61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode17)

”قانِتہ بیٹا، دروازہ کھولو۔“مسز محمود پچھلے پانچ منٹ سے دروازہ کھٹکھٹا رہی تھیں مگر کمرے کے اندر مسلسل خاموشی تھی۔
”بیٹا پلیز کھول دو۔“انہوں نے ایک بار پھر منت کی تھی مگر خاموشی بدستور جاری رہی۔شکست خوردہ حالت میں وہ پلٹنے ہی والی تھیں جب ایکدم سے دروازہ کھلا تھا اور قانِتہ ان کے سامنے تھی۔اس کی حالت دیکھ کر وہ ہول کر رہ گئیں۔دروازہ کھولنے کے بعد وہ میکانیکی انداز میں بستر پر جا بیٹھی۔
”بیٹا، یہ کیا حال بنایا ہوا ہے تم نے؟“اس کا چہرہ ہاتھ میں لیے وہ رو دیں تھیں۔عین اس ہی وقت محمود یزدانی کمرے میں داخل ہوئے تھے۔قانِتہ کو اس طرح بےبس دیکھ کر اس کے دل کو بھی کچھ ہوا تھا۔
”دیکھ لیں اپنی ضد کا انجام۔جب وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی تو آپ نے کیوں بلا وجہ ضد کی۔“گیلے ٹشو پیپر سے اس کا چہرہ صاف کرتے انہوں نے کچھ خفگی سے کہا۔
”قانِتہ بیٹا……“اس کی زرد پڑتی رنگت اور ڈھیلا پڑتے جسم کو دیکھ لمحے بھر کو وہ بھی سوچ میں پڑے تھے۔کہیں انہوں نے کوئی زیادتی تو نہیں کر دی؟
”چلیں جائیں آپ دونوں اس کمرے سے۔اکیلا چھوڑ دیں مجھے۔“وہ جیسے ایکدم ہوش میں آتے ہی غرائی تھی۔
”کوئی کینسر نہیں ہے آپ کو۔آپ نے جھوٹ بولا مجھ سے۔“وہ محمود یزدانی کے سامنے کھڑے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے نہایت برہمی سے کہہ رہی تھی۔وہ گہری سانس لے کر رہ گئے۔جانتے تھے کہ زیادہ دیر تک وہ یہ بات قانِتہ سے نہیں چھپا سکتے۔وہ جذباتی تھی مگر اتنی نہیں کہ اس بات کی تہہ تک نہ پہنچ سکتی۔یہی وجہ تھی کہ ایک دن کے توقف کے بغیر انہوں نے قانِتہ اور غزوان کا نکاح کروا دیا تھا۔
”میں نے یہ سب تمہاری خوشی کے لیے کیا ہے۔“انہوں نے اپنی آواز کو مدھم پڑتے دیکھا۔
”آپ نے یہ سب اپنی ضد کی وجہ سے کیا۔بتائیں سینور محمود یزدانی،اگر میری جگہ قانِتہ ہوتی، تو کیا اس کے ساتھ بھی یہی کرتے؟“اور یہاں کیا تھا اس نے دل پر وار۔دونوں میاں بیوی کی آنکھوں میں ایک ساتھ بہت کچھ ٹوٹا تھا مگر وہ تو معنوں سارے حساب چھول بیٹھی تھی۔
”نہیں ناں؟اس کے ساتھ آپ یہ سب کیوں کرتے؟وہ تو آپ کی سگی بیٹی تھی اور میں…..میں تو ایک کمزور سی لڑکی ہوں جسے آپ کبھی بھی بلیک میل کر سکتے ہیں۔بیواقوف بنا سکتے ہیں۔استعمال کر سکتے ہیں۔“
”تم اتنا منفی کیوں سوچتی ہو؟“مسز محمود کچھ خفگی سے اس کی جانب بڑھیں۔
”میں منفی نہیں سوچتی۔جو سوچتی ہوں، بالکل ٹھیک سوچتی ہوں۔بغیر غرض کہ تو کوئی کسی کو پانی تک نہ دے اور آپ لوگوں نے ایک پندرہ سالہ لڑکی کو پناہ کیسے دے دی؟“اس نے آج اپنے ماں باپ کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا۔جب بھی اس کی مرضی کے خلاف کچھ بھی ہوتا تھا،وہ یہی سب سوچتی اور کہتی تھی۔
”ہماری بیٹی تھک گئی ہے۔اسے آرام کی ضرورت ہے۔چلو۔“ان حالات میں وہ ہمیشہ یہی کرتے تھے۔وہ قانِتہ کو اکیلا چھوڑ دیتے تھے۔جانتے تھے کہ فلحال وہ اپنے ہوش میں نہیں ہے۔یقینا وہ بہت کچھ ایسا کہے گی جس پر وہ آنے والے چند مہینوں تک پچھاتی رہے گی۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں اور آپ کی بیٹی تو ہر گز نہیں ہوں۔آپ کو پتا ہے آپ نے کتنی بڑی زیادتی کی ہے؟میرے ساتھ نہیں، غزوان کے ساتھ۔اسے بتایا ہے میرے بارے میں آپ نے؟“
”وہ جانتا ہے کہ تم اڈاپٹڈ ہو۔“محمود یزدانی نے فوراً کہا۔
”اس کے علاؤہ؟“اس سوال کے جواب میں انہوں نے نگاہیں چرائیں تھیں۔قانِتہ کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ بکھر گئی۔
”جانتا ہوتا تو نوبت کبھی یہاں تک نہ پہنچتی۔آنکھوں دیکھی مکھی کوئی نہیں نگلتا۔کل جب اسے یہ سب پتا چلے گا تو کیا سر پر بٹھا کر رکھے گا مجھے؟ڈیڈ،یہ دھوکا ہے۔بہت بڑا دھوکا ہے۔“وہ بےبسی سے کہتی بستر پر بیٹھ گئی تھی۔محمود یزدانی نے کچھ نہ کہا، خاموشی سے کمرے سے چلے گئے۔ان کے جانے کے کچھ دیر بعد ان کی بیوی بھی کمرے سے چلی گیئں۔قانِتہ یزدان تنہا رہ گئی۔اسے تنہائی ہی تو چاہیئے تھی۔تنہائی ہی تو اس کی ساتھی تھی۔
اس کا سر پٹھنے کے قریب تھا۔وجود جھلس رہا تھا۔اس نے ایک بار پھر دوائیوں کے پتے خالی کرنے شروع کیے۔اب وہ ہر پتے میں سے ایک کی بجائے چار، پانچ گولیاں نکال رہی تھی۔یہاں تک کہ اس کا ہاتھ بیس سے پچسس گولیوں سے بھر گیا۔اس نے ایکدم ساری دوائیاں منہ میں ڈالیں اور پانی کا جگ اٹھا کر ایسے ہی منہ سے لگا لیا۔بمشکل گولیاں ابھی حلق سے نیچے اتری ہی تھیں کہ اسے قے آ گئی۔جگ وہیں چھوڑے وہ منہ پر ہاتھ رکھے باتھ اسپیس کی سمت بھاگی تھی۔اب واش بیسن پر وہ جھک جھک کر الٹیاں کر رہی تھی۔کچھ دیر بعد جب حالت قدرے بہتر ہوئی تو اس نے چلو میں پانی بھرا اور چہرے پر پھینکا۔
”قبول ہے۔“اپنے کہے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے۔آنکھوں میں عجیب سی وحشت اتر آئی،پھر خوف……اس نےخوفزدہ نگاہوں سے اپنے اردگرد دیکھا، ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا۔اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔اس نے قدم دروازے کی سمت بڑھانے چاہے مگر بڑھا نہ سکی۔اس کے اردگرد بڑی بڑی سلاخیں تھیں۔قانِتہ نے ہراساں نگاہوں سے اپنے اطراف میں دیکھا،وہ ایک بڑے سے پنجرے میں قید تھی۔پنجرے کے اطراف میں آگ لگی ہوئی تھی۔اس کا وجود یہ گرمی برداشت کرنے سے قاصر تھا۔اس نے فوراً نل گھمایا اور شاور کے نیچے آ کھڑی ہوئی۔سر پر پانی پڑتے ہی آگ کی حدت کچھ کم ہوئی مگر ایک اور آزمائش اس کی منتظر تھی۔پنجرے کے باہر بہت سے ہاتھ اس کی جانب بڑھ رہے تھے۔وہی ہاتھ جو سالوں سے اس کے وجود کو نوچ لینا چاہتے تھے۔قانِتہ نے گھبرا کر دیوار کا سہارا لیا۔
”میرے پاس مت آنا۔“وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی۔پانی مسلسل اسے بھگو رہا تھا۔ہاتھ مزید قریب آتے محسوس ہوئے۔واچ مین کا ہاتھ،ڈھابے کے مالک کا ہاتھ،دکان دار کا ہاتھ،اختر کا ہاتھ،بیگم جان کا ہاتھ،سماک کا ہاتھ اور سب سے آخر میں…… غزوان کا ہاتھ……آج ایک ہاتھ میں اضافہ ہوا تھا۔
”دفع ہو جاؤ تم سب یہاں سے۔چلے جاؤ۔چلے جاؤ۔میں قانِتہ ہوں،میں قانِتہ یزدان ہوں۔میں زخرف نہیں ہوں،نہیں ہوں میں۔میں تمہیں جیتنے نہیں دوں گیئں۔میں تمہیں اپنا استعمال نہیں کرنے دوں گیئں۔میں دیکھتی ہوں کہ تم کیسے مجھے توڑتے ہو۔میں ایک اور سِماک کو اپنی زندگی تباہ نہیں کرنے دوں گیئں۔تم دیکھو گے غزوان،دنیا دیکھے گی،قانِتہ یزدان تمہارا کیا حال کرتی ہے۔“اس کی آنکھوں میں غزوان کے لیے صرف نفرت تھی،صرف اور صرف نفرت……وہ دنیا کے سارے مردوں کو ایک ترازو میں تولنے لگی تھی۔اس کے نزدیک سب ایک جیسے تھے۔جھوٹے،مکار،فریبی……
سالوں پہلے ننھی چڑیا جس پنجرے میں قید تھی،اس کی چابی سماک کے ہاتھ میں تھی۔اور آج جب ننھی چڑیا بڑی ہو چکی تھی تو چابی غزوان کے ہاتھ میں تھی۔مگر اس بار حالات مختلف تھے۔قید میں زخرف نہیں قانِتہ تھی اور قانِتہ کمزور نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرے کی بالکنی پر وہ ریلنگ پر ہاتھ جمائے کھڑا تھا۔لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔اس نے جو چاہا تھا وہ حاصل کر لیا تھا۔بارسلونا کی ہر عمارت آج غزوان جہانزیب کو جھک جھک کر مبارک باد پیش کر رہی تھی مگر جس کے لبوں سے وہ مبارک باد کے الفاظ سننا چاہتا تھا،وہ کمرے میں بند تھی۔غزوان نے ایک گہری سانس لیتے ایک بار پھر اسے کال ملائی تھی۔توقع کے عین مطابق کال ریسیو نہیں کی گئی تھی۔
”آہ پری وَش!بہت ظالم ہو تم۔ایک دفعہ رخصتی ہو جانے دو پھر سارے حساب برابر کروں گا میں تم سے۔“اس کے کانوں نے زبان سے نکلے الفاظ سنے پھر یکدم وہ ہنس دیا۔وہ رخصتی کے بعد بھی قانِتہ کا کیا ہی بگاڑ سکتا تھا؟وہ تو اس کے دل کے تخت پر پوری تمکنت سے براجمان تھی۔غرور اس پر جچتا تھا۔اس کی ہر ادا غزوان کو گھائل کر دیتی تھی۔وہ کیا حساب لے سکتا تھا اس نے؟
غزوان نے سر جھٹکا اور قدم دروازے کی سمت بڑھا دیے۔وہ کال ریسیو نہیں کرے گی تو کیا وہ اس کے کمرے میں جا کر اپنے انداز میں مبارک باد وصول نہیں کر سکتا تھا؟
غزوان کے قدم قانِتہ کے کمرے کے باہر جا کر رکے تھے۔اس سے پہلے کہ وہ دروازہ ناک کرتا،اس کا فون تھرتھرایا تھا۔سکرین پر ابھرتا اسد کا نام دیکھ کر آج اس کے چہرے پر ناگواری نہیں چھائی تھی۔وہ اپنی خوشیوں میں اسد کو بھی شریک کرنا چاہتا تھا۔
”غزوان،تم کسی بھی طرح یہاں آ جاؤ۔قتادہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔تم پلیز جلدی آ جاؤ۔“وہ کتنی ہی دیر سکتے کی حالت میں وہاں کھڑا رہا تھا۔اسد نے کیا کہا تھا؟اسے سمجھنے میں وقت لگا تھا۔اگلے لمحہ اس نے خود کو بھاگتے پایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قانِتہ کسی کو بغیر بتائے تنہا بارسلونا کے لیے روانہ ہو چکی تھی حالانکہ اسے غزوان کے والدین کے ساتھ جانا تھا۔یہ بات انہیں یقیناً بری لگی تھی مگر خاموش رہے۔دوڑ دھوپ کرنے کے بعد غزوان کو بالآخر پاکستان جانے کے لیے ٹکٹ مل ہی گیا تھا۔وہ قریبی شہر میڈرڈ کی ائیر لائن سے پرواز کرنے والا تھا۔قانِتہ کے والدین نے بھی میڈرڈ شہر سے ہی دبئی کے لیے سفر کرنا تھا۔
اپنے گھر آ کر قانِتہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا۔گرینی نے بھی کچھ نہ کہا۔رات دس بجے کے قریب آئی ایک خبر نے بارسلونا پر چھائی رات کو مزید تاریک کر دیا تھا۔میڈرڈ شہر سے دبئی جانے والا پلین کریش ہو چکا تھا۔پلین ایسی جگہ کریش ہوا تھا،جہاں سے لاشوں کا ملنا تقریباً ناممکن تھا۔دو گھرانوں پر ایک ساتھ قیامت ٹوٹی تھی۔اگر قانِتہ کے والدین اس پلین میں تھے تو شاید غزوان بھی اس پلین میں ہی تھا۔اسپین سے جہاز ڈائریکٹ پاکستان بہت کم ہی جاتے تھے۔پاکستان جانے کے لیے درمیان میں ایک سٹاپ لازمی ہوتا تھا۔مسٹر جہانزیب اور مسز جہانزیب کو اس ہی بات کی فکر تھی کہ کہیں غزوان نے دبئی ائیر لائن کے ذریعے سفر نہ کیا ہو۔رات گیارہ بجے کے قریب مسٹر جہانزیب تھکے ہارے گھر لوٹے تھے۔لیونگ روم میں سب موجود تھے۔مسز جہانزیب،گرینی اور قانِتہ……یہ قانِتہ کا گھر تھا۔گرینی مسلسل روتی طیبہ کو خاموش کروانے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ قانِتہ سنگل صوفے پر بالکل خاموش اور بظاہر مطمئن بیٹھی تھیں۔مسٹر جہانزیب کے آنے پر بھی اس نے نگاہیں اوپر نہیں اٹھائیں تھیں۔
وہ شکست خور حالت میں چل کر قانِتہ کی سمت آئے تھے۔قانِتہ نے صوفے پر سختی سے اپنے ناخن گاڑ لیے تھے، نگاہیں بدستور جھکی ہوئی تھیں۔انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر گویا نیوز پر نشر ہوتی خبر پر مہر لگائی تھی۔قانِتہ نے ضبط سے نگاہیں بند کر لیں۔اس کے ماں باپ اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔وہ روئی نہیں تھی،اس نے ری ایکٹ بھی نہیں کیا تھا۔وہ بس خاموش ہو گئی تھی۔
”غزوان،میرا بیٹا وہ کہاں ہے؟“طیبہ نے تڑپ کر پوچھا تھا۔
”اس نے ترکش ائیرلائن کے ذریعے سفر کیا تھا۔یقینا اس وقت فلائیٹ میں ہو گا،اس وجہ سے رابطہ نہیں ہو رہا۔“طیبہ کے دل پر معنوں پھوار پڑی تھی۔جہانزیب کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔اگر کوئی آگ میں جل رہا تھا تو وہ محض قانِتہ تھی۔
طیبہ اور جہانزیب اس کے پاس رکنا چاہتے تھے مگر وہ فلحال اکیلا رہنا چاہتی تھی۔گرینی نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ قانِتہ کو اکیلا نہیں چھوڑیں گیئں۔جہانزیب اور طیبہ دونوں ہی قانِتہ کے اس خشک ردعمل پر نہایت حیران تھے۔کوئی بھی بیٹی اپنے والدین کی موت پر کیسے خاموش رہ سکتی تھی؟اسے تو ڈھاریں مار مار کر رونا چاہیئے تھا۔طیبہ نے کوشش بھی کی تھی مگر وہ نہیں روئی تھی۔ان کے مطابق وہ اس وقت شاید صدمے میں تھی۔
”بیٹا،اکیلی مت سو۔“کمرے کا دروازہ بند کرتے قانِتہ کے ہاتھ رکے تھے۔گرینی منت بھرے انداز میں اس کی جانب دیکھ رہی تھیں۔محمود یزدانی اور ان کی بیگم کی موت ان کے لیے کتنا بڑا صدمہ تھا،یہ وہ اچھی طرح جانتی تھیں مگر قانِتہ کا غم زیادہ بڑا تھا۔
”میں ٹھیک ہوں گرینی۔“اس سب میں اس نے پہلی بار کچھ کہا اور پھر دروازہ بند کر دیا۔گرینی اپنے آنسو پونچھتے باہر صوفے پر ہی بیٹھ گیئں۔وہ جانتی تھیں کہ آج کی رات کیا ہونے والا ہے،یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جہانزیب اور ان کی بیگم کو یہاں نہیں رکنے دیا تھا۔
گھڑی کی سوئیاں نہایت سست روی سے چل رہی تھیں۔بارسلونا شہر کی سڑکیں اب سنسان ہونے لگی تھیں۔آسمان پر سوگواریت کی دبیز چادر چڑھ چکی تھی۔گرینی روتے روتے وہیں صوفے پر ہی سو گئی تھیں۔رات کے ٹھیک دو بجے ان کی آنکھ کچن میں ہوتے شور سے کھلی تھی۔کسی چیز کے گرنے کی آواز پر ان کی آنکھوں میں ڈھیروں دکھ اترا تھا۔تھکان بھری سانس اندر کھینچ کر انہوں نے کچن کی جانب قدم بڑھائے تھے۔
اندر کی جانب کچن کاؤنٹر سے ٹیک لگائے وہ معمول کے مطابق وہیں بیٹھی تھی۔فریج کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔گرینی نے تاسف سے اسے دیکھا، پھر فریج بند کیا اور ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر بمشکل اس کے پاس بیٹھیں۔
قانِتہ ہاتھ میں پکڑی ڈبل روٹی کو ندیدوں کی طرح کھانے میں مصروف تھی۔پاس ہی جوس کا ڈبہ الٹا پڑا تھا اور فرش پر جگہ جگہ دودھ گرا ہوا تھا۔
”قانِتہ،چھوڑ دو اسے۔“انہوں نے نرمی سے کہا اور اس کے ہاتھ سے ڈبل روٹی لینا چاہی۔
”گرینی،مجھے بھوک لگی ہے۔“اس نے بھرے ہوئے منہ کے ساتھ کہا اور ایک بار پھر اس ہی رغبت سے کھانے لگی۔
”میں کچھ اچھا سا بنا دوں اپنی بیٹی کو؟“انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔وہ خالی خالی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔”کچھ اچھا سا…..“وہ سوچنے لگی۔اس اچھا سا میں کیا کیا آ سکتا تھا؟سوکھی ہوئی روٹی،کچے چاول یا پھر کبھی کبھار کوئی چوری کی ہوئی چیز؟
”کیا کھائے گی میری بیٹی؟بتاؤ مجھے،میں بنا دیتی ہوں؟“انہوں نے ایک بار پھر نہایت شفقت سے پوچھا۔وہ ڈبل روٹی چھوڑے سوچنے لگی،کئی لمحہ سوچتی رہی۔
”میں نے بہت بدتمیزی کی تھی۔وہ مجھ سے ناراض ہو کر چلے گئے۔ہر کوئی مجھے چھوڑ کر چلا جاتا ہے گرینی۔آپ تو نہیں چھوڑیں گیئں مجھے؟“اس نے گو کہ منت بھرے لہجے میں ان سے پوچھا۔گرینی کو بے اختیار اس پر ترس آیا۔انہوں نے فوراً قانِتہ کو خود سے لپٹا لیا۔
”مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتا گرینی۔زخرف کو کوئی نہیں چاہتا۔سب چھوڑ جاتے ہیں مجھے۔پہلے غانیہ اور اب ممی اور ڈیڈ نے چھوڑ دیا مجھے۔میں نے غصے میں بہت کچھ کہہ دیا مگر…..اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ مجھ سے ناراض ہی ہو جائیں۔“وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو ے لگی تھی۔
”میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے گرینی؟ہمیشہ میرے ساتھ ہی کیوں؟“
”بس چپ ہو جاؤ بیٹا،زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔“انہوں نے قانِتہ کی پیٹ تھپتھپاتے اسے تسلی دی تھی۔
”مجھے برباد کر دیا اس نے۔تباہ کر دیا۔کبھی معاف نہیں کروں گیئں میں اسے،کبھی نہیں۔“
”بیٹا،بھول جاؤ اسے۔سِماک……“
”وہ کہاں سے آ گیا درمیان میں؟اس کا تو کوئی قصور ہی نہیں تھا۔سارا قصور میرا تھا۔سارا قصور لڑکیوں کا ہوتا ہے۔سارا قصور میرا تھا یا پھر اس کا……“وہ کچھ کہتے کہتے رکی۔”ہاں گرینی، سارا کا سارا قصور اس کا تھا۔میں اسے نہیں بخشوں گیئں، کبھی نہیں۔“آنکھیں رگڑتے اس نے جیسے عزم سے کہا تھا۔آنکھوں میں اب صرف انتقام کی چنگاریاں تھیں۔
”کس کی بات کر رہی ہو؟“گرینی نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔
”آپ جانتی ہیں گرینی،میں اس دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کس سے کرتی ہوں؟“
”سِماک……“نفی میں سر ہلاتے وہ تلخی سے ہنس دی تھی۔
”نہیں گرینی،سِماک نہیں۔“
”پھر بیگم جان…..“قانِتہ نے اس بار بھی نفی میں سر ہلایا تھا۔
”اختر…..“اس بار بھی اس نے انکار ہی کیا تھا۔گرینی کو حیرت ہوئی تھی،آخر یہی تو وہ نام تھے جنہوں نے اسے برباد کیا تھا پھر آخر ان سے بڑا کون سا نام تھا، جس سے وہ نفرت کرتی تھی؟
”تمہارے والد اور بھائی…..“
”نہیں گرینی،ان میں سے کوئی بھی نہیں۔مجھے اس لڑکے سے نفرت ہے جس نے مجھے پھول دیا تھا۔جس نے مجھ سے اظہار محبت کیا تھا۔جس کی وجہ سے مجھ پر تہمت لگی، مجھے سوارہ کیا گیا۔اگر اس دن وہ مجھے گلاب کا پھول نہ دیتا تو یہ سب کبھی نہ ہوتا۔آپ دعا کریں کہ وہ مجھے کہیں سے بھی مل جائے۔میں اس کی ہستی مٹا دوں۔اسے اپنے اندر پکتے لاوا میں جلا کر بھسم کر دوں۔
I hate him.I really hate him.”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔