Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 25)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 25)
اندھیری سڑک پر ہیڈ لائٹس کی پیلی روشنی راہگیروں کو راستہ دکھانے کی کوشش میں جت گئی تھی مگر سڑک پر پھیلتی تاریکی اس مدھم روشنی کو نگلنے کے در پر تھی۔
گاڑی کی سیٹ پر بیٹھی قانِتہ نے دونوں ہاتھ سختی سے سڑیرنگ پر جمائے ہوئے تھے۔ذہن میں مختلف سوچوں کا جالا بنا ہوا تھا۔
”بے حیا……“گاڑی کی رفتار معمول سے تیز تھی۔اس کے ہاتھ اب کپکپانے لگے تھے۔
”میں تمہیں کیا سمجھتا تھا اور تم کیا نکلی؟“آنکھیں بھیگ گیئں۔منظر دھندلا گیا۔
”جاؤ زخرف، میں نے تمہیں آزاد کیا۔دفع ہو جاؤ۔“صور پھونکتی آواز کانوں میں پڑی۔گاڑی کے آگے ایک سایہ سا لہرایا۔اس نے بے اختیار سٹیئرنگ گھمایا۔”ٹھک!“ایک جھٹکا لگا،معنوں گاڑی کسی چیز سے جا ٹکرائی ہو۔جھٹکے سے اس کا وجود سیٹ پر آگے کو اچھلا مگر پھر فوراً سنبھل گئی۔ٹکر شدید نہ تھی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے گاڑی کا انجن بند کیا اور باہر جھانکا۔سڑک کنارے ایک پتھریلے ڈھیر سے گاڑی کے بمپر نے رگڑ کھائی تھی،زیادہ نقصان نہ ہوا تھا۔
قانِتہ کی نظریں بمپر سے ہٹ کر آگے سڑک تک گی۔ہر چیز لمحہ بھر کو ساکت ہو گئی۔دور اندھیرے میں ایک سایہ کھڑا تھا۔اس کے اوسان خطا ہو گئے۔بےاختیار اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکل آئی۔ہیڈلائٹس کی پیلی روشنی میں کہیں دور وہ سفید کرتے والا شخص کھڑا تھا۔
”سِماک…..“اس کے لب ہولے سے پھڑپھڑائے پھر بے اختیار قدم اس جانب بڑھنے لگے جب دور کھڑے شخص نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔
”پاس مت آنا زخرف۔تم جیسی بے وفا کو یہاں آنے کا کوئی حق نہیں۔“ہوا تیز ہو گئی۔پیڑوں کی سرسراہٹ میں خوف گھل گیا۔زخرف کے قدم وہیں رک گئے۔دل کی دھڑکن معنوں رک گئی،سانس سینے میں قید ہو گئی۔
”مجھے مار کر تم نے دوسری شادی کر لی۔تمہیں لگتا ہے کہ تم خوش رہو گی؟“سفید کرتے والے شخص کے لبوں پر استہزایہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ہر طرف ایک پراسراریت سی پھیل گئی مگر اس پراسراریت میں عجیب سا بوجھ تھا۔
”نہیں زخرف،تم کبھی خوش نہیں رہو گی۔تمہیں خوش رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔سب ٹھیک ہو گیا تھا نہ ہمارے درمیان۔معافی مانگی تھی نہ میں نے پھر بھی تم نے مجھے مار دیا۔مجھے مارا،سو مارا۔تم نے فرہاد کو بھی نہیں بخشا۔ایک نومولود بچے کی جان کیسے لے سکتی ہو تم؟“اس کی آواز سرد تھی معنوں کسی پراسرار کھنڈر سے آ رہی ہو۔
قانِتہ نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر پیر زمین میں دھنستے چلے گئے۔
”میں نے نہیں….. میں نے نہیں مارا۔“اس نے مدھم آواز میں احتجاج کرنا چاہا۔اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہی مگر دور کھڑے شخص نے آج بھی اس کی وضاحت کو بری طرح رد کر دیا۔
”تم جھوٹی ہو زخرف۔تم قاتلہ ہو۔میری اور میرے بچے کی۔تم نے ہم دونوں کو مار دیا۔“اس کی آواز میں بجلی کی سی تیزی تھی۔زخرف بری طرح پھڑپھڑانے لگی۔
”جھوٹ ہے،بکواس ہے۔میں نے جان کر نہیں کیا۔میں ایک چھوٹے بچے کو نہیں مار سکتی۔میں نے جان کر نہیں کیا۔“وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلا رہی تھی۔مدھم پیلی روشنی بالکل گم ہو گئی۔تیز ہوا کے جھونکے نے اس کے بال بکھیر دیے مگر کانوں میں آواز برابر سنائی دیتی رہی۔
”تم نے فرہاد اور مجھے مارا ہے زخرف۔تم نے قتل کیے ہیں۔تم کبھی خوش نہیں رہ سکتی،کبھی نہیں۔تم غزوان کو بھی دھوکا دے رہی ہو۔سوچو جب اسے علم ہو گا کہ تم پہلے سے شادی شدہ ہو۔تم نے اپنے پہلے شوہر کا قتل کیا ہے تو وہ کیا کرے گا تمہارے ساتھ؟“سفید کرتے والے شخص کی آنکھوں میں کوئی روشنی نہ تھی،وہاں صرف سیاہی تھی۔چہرے پر غیر فطری سختی تھی۔وہ ایک قدم آگے بڑھا۔زخرف کے قدموں تلے زمین لرزنے لگی۔سانسیں بے ترتیب ہوتی چلی گیئں۔دل پسلیوں سے ٹکرانے لگا،معنوں باہر آنے کے لیے مچل رہا ہو۔
درختوں کے سائے مزید گہرے ہوتے محسوس ہوئے۔سفید کرتے والا شخص مزید قریب آیا۔اس کی آنکھوں میں آگ کے شعلے لپٹے تھے جو زخرف کو جلا کر بھسم کر دینا چاہتے تھے۔
وہ بھاگنا چاہتی تھی۔کہیں چھپ جانا چاہتی تھی مگر قدم سڑک میں دھنس چکے تھے۔زخرف نے گھبرا کر اپنے اردگرد دیکھا۔سفید کرتے والا شخص مزید قریب آیا یہاں تک کہ فاصلہ چند قدم رہ گیا۔
زخرف نے اپنی سانس روک لی۔ہوا تھم گئی۔درخت خاموش ہو گئے۔وقت کا پہیہ رک گیا۔
وہ ایک قدم اور قریب آیا۔زخرف کا پور پور پسینے میں بھیگ گیا۔اس کا دل چاہا کہ چیخے،دوڑے،بھاگے مگر آواز کہیں گم ہو گئی۔
وہ اب اس سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔سرد،سفاک،
سیاہ آنکھوں والا شخص…….
”تم نے مجھے کیوں مارا زخرف؟“کافور کی خوشبو ہر طرف پھیلتی ہوئی محسوس ہوئی۔سناٹے میں صرف اس ہیبت ناک شخص کی آواز گونج رہی تھی۔
زخرف نے کانپتے لبوں سے کچھ کہنا چاہا مگر تمام الفاظ ہوا میں تحلیل ہو گئے۔وجود سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔یوں محسوس ہوا جیسے یہ سایہ اسے اپنے ساتھ لے جائے گا۔
”قانِتہ……“اندھیرے میں کوئی روشنی کی کرن جگمگائی تھی۔کوئی تارہ آسمان پر ٹمٹمایا تھا یا پھر کوئی جگنو بیاباں میں…….
”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب موڑا تھا۔وہ بےجان سی اس سمت پلٹ گئی تھی۔
رکی ہوائیں چلنے لگی تھیں۔خاموش درخت ہلنے لگے تھے۔نکلتی ہوئی جان واپس آئی تھی۔سامنے سماک نہیں غزوان کھڑا تھا۔
”تمہیں کسی چیز کا احساس بھی ہے؟پہلے خود لڑائی کرتی ہو پھر خود ہی گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہو۔اندازہ ہے تمہیں،کب سے خوار ہو رہا ہوں میں؟“اس کا تنفس پھولا ہوا تھا۔آنکھیں سرخ تھیں۔بال بکھرے ہوئے تھے۔قانِتہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر گردن ترچھی کر کے پیچھے……پیچھے کوئی نہیں تھا۔ماضی اندھیرے میں کہیں غائب ہو چکا تھا۔حال سامنے کھڑا تھا۔
”تمہاری لوکیشن سرچ کر کے یہاں تک پہنچا ہوں۔تم آخر چاہتی……“بےجان وجود میں کسی نے نئی روح پھونکی تھی۔وہ تیزی سے غزوان کے سینے سے جا لگی تھی۔وہ جملہ مکمل نہیں کر سکا تھا۔قانِتہ کے آنسوؤں نے اسے جملہ مکمل کرنے ہی نہیں دیا تھا۔وہ زخرف سے پھر قانِتہ ہو گئی تھی۔یہی اس کا حال تھا اور یہی مستقبل……
”میں نے جان کر نہیں کیا۔میں سچ میں یہ نہیں چاہتی تھی۔“اس کے آنسوؤں میں روانی آتی گئی۔غزوان کا دل زور سے دھڑکا۔قانِتہ کو اس حال میں دیکھ کر اسے کچھ ہوا تھا،شاید رنج……سارا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔اسے یاد تک نہ رہا کہ وہ اس سے خفا تھا۔اس نے آہستگی سے اس کے گرد حصار قائم کیا۔وہ اس کی شرٹ جکڑے ہوئے تھی۔
”میں بہت بری ہوں،بہت زیادہ۔“
”نہیں،تم بہت اچھی ہو۔“وہ نرمی سے اس کی پیٹ سہلانے لگا۔
”مجھے پتا ہے کہ میں بری ہوں۔تم جھوٹ مت بولو۔“اس کے سینے سے لگی وہ اب خفگی سے کچھ جھڑکنے والے انداز میں کہہ رہی تھی۔
”اچھا،تم ہو۔“اس نے تابعدار شوہر کی مثال قائم کی تھی۔
”میں نے تمہارے ساتھ بہت بدتمیزی کی۔“
”ہاں،تم نے کی۔“اس بار بھی ہاں میں ہاں ملائی گئی تھی۔
”تم مجھے بدتمیز کہہ رہے ہو؟“قانِتہ نے سر اٹھا کر کھا جانے والی نگاہوں سے اسے گھورا۔وہ بری طرح گڑبڑا گیا۔
”آآآ……نہیں…..“
”تم نے مجھے برا بھی کہا۔“آنکھیں رگڑتے ایک اور الزام بھی لگایا گیا۔وہ اب بھی اس کے حصار میں ہی تھی بس چہرہ اٹھایا ہوا تھا۔ سرمئی آنکھیں برہمی سے اسے گھور رہی تھیں۔وہ خود کو ان آنکھوں میں ڈوبنے سے روک نہ سکا۔دنیا کا ہر رنگ اسے پھیکا لگنے لگا۔یہیں کھڑے ہو کر اس نے اپنی واڈروب میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا۔اسے سرمئی رنگ پہننا چاہیئے تھا،صرف سرمئی……
قانِتہ کی اس بات پر اسے بے اختیار ہنسی بھی آئی۔دل چاہا کہ اس کی آنکھوں پر بوسہ دے یا پھر کوئی میٹھی سرگوشی کرے لیکن بیچ سڑک پر بیوی کے ہاتھوں مار کھانے کے خوف سے اس نے فلحال ارادہ ترک کر دیا۔
”تم نے مجھے برا کیوں کہا؟“وہ اب بھی اپنے سوال پر مصر تھی۔غزوان نے ایک ٹھنڈی سانس ہوا کے سپرد کر کے ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
”میں نے کب کہا؟تم خود کہہ رہی تھی۔“وہ نرمی سے کہہ رہا تھا گو کہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہا تھا۔
”تم نفی بھی تو کر سکتے تھے۔“اس نے ہاتھ کا مکا زور سے اس کے سینے پر دھرا۔غزوان ہکا بکا رہ گیا۔
”تمہیں کیا ہوا ہے قانِتہ؟“اس نے نہایت فکرمندی سے پوچھا۔
”مجھے…..مجھے تم پر غصہ آ رہا ہے۔میرا دل چاہ رہا ہے کہ تمہارا سر پھاڑ دوں۔“وہ غلط نہیں کہہ رہی تھی۔اس کا یہی دل چاہا تھا کہ وہ واقعی غزوان کا سر پھاڑ دے۔وجہ سوچنے کی اس نے زحمت نہیں کی تھی۔
”چلو گھر چلتے ہیں۔“غزوان نے مصالحت کی کوشش کی مگر وہ وہیں جمی رہی۔
”پہلے طلاق دو گے تم مجھے۔“وہ ایک بار پھر اس ہی مطالبے پر اڑ گئی۔غزوان اسے دیکھ کر رہ گیا۔
”قانِتہ پلیز گھر چلو۔“اس نے گو کہ منت کی۔
”پہلے تم مجھے طلاق دو۔“
”یہاں سڑک کے بیچوں بیچ کیسے دوں؟گھر چلتے ہیں۔بالکنی میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں پھر اس بارے میں سوچیں گے۔“
”سوچنا کیا ہے؟میں فیصلہ کر چکی ہوں۔مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ۔ابھی اور اسی وقت طلاق دو مجھے بلکہ…..بلکہ تم کیا مجھے طلاق دو گے،میں تمہیں طلاق دیتی ہوں۔جاؤ غزوان جہانزیب،میں نے تمہیں آزاد کیا۔جاؤ دفع ہو جاؤ۔“وہ واقعی ہوش میں نہیں تھی۔غزوان نے ایک بے بس نگاہ اس پر ڈالی اور اس کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ آگے لے گیا۔
”چھوڑو مجھے۔چھوڑو۔تم مجھے قید نہیں کر سکتے۔میں تمہیں آزاد کر چکی ہوں۔“اس کی ساری مزاحمت بیکار گئی تھی۔غزوان اسے کھینچ کر گاڑی میں بٹھا چکا تھا۔
”میں ہریسمنٹ کا کیس کروں گیئں تم پر۔جیل بھیجوں گیئں تمہیں۔تم مجھے قید نہیں کر سکتے۔تم اس طرح مجھ پر حکمرانی نہیں کر سکتے۔“وہ چیختی چلاتی لاکڈ گاڑی کھولنے کی کوشش کرتی رہی تھی یہاں تک کہ وہ گاڑی آگے بڑھا لے گیا تھا۔
پیچھے سنسان سڑک پر درخت ایسے ہی لرزتے رہے تھے۔سفید کرتے والا شخص اب کہیں نہیں تھا۔نہ سڑک پر،نہ زخرف فاطمہ کی زندگی میں……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھ کھلتے ہی اسے عجیب سا احساس ہوا،معنوں سر میں کوئی شور سا مچا ہوا۔درد کی لہر کنپٹی سے ہوتی ہوئی وجود میں پھیل گئی۔اس نے پلکیں جھپکائیں مگر منظر دھندلا ہی رہا۔چادر کو مٹھی میں دبوچے قانِتہ بامشکل اٹھ بیٹھی۔وہ تھوڑی دیر سر تھامے بیٹھی رہی،سر میں معنوں ہتھوڑے برس رہے تھے۔
وہ اب یاداشت کے دھاگوں کو جوڑنے کی کوشش کرنے لگی۔کل شام غزوان سے جھگڑا پھر وکیل کے پاس جانا،سڑک کنارے گاڑی کا رکنا اور پھر سِماک……اسے زوردار جھٹکا لگا۔
”سِماک…..“اس کے لبوں نے جنبش کی۔وہ ایک بار اس کے ذہن پر حاوی ہو گیا تھا۔اتنے سالوں میں وہ اسے کبھی نظر نہ آیا تھا مگر کل رات……وہ یادوں کے بھنور میں دھنستی چلی گئی۔وہ شروع کے کچھ عرصہ میں اسے نظر آتا تھا۔اس سے باتیں بھی کرتا تھا مگر پھر سب ٹھیک ہو گیا تھا۔زندگی روش پر واپس آ گئی تھی پھر اب دوبارہ کیوں؟شاید وہ اس کی دوسری شادی پر خفا تھا یا پھر اس کے خوش رہنے پر۔
”خوش……“وہ شاک کی کیفیت میں زیر لب بڑبڑائی۔کیا وہ خوش رہنے لگی تھی؟اس نے بے اختیار سانس لینے کی کوشش کی مگر گھٹن کے احساس نے اسے جکڑ لیا۔ایک انجانہ خوف اس کے دل میں پنجے گاڑ چکا تھا۔وہ پھر سے ماضی کے دلدل میں دھنستی چلی جا رہی تھی جب ایک آواز پھر سے اسے حال میں کھینچ لائی۔
”پری وش…..“یہ پرجوش آواز غزوان کی تھی۔وہ ہاتھ میں ناشتہ کی ٹرے تھامے اس کی طرف آ رہا تھا۔لبوں پر ٹھہری ہوئی مسکراہٹ تھی۔وہ کسی سحر کے زیر اثر اسے دیکھ دیکھتی ہی چلی گئی۔
”تمہاری وجہ سے آج زن مریدی کا لقب بھی مل گیا مجھے۔“وہ ہنستا ہوا اس کے پاس آ بیٹھا تھا۔وہ ایسے ہی پلکیں جھپکائیں بغیر اسے دیکھتی رہی۔ذہن میں اب ماضی کی کوئی یاد نہ تھی۔وہاں اب بس سکون تھا،خاموشی تھی۔
”اب کیسی طبیعت ہے؟“وہ نرمی سے استفسار کر رہا تھا۔وہ خاموش رہی۔
”قانِتہ……“غزوان نے اس کے چہرے کے آگے ہاتھ لہرایا۔وہ جیسے ہوش میں لوٹی۔
”کیا زیادہ اچھا لگ رہا ہوں؟“اس نے شریر لہجے میں پوچھا۔وہ نگاہیں چرا گئی۔وہ واقعی اچھا لگ رہا تھا مگر اعتراف موت تھی۔
”چلو ناشتہ کر لو۔“قانِتہ نے خاموشی سے اس کی بات مان لی۔ناشتے کے بعد وہ آفس کے لیے تیار ہونے لگی۔غزوان نے ایک بار بھی اسے نہیں ٹوکا۔
بالوں کو پونی ٹیل میں جکڑنے کے بعد اس نے لبوں پر گلوز لگایا تھا۔وہ زیادہ میک اپ کرنے کی عادی نہ تھی۔اسے ضرورت ہی نہیں تھی۔ایک آخری نگاہ خود پر ڈال کر وہ جیسے ہی پلٹی تو سامنے غزوان کھڑا تھا۔وہ لمحہ بھر کو گھبرا گئی۔
”مجھے طلاق دے کر تم نے بڑی زیادتی کی۔کیا اب رجوع کرو گی؟“وہ تازہ گلاب کا پھول اس کی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔قانِتہ نے اچھنبے سے اسے دیکھا اور اگلے لمحے وہ دل کھول کر ہنس دی۔قوس قزاح کے سارے رنگ اس کے چہرے پر بکھر گئے۔
”شکر ہے تم مان گئی ورنہ میرا کیا ہوتا؟“وہ اس قدر مسکینیت سے گویا ہوا تھا معنوں رجوع کرنا واقعی قانِتہ کے اختیار میں ہو۔
”تم دوسری شادی کر سکتے تھے۔“اس کے ہاتھ سے پھول تھام کر وہ اب بے نیازی سے مشورہ دے رہی تھی۔
”سرمئی آنکھوں والی کہاں ڈھونڈھتا پھروں گا میں؟“اس نے گو کہ اپنی بےبسی بتائی۔
”یہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔“
”جب میں آنکھوں پر پٹی باندھ کر ڈھونڈھنے نکلوں گا تو پھر یہ ناممکن ہو جائے گا۔“
”یعنی ڈھونڈوں گے ضرور۔“وہ سر جھکا کر ہنس دیا۔اس نے اعتراف کیا کہ وہ اس سے نہیں جیت سکتا۔
”ویسے اور کتنی لڑکیوں کو پھول دیے ہیں تم نے؟“وہ اب ایک آبرو ریز کیے مشکوک نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی۔
”ان گنت……“وہ شان بے نیازی سے کہہ گیا تھا۔قانِتہ کے دل میں کچھ سلگنے لگا۔
”یعنی ہر لڑکی کو پھول دیتے ہو تم؟“وہ نا چاہتے ہوئے بھی خفا ہوئی تھی۔
”ہر لڑکی کو نہیں،بس جو مجھے خوبصورت لگتی ہے،اسے دیتا ہوں۔“قانِتہ کے چہرے پر زندگی کے رنگ مانند پڑنے لگے۔اس کے رخساروں پر چھائی رونق یوں غائب ہوئی جیسے دن پر اچانک غالب آ جانے والی تاریکی……
”ایک خوبصورت لڑکی کے لیے خوبصورت پھول۔“کانوں کے پردوں سے ایک خوفناک آواز ٹکرائی۔ہاں،یہ آواز خون نچوڑ لینے والی تھی۔آنکھوں کے گرد کسی کا سایہ لہرایا،کوئی غیر شناسا چہرہ جسے وہ آج تک کبھی نہیں بھول پائی تھی۔
ہاتھ پیر لمحہ بھر کو برف کی مانند سرد ہو گئے۔
اس نے گہری سانس لے کر غزوان کی جانب دیکھا،اندر خلا سی بھر گئی۔
”دوبارہ کسی لڑکی کو پھول مت دینا۔ایک پھول کسی کی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔“اس نے آہستہ مگر سنجیدہ لہجے میں کہا۔اندر بہت سے احساسات،بہت سے زخم ایک دوسرے سے الجھنے لگے۔ماضی بھلانا آسان تو نہ تھا۔یہ ایک سایہ تھا جو اٹھتے بیٹھتے ہر وقت اس کے ساتھ رہتا تھا۔ایک خوفناک خواب یا پھر شاید حقیقت……
”تم کہنا چاہتی ہو کہ سارے پھول صرف تمہیں دوں؟“وہ غیر سنجیدہ تھا۔
”ہاں،یہی سمجھ لو۔“اس نے گو کہ جان چھڑانی چاہی۔
”یعنی تمہیں جلن ہو رہی ہے۔اس کا مطلب کہ…..اوہ…..اس کا مطلب تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے۔اوہ اللہ……یعنی تم…..تم میرے عشق میں ڈوب ہو چکی ہو۔“غزوان کی ڈرامے بازی عروج پر تھی۔قانِتہ کا پارہ فوراً چڑھ گیا۔اس نے کھینچ کر ہاتھ غزوان کے بازو پر مارا۔
”مجھے تم سے کوئی محبت نہیں ہوئی اور نہ کوئی عشق…..یہ سب فضول باتیں ہیں۔“
”شوہر سے محبت ہونا فضول نہیں ہے۔“
”شوہر سے محبت ہونا اس دنیا کا سب سے فضول ترین کام ہے۔شوہر چاہے جیسا بھی ہو،بیوی پھر بھی اس کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔کیوں….؟میں یہ غلطی نہیں کروں گیئں۔دوبارہ تو بالکل نہیں۔“وہ کہتے ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔غزوان کندھے اچکا کر ہنس دیا تھا۔شاید وہ اس کا جملہ ٹھیک سے سن نہیں سکا تھا یا شاید دھیان نہیں دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کے تیز تھپیڑے اس کے چہرے سے ٹکڑا رہے تھے۔لبوں پر آسودگی بھری مسکراہٹ تھی۔جیسے ہی غانیہ نے جہاز کے دروازے سے خود کو باہر پھینکا،اس کا پورا وجود ہوا میں معلق ہو گیا۔نیلے آسمان کے اس کینوس پر وہ آزاد تھی مگر دل سینے میں بے قابو پرندے کی مانند پھڑپھڑا رہا تھا۔کس نے کہا کہ خواب پورے نہیں ہوتے؟خواب پورے ہوتے ہیں،بس انہیں پورا کرنے کی چاہ ہونی چاہیے۔قتادہ نے اسے بس تھوڑی سی ہمت دلائی تھی۔نہ بھی دلاتا تب بھی وہ ایک نہ ایک دن اپنا خواب پورا کر ہی لیتی۔اتنے سال وہ صرف معذوری سے نہیں لڑی تھی،وہ دنیا سے بھی لڑی تھی۔اس کی چلتی سانسیں اس کی جیت کا ثبوت تھیں۔
اس نے ایک نظر کھلے آسمان کی جانب دیکھا پھر ہزاروں فٹ گہری زمین کو پھر اپنی بےجان ٹانگ کی کو……
”تم نے کر دیا غانیہ۔تم نے کر دیا۔“کھلے آسمان میں اس کی کھنکھتی آواز گونجی تھی۔
ہوا کی تیز لہروں نے پلٹ کر اسے مبارک باد دی تھی۔
اس نے اپنے دونوں بازو ہوا میں پھیلا دیے اور خود کو آزاد چھوڑ دیا۔نیچے زمین پر چھوٹے چھوٹے کھیت،بل کھاتے دریا،کٹاؤ دار راستے…..ہر چیز ایک غیر فطری پینٹنگ کی طرح نظر آ رہی تھی جسے مصور نے بہت خوبصورتی اور مہارت سے کینوس پر اتارا ہو۔کسی چیز میں چاول کے دانے کے برابر بھی کمی نہ تھی۔
نیچے پہاڑوں کی برف پوش چوٹیوں کو دیکھ کر اسے اپنا بچپن یاد آیا۔وہ ان پہاڑوں پر ڈور نہیں سکی تھی مگر آج ان پہاڑوں سے کئی اوپر ہوا میں اڑ رہی تھی۔
”پہاڑوں پر دوڑ نہیں سکی تھی؟“اس کے ذہن نے ایک اور خیال بنا۔
”اے فلک…..“اس نے آسمان کو مخاطب کیا۔
”کیا غانیہ یوسفزئی کو پہاڑ سر کرنا چاہیئے؟“اس کی آواز فضا میں گونجی تھی۔
”ہاں،مجھے کرنا چاہیئے۔“اس نے جواب کی پرواہ نہیں کی تھی۔جواب تو دل خیال بنتے ہی دے چکا تھا۔اسے یہ کرنا تھا اور وہ یہ ہر حال میں کرے گی۔
چند لمحوں میں پیراشوٹ کھل چکا تھا مگر جو وقت اس نے اس فضا میں گزارا تھا،وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن پر کسی خوشگوار یاد کی مانند نقش ہو چکا تھا۔اب اس کی پرواز کو کوئی نہیں روک سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آپ کو پتا ہے قتادہ،سب کتنا اچھا تھا۔ایک پل کے لیے مجھے لگا جیسے یہ کوئی خواب ہو مگر نہیں…..یہ حقیقت تھی۔“وہ دونوں ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔درمیان میں میز پر رکھے کپ سے بھاپ اڑ رہی تھی۔غانیہ ہاتھ ہلا ہلا کر نہایت پرجوش انداز میں اسے اپنے ایڈونچر کے بارے میں بتا رہی تھی۔قتادہ دلچسپی سے اس کی ساری گفتگو سن رہا تھا۔
”مجھے پہلے پیرا گلائڈنگ کا شوق تھا مگر جب اسکائی ڈائیونگ کے بارے میں سرچ کیا تو یہ زیادہ دلچسپ لگا لیکن میں پیرا گلائڈنگ بھی کروں گیئں۔بلکہ میں نے سوچ لیا ہے،میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھوں گیئں۔پہلے کےٹو پھر……“قتادہ کی ہنسی کی وجہ سے غانیہ کو خاموش ہونا پڑا۔اس کا سارا جوش جیسے ہوا ہو گیا۔
”آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟“
”تم پہاڑ سر کرو گی؟“وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی حیرت چھپا نہ سکا۔
”آپ کو لگتا ہے،میں نہیں کر سکتی؟“اس کے لہجے میں خفگی کا عنصر واضح تھا۔
”ایسی بات نہیں ہے،یقینا تم کر سکتی ہو مگر ہمیں شادی بھی تو کرنی ہے نہ۔کیا پہاڑوں پر شادی کریں گے؟“وہ لب دبائے پوچھ رہا تھا۔غانیہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
”میرا فلحال شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔شادی تب تک نہیں ہو گی جب تک میں اپنا خواب پورا نہیں کر لیتی۔اگر آپ کو جلدی ہے تو کسی اور سے کر لیں۔غانیہ سماک یوسفزئی کو کسی قتادہ کی ضرورت نہیں۔“وہ غصے سے کہہ کر اٹھی اور وہاں سے چلی گئی۔قتادہ ہکا بکا وہاں بیٹھا رہ گیا۔تو کیا اس کے پہاڑ سر کرنے تک وہ انتظار کرے؟اور کتنے سال اسے انتظار کرنا تھا؟شاید تب تک جب تک وہ چالیس کا نہیں ہو جاتا یا پھر شاید پچاس……اس نے جھرجھری لے کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ساتھ اس لمحے کو جی بھر کر کوسا جب اس نے غانیہ کو اکیڈمی جانے کے لیے موٹیویٹ کیا تھا۔اسکائی ڈائیونگ اور پہاڑ سر کرنے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کی نارنجی روشنی ہر سوں پھیلی ہوئی تھی۔بارسلونا کی سرد شام میں خوشی کا عنصر نمایاں تھا۔غزوان ویڈیو کال پر قتادہ سے بات کر رہا تھا۔وہ غزوان کو غانیہ کے متعلق بتا چکا تھا،نہ بھی بتاتا تو اسد پہلے ہی سب غزوان کے گوش گزار سب کر چکا تھا۔
”تو پھر شادی کب کر رہے ہو؟“غزوان کے پوچھنے پر اس نے کندھے اچکا دیے۔غانیہ کے ارادے نے اس کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا مگر اسے یقین تھا کہ وہ مان جائے گی۔
”تم نے تو بلایا نہیں اپنی شادی پر۔میں بھی نہیں بلاؤں گا۔“قتادہ کے شکوے پر وہ ہنس دیا تھا۔وہ زخصتی پر سب کو بلانا چاہتا تھا مگر حالات کی سنگینی کی وجہ سے اسے رخصتی جلدی(زبردستی) کرنی پڑی تھی۔
اس سے پہلے کہ غزوان اپنی وضاحت میں کچھ کہتا،قانِتہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
”کس سے بات کر رہے ہو؟“
”ارے…..“وہ بستر سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھا تھا۔
”چلو قانِتہ تمہیں تمہارے بچھڑے ہوئے بھائی سے ملواتا ہوں۔بس فرق اتنا ہے کہ تم انسان کو مکمل توڑ پھوڑ دیتی ہو جبکہ یہ ناک اور دانت توڑنا پسند کرتا ہے۔“اور یہ تھا قتادہ اور قانِتہ کا پہلا تعارف۔قتادہ نے پہلے غزوان کو گھوری سے نوازا تھا پھر مسکرا کر قانِتہ کو ہائے کیا تھا۔وہ بھی خوش اسلوبی کا مظاہرہ کرتے مسکرا دی تھی۔
”اچھے سے دیکھ لو ایک دوسرے کو۔کہیں کسی میلے میں بچھڑے ہوئے بہن بھائی تو نہیں ہو نہ؟“غزوان کے کہنے پر جہاں قتادہ نے اسے گھوری سے نوازا تھا وہیں قانِتہ نے اپنے جوتے کی سول زور سے اس کے پیر پر ماری تھی۔کیا بےبسی تھی،وہ کراہ تک نہ سکا تھا۔
اسے قتادہ اور قانِتہ ایک جیسے لگتے تھے۔وہ کچھ غلط نہیں تھا۔دونوں کا ماضی دردناک تھا۔ماضی ایسا ہو تو انسان کی زبان میں کڑواہٹ اور انداز میں سختی آ ہی جاتی ہے۔
”کیسی ہیں آپ؟“وہ اشاروں میں پوچھ رہا تھا۔قانِتہ کو لمحہ بھر کے لیے شدید حیرت ہوئی مگر وہ فوراً سنبھل کر مسکرا دی۔
”کہہ رہا ہے کہ شوہر کو کھانا تو بنا کر دیتی ہو نہ۔“وہ اچھے مترجم کی طرح اب ترجمہ کر رہا تھا۔اس کے اس ترجمہ پر قتادہ کا دل چاہا کہ سکرین سے باہر نکل کر دو مکے اس کی ناک پر جڑ دے۔
”یہ اگر آپ کو پریشان کرے تو مجھے بتائیں گا۔“قتادہ نے ضبط سے اگلی بات کی۔
”کہہ رہا ہے کہ شوہر کی خدمت کیا کرو۔“غزوان نے اگلے جملے کا ترجمہ کیا تھا۔قتادہ نے بےبسی اور غصے سے اسے گھورا مگر وہ اثر کہاں لے رہا تھا۔
”یہ بھی کہہ رہا ہے کہ میرا دوست بہت حساس ہے۔کوشش کرنا اس کا دل نہ دکھے۔“جہاں قتادہ نے اپنا سر تھاما وہیں قانِتہ نے اس کے ہاتھ سے موبائل کھینچ لیا۔
”آپ فکر نہ کریں بھائی۔اگر یہ مجھے تنگ کرے گا تو میں خود اسے سنبھال لوں گیئں۔“اس نے گو کہ جتانے والے انداز میں غزوان کی جانب دیکھتے کہا تھا۔غزوان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔وہ سائن لیونگج جانتی تھی۔(کیا مصیبت تھی)
اس کے اس طرح بھائی کہنے پر قتادہ کے دل کو بے اختیار کچھ ہوا تھا۔
دونوں بہن بھائی کافی دیر ایک دوسرے سے بات کرتے رہے اور غزوان کسی غیر اہم چیز کی طرح بس ان کی گفتگو سنتا رہا۔اسے نہ قانِتہ نے اہمیت دی اور نہ قتادہ نے۔(افف بیچارہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
