61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 40)

لا رمبلا کی بل کھاتی شاہراہ کسی طلسم کے زیر اثر معلوم ہوتی تھی۔ہر طرف مدھم سنہری روشنیوں کا جال بچھا تھا اور پتوں کی شاخوں سے چھن کر اترتی چاندنی سڑک پر جادوئی نقوش بنا رہی تھی۔
ڈنر کے بعد وہ دونوں لمبی شاہرہ پر ہم قدم چل رہے تھے جیسے ان خوبصورت لمحوں کو قید کرنا چاہ رہے ہوں۔
غزوان کی کسی بات پر قانِتہ نے مسکرا کر اوور کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے۔ٹھنڈی ہوا اس کے بالوں سے کھیل رہی تھی۔
پھولوں کی ایک دکان کے آگے غزوان کے قدم رکے تھے۔اس نے گلاب کا ایک پھول خریدا اور قانِتہ کی جانب بڑھنے لگا۔تاروں بھری جگمتاتی رات میں اس کی سرمئی آنکھیں مسکرا اٹھیں۔
قانِتہ کے پاس آ کر وہ لمحہ بھر کو رکا،گہری آنکھیں اس کے چہرے پر جمائیں پھر وہ ایک گھٹنا زمین پر ٹکا کر بیٹھ گیا۔لا رمبلا کی سڑک اس کی محبت کی گواہ بن گئی۔
”یاد یے وہ دن جب ہم اسی شاہرہ پر ملے تھے اور تم نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔“اردگرد چلتے پھرتے کچھ لوگوں نے مسکرا کر اس منظر کو دیکھا تو کچھ نظر انداز کرتے آگے بڑھ گئے۔اس سب سے بے خبر غزوان اپنی تمام تر وجاہت اور محبت کے ساتھ ایک ہاتھ میں پھول پکڑے شاہراہ کے درمیان میں ایک گھٹنا زمین پر ٹکائے بیٹھا تھا۔
”آج میں تم سے زندگی بھر کا ساتھ مانگتا ہوں۔کیا تمہیں ساری زندگی کے لیے غزوان جہانزیب قبول ہے؟“گٹار کی مدھم دھن ہوا میں لہروں کی مانند بہنے لگی۔درختوں کے پتے ان دیکھے نغمے کے تال پر جھومنے لگے۔
قانِتہ نے آہستگی سے ہاتھ آگے بڑھایا اور پھول تھام لیا۔
”قبول ہے۔“اس اقرار سے بارسلونا کی پوری رات مہک اٹھی۔
غزوان سرشاری سے اٹھا اور اس نے قانِتہ کو خود سے لگا لیا۔
”تھینک یو۔“اس مدھم سرگوشی میں اظہار تشکر سے زیادہ اظہار محبت تھا۔
وہ دونوں اب ایک ساتھ آگے بڑھنے لگے۔
”ایک بات کہوں تم سے،مانو گی؟“قانِتہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔
”میرے دوست کی شادی ہے۔وہ چاہتا ہے کہ ہم دونوں شرکت کریں۔اس دن ویڈیو کال پر بھی بات ہوئی تھی تمہاری۔“
”یہ تو اچھی بات ہے۔ہم ضرور جائیں گے۔“غزوان نے ایک گہرا سانس اندر کھینچا جیسے ہوا میں موجود تازگی کو اندر اتارا ہو۔کندھے کسی ان دیکھے بوجھ سے آزاد ہو گئے۔عجیب سا سکون دل میں اترنے لگا۔
”لیکن تمہاری جاب؟“
”ایک دو دن کی چھٹی تو مل ہی جائے گی۔“اس کا لاپرواہ انداز غزوان کو ایکدم ریلکس کر گیا۔سارے خدشات دور ہو گئے۔اس کے لبوں پر آسودگی بھری مسکراہٹ آ ٹھہری۔
اس نے قانِتہ کے گرد بازو پھیلایا اور اسے خود سے قریب کیا۔
”ہنی مون پر جانے کے لیے چھٹیاں نہیں ملیں گیئں،دوست کی شادی پر جانے کے لیے مل جائیں گیئں؟“وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔شہر کی جگمگاتی روشنیوں نے یک لخت قانِتہ کے چہرے پر رنگوں کے اتار چڑھاؤ دیکھے۔
اس کے چہرے پر یکا یک حیرانی،حیا،تبسم اور بے اختیاری کے ایسے رنگ بکھرے جیسے جذبات کی پوشیدہ کرنیں ایک ساتھ چہرے پر پھوٹ پڑی ہوں۔
”تو سینوریٹا قانِتہ شرماتی بھی ہے؟“وہ اب اسے مزید تپا رہا تھا۔
”میں نہیں شرما رہی بس تم گھٹیا باتیں کرتے ہو۔“اس نے روانی میں کہہ دیا پھر فورا دانتوں تلے زبان دبائی۔
”توبہ،پھر سے بدتمیزی کر دی میں نے۔“اس نے کچھ شرمندگی سے غزوان کی جانب دیکھا۔غزوان لب دبائے خاموشی سے اس کے ساتھ چل رہا تھا۔
”اچھا میں اپنا جملہ تبدیل کر لیتی ہوں۔شوہر کی عزت کرنی چاہیے۔میں ایک بار پھر سے کہتی ہوں۔“اس نے گلا کھنکھارا۔غزوان کا دل چاہا زور زور سے ہنسے مگر فلحال وہ ضبط کا دامن تھامے چلتا رہا۔
”میں نہیں شرما رہی بس آپ ہی گھٹیا باتیں کرتے ہیں۔“اس بار وہ سر جھکائے زور ہنس سے دیا تھا۔
”یعنی میں گھٹیا ہوں؟“اس نے ایک آبرو ریز کرتے قانِتہ کی جانب دیکھا تھا۔
”بالکل…..“
”قانِتہ……“غزوان نے تنبیہہ کی۔
”ایک تو میں عزت کرنے کی کوشش کر رہی ہو اور آپ کو قدر ہی نہیں ہے۔“اب کی بار وہ جھنجھلائی تھی۔
”اچھا ٹھیک ہے تم کرتی رہو کوشش،جتنے دنوں تک کر سکتی ہو۔میں قدر کرتا ہوں۔“اس نے اپنی جانب سے فل سٹاپ لگایا۔اس خوبصورت رات میں وہ اس سے محبت بھری باتیں کرنا چاہتا تھا نہ کہ لڑنا۔
”پھر تم لیو اپلائی کر دو۔پاسپورٹ ویزا وغیرہ میں دیکھ لوں گا۔پاکستان جانے میں بھی تو وقت لگے گا۔“وہ بہت سادہ انداز میں کہہ رہا تھا جبکہ قانِتہ کے قدموں تلے زمین سرکنا شروع ہو گئی۔اس کا دل ایک ڈھڑکن کے ساتھ رکا۔چہرے کا رنگ ایسا فق پڑا معنوں جسم سے خون نچوڑ لیا گیا ہو۔آنکھوں میں خوف کا سیلاب امڈ آیا۔اس کی سانسیں منتشر ہو گیئں۔ہر سانس ایک بوجھ کی طرح سینے میں اترتی چلی گئی۔
”پاکستان…..؟“اس کے لبوں نے ہلکی سی جنبش کی۔
”ہاں پاکستان……“اس تصدیق پر قانِتہ کے دل کی دھڑکن مزید تیز ہو گئی۔آنکھوں کے آگے دھند چھانے لگی۔ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔
”آج پاکستان کا نام لیا ہے پھر مت لینا۔میں پاکستان نہیں جاؤں گیئں،کبھی نہیں جاؤں گیئں۔“وہ بولی تو آواز میں زلزلے جیسی لرزش اور شدت تھی۔غزوان لمحے بھر کو چونک گیا۔
”مگر تم نے تو کہا……“
”پلیز غزوان،مجھ سے دوبارہ اس موضوع پر بات مت کرنا۔میرے سامنے آئیندہ پاکستان کا نام بھی مت لینا۔مجھے نفرت ہے اس ملک سے۔میں یہ نام سنتی ہوں تو میرا دماغ پھٹنے لگتا ہے۔میں……“
”اوکے اوکے ریلیکس۔اگر تم نہیں جانا چاہتی تو ہم نہیں جائیں گے۔“غزوان نے اسے شانوں سے تھام کر قریبی بینچ پر بٹھایا۔
قانِتہ کی سانسیں اب بھی منتشر تھیں۔
”میں پانی لاتا ہوں۔“وہ جانے لگا تو قانِتہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
”اس کی ضرورت نہیں۔بس گھر چلتے ہیں۔“وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔چہرے پر بکھرے سارے رنگ کہیں غائب ہو چکے تھے۔وہاں اب صرف غصہ اور عجیب سا خوف تھا۔
”جیسا تم چاہو لیکن کیا میں جان سکتا ہوں کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟کیا تم مجھ سے کچھ شیئر کرنا چاہتی ہو؟“قانِتہ نے پلکیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ان آنکھوں میں اعتماد،وفا اور محبت کے علاؤہ اسے کچھ نظر نہ آیا۔
”تم مجھ سے کچھ بھی شیئر کر سکتی ہو۔میں سمجھوں گا تمہیں جیسے پہلے……“
”شیئر کرنے لائق کچھ ہے ہی نہیں۔جو تھا میں بتا چکی ہوں۔بس گھر چلو۔“وہ جتنا بتانا چاہتی تھی،بتا چکی تھی۔اپنے ماضی کی کسی دردناک یاد کو غزوان کے سامنے دہرانا اس کی ہمدردی وصول کرنے جیسا تھا اور قانِتہ نہ اس کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی تھی اور نہ اپنا مذاق بنوانا چاہتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تاریکی نے گھر کو اپنے آغوش میں لیا ہوا تھا۔فضا میں عجیب سی خاموشی تھی۔ہوا تھمی ہوئی تھی مگر فضا میں نمی کی مہک صاف محسوس ہو رہی تھی۔آسمان پر سیاہی مائل بادلوں کا لشکر جمع تھا جو کبھی کبھار بجلی کی چمک سے جگمگا اٹھتا۔اندر کا موسم بھی کافی خراب تھا۔قانِتہ کے اندر بے چینی کی جنگ چل رہی تھی۔پاکستان کا نام سن کر وہ اچھی خاصی ڈپریسڈ ہو گئی تھی۔اب دوائیاں کھائے بغیر نیند آنا ناممکن تھا مگر دوائیاں تھیں کہ ملنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔وہ وارڈراب سے لے کر درازوں تک سب گھنگھال چکی تھی۔نجانے اس نے دوائیاں کہاں رکھ دیں تھیں۔کسی خیال کے تحت اس نے اپنا بیگ چیک کیا مگر یہاں بھی اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
غزوان بستر پر چت لیٹا تھا۔ایک ہاتھ سر کے نیچے جبکہ دوسرا پیٹ پر دھرا تھا۔بند آنکھیں گواہ تھیں کہ وہ سو چکا ہے۔
”کہاں رکھ دیں میں نے؟“وہ بے چینی سے اب ایک بار پھر درازیں کھنگال رہی تھی۔
”دوائیاں ڈھونڈ رہی ہو؟“آدھ کھلی دراز کے ہینڈل پر قانِتہ کے ہاتھ تھمے۔دل زور سے ڈھڑکا معنوں چوری پکڑی گئی ہو۔
”میرے پاس ہیں اور میں نہیں دوں گا۔“وہ ایسے ہی پرسکون آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا۔قانِتہ کا پور پور بے چینی میں ڈوب گیا۔
”غزوان مجھے نیند نہیں آئے گی۔“اس نے لہجے کو مستحکم کرتے ہوئے کہا۔اسے اس وقت غزوان پر شدید غصہ آیا تھا۔آخر کیسے وہ اس کی اجازت کے بغیر اس کی دوائیاں چھپا سکتا تھا مگر فلحال ضبط سے کام لیا۔
”کیوں نہیں آئے گی؟“وہ اٹھ کر بیٹھا اور سختی سے پوچھا۔
”جانتی ہو نیند کے لیے کتنی ہائی ذور لیتی ہو تم اور وہ بھی اتنی مقدار میں؟کسی ڈاکٹر نے سجیسٹ کی ہے تمہیں؟نہیں ناں پھر کیوں لیتی ہو اتنی ساری دوائیاں؟“اس کے لہجے میں واضح برہمی تھی۔
”غزوان پلیز……“اس نے گو کہ منت کی۔
”پہلے دوائی لینے کی وجہ بتاؤ۔“قانِتہ نے بےبسی سے گہرا سانس لیا۔
”سکون کے لیے،نیند کے لیے……“وہ اس وقت محض سکون چاہتی تھی۔وہ بس سونا چاہتی تھی۔اس کے لیے اسے دوائی چاہیئے تھی جو وہ دے نہیں رہا تھا۔
”ادھر آؤ۔“اب کی بار اس کا لہجہ نرم تھا۔
”میں نہیں آ رہی۔“وہ کاٹ کھانے کو دوڑی۔آخر کتنا ضبط کرتی۔باہر گرجتے بادل بارش کی نوعید سنانے لگے۔
غزوان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور آنکھوں میں شوخی۔
”ایک شرط پر دوائیاں دوں گا۔“اس نے آہستگی سے کہا۔لہجے میں گہری سنجیدگی تھی۔
”کیا…..؟“اس نے بے چینی سے پوچھا۔
”میرے پاس آ کر لیٹو۔“غزوان نے بستر کے خالی حصے کی جانب ہلکی سی جنبش کی۔قانِتہ کے چہرے پر بےبسی کی کربناک جھلک آ ٹھہری۔”آخر کس قدر مطلبی انسان تھا اس کا شوہر“وہ سوچ کر رہ گئی۔
ہار مانتے ہوئے وہ شکستہ قدموں سے بستر تک آئی اور غزوان سے فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے لیٹ گئی۔عین اس ہی وقت غزوان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔وہ دل پر پتھر رکھ کر اس کے قریب ہوئی۔پہلے اس کے بازو میں اپنے تیز ناخن گاڑھے پھر ایک زور دار مکا اس کے سینے پر جڑ کر وہاں سر رکھ گئی۔
غزوان مسکرا کر رہ گیا۔
وہ خفا خفا سی اس کے سینے پر سر رکھ چکی تھی جب غزوان کے بازو نے نرمی سے اسے تھام لیا جیسے وہ اس کی زندگی کی ساری پریشانیاں اپنے اندر سمانا چاہتا ہو۔
”غصہ تھوک دو میری جان۔دوائیوں کو بھول جاؤ۔تم ان کے بغیر بھی سو سکتی ہو اور اگر تمہیں نیند نہیں آئے گی تو کوئی مسئلہ نہیں،ہم دونوں ساتھ جاگیں گے۔ساری رات باتیں کریں گے۔“قانِتہ نے خفگی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر اسی خفگی سے واپس رکھ لیا۔غزوان نے عقیدت سے اس کے بالوں پر بوسہ دیا۔
”تمہارا پسندیدہ رنگ کون سا ہے؟“
”کھانے میں کیا پسند ہے؟“
”تمہیں پتا ہے مجھے گیلی مٹی بہت پسند ہے۔ہم ایک بار پھر سمندر کنارے جا کر گھر بنائیں گے۔“وہ اب بات سے بات نکال رہا تھا۔قانِتہ بس لیے دیے سے جواب دے رہی تھی۔اسے رہ رہ کر اپنی دوائیاں ہی یاد آ رہی تھیں جو غزوان کے قبضے میں تھیں اور وہ دینے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتا تھا۔
”ایک بات بتاؤ،آپ اس رات اپنے فون پر کیا بات کر رہے تھے؟“اس نے سر اٹھا کر پوچھا۔
”میرا ایک دوست ہے۔پانچ سال پہلے اس کی شادی ہوئی۔دو بچے ہیں اس کے۔تین سال سے افیئر چل رہا ہے اس کی بیوی کا یہاں تک کہ وہ پریگنینٹ ہو گئی۔جب میرے دوست کو اس کے افیئر اور بچے کا علم ہوا تو وہ اپنی بیوی سے بہت لڑا۔وہ طلاق دینا چاہتا تھا مگر اس کی بیوی نے اس پر بہت سارے کیسز کر دیے۔اس نے ابارشن کروا لیا اور کلیم کیا کہ بچہ میرے دوست کا ہی تھا۔وہ بہت پریشان تھا۔مزید تحقیق پر پتا چلا کہ اس کی بیوی کے بہت سے امیر لوگوں کے ساتھ افیئرز ہیں مگر کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔پھر میں نے اسے ایک ترکیب دی کہ کسی کو ہائر کرتے ہیں جو اس کی بیوی کے ہر قدم پر نظر رکھے مگر وہ عورت کافی شاطر تھی۔کورٹ میں کیس کی ہیئرنگ تھی،ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔میرے دوست کو اپنے بچوں کی کسٹڈی چاہیئے تھی پھر میں نے اسے کہا کہ ہم کسی بھی شخص کو پیسے دے کر اس کی بیوی کے سامنے امیر ظاہر کر دیتے ہیں۔اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔“وہ آہستگی سے قانِتہ کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔وہ پرسکون سی اس کی چلتی دھڑکنوں کو محسوس کر رہی تھی۔
”میرے دوست نے جب اپنی آنکھوں سے سب دیکھا تو ہر چیز پس پشت ڈال کر اسے طلاق دینے کا فیصلہ کیا۔میں بس اس سے یہ کہہ رہا تھا کہ جلدی مت کرے۔پہلے وہ ہمارے ہائر کیے ہوئے شخص سے اظہار محبت کر لے تا کہ ہمارے پاس پختہ ثبوت ہوں اس کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائے تم نے پتا نہیں کیا سمجھ لیا۔“آخر میں وہ عجیب طرز سے ہنسا تھا۔
”لیکن پھر بھی اس طرح کسی خاتون کے لیے اتنے غیر مناسب الفاظ استعمال کرنا آپ کو زیب دیتا ہے؟“اس کے لہجے میں واضح ناراضگی تھی۔
”آئی ایم سوری!مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا۔ویسے اگر کوئی خاتون اپنے شوہر کو گھٹیا کہے تو کیا اسے یہ زیب دیتا ہے؟“قانِتہ نے بے چینی سے اس کی شرٹ کو ہاتھ کی مٹھی میں بھینچا۔وہ کافی دیر خاموش رہی معنوں لفظوں کو جوڑ رہی ہو۔
”دوبارہ نہیں کہوں گیئں۔“تھوڑی دیر بعد وہ آہستگی سے گویا ہوئی تھی۔
”چلو اب سو جاؤ۔“وہ اب محبت سے اسے پچکار رہا تھا۔قانِتہ نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا اور خفگی سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔”مجھے نیند نہیں آ رہی اور دوائی کھائے بغیر تو بالکل نہیں آئے گی۔“غزوان نے بےبسی سے اسے دیکھا پھر گہری سانس اندر کھینچ کر اٹھ بیٹھا۔
کچھ دیر سوچتا رہا پھر اچانک لبوں پر مسکراہٹ عود آئی۔
”آواز سنائی دے رہی ہے تمہیں؟“قانِتہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
”بادل گرج رہے ہیں۔میرے خیال سے بارش ہو رہی ہے۔“اس کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ بکھر گئی۔
”تو…..؟“اس نے بیٹھتے دل کے ساتھ پوچھا۔
”تو پھر چلو۔“وہ پر جوش سا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
”سوچنا بھی مت۔رات کا ایک بج رہا ہے۔“غزوان نے سلیپرز پہنے اور قانِتہ کو بازو سے پکڑ کر زبردستی کھڑا کیا۔
”غزوان یہ بچپنا ہے۔“
”مجھے بہت زیادہ نیند آ رہی ہے۔“
”غزوان……“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزوان نے بالکنی کا سلائڈنگ دروازہ سرکایا تو بارش کی بوندوں کو نغمے گنگناتے ہوئے پایا۔اس نے اپنے موبائل پر رومانوی گیت چلایا اور ایک طرف رکھ دیا۔اب اس نے قانِتہ کا ہاتھ پکڑا اور اندر داخل ہوا۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ان کے وجود سے ٹکرائے۔
اس نے اب قانِتہ کو ایک جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا۔وہ بری طرح گھبرائی پھر اس نے قانِتہ کو خود سے دور کیا اور اسے گھمانے لگا۔
”یہ آپ ٹھیک نہیں کر رہے۔“بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ وہ صرف اتنا سا احتجاج کر سکی۔
موسیقی کی مدھم لہریں بارش میں تحلیل ہونے لگیں۔
”میں نے کہا تھا کہ ہم ڈانس کریں گے تو پھر ہم کریں گے۔“ایک اور گھماؤ دینے کے بعد غزوان نے اسے اپنی جانب کھینچا۔قانِتہ کے دل میں انوکھی سنسناہٹ پیدا ہوئی۔ایک ایسا احساس جسے وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی تھی۔
وہ لاکھ احتجاج کرتی مگر یوں رات کے وقت اس برستی بارش میں غزوان کا ساتھ اسے اچھا لگ رہا تھا۔
بارش کا پانی ان کے بالوں سے بہہ کر لباس میں جذب ہو رہا تھا۔
”جانتی ہو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں؟“غزوان نے اس کے چہرے سے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا۔سرمئی آنکھیں اس کے سحر میں قید تھیں۔
”جیسے رات چاندنی سے،جیسے بارش زمین سے،جیسے سمندر ساحل سے،جیسے روشنی پھول سے۔تم سے پہلے زندگی کا کوئی مفہوم نہیں تھا اور تمہارے بعد……“وہ کہتے کہتے رکا۔بارش کی بوندوں کے ساتھ دھڑکنوں کا شور سنائی دینے لگا۔
غزوان نے اس کے سر سے سر ٹکایا۔وہ آنکھیں بند کر گئی۔
”تمہارے بعد کیا ہو گا یہ میں نے کبھی نہیں سوچا اور میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔آئی رئیلی لو یو۔“گانا ختم ہو چکا تھا مگر وہ دونوں ایسے ہی کھڑے رہے۔ساکت،خاموش مگر مکمل۔
”اگر صبح میں آفس سے لیٹ ہوئی تو آپ کی خیر نہیں۔“بال رگڑتے قانِتہ نے غزوان کو دھمکی دی۔
”تم ساری رات سوتے جاگتے گزار دیتی۔تمہیں تو میرا مشکور ہونا چاہیے کہ میں نے اس رات کو رومانٹک بنا دیا۔“
”یہ سب رومانٹک تھا؟“بال رگڑتے اس کے ہاتھ رکے۔اس نے پلٹ کر خفگی سے بستر پر بیٹھے غزوان کو گھورا۔
”تو کیا نہیں تھا؟“اس کے الٹا سوال پر وہ سر جھٹک کر رہ گئی۔
”چلو پھر کچن میں چلتے ہیں۔“اس کے اگلے عمل کو پرکھتے وہ بری طرح گھبرا گئی۔
”آدھی رات کو کچن میں کیوں جانا ہے؟“
”قہوہ بنانے…..بارش میں بھیگنے کے بعد قہوہ پینے کا اپنا ہی مزا ہے۔چلو آج تمہیں غزوان اسپیشل قہوہ پلاتا ہوں۔“اس نے قانِتہ کے ہاتھ سے تولیہ پکڑا اور ایک طرف پھینکا پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گیا۔وہ اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی گئی۔
ڈائینگ میز کے گرد رکھی کرسی پر بیٹھ کر وہ سامنے میز پر پڑے کپ کو گھور رہی تھی۔
ذہن کے پردے پر ماضی کی کوئی یاد اُجاگر ہوئی تھی۔
وہ اور غانیہ چھت پر بیٹھے تھے۔موسم کافی خوشگوار تھا۔
”آپ دیکھنا غانیہ،ایک دن میں اپنا گھر بناؤں گیئں۔“کڑھاہی کرتے غانیہ کے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے۔اس نے ایک آبرو ریز کر کے زخرف کو مسکرا کر دیکھا۔
”اور پھر جب وہاں بارش ہو گی تو میں خوب کھیلوں گیئں۔گنگناؤں گی اور ناچوں گیئں اور مجھے روکنے والا کوئی نہیں ہو گا۔“
”اچھا اس کے بعد کیا کرو گی؟“غانیہ نے لب دبا کر دلچسبی سے پوچھا۔
”پھر میں…..“اس نے ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر سوچا۔
”ہاں پھر میں قہوہ بنا کر پیوں گیئں لیکن بارش میں کھیلنے کے بعد میرا دل نہیں کرے گا کوئی بھی کام کرنے کا۔“سوچتے ساتھ ہی اس کا منہ اتر گیا تھا۔
”ہاں،میں ناں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گیئں کہ وہ اس وقت کسی کو بھیج دے جو مجھے قہوہ بنا کر دے۔ہاں،آج عشاء کی نماز میں،میں یہی دعا مانگوں گیئں۔“اس نے جس قدر جوش سے چہکتے ہوئے کہا تھا،غانیہ ہنس دی تھی۔
”قانِتہ……“غزوان کی پکار پر اسے جیسے ہوش آیا تھا۔
”کیا قہوہ اچھا نہیں لگا تمہیں؟“قانِتہ نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔آنکھوں میں ڈھیر ساری نمی تیرنے لگی۔اس نے کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا۔سردی کا اثر کچھ زائل ہوا۔
دعائیں صحیح وقت پر ہی قبول ہوتی ہیں اور بعض اس وقت جب انسان اپنی مانگی گئی دعا کو مکمل طور پر بھول چکا ہوتا ہے۔
”ویسے تم کتنی بورنگ ہو یار۔تمہیں تو بارش بھی پسند نہیں۔“
”کیا تمہیں پسند ہے؟“وہ بے اختیار پوچھ بیٹھی۔
”ہاں،بہت۔لوگ بارش میں چھتریاں کھول لیتے ہیں،بھاگ کھڑے ہوتے ہیں مگر میں بارش میں گھنٹوں ساکت کھڑا رہ سکتا ہوں۔گرتی بوندوں کو اپنے وجود پر محسوس کر سکتا ہوں۔میرا بارش کے ساتھ انوکھا رشتہ ہے۔بس یوں سمجھ لو،بارش میرا عشق ہے۔“وہ بولتا نہیں تھا وہ سامنے والے کو مسمرائز کر دیتا تھا۔نجانے کون سا جادو تھا اس کی باتوں میں،اس کے لہجے میں،اس کی آنکھوں میں……وہ اس کی اسیر ہوتی جا رہی تھی۔دل کسی مقناطیس کی طرح اس کی جانب کھینچتا چلا جا رہا تھا۔
”اور کیا کیا پسند ہے تمہیں؟“اسے اب غزوان کی پسند اور ناپسند میں گہری دلچسپی ہوئی تھی۔
”مجھے…..“وہ سوچ میں پڑا۔
”مجھے سمندر پسند ہے۔مجھے ساحل پر بکھری نرم ریت پر چلنا پسند ہے۔بس ہم ساری عمر اس گھر میں گزاریں گے جہاں سے ہم روز سمندر کو دیکھ سکیں۔اور ہاں،اب کیونکہ ہم شادی شدہ ہیں اور تم میری بیوی ہو تو میری خواہشات کا احترام کرتے ہوئے تمہیں ہر روز رات کو میرے ساتھ سمندر کنارے چلنا پڑے گا اور جب بھی بارش ہو گی،ہم ساتھ بھیگے گے۔“آخر میں اس کا لہجہ تحکمانہ تھا۔وہ بس مسکرا کر رہ گئی۔
سوچتی رہی کہ آخر ان دونوں کی پسند کتنی ملتی تھی۔
”چلو اب سو جاتے ہیں قانِتہ۔“وہ کہتے ساتھ ہی اٹھا۔
”تم مجھے ان ناموں سے کیوں نہیں پکارتے جن سے پہلے پکارتے تھے؟“وہ رک گیا۔آنکھوں میں چمک ابھری۔تھوڑا سا جھک کر اس نے ایک ہاتھ کرسی پر رکھا تو دوسرا میز پر۔
”کون سے نام؟“
”وہی گلابے،ہیرے اور پتا نہیں کیا کیا۔ہاں آخر میں پری وَش۔“اس کی یاد دہانی پر غزوان مسکرا اٹھا۔
”ویسے نام بہت چیپ ہیں مگر تمہارے منہ سے اچھے لگتے ہیں۔“وہ کہہ کر فوراً اٹھی۔اس کا حصار توڑا اور کمرے کی جانب چل دی۔
غزوان نے مسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچن میں مدھم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔کھڑکیوں سے آتی شام کی نارنجی کرنیں ٹائلز پر بکھری ہوئی تھیں اور چولہے پر ہلکی آنچ میں سالن کی خوشبو فضا میں تیر رہی تھی۔
آفس سے آنے کے بعد قانِتہ کھانا پکانے میں مصروف تھی۔جہانزیب اور طیبہ گھر نہیں تھے۔غزوان کے لاکھ کہنے کے باوجود بھی وہ باہر سے کھانا منگوانے پر رضامند نہ ہوئی تھی۔گھر کے تقریباً سارے کام وہ خود کرتی تھی اور بےحد خوشی سے کرتی تھی۔
”کیا پکا رہی ہو؟“غزوان کی سرگوشی پر وہ ٹھٹھکی پھر مسکرا کر شرارت سے اس کی جانب دیکھا۔
”تمہارا دل…..“
”ہائے نہ کرو ظالم،جلن ہو رہی ہے۔“وہ فل ڈرامائی انداز میں دل کے مقام پر ہاتھ رکھ گیا۔قانِتہ کھلکھلا اٹھی۔
”ویسے ایک بات پوچھوں تم سے؟“وہ تھوڑا جھجھکی۔
”ہممم…..“
”تمہیں بچے بہت پسند ہیں ناں؟“
”ہاں مگر صرف اپنے۔“
”تو پھر تم دوسری شادی کر لو گے؟“غزوان پہلے ٹھٹھکا پھر بے یقینی سے اسے دیکھا۔
”میں ایسا کیوں کروں گا؟“
”بس ایسے ہی میں…..“غزوان نے اسے شانوں سے تھاما اور اس کا رخ اپنی جانب کیا۔
”تم اپنے ذہن سے یہ سب نکال کیوں نہیں دیتی؟اگر ایک تجربہ برا ہو تو ضروری نہیں کہ دوسرا بھی ہو۔اگر اللہ نے چاہا تو میرے بچے ہوں گے اور ان کی ماں تم ہو گی۔حادثے بار بار نہیں ہوتے۔اس دنیا میں کتنی خواتین ہیں جن کی گود بھرنے سے پہلے ہی اجڑ جاتی ہے۔اس کا مطلب یہ تو نہیں وہ امید ہی چھوڑ دیں۔“گھر میں ہر طرف سکوت چھا گیا۔دیواریں سانس لینا بھول گیئں۔
وہ سامنے کھڑا بول رہا تھا۔اس کی زبان سے ادا ہونے والے جملے قانِتہ کے اندر دھماکے کی طرح گونجے تھے۔
وہ اگر سمجھدار نہیں تھی تو اتنی بیواقوف بھی نہیں تھی۔باتوں کا مفہوم وہ سمجھتی تھی۔
وہ روانی اور بے دھیانی میں بولتا چلا گیا۔یہاں تک کہ اس کا فون تھرتھرایا اور اس نے مصروف انداز میں سکرین پر ابھرتا نام دیکھا۔
”ذرا جلدی کھانا لگا دو زخرف۔مجھے بھوک لگی ہے۔“اس نے بے دھیانی میں کہا اور فون کان سے لگا کر باہر چلا گیا۔
قانِتہ وہیں پتھرا گئی۔نہ پلکیں لرزیں اور نہ جھپکیں۔
ہاتھ میں تھامی کرچی چھوٹ کر گری۔
وہ سانس لینا چاہتی تھی مگر گلے میں کوئی گرہ پڑ گئی۔وہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر زبان پر فقل لگ گیا۔اس کی ٹانگیں کپکپائیں،گرنے سے بچنے کے لیے اس نے کچن کاؤنٹر کا سہارا لیا۔
ذہن پر بہت زور ڈالا مگر اسے بالکل یاد نہ آیا کہ آخر کب اس نے غزوان کو اپنا اصل نام یا اپنے بچے کے انتقال کے متعلق بتایا تھا۔