61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 22)

قتادہ کے اس طرح اچانک فون کر کے بلانے پر غانیہ بالکل حیران رہ گئی تھی۔وہ چاہ کر کر بھی اسے انکار نہیں کر سکی تھی۔
دونوں کی ملاقات ایک ریسٹورنٹ میں ہو رہی تھی۔غانیہ عجیب نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ قتادہ زندگی میں پہلی بار کچھ کنفیوژ ہوا تھا۔کسی لڑکی سے اس قسم کی گفتگو کرنا اس کے لیے کافی مشکل تھا۔
”میری زندگی میں کافی مسائل رہے ہیں لیکن اب میں تھک چکا ہوں،بہت زیادہ تھک گیا ہوں۔زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔کیا تم…..“اس نے وقفہ لیا۔غانیہ کی نگاہیں اس کے چہرے پر جمی رہیں۔
قتادہ نے گہری سانس لی اور کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈبیا نکال کر میز پر رکھی۔غانیہ کی جانب دیکھا،وہ ساکت بیٹھی رہی۔
”کیا تم میری آواز بنو گی؟“قتادہ نے ڈبیا اس کی جانب کھسکا دی۔پل بھر کے لیے سب تھم گیا۔وہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی۔اچانک آس پاس دھماکوں کی آواز سنائی دینے لگی۔وہ اسے پرپوز کر رہا تھا۔کیا واقعی وہ یہ کر رہا تھا؟
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی غانیہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں۔سارے جسم کا خون سمٹ کر چہرے پر آ گیا۔خطرناک تیوروں سے قتادہ کو گھورتے بات کا آغاز کیا۔
”آپ جانتے بھی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟کیا میرا مذاق اڑانے کی کوشش کر رہے ہیں یا پھر میری حقیقت سے واقف نہیں؟“اس کی آواز بلند ہوتی گئی۔دل میں قتادہ کے لیے ابھرتے ہوئے سارے جذبات ایک طرف مگر قتادہ کا یوں پرپوز کرنا ایک طرف……شادی اور محبت کے بارے میں سوچنا وہ گناہ سمجھتی تھی۔اسے ایسے خواب دیکھنے کا کوئی حق نہ تھا۔
”میں…..“قتادہ نے وضاحت دینی چاہی مگر غانیہ نے درشتی سے اسے ٹوک دیا۔
”میں معذور ہوں قتادہ صاحب۔مجھے پولیو ہے۔آپ اپنا قیمتی وقت کہیں اور ضائع کیجیئے۔“وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی پھر تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔قتادہ نے اسے روکنا چاہا مگر وہ نہیں رکی۔
”کیا بنا؟“قتادہ کے باہر آنے پر گاڑی کے پاس کھڑے اسد نے چہکتے ہوئے پوچھا۔قتادہ نے کھا جانے والی نگاہوں سے پہلے اسے گھورا پھر گھما کر ایک مکا اس کے جبڑے پر دے مارا۔اسد کے پیروں تلے نہ زمین رہی نہ سر پر آسمان…..
”جب تک وہ ہاں نہیں کرتی،تب تک شکل مت دکھانا اپنی۔“غصے سے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور زن سے گاڑی اڑا لے گیا۔اسد صدمے کی حالت میں گال پر ہاتھ رکھ کے کھڑا رہا۔اس کے انکار یا اقرار کا بیچارے اسد سے کیا تعلق تھا؟شاید مار کھانا اس کا مقدر تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندھیری رات کی خاموشی کو چیرتے ہوئے ایک جیپ دھول اڑاتی آگے بڑھ رہی تھی۔قتادہ تیزی سے جیپ چلا رہا تھا۔آنکھوں میں نفرت کے شعلے دہک رہے تھے۔جبڑے بھینچے ہوئے اور چہرے پر بےتحاشہ سختی تھی۔
جیپ ایک پرانی فیکٹری کے باہر رکی تھی۔دروازہ چڑچڑاہٹ کی آواز کے ساتھ کھلا تھا۔فیکٹری میں ایک عجیب سی دھند چھائی ہوئی تھی۔قتادہ فرش پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں کو بوٹوں سے کچلتا آگے بڑھا۔سامنے نیم بیہوشی کی حالت میں جعفر چچا کو کرسی سے باندھ رکھا تھا۔منہ پر پٹی بندھی تھی۔
قتادہ عین اس کے سامنے ایک آرام دہ کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا۔
اس کی والدہ کے انتقال کے بعد معنوں سارے لحاظ ختم ہو چکے تھے۔
ساتھ پڑی میز پر اس نے ٹرانسلیٹر لگایا ہوا تھا۔اس کی ضرورت البتہ ناں تھی مگر وہ چاہتا تھا آج جعفر چچا اس کی تمام باتیں سنیں اور اس بےبسی کو محسوس کریں جو چاہ کر بھی کچھ نہ بول پانے کے وقت سہنی پڑتی ہے۔
”کیسا محسوس ہو رہا ہے چچا جان؟“لوہے کے راڈ کو ہاتھ میں گھماتے ہوئے اس نے قدرے دلچسبی سے انہیں دیکھا۔
جعفر چچا نے متورم آدھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کی۔جسم زخموں سے چور تھا۔
”وہ سارے لوگ جن کی وجہ سے تمہاری جان بخشی ہو سکتی تھی،چلے گئے۔اب تمہیں قتادہ سے کون بچائے گا؟“اس کی آواز میں زہر گھلا تھا اور چہرے پر اذیت کے آثار نمایاں تھے۔
”آٹھ سال کی عمر میں میرے ساتھ جو ہوا،وہ تم جانتے تھے مگر پھر بھی کچھ نہیں کیا۔بارہ سال کی عمر میں تم نے میرے باپ کو مار ڈالا اور الزام آیا مجھ پر۔“چچا کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہوئے۔جسم کپکپانے لگا۔آج وہ انسان نہیں جلاد معلوم ہوتا تھا۔
”میرے وار سے وہ صرف زخمی ہوئے تھے مگر تم نے……“وہ چل کر ان تک آیا۔ایک ہاتھ سے منہ دبوچا اور قہرآلود آنکھیں جعفر چچا کی آنکھوں میں گاڑھی۔
”تم نے ان کا گلا دبا کر انہیں مار دیا۔تمہاری وجہ سے…..صرف تمہاری وجہ سے میں دربدر ہوا۔میرے ساتھ……“اس نے لب سختی سے باہم پیوست کیے۔آنکھوں میں غصے کے ساتھ نمی بھی اتری۔ماضی کی دردناک یادیں دھویں کے مانند اس کے آس پاس پھیلنے گیئں۔
”اتنے سال کیا کیا سہنا پڑا مجھے،جانتے ہو؟“قتادہ نے ٹانگ سے کرسی سمیت اسے پیچھے دکھیلا۔جعفر چچا ایک ہولناک چیخ کے ساتھ کرسی سمیت زمین پر گر گئے۔
”بقا کے لیے ہر وہ کام کیا جو کبھی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔زندہ رہا،صرف اس امید کے ساتھ کہ ایک دن اپنی بہن اور ماں کے ساتھ خوشگوار زندگی گزاروں گا مگر تم…..“اس نے بوٹ جعفر چچا کے پیٹ پر رکھا۔وہ بری طرح کراہ اٹھے۔آنکھوں میں التجا کی درخواست تھی مگر قتادہ آج انہیں بخشنے والا نہیں تھا۔
”تم نے سحر کو اغواء کروایا۔“ایک گھٹنا زمین پر رکھ کر بیٹھا اور چچا کو بالوں سے پکڑا۔
”تمہاری وجہ سے میری معصوم بہن زندگی کی جنگ ہار گئی۔کس وجہ سے کیا سب؟جائیداد کے لیے؟“قتادہ نے گھما کر مکا اس کے منہ پر جڑا۔
”جائیداد تو میری ہے۔عدالت میں سارے ثبوتوں کے ساتھ تمہیں جیل بھجواؤں گا مگر پہلے…..“قتادہ نے ایک بار پھر چچا کا منہ دبوچا۔”پہلے میں اپنے سینے میں لگی اس آگ کو تو ٹھنڈا کر لوں جو شاید تمہاری موت پر ہی ٹھنڈی ہو گی۔“ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔کرسی کو ٹھڈا مارا اور باہر نکل گیا۔جعفر چچا یوں ہی بےبس پڑے رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قتادہ تیزی سے جیپ کی جانب بڑھا۔چابی گھمانی چاہی مگر اس کے ہاتھوں کی لرزش نے اسے یہ کرنے نہ دیا۔اس نے ایک بار پھر کوشش کی مگر ناکام رہا۔
چابی ہاتھ سے چھوٹ کر گری۔گلے میں بہت سے آنسو آ پھنسے۔آنکھیں سرخ ہوتی چلی گیئں۔اس نے بےبسی سے سر سٹیرنگ پر ٹکا دیا۔آنسو بے آواز بہنے لگے۔
ذہن کے دریچوں پر ماضی کے بیتے لمحات گھومتے رہے،دل میں اٹھتا درد بڑھتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس رات تین وحشیوں نے اس کے جسم کو بری طرح نوچا تھا۔وہ چاہ کر بھی چلا نہیں سکا تھا۔کسی کو مدد کے لیے پکار نہیں سکا تھا۔پکار بھی لیتا تب بھی اس کی مدد کے لیے کون آتا۔
وہ قتادہ کو بیہوشی کی حالت میں چھوڑ کر جا چکے تھے۔وہ بےبسی کی حالت میں زخموں سے چور وہاں پڑا رہا تھا۔یہاں تک کہ فجر کے وقت ایک راہ گیر کی نظر اس پر پڑی تھی اور وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے گیا تھا۔
کمرے میں جلتی ہلکی مدھم روشنی میں وہ چارپائی پر بےحس و حرکت بیٹھا تھا۔اسے یہاں آئے دو دن گزر چکے تھے مگر وہ ساکت سا ایک ہی جگہ دیکھتا رہتا۔اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا،نہ آنکھوں میں نمی،نہ ماتھے پر کوئی شکن….. وہاں صرف خالی پن تھا۔اس کے اندر بہت کچھ ختم ہو چکا تھا۔ٹوٹ چکا تھا،بکھر چکا تھا۔
”بیٹا کچھ تو بولو۔کہاں کے رہنے والے ہو؟گھر کا کوئی پتہ،کوئی نمبر کچھ تو یاد ہو گا؟“وہ شخص اسے یہاں لے کر آیا تھا وہ ایک مالی تھا۔پچھلے دو دنوں سے اس نے قتادہ سے بات کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی مگر ناکام رہا۔
”مجھے لگتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتا۔“مالی کاکا کی بیوی نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
”مجھے بھی یہی لگتا ہے۔“
”اسے کہیں چھوڑ کیوں نہیں آتے؟بلاوجہ کی مصیبت گلے پڑ گئی ہے۔“
”دماغ خراب ہے تمہارا؟اس حالت میں کہاں چھوڑوں اسے؟کچھ دن مزید دیکھتے ہیں،شاید کچھ بتا دے۔“وہ کچھ دن نہیں بلکہ کافی عرصہ ان کے ساتھ رہا تھا۔مالی کاکا کو اس سے خاص انسیت ہو گئی تھی مگر ان کی بیگم قتادہ کو گھر پر رکھنے کو تیار نہ تھی۔گھر کا گزرارا ویسے ہی مشکل سے ہوتا تھا،ایسے میں ایک اور فرد کے اضافے سے خرچہ مزید بڑھ گیا تھا۔ان کے اپنے تین بچے تھے،ایسے میں قتادہ کا وجود برداشت کرنا ان کے لیے سخت ناگزیر تھا۔
بالآخر چھ مہینے بعد جب وہ صدمے سے کچھ باہر نکلا تو مالی کاکا نے اسے ایک ورکشاپ پر رکھوا دیا۔دن رات کی محنت کے بعد اسے گھر پر سکون سے رات کا کھانا نصیب ہوتا۔مہینے کے آخر میں ملنے والی دو ہزار روپے کی اجرت وہ مالی کاکا کی بیگم کے ہاتھ میں رکھ دیتا۔مالی کاکا اب بھی اس کے گھر کے بابت اس سے پوچھتے رہتے مگر وہ خاموش ہی رہتا۔اسے واپس نہیں جانا تھا۔اس رات کے بعد وہ خود کو داغدار اور مجرم سمجھنے لگا تھا۔اپنے گھر والوں کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔
ورکشاپ کے علاؤہ اس نے سڑکوں پر دن کے وقت پین بیچنے سے لے کر رات کے وقت انڈے تک بیچے تھے۔وہ جتنے پیسے لا کر مالی کاکا کی بیگم کے ہاتھ پر رکھتا،اس قدر سکون اسے نصیب ہوتا۔
یہاں تک کہ ایک دن مالی کاکا اسے اپنے ساتھ اس بنگلے میں لے گئے تھے جہاں وہ کام کرتے تھے۔سفارش پر قتادہ کو گاڑیاں صاف کرنے کا کام ملا تھا۔یہاں اجرت پہلے سے زیادہ تھی اور رہائش کے لیے جگہ بھی دی گئی تھی۔چار ملازمین کے ساتھ رہائش کا یہ واحد کمرہ قتادہ کے لیے کسی غنیمت سے کم نہ تھا۔روز روز کے طعنے سننے سے تو بہتر تھا کہ وہ اسی خستہ حال کمرے میں رہتا۔
گاڑیاں صاف کرنے کے علاؤہ وہ فارغ وقت میں اور بہت سے کام کرتا تھا جس پر بنگلے کے مالک کو کوئی اعتراض نہ تھا۔یہاں تک کہ ایک سرکاری اسکول میں اس نے پڑھائی بھی شروع کر دی تھی۔اسکول کا معیار کافی خستہ حال تھا لہذا قتادہ جیسے سپیشل چائلڈ کو باآسانی ایڈمیشن مل گیا تھا۔
زندگی کی گاڑی دھکے سے ہی صحیح مگر آگے بڑھنے لگی تھی۔تقریبا پانچ سال کے بعد اس کے دل میں اپنوں سے ملنے کی خواہش نے شدت سے سر اٹھایا لہٰذا دل کی اس خواہش پر لبیک کہتے اس نے واپس اپنے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔
”یہ سحر پر اچھا لگے گا۔“اپنی تمام تر جمع پونجی سے وہ اب اپنی بہن اور ماں کے لیے تحائف خرید رہا تھا۔
”سحر کو یہ والی گڑیا پسند آئے گی۔“
”مما پر یہ شال اچھی لگے گی۔“اتنے سالوں میں اس نے نہایت چاہ سے کچھ خریدا تھا۔
صاف ستھرا لباس پہن کر وہ ڈھڑکتے دل کے ساتھ اس عالیشان بنگلے کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔بارہ سال کی عمر میں وہ یہاں سے بھاگا تھا اور اب تقریباً سترہ سال کی عمر میں واپس لوٹا تھا۔
”کس سے ملنا ہے؟“گیٹ پر موجود گارڈ نے اسے روک کر پوچھا تھا۔پانچ سال بعد بہت کچھ تبدیل ہو چکا تھا،گارڈ بھی……
قتادہ نے نہایت پرجوش انداز میں اسے کچھ سمجھانا چاہا مگر وہ نہیں سمجھ سکا۔
”جاؤ معاف کرو۔“گارڈ نے بالآخر جھنجھلاتے ہوئے کہا۔وہ اپنے تیئں بہت صاف ستھرا لباس پہن کر آیا تھا مگر اس کے اس صاف ستھرے لباس پر تین جگہ نہ صرف پیوند لگی تھی بلکہ رنگ بھی بالکل پھٹ چکا تھا۔
”میری بہن،میری ماں……“اس نے ایک بار پھر کچھ سمجھانا چاہا مگر نگاہیں فاصلے سے آتی گاڑی پر جا رکیں۔نہ صرف دل کی دھڑکن رکی بلکہ چہرے کا رنگ بھی فق پڑ گیا۔
اس کی ماں اس کے چچا کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔دفعتا کسی بات پر وہ ہنس دی تھی۔قتادہ کو اگلی سانس نہیں آئی۔اس کے قدم پیچھے ہٹتے چلے گئے۔ہاتھ میں پکڑے پیکٹس زمین پر گر گئے۔وہ جھک کر بکھری چیزیں سمیٹنے لگا یہاں تک کہ گیٹ کھلا اور گاڑی اندر داخل ہو گئی۔شاید وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ماں اسے دیکھے۔
گیٹ کے دوبارہ بند ہونے پر وہ لرزتے قدموں سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”یہ کون تھے؟“اس نے لرزتے ہاتھوں سے اشاروں میں گارڈ سے پوچھا اور شاید پہلی بار گارڈ کو اس کی بات سمجھ آئی۔
”یہ صاحب اور بیگم صاحبہ ہیں۔تم کون ہو اور تمہیں ان سے کیا کام ہے؟“اس کا شبہ درست ثابت ہوا تھا۔اس کی ماں نے اس کے چچا سے نکاح کر لیا تھا۔قدم ایک بار پھر لڑکھڑائے اور پیچھے کی جانب سڑک پر جا گرا۔گارڈ نے ہڑبڑا کر اسے اٹھانے کی کوشش کی مگر قتادہ سارا سامان وہیں چھوڑ کر بھاگ گیا۔وہ اس طرح بھاگا معنوں دوبارہ کبھی یہاں کا رخ نہیں کرے گا مگر یہ اس کی غلط فہمی تھی۔اسے ایک بار پھر ٹوٹنے کے لیے یہاں آنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرش پر وہ زانوں بیٹھی تھی۔ہاتھ میں کپڑے کی گڑیا تھی۔ٹھیک ویسی ہی گڑیا جیسی اس نے سالوں پہلے نوراں کے لیے سلی تھی۔وہ ہر سال اس کی پیدائش کے روز ویسی ہی گڑیا بناتی تھی۔آج صبح سے اس کا دل بوجھل تھا،اوپر سے قتادہ کے پرپوزل نے اسے شدید غصے اور رنج میں مبتلا کر دیا تھا۔یقینا وہ اس کا مذاق اڑا رہا تھا تب ہی اس نے اس قسم کی بات کی تھی۔
کمرے میں ایک عجیب سی خوشبو بسی تھی،وہی خوشبو جو نوراں سے آتی تھی۔غانیہ کی آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے جیسے کسی بند دریا نے خاموشی سے کنارہ توڑ دیا ہو۔
”مجھے معاف کر دو نوراں۔میں بہت بری ہوں،بہت زیادہ۔تمہیں وہاں اکیلا چھوڑ آئی۔“اس نے گڑیا کو سینے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
”میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔مجھے معاف کر دو۔“اس کے آنسوؤں میں بارش کی تیزی آتی گئی۔نوراں کو وہ کبھی بھولی ہی نہیں تھی۔
”ہم نوراں کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے؟“زخرف کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
”نہیں…..“
”کیوں؟“
”کیونکہ تمہیں چھوڑ کر میں واپس جاؤں گیئں۔“آنسو لمحہ بھر کو تھمے۔غانیہ نے گڑیا کو پکڑ کر سامنے کیا۔”میں واپس نہیں آ سکی نوراں۔مجھے معاف کر دو۔پتا نہیں تم کس حال میں ہو گی؟میرا یقین کرو،تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔میں تو زخرف کو چھوڑنے گئی تھی۔اسے بھگانے گئی تھی۔معذور ہوں ناں،کیسے ساتھ لے کر جاتی تمہیں؟مگر سب الٹ ہو گیا۔واپس نہیں آ سکی۔تمہاری بہن بہت خود غرض نکلی۔“آنسووں میں ایک بار پھر روانی آئی۔ندامت سے سر جھکتا چلا گیا۔نوراں کی پیدائش کے پہلے دن سے غانیہ نے اسے ماں بن کر پالا تھا۔ماں کے لیے اولاد کیا ہوتی ہے،یہ صرف ماں ہی جانتی ہے۔
”زخرف…..زخرف پتا نہیں کہاں ہو گی؟ہو گی بھی یا نہیں۔تمہیں تو پتا ہے ناں کہ وہ بہت معصوم اور کمزور تھی۔دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔مار دیا ہو گا اس ظالم دنیا نے اسے۔اور مجھے دیکھو۔“اس نے ہنس کر کندھے اچکائے۔
”میں اب بھی زندہ ہوں اس امید پر کہ تم بھی اپنی زندگی میں بےحد خوش ہو گی۔میں وہاں نہیں ہوں،مگر باقی سب تو ہیں ناں۔تم سِماک یوسفزئی کی بیٹی ہو۔تم بہادر ہو،تم سروائیو کر لو گی۔مجھے پتا ہے،میری بہن بہت بہادر ہے۔“اس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے آنکھیں رگڑیں پھر بستر کا سہارا لے کر اٹھ کھڑی ہوئی۔عین اس ہی وقت فون کی بیپ نے توجہ اپنی جانب مبذول کی۔غانیہ نے گڑیا ایک طرف رکھی اور فون اٹھا لیا۔قتادہ کا میسج اندھیر کمرے میں جگمگانے لگا۔
”میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا غانیہ۔میں تو خود ایک ٹوٹا بکھرا انسان ہوں۔کوئی اپنا نہیں ہے میرے پاس۔زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔خود پر محبت کا جذبہ حرام کرنے کے باوجود بھی تم دل کو اچھی لگی۔کبھی پرپوز نہ کرتا تمہیں اگر اسد کی زبان سے تمہاری بہادری کی بات نہ سنتا۔میں مکمل نہیں ہوں غانیہ۔اپنے احساسات اور جذبات تمہیں بتا نہیں سکتا۔تم بھی مکمل نہیں ہو۔ہم ایک ہو کر کچھ غلط نہیں کریں گے۔یہ عجیب تب ہوتا جب ہم میں سے کوئی ایک مکمل ہوتا۔کوئی فلم یا ناول تو نہیں ہے یہ کہ ایک امیر مکمل شخص کو کسی معذور لڑکی سے عشق ہو جائے یا پھر کوئی مکمل لڑکی کسی ادھورے انسان کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔یہ حقیقی زندگی ہے غانیہ اور حقیقی زندگی میں کوئی بھی مکمل انسان کسی ادھورے انسان کو قبول نہیں کرتا۔میں ایک بار پھر تم سے پوچھتا ہوں۔کیا تم میری آواز بنو گی؟“چند سطور پر مشتمل یہ میسج غانیہ کی آنکھیں دھندلا گیا تھا۔وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔کوئی مکمل انسان کسی ادھورے شخص کو کیوں قبول کرے گا؟ایسا ہوتا بھی ہے تو بہت کم…… تقریباً نہ ہونے کے برابر……
اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑا وہ پچھلے ایک گھنٹے سے موبائل کی سکرین پر نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔وہ میسجز سین کر چکی تھی مگر جواب ندارد…… قتادہ نے گہری سانس لے کر نفی میں سر ہلایا اور کمرے کی جانب بڑھنے لگا جب بیپ کی آواز نے اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔
”کیا آپ میری زمین بنیں گے؟“ایک سطر،ایک جملہ…… قتادہ کے قدم وہیں منجمند ہو گئے۔لبوں پر جاندار مسکراہٹ پھیل گئی۔وہ سر تا پیر سرشار ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔