Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 04)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 04)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
”سنیں…..“غزوان ابھی آفس سے باہر ہی نکلا تھا کہ قانِتہ کی مدھم آواز نے اس کے قدم روکے۔لبوں کے کنارے اٹھے پھر واپس اسی سنجیدگی سے اس کی جانب گھوما۔دائیں انکھ کی ابرو ریز کیے سوالیہ انداز میں اس کی جانب دیکھا۔
”لنچ بریک ہے،بات ہو سکتی ہے؟“انگلیاں مڑوڑتے اس نے کچھ دل گرفتگی سے پوچھا تھا۔
”اوکے!“وہ تو معنوں پہلے سے ہی تیار بیٹھا تھا۔
کمپنی کے قریبی ریسٹورنٹ میں جہاں مدھم روشنی سے فضاء پر سکون محسوس ہوتی تھی،دونوں آمنے بیٹھے تھے۔
قانِتہ نے تھوک نگل کر بات شروع کی۔حلق سکڑا،آنکھوں میں نمی در آئی۔نم آنکھیں اٹھا کر غزوان کی جانب دیکھا۔
”آپ مجھے نوکری سے نکلوا دیں گے؟“کچھ ڈرتے ہوئے پوچھا۔غزوان اسی سنجیدگی سے بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔
”بہتر ہو گا کہ آپ خود ہی زیزائن کر دیں کیونکہ ایک پاکستانی دہشت گرد کے ساتھ کام تو نہیں کریں گیئں آپ؟“نہایت تحمل سے طنز کا تیر برسایا گیا۔وہ شرمندگی سے نگاہیں جھکا گئی۔گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا۔
“Lo siento(سوری)”
”اگر اپ کو شادی سے انکار کرنا بھی تھا تو سیدھا سیدھا بھی کر سکتی تھیں۔“اب کی بار کچھ مزید برہمی سے کہا۔قانِتہ کا سر مزید جھک گیا۔
”میرے لیے یہ جاب بہت اہم ہے۔اسے کھونا نہیں چاہتی۔“جھکی نگاہیں اٹھا کر بہت معصومیت سے کہا گیا۔غزوان کے دل نے بے اختیار بیٹ مس کی۔
کسی سحر کے زیر اثر وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔آس پاس موجود ہر چیز سے بے خبر وہ ان آنکھوں میں کھو سا گیا۔کتنی معصومیت تھی ان آنکھوں میں۔
بیڑے کے آنے پر یہ جادوئی طلسم ٹوٹا۔
”آپ…..آپ آرڈر دے دیں۔“گڑبڑا کر نگاہیں ہٹائیں۔ڈر تھا کہ پسندیدگی کہیں عشق کا روپ نہ دھار لے۔
”پاپیرس سوپ“قانِتہ کے آرڈر دینے کے بعد غزوان نے بھی اپنا آرڈر دیا۔
”میں ایک ضدی انسان ہوں قانِتہ۔ایک بار جس چیز کے پیچھے پڑ جاؤں تو پھر اتنی آسانی سے نہیں چھوڑتا۔مجھے انکار کی کوئی معقول وجہ دے دیں،میں آپ کے راستے میں نہیں آؤں گا۔“کافی کا سپ لیتے غزوان نے نہایت سنجیدگی سے کہا تھا۔
”سینیور(سر) غزوان! کیا یہ ضروری ہے؟“
”میرے لیے بہت ضروری ہے۔اس بار میں صرف سچ سننا چاہتا ہوں۔“قانِتہ نے خشک لبوں پر زبان پھیری پھر کسی فیصلے پر پہنچتے اس نے کہنا شروع کیا۔
”آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟“جواب کے بجائے الٹا سوال کیا گیا۔
”آپ خوبصورت ہیں اور ذہین بھی۔ایک آئیڈیل بیوی کو ایسا ہی ہونا چاہیئے۔جھوٹ نہیں کہوں گا مگر پہلی ملاقات میں آپ نے مجھے بےحد متاثر کیا تھا۔“وہ ایک دم ہنس دی،گو کہ اس کی بات کا مذاق اڑا رہی ہو۔
”یہ دنیا خوبصورت اور ذہین خواتین سے بھری پڑی ہے،آپ اپنے لیے کسی اور کو تلاش کر لیں۔قانِتہ یزدان آپ کے لیے نہیں ہے۔“
”کیوں؟قانِتہ یزدان میرے لیے کیوں نہیں ہے؟“
”کیونکہ قانِتہ یزدان کے ساتھ زندگی بہت مشکل ہے۔“
”مجھے آسان چیزیں ویسے بھی پسند نہیں۔“اگر یہ چیلنج تھا تو اسے قبول تھا۔
”ہر روز ہسپتال کے چکر لگا لیں گے؟کمرے میں ادویات کی بو برداشت کر لیں گے؟راتوں کو جاگ لیں گے؟“وہ آگے کو جھکی،پلکیں جھپکائیں بغیر اسے دیکھا اور اعتماد سے پوچھا۔
”مطلب؟“غزوان کے ماتھے پر بل پڑے،آنکھوں میں سوال ابھرے،کچھ بے چینی سے پوچھا۔
”کیا ایک بیمار بیوی قبول کر لیں گے؟“ترچھی مسکراہٹ کے ساتھ اعتماد سے پوچھا۔غزوان مزید بے چین ہوا۔
”آپ….. آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟“
”مجھے کینسر ہے۔کم سے کم چھ مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال ہے میرے پاس۔بتائیں قبول ہے؟“لمحے بھر کے لیے سب ساکت ہو گیا۔غزوان کا دل سکڑ سا گیا۔آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا۔
”یہ نہایت گھٹیا مذاق ہے۔“وہ غصے سے دھاڑا،دو چار لوگوں نے پلٹ کر اسے دیکھا۔قانِتہ اسی سکون سے بیٹھی رہی۔
”مذاق نہیں حقیقت ہے۔چاہیں گے تو رپورٹس بھی دکھا سکتی ہوں۔کمپنی میں اس بارے میں کوئی نہیں جانتا،میں اپنی نوکری گنوانا نہیں چاہتی۔امید کرتی ہوں کہ آپ بھی کسی کو نہیں بتائیں گے۔“موبائل اٹھایا،پرس کندھے پر لٹکایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
”آپ ایک اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہیں۔میرے پیچھے اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔“وہ کہہ کر چلی گئی۔ہیل کی ٹک ٹک کی بازگشت کافی دیر تک غزوان کے کانوں میں سنائی دیتی رہی۔کیا وہ سچ کہہ کر گئی تھی؟اس کے اعتماد سے تو صاف ظاہر تھا کہ وہ سچ کہہ کر گئی ہے۔کیا اس قدر مسکراتے چہرے کے پیچھے اتنا بڑا غم چھپا ہو سکتا تھا؟
کمرے کے وسط میں رکھی میز کے گرد دو نفوس بیٹھے تھے۔قیدی نگاہیں جھکائے مسلسل اپنا ناخن کھرچ رہا تھا جبکہ دوسری جانب بیٹھا ملاقاتی کچھ عجیب نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔
”میں جانتا ہوں کہ تم مجھے سن اور سمجھ سکتے ہو،صرف بول نہیں سکتے۔ضد چھوڑ دو قتادہ،صرف ایک دستخط ہی تو کرنے ہیں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ جلد تمہیں آزاد کروا لوں گا۔“قتادہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی پھر اس نے استہزایا سر جھٹکا۔
”اپنی ماں کا ہی سوچ لو؟تم تو اپنے باپ کو قتل کر کے بھاگ گئے،اگر میں تمہاری ماں کو سہارا نہ دیتا تو کیا ہوتا اس کا؟تمہاری بہن کے ساتھ کیا ہوا یہ تو تم……“آنکھوں میں لہو ڈور آیا۔تیزی سے اٹھ کر وہ اپنے چچا پر جھپٹا۔ایک کے بعد دوسرا گھونسہ ناک پر مارا۔اہلکار درمیان میں نہ آتے تو وہ شاید انہیں قتل ہی کر دیتا۔
”پاگل ہو چکا ہے یہ۔“گہرے گہرے سانس لیتے چچا نے ضبط سے کہا۔دو اہلکاروں کی گرفت میں وہ اب بھی بری طرح مچل رہا تھا۔
”میری بہن کا نام مت لو۔“آنکھیں خاموش احتجاج کر رہی تھیں۔لب کچھ بولنے کی سعی میں ہلے مگر بےبسی کی انتہا تھی، وہ چاہ کر بھی کچھ کہہ نہیں سکا تھا۔
اسے مار پیٹ کر زبردستی واپس کوٹھڑی میں ڈال دیا گیا۔وہ نڈھال سا دیوار سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھ گیا۔
ذہن کے پردے پر ماضی کی خوشگوار یادیں کسی فلیش بیک کی طرح چلنے لگیں۔
”بھائی ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے نہ؟“
”بالکل“قتادہ نے اشاروں سے اسے سمجھایا تھا۔
”اور آپ سب سے زیادہ مجھ سے پیار کرتے ہیں؟“وہ دونوں پارک میں چل رہے تھے جب ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔
”کوئی شک؟“الٹا سوال پوچھنے پر وہ کھلکھلا اٹھی تھی۔
”آئی لو یو بھائی۔“
”آئی لو یو ٹو۔“وہ اس کے بنا کچھ کہے اس کی باتیں سمجھتی تھی۔
قتادہ کی آنکھ سے ایک آنسو گرا،ساتھ ماضی کے کچھ اور جملے کانوں میں گردش کرنے لگے۔
”میں نے اسے کھو دیا قتادہ۔وہ کڈنیپ ہو گئی اور پولیس اسے ڈھونڈنے میں ناکام ٹھہری۔“ماں کا بےبسی میں کہا جملہ۔
”کنڈیپ ہوئے بچے واپس نہیں اتے۔ہاتھ پیر کاٹ کر کہیں پھینک دیا ہو گا اسے۔“پھر چچا کا کہا جملہ سماعتوں سے ٹکرایا۔
”تم فکر مت کرو قتادہ،میں اسے دھونڈ لوں گا۔وہ کہیں بھی ہو گی،میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا۔“ایک آخری جملہ،کسی اپنے کا کہا وہ جملہ جو اندھیرے میں اسے روشنی دکھا گیا تھا۔ایک دوست کا ہمت دیتا وہ آخری جملہ۔
”یہ لے پکڑ،کھا لے۔“سوکھی روٹی اسے تھماتے بیگم جان نے جیسے احسان کیا تھا۔زخرف سوکھی، پاپڑ روٹی کو ہاتھ میں پکڑے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔
”یہ…..یہ میں کیسے کھاؤں؟“ڈرتے ڈرتے اس نے مدھم آواز میں پوچھا تھا۔
”جتنا مل رہا ہے، اتنے میں گزارا کرو۔ہر روز یہی ملے گا اور وہ بھی ایک وقت۔“اگلے انکشاف پر زخرف کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔وہ حیرت سے کبھی روٹی تو کبھی اپنی ساس کو دیکھتی۔
بیگم جان نے یہ بات صرف کہی نہیں تھی بلکہ اس پر عمل بھی کیا تھا۔روز اس کی ہمت سے زیادہ اس سے کام لیا جاتا پھر کھانے کے نام پر اسے پاپڑی پکڑا دی جاتی جسے وہ پانی میں بگھو بھگو کر کھاتی، اگر کبھی کھانا مانگتی تو جانوروں کی طرح مار کھاتی۔اس لیے اس نے مانگنے کے بجائے چرانے کو فوقیت دی۔
جھوٹے برتنوں میں بچا ہوا کھانا وہ چھپ چھپ کر کھاتی تھی۔اب بھی وہ غانیہ کی بچائی آدھی روٹی کچن میں چھپ کر کھا رہی تھی جب کچن کے اندر کسی کو داخل ہوتے دیکھ وہ سہم کر پیچھے ہٹی تھی۔
”کھا لو کھا لو،میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔“وہ سِمَاک کا ایک کزن تھا جو کہ اب ائے دن یہاں کے چکر لگاتا تھا۔
زخرف نے منہ میں بھری روٹی کو تیزی سے نگلا اور وہاں سے جانے کے لیے سے دروازے کی سمت لپکی جب اختر نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔ہلکی سی چیخ اس کے لبوں سے آزاد ہوئی۔
”شش……“اختر نے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا۔
”مجھے اپنا دوست سمجھو،میں باقیوں جیسا نہیں ہوں۔بڑا ترس آتا ہے مجھے تم پر۔بہت ظلم کرتے ہیں سب۔“یاسیت بھرے لہجے میں وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا۔زخرف نے کچھ حیرانگی سے دیکھا،اس لہجے کی اب اسے عادت نہ رہی تھی۔
”تمہیں بھوک تو لگتی ہو گی نہ؟“زخرف نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔اختر اسے اپنا ہمدرد معلوم ہوا تھا۔
”میں تمہارے لیے چھپ کر ڈھیر سارا کھانا لاؤں گا۔بس بدلے میں تمہیں مجھ سے دوستی کرنی ہو گی۔کرو گی نہ مجھ سے دوستی؟“اختر نے اس کی کلائی تھام کر عجیب نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
”ٹھیک ہے۔“وہ بروقت راضی ہو گئی تھی۔وہ اسے چھپ کر کھانا لا کر دے گا،یہ سوچ کر ہی وہ چہک اٹھی تھی۔بدلے میں محض دوستی ہی تو کرنی تھی۔اس کی بھی بہت سہیلیاں تھیں۔وہ پہلے ان کے ساتھ کھیلتی تھی، باتیں کرتی تھی،دوستی کا یہی تو مطلب تھا۔
”مگر ایسے اگر میں تمہیں کھانا لا کر دوں گا تو سب دیکھ لیں گے پھر تمہیں ماریں گے۔ایک کام کرتے ہیں میں رات کو، جب سب سو جائیں گے تب چھپا کر کھانا پچھلے سٹور میں رکھ دوں گا،تم وہاں آکر کھا لینا اور اس بارے میں کسی کو بتانا مت۔ٹھیک ہے نہ؟“
”ٹھیک ہے۔“سرمئی آنکھیں چمک اٹھیں۔جسم میں توانائی سی بھر گئی،ہاتھ بے ساختہ پیٹ پر جا ٹکا۔کھانے کا سوچ کر ہی جی للچانے لگا۔
”ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟“سماک کے استفسار پر وہ کچھ جھجک کا شکار ہوئی پھر کچھ سنبھل کر گویا ہوئی۔
”میں سوچ رہی تھی کہ خون بہا میں ہمیشہ لڑکیوں کو ہی کیوں دیا جاتا ہے؟قتل تو لالہ نے کیا تھا نہ تو پھر مجھے کیوں خون بہا میں دیا؟“سماک نے تمسخرانہ ہنس کر سر جھٹکا تھا۔
”اس سوال کا جواب اپنے لالہ اور پلار سے پوچھو۔زبردستی تو نہیں لائے تمہیں یہاں۔انہوں نے اپنی مرضی سے بھیجا ہے۔“
”اور میری مرضی کا کیا؟“وہ لمحہ بھر کو لاجواب ہو گیا تھا پھر سنبھل کر بولا۔
”یہ سب تمہاری مرضی سے ہی ہوا ہے زخرف۔کیا تم نے اپنے لالہ اور پلار کے لیے خود کو قربان نہیں کیا؟“وہ کچھ بول نہیں سکی تھی۔آخر کیا کہتی؟اسے تو سنہرے خواب دکھائے گئے تھے مگر یہ بھی سچ تھا،اگر اس کے والد اور بھائی اس سے یہ قربانی مانگتے تو وہ بخوشی دے دیتی۔
”اگر کوئی لڑکی قتل کرے تو کیا خون بہا کے طور پر کسی لڑکے کو دیا جاتا ہے؟“ننھے ذہن نے ایک اور سوال بنا تھا۔سِمَاک جھنجھلا کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔وہ بہت سوال کرتی تھی۔
”ایسا نہیں ہوتا۔“
”اگر لڑکی قتل کرے تو اس کے بدلے کسی لڑکی کو خون بہا میں دیا جا سکتا ہے؟“
”تم کہنا کیا چاہتی ہو؟“
“میں آپ کی مورے کو خون بہا کے طور پر کہیں دور بھیجنا چاہتی ہوں۔“بڑے سکون سے وہ سِمَاک پر بم گرا گئی۔وہ ہکا بکا کھڑا اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔
”کس کے خون بہا کے طور پر؟“کچھ مشکوک انداز میں پوچھا گیا۔
”اس گھر میں دو ہی مرد ہیں۔اب اپ کے پلار کو تو میں مار نہیں سکتی،مجبوری ہے۔“کندھے اچکا کر بڑی معصومیت اور لاچارگی سے کہا گیا۔وہ سن وجود کے ساتھ اپنی چھوٹی سی بیوی کو دیکھتا ہی رہ گیا جو اسے مارنے کی پلاننگ کر چکی تھی۔
”یعنی تم مجھے مارنا چاہتی ہو؟“تصدیق چاہی گئی۔
”ہاں“
”اور کیسے مارو گی مجھے؟“وضاحت مانگی گئی۔
”وہ تو آپ بتائیں گے ناں۔مجھے کیا پتا؟“سماک نے کنپٹی مسلتے بمشکل غصے کو ضبط کیا،چند لمحے خاموش رہا پھر کچھ سختی سے گویا ہوا۔
”دیکھو زخرف،مجھے اس قسم کی فضول باتیں بالکل نہیں پسند۔اس دن تمہارے کہنے پر درخت پر چڑھ گیا تھا مگر یہ دوبارہ نہیں ہو گا۔مانتا ہوں کہ جو ہوا غلط ہوا مگر اب قبول کر لو اسے۔مورے کا کوئی قصور نہیں،انہوں نے اپنا جوان بیٹا کھویا ہے۔دشمن کی بیٹی کو کوئی نہیں بساتا۔بہتر یہی ہے کہ صبر و شکر کے ساتھ مورے کی ہر بات مان لیا کرو۔“وہ کہہ کر چلا گیا،زخرف ناگواری سے منہ بسور گئی۔
”اگر دشمن کی بیٹی کو کوئی نہیں بساتا تو بیاہ کر کیوں لاتے ہیں؟“اس نے نفرت سے سوچ کر سر جھٹکا۔نو سال کی عمر میں کی گئی یہ پہلی سمجھداری کی بات تھی۔ابھی وقت نے اسے اور سمجھدار کرنا تھا۔
سماک وہاں سے غانیہ کے کمرے میں گیا تھا۔بستر پر لیٹی نوراں کو اس نے جھک کر پیار کیا پھر غانیہ کی جانب متوجہ ہوا۔
”کیا میری بیٹی مجھ سے ناراض ہے؟“بڑی محبت سے پوچھا گیا۔
”کیا فرق پڑتا ہے بابا صاحب؟“وہ بے رخی سے منہ موڑ گئی۔
”تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری ماں کی جگہ کسی اور کو دے سکتا ہوں؟میں مجبور تھا۔“
”مرد مجبور نہیں ہوتا۔“بےساختہ اس کی زبان پھسلی۔
”مگر مجبور کر دیا جاتا ہے۔“گہری سانس لے کر ہوا میں گھلی تلخی کو اندر اتارا۔وہ لمحہ بھر کو لاجواب ہو گئی۔
”مجھے کوئی شکایت نہیں مگر میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں بابا صاحب۔پلیز اجازت دے دیں۔“
”بات کو سمجھو غانیہ، ہمارے یہاں زیادہ پڑھانے کا رواج نہیں اور ویسے بھی تم…..“اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی۔غانیہ نے ٹھٹھک کر پہلے اپنے باپ کی جانب دیکھا پھر اپنی بے جان ٹانگ کی جانب،پھر بے چینی سے پہلو بدلا۔
”یہ میرا قصور تو نہیں ہے۔“اس نے خود کو کہتے سنا۔
”بالکل،اللہ کی مرضی ہے۔“سماک نے کچھ یاسیت سے نفی میں سر ہلایا۔وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔
”یہ آپ لوگوں کی غلطی ہے جس کی سزا میں بھگت رہی ہوں۔“ذہن پر الفاظ اجاگر ہوئے،لب کاٹے مگر کہا کچھ نہیں۔
”مورے کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ،سلائی کڑھائی کرو،یہ پڑھائی وڑھائی میں کچھ نہیں رکھا۔“وہ اب بہت نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا۔وہ لب کاٹتی دل گرفتہ سی اپنے باپ کو سن رہی تھی۔
”ٹھیک ہے بابا صاحب،مت پڑھائیں آگے مگر پھر مجھے ایک چیز کی اجازت دے دیں۔“سِمَاک نے سوالیہ نگاہیں اس پر جمائیں۔
”میں پیرا گلائڈنگ کرنا چاہتی ہوں۔“
”غانیہ……“اس بار سماک کی آواز قدرے بلند ہوئی۔
”بابا صاحب پلیز……“بھرائی آواز میں منت کی گئی۔
”پھر سے وہی بات۔ابھی تک اترا نہیں یہ بھوت سر سے؟پتا ہے کس علاقے اور خاندان سے تعلق ہے تمہارا؟لڑکی ہو کر ایسا سوچا بھی کیسے تم نے؟نکال کر باہر پھینکو ان فضولیات کو دماغ سے۔ڈھونڈھ رہا ہوں تمہارے لیے کوئی اچھا سا رشتہ۔“وہ برہمی سے کہہ کر چلا گیا۔غانیہ کی آنکھیں برسنے لگیں۔ساری بات یہیں آ کر تو ختم ہو جاتی تھی کہ وہ لڑکی ہے۔لڑکیوں کو تو خواب دیکھنے کی اجازت نہیں اور ایسی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں کو تو بالکل نہیں۔
سنہرے بادلوں کے زیر سایہ ( Montjuïc Castle) منجویک قلعہ خاموش کھڑا تھا۔پتھریلی دیواریں سرگوشی نما آواز میں کوئی راز سنا رہی تھیں۔ہوا میں سمندر کی خنکی کی مہک گھلی ہوئی تھی۔
وہ جیسے ہی قلعہ کے قریب پہنچی، پتھریلی دیواروں نے اس کا استقبال کیا۔وہ لمحہ بھر کو رکی پھر آگے بڑھ گئی۔قلعہ کے چاروں کونوں پر مضبوط مینار بنے ہوئے تھے۔
”ہاں،پہنچ گئی ہوں۔تم کہاں ہو؟“قانِتہ نے کچھ اضطراب سے ادھر اُدھر دیکھا۔
”کیا مطلب کہ تم ابھی پہنچی نہیں؟“مقابل کی جواب پر وہ دانت پیس کر غصے سے بولی تھی۔
”جلدی پہنچو۔“غراتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی تھی۔موڈ آف ہو چکا تھا۔سر جھٹکتے وہ اندرونی حصے کی سمت بڑھی۔
مرکزی صحن کے اردگرد پرانی محراب دار راہداریاں بنی ہوئی تھیں، دیواروں پر جنگی ہتھیار نصب تھے۔
وہ ناگواری سے نظر دوڑاتے آگے بڑھ رہی تھی۔قلعہ میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔وہ یہاں بہت بار آ چکی تھی۔اس نے ایک نظر زندان پر دوڑائی،دوسری میوزیم پر پھر کسی فیصلے پر پہنچتے چھت کی جانب بڑھ گئی۔
اونچی فصیل پر کھڑے ہوتے قانِتہ نے نگاہیں دور سمندر پر جما لیں۔شاید وہ سمندر کے پانی میں کچھ تلاش کر رہی تھی جب اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ نے توجہ اپنی جانب مبذول کی۔
”خوبصورت منظر ہے نا؟“غزوان کی آواز پر اسے چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔کیا وہ اس کا پیچھا کر رہا تھا؟
وہ برجستگی سے پلٹی،اب حیران پریشان نگاہیں غزوان پر جما لیں۔
”آپ میرا پیچھا کر رہے ہیں؟“وہ غم و غصّے سے بھپر کر بولی۔
”ہاں…..“فصیل پر ہاتھ پھیرتے ڈھٹائی سے جواب دیا گیا۔
”کیوں؟“دل چاہا کہ اسے کچا چبا جائے۔
”یہ بتانے کے لیے کہ میں ہسپتال کے چکر لگانے کے لیے تیار ہوں اور اپنے کمرے میں دوائیوں کی بو سے مجھے مسئلہ نہیں ہو گا۔ایک سال کا ساتھ ہی سہی،مجھے قبول ہے اور اگر میری محبت سچی ہوئی تو ہم مل کر اس بیماری سے لڑ لیں گے۔“ہوا کے جھونکے نے درختوں کو جھنجھوڑا،درختوں کے پتے کان لگائے ان کی باتیں سننے میں مصروف ہو گئے۔
قانِتہ کی سانس گلے میں اٹکی،چہرہ زرد پڑا،پلکیں جھپکنے سے انکاری ہو گیئں۔
”کیا وہ مذاق کر رہا تھا؟“
”یہ…..یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔شادی کے بعد سب بدل جاتا ہے۔“دل کو سنبھالا اور مضبوط لہجے میں کہا۔
”میں نہیں بدلوں گا،وعدہ رہا۔“کچھ تو تھا ان نگاہوں میں جو وہ نظریں چرانے پر مجبور ہو گئی تھی۔
”آپ ایک صحت مند اور خوبصورت لڑکی کے مستحق ہیں۔“اس نے قلعہ کے نیچے پھیلے سبزے پر نگاہیں جماتے کمزور لہجے میں کہا۔
”آپ سے زیادہ خوبصورت لڑکی کہیں نہیں ملے گی اور جہاں تک بات ہے صحت کی تو ان شاء اللہ وہ بھی ٹھیک ہو جائے گی۔“
”میں آپ کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتی۔“ایک اور دلیل،ایک اور تاویل۔
”میں بہت جلد آپ کے والدین سے آپ کا رشتہ مانگوں گا اور آپ ہاں ہی کہیں گیئں،مجھے یقین ہے۔جہاں تک بات ہے بیماری کی تو ہم اس وقت اسپین میں ہیں۔کس ڈاکٹر نے آپ سے کہا کہ آپ کے پاس اتنا وقت ہے؟آپ مجھے رپورٹس سینڈ کریں،میں خود دیکھتا ہوں اس معاملے کو۔“قانِتہ کے قدم بری طرح لڑکھڑائے،رنگت زرد پڑی اور سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔
”رر…..رپوٹس؟“اس نے جیسے تصدیق چاہی۔
”ہاں رپوٹس اور کون سا کینسر ہے آپ کو اور کس سٹیج پر؟“ایک کے بعد دوسرا سوال کیا گیا۔قانِتہ کو ہچکیاں لگ گئیں۔
”وہ……وہ……دل کا کینسر…… نہیں دماغ کا……“وہ بری طرح گڑبڑائی تھی۔
”یعنی برین ٹیومر؟“غزوان کی تصحیح پر اس نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
”ہممم!چلیں میں دیکھتا ہوں۔میرے پاس آپ کا نمبر ہے، میں آپ کو میسج کروں گا۔آپ……تم مجھے رپورٹس سینڈ کر دینا۔“آپ سے تم کا سفر وہ طے کر چکا تھا۔قانِتہ سن وجود کے ساتھ کھڑی بس اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔وہ مسکرا کر پلٹا پھر کچھ یاد آنے پر واپس گھوما۔
”میں نے غلط بیانی کی تھی پری وَش، معاملہ خوبصورتی اور ذہانت سے بہت آگے کا ہے۔معاملہ اب محبت کا ہے۔تمہارے علاؤہ کسی کے بارے میں اب سوچنا بھی گناہ سمجھتا ہوں۔“وہ کہہ کر چلا گیا۔قانِتہ چند لمحے ایسے ہی کھڑی رہی پھر ایک دم ڈگمگائی اور فصیل کا سہارا لیا۔
”قانِتہ،کب سے فون کر رہی ہوں۔فون کیوں نہیں اٹھا رہی؟“ہر جگہ اسے ڈھونڈنے کے بعد بالآخر وہ اسے چھت پر ملی تھی۔
”اگر میں یہاں سے کود جاؤں تو مرنے کے کتنے چانسز ہیں؟“قانِتہ نے خود کو کہتے سنا۔
”کیا مطلب؟“
”بیواقوف انسان مجھے کینسر سمیت قبول کرنے کو تیار ہے۔رپورٹس مانگ رہا ہے،اب بتاو کہاں سے لا کر دوں؟“سر تھامے وہ بےبسی سے کہہ رہی تھی۔
”واؤ،کتنا لونگ ہے۔میرے خیال سے تمہیں ایک بار سوچنا چاہیئے۔“دونوں ہاتھ پہلو میں گرائے، غصے سے اپنی دوست کو گھورا۔
”بھاڑ میں جائے۔مجھے نہیں کرنی شادی،تو نہیں کرنی۔پچھلے تینوں کو بھی تو بھگایا تھا ناں۔ایک کو جھوٹی شادی کی کہانی سنا کر تو دوسرے کو بیماری کی کہانی سنا کر، مگر یہ تو بہت ڈھیٹ ہے۔تیسرا طریقہ ازمائیں؟“کچھ جوش سے کہا۔
”انکل انٹی کو تمہاری ان حرکتوں کا علم ہو گیا تو واپس بلا لیں گے تمہیں۔“
”یہی تو مسئلہ ہے۔کہتے ہیں قانِتہ اب شادی کر لو مگر میں فلحال نہیں کرنا چاہتی۔میرے کچھ خواب ہیں،کچھ خواہشات ہیں۔میں انہیں پورا کرنا چاہتی ہوں۔“اس نے گہری سانس ہوا کے سپرد کیے تازگی کو محسوس کرنا چاہا۔
”اس غزوان کا تو کوئی مستقل بندوبست کرنا پڑے گا۔ابھی جانتا نہیں ہے یہ قانِتہ یزدان کو۔“اس نے ایک عزم سے دور بارسلونا کی بندگاہ پر نگاہیں جمائے کہا۔
یہ ایک میٹنگ روم تھا جہاں میز کے گرد پانچ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔چھت پر ہلکی روشنی دینے والی ریسنسڈ لائٹس کمرے کے ماحول کو متوازن رکھے ہوئے تھیں۔
سربراہی کرسی پر بیٹھا شخص کچھ سنجیدگی اور ضبط سے مٹھیاں بھینچے ہوئے تھا۔دفعتا دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوئی۔پانچوں افراد نے خفگی سے اسے دیکھا۔
Perdon(معذرت)”
قانِتہ نے کچھ شرمندگی سے کہا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گئی۔وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی لیٹ تھی۔
ایک لڑکی اپنی کرسی سے اٹھی اور دیوار پر نصب ایل ڈی پر چلتے سلائڈز کی جانب سب کی توجہ مرکوز کی۔
”کمپنی کی جانب سے ہمیں ایک ڈاکومنٹری تیار کرنے کا کہا گیا ہے۔کسی بھی ملک کی کسی دقیانوسی اور صدیوں پرانی کسی رسم پر ہم نے ایک ڈاکومنٹری تیار کرنی ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ایسی رسومات اور لوگ پائے جاتے ہیں۔ہم نے ایک رسم کو منتخب کیا ہے جس پر ہم بات کریں گے، وہ ہے ”ونی“ یہ رسم پاکستان اور بھارت میں عام ہے۔دونوں ملکوں میں سے کسی ایک میں جا کر ہم ریسرچ کریں گے اور پھر ایک ڈاکومنٹری بنائیں گے۔“
”مگر اس رسم میں ہوتا کیا ہے؟“ایک لڑکے کے سوال پر کھڑی لڑکی نے سلائیڈ تبدیل کی تھی۔
”خاندان کے کسی فرد کے کیے قتل کے بدلے خون بہا میں ایک لڑکی کو دیا جاتا ہے۔پہلے پہل تو ایک باندھی کے طور پر دیا جاتا تھا مگر اب اسے تبدیل کر کے نکاح کا نام دیا جاتا ہے جبکہ لڑکی کی حیثیت اب بھی وہی ہے۔لڑکی کی عمر اور مرضی سے کوئی غرض نہیں ہوتا۔وہ بیس سال کی بھی ہو سکتی ہے اور بارہ سال کی بھی اور نکاح کرواتے ہوئے لڑکے کی عمر کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا،بس نکاح کروا دیا جاتا ہے۔چاہے پندرہ سالہ لڑکا ہو یا پچاس سالہ کوئی بوڑھا۔“وہ کہہ کر خاموش ہوئی تھی۔کمرے میں ایک سکوت سا چھا گیا تھا پھر چند لمحوں بعد ایک قہقہہ بلند ہوا۔وہ قانِتہ یزدان تھی۔وہ خود پر لاکھ بندھ باندھنے کے بعد بھی اپنی ہنسی روک نہیں سکی تھی۔
وہاں موجود سب افراد نے عجیب نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
“Perdon, Perdon”
ہنسی کا فوارہ ایک بار پھر چھوٹا تھا۔
”میں معذرت خواہ ہوں مگر یہ بہت فنی ہے۔یہ اکیسویں صدی ہے،اج کل کے دور میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔لڑکیاں سمجھدار ہیں، وہ ایسے ہی خود کو کسی فضول رسم کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتیں۔میرے خیال سے آپ کو اپنی ریسرچ اپڈیٹ کر لینی چاہیئے۔“آخر میں اس نے طنزیہ نگاہوں سے کھڑی کولیگ کی جانب دیکھا تھا۔
”میری ریسرچ اپڈیٹ ہی ہے قانِتہ،لیکن شاید آپ اس دنیا میں نہیں رہتیں۔“کچھ خفگی سے کہا گیا۔
”یہ ناممکن ہے۔بارہ سالہ لڑکی کی شادی زبردستی پچاس سال کے بوڑھے شخص سے نہیں کروائی جا سکتی۔میں نہیں مانتی اور کمپنی کو کیا ہو گیا ہے؟کسی بھی ملک کے بارے میں جھوٹی ڈاکومینٹریز بنا کر وہ کیوں اسے گندا کرنا چاہتے ہیں؟“
”بیہیو قانِتہ!“سربراہی کرسی پر بیٹھے شخص نے کچھ برہمی سے کہا۔
”سینیور پیٹر،میں معذرت خواہ ہوں مگر یہ بات میں قبول کر ہی نہیں سکتی۔کوئی بھی شخص انسانیت سے اس طرح نہیں گر سکتا۔“وہ اپنی بات پر مصر تھی۔
”ہم صرف خیالی باتیں نہیں کریں گے بلکہ خود جا کر اس بات کی تصدیق کریں گے۔“
”ٹھیک ہے،سب سے پہلے میری ٹکٹ بک کروائیں گا کیونکہ میں جب تک یہ سب اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھوں گیئں، یقین نہیں آئے گا۔اسپین کے اپنے مسائل تو جیسے ختم ہو گئے ہیں جو اب دوسرے ملکوں کے مسائل پر نظر ہے۔“آخر میں طنز کا نشتر برسا کر وہ میٹنگ کو درمیان میں چھوڑ کر باہر چلی گئی تھی۔وہ ایسی ہی تھی،نک چڑی،بد لحاظ اور کھڑوس۔
میٹنگ روم سے باہر آ کر اس نے اپنی دوست کو کال ملائی تھی۔
”آج شام میرے گھر آنا۔میں تمہیں جوک اف دی ایئر سناؤں گیئں۔“وہ ہنس کر کہہ رہی تھی۔
”ہاں ناں، پچاس سال کے بوڑھے کا نکاح بارہ سالہ بچی سے۔“وہ قہقہہ لگا اٹھی تھی پھر اردگرد موجود لوگوں کے مڑ کر اسے دیکھنے پر اس نے اپنی آواز کچھ دھیمی کی تھی۔
”لمبی اور دلچسپ کہانی ہے، کافی کے ساتھ بیٹھ کر انجوائے کریں گے۔“اس نے کہہ کر کال کاٹی اور اپنے کاونٹر کی جانب بڑھ گئی۔
