Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode13)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode13)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص
جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا
بادلوں کی نرم چادر نے جگہ جگہ سے آسمان کا احاطہ کر رکھا تھا،معنوں کسی مصور نے نیلی پینٹنگ پر جگہ جگہ سفید رنگ کے اسٹروکس استعمال کیے ہوں۔ہوا میں تازگی کے ساتھ مٹی کی مہک بھی بسی ہوئی تھی۔درختوں کے ہلتے پتے سایوں میں ڈھلتے راستے کو ایک خوابناک منظر دے رہے تھے۔گاڑی قرطبہ کے جبوب میں واقع ایک قدیم شہر ”مدینہ الزہراء“ کی جانب رواں دواں تھی۔ڈرائیونگ سیٹ پر
قانِتہ جبکہ ساتھ غزوان بیٹھا تھا۔حسب توقع قانِتہ کا موڈ کافی خراب تھا۔ہر جگہ اس کے ساتھ غزوان نامی لیبل چسپاں کر کے بھیجا جاتا تھا۔
”آج موسم کافی خراب ہے؟“اس کا اشارہ قانِتہ کے موڈ کی طرف تھا۔وہ بدستور خاموش رہی۔
”ویسے کار میں بھی ڈرائیور کر سکتا تھا؟“
”مجھ سے اچھی نہیں کر سکتے۔“سپاٹ لہجے میں کہا گیا جملہ غزوان کے لبوں پر ہلکا سا تبسم بکھیر گیا۔وہ کافی تیز گاڑی چلا رہی تھی۔
”ویسے مجھے سڑک فوبیہ ہے۔“غزوان کے کہے جملے پر وہ اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔اس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔قانِتہ نے واپس نگاہیں سڑک پر جما لیں۔
کچھ دیر مزید خاموشی رہی پھر وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔
”مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔سیاہ رات کے سائے مجھے ڈراتے ہیں۔“اس کے لہجے میں گھلی افسردگی کو غزوان نے محسوس کیا تھا۔کار شاہراہ پر ہموار انداز میں چل رہی تھی، شیشے نیم وا تھے۔ٹھنڈی ہوا دونوں کے بالوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔
”کیوں…..؟“اس نے آہستگی سے پوچھا۔
”جب سے راتیں جیل میں گزاری ہے تب سے بہت ڈر لگتا ہے۔“دماغ نے فوراً اس کے الفاظ کو ڈی کوڈ کیا۔پیشانی پر سلوٹیں ابھری اور آنکھوں میں حیرت……وہ مکمل طور پر اس کی طرف گھوما۔
”جیل میں…..؟“یقین دہانی چاہی۔
”ہاں،قتل کر کے جو بھاگی تھی۔“لہجے میں افسردگی اب بھی موجود تھی۔غزوان لمحہ بھر کو کچھ بول نہ سکا۔
”تم مذاق کر رہی ہو؟“ایک بار پھر تصدیق چاہی۔
”نہیں،یقین نہیں آتا تو ڈیڈ سے پوچھ لینا۔“وہ اب بے نیازی سے کندھے اچکا کر کہہ رہی تھی۔غزوان کو سانس لینے میں دقت پیش آئی۔
”کس کا قتل کیا تھا؟“
”فٹ پاتھ پر سوئے فقیر کا۔نشے کی حالت میں کار چلا رہی تھی۔فٹ پاتھ اچانک سامنے آ گیا۔ٹھوک دیا میں نے۔اب اس میں میری کیا غلطی ہے؟“وہ ہونق بنا اسے دیکھتا رہ گیا۔فٹ پاتھ آخر کس کے راستے میں آتا ہے اور نشہ؟غزوان کے کانوں سے دھویں نکلنے لگے۔
”تم نے ڈرائیونگ کہاں سے سیکھی؟“اچانک ذہن میں جھماکہ ہوا۔
”کہیں سے بھی نہیں۔اگر ڈرائیونگ آتی ہوتی تو فقیر کو تھوڑی مارتی۔“غزوان کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔سڑک کے دونوں طرف کھڑے زیتون کے درخت اسے خود پر گرتے محسوس ہوئے۔
”گا…..گاڑی روکو۔“غزوان نے خود کو کہتے سنا۔قانِتہ نے سپیڈ بڑھا دی۔
”قانِتہ،پاگل ہو گئی ہو کیا؟“وہ صدمے سے دو چار چلایا۔
”محبت کرتے ہو نہ مجھ سے،اب محبت کا ثبوت دو اور میرے ساتھ مرو۔“اس نے اسٹیرنگ گھما کر پیڈل پر دباؤ دیا اور گاڑی کا توازن بگڑ گیا۔
”قانِتہ پلیز……“غزوان نے اس کی جانب جھک کر اسٹیرنگ تھاما اور بریک لگانے کی کوشش کی۔قانِتہ سکون سے ہاتھ باندھے گاڑی کی پشت سے ٹیک لگا گئی۔
گاڑی غزوان نے کیسے روکی تھی،یہ بس وہی جانتا تھا۔
”تمہارا دماغ خراب ہے؟“پھولے ہوئے تنفس کے ساتھ اس نے غضب ناک نگاہوں سے اسے گھورا۔
”کیا ہوا سینور غزوان؟تم تو اتنے میں ہی ڈر گئے۔کیا ہوا ان محبت کے بڑے بڑے دعووں کا؟“وہ واضح طور پر اس کا تمسخر اڑا رہی تھی۔
”وہ اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔محبت کا مطلب یہ نہیں کہ خودکشی کر لو اور اپنے ساتھ دوسروں کی بھی موت کا سامان بنو۔یہ مذاق نہیں ہے قانِتہ،زندگی مذاق نہیں ہوتی۔لمحہ لگتا ہے اور انسان موت کے کنویں میں پہنچ جاتا ہے۔مرنے کے بعد کوئی پچھتاوا،کوئی ریاضت کام نہیں آتی۔“نہایت غصے سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور چل کر ڈرائیونگ سیٹ تک آتا۔
”باہر نکلو۔“اس کا لہجہ نہایت سخت تھا۔قانِتہ بغیر کسی چوں چراں کے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
اب کار غزوان ڈرائیور کر رہا تھا اور قانِتہ فرنٹ سیٹ پر بالکل خاموش بیٹھی تھی۔گاہے بہ گاہے وہ ایک چور نگاہ اس پر ڈال لیتی تھی مگر غزوان کے چہرے پر سرخ جھنڈا لہرا رہا تھا۔بالاخر گہری سانس ہوا میں چھوڑ کر قانِتہ نے امن کا جھنڈا لہرایا۔
“Lo sieñto(سوری)”
اس نے مدھم آواز میں کہا مگر غزوان کے چہرے کی سختی بدستور رہی۔
”اچھا اب بس کر دو۔“قانِتہ نے جھنجھلا کر کہا۔
”سڑے ہوئے ٹماٹر لگ رہے ہو۔“قانِتہ کے کہنے پر غزوان نے تیکھی نگاہ سے اسے گھورا۔
”سوری!“قانِتہ نے معصومیت سے آنکھیں ٹپٹپائیں اور وہ ہنس دیا۔بس اتنا ہی غصہ تھا غزوان کا۔وہ ایکدم ریلیکس ہوئی۔نجانے کیوں غزوان کی ناراضگی اسے بری طرح کھل رہی تھی۔
اس کے آگے نہ قانِتہ نے کچھ کہا اور نہ غزوان نے مگر ماحول میں پھر بھی ایک عجیب سی خوشگواریت پھیل گئی۔دور کہیں ہوا میں محبت کے نغمے گھلنے لگے۔
گاڑی پتھریلی سڑک پر آگے بڑھتی رہی۔یہاں تک کہ مدینہ الزہراء کے کھنڈرات نظر آنے لگے۔پہاڑی پر پھیلی محرابیں اور سنگ مرمر کے قدیم ستون تاریخ کی سرگوشیاں کرتے محسوس ہوئے۔
گاڑی مدینہ الزہراء کے داخلی دروازے کے قریب آ کر رک گئی۔دونوں گاڑی سے باہر نکل آئے۔بیک وقت نگاہ کھنڈرات پر ڈالی،ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے انہیں صدیوں پیچھے پہنچا دیا ہو۔
”تمہیں پتا ہے طارق بن زیاد نے اسپین کیسے فتح کیا تھا؟“غزوان کے سوال پر وہ چونکی۔پوچھنا چاہتی تھی کہ یہ طارق بن زیاد کون ہے مگر پوچھا کچھ اور۔
”کیسے؟“
”انہوں نے ساری کشتیاں جلا دیں تا کہ واپسی کا کوئی راستہ نہ رہے۔فوج کو باور کروایا کہ یا تو اسپین فتح کرو یا پھر شہید ہو جاؤ۔بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں۔“قانِتہ متاثر ہوئی۔
”مدینہ الزہراء کے بارے میں جانتی ہو؟“قانِتہ نے نفی میں سر ہلایا۔
”مدینہ الزہراء ایک بہت شاندار شہر ہے جسے عبد الرحمن ثالث نے خود بنوایا۔اس زمانے میں ایک شہر تعمیر کروانا بہت بڑی بات تھی۔“
(جیسے پاکستان کا ایک شہر اسلام آباد خود تعمیر کیا گیا)
”کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی محبوب بیوی زہراء کے نام پر اس شہر کا نام رکھا۔“محرابوں اور پتھریلی دیواروں کے درمیان سے گزرتے وہ دونوں آگے جا رہے تھے۔یہاں کی فضا میں عجیب سی پراسراریت تھی،جیسی صدیوں پرانے مقامات میں ہوتی ہے۔
”ملکہ بار بار اپنے آبائی ملک دمشق جانے کا کہتی تھیں۔بادشاہ نے انہیں جبل العروس کی جگہ دکھائی اور یہاں ایک محل تعمیر کروانے کا وعدہ کیا اور وہ تمام پھل اور پھول اگانے کا وعدہ کیا جو دمشق میں پائے جاتے ہیں اور آخرکار یہ وعدہ وفا ہوا۔یہاں صرف محل نہیں بلکہ ایک پورا شہر تعمیر کیا گیا۔مگر افسوس کہ یہ زیادہ عرصہ تک آباد نہ رہ سکا۔قرطبہ میں خانہ جنگی کے دوران یہ تباہ ہو گیا۔سارے ہیرے جواہرات لوٹ لیے گئے اور محل،باغات وغیرہ کو آگ لگا دی گئی۔وقت کی گاڑی نے اس شہر کو مٹی تلے کہیں دبا دیا،بہت بعد میں ماہرین نے دوبارہ اس جگہ کی کھدائی کی اور یہ شہر دریافت کیا۔اب بھی شہر کا آدھے سے زیادہ حصہ زیر زمین دفن ہے۔“غزوان نے ٹھنڈے ستون پر ہاتھ پھیرتے ہوئے افسوس سے کہا۔ہوا میں ایک عجیب سی سنسنی پھیل گئی،معنوں کسی پوشیدہ راز کی کہانی سنا رہی ہو۔
”ویسے پچھلے زمانے میں بادشاہوں کی محبت خاصی خالص ہوتی تھی۔بیوی کی محبت میں شہر ہی بنا ڈالا۔“وہ بےحد متاثر نظر آ رہی تھی۔
”بالکل اتنی خالص کہ ہزاروں بیویاں اور لونڈیاں بھی رکھتے تھے۔محبت سے زیادہ وفا معانی رکھتی ہے۔شہر تو تعمیر نہیں کروا سکتا تمہارے لیے مگر یہ وعدہ ضرور کرتا ہوں، ساری زندگی تمہارے علاؤہ کسی کو نہیں دیکھوں گا۔میرے پانچ بچوں کی ماں تم ہی بنو گی۔“وہ جو اس کی بات کے سحر میں گم تھی،آخری جملے پر سر تا پیر سرخ ہو گی۔
”پانچ بچے؟“وہ تقریباً چلائی تھی۔
”کم ہیں؟“وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔
”میں تمہاری بیوی نہیں ہوں جو تم اس قسم کی گھٹیا باتیں میرے ساتھ کرو۔“خفت سے چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔(کس قدر بے باک تھا وہ)
”تو بن جاؤ نہ۔“ڈھٹائی کی انتہا تھی۔
”تم سے تو میں کبھی شادی نہ کروں اور پانچ بچے…..“قانِتہ نے جھرجھری لی۔
”مجھے تو ایک بھی نہیں چاہیئے۔“
”کیوں؟“
”لائف ڈسٹرب ہو جاتی ہے۔ساری فزیک خراب ہو جاتی ہے۔مجھے چھوٹے بچوں سے سخت چڑ ہے۔رو رو کر سر میں درد کر دیتے ہیں۔ہاں، زندگی میں کبھی مجھے لگا کہ اب مزید اکیلی نہیں رہ سکتی تو پھر میں کسی کو اڈاپٹ کر لوں گیئں۔“غزوان معنوں سکتے میں چلا گیا۔
”تم سچ میں کسی کو اڈاپٹ کرنے کا سوچ رہی ہو؟“قانِتہ نے لاپرواہی سے کندھے اچکا دیے۔غزوان کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔
”تم پاگل ہو کیا؟“
”اس میں پاگل ہونے والی کیا بات ہے؟ایک اور قانِتہ کی زندگی سنور جائے گی۔“بالوں میں ہاتھ پھیرا اور سوگواریت بھرا قہقہہ محل کے کھنڈرات میں گونجا۔
”کیا مطلب؟“
”میں اڈاپٹڈ ہوں ناں۔“اس نے نہایت سکون سے کہا،غزوان ہل نہیں سکا۔
”کیا ہوا غزوان؟کہیں تمہاری سو کولڈ محبت ختم تو نہیں ہو گئی؟“ہاتھ پر ہاتھ باندھے وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔اب دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔قانِتہ کی دلچسپ نگاہیں اس ہی پر جمی تھیں۔وہ بس چاہتی تھی کہ کسی بھی طرح غزوان خود ہی پیچھے ہٹ جائے۔
”تم جانتی ہو؟“غزوان نے جس حیرت سے پوچھا،قانِتہ بے چین ہوئی۔
”تم جانتے ہو؟“دونوں کے درمیان خاموشی کا ایک لمبا وقفہ آیا۔کھلے صحن میں پرانی ٹائلوں کی کشش مانند پڑنے لگی۔خزاں کے پتے ان کے قدموں میں گرتے ماحول کو عجیب سا تاثر دینے لگے۔
”انکل نے پاپا کو بتایا تھا مگر وہ تو کہہ رہے تھے کہ تم نہیں جانتی۔“قانِتہ کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔یعنی غزوان یہ بات جانتا تھا،پھر بھی اس کے ساتھ کی تمنا کر رہا تھا۔
”میں جانتی ہوں۔“قدموں میں بکھرے سوکھے پتوں پر نگاہیں جمائے اس نے کچھ ٹھہر کر کہا۔
”ولدیت تو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔میرے ڈاکومنٹس میں میرا سر نیم موجود ہے۔ڈیڈ نے کبھی نہیں بتایا تو پھر میں نے بھی کبھی ذکر نہیں کیا۔“
”تمہیں اپنے پیرنٹس یاد ہیں؟“غزوان کے پوچھنے پر اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔
”وہ شاید مجھے پیدا ہوتے ہی کسی ادارے میں چھوڑ گئے تھے۔شاید میں ان کے لیے اہم نہیں تھی۔“غزوان نے اس کے لہجے میں نمی گھلتے ہوئے محسوس کی۔
”قانِتہ،میں……“
”نہیں،کچھ مت کہو۔جن کے لیے میں اہم نہیں،میرے لیے بھی وہ اہم نہیں۔میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں۔“کسی بھی معذرت یا تسلی سے پہلے ہی وہ خود کو مضبوط کر چکی تھی۔آخر وہ قانِتہ یزدان تھی۔اسے کمزور پڑنا نہیں آتا تھا۔
”تم نے کبھی انہیں ڈھونڈھنے کی کوشش کی؟“واپسی کے راستے میں یہ قانِتہ کی ذات سے متعلق کی گئی پہلی بات تھی۔
”میں صرف ان ہی چیزوں پر توجہ دیتی ہوں جو میرے لیے اہم ہیں۔“
”تمہارا سر نیم کیا ہے؟“نجانے کیوں بس اس نے پوچھ لیا تھا۔
”میرا سر نیم…….“جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی غزوان کے فون کی گھنٹی بجی تھی۔سکرین پر اجاگر ہوتے نام کو دیکھ وہ سخت جھنجھلا گیا تھا۔اسد کالنگ لکھا ہوا آ رہا تھا۔
”ہاں بولو اسد…..“
”کیا…..؟اللہ اکبر! یہ قتادہ کب انسان بنے گا۔“اسد فون پر قتادہ کی کسی تازہ ترین کاروائی کے متعلق غزوان کو آگاہ کر رہا تھا اور غزوان نہایت غصے سے لب بھینچے سب سن رہا تھا۔
قانِتہ شیشے کے پار سڑک پر گزرتے زیتون کے درختوں پر نگاہیں جمائے ہوئے تھی۔پیچھے مدینہ الزہراء کا شہر خاموش کھڑا مختلف سرگوشیاں کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفید بنگلے کے باہر کالے رنگ کی گاڑی رکی تھی۔گاڑی سے دو لوگ اترے تھے۔سورج مشرق سے مغرب میں دھل چکا تھا۔آسمان پر ابھی ہلکی سرخی باقی تھی۔قتادہ نے تاسف بھری نگاہ بنگلے پر ڈالی۔اندر کچھ ٹوٹ کر جڑا۔خود کو مضبوط کرتے اس نے قدم آگے بڑھائے۔اسد اس کے پیچھے تھا۔
بنگلہ کے اندرونی ہال میں جا کر قتادہ کے قدم رکے۔اس کی ماں کسی کام کے سلسلے میں وہاں سے گزر رہی تھیں،رک گئیں،ٹھہر گیئں۔
”قتادہ…..“لبوں نے ہلکی سی جنبش کی۔آنکھیں جھلملانے لگیں۔چند لمحے وہ یوں ہی بے یقینی سے اسے دیکھتی رہیں پھر اچانک بھاگتی ہوئی اس نے لپٹ گیئں۔
”میرا بیٹا……!“انہوں نے جھریوں زدہ کپکپاتے ہاتھوں سے اس کے چہرے کو چھوا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔قتادہ کی آنکھیں بھی بھیگ گیئں۔لب سختی سے باہم پیوست کیے وہ بچوں کی طرح ایک بار پھر ان سے لپٹ گیا۔دونوں ماں بیٹے کتنی دیر ایک دوسرے سے لپٹے سسکتے رہے۔
شفق کی آخری لالی آسمان پر اب بالکل مدھم ہو چکی تھی۔دور آسمان پر اڑتے پرندے رات کے آغوش میں سونے کے لیے پر تولنے لگے تھے۔
”یاد نہیں آئی میری؟اتنے سال…..اتنے سال قتادہ…..رحم نہیں آیا ماں پر….. ٹھیک ہے میں نے کہا تھا کہ بھاگ جاؤ تو پھر واپس کیوں آئے تھے؟کوئی اس طرح پولیس اسٹیشن کے باہر جا کر بیٹھتا ہے؟کوئی ایسے خود کو گرفتار کرواتا ہے؟“وہ ان کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔وہ تڑپتے ہوئے اپنی بے بسی بیان کر رہی تھیں۔
وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی چپ رہا۔اس کی قسمت میں یہ خاموشی ہی تو لکھی تھی۔
”میں تو خالی ہاتھ رہ گئی۔تم اور سحر…..میرے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا۔“
”اس ہی بات کی تو خود کو سزا دے رہا تھا۔میں اپنی بہن کی حفاظت نہیں کر سکا۔“اس نے تلخی سے سوچا اور سوگواریت بھری سانس اندر کھینچی۔باہر نیلگوں شام اپنے سائے ہر جانب بکھیرنے لگی۔
”اب جیل سے کیسے باہر آئے ہو تم؟“انہوں نے اگلا سوال کیا۔
”بھاگ کر…..“اگر تو وہ یہ جواب دے سکتا،یقیناً اس کی ماں بیہوش ہو جاتی۔
”قتادہ میں کچھ پوچھ رہی ہوں؟“ان کے برہمی سے پوچھنے پر وہ مسکرا کر اٹھا اور ان کے دونوں ہاتھ چومے۔نگاہیں کلائی پر پڑے نیل پر آ ٹھہریں۔آنکھوں میں طیش کی لکیر دوڑ آئی۔
اس نے غضب ناک نگاہوں سے اپنی ماں کی جانب دیکھ کر اس نشان کے بابت اشارے میں پوچھا۔وہ گڑبڑا گیئں۔ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کروایا اور اردگرد نگاہیں دوڑاتے کوئی بہانہ تلاش کرنے لگیں۔عین اس ہی وقت جعفر چچا کمرے کے اندر داخل ہوئے۔
”قتادہ تم…..“وہ اسے اپنے گھر میں دیکھ کر ٹھٹھک گئے۔قتادہ نے سختی سے مٹھیاں بھینچیں اور بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔اگلے لمحہ وہ جعفر چچا پر چڑھ دوڑا۔انہیں گردن سے دبوچ کر دیوار سے لگایا اور دوسرے ہاتھ سے ان کے ناک پر مکے برسانے لگا۔قتادہ کی ماں چیخ اٹھیں،بھاگتے ہوئے اس تک آئیں۔اسے پیچھے ہٹانا چاہا مگر قتادہ پر اس وقت خون سوار تھا۔
”قتادہ،کیا کر رہے ہو؟پاگل ہو گئے ہو کیا؟“شور شرابے کی وجہ سے باہر لاؤنچ کے صوفے پر اونگھتا اسد تیزی سے کمرے میں داخل ہوا مگر دہلیز پر ہی رک گیا۔
”ایک،دو،تین……توبہ توبہ……“پہلے سکون سے جعفر چچا کو پڑتے مکے گننے لگا پھر اپنی حرکت کا احساس ہوتے سر جھٹک کر تیزی سے آگے بڑھا۔
”قتادہ چھوڑ دو۔“اسد نے اسے پیچھے ہٹانا چاہا جب قتادہ نے کھینچ کر کہنی اس کے جبڑوں پر دے ماری۔(او نہوں!اس بار دانت کی جگہ داڑھ ٹوٹی تھی)
”قتادہ،دور ہٹو۔“قتادہ کی ماں نے کھینچ کر تھپڑ اسے رسید کیا اور پیچھے کی جانب دھکیلا۔جعفر چچا خونم خون دیوار سے لگے وہیں زمین پر بیٹھتے چلے گئے پھر بیہوش ہو کر ایک جانب لڑکھ گئے۔
”میرے شوہر ہیں یہ۔کیا اپنے باپ کے بعد اپنے چچا کا قتل کرو گے تم؟انہوں نے مجھے سہارا دیا تھا۔تم ایسے ان پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے۔دفع ہو جاؤ یہاں سے،چلے جاؤ۔میں تمہاری وجہ سے پھر سے بیوہ نہیں ہونا چاہتی۔“الفاظ تھے یا خنجر، قتادہ کا سینہ چیڑ گیا تھا۔اس نے زخمی نگاہوں سے اپنی ماں کی جانب دیکھا،اندر بہت کچھ ٹوٹا،پھر جڑا پھر ٹوٹ کر بکھر گیا،کرچی کرچی ہو گیا۔وہ قتادہ کا دل تھا۔
”میں قاتل نہیں ہوں۔میں نہیں ہوں۔بابا کو میں نے نہیں چچا نے مارا تھا۔اس دن بابا زندہ تھے،وہ نہیں مرے تھے
چوٹ گہری نہیں تھی۔میں نے نہیں مارا،چچا نے مارا تھا۔“گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا۔بہت سارے الفاظ ذہن پر اجاگر ہوئے مگر لب اب بھی باہم پیوست تھے۔بہت کوشش کے باوجود بھی وہ کچھ نہ بول سکا۔
”سحر کو اغواء بھی چچا نے کروایا۔ہمدردی کا ڈرامہ رچا کر آپ سے نکاح بھی محض جائیداد کے لیے کیا۔“آنسووں کو روکنے کی سعی میں آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔ہونٹ بری طرح کپکپانے لگے تھے۔کتنے راز دفن تھے اس کے سینے میں، مگر افسوس کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔
”میں نے کہا دفع ہو جاؤ۔“مسز جعفر ایک بار پھر چلائیں اور دوڑ کر اپنے شوہر کی جانب گیئں۔وہ ٹوٹا بکھرا سا وہاں سے پلٹ گیا۔بازو سے آنکھیں رگڑیں اور تیزی سے لان پار کرتا گاڑی میں جا بیٹھا۔
پیچھے اسد لڑکھڑاتا ہوا،رومال منہ پر رکھے لاؤنچ تک آیا۔ایک بار پھر غزوان کو کال ملائی۔
”کیا مصیبت ہے؟“غزوان دھاڑا۔
”تمہیں اللہ کا واسطہ ہے،پاکستان آ جاؤ۔اس بلا کو سنبھالو آ کر۔پورے آٹھ مکے مارے ہیں اس نے اپنے چچا کو اور میری ڈاڑھ بھی توڑ دی۔“آخر میں وہ کچھ زیادہ افسردہ ہوا۔غزوان نے کوفت سے نگاہیں گھمائیں۔مدینہ الزہراء کی مسافت کے بعد وہ اب بےحد تھک چکا تھا،آرام کرنا چاہتا تھا مگر اسد نامی تلوار اس کے سر پر لٹکی ہوئی تھی۔
”کاش زبان بھی کاٹ دیتا۔“غزوان نے کڑھ کر کہا۔
”تم جیسے دوست اللہ کسی کو نہ دے۔“اسد نے نہایت غمگین لہجے میں کہا۔
”میں فلحال اپنی زندگی کی گاڑی آگے بڑھانے میں مصروف ہوں۔بغیر شادی کیے تو پاکستان نہیں آنے والا۔“غصے سے کہا اور کال کاٹ دی۔اسد بیچارہ اپنا منہ سنبھالے گرتا پڑتا بمشکل بنگلے سے باہر آیا۔یہاں نیا صدمہ اس کا منتظر تھا۔قتادہ گاڑی اڑا لے گیا تھا۔(آہ!یہ ظالم دنیا)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہاڑی بستی کے ایک گھر میں پنچائیت لگی ہوئی تھی۔بیگم جان اور نادر پلار غصے سے سماک کو گھور رہے تھے۔وہ ہاتھوں کو باہم پیوست کیے مسلسل دائیاں پیر ہلا رہا تھا، معنوں شدید اضطراب کا شکار ہو۔
”تم نے چھپ کر شادی کر لی؟“نادر پلار نے شدید غصے سے پوچھا۔
”جی…..“اس نے فوراً قبول کیا۔
”شرم نہیں آئی تمہیں اپنی برادری سے باہر نیچ ذات میں شادی کرتے ہوئے؟“نادر پلار ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور غصے سے دھاڑے۔
”کچھ نہیں جانتا میں،آج بلکہ ابھی طلاق دو گے تم اسے۔“سماک نے بے یقینی سے اسے پلار کی جانب دیکھا اور کچھ ضبط سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”میں ایسا کچھ نہیں کروں گا۔“نہایت تحمل سے کہا۔
”وہ ہماری برادری کی……“
”زخرف بھی ہماری برادری کی نہیں تھی۔اسے بھی تو آپ نے میرے سر پر مسلط کیا نہ؟اور تو اور بچے کا الگ دباؤ ڈالا لیکن شگوفہ کے معاملے میں،میں یہ نہیں ہونے دوں گا۔وہ میری بیوی ہے اور میں اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑنے والا۔“
”زبان چلا رہے ہو؟“نادر پلار کے لہجے میں مزید تیزی آئی۔
”نہیں پلار،میں بس یہ کہہ رہا ہوں کہ میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں۔پچاس کا ہونے والا ہوں۔اپنا اچھا برا پتا ہے مجھے اور ویسے بھی……“اس نے جان کر توقف لیا۔
”شگوفہ ماں بننے والی ہے۔“بیگم جان اور نادر پلار نے بیک وقت شاک کی کیفیت میں ایک دوسرے کو دیکھا پھر سماک کو۔
”بیٹا ہے؟“چند لمحوں بعد بیگم جان نے کچھ وثوق سے پوچھا۔سماک کے ہاں میں سر ہلانے کی دیر تھی،وہ خوشی سے جھوم اٹھیں۔
”یا اللہ! تیرا شکر ہے۔“انہوں نے آگے بڑھ کر سماک کی بلائیں لیں۔
”کہاں ہے میری بہو اور کیسی ہے؟“
”یہ تم کیا……“نادر پلار نے مخالفت کرنا چاہی مگر بیگم جان نے روک دیا۔
”وہ کس نسل سے ہے،فلحال اس بات کو چھوڑ دیں۔وہ ہمارے خاندان کو وارث دینے والی ہے،کیا یہ کافی نہیں ہے؟“اس دن سماک نہ صرف اپنی بیوی کے لیے لڑا تھا بلکہ اس گھر اور یہاں کے مکینوں کے دلوں میں اس کی جگہ بنانے میں بھی کامیاب ٹھہرا تھا مگر وہ بیوی زخرف نہیں شگوفہ تھی۔
گھر میں ایک الگ ہی خوشی کا سماں بندھ چکا تھا۔نئی بہو کو گھر میں لانے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔اگر کوئی خوش نہیں تھا تو وہ غانیہ تھی۔نوراں ساری صورتحال سمجھ سکتی تو وہ بھی یقیناً خوش نہ ہوتی۔زخرف البتہ خاموش تھی،معنوں اس خبر کا اس پر کوئی اثر ہی نہ ہوا ہو۔ابھی اسے ہسپتال سے آئے چند ہی روز گزرے تھے کہ اس نے گھر کا سارا کام سنبھال لیا تھا۔اس نے ایک الگ ہی چپ سادھ لی تھی۔درمیان میں ایک دو بار اس نے سماک کو باتیں سنائیں تھیں مگر اب وہ مکمل طور پر چپ سادھ چکی تھی۔
بیگم جان جو کام اسے کرنے کے لیے کہتی،وہ چپ چاپ کر لیتی۔اب بھی سماک کے بلانے پر وہ سارے کام چھوڑ کر کمرے میں گئی تھی۔
”دیکھو زخرف،میں جانتا ہوں کہ تمہیں اس فیصلے سے بےحد تکلیف ہوئی ہو گی مگر میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ایک بیوہ عورت کو سہارا دینا تو ثواب کا کام ہے۔تمہیں بھی چاہیے کہ خوشی خوشی اس نیک کام میں شامل ہو۔“وہ کہہ رہا تھا اور وہ سر جھکائے خاموشی سے سن رہی تھی۔سماک کافی دیر کسی ردعمل یا جواب کا منتظر رہا مگر زخرف خاموش رہی۔
”شگوفہ ماں بننے والی ہے اور یہ کمرہ……میرا مطلب ہے کہ تم غانیہ کے کمرے میں جا کر رہ لو۔تمہاری تو ویسے بھی اس سے دوستی……“اس کے جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی الماری کی جانب بڑھی۔وہاں سے اپنے دو چار پرانے جوڑے اٹھائے۔ایک پرانی چادر بستر پر رکھی،اس میں اپنے سوٹ،کنگھی،ربن اور ایک سوئٹر رکھ کر گھٹڑی بنائی اور گھٹڑی کو اٹھائے اس ہی خاموشی اور تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔سماک شاک کی کیفیت میں وہیں جم سا گیا۔
”اگر سماک کے کمرے میں زخرف کی جگہ نہیں تھی تو اب زخرف کے دل میں بھی سماک کی کوئی جگہ نہ تھی۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
