Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode14)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode14)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
(غرناطہ)
غرناطہ اندلوسیا کے دامن میں موجود ایک دنشین اور تاریخی شہر ہے۔صبح کی پہلی کرنیں جب غرناطہ شہر پر پڑیں تو ہر سوں روشنی بکھیر گیئں۔البیازائن سے لے کر سیرا نیواڈا کے پہاڑوں تک ایک عجیب سی پراسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی،معنوں ہر گلی،ہر پہاڑ غرناطہ کی تاریخ کے گواہ ہوں۔
یہ منظر تھا الحمرا کے محلات کا۔الحمرا کے محل میں سنگ مرمر کے برآمدوں میں ابھی خنکی باقی تھی۔درختوں کے پتوں پر شبنم کے شفاف قطرے معنوں کوئی ان سنا ساز بجا رہے تھے۔
مسٹر جہانزیب اور مسٹر محمود اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ آج غرناطہ آئے ہوئے تھے۔
سب باتوں میں مشغول پتھریلی راہداریوں سے گزرتے آگے جا رہے تھے جبکہ قانِتہ کا سارا دھیان موبائل فون کی جانب تھا اور غزوان کا حسب توقع قانِتہ پر۔
”بیٹا آپ کی ہوبیز کیا ہیں؟“قانِتہ کے بائیں جانب چلتی طیبہ کے اچانک سوال پر وہ بری طرح چونکی تھی۔ثانیہ لگا تھا اسے سوال کو سمجھنے میں۔
”کچھ خاص نہیں آنٹی۔“واقعی اس کا ایسا کوئی مشغلہ نہیں تھا،جو بتایا جاتا۔
”پھر بھی،فارغ وقت میں آپ کیا کرتی ہو؟“اگلا سوال تیار تھا۔اسے یکدم ہی گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔طیبہ اور جہانزیب کی معنی خیز نگاہیں اور محمود کی خوشی…..اسے اپنے اردگرد لال جھنڈے لہراتے محسوس ہو رہے تھے اور رہی سہی کسر غزوان نامی بلا نے پوری کر دی تھی۔
”میں…… کتابیں پڑھتی ہوں۔“یہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا جھوٹ تھا۔طیبہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔
”گھر کے کاموں میں دلچسپی ہے؟“اس کا دماغ اب کی بار سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔”گھر کے کام سے ان کی کیا مراد تھی؟“
”میرا مطلب ہے،کوکنگ اور بیکنگ میں کوئی دلچسپی ہے؟“قانِتہ کو اگلی سانس مشکل آئی تھی۔”کوکنگ اور بیکنگ اور وہ بھی قانِتہ؟“
”نہیں،مجھے ایسے کسی فضول کام میں کوئی دلچسپی نہیں۔“دو ٹوک سیدھا جواب۔طیبہ کو اس کے جواب سے زیادہ لہجے کی ترشی نے چونکا دیا تھا۔مزید کسی بھی تلخ کلامی سے پہلے مسز محمود نے مسز جہانزیب کی توجہ اپنی جانب مبذول کی تھی اور ساتھ ہی قانِتہ کو گھوری سے بھی نوازا تھا جس کا اس پر قطعاً کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
جنت الرضہ کے باغات میں پھولوں کی خوشبو ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔حوضوں میں بہتا پانی اسی سست روی سے بہہ رہا تھا،جیسے صدیوں پہلے بہتا تھا۔
اندرونی ہال میں جا کر غزوان نے قانِتہ کو جا لیا تھا۔
”کیسی ہو پری وَش؟“
”میرا نام پری وَش نہیں ہے۔“وہ دبا دبا سا غرائی۔
”مگر یہ نام تم پر جچتا ہے۔حسین تو ہو نہ تم مگر اطاعت گزار نہیں ہو۔“جالی دار کھڑکیوں سے آتی فلٹر شدہ دھوپ سنگ مرمر کے فرش پر نقوش بناتی رہی۔قانِتہ نے ٹھہر کر اسے گھورا۔”تم میرے نام کا معنی معلوم کرتے پھر رہے ہو؟“قدرے برہمی سے پوچھا۔
”محبت کی ہے تو یہ تو کرنا پڑے گا ناں۔“اس نے ڈھٹائی سے کندھے اچکائے۔قانِتہ خاموش ہی رہی۔
”ویسے مورے تم سے کیا کہہ رہی تھیں؟“
”یہی کہ انہیں بہو نہیں نوکرانی چاہیئے۔ان کا بیٹا اتنا ہٹ دھرم اور نکما ہے کہ اپنے لیے کھانا بھی نہیں بنا سکتا۔میں بناؤ پھر نوالے توڑ توڑ کر اس کے منہ میں ڈالوں۔“وہ کہاں لحاظ کرتی تھی؟لہذا اس نے آج بھی لحاظ نہیں کیا تھا۔الحمرا کے سرخ ستون غزوان کو اپنے اوپر گرتے محسوس ہوئے۔کس قدر منہ پھٹ اور بدلحاظ تھی وہ۔
”تم مجھے جو چاہے کہہ لو،برا نہیں مانوں گا مگر آئیندہ مورے کے بارے میں اس انداز میں بات مت کرنا۔“اس کے سخت لہجے نے قانِتہ کو بہت کچھ باور کروا دیا تھا۔ماحول میں ایک عجیب سا تناؤ آ گیا۔ہوا کی خنکی اور نرمی معنوں کہیں تحلیل ہو گئی۔محل کے ستون اور دیواریں جھلستی ہوئی محسوس ہوئیں۔ان جھلستی دیواروں کی حرارت کی دیوار قانِتہ اور غزوان کے درمیان حائل ہو گئی۔
”ویسے تم اب مجھے کوئی چیلنج نہیں دے رہی؟“اس دیوار کو گرانے کی کوشش غزوان نے ہی کی تھی۔
”کیونکہ تم میرے پپٹ نہیں ہو۔سیدھی اور صاف بات کروں گیئں،تم میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے مجھے۔شادی نہیں کروں گیئں۔“بلند و بالا ستون،آسمان کو چھونے کی خواہش کرتی ہلکی خم دار محرابیں،روشنی کے سائے بناتی دیواریں…..گو کہ ہر چیز نے غزوان کا دل ٹوٹنے کی آواز سنی تھی۔بس جسے سننا چاہیئے تھا،وہی نہیں سن سکی تھی۔
”مجھ میں…..کس چیز کی کمی ہے؟“اسے گو کہ اپنی آواز کھائی سے آتی سنائی دی۔کتنا ہتک آمیز تھا،ایک ہی شخص کے ہاتھوں بار بار مسترد ہونا۔معاملہ دل کا نہ ہوتا تو یقیناً وہ پلٹ کر کبھی اس جانب نہ دیکھتا مگر دل…..دل کبھی ضمیر کی آواز سنتا ہے کیا؟دل کی اپنی بیٹھک ہوتی ہے،اپنا تخت ہوتا ہے۔جو ایک بار اس تخت پر براجمان ہو جائے،پھر کیسے اسے تخت بدر کیا جائے؟
”کمی تم میں نہیں مجھ میں ہے۔میں ایک ورکنگ وومن ہوں اور میرے خیال سے تمہاری ممی کو ایک گھریلو بہو چاہیئے۔تمہیں پانچ بچوں کی خواہش ہے جبکہ میں ایک بھی پیدا کرنے کے حق میں نہیں۔میرے اور تمہارے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اپنی راہیں جدا کر لیں؟“وہ کہنا چاہتا تھا کہ ہماری راہیں یکجان تھی ہی کب؟سب کچھ تو میری طرف سے تھا،تم نے کبھی کوئی کوشش ہی نہیں کی۔
”میں تمہیں کبھی جاب چھوڑنے کا نہیں کہوں گا اور مورے کو بھی کوئی اعتراض……“
”یہی تو اصل بات ہے غزوان۔میں ایک خودمختار خاتون ہوں۔تمہیں یہ لگتا ہے کہ یہ تم ہو گے جو مجھے جاب کی اجازت دو گے،ےو یہ غلط ہے غزوان۔میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔تم روکو گے تب بھی میں جاب کروں گیئں۔ائی ایم سوری مگر میں تمہارے لیے کھانا نہیں پکا سکتی نہ ہی مشرقی بیویوں کی طرح تمہارے سارے کام کر سکتی ہوں۔میں نے پہلے کبھی یہ سب نہیں کیا،آگے بھی نہیں کروں گیئں۔میں نہیں چاہتی کہ شادی کے بعد تمہیں یا مجھے پچھتانا پڑے بس اس لیے میں پہلے ہی سب کلیر کرنا چاہتی ہوں۔“چلتے چلتے وہ دونوں غرناطہ کی چھت کی طرف آ چکے تھے۔سامنے دور تک پھیلی غرناطہ کی وادی ان کی آنکھوں میں سمانے لگی تھی۔پہاڑوں کے دامن میں چھپے سفید مکانات،چھوٹی قدیم گلیوں سے اب لوگوں کی آوازیں آنے لگیں تھیں، معنوں کچھ کہنا چاہ رہے ہوں، کچھ سمجھانا چاہ رہے ہوں۔
”اچھا ٹھیک ہے،ہم آج شام کوردوبا واپس جا رہے اور کل شام بارسلونا…..تب تک ہم ایسی کوئی بات نہیں کریں گے۔کل تک کے لیے، کیا تم مجھ سے دوستی کرو گی پری وَش؟صرف کل تک کے لیے……؟“ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس کے بال اڑا رہے تھے۔آنکھوں میں جذبات کی شدت تھی۔قانِتہ نے اس کی گہری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھا اور نگاہیں چرا گئی پھر آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا۔
غزوان کے چہرے کی رونق بحال ہو گئی۔
”ویسے تمہیں کون کون سی زبان آتی ہے؟“وہ یکدم ہشاش بشاش ہوا تھا۔
”اردو،انگلش،اسپینش،کاتالان(بارسلونا کی مقامی زبان)“
”تمہیں پشتو نہیں آتی؟“
”نہیں…..“غزوان کی آنکھیں چمکیں۔
”سیکھو گی؟“کشادہ دلی سے آفر دی گئی۔
”مجھے دلچسبی نہیں۔“
”تھوڑی سی سیکھنے میں کیا حرج ہے۔میں تمہیں سکھاتا ہوں۔“غزوان نے گلا کھنکھارا۔
”زه تا سره مینه لرم(مجھے تم سے محبت ہے)۔یہ ایک بہت گندی گالی ہے جو تم مجھے کبھی بھی دے سکتی ہو۔چلو شاباش،ابھی دو۔“قانِتہ ہکا بکا اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔”وہ خود کو گالی دینے کا کہہ رہا تھا؟“وہ چکرا کر رہ گئی۔
”تم مجھے خود کو گالی دینے کا کہہ رہے ہو؟“وہ جیسے یقین کرنا چاہ رہی تھی۔
”ظاہر ہے اب ”آئی لو یو“ تو کہو گی نہیں تم تو چلو پھر گالی ہی دے دو۔“اس نے جس افسردگی اور بیچارگی سے کہا، قانِتہ کا ماتھا ٹھنکا۔
”ذرا پھر سے دہرانا،جو تم نے کہا ہے، مجھے سمجھ نہیں آئی۔“
”زه تا سره مینه لرم“غزوان نے اعتماد سے دہرایا۔
”مجھے تم سے محبت ہے۔“اس ترجمہ پر غزوان کا سانس سوکھ گیا۔قانِتہ چیلنجنگ انداز میں موبائل اس کے سامنے کیے کھڑی تھی جس میں لگے ٹرانسلیٹر نے غزوان کے جملے کا ترجمہ کیا تھا۔غزوان اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔کم از کم اگلے پچاس سو سال تک وہ قانِتہ کی زبان سے اظہار محبت بمشکل ہی سن سکتا تھا۔
”دوبارہ اس قسم کی چیپ حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔“موبائل نیچے کیا،اور بل کھاتی گھومی۔
”هوښیاره ښځه(چالاک عورت)“وہ بڑبڑایا۔قانِتہ ایڑیوں کے بل واپس گھومی۔موبائل فون اس کے چہرے کے قریب لے گئی۔
”دوبارہ کہو۔“سخت لہجے میں حکم دیا۔
”دا اللہ پناہ!(اللہ کی پناہ)“غزوان نے باقاعدہ ہاتھ اٹھائے۔
”نہیں،اسے سے پہلے والا کہو۔“وہ اب بھی مشکوک نگاہوں سے غزوان کو گھور رہی تھی۔جیسے اسے یقین ہو کہ غزوان نے کچھ غلط ہی کہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”اب کیسی طبیعت ہے؟“عروج نے مدھم آواز میں پوچھا تھا، جوابا ہسپتال کے بستر پر لیٹی خاتون نے نرم مسکراہٹ اس کی جانب اچھال کر اپنی خیریت کے متعلق بتایا تھا۔
وہ اپنی اسکوٹی پر این جی او کی جانب جا رہی تھی جب اس کی نظر ایک طرف کھڑی گاڑی کی جانب پڑی تھی۔ڈرائیونگ سیٹ پر ایک خاتون پشت سے ٹیک لگائے نڈھال بیٹھی ہوئی تھیں۔عروج نیم بیہوشی کی حالت میں انہیں ہسپتال لائی تھی۔
مزید کسی بھی گفتگو سے پہلے کوئی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔عروج کے ماتھے پر پہلے بل پڑے پھر آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔دروازے سے اندر کمرے میں داخل ہونے والا شخص قتادہ ذوالفقار تھا۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنی ماں کی جانب بڑھا تھا۔اب ان کے سر پر ہاتھ رکھے،آگے کی جانب جھکے فکرمندی سے ان کا حال دریافت کر رہا تھا۔عروج کے قدم خودبخود پیچھے کی جانب اٹھنے لگے۔
قتادہ اپنی ماں کی جانب جھکے اب نہایت فکرمندی سے اشاروں میں مختلف سوالات کر رہا تھا اور والدہ اسے بار بار تسلی دے رہی تھیں۔
”شکریہ…..“قتادہ نے نوٹ پیڈ عروج کی جانب بڑھایا۔وہ دونوں اب کمرے کے باہر ہسپتال کی طویل اور یخ ٹھنڈی راہداری میں رکھی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔
”اس کی ضرورت نہیں۔“اس نے مدھم آواز میں کہا۔کچھ دیر خاموشی رہی۔نہ قتادہ کے پاس الفاظ تھے اور نہ عروج کے پاس۔
”سوری!“صفحے پر گھسیٹا ہوا لفظ دیکھ کر عروج ٹھٹھک کر رہ گئی۔
”کس لیے؟“اس نے مدھم آواز میں پوچھا۔
”میں نے غصے میں کچھ زیادہ کہہ دیا۔وہ ڈاکومنٹس پڑھے تھے میں نے۔تم اچھا کام کر رہی ہو۔“عروج اس کے لکھے گئے الفاظ کو پڑھ کر دنگ رہ گئی۔کیا یہ وہی کھڑوس قتادہ تھا؟وہ سوچتی رہ گئی پھر گلا کھنکھار کر گویا ہوئی۔
”میں اب چلتی ہوں،مجھے دیر ہو رہی ہے۔“بیگ کندھے پر لٹکایا اور آگے کی جانب چل دی۔قتادہ دور تک اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک دیا۔داخلی دروازے تک پہنچ کر وہ رکی۔موبائل نکالا اور ایک ویڈیو ڈاؤن لوڈ کی۔ویڈیو کا ٹائٹل تھا”سائن لینگویج“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہاڑی بستی پر آج کی شام سوگواریت سے بھری ہوئی تھی۔سارے گھر کی صفائی کرنے کے بعد زخرف نے اسی خاموشی سے کھانا بھی بنا دیا تھا۔شگوفہ کے گھر میں آنے کے بعد خوشی کا ایک الگ ہی سماں بندھ چکا تھا۔صحن میں پہلے چادر بچھائی گئی تھی اور پھر کھانا چن دیا گیا تھا۔
غانیہ نہایت بے دلی سے وہاں بیٹھی ہوئی تھی۔یہ سماک کا حکم تھا لہٰذا اسے ماننا پڑا تھا۔اسے شگوفہ ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔ماں کی جگہ کسی کو دینا آسان تو نہ تھا۔زخرف کو بھی وہ اپنا دوست سمجھتی تھی۔ماں کا درجہ تو اسے بھی نہیں دیا تھا پھر شفوفہ کو کیسے دے دیتی؟
”رشتے والی سے بات کی تھی میں نے۔غانیہ کے لیے ایک رشتہ دکھایا ہے اس نے۔“بیگم جان سماک کی جانب متوجہ تھیں۔سماک اور نادر بیگم جان کی جانب متوجہ ہوئے۔
”اچھے خاصے لوگ ہیں۔لڑکے کا اپنا کاروبار ہے۔بس عمر میں کچھ بڑا ہے۔“سِمَاک کے کھانا کھاتے ہاتھ رکے۔
”کتنا بڑا؟“اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”یہی کوئی ہو گا تیس،بتیس سال کا۔صرف تین بچے ہیں۔پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔“انہوں نے گو کہ سماک کے سر پر بم پھوڑا۔غانیہ نے خوفزدہ نگاہوں سے پہلے بیگم جان اور پھر سماک کی جانب دیکھا۔سِمَاک کے تاثرات یک لخط تبدیل ہوئے۔
”آپ ہوش میں تو ہیں مورے؟صرف انیس سال کی ہے غانیہ، کیسا رشتہ لے کر آئی ہیں آپ میری بیٹی کے لیے؟تین بچے…..میری بیٹی کیوں کسی کے بچے پالے؟“اس کی آواز کی سختی نے لمحہ بھر کو سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔باورچی خانے سے باہر آتی زخرف کے قدم رکے۔
”کیا اپنی بیٹی کا عیب بھول گئے ہو؟“بیگم جان کی آواز بھی بےحد بلند تھی۔
”میری بیٹی میں کوئی عیب نہیں ہے۔بوجھ نہیں ہے غانیہ مجھ پر۔جب کوئی مناسب رشتہ ملے گا تو شادی کر دوں گےما۔ایسے بےجوڑ رشتے لانے کی ضرورت نہیں ہے۔“اس نے گو کہ اپنی بات پر مہر لگائی۔غانیہ مزید وہاں نہیں رک سکتی تھی لہٰذا بمشکل زمین کا سہارا لے کر اٹھی اور بیساکھی کے سہارے کمرے کی جانب چل دی۔
”غانیہ…..“سِمَاک نے اسے آواز دی مگر وہ نہیں رکی۔باروچی خانے کی دہلیز پر کھڑی زخرف کے لبوں پر ہلکا سا تبسم لہرایا اور پھر وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ آئی۔نمکین گوشت کا باؤل نیچے رکھا اور واپس جانے کے لیے مڑی۔
”زخرف……تم زخرف ہو نہ؟“شگوفہ کے پکارنے پر وہ واپس پلٹی۔شگوفہ کی آنکھوں نے سر تا پیر اسے سکین لیا۔
زرد اور ہلکی سیاہی مائل رنگت،پرانی چادر جو تین چار جگہ سے پھٹی ہوئی تھی،بوسیدہ ڈھیلا سا سوٹ اور ٹوٹی ہوئی چپل……زخرف فاطمہ میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا جس سے شگوفہ خار کھاتی۔چہرے پر نکلے کیل مہاسوں نے اس کی خوبصورتی کافی حد تک زائل کر دی تھی،رہی سہی کسر اس کے موٹاپے نے پوری کر دی تھی۔مس کیرج کے بعد اس کا جسم پھول چکا تھا۔بیگم جان کے مطابق وہ کام نہ کرنے کے باعث صحت مند ہوتی جا رہی ہے مگر اصل حقائق سے صرف وہی واقف تھی۔
”جی…..“زخرف نے مدھم آواز میں کہا۔اسے شگوفہ کو دیکھ کر کوئی جلن،کوئی احساس کمتری کچھ بھی محسوس نہیں ہوا تھا۔وہ معنوں چلتی پھرتی ربورٹ بن چکی تھی۔
”تم ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھاؤ گی؟“سب گھر والوں کی نگاہوں کا مرکز اب شگوفہ تھی۔آخر اس نے اس قدر انہونی بات جو کہی تھی۔بھلا مالک اور غلام ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے تھے؟
”کھانے کی طلب زندہ لوگوں کو ہوتی ہے۔آپ لوگ کھائیں۔“وہ کہہ کر رکی نہیں۔شگوفہ اس کے جملے کی گہرائی سے زیادہ اس کی عمر کا حساب لگانے لگی۔عقل اور سمجھ عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔یہ حالات ہوتے ہیں جو انسان کو وقت سے پہلے ہی سمجھدار کر دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”زخرف بات سننا۔“وہ ابھی صحن سے جھاڑو لگا کر ہٹی ہی تھی جب شگوفہ کی آواز پر وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
”جی…..؟“
”یہ رکھ لو۔“شگوفہ نے اسے ایک جوڑی جوتے دیتے ہوئے کہا۔
”یہ کیا ہے؟“وہ حیران ہوئی۔
”تمہارے پاس جوتے نہیں ہیں تو تم یہ رکھ لو بلکہ میرے پاس ایک چادر بھی ہے،بالکل نئی ہے۔میں تمہیں دیتی ہوں۔“وہ الماری کی سمت بڑھنے ہی لگی تھی جب زخرف نے درشتی سے اسے روکا تھا۔
”کسی احسان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جس کا فرض ہے جب اسے احساس نہیں تو بلاوجہ آپ زحمت نہ کریں۔“نہایت روکھے انداز میں کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔شگوفہ دھواں دھواں چہرہ لیے وہیں کھڑی رہ گئی۔
”بدتمیز…..“اسے زخرف پر بےتحاشہ غصہ آیا۔ساری ہمدردی جیسے ہوا ہو گئی۔
زخرف شدید طیش کی حالت میں کمرے سے باہر نکلی۔برآمدے میں بیگم جان کو دیکھ کر ٹھہر گئی۔وہ ایک بلی کو دودھ پلا رہی تھیں۔ساتھ ہی ساتھ وقتا فوقتاً کچھ جملے بھی ادا کر رہی تھیں۔
”بیچاری پتا نہیں کب سے بھوکی ہو گی۔“
”ہائے چوٹ بھی لگی ہے اسے تو۔“زخرف نے بے اختیار اپنی دائیں کلائی دیکھی جہاں اب ابلے پڑ چکے تھے۔صبح ہی کسی معمولی سی غلطی پر بیگم جان نے اس کا ہاتھ جلا دیا تھا۔وہ کافی دیر حسرت سے اس بلی کو دیکھتی رہی تھی جسے نہ صرف رزق مل رہا تھا بلکہ ہمدردی بھی۔
اس کے لبوں پر ایک زخمی مسکراہٹ نے جھلک دکھلائی۔دھندلی آنکھوں سے اس نے ایک نظر آسمان کی جانب دیکھا پھر آسودگی بھری مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔ابھی ہزاروں کام اس کے منتظر تھے۔
”انسان بڑی عجیب مخلوق ہے۔بےزبان جانوروں کے ساتھ تو ہمدردی کر لیتا ہے مگر بے گناہ انسان کے ساتھ نہیں۔“
پہاڑی بستی پر اب سورج اپنی آب و تاب سے چمکنے لگا تھا۔زخرف اس دھوپ میں چارپائیاں دھو رہی تھی تا کہ جلد سوکھ سکیں۔اس سردی کے موسم میں آج کافی دنوں بعد سورج نے اپنی شکل دکھائی تھی،البتہ ٹھنڈ اب بھی اپنے عروج پر ہی تھی۔
”زخرف،زخرف……“سِمَاک اسے پکارتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔
”چلو،تمہارے گھر جانا ہے۔“اس نے نہایت عجلت اور تشویش کن لہجے میں کہا۔زخرف کا دل دھک سے رہ گیا۔یقینا کچھ تو غلط تھا۔اس کا دل صبح سے ایسے تو نہیں بیٹھے جا رہا تھا۔
”چھوڑو یہ سب،جلدی چلو۔“سِمَاک نے تیزی سے اس کا ہاتھ تھاما۔شگوفہ اور بیگم جان بھی صحن میں آ پہنچے تھے۔
”کہاں لے کر جا رہے ہو اسے؟“بیگم جان کے پوچھنے پر اس نے فکرمندی سے جواب دیا۔”اس کے گھر…..“
”کیوں؟“وہ بھنائی۔سماک نے لمحہ بھر کا توقف لیا پھر زخرف کی جانب دیکھا۔وہ بت بنے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔دل ہتھیلی پر ڈھڑک رہا تھا۔
”اس کی مورے کا انتقال ہو گیا ہے۔“سماک کے الفاظ بجلی بن کر اس کے دل پر گرے تھے۔اگر سماک نے اس کا ہاتھ نہ تھاما ہوتا تو وہ یقیناً گر جاتی۔زخرف کا پورا وجود لرزنے لگتا ہے۔”نہیں…..“اس نے نفی میں سر ہلاتے خود کو یقین دلانا چاہا۔
”چلو…..“سماک اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھا، وہ گھیسٹی چلی گئی۔
”یہ چلی جائے گی تو کھانا کون بنائے گا؟“بیگم جان نے سفاکی کی آخری حد بھی پار کر دی۔سماک نے نہایت غضب ناک نگاہوں سے انہیں دیکھا۔”خدا کا خوف کریں مورے۔کم از کم حالات کی نزاکت کو ہی سمجھ لیں۔“
”اس عمر میں کھانا نہیں بنتا مجھ سے اور وہ غانیہ……“
”شگوفہ بنا لے گی۔“شگوفہ نے چونک کر سِمَاک کی جانب دیکھا،معنوں اس کے کہے جملے پر یقین کرنا چاہ رہی ہو۔سماک لمحہ بھر کی تاخیر کیے بغیر زخرف کو اپنے ساتھ لے کر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سردی کی چادر نے معنوں ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔برآمدے کے ستونوں پر شبنم چمک رہی تھی۔ہوا کے سرد جھونکے ہڈیوں کو چٹخا دینے والے تھے۔سردی کے اس احساس سے بے نیاز برآمدے کے ایک کونے میں بچھی چارپائی پر وہ گم صُم بیٹھی تھی۔نگاہیں آسمان پر ٹمٹماتے جگنوؤں پر جمی تھیں،معنوں کچھ تلاش کر رہی ہو۔کوئی ان دیکھا نقطہ،کچھ ان دیکھے حقائق……
اسے ایک رات بھی اپنے میکے رکنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔شام میں جنازے کے فوراً بعد وہ گھر آ گئی تھی۔رات کا کھانا اس ہی نے بنایا تھا۔اپنی ماں کی میت کے پاس بیٹھ کر وہ نجانے کتنے ہی لمحے انہیں گھورتی رہی تھی،خالی بنجر نگاہوں سے…..اسے رونا نہیں آ رہا تھا۔وہ کس کے گلے لگ کر روتی،اپنے باپ کے یا بھائی کے؟ہاں،وہ اپنی بہن کے گلے ضرور لگی تھی۔ماں کے بعد اگر اس کے دل میں کسی کے لیے جگہ تھی تو وہ اس کی بڑی بہن ہی تھی۔مگر وہ روئی پھر بھی نہیں تھی۔اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے۔
اب بھی وہ نجانے کن سوچوں میں گم تھی جب سِمَاک اس کے پاس آ کر بیٹھا تھا۔وہ کب گھر میں داخل ہوا تھا اور کب برآمدے میں آیا تھا،زخرف کو علم نہیں ہو سکا تھا۔اسے ہوش تب آیا تھا جب اس نے اپنے ہاتھ پر کسی کا لمس محسوس کیا تھا۔
”تم آج رات وہیں رک جاتی۔“اس نے زخرف کا ہاتھ اپنی گرفت میں لے کر نرمی سے کہا۔زخرف نے کوئی مزاحمت نہ کی۔بس نگاہیں جھکا لیں۔
”یہاں کیوں بیٹھی ہو؟غانیہ کے کمرے میں چلی جاؤ۔“اس نے دوبارہ اس ہی نرمی سے کہا۔
”بیگم جان نے کہا ہے کہ آج یہیں سوؤں۔“
”کیوں؟“
”کھانے میں نمک تیز ہو گیا تھا۔“وہ لمحہ بھر کو کچھ بول نہیں سکا۔تیز ہوا کے جھونکے برآمدے میں بکھرے پتوں کو مختلف سمت میں گھمانے لگے۔خنکی میں مزید اضافہ ہوا۔
”تمہیں کھانا بنانے کی کیا ضرورت تھی؟“وہ کچھ برہم ہوا۔وہ نگاہیں جھکائے پھر خاموش رہی۔
”تم رونا چاہتی ہو؟“زخرف نے چونک کر نگاہیں اُٹھائیں،گلے میں کچھ اٹکا پھر اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔
”اگر رونا چاہتی ہو تو رو سکتی ہو۔“سِمَاک نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔وہ خود پر ضبط باندھے بیٹھی رہی مگر کب تک…..؟دائیں آنکھ سے ایک آنسو پھسل ہی گیا۔لبوں سے ایک سسکی آزاد ہوئی۔سِمَاک نے اپنی انگلی کی پور سے اس کے آنسو صاف کیے اور بس یہیں وہ ہار گئی۔وہ تیزی سے سِمَاک کے سینے سے جا لگی اور اس کی شرٹ پکڑ کر زور زور سے رونے لگی۔سماک نے آہستگی سے اس کے گرد حصار قائم کیا اور اسے رونے دیا۔فلحال یہ ضروری تھا۔
سرد رات میں کوئی تھا جو جھلس رہا تھا،راکھ ہو رہا تھا۔وہ کمرے کی دہلیز پر کھڑی شگوفہ تھی۔وہی شگوفہ جو سِمَاک کو زخرف کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی تھی۔اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا کہتی تھی۔اب جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی،زخرف کے لیے دل میں بغض محسوس کرنے لگی تھی۔
”میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے خفا ہو۔“کچھ دیر بعد سِمَاک نے آہستگی سے کہا۔وہ رونا اب تقریباً بند کر چکی تھی،بس دبی دبی سسکیاں جاری تھیں۔
”وہ میرا بھی بچہ تھا۔مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔“وہ ایسے ہی اس کے سینے سے لگی رہی،کچھ نہ کہا۔
”تم اگر اتنی اچھل کود……“زخرف نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا اور سرخ نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑھیں۔
”آپ نے جس کام سے مجھے روکا،کیا میں نے دوبارہ وہ کیا؟مجھے نہیں پتا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں،آپ سمجھا سکتے تھے مجھے۔اور میرا بچہ آپ کی وجہ سے مرا ہے۔میں نے کہا تھا کہ مجھے چھوڑ کر نہ جائیں۔مجھے آپ کی ضرورت ہے مگر آپ پھر بھی چلے گئے۔“آخر میں اس کی آواز پھر سے روندھ گئی۔
”اگر میں کہوں کہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے تو کیا تم مجھے معاف نہیں کرو گی؟“سِمَاک نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا۔زخرف چند لمحے اسے بھیگی نگاہوں سے دیکھتی رہی پھر اس نے چہرہ موڑ لیا۔”نہیں کروں گیئں۔“سماک گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
”کیا ایک اور موقع نہیں دے سکتی تم مجھے؟“کبھی کبھی وہ اسے بالکل نہیں سمجھ پاتی تھی۔کبھی وہ اتنا نرم پڑ جاتا تھا کہ زخرف کو اس کے علاؤہ اور کوئی اچھا نہیں لگتا تھا اور کبھی اتنا سخت کہ زخرف اسے پہچان ہی نہیں پاتی تھی۔
”میں تمہیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کروں گا۔“کیا وہ نئے وعدے کر رہا تھا یا زخرف کو نئے خواب دکھا رہا تھا؟وہ خالی نگاہوں سے بس اسے دیکھتی رہی۔
”بولو زخرف،کیا تم مجھے ایک اور موقع دو گی؟“وہ کیا کرتی؟کیا کہتی؟اس نے اس صورتحال میں وہی کیا تھا،جو اس جیسی لڑکیاں کرتی ہیں۔
اس نے تیزی سے ہاں میں سر ہلایا تھا۔سماک کے کندھوں سے معنون بوجھ اتر گیا تھا۔اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
”جاؤ غانیہ کے کمرے میں جا کر سو جاؤ، بیگم جان کو میں خود جواب دوں گا۔صبح پیچھے والے کمرے کی صفائی کر لینا،تم اب وہیں رہو گی۔“
”مگر آپ کی مورے……“
”وہ میرا مسئلہ ہے۔“
”لیکن میں اکیلے کیسے رہوں گیئں؟مجھے ڈر لگتا ہے۔“اس نے کچھ خوفزدہ نگاہوں سے سِمَاک کی جانب دیکھا۔ساری ناراضگی،ساری شکایات معنوں ختم ہو چکی تھیں۔
”تم اکیلی تھوڑی ہو گی۔میں تمہارے ساتھ ہوں گا۔“وہ اس کی گال سہلاتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔وہ مسکرا دی۔سماک کے اچھے رویے نے معنوں اسے نئی زندگی بخش دی تھی۔چڑیا قید میں خوش تھی۔اسے اب آزادی نہیں چاہیئے تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
