61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 43)

باب نمبر 6:دستکِ نو


کیفے کی کھڑکیاں کھلی تھیں۔شام کے وقت سورج غروب ہو چکا تھا۔آسمان پر ہلکی سی سنہری جھلک باقی تھی جیسے کچھ دیر کے لئے دن اور رات کے درمیان باریک سی لکیر کھینچ دی گئی ہو۔کیفے میں نیم پیلی بتیاں جل رہی تھیں۔ہوا میں کافی اور تازہ بسکٹس کی خوشبو تیر رہی تھی۔
میز کے ایک کونے پر دو لوگ بیٹھے تھے۔قتادہ اور غانیہ……غانیہ مسلسل اس سے نگاہیں چرا رہی تھی۔
اس وقت اس نے ہی قتادہ کو میسج کر کے یہاں بلایا تھا۔
اس نے سختی سے ہاتھ کپ کے گرد رکھے ہوئے تھے۔وہ کئی منٹوں سے خاموش بیٹھی تھی۔
اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔اضطراف،خوف اور بےچینی کا۔
قتادہ نے چائے کی ایک گھونٹ لی مگر نگاہیں بےچین غانیہ پر ہی جمی تھیں۔وہ جانتا تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے مگر کیا….یہ وہ نہیں جانتا تھا۔
غانیہ نے گہری سانس اندر کھینچی اور ایک ہی بار میں کہہ ڈالا۔
”قتادہ مجھے کل لاہور جانا ہے آفس کے کام کی وجہ سے۔تین مہینوں کے لیے۔“قتادہ کا ہاتھ جس میں چائے کا کپ تھا،لمحہ بھر کو ساکت ہو گیا۔اس نے بے یقینی سے غانیہ کی جانب دیکھا۔
”کیا مطلب؟اگلے ہفتے ہماری شادی ہے تم…..“اس کی آنکھوں میں حیرت سے زیادہ یقین تھا۔کڑوا یقین…..وہ غانیہ کی آنکھیں پڑھ چکا تھا۔اس کا فیصلہ جان چکا تھا۔
”یہ میری زندگی کا بہت بڑا موقع ہے۔“وہ اب اسے وضاحتیں پیش کر رہی تھی۔قتادہ کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑا۔اس کے ماتھے پر بل پڑے۔کرسی کی پشت چھوڑ کر وہ ٹھورا سا آگے جھکا۔”اور ہماری شادی…..؟“غانیہ کی آنکھوں میں بے اختیار نمی اور بےبسی اتر آئی۔
”وہ بھی اہم ہے قتادہ مگر میں اپنے خواب نہیں چھوڑ سکتی۔جو چیز میں نے اتنی مشکل سے حاصل کی ہے،میں اسے نہیں کھو سکتی۔شادی تو تین مہینے بعد بھی ہو سکتی ہے۔“قتادہ اسے دیکھتا رہ گیا۔
”تم ایک فضول سی جاب کے لیے مجھے چھوڑ رہی ہو؟میں اس سے بہتر ہزار نوکریاں تمہیں دلوا سکتا ہوں بلکہ تمہیں نوکری کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟“اس کے لہجے میں ترشی واضح تھی۔
”میں آپ کو نہیں چھوڑ رہی قتادہ۔میں بس اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنا چاہتی ہوں۔میں آزاد محسوس کرنا چاہتا ہوں۔میں گھٹ گھٹ کر زندگی نہیں گزار سکتی۔مجھے آپ کا احسان نہیں چاہیئے۔“وہ اندر سے زخمی تھی مگر بظاہر اس نے خود کو جوڑ رکھا تھا۔
”میرا ساتھ تمہارے لیے گھٹن ہے تو پھر ٹھیک ہے۔“قتادہ کرسی دکھیل کر اٹھ کھڑا ہوا۔اس کی آنکھوں میں غصہ ابل رہا تھا۔
”جاؤ جا کر آزاد ہو جاؤ۔کامیابی حاصل کر لو۔دنیا کو جیت لو لیکن میری ایک بات یاد رکھنا غانیہ…..جو عورتیں اس قسم کی کامیابیوں کے پیچھے بھاگتی ہیں ناں،وہ کبھی گھر نہیں بسا سکتیں۔“اس نے چوٹ کی تھی،بہت گہری چوٹ کی تھی۔غانیہ کو اپنا آپ زمین میں گڑھتا ہوا محسوس ہوا۔
”کہنا کیا چاہتے ہیں آپ؟ذرا کھل کر کہیں۔“اس نے بمشکل خود کو مضبوط کرتے ہوئے پوچھا۔
”اگر تم سننا چاہتی ہو تو سنو۔تمہیں کیا لگتا ہے کہ یہ جاب تمہیں ایسے ہی مل گئی؟کیا جانتا نہیں ہوں اس کمپنی کو؟تم خوبصورت ہو تب ہی تمہیں یہ نوکری ملی ہے۔اب تم شہر سے باہر جانا چاہتی ہو تو شوق سے جاؤ مگر وہاں جو ہو گا،اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں گا۔“آج سارے لحاظ بھلائے اس نے صاف گوئی سے کام لیا تھا۔الفاظ تکلیف دہ نہیں تھے۔وہ ایسے الفاظ سننے کی عادی تھی مگر قتادہ کی جانب سے اس قسم کے الفاظ تکلیف دہ تھے۔
”مجھے نوکری میری قابلیت کی وجہ سے ملی ہے۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں بغیر تحقیق کیے کہیں بھی جاب کر لوں گیئں؟منہ اٹھا کر ایسے ہی دوسرے شہر چلی جاؤں گیئں؟بیواقوف نہیں ہوں میں مسٹر قتادہ،عقل ہے مجھ میں۔جینے کے اطوار سے واقف ہوں میں۔کس مرد کو کیسے ہینڈل کرنا ہے،سب پتا ہے مجھے۔آپ کو اگر میں نے کچھ زائد اختیارات دے دیے ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے کردار پر انگلی اٹھائیں۔“وہ کمزور نہیں تھی،اس بات کا گواہ اس کی زبان سے نکلا ہر ایک لفظ تھا۔وہ مجبور نہیں تھی،یہ اس کی آنکھیں چیخ چیخ کر بتا رہی تھیں۔
”میں تمہارے کردار پر انگلی نہیں اٹھا رہا مگر اس طرح غیر مردوں کے ساتھ گھومنا پھرنا تمہیں زیب نہیں دیتا۔“
”آپ بھی غیر مرد ہی ہیں قتادہ۔آپ کے ساتھ گھومنا پھرنا بھی مجھے زیب نہیں دیتا۔“اب کہ وہ بولی تو قتادہ لاجواب ہو گیا۔
”آپ ٹھیک کہتے ہیں،غیر مردوں کے ساتھ نہیں گھومنا پھرنا چاہیئے۔آپ میرے منگیتر ہیں شوہر نہیں۔آپ کو شوہر کا درجہ دینا ہے یا نہیں،اس گفتگو کے بعد مجھے یہ ایک بار پھر سوچنا پڑے گا۔“اس نے پرس کندھے پر لٹکایا اور آگے چل دی۔وہ چلی تو قدم بھاری تھے۔مگر ارادہ چٹانوں جیسا سخت تھا۔پلکوں کے کونوں پر بہت سا پانی جمع ہوا مگر آنکھوں نے انہیں اندر ہی جذب کر لیا۔
قتادہ وہیں کھڑا رہ گیا۔کیفے کی روشنی اب اس پر پڑ رہی تھی مگر اندر خاموش اندھیرا پھیل چکا تھا۔فضا میں موجود شور،قہقے،چائے کے کپوں کی کھنک سب مدھم پڑ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیوار پر لٹکتی گھڑی کی ٹک ٹک لمحوں کو چیرتی جا رہی تھی جیسے ہر گزرتا لمحہ کمرے میں بیٹھے شخص کو نیا زخم دے رہا ہو۔اس نیم گرم خاموشی میں سب ٹھہرا ہوا تھا سوائے بستر پر بیٹھے قتادہ کے جو دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جکڑے ہوئے تھا۔
اس کا چہرہ سرخ،آنکھوں میں تلخی اور بھاری سانسوں میں غصہ تھا۔اس کی آنکھیں بس ایک نقطے پر جمی تھی معنوں وہ غانیہ کی ہر بات دوبارہ سن رہا ہو۔اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھ اور کانوں سے وہ الفاظ سن رہا ہو۔
”آپ کو شوہر کا درجہ دینا ہے یا نہیں،اس گفتگو کے بعد مجھے یہ پھر سوچنا پڑے گا۔“یہ الفاظ اس کے اندر خالی گونج کی مانند لوٹے تھے۔اس کی چاہت،اس کی محبت کو چھوڑ کر غانیہ نے اپنا کیرئیر چنا تھا۔اس کی انا یہ تسلیم نہیں کر پا رہی تھی۔
”یعنی تم ایک بار پھر سوچو گی میرے بارے میں؟یعنی میں اہم نہیں ہوں تمہارے لیے؟“اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں۔اندر لاوا پک کر ابلنے کو تیار تھا۔
اچانک کمرے میں رکھا فون تھرتھرایا۔اس نے جھنجھلا کر فون کی جانب دیکھا۔وہاں غزوان کا وائس میسج جگمگا رہا تھا۔قتادہ نے ناگواری سے اسے کھولا۔
”یار معذرت،میں تمہاری شادی میں شرکت نہیں کر سکوں گا۔تمہیں میرے بغیر ہی شادی کرنی ہو گی۔میں اسکائپ پر شرکت کر لوں گا۔“یہ سننے کی دیر تھی،اندر کا لاوا پھٹ چکا تھا۔
قتادہ نے تیزی سے ٹائپ کیا۔”بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری شرکت۔یہاں میری زندگی کی ایسی کی تیسی ہو گئی ہے اور تمہیں شرکت کی پڑی ہے؟اب میسج نہ آئے تمہارا۔“قتادہ نے غصے سے موبائل ایک طرف پھینکا۔موبائل بیڈ کے کنارے سے ٹکرا کر نیچے قالین پر جا گرا۔
قتادہ اٹھا اور کمرے میں بےچینی سے ٹہلنے لگا۔اس کے قدموں کی گونج دیواروں میں قید ہونے لگی۔اس نے دیوار کی جانب دیکھا اور پھر وہیں ٹھٹھک گیا۔وہاں غانیہ کی تصویر تھی جس میں وہ مسکرا رہی تھی۔قتادہ نے ایک دن چھپ کر اس کی تصویر لی تھی۔آج وہ واضح طور پر اس کی آنکھوں میں وہ خواب دیکھ رہا تھا جن کی تکمیل کے لیے اس نے قتادہ کو دھتکارا تھا۔
قتادہ نے آگے بھر کر اس کی تصویر کو چھوا۔سفید پردے ہوا کی وجہ سے مدھم سرسراہٹ پیدا کرنے لگے۔اس کے اندر کا طوفان تھمنے لگا۔آگ برف ہونے لگی۔اس نے آنکھیں بند کیں تو تھکن رگوں میں اترنے لگی۔
آنکھیں کھولیں تو وہاں ابلتے لاوے کی جگہ گرتی اوس تھی۔
”تم جیت گئی غانیہ۔“اس نے تصوریر سے ہاتھ ہٹایا۔چل کر بستر تک آیا اور قالین پر گرا فون اٹھا لیا۔
اب جب کہ وہ بستر پر بیٹھا تو چہرے پر سختی کے بجائے شکست تھی۔محبت کے آگے سر تسلیم کر دینے والی شکست…..
اس کی انگلیاں پل بھر کو کی بورڈ پر رکیں۔ذہن نے الفاظ سوچے پھر انگلیوں نے دوبارہ ٹائپ کیا۔
”میں اپنے تمام الفاظ واپس لیتا ہوں غانیہ۔ائی ایم سوری۔تمہاری کردار کشی کرنے کے بارے میں،میں سوچ بھی نہیں سکتا۔بس میں تمہیں لے کر بہت زیادہ حساس ہوں۔میں تین مہینے انتظار کرنے کو تیار ہوں۔“میسج سینڈ کرنے کے بعد قتادہ نے فون ایک طرف رکھا۔کمرے کی ہر چیز،پردے،ہوا،دیواریں…..سب وہی تھیں مگر بستر پر بیٹھا شخص بدل چکا تھا۔سینے میں پتھر کی جگہ محبت کے پھول کھل چکے تھے۔وہ اسے اس کے خوابوں سمیت قبول کرنے کو تیار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھڑی نے بارہ بجائے اور ساتھ ہی دروازے پر دستک ہوئی۔قانِتہ جو کب سے صوفے پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی ایکدم اٹھ کھڑی ہوئی۔چہرے پر مصنوعی خفگی سجائی اور دروازہ کھول دیا۔
”آج کے بعد اگر لیٹ آئے تو دروازہ نہیں کھولوں گیئں۔“وہ ناک چڑھا کر بولی مگر آنکھیں چیخ چیخ کر غزوان کو دیکھنے کی خوشی کی چغلی کھا رہی تھیں۔
غزوان نے ایک ہاتھ سے دروازہ بند کیا اور دوسرے ہاتھ سے اسے اپنے حصار میں لیا۔
”مجھے یقین ہے کہ تم کھولو گی۔“اس نے شرارت سے کہہ کر اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا مس کیا۔
”دور ہٹو اور بات مت کرنا اب مجھ سے۔“قانِتہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور دکھیلنا چاہا مگر ناکام ٹھہری۔
”اچھا بابا سوری….مگر میں کیا کروں۔میری پری وَش غصے میں اتنی پیاری لگتی ہے کہ میرا دل چاہتا ہے روز دیر سے آؤں۔“وہ اب اسے اپنے ساتھ لیے آگے بڑھ رہا تھا۔
”چار گھنٹے لیٹ ہو تم۔چار گھنٹوں کا حساب لوں گیئں میں۔“قانِتہ نے جتایا تھا۔
”تم چھ کا لے لینا۔“ازل بے نیازی سے کہا گیا تھا۔
”میرا جواب ایک ہی ہو گا۔“
”کیا؟“قانِتہ نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
”یہی کہ ہر منٹ،ہر سیکنڈ،ہر لمحہ میرا ذہن تم میں ہی الجھا رہا۔میرے دل کی ہر دھڑکن تمہارے لیے دھڑکتی رہی اور…..“
”اچھا بس،زیادہ فلسفے جھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔جاؤ چینج کر لو،میں کھانا لگاتی ہوں۔“
”اس کی ضرورت نہیں۔تم آرام کرو،تھک گئی ہو گی۔میں خود گرم کر لوں گا۔“
”جی نہیں،تم جا کر چینج کرو،کھانا میں لگاؤں گیئں۔“غزوان نے بے اختیار دونوں ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے ہار مان لی۔وہ اس سے نہیں جیت سکتا تھا۔
وہ کمرے میں چلا گیا تو وہ کافی دیر دروازے کو گھورتی رہی۔لبوں پر ایک مسکان آ ٹھہری۔
”دماغ کہتا ہے کہ تم دھوکہ دو گے۔“اس کے لب آہستگی سے ہلے پھر اس نے آنکھیں بند کر کے اندر کی آواز سنی۔”اور دل کیا کہتا ہے؟“اندر کہیں یہ جملہ گونجا۔
”دل کہتا ہے کہ دھوکہ کھا لو قانِتہ!“
”سالوں پہلے سماک کے چند ہمدردانہ بول نے زخرف کو محبت کا فریب دیا تھا۔آج سالوں بعد اگر غزوان قانِتہ کے ساتھ یہ سب کرے گا تو کیا فرق پڑ جائے گا۔زیادہ نقصان تو نہیں ہو گا۔اگر یہ فریب ہے تو میں خود کو یہ فریب دینا چاہتی ہوں۔مستقبل کا سوچے بغیر حال میں جینا چاہتی ہوں۔“اس نے مسکرا کر سر جھٹکا اور کچن کی جانب بڑھ گئی۔
ڈائینگ میز پر کھانا چننے کے بعد وہ خود بھی ایک کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
”تم نے کھانا نہیں کھایا؟“اسے پلیٹ اٹھاتے دیکھ وہ حیران ہوا تھا۔
”نہیں…..“
”کیوں؟“
”بس اچھا لگتا ہے۔“اس نے مسکرا کر غزوان کی جانب دیکھا۔
”میرا انتظار کرنا؟“اس کی حیرت میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
”نہیں،تمہارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا۔“آنکھوں کی حیرت نرمی میں ڈھلی تھی۔وہ بے اختیار ہنس دیا تھا۔
”یعنی کل سے جلدی آنا پڑے گا۔“اس نے پہلا لقمہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
”دن کیسا گزرا تمہارا؟“کھانے کے بعد برتن سمیٹتے ہوئے وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
”ٹھیک تھا۔“
”اگر تمہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی ہو تو تم مجھ سے ڈسکس کر سکتے ہو۔“غزوان نے ٹھٹھک کر اسے دلچسب نگاہوں سے دیکھا۔
”تو کیا تم میری پریشانی حل کرو گی؟“آنکھوں میں اب شرارت تھی۔
”کیا معلوم کر بھی دوں لیکن اگر نہ بھی کر سکی تب بھی تمہارا آدھا بوجھ تو کم کر سکتی ہوں۔تمہارا دکھ بانٹ سکتی ہوں۔تمہیں سن سکتی ہوں۔ہو سکتا ہے کوئی مشورہ ہی دے دوں۔“وہ اب اس کے لیے کافی پھینٹ رہی تھی اور غزوان اس کے پاس کھڑا مسکرا رہا تھا۔رشک بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”تم نے کہا تھا نہ کہ رشتے کا بوجھ کبھی ایک کے کندھوں پر نہیں ڈالنا چاہیئے۔میں ہمارے رشتے کا آدھا بوجھ اٹھانا چاہتی ہوں۔میں اپنا effort put کرنا چاہتی ہوں۔“قانِتہ نے کافی کا کپ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
”تھیک یو۔“کپ تھامتے ہوئے اس نے مشکور انداز میں کہا۔وہ واقعی مشکور تھا،ممنون تھا۔
میاں بیوی کے رشتے کا تقاضا ہی یہ ہے کہ دونوں مل کر رشتے کی گاڑی کو آگے بڑھائیں۔گاڑی کہیں رک جائے تو کبھی ایک تو کبھی دوسرا دھکہ لگائے۔ساری زندگی اگر ایک ہی انسان دھکہ لگاتا رہے،خواہ وہ بیوی ہو یا شوہر تو تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔جذبات بدل جاتے ہیں۔احساس مرنے لگتا ہے۔یہ دنیا کا واحد رشتہ ہے جسے چننے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے۔اس رشتے کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ کہ اسے پاکیزہ بنایا ہے۔مرد اور عورت دونوں کے لیے اس رشتے میں سکون رکھا گیا ہے۔
”ویسے ہمارا یہ رشتہ اعتبار بھی مانگتا ہے۔تم اعتبار نہیں کرتی مجھ پر۔“قانِتہ کے چہرے کا رنگ اڑا تھا پھر لبوں پر ہلکی سی کسک ابھری تھی۔
”میں اس بے اعتباری کے ساتھ ہی خوش ہوں غزوان۔مجھے ڈر لگتا ہے مکمل طور پر اعتبار کرنے سے۔ایسا لگتا ہے جس دن مکمل طور پر اعتبار کر لوں گیئں،اس دن سب کچھ ہار جاؤں گیئں۔مجھے واپسی کے دروازے خود پر بند نہیں کرنے۔“غزوان نے ایک ہاتھ بڑھا کر اسے خود سے لگایا اور اس کے سر پر بوسا دیا۔
ایک طرف وہ بے اعتباری کی باتیں کر رہی تھی اور دوسری طرف وہ اپنے شبہات کا اظہار اس بے اعتبار شخص سے ہی کر رہی تھی۔پھر وہ کیسے بے اعتبار ہو گیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں مدھم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔زرد رنگ کا چھوٹا سا لیمپ میز پر جل رہا تھا۔اس کی ہلکی سی لو طیبہ کے چہرے پر عجیب سی تھکن ابھار رہی تھی۔ایسی تھکن جو صرف جسم پر نہیں روح تک جا پہنچی ہو۔
کمرے میں ہر چیز ترتیب سے رکھی ہوئی تھی مگر ذہن کی الجھنیں بے ترتیب تھیں۔پردے دل کی مانند بند تھے۔
وہ پلنگ کے کنارے خاموش بیٹھی تھیں،نگاہیں خالی پن میں گم تھیں۔
دروازے پر ہلکی سی دستک دینے کے بعد قانِتہ اندر داخل ہوئی۔قدموں کی چاپ نرم تھی۔
”کیا آپ کی طبیعت ٹھیک ہے مورے؟میرا مطلب آپ کھانے پر نہیں آئیں۔“اس نے شائستگی سے پوچھا۔طیبہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔آنکھوں میں تھکان واضح تھی مگر کہا کچھ نہیں۔
”اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو میں کچھ اور بنا دیتی ہوں۔“
”مجھے بھوک نہیں ہے قانِتہ۔میں کچھ دیر آرام کروں گیئں۔جاتے ہوئے دروازہ بند کر دینا۔“قانِتہ اپنی جگہ ساکت ہو گئی۔اب اس کے آگے وہ کیا کہتی اور کیا کرتی۔
غزوان کی ماں کی حیثیت سے وہ طیبہ کی ہمیشہ عزت کرتی تھی۔آپسی روابط کو بہتر بنانے کی اس نے پرزور کوشش کی تھی۔یہ کوشش کچھ حد تک کامیاب بھی ٹھہری تھی،صرف کچھ حد تک۔
طیبہ کو کمرے میں اکیلا چھوڑنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی تھی۔غزوان بستر پر نیم دراز موبائل پر مصروف تھا۔
”تمہیں کسی چیز کی کوئی پرواہ ہے بھی یا نہیں؟“وہ اس پر چڑھ دوڑی تھی۔
”اب کیا ہو گیا؟“غزوان نے کوفت سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔بہت یاد کرنے پر بھی اسے اپنا قصور یاد نہ آیا۔
”تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔“
”یار،میں پہلے ہی پریشان ہوں۔میرے دوست کی شادی رکی ہوئی ہے۔اس کی منگیتر نے اسے ہر جگہ سے بلاک کر دیا ہے۔سارا غصہ مجھے میسج اور اسد کے دانت توڑ کر نکالتا ہے۔مجھے لگتا ہے بیچارہ ساری زندگی کنوارہ ہی رہے گا۔“
”اس کی شادی تو پچھلے مہینے نہیں تھی؟“قانِتہ نے حیرت سے پوچھا تھا۔
”وہی تو….. منگیتر لفٹ نہیں کروا رہی اب۔“
”کس قسم کی لڑکی ہے آخر؟ہر دوسرے دن جھگڑا کر کے بیٹھ جاتی ہے۔تم نمبر دو مجھے اس کا۔اس کا دماغ میں خود سیٹ کرتی ہوں۔قتادہ بھائی کو لڑکیوں کی کمی ہے کیا؟میں بارسلونا میں اس کے لیے اچھی سی لڑکی ڈھونڈوں گیئں۔“غزوان ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھا اور قانِتہ کے سامنے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دیے۔
”یہ بات قتادہ سے مت کہہ دینا۔تمہیں تو وہ کچھ نہیں کہے گا مگر میرے دانت ضرور توڑ دے گا۔کیا بغیر دانتوں والا شوہر قبول ہے تمہیں؟“
”ایسے کیسے کوئی بھی ایرا غیرا تمہارے دانت توڑ دے گا۔اگر انہوں نے میلی نگاہ سے تمہاری طرف دیکھا ناں تو میں ان کی منگیتر کے دانت توڑ دوں گیئں۔“قانِتہ کے نیک خیالات سن کر وہ عش عش کر اٹھا تھا۔
”میری جھانسی کی رانی،تھوڑا حوصلہ کرو۔شوہر سے زیادہ محبت جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔تم کچھ کہہ رہی تھی؟“
”ہاں وہ مورے کا موڈ اف ہے۔کچھ ہوا ہے کیا؟“غزوان نے بیڈ کراؤن نے ٹیک لگائے، ہاتھ باندھے پھر بے نیازی سے کہا۔
”وہی ہوا ہے جو روز بلکہ صبح،دوپہر،شام،اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے ہمارے درمیان ہوتا ہے۔“
”کیا؟“قانِتہ نے ماتھے پر بل ڈالے ناسمجھی سے سے پوچھا۔
”جھگڑا گلابے،جھگڑا۔“قانِتہ نے کھینچ کر تکیہ اسے مارا۔
”میں اس دن کو پچھتا رہی ہوں جب میں نے تمہیں ”آپ“ کہنے کا فیصلہ کیا تھا۔تم عزت کے قابل ہی نہیں ہو۔“وہ دل کھول کر ہنسا۔”میں بھی تو شروع دن سے یہی کہہ رہا ہوں کہ میں عزت کے قابل ہی نہیں ہوں۔“
”تم سے بحث کرنے کا میرا بالکل موڈ نہیں۔کس بات پر جھگڑا ہوا ہے مورے کا پاپا سے؟اور پاپا کیسے جھگڑ سکتے ہیں مورے سے“اسے دکھ سے زیادہ غصہ آیا تھا۔
”پاکستان،پاکستان اور صرف پاکستان……“قانِتہ نے تاسف سے سر جھٹکا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
”کہاں….؟“
”پاپا سے بات کرنے۔وہ ایسے مورے کو ہرٹ نہیں کر سکتے۔“
”ارے لیکن…..“وہ اسے روکتا رہ گیا مگر وہ نہیں رکی۔
غزوان نے سرشاری سے آدھ کھلے دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے وہ گزر کر گئی تھی۔وہ اس کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھنے لگی تھی۔وہ اس کے والدین کے درمیان ہوئی ایک چھوٹی سی تکرار کو لے کر فکرمند ہو گئی تھی۔وہ اس کی ماں کے لیے اس کے باپ سے لڑنے چلی گئی تھی۔
غزوان کو بے اختیار ہنسی آئی تھی۔وہ مسکراہٹ صرف ہونٹوں تک محدود نہ تھی بلکہ دل سے ہوتے ہوئے روح میں اتر گئی تھی۔
قانِتہ کی زندگی کا دائرہ صرف اپنے گرد گھومتا تھا مگر اب وہ دائرہ وسیع ہو چکا تھا۔اس کی زندگی کی ترجیحات بدل چکی تھیں۔
زندگی اس قدر حسین ہو جائے گی یہ غزوان نے کبھی سوچا ہی نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج گھر کی کھڑکیوں سے چھنتی نارنجی روشنی کچھ زیادہ ہی بھلی معلوم ہو رہی تھی۔فرش پر بچھی قالین پر روشنی کا عکس برابر پڑ رہا تھا۔دیوار پر لگے مصوری کے مختلف رنگ بھی روشنی سے جگمگا رہے تھے۔
قانِتہ ٹرے لے کر کچن سے نکلی،وہ جدید کچن اس کے ذوق اور سلیقے کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا۔
جہانزیب صوفے پر بیٹھے شام کے وقت ہسپانوی اخبار پڑھ رہے تھے۔یہ ان کے معمول کا حصہ نہ تھا،بس طیبہ کے ساتھ ہونے والے جھگڑے کا نتیجہ تھا۔انہوں نے خود کو مصروف کر لیا تھا۔
”پاپا، چائے۔“قانِتہ نے مسکرا کر کہا اور چمکتی ہوئی سیرامیک ٹرے میز پر رکھ دی۔سینٹر ٹیبل پر رکھی طشتری میں کچھ پھول رکھے ہوئے تھے جن کی خوشبو ہر سوں پھیلی ہوئی تھی۔
جہانزیب نے چونک کر اس کی جانب دیکھا پھر مسکرا کر اخبار تہ لگا کر ایک طرف رکھ دی۔
”شکریہ بیٹا۔“ٹرے سے کپ اٹھاتے ہوئے انہوں نے نرمی سے کہا۔
قانِتہ اپنا کپ تھام کر کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔ان دونوں نے چند لمحے خاموشی سے چائے کے ذائقے کو محسوس کیا۔
شیشے کے باہر شہر کی روشنیاں جھلملا رہی تھیں مگر اندر ٹھہری ہوئی خاموشی بہہ رہی تھی۔
بالآخر قانِتہ نے ہمت باندھتے ہوئے پوچھا۔
”میں جانتی ہوں کہ یہ پوچھنا مناسب نہیں مگر کیا آپ کے اور مورے کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا ہے؟“اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
جہانزیب نے کپ واپس میز پر رکھا اور گہری سانس اندر کھینچتے سیدھے ہو بیٹھے۔
”کچھ خاص نہیں بیٹا،بس کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارے درمیان بہت فاصلے ہیں۔وہ میرے لیے چھوٹی سی قربانی نہیں دے سکتی۔“ان کے لہجے میں دکھ اور تھکن تھی۔
”اگر آپ ان کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟“اس سوال پر وہ ٹھٹھکے تھے۔
”میں نہ تو عمر میں آپ کے برابر ہوں اور نہ تجربے میں لیکن پھر بھی پاپا آپ کو نہیں لگتا کہ اس بار آپ کو انہیں سمجھنا چاہیئے۔آپ کو یاد ہے جب میرا غزوان سے جھگڑا ہوا تھا اور میں گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی،آپ نے کیسے مجھے سمجھایا تھا۔آپ نے کیسے مجھے گھر بسانے کے گڑ سکھائے تھے۔آج ہم دونوں ساتھ ہیں اور بہت خوش ہیں تو اس میں آپ کا بھی ہاتھ ہے۔مورے نے اپنی ساری زندگی آپ کو دے دی۔بدلے میں وہ صرف اتنا چاہتی ہیں کہ انہیں اپنے گھر والوں سے ملنے دیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟“وہ نہ جھگڑ رہی تھی نہ بدتمیزی کر رہی تھی۔وہ نہایت ادب سے اپنا موقف بیان کر رہی تھی۔اپنی ساس کی طرف داری کر رہے تھے۔
”یعنی تم نے ٹیم بدل لی ہے۔اب میرے بجائے اپنی ساس کا ساتھ دو گی؟“وہ مصنوعی خفگی سے کہہ رہے تھے۔
”ہر گز نہیں۔میں تو اول دن سے آپ کی ٹیم میں ہوں۔آپ کو اداس نہیں دیکھ سکتی،اس لیے تو کہہ رہی ہوں کہ جھگڑا ختم کریں۔“اپنی بہو کی چالاکی پر وہ سر جھکا کر ہنس دیے تھے۔
”بیٹا آپ کچھ نہیں جانتیں۔وہ لوگ اچھے نہیں…..“
”وہ لوگ جیسے بھی ہیں مگر وہ مورے کے اپنے ہیں۔آپ ان کے بارے میں کچھ بھی کہیں گے تو مورے کو تکلیف ہو گی۔ویسے بھی مورے کون سا پہلی بار وہاں جائیں گیئں،وہ پہلے بھی تو کئی بار وہاں جا چکی ہیں پھر اب کیا مسئلہ ہے؟“
”آپ کی مورے کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔میں انہیں اس طرح اکیلے کہیں نہیں بھیج سکتا۔“قانِتہ کچھ پل انہیں دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔لمحے بھر کے لیے اسے اپنی سوچ پر افسوس ہوا تھا۔وہ جو سوچ رہی تھی کہ اس انکار کے پیچھے انا یا ذاتی ناپسندیدگی چھپی ہے تو وہ سراسر غلط تھی۔اس انکار کے پیچھے تو والہانہ محبت چھپی تھی،فکرمندی چھپی تھی۔
”تو پھر آپ بھی ان کے ساتھ چلے جائیں۔“جہانزیب نے یاسیت سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
”میرا وہاں جانا مناسب نہیں۔“
”پھر غزوان چلا جائے گا۔“اس نے جیسے مسئلے کا دوسرا حل پیش کیا تھا۔
”پھر تو آپ کو بھی ساتھ جانا پڑے گا۔“اب کی بار انہوں نے کچھ شرارت سے کہا۔
”کیا مطلب؟“وہ فوراً گڑبڑا گئی۔پاکستان کا نام سنتے ہی اس کے اندر بہت کچھ توٹنے اور جڑنے لگا تھا۔
”مطلب میں اپنی بیوی کی بالکل بھی گارنٹی نہیں لوں گا۔اگر اس نے غزوان کی اپنے خاندان میں کسی سے شادی کروا دی پھر؟“
”وہ ایسا کچھ نہیں کریں گیئں اور غزوان خواب میں بھی ایسا نہیں سوچ سکتا۔آپ بلاوجہ مجھے میرے شوہر اور ساس کے خلاف نہ بھڑکائیں۔“کیا مان تھا اس کے لہجے میں۔کس قدر غرور تھا اس کی آنکھوں میں۔گردن کس فخر سے اٹھی تھی۔(پھر بھی وہ کہتی تھی کہ اسے غزوان پر اعتبار نہیں ہے۔)
جہانزیب نے دل ہی دل میں اپنے بچوں کی خوشیوں کی دعائیں مانگی تھیں۔کمرے میں اتری شام،روشنی اور جذبات آپس میں گھل چکے تھے۔چائے کی خوشبو دل میں اتر چکی تھی۔گھر کی دیواروں پر رشتوں کے رنگ پھیلنے لگے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ چرچراتے ہوئے کھلا۔دوپہر کی خاموشی میں وہ آواز بھی چیخ کر گونجی۔غزوان نے اندر قدم رکھا تو کمرے کی فضاء کچھ غیر مانوس سی لگی۔ہوا میں ایک الگ ہی جمود تھا۔
قانِتہ کمرے کے ایک کونے میں صوفے پر سمٹی بیٹھی تھی جیسے اپنے ہی وجود سے خائف ہو۔چہرہ زرد،آنکھیں بجھی ہوئی جبکہ بال بے ترتیب تھے،جیسے کئی گھنٹوں سے اس ہی حال میں بیٹھی ہو۔
غزوان کے ماتھے پر شکنیں ابھریں۔
”قانِتہ، کیا ہوا ہے؟تم آج آفس کیوں نہیں گئی؟“اس نے نگاہیں اٹھائیں تو پلکوں پر نمی لرز رہی تھی۔اگلے لمحہ وہ آنکھوں پر قابو نہ رکھ سکی۔آنسو بے ساختہ رخساروں پر بہہ نکلے۔ہچکیوں کے درمیان اس کا بدن لرزنے لگا۔
غزوان بالکل بھونچکا رہ گیا۔اس کے قدم زمین میں گڑھ گئے۔زبان گنگ جبکہ آنکھیں میں گہری الجھن چھا گئی۔
”قانتہ…..“وہ تقریباً دوڑ کر اس تک آیا۔گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا اور کندھوں سے تھام کر اسے ہلکا سا جھنجھوڑا۔
”کیا ہوا ہے قانِتہ؟خدارا کچھ تو بتاؤ۔“قانِتہ نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔ناک سرخ،آنکھیں سوجھی ہوئی اور لب کپکپا رہے تھے۔
غزوان نے آج سے پہلے کبھی اس کی ایسی حالت نہیں دیکھی تھی۔
”میں…..میں نے سوچا تھا کہ جب تم مجھے دھوکہ دو گے تو میں…..تو میں تم سے خلع لے لوں گیئں۔اب میں تم سے کیسے خلا لوں گیئں؟“وہ کہتے کہتے ایک بار پھر رو پڑی تھی۔غزوان کو سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔
”سب ختم ہو گیا۔سب برباد ہو گیا۔“
”قانِتہ تم کیا کہہ رہی ہو؟پلیز پہلے رونا تو بند کرو۔“غزوان نے اس کے رخساروں پر بہتے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہا۔
”تمہیں نہیں پتا کہ کیا ہو گیا ہے۔“
”کیا ہو گیا ہے؟“وہ ناسمجھی اور فکرمندی سے پوچھ رہا تھا۔
”ہم دونوں…..“وہ سسکی۔”ہم دونوں…..“ایک ہچکی کے بعد گفتگو کا تانتا پھر باندھا۔
”ہم دونوں پریگننٹ ہو گئے ہیں غزوان۔“اور یہاں گرا تھا غزوان کے سر پر بم۔وہ ہکا بکا سانس روکے اسے دیکھتا رہ گیا جو اب ایک بار پھر سے رونا شروع کر چکی تھی۔
“What…..?”
وہ توازن برقرار نہ رکھ سکا لٰہذا پیچھے کی طرف فرش پر گرتے گرتے بچا۔
”بچہ ہو جائے گا تو میں خلع کیسے لوں گیئں؟تم نے دھوکہ کیوں نہیں دیا مجھے؟“دونوں کا غم الگ الگ تھا۔غزوان کو اس کی ایک بھی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی جبکہ قانِتہ کو اس کے دھوکہ نہ دینے اور علیحدگی نہ ہونے کا غم ستا رہا تھا۔
”تم کیا مجھے ٹھیک سے سمجھاؤ گی کہ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟“وہ بمشکل اٹھ کر اس کے قریب صوفے پر آ بیٹھا تھا۔ٹانگیں لرز رہی تھیں جبکہ سر بری طرح چکرا رہا تھا۔
قانِتہ نے بغیر کچھ کہے ہوم پریگننسی کٹ اسے تھما دی۔
غزوان کا سانس وہیں رک گیا۔”کیا یہ…..“قانِتہ نے سسکیاں بھرتے ہوئے اب رپورٹ بھی اسے تھما دی۔
غزوان کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گیئں معنوں اندر ایک جنگ چھڑ گئی ہو۔کمرے کی فضاء میں عجیب سا سکوت چھا گیا۔
چند لمحوں تک وہ ساکت رہا۔نہ کوئی حرکت کی اور نہ کچھ کہا۔دماغ کچھ لمحے کے لیے سن ہو گیا۔پھر آہستہ آہستہ اس کی سانسیں گہری ہو گیئں اور آنکھوں کے آگے دھند جھٹنے لگی۔اس نے ان ہی حیران کن نگاہوں سے قانِتہ کی جانب دیکھا پھر اچانک اندر کا موسم تبدیل ہو گیا۔طوفان برستی بارش میں بدل گیا۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا۔ایک گھٹنا زمین پر رکھے قانِتہ کے سامنے بیٹھا اور اس کے ہاتھ تھام لیے۔
”یہ سب سچ ہے ناں؟میں…..میں باپ بننے والا ہوں۔“اس کے چہرے پر حیرت اور خوشی کا امتزاج تھا۔اس کا پور پور خوشی سے جھومنے لگا تھا۔
قانِتہ نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا۔غزوان اندر تک سرشار ہو گیا۔
”تو اس میں رونے والی کیا بات ہے؟“غزوان نے باری باری اس کے دونوں ہاتھ چومے اور آگے بڑھ کر اسے خود سے لگا لیا۔
قانِتہ کی سسکیاں کچھ حد تک کم ہوئی تھیں۔اس کی گھبراہٹ اور خوف کچھ حد تک زائل ہونے لگا تھا۔
کمرے میں نئی امید کی روشنی پھیل چکی تھی۔ایک نئی زندگی کی پہلی دستک کو دونوں نے محسوس کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔