیں بند کر کے دوبارہ گرینی کی گود میں سر رکھ لیا۔وہ تھک گئی تھی،اپنی ضد اور خالی پن سے…..لیکن پھر بھی اپنی انا کو قربان کر کے اسے منانے کا خیال دل کے کسی گوشے میں دبا رہا۔وہ ضد پر اڑ چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلنگ سے ٹیک لگائے وہ نیچے قالین پر بیٹھی تھی۔ٹانگیں سمیٹے فون ہاتھ میں تھامے…..بار بار اس کی انگلیاں کچھ لکھتی تھیں پھر مٹا دیتی تھیں۔
”تمہاری مورے تمہیں یاد کر رہی ہیں۔“
”تمہارے پاپا بہت دکھی ہیں۔“
”انکل پر کام کا زیادہ لوڈ پڑ گیا ہے۔وہ تمہیں بلا رہے ہیں۔“اس نے آخری بار بھی پیغام مٹایا اور فون ایک طرف اچھال دیا۔ہر جملہ بے ربط تھا۔وہ خود سے اسے آنے کا کیسے کہتی اور کیوں کہتی؟اسے غزوان کی ضرورت نہیں تھی،بالکل نہیں تھی۔وہ اس کے بغیر خوش تھی،بےحد خوش تھی۔
اس نے تھک کر آنکھیں موندیں اور پلنگ کی پشت سے ٹیک لگا لیا۔
اچانک کسی کی آواز تیرتی ہوئی اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
”کیسی ہو قانِتہ؟“اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔آنکھوں کے پردے پر جو منظر ابھرا،وہ وقت کی گرفت سے آزاد تھا۔
کمرے کے ایک کونے میں چھوٹی سی زخرف کھڑی تھی۔روشن مسکراہٹ اور سرمئی بڑی بڑی آنکھیں……
وہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی،اس گہرے سکوت میں معنوں آئینہ کھل گیا تھا۔
”تم یہاں کیوں آئی ہو؟“وہ بلبلا اٹھی تھی۔
”تمہیں دیکھنے……دیکھو تو ذرا تم نے اپنا دوسرا گھر بھی خراب کر لیا۔“ننھی چڑیا نے زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
”میں نے نہیں کیا۔وہ خود چھوڑ کر گیا ہے۔اگر اتنی محبت کرتا تھا تو نہ جاتا ناں۔“اس کے انداز میں تلخی تھی۔
”تم روک بھی تو سکتی تھی۔“
”میں کیوں روکتی اسے؟اپنی مرضی سے گیا ہے۔“اس نے ڈھٹائی کی ساری حدیں پار کر دیں۔
”تم میں اور سِماک میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔تم اس جیسی ہو۔“اور یہاں قانِتہ کی سانس اٹک گئی۔وہ اسے کس سے ملا رہی تھی؟کیا وہ ہوش میں تھی؟
”کیا بکواس کر رہی ہو؟“قالین پر زور سے ہاتھ مارتے وہ چلائی تھی۔
”کیا تم نے غزوان کے ساتھ ظلم نہیں کیا؟“سرمئی آنکھوں والی چڑیا نے جتانے والے انداز میں پوچھا۔
”میں نے کون سا ظلم کیا؟میں نے کچھ نہیں کیا۔“
”تو پھر سِماک نے بھی تم پر کوئی ظلم نہیں کیا۔کوئی زیادتی نہیں کی۔“قانِتہ کا ذہن سائیں سائیں کرنے لگا۔وہ خالی دماغی سے اپنے ہی عکس،اپنی ہی سوچ کو دیکھنے لگی۔ذہن کا دھاگہ الجھتا ہی چلا جا رہا تھا۔
”تم کہنا کیا چاہتی ہو؟“اس کے لب آہستگی سے ہلے۔
”یہی کہ تم سِماک جیسی ہو۔اس نے رشتے کا سارا بوجھ تمہارے کندھوں پر ڈال دیا اور تم نے غزوان کے۔سِماک کی دوسری شادی تھی مگر تمہاری پہلی تھی۔تم کم عمر تھی پھر بھی وہ تمہیں پیار سے سمجھاتا تو تم سمجھ جاتی۔اب تمہاری بھی دوسری شادی ہے۔تم نے اس رشتے کو بچانے کے لیے کیا کیا ہے قانِتہ؟کوئی ایک کوشش ہی بتا دو۔“وہ آنکھیں پھیلائے حیرت سے اس ننھی چڑیا کو دیکھ رہی تھی۔وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی۔اس نے تو کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔اب بھی وہ یہی چاہتی تھی کہ غزوان پہل کرے۔
”تم بھول رہی ہو قانِتہ،یہ تمہاری دوسری شادی ہے غزوان کی نہیں۔اس کی خواہشات اور توقعات کچھ اور ہیں لیکن تم نے قدر نہیں کی۔اب بھی قدر نہیں کرو گی تو بہت پچھتاؤ گی۔“
”تم…..تم پلیز چلی جاؤ۔“اس کی آواز روندھی اور تھکی ہوئی تھی۔
”میں کیسے جاؤں؟تم جب تک مجھے آزاد نہیں کرو گی تب تک میں کیسے جاؤں گیئں؟تم ذہنی طور پر اب بھی قید ہو۔خود کو اس رسم بندھن سے آزاد کر دو زخرف۔اب بس کر دو۔ختم کرو سب۔“ننھی چڑیا نے رخ پھیرا اور دھند میں کہیں غائب ہو گئی۔
قانِتہ نے سر گھٹنوں میں دیا اور سسکنے لگی۔آزادی تو پھر آزادی ہوتی ہے،چاہے جسمانی ہو یا ذہنی……آزادی تو پھر قربانی مانگتی ہے۔اس بار انا کی قربانی ہی سہی……
اس نے سر اٹھایا پھر آنکھیں رگڑیں اور بالآخر فون اٹھایا۔