Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 39)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 39)
صبح کی خنک ہوا کھڑکیوں سے دبے پاؤں اندر سرک رہی تھی۔پورا گھر پر سکون نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔آدھ کھلے بالکنی کے سلائڈنگ دروازے سے آتی ہلکی ہلکی روشنی پورے کمرے میں ادھورا اجالا پھیلائے ہوئے تھی۔
غزوان نیند میں ہلکا سا کسمسایا اور بھاری پلکوں کے بوجھ سمیت اٹھ بیٹھا۔بکھرے بالوں کو ایک ہاتھ سے سیٹ کیا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل ٹٹولا۔وقت دیکھنے کے بعد کمرے میں نگاہ دوڑائی مگر قانِتہ کو کہیں نہ پایا۔وہ اتنی صبح تو نہیں جاگتی تھی۔خیر منہ ہاتھ دھونے کے بعد وہ باہر کی جانب چل دیا۔
نظر صوفے پر بیٹھی طیبہ مورے پر جا ٹھہری۔
”مورے ناشتہ لگا دیں۔بہت بھوک لگی ہے۔“کہتے ساتھ ہی وہ صوفے پر ٹک گیا۔
طیبہ نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ میز پر رکھا اور مسکراتی ہوئی نگاہوں سے غزوان کی جانب دیکھا۔
”ناشتہ قانِتہ بنا رہی ہے۔“وہ تقریباً اپنی جگہ سے اچھلا تھا۔آنکھیں شاک سے پوری کی پوری پھیل گیئں۔وہ حیرانی سے اپنی ماں کو تکتا رہا۔چہرے کے سارے رنگ اڑ گئے۔
”کہہ رہی تھی کہ سارے گھر کے کام میں کروں گیئں اب۔آپ بس آرام کریں۔چلو دیر آئے درست آئے۔“غزوان نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ذہن کے پردوں پر جلے ہوئے ٹوسٹ اور چیز آملیٹ کے نام پر کوئی نئی ایجاد ابھرنے لگی۔
”مورے اس کی کیا ضرورت تھی؟آپ بنا لیتی ناں۔“اس نے بےبسی اور منت بھرے انداز میں کہا۔
”اب تمہیں اس کے کام کرنے پر بھی اعتراض ہے۔دیار یار میں ساری زندگی میں نے تم لوگوں کو پکا پکا کر کھلایا ہے۔ماں کا تو کبھی احساس نہیں کیا۔آج بیوی کے کام کرنے پر بہت تکلیف ہو رہی ہے۔“طیبہ نے خفگی بھری نگاہ اس پر ڈالی اور وہاں سے اٹھ گئیں۔
”مورے…..“غزوان کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔اس نے بے اختیار اپنا سر پیٹا۔
”وہ جو بنائے گی میں تو کھا لوں گا۔آپ لوگوں کا کیا ہو گا۔“اس نے سوچتے ساتھ ہی جھرجھری لی۔اتنی ہمت بھی نہ کر سکا کہ ایک بار کچن میں جھانک ہی لے۔جانتا تھا کہ وہ سب پھیلا کر ہی کھڑی ہو گی۔
غزوان چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے کھانے کی میز پر بیٹھ گیا۔دل میں ہزار خدشات کانٹے کی مانند چبھ رہے تھے۔اس نے بھٹکتی ہوئی نگاہیں میز پر جمائیں اور پھر ساکت ہو گیا۔
ناشتہ اپنی پوری دلکشی کے ساتھ سجا ہوا تھا۔
چمکتے سنہرے بل والے پراٹھے،فلفی آملیٹ اور ساتھ ہی ہوم میڈ چٹنی جس میں زیتون کا رنگ گھلا ہوا تھا۔
ہاتھ سے تراشے ہوئے پھل اور دوسری طرف رکھی اسپینش سٹائل میں جھاگ بھری کافی……
”یہ قانِتہ نے بنایا ہے؟“اس کے دماغ میں سوال اٹھا۔
اس نے پہلا نوالہ منہ میں رکھا اور ٹھٹھک گیا۔
”قانِتہ اور اتنے لزیز پراٹھے……؟“وہ حیران رہ گیا تھا۔
آملیت نہ زیادہ پکا ہوا اور نہ کچا……کھانا نرم،متوازن اور گرم جیسے بارسلونا کی ہواؤں نے خود ان کھانوں میں سانس لی ہو۔
اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ ٹھہری۔
”ناشتہ تو بہت مزیدار ہے۔عرصہ گزر گیا ایسے پراٹھے کھائے ہوئے۔“جہانزیب نے قانِتہ کو سراتے ہوئے کہا۔
”آپ فکر نہ کریں پاپا،میں اب ہر روز آپ کو مزے مزے کے کھانے بنا کر کھلاؤں گیئں۔“اس نے مسکرا کر نہایت گرمجوشی سے کہا۔جہانزیب اس کے اتنے وثوق سے ”پاپا“ کہنے پر دل سے مسکرا اٹھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناشتے کے بعد جہانزیب اپنے کسی دوست سے ملنے باہر چلے گئے تھے جبکہ طیبہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں اور قانِتہ کچن سمیٹنے میں مصروف تھی۔
”تم نے تو کمال کر دیا بیوی۔ساس سسر کو متاثر کرنے کی اچھی کوشش ہے۔ویسے آرڈر کہاں سے کیا؟“وہ ہاتھ پر ہاتھ باندھے کچن کاؤنٹر سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔
”آرڈر نہیں کیا،خود بنایا ہے۔“وہ اب سنک میں برتن رکھ رہی تھی۔
”وہ بات کرو،جس پر یقین بھی آئے۔“
”جب دوپہر میں دوبارہ کھانا بناؤں گیئں تو یقین آ جائے گا۔“وہ اب اسفنج برتنوں پر رگڑ رہی تھی۔
”میں نہیں مانتا۔“اس کی بے یقینی جائز تھی۔
”اچھا سنیں،سامان تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ہمیں گروسری کے لیے بھی جانا ہے۔ویسے بھی آج ویک اینڈ ہے۔“
”ویسے ہمیں ہنی مون کے لیے بھی جانا چاہیے۔“اپنے عقب سے آتی آواز پر وہ وہیں جم گئی تھی۔رخسار دہکنے لگے تھے۔پلکیں خودبخود جھکتی چلی گیئں۔
”پھر کہاں چلیں؟“غزوان نے اس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے پوچھا۔
”مجھے چھٹی نہیں ملے گی۔“اس کی نگاہیں اب بھی جھکی ہوئی تھیں۔
”تمہاری اس نوکری کی ایسی کی تیسی۔دفع کرو چھوڑ…..“
”ہر گز نہیں۔آج یہ کہہ دیا ہے پھر مت کہنا۔میں یہ نوکری کبھی نہیں چھوڑوں گیئں۔“نگاہیں اٹھا کر کچھ بےبسی سے کہا معنوں یہ اس کے بس میں نہ ہو۔یہ نوکری زندگی موت کا مسئلہ ہو۔
”اچھا ٹھیک ہے فلحال پلین کینسل مگر ڈنر پر تو جا سکتے ہیں ناں۔آج رات ڈنر پر چلتے ہیں۔“اس نے قانِتہ کی گال چھوتے ہوئے کہا۔وہ مدھم سا مسکرا دی۔
”پھر جلدی سے کام نمٹا لیتے ہیں۔تم برتن دھو لو،میں پھر کپڑے دھو لیتا ہوں۔“اس نے معمول کے انداز میں کہا۔
”توبہ کریں،میرے ہوتے ہوئے آپ کام کیوں کریں گے؟“وہ تقریباً چلائی تھی۔
”ہیں ہیں ہیں……“غزوان کے دماغ نے اس کے کہے الفاظ کو فوراً ڈی کوڈ کیا۔
”دماغ سیٹ ہے تمہارا؟میں کب سے آپ ہو گیا؟“یقینا قانِتہ نے غلطی سے کہہ دیا تھا۔(اسے یقین تھا)
”آج سے…..بس میں نے نہ آپ کی عزت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“وہ اب نل کھولے برتن دھو رہی تھی۔
غزوان کے دماغ میں ایک جھرمٹ بننے لگا جہاں خیالات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔اسے یہ لمحہ خواب کی طرح لگا جس میں حقیقت کا کوئی رنگ نہیں تھا۔
”کتنے دنوں کے لیے؟“بے اختیار اس کی زبان پھسلی۔
قانِتہ نے نل بند کیا اور مڑ کر اسے دیکھا۔
”ساری زندگی کے لیے۔“وہ مدھم سا ہنس دی اور واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔
غزوان چند لمحے سکتے کی حالت میں کھڑا رہا۔اردگرد کی تمام چیزیں کہیں پس منظر میں چلی گیئں۔
”جاگ جاؤ غزوان جاگ جاؤ۔“اس نے آنکھیں بند کر کے پھر کھولیں۔”تم یقیناً خواب دیکھ رہے ہو اور وہ بھی بہت بھیانک۔“اس نے اب بڑبڑاتے ہوئے خود کو پنچ کیا۔”سس….“ہلکی سی کراہ نے اسے یقین دلایا کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے۔
”آپ نے کچھ کہا؟“برتن خشک کرتے ہوئے قانِتہ نے سوال کیا۔
”کیا مجھے بھی تمہیں ”آپ“ کہہ کر پکارنا پڑے گا؟“اس کے خدشے پر وہ دھیما مسکرائی۔
”آپ کے منہ سے ”تم“ ہی اچھا لگتا ہے۔“
”یقین کرو تمہارے منہ سے بھی آگ برستی ہوئی اچھی لگتی ہے۔“ہاتھ میں پکڑا گلاس قانِتہ نے زور سے سلیب پر پٹخا اور خفگی سے غزوان کی جانب دیکھا۔وہ اس کے کچھ سخت کہنے کا انتظار کرتا رہا مگر پھر وہ مسکرا کر واپس اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔غزوان کو زبردست چکر آئے۔
”کہیں تمہارے سر پر چوٹ تو نہیں لگی؟“وہ اب تصدیق چاہ رہا تھا۔
”نہیں بس عقل آ گئی ہے۔اب بھی آپ کی عزت نہیں کروں گئی تو مجھ سے بڑا ناقدرا کوئی نہیں۔“
”ہاں تو عزت کرو ناں،ہارٹ اٹیک کیوں دے رہی ہو؟“وہ پھٹ پڑا تھا۔
”میں نے کیا کیا؟“وہ جس معصومیت سے پوچھ رہی تھی،غزوان اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔
”ادھر آؤ۔“غزوان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ڈائینگ میز کے گرد رکھی کرسی پر بٹھایا۔ساتھ پانی کا ایک بھرا ہوا گلاس اس کے سامنے رکھا۔
”پانی پیو اور کچھ ہوش کرو۔“
”آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“ایک بار پھر آپ سننے پر غزوان کا دل بیٹھ سا گیا۔اس کی سانس گلے میں کہیں اٹک گئی۔قانِتہ کے سامنے رکھا ہوا گلاس اس نے منہ سے لگا لیا۔
”آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟“اسے پانی پیتے پیتے اچھوتا لگا۔
”یا اللہ! آرام سے پیں ناں آپ“غزوان نے بےبسی سے اسے دیکھا معنوں منت کر رہا ہو مگر قانِتہ یزدان کو آخر کب اس پر رحم آتا تھا؟
”دیکھو قانِتہ……“غزوان نے گہری سانس اندر کھینچی اور خود کو کچھ تازہ دم کیا۔
”یہ جو تمہارے سر پر آپ جناب کا بھوت سوار ہے ناں،کچھ دنوں میں ویسے ہی اتر جائے گا۔تم کسی نہ کسی بات پر مجھ سے لڑ پڑو گی اور میں پھر سے ”آپ“ سے ”تم“ ہو جاؤں گا۔بہتر ہے کہ تم مجھ پر احسان کرتے ہوئے ابھی سے ”تم“ کہنا شروع کر دو۔“
”میں آج سے پہلے کبھی آپ سے لڑی ہوں جو بعد میں لڑوں گیئں؟“وہ جس لاڈ سے پوچھ رہی تھی غزوان کا کسی دیوار میں سر مارنے کا دل چاہا۔ہاں،واقعی وہ کب لڑتی تھی؟یہ غزوان ہی تھا جسے لڑنے کا شوق تھا۔
”پھر بھی مستقل میں ہو سکتا ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے۔“آج اس کے صبر کا کڑا امتحان تھا۔
”آپ کچھ بھی کر لیں مجھے برا نہیں لگے گا اور نہ ہی میں آپ سے لڑوں گیئں۔“فیصلہ حتمی تھا۔
”اگر میں آفس کا غصہ تم پر نکالوں تب تو غصہ آئے گا ناں؟
”ہر گز نہیں۔“
”اگر میں آدھی رات کو کچھ کھانے کی فرمائش کروں تو؟“
”ہر گز نہیں۔“
”اگر میں تمہاری کال پک نہ کروں تو؟“
”بالکل بھی نہیں۔“
”اگر میں بتائے بغیر دوستوں کے ساتھ ٹرپ پر چلا جاؤں تو؟“
”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“
“اگر میں دوسری شادی کر لوں پھر؟“لمحے بھر کے لیے ہر طرف خاموشی چھا گئی جیسے ہوا بھی رک گئی ہو۔
وہ چند لمحے ساکت سی اسے دیکھتی رہی۔پلکوں کے کنارے کسی ان دیکھے بوجھ تلے دب گئے۔پھر چہرے پر ہلکی سی کسک ابھری،دھیمی،بہت نرم……پھر لبوں کے کنارے مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔
”ہاں تو کر لیں ناں بلکہ آپ کو کرنی چاہیے۔آپ کا حق ہے۔”لبوں پر ٹھہری اس مسکراہٹ میں ہارا ہوا سکون تھا۔ایک ایسا تاسف جو کسی گہرے زخم پر نمک چھڑکنے جیسا ہو۔
”آپ کو یاد ہے نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے میں نے کیا شرائط رکھی تھیں؟میں آپ کی خوشیوں میں کبھی رکاوٹ نہیں بنوں گی۔اگر کبھی کوئی پسند آ جائے تو چھپ کر افیئر چلانے کے بجائے نکاح کر لیجیے گا۔پاپا اور مورے کا منانا میرا کام ہے۔“اس کے لبوں پر تھکا تھکا سا تبسم تھا معنوں اندر کے بکھرے موسم کو سنبھالنے کی آخری کوشش کر رہی ہو۔
”تمہیں میری وفاداری پر شک ہے؟“غزوان کا ذہن مکمل طور پر خالی ہو گیا۔چہرے پر عجیب سختی عود آئی جیسے کسی نے سارے احساسات کو جما دیا ہو۔
”وفاداری…..؟“قانِتہ نے زبردست قہقہ لگایا۔ایسا قہقہ جسے سنتے ہی سامنے والے کے دل میں ڈراڑیں پڑنے لگیں۔
یہ ہنسی زندگی سے بھرپور نہیں تھی۔یہ بس ایک خالی گونج تھی جو گھر کی در و دیوار سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھی۔
”مرد کب سے وفادار ہونے لگے؟“اس نے ٹھوڑی تلے ہاتھ جمایا اور چمکتی آنکھوں سے غزوان کی جانب دیکھا۔غزوان کے دل پر زبردست گھونسہ پڑا تھا۔
”دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ کبھی کسی لڑکی پر دوسری نگاہ نہیں ڈالی۔یہ بات اگر انگاروں پر چل کر بھی کہیں گے تب بھی یقین نہیں کروں گئیں۔مرد کی فطرت ہے یہ،جو کبھی نہیں بدلتی۔“وہ بس اسے دیکھتا رہا۔اذیت سے،رنج سے،آزردگی سے……
”پہلے کا تو پتا نہیں لیکن تم سے نکاح کے بعد تو کسی لڑکی پر دوسری نگاہ نہیں ڈالی۔محبت کرتا ہوں تم سے،وفادار ہوں تمہارے ساتھ۔“وہ مسکرانا چاہتا تھا مگر مسکرا نہ سکا۔وہ دھیانی یا بے دھیانی میں اکثر اسے گہری چوٹ پہنچا دیتی تھی۔
”نہ محبت چاہیئے اور ناں وفاداری بس عزت چاہیئے۔عزت کریں گے تو میں بھی کروں گیئں۔نہیں کریں گے تو پھر ہمارا تعمیر کردہ آشیانہ ریت کا ڈھیر بن جائے گا۔“وہ بول رہی تھی۔لفظوں کا شور گھر کی دیواروں میں گونج رہا تھا۔وہ بس اسے دیکھتا جا رہا تھا۔خاموش،بےتاثر اور خالی نگاہوں سے…..
نہ پلکوں پر کوئی جنبش ہوئی اور نہ لبوں پر کوئی لفظ آیا۔معلوم ہوتا تھا اس کی آنکھوں کے پار کوئی اور منظر بسا ہو۔
چند لمحے دونوں کے درمیان خاموشی کی دیوار ٹھہری رہی۔
قانِتہ کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں جبکہ اب غزوان اثبات میں سر ہلاتا دھیرے سے مسکرا دیا۔دھیمی تھکی تھکی سی مسکراہٹ۔ایسی مسکراہٹ جس میں بیتے لمحوں کی اداسی تھی پھر اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ قانِتہ کے ہاتھ کے اوپر رکھا۔قانِتہ نے لرزتی پلکیں اٹھائیں۔
تاسف بھری مسکراہٹ دریا میں بہہ کر دلکش تبسم میں تبدیل ہو چکی تھی۔
”تمہیں محض عزت چاہیئے لیکن میں آج تم سے وعدہ کرتا ہوں۔“غزوان نے نرمی سے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالا۔
”میری ہر سانس تمہاری محبت کی گواہی دے گی۔میں تا عمر تمہاری عزت کا محافظ رہوں گا۔میں تمہارا لباس بنوں گا اور جہاں تک بات رہی وفا کی……“اس نے لمحہ بھر کا توقف لیا۔قانِتہ پلکوں کو جنبش دیے بغیر اس کے الفاظ کے زیر اثر بس اسے سنتی جا رہی تھی۔
”میں زندگی کی ہر آزمائش میں،ہر سرد گرم میں تمہارا وفادار رہوں گا۔ہم آج یہاں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں،ہم ساٹھ سال کی عمر میں بھی یہیں بیٹھ کر باتیں کریں گے۔
میں حلف اٹھاتا ہوں زمانے کی سختی یا کوئی بھی اتار چڑھاؤ میرے ارادوں کو متزلزل نہیں کر سکے گا۔
میرے دل کی ہر دھڑکن،میرے روح کی ہر سرگوشی میری زندگی کی آخری سانس تک تمہاری امانت رہے گی۔“وہ اس کے سامنے بیٹھا اپنے الفاظ کی خوبصورتی اس کے دل تک پہنچا رہا تھا۔
غزوان کی آنکھوں میں پختہ عزم اور محبت کی جھلک دیکھ کر وہ نگاہیں جھکا گیئں۔اس کے الفاظ دل پر اثر کر رہے تھے۔اس کا عہد،اس کا حلف دل کی گہرائیوں میں سرایت کر رہا تھا۔
وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے اپنے دل سے پوچھا تھا۔
”آخر کیوں غزوان اس کی زندگی میں آیا تھا؟اپنی لڑائی تو وہ سالوں پہلے لڑ چکی تھی۔جیت بھی چکی تھی پھر غزوان کا اس کی زندگی میں کیا کام؟“جواب فوراً ملا تھا۔بغیر کسی توقف کے…..
”وہ انعام تھا۔غزوان کو زخرف کے لیے نہیں قانِتہ کے لیے بھیجا گیا تھا۔محل میں رہنے والے کسی شہزادے کو کیا علم کہ کچی بستی کی رہنے والی کسی مظلوم لڑکی کو اس کی ضرورت ہے۔اگر علم ہو بھی جاتا تب بھی وہ اس کے لیے کیوں آتا؟شہزادے تو پھر شہزادیوں کے لیے ہی آتے ہیں۔“
غزوان کو قانِتہ پسند آئی تھی،زخرف نہیں……اسے ونی کی گئی کوئی مظلوم یا روتی دھوتی لڑکی کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔اسے اس لڑکی کے لیے انعام کے طور پر بھیجا گیا تھا جس نے اپنی مدد آپ کی تھی۔جس نے سختیاں جھیلیں تھیں مگر ہمت نہیں ہاری تھی۔اسے ایک مضبوط لڑکی کے لیے بھیجا گیا تھا نہ کہ کسی کمزور اور بزدل لڑکی کے لیے…….وہ غزوان کے بغیر بھی زندگی گزار لیتی اور بہتر زندگی گزارتی مگر اسے بہتر کی جگہ بہترین سے نوازا گیا تھا۔
ضروری نہیں کہ ہر پھل آخرت میں ہی ملے۔کچھ پھل دنیا میں بھی ملنا شروع ہو جاتے ہیں چاہے اچھے چاہے برے……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس کا ماحول معمول کی طرح پُرسکون تھا۔غانیہ ہاتھ میں پھولوں کا بکے تھامے دلکشی سے مسکراہتے ہوئے اندر قدم رکھ رہی تھی۔اس کا ارادہ قتادہ کو سرپرائز دینے کا تھا۔
قتادہ کے آفس کے باہر اس کے قدم رکے تھے۔
اندر سے آتی بلند آوازوں نے غانیہ کے قدم روکے تھے۔
”تم آخر سمجھتے کیا ہو خود کو؟ساری جائیداد پر اکیلے قابض نہیں ہو سکتے تم اور تمہارے چچا کہاں غائب ہیں؟تم ایک مفاد پرست انسان ہو قتادہ جس نے جائیداد کے لیے اپنے سگے باپ کا بھی قتل کر دیا۔“غانیہ کا ہاتھ ہینڈل پر جم سا گیا۔بکے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا۔قتادہ جس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ رہا تھا،ایکدم نگاہ دروازے پر جا ٹھہری۔اس کی سابقہ منگیتر نے بھی گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔غانیہ کو دیکھ کر اسے کچھ خوف سا محسوس ہوا مگر اس کے چہرے کے فق پڑتے رنگ نے اسے حوصلہ دیا۔
وہ اٹھی اور تیزی سے باہر چلی گئی جبکہ غانیہ وہیں کھڑی قتادہ کو دیکھتی رہی۔اس کی نگاہوں میں بے یقینی تھی،الجھن تھی۔
غانیہ کی آنکھوں کی یہ بے یقینی قتادہ کو اندر سے کہیں مار گئی۔اس کی آنکھوں میں بےبسی ابھری۔
وہ کہنا چاہتا تھا کہ ”یہ سب جھوٹ ہے۔“ مگر کہہ نہ سکا۔
غانیہ کا دل مٹی کا تودہ بن چکا تھا۔چپ کا دورانیہ بہت لمبا چلا یہاں تک کہ قتادہ سربراہی کرسی پر بیٹھ گیا اور نگاہیں میز پر پڑے واٹ پر جما لیں۔غانیہ کی آنکھوں کے سوالات نے اسے بے چین کر دیا۔وہ اس وقت اپنی ماضی کے دلدل کے بیچ کھڑا تھا۔
غانیہ نے آہستگی سے قدم آگے بڑھائے اور اس کے سامنے میز کی دوسری جانب رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
”میں جانتی ہوں کہ آپ قاتل نہیں ہیں۔“اس نے کہا تو آواز مدھم تھی۔قتادہ نے چونک کر نگاہیں اٹھائیں۔زخموں پر مرہم لگنے لگا تھا۔
”لیکن آپ کو مجھے سب بتانا ہو گا۔اس لیے نہیں کہ مجھے آپ پر بھروسہ نہیں ہے بلکہ اس لیے تا کہ اگر دوبارہ اس طرح کوئی آ کر کچھ بھی کہہ دے تو میرے پاس اسے تھپڑ مارنے کا جواز ہو۔میرے علم میں سب کچھ ہو۔“وہ نجانے کتنے لمحے بے یقینی سے اسے دیکھتا رہا تھا پھر لبوں پر ہلکی سی کسک ابھری تھی۔رشتے تو اعتماد پر بنتے ہیں اور غانیہ یوسفزئی کو قتادہ ذوالفقار پر اعتماد تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”دوبارہ زبان چلانے کی جرات مت کرنا۔“ذوالفقار غرایا، اور بیلٹ کا ایک اور وار کیا۔
”مت مارو، پلیز!“وہ بلکنے لگی مگر نشے میں دھت شخص کو اس پر رحم نہ آیا۔
کچھ فاصلے پر موجود کمرے میں قتادہ گہری نیند سویا ہوا تھا جب لاؤنچ میں ہوتی چیخ و پکار نے اسے ایک جھٹکے سے اٹھا دیا۔اس کی سماعتوں سے پہلے اپنے باپ کی گرجتی ہوئی دھاڑ ٹکرائی تھی، اور پھر ماں کی درد بھری رونے کی آواز۔
لمحہ بھر میں اس نے بستر چھوڑا اور بے قابو ہوتے ہوئے لاؤنچ کی طرف دوڑنا شروع کیا۔جیسے ہی وہ لاؤنچ میں پہنچا، دل دہلا دینے والا منظر اس کے سامنے تھا۔اس کا باپ بےدردی سے اس کی ماں کو پیٹ رہا تھا۔
ہراساں نگاہوں سے وہ گھبراتے ہوئے اپنے باپ کی سمت بڑھا۔اس نے ان کا بازو پکڑ کر انہیں روکنے کی کوشش کی مگر وہ اسے پرے دکھیل کر وحشیانہ انداز میں اپنی بیوی کو پیٹ رہے تھے۔
اس لڑکے کی نظر اب میز پر پڑے لوہے کے مجسمے پر پڑی۔خوف کو ایک طرف رکھتے اس نے وہ مجسمہ اٹھا لیا تھا۔اگلے لمحے اس نے پوری شدت سے مجسمہ اپنے باپ کے سر پر دے مارا۔باپ کا ہاتھ بے اختیار سر کی پشت کی جانب بڑھا۔آنکھیں پھیلیں، قدم ڈگمگائے اور وہ دھڑام سے فرش پر جا گرا۔سر سے بہتا لال خون سفید فرش پر پھیلتا چلا گیا۔
بنگلے میں لمحہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
قتادہ نے خوفزدہ نگاہوں سے اپنے باپ کی جانب دیکھا اور پھر ہاتھ میں تھامے مجسمے کی جانب۔دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ہاتھ لرزنے لگے۔وہ بےیقینی سے مجسمے کو دیکھ رہا تھا۔
”یہ اس نے کیا،کیا تھا؟یہ اس سے کیسے ہو گیا تھا؟“وہ ابھی ٹھیک سے سوچ بھی نہیں پایا تھا جب ایک زناٹے دار تھپڑ اس کی گال پر رسید ہوا تھا۔
”یہ تم نے کیا کر دیا؟“بیٹے کو جھنجھوڑتے ہوئے وہ ایک کے بعد دوسرا تھپڑ رسید کر رہی تھی۔وہ مسلسل چلاتی ہوئی اپنے بیٹے کو ملامت کر رہی تھی۔اس کی آواز میں زلزلے جیسی لرزش تھی۔
”اپنے باپ کو مار دیا تم نے۔“قتادہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔لب بری طرح پھڑپھڑانے لگے۔روتے روتے وہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہا تھا۔وہ اپنے عمل کی نفی کر رہا تھا۔فرش پر پڑا بے سود وجود،خون کے دھبے،ماں کی چیخ و پکار……یہ وحشت ناک رات ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن میں نقش ہو چکی تھی۔
عین اس وقت کوئی طوفان کی مانند داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔سامنے کا منظر دیکھ کر چہرے پر ہوائیاں چھانے لگیں۔
”بھائی صاحب…..“اختر چچا بھاگ کر اپنے بےجان پڑے بھائی کے پاس جا بیٹھا، اس کے شانے ہلانے لگا مگر بےجان وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔
انہوں نے اپنے بھائی کی سانسیں چیک کیں،وہ چل رہی تھیں پھر نبض…..وہ بھی مدھم رفتار میں چل رہی تھی۔
چچا نے ان کا سر اٹھا کر دیکھا تو نیچے ایک تیز دھار سخت دھات کا ٹکڑا گرا ہوا تھا۔شاید کسی کے ہاتھ سے کوئی چیز گری تھی یا ٹھیک سے صفائی نہ ہو سکی تھی مگر حالات ایسے تھے کہ کسی نے غور نہ کیا تھا۔
جب ذوالفقار زمین پر گرے تو سر عین دھات کے کنارے لگا۔سر پر کٹ لگا اور خون تیزی سے بہنے لگا۔
اگر بروقت انہیں ہسپتال لے جایا جاتا تو وہ بچ سکتے تھے۔
اختر نے وہ دھات چوری چھپے اٹھائی اور میز کے نیچے سرکا دی۔
”بھائی صاحب کیا ہو گیا آپ کو؟اٹھیں…..“اختر نے ایک بار پھر اپنے بھائی کو جھنجھوڑا(دکھاوے کے لیے)۔اس کی نگاہیں پہلے فرش پر پھیلے خون پر پڑیں، پھر کانپتی زخمی بھاوج پر، اور آخر میں ہاتھ میں لوہے کا فن پارہ تھامے کھڑے اپنے بھتیجے پر……ان کی آنکھوں میں وحشت سمت آئی۔دل میں سکونت پھیل گئی۔
قتادہ اور اس کی ماں کی نگاہوں سے بچ کر انہوں نے ذوالفقار کا گلا دبایا یہاں تک کہ سانسیں رک گیئں۔
”یہ کس نے کیا؟“پھر چنگھاڑتی آواز میں پوچھا۔ماں ڈھال بنی بیٹے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
”یہ سب……یہ سب میں نے کیا ہے۔“چچا نے حیرت سے ماں کی طرف دیکھا۔زخموں سے چور وہ تھر تھر کانپتی کمزور خاتون……وہ یہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔اب ان کی نگاہیں ماں کے پیچھے چھپے اس قتادہ پر پڑیں۔جائیداد کے اکلوتے وارث کو راستے سے ہٹانے کا یہ سنہرا موقع تھا۔
”اس نے کیا ہے۔یہ سب اس نے کیا ہے۔میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔میں ابھی پولیس کو بلاتا ہوں۔“قتادہ پیچھے ہٹنے لگا، اس کے قدم ڈگمگانے لگے معنوں زمین پیروں تلے کھسک رہی ہو۔ماں نے اسے بازو سے دبوچا، رخ اس کی جانب پھیرا۔
”بھاگ جاؤ۔چلے جاؤ۔“وہ حیرت سے اپنی اجڑی ماں کو دیکھتا ہی رہ گیا۔وہ اب بھی اسے بچا رہی تھیں۔بچپن سے لے کر آج تک وہ اسے ہر سرد گرم سے بچاتی رہی تھی اور آج بھی انہوں نے شوہر پر بیٹے کو فوقیت دی تھی۔
قتادہ کے آنسو گال پر پھسلنے لگے۔وہ پھتر بن چکا تھا۔قدم اٹھنے سے انکاری تھے۔
”چلے جاؤ۔“ماں نے اسے دروازے کی سمت دکھیلا۔
”کہاں بھیج رہی ہو اسے؟یہ اب صرف جیل جائے گا۔“چچا نے اس کی جانب قدم بڑھانے چاہے مگر ماں درمیان میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔
”بھاگ جاؤ بیٹا۔چلے جاؤ۔میں سب سنبھال لوں گیئں۔کہیں دور چلے جاو۔لوٹ کر مت آنا۔“وہ پوری قوت سے چلاتی اسے جانے کا کہہ رہی تھی۔قتادہ نے آخری بار ماں کو خوف اور دکھ سے دیکھا اور اگلے لمحے وہ ہوا سے باتیں کرنے لگا۔
چیخنے چلانے کی آوازیں، ماں کی منتیں، چچا کی دھمکیاں، ہر چیز اب پیچھے رہ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی سانسیں اتھل پتھل تھیں۔ضبط سے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔غانیہ کی دائیں آنکھ سے ایک آنسو بہہ نکلا۔اس نے دکھ سے قتادہ کی جانب دیکھا۔
”آئی ایم سوری!“اس نے بمشکل لرزتی آواز پر قابو پاتے ہوئے کہا۔وہ اذیت سے مسکرایا پھر نفی میں سر ہلاتے اس کی جانب دیکھا۔
”میرے پاس تمہارے سوا اور کوئی رشتہ نہیں بچا۔تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں۔ساتھ تو نہیں چھوڑو گی ناں؟“اس کی آنکھوں میں امید تھی،آس تھی اور منت بھی……
”اس جمعہ کو بارات لے کر آ جائیں۔“قتادہ پہلے ٹھٹھکا پھر اس نے آنکھیں پھیلا کر غانیہ کی جانب بے یقینی سے دیکھا۔اگلے لمحے وہ دل کھول کر مسکرا دیا۔
”جمعہ تو پرسوں ہے۔اتنی جلدی……“اس کی مسکراہٹ فوراً سمٹی۔
”غزوان کیا پرسوں تک آ جائے گا؟“وہ اب سوچ رہا تھا۔
”یہ غزوان آپ کا دوست ہے ناں؟“قتادہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
”کہاں رہتا ہے؟“
”اسپین میں…..“
”کیا اس کا آنا ضروری ہے؟“اس سوال پر وہ وہ جی جان سے ہنسا تھا۔
”بہت زیادہ ضروری۔یوں سمجھ لو کہ اس کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔بالفرض اگر ہم نے نکاح کر بھی لیا تو وہ کہرام مچا دے گا۔جانتی ہو وہ کیا کرے گا؟“
”کیا؟“غانیہ نے اشتیاق سے پوچھا۔
”وہ بندوق کی نوک پر پہلے طلاق نامے پر دستخط کروائے گا پھر بطور گواہ دوبارہ نکاح کروائے گا ہمارا۔“غانیہ دل کھول کر ہنسی تھی۔اسے غزوان کی شخصیت خاصی دلچسب لگی تھی۔
”لیکن آپ نے تو بتایا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی شاید اس نے شادی کر لی ہے؟“
”ہاں،ایسا ہی ہے۔وہ میرے بغیر شادی کر سکتا ہے مگر میں نہیں کر سکتا۔جو اس کے لیے جائز ہے وہ میرے لیے نہیں۔اس نے میری بہت مدد کی ہے غانیہ۔سحر کو ڈھونڈنے میں اس نے بہت مدد کی۔میرے دوست کی حیثیت سے وہ میری ماں سے بھی رابطے میں رہا،ان کا بہت خیال رکھا۔میں اسد سے بھی اس ہی کے ریفرینس سے ملا تھا اور آج جو یہ سب مجھے واپس ملا ہے اس میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔“وہ واقعی مشکور تھا مگر اس بات کا اقرار غزوان کے سامنے کرنا بہت بڑی حماقت تھی اور قتادہ یہ حماقت نہیں کر سکتا تھا۔
”یعنی شادی کینسل؟“غانیہ نے شرارت سے پوچھا۔
”ہر گز نہیں۔کہتا ہوں اسے کہ فوراً پاکستان پہنچے ورنہ اس کے بغیر شادی کر لوں گا۔تم دیکھنا کیسے بھاگتا ہوا آئے گا۔“آخر میں وہ خود ہنس دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے پہر قتادہ نے غزوان کو ویڈیو کال کی تھی جو کہ فوراً اٹھا لی گئی تھی۔
”آج میری یاد کیسے آ گئی؟“غزوان نے مشکوک نگاہوں سے اسے گھورا۔
”شادی کر رہا ہوں میں۔تم آؤ گے یا تمہارے بغیر کر لوں؟“غزوان کرنٹ کھا کر اچھلا۔
”میرے بغیر……میرے بغیر شادی ہو ہی نہیں سکتی۔“اس کے وثوق سے کہنے پر قتادہ لب دبا گیا۔
”تم نے بھی تو کی ہے۔“
”میری تو مجبوری تھی۔نو سو نناوے بار انکار کرنے کے بعد ہزارویں بار مانی ہے۔اس سے پہلے مکر جاتی میں نے نکاح کر لیا۔تمہیں کس بات کی جلدی ہے۔ابھی دو چار مہینے صبر کرو۔میری بیوی کو چھٹیاں نہیں مل رہیں۔جیسے ملیں گئیں آ جائے گئے تب تک کے لیے شادی ڈیلے کر دو۔“وہ جس انداز میں حکم دے رہا تھا،قتادہ عش عش کر اٹھا۔
”شادی ڈیلے نہیں ہو سکتی۔میری والی بہت مشکل سے مانی ہے۔اس ہی مہینے شادی ہو کر رہے گی۔تم بتاؤ آنا ہے کہ نہیں؟“
”بڑی جلدی ہے تمہیں شادی کی۔شادی کی تیاری بھی کی ہے تم نے؟برتن،کپڑے اور جھاڑو لگانا آتا ہے تمہیں؟لڑکیوں کے موڈ سونگز کو ہینڈل کر لو گے تم؟اگر تمہاری بیوی تمہیں ”تم“ سے ”آپ“ کہنے لگ جائے تو کیا سہہ لو گے؟نہیں ناں…..ہر کسی کے پاس اتنا بڑا ظرف نہیں ہوتا۔لہذا بھٹی میں جھونکوں شادی کو اور جا کر برتن اور کپڑے دھونا سیکھو۔“اس نے غصے سے کہہ کر کال کاٹ دی۔قتادہ ہکا بکا رہ گیا۔نجانے غزوان نے کیا کہا تھا اور کیوں کہا تھا۔
”برتن اور کپڑے…..؟“اس نے سوچا اور جھرجھری لی۔غانیہ اس سے یہ کام کبھی نہیں کروا سکتی اور نہ ہی وہ کبھی یہ سب کرے گا۔وہ ہر گز زن مریدی نہیں کرے گا۔(اسے یقین تھا۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
