Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 23)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 23)
نرم و گداز بستر پر وہ نیم دراز تھی۔نگاہیں سفید دیوار پر جمی تھیں،جیسے کسی ان دیکھے دھاگے سے جڑی ہوں۔بائیں پیر پر پلستر تھا،پلاستر سے جھانکتی انگلیاں بےحس دکھائی دیتی تھیں۔
”کیا سوچ رہی ہو پری وَش؟“غزوان نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تھی۔وہ فورا ہوش میں لوٹی تھی۔
”کچھ نہیں۔“انداز تھکا تھکا سا تھا۔پیر کی طرح دماغ بھی سن ہوتا جا رہا تھا۔اسے کسی بھی قیمت پر یہ رشتہ ختم کرنا تھا مگر سوال تھا”آخر کیسے؟“
”تم نے مزید کچھ دنوں کی لیو(leave)لی؟“وہ ٹھٹکی پھر ماتھے پر بل ڈالے غزوان کی جانب دیکھا۔
”کیا مطلب؟“لہجہ اب کی بار کچھ سخت تھا۔
”مطلب یہ کہ تم فلحال آفس نہیں جا سکتی تو……“
”کیوں نہیں جا سکتی؟تم روک سکتے ہو مجھے؟سوچنا بھی مت کہ کنٹرول کر لو گے مجھے۔“غزوان کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اس پر چڑھ دوڑی تھی۔وہ ہکا بکا کھڑا اس کی زبان کی ترشی کو سن رہا تھا۔
”تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں سارا دن اور ساری رات تمہاری خدمت کروں گیئں اور پھر تمہارے جوتے بھی کھاؤں گیئں۔پھر تمہیں بچے چاہیئے ہو گے اور وہ بھی بیٹے…..چاہے میری صحت برباد کیوں نہ ہو جائے۔چاہے میں مر ہی کیوں نہ جاؤں۔تمہارا کیا ہے،تم تو دوسری شادی کر لو گے یا پھر تیسری…..یہی تو رواج ہے ناں تم پٹھانوں میں۔“وہ بولنے پر آئی تھی تو تمام لحاظ بھلا بیٹھی تھی۔چہرہ،ناک،گردن،آنکھیں……ہر چیز سرخ پڑ چکی تھی۔وہ نجانے کس خیال کے زیرِ اثر یہ سب کہہ رہی تھی،غزوان بالکل بھونچکا رہ گیا تھا۔
”جاؤ پھر کر لو دوسری،تیسری،چوتھی شادی….. میرے ساتھ وقت برباد مت کرو۔“اب کی بار اس کی آواز بہت بلند تھی۔تنفس بری طرح پھول چکا تھا۔شام کا نارنجی پن سفید دیواروں پر غصے کی آگ بھڑکا گیا تھا۔اس کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں جبکہ مٹھیاں سختی سے بھینچ رکھی تھیں۔
کمرے میں ایک عجیب سی تپش پھیل چکی تھی۔
غزوان کئی لمحے اسے دیکھتا رہا۔بےیقینی سے،شاک سے……
پھر ایک گہری سانس ہوا کے سپرد کرتا اس کے قریب بستر پر بیٹھ گیا۔قانِتہ کی نگاہیں سامنے کھڑی دیوار کو گھور رہی تھیں۔خالی،بنجر نگاہیں……
”تم نے کھانا کھایا؟“اس نے ایک جھٹکے سے غزوان کی جانب دیکھا۔اتنا سب کہہ دینے کے بعد اسے کم از کم اس جملے کی توقع ہر گز نہیں تھی۔وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا معنوں جواب کا منتظر ہو،پھر آہستگی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔قانِتہ نے کوئی مزاحمت نہ کی۔وہ بس خالی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی۔
”تمہیں چوٹ لگی ہے،اس لیے چھٹیوں کا کہہ رہا تھا۔“اس نے محض اپنی کہی بات کی وضاحت دی۔قانِتہ کے کہے کسی جملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔
”جانتا ہوں کہ تم اپنے پرنٹس کی وفات کی وجہ سے اپ سیٹ ہو۔“کمرے میں پھیلی تیز جھلساتی ہوئی روشنی کچھ ٹھنڈی پڑنے لگی۔قانِتہ کے کندھوں سے معنوں ایک بوجھ اترا۔اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے۔
”آرام کرو،میں کھانا بھجواتا ہوں۔“اس کے ہاتھ پر دباؤ دے کر کہا اور کمرے سے چلا گیا۔
غزوان کے جانے کے بعد وہ نڈھال سی پیچھے کی جانب گری۔اسے یہ سب نہیں کہنا تھا مگر وہ کہہ بیٹھی تھی۔زخم تھے کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
اس نے تھکان سے آنکھیں موند لیں،پلکوں پر نمی آ ٹھہری۔چہرے پر سوچوں کا ہجوم تھا۔دل افسردہ سا تھا۔اتنی مشکل سے تو سب ٹھیک ہوا تھا۔اتنی مشکل سے تو وہ زندگی کی طرف لوٹی تھی اور ایک اور سماک اسے اندھیروں میں دکھیلنے کے لیے آ گیا تھا۔ماضی دیمک کی طرح اس کے وجود کو کھا رہا تھا۔اس کی زندگی کی ساری خوشیوں کو بےدردی سے نچوڑ رہا تھا۔
محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی
یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوپن کچن کے ساتھ جڑے ہوئے لاؤنچ کا ہر کونا سکون کا احساس دلا رہا تھا۔وہ آرام دہ حالت میں صوفے پر بیٹھی کچن میں کام کرتی طیبہ مورے سے وقتا فوقتاً کوئی نہ کوئی بات کر رہی تھی۔درحقیقت بات کا آغاز وہیں کرتیں،وہ بس جواب دیتی۔
نہایت پُرسکون ماحول میں اچانک تیز آندھی کا گمان ہوا۔اس کا شوہر نامدار ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے دھپ سے اس کے پہلو میں آ بیٹھا۔قانِتہ کا چہرہ خفت اور غصے سے سرخ پڑنے لگا۔ہر جگہ اس شخص کا آنا ضروری تھا کیا؟
”کیا بات ہے جناب؟بڑی دوستی ہو گئی ہے ساس بہو میں۔“اس نے ایک گھونٹ بھرا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا دی۔قانِتہ کی حالت قدرے بہتر تھی مگر پلاستر ابھی بھی چڑھا ہوا تھا۔شاید وہ ٹھیک ہونا ہی نہیں چاہتی تھی۔
”ساس کسے کہا؟میں مورے ہوں قانِتہ کی۔“طیبہ کی تنبیہہ پر وہ عش عش کر اٹھا۔
”میری مورے پر کیا جادو چلایا ہے پری وش؟“غزوان نے شرارت بھری سرگوشی کی پھر اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا لیں۔قانِتہ نے ضبط سے آنکھیں میچیں۔چہرہ ایک بار پھر سرخ پڑا۔اس کے چہرے پر فلحال شرم نہیں غصے کے تاثرات غالب تھے۔
”ہاتھ چھوڑو۔“وہ دبا دبا سا غرائی مگر وہ غزوان ہی کیا،جو اثر لے جائے۔اس نے گرفت مضبوط کر دی۔قانِتہ بےبسی سے سرد آہ بھر کر رہ گئی۔
”ویسے قانِتہ،تمہیں دیکھ کر نہ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے اپنی ہی برادری کی ہو۔“طیبہ کے بے ساختہ کہے جملے پر اس کی چلتی سانسیں رکنے لگیں۔چہرہ سفید پڑنے لگا۔اس نے تو اپنی زبان،اپنا لہجہ،پہننے اوڑھنے کا طریقہ یہاں تک کہ ہر چیز ہی بدل ڈالی تھی پھر بھی……کیا وہ پھر بھی پٹھان لگتی تھی؟
اصل سے پیچھا چھڑانا اتنا آسان تو نہ تھا۔وہ جتنا اپنے ماضی سے دور بھاگتی تھی،اتنا ہی اس کا ماضی اس کے قریب آ جاتا تھا۔نجانے اس کے حال اور ماضی کے درمیان کون سی مقناطیسی طاقت تھی جو وہ جدا ہو ہی نہیں پا رہے تھے۔
”نہیں مورے،قانِتہ پٹھان نہیں ہو سکتی۔“غزوان کا وثوق سے کہا جملہ فلحال اس کے جھلستے وجود پر کسی ٹھنڈی پھوار کی مانند پڑا تھا۔رکتی سانسیں واپس بحال ہوئی تھیں۔ہر چیز تو وہ تبدیل کر چکی تھی،پھر کیسے ممکن تھا کہ کوئی یہ بھید جان لیتا؟اسے کچھ تسلی ہوئی۔
”ہاں،وہ تو مجھے پتا ہے۔میں نے تو بس قانِتہ کی سرخ و سفید رنگت دیکھ کر کہا تھا۔“انہوں نے گو کہ اپنی بات ہوا میں اڑائی۔قانِتہ کو کچھ اور حوصلہ ہوا۔
”ویسے آپ کے اور پاپا کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا ہے کیا؟صبح سے موڈ آف ہے ان کا۔“
”بس وہی روز کا۔“طیبہ مورے نے تاسف سے سر جھٹکا۔
”پاکستان جانے کا کہا تھا میں نے۔موڈ آف کر کے بیٹھ گئے ہیں۔میرے رشتے دار ہیں وہاں۔سارا بچپن ان گلیوں میں گزارا ہے،ایسے کیسے چھوڑ دوں؟سوارہ کی رسم سے چڑتے ہیں بس۔“قانِتہ کو اپنا دل ہتھیلی پر دھڑکتا ہوا محسوس ہوا۔اس نے سختی سے اپنے ناخن صوفے میں گاڑ دیے۔چہرے کی رنگت تبدیل ہونے لگی۔
”آپ سمجھائیں ناں انہیں کہ اب ایسا کچھ نہیں ہوتا۔“غزوان نے ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی ماں کا ساتھ دیا۔سالوں پہلے جھگڑے کے بعد جب وہ لوگ بارسلونا آئے تو جہانزیب نے پانچ سال تک طیبہ کو وہاں جانے نہ دیا۔اس کے بعد طیبہ ضد کر کے ایک دو سال کے وقفے سے وہاں جاتی رہی تھیں مگر غزوان کو وہاں جانے کی اجازت ہر گز نہیں ملی تھی۔
”ہوتا ہے یا نہیں ہوتا،ہمیں اس سے کیا؟بیٹا،ہر جگہ کی اپنی روایات ہوتی ہیں۔یہ تو ہم بیرون ملک میں رہ رہے ہیں۔پڑھے لکھے ہیں،ہمیں شعور ہے اس لیے یہ سب سمجھتے ہیں۔وہ نہیں سمجھتے۔ان کے لیے سب نارمل ہے۔اگر تم یا میں،کوئی بھی انہیں اس ظلم سے روکنے کی کوشش کرے گا یا کچھ سمجھائے تو وہ الٹا مذاق اڑائیں گے۔ان کے نزدیک وہ بالکل ٹھیک کر رہے ہیں۔“طیبہ کام سمیٹ کر اب سنگل صوفے پر آ بیٹھی تھیں۔ان کی نظر اب سن بیٹھی قانِتہ پر پڑی تھی۔
”قانِتہ،کیا سوچ رہی ہو؟“انہوں نے گویا اس کی رگتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔کیا اس کے تاثرات سے وہ اندر کا حال جاننے لگی تھیں؟نہیں،ہر گز نہیں…….اس راز کو راز کو ہی رہنا تھا۔اس کا بھید ایسے نہیں کھل سکتا تھا۔
”یہی کہ سوارہ کیا ہوتا ہے؟“اس نے لاعلمی ظاہر کی۔اسے یہی کرنا چاہیئے تھا۔
”سوارہ ایک رسم ہے۔جس میں کسی قتل کے بدلے خون بہا کے طور پر لڑکی دی جاتی ہے۔لڑکی کی عمر زیادہ تر آٹھ سے چودہ سال کے درمیان ہوتی ہے اور……“ابھی طیبہ نے جملہ بھی مکمل نہیں کیا تھا کہ بارسلونا کی سرزمین سے قہقہوں کی آواز ٹکرائی تھی۔وہ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر گردن پیچھے پھینکے ہنستی ہی چلی جا رہی تھی۔پلکوں پر بہت سی نمی آ کر منجمد ہو گئی۔
”افف آنٹی،کتنا ہنساتی ہیں آپ۔آٹھ سال کی عمر میں شادی…..“قہقہ فلک شگاف تھا۔طیبہ اور غزوان ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہے تھے۔
”یہ سب جھوٹ ہے۔ایسا کچھ نہیں ہوتا۔یہ اکیسویں صدی ہے۔یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔غزوان کیا تم مجھے کمرے میں لے جاؤ گے؟میں یہاں بیٹھی بیٹھی تھک گئی ہوں۔“غزوان پہلے بوکھلایا پھر اسے اٹھنے میں مدد دی۔طیبہ کا موڈ البتہ آف ہو چکا تھا مگر انہوں نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ وہ ساری زندگی باہر پلی بڑی ہے۔اس کی بے یقینی جائز ہے۔
غزوان اسے سہارا دے کر اندر لے جا رہا تھا۔درحقیقت اس نے سارا وزن غزوان پر ہی ڈال رکھا تھا۔پیر بری طرح لرز رہے تھے۔چہرے پر ایک کے بعد دوسرا رنگ آ کر گزر رہا تھا۔
”تمہیں اس طرح نہیں ہنسنا چاہیئے تھا۔“اسے لیٹنے میں مدد دیتے ہوئے غزوان نے کچھ خفگی سے کہا۔
”ہنسنے والی بات تھی تو ہنسوں گی ہی ناں۔مجھے ان سب فضولیات پر یقین نہیں ہے۔“اس نے نخوت سے سر جھٹکا۔
”جو بھی ہے،وہ میری مورے ہیں۔کچھ خیال کیا کرو۔“یہ بحث شاید لمبی چلتی،اگر غزوان کو عین موقع پر کال سننے کمرے سے باہر نہ جانا پڑتا۔
غزوان کا فلحال یہاں سے جانا قانِتہ کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔وہ ٹوٹی بکھری سی حالت میں بستر پر لیٹی چھت کو گھورنے لگی تھی۔
اچانک ایک پرانی آواز اس کے کانوں میں گونجی۔
”تم زخرف ہو؟“کمرے میں اسے سائے چلتے محسوس ہوئے۔ہر طرف اندھیرا چھانے لگا۔
”کس کا بچہ ہے یہ؟“ایک اور آواز……ایک سایہ تیزی سے اس کی جانب بڑھنے لگا۔وہ ہلنا چاہتی تھی،بھاگنا چاہتی تھی مگر وجود شل ہو گیا۔
”بے حیا……“سایے نے ایک برچھی اس کے سینے میں اتاری۔وہ تکلیف کی شدت سے پھڑپھڑانے لگی۔کچھ بولنے کی سعی میں لب ہلے مگر تمام تر الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے۔
”اختر جو کہہ رہا ہے، کیا وہ سچ ہے؟“سائے نے برچھی اندر تک پیوست کی،ساتھ ایک چابک کھینچ مارا۔ان کی سرخی مائل آنکھوں سے آنسو کی ایک لڑی بہہ نکلی۔
”میں اس بے حیائی کی پوٹلی کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا۔اسے واپس اس کے گھر بھیجیں۔“اب کی بار تلوار چلائی گئی تھی۔اس کے اعتماد کا خون کیا گیا تھا۔سانسیں تیز ہوتی گیئں،بےترتیب،بےقابو…….
”جاؤ زخرف، میں نے تمہیں آزاد کیا۔دفع ہو جاؤ۔“ایک آخری وار،سب سے خطرناک وار……زخرف فاطمہ کے لبوں سے سسکاری بلند ہوئی۔سائے نے اسے مار دیا۔زخرف کی ہستی کو مٹا دیا۔اس کی روح کھینچ نکالی۔
وہ جب بھی سوارہ کی رسم کے متعلق کچھ سنتی تھی تو کھوکھلے قہقہوں میں اپنی بےبسی،اپنا خوف چھپا لیتی تھی مگر گھر لوٹنے کے بعد……گھر لوٹنے کے بعد وہ ایسے ہی بکھر جاتی تھی۔زخم مندمل پڑتے تھے مگر لوگ پھر کرید دیتے تھے۔اس کا ماضی ہر وقت ایک خوفناک اژدھے کی صورت میں اس کے سامنے پھن پھیلائے کھڑا رہتا تھا۔محسوس ہوتا تھا وہ کسی بھی وقت اسے نگل جائے گا۔سالوں پہلے وہ زخرف کو نگل گیا تھا اور اب سالوں بعد قانِتہ کو……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی برق رفتاری سے ہائی وے پر دوڑ رہی تھی۔آسمان پر سرخی مائل نیلاہٹ تھی۔دور کہیں اوپر پرندے گروہ کی صورت میں اڑ رہے تھے۔گاڑی کے اندر ائیر فریشنر کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
ڈرائیونگ کرتے ہوئے قتادہ کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ تھی جبکہ ساتھ بیٹھی غانیہ بے چینی سے بار بار پہلو بدل رہی تھی۔
”قتادہ اب بس کر دیں، بتائیں کہاں جا رہے ہیں ہم؟“قتادہ نے لمحہ بھر کو اس کی جانب دیکھا پھر پراسرار مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی اور کندھے اچکا دیے۔
غانیہ نے گہری سانس بھری اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
خنک ہوائیں اس کے چہرے سے ٹکراتی تازگی کا احساس بخش رہی تھیں مگر اندر ایک کھلبلی سی مچی تھی۔
”ذرا سا ہنٹ ہی دے دیں۔“اس نے دو انگلیوں کے درمیان کم فاصلہ رکھ کر پوچھا،گو کہ ناپنے کا اشارہ ہو۔
قتادہ سر جھٹک کر ہنس دیا۔
”حد ہے۔“وہ ہار مانتی ہوئی سیٹ پر تقریباً گری۔کافی دیر خاموشی رہی پھر غانیہ نے گاڑی کو اس سمت مڑتے دیکھا جہاں سے پہاڑی سلسلے نظر آ رہے تھے۔سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپنے لگا۔منظر مزید دلکش ہونے لگا۔
”پہاڑوں کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟کیا کوئی ٹرپ ہے یا……“
”شش…..“قتادہ نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کی ہدایت دی مگر غانیہ نے ان سنی کر دی۔
”مجھے پہاڑ پسند ہیں۔میری ساری زندگی پہاڑوں کو دیکھتے،ان کے درمیان گزری ہے مگر……“اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ایک ساتھ بہت کچھ یاد آیا۔اپنی معذوری،ماں،سماک،زخرف اور پھر نوراں……دل میں درد سا اٹھا۔اس نے نگاہیں ایک بار پھر کھڑکی سے باہر نظر آتے پہاڑوں پر جما لیں۔تند ہوائیں اب تپش زدہ محسوس ہونے لگیں۔
قتادہ نے گاڑی ایک کھلے وسیع احاطے کے سامنے روک دی۔غانیہ کی نگاہیں سامنے موجود بورڈ پر پڑیں پھر کھلے میدان میں اسکائی ڈائیونگ کی تربیت لیتی لڑکیوں پر پھر دور کھڑے چھوٹے سائز کے جہاز پر……یہ ایک اسکائی ڈائیونگ اکیڈمی تھی۔چہرے کا رنگ پل میں متغیر ہوا۔اس نے مڑ کر شاک کی کیفیت میں قتادہ کی جانب دیکھا،وہ مطمئن تھا۔
”یہ…..یہ…..“غانیہ کی سانس اٹکی۔
”اگر قدرت خواب پورے کرنے کا موقع دے تو اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینا بیواقوفی ہے۔“وہ بہت نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا۔
”لیکن میں معذور……“
”تم خاص ہو غانیہ جیسے ہزار سفید پھولوں کے درمیان ایک سرخ گلاب…..اپنے خواب دفن مت کرو۔یہ اکیڈمی بھی خاص ہے۔تمہارے خوابوں کو اڑان دے گی۔بس تمہیں ایک قدم بڑھانا ہے۔“غانیہ نے آنکھیں بند کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔وہ اب اپنا آپ تصور کر رہی تھی۔پہاڑوں پر بھاگنا،چوٹی پر کھڑے ہو کر بادلوں کو چھونا،آسمان میں اڑنا……
اس نے آہستگی سے آنکھیں کھول دیں۔بقا کی جنگ تو اس نے بھی لڑی تھی۔اس معذوری کے ساتھ اس نے اتنے سال سروائیو کیا تھا تو پھر اپنے خوابوں کو پورا کرنے میں کیسی قباحت؟
خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ
اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارسلونا میں طلوع ہوا صبح کا سورج کھڑکی سے اندر جھانک رہا تھا۔قانِتہ بستر پر نیم دراز گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔غزوان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا۔وہ ہاتھ میں ٹائی تھامے شیشے میں خود کو بغور دیکھ رہا تھا۔
”تم نے کل یہ کیوں کہا کہ میں پٹھان نہیں ہو سکتی؟“اس کے بے ساختہ سوال پر وہ چونکا پھر گردن ہلکی سی موڑ کر اسے دیکھا۔”کیونکہ اگر تم پٹھان ہوتی تو کبھی مجھ سے شادی نہ کرتی۔“وہ اب بالوں کو برش کر رہا تھا۔چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
”کیوں؟“قانِتہ کچھ بے چین ہوئی۔
”کیونکہ ہم پٹھانوں کی دوستی اچھی مگر دشمنی بہت بری۔مجھے بار بار دھتکار کر تم میری انا کو اچھی خاصی ٹھیس پہنچا چکی ہو۔سونے پر سہاگہ تم نے مجھ سے ہی شادی کر لی۔اگر دھوکہ دے دوں تو؟“خود پر پرفیوم چھڑکنے کے بعد وہ اب اپنا کوٹ پہن رہا تھا۔
قانِتہ نے ٹھہر کر اسے دیکھا۔اندر دل کے کسی گوشے میں عجیب سا درد اٹھا۔ایک عجیب سی ٹیس…….
”تو میں کیا کر سکتی ہوں؟بس تھوڑا جلدی دینا۔رشتہ جتنا پرانا ہو،تکلیف اتنی زیادہ ہوتی ہے۔“اس نے تھک کر ٹیک لگا لی۔اس کے پاس تو کوئی رشتہ نہیں بچا تھا،اگر وہ بھی چھوڑ دیتا تو کیا ہو جاتا؟اس کی زندگی میں کیا تبدیلی آ جاتی؟کچھ بھی نہیں……پھر بھی دل میں درد سا ہوا تھا۔اندر ہی اندر وہ یہ چاہتی تھی کہ غزوان اسے دھوکہ نہ دے۔وہ اسے اس طرح نہ چھوڑے۔اعتماد نہیں تھا اس رشتے پر،بس محبت کے ان دعووں کا پاس تو رکھنا چاہیے ناں اسے۔
”میں خود چھوڑ دوں گیئں تمہیں۔“اس نے سوچ کر خود کو تسلی دی۔ہاں،وہ یہی کرے گی۔غزوان اور اپنی زندگی برباد نہیں کرے گی۔بہت جلد اس بندھن سے رہائی حاصل کر لے گی۔
”مگر میں سوچ چکا ہوں،جب تک تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہو گی تب تک دھوکہ نہیں دوں گا۔“وہ شرارت سے کہتا اس تک آیا تھا۔وہ سر جھٹک کر ہنس دی تھی۔
”محبت نہیں ہو گی تم سے،کبھی نہیں۔“اس کا لہجہ پُرعزم تھا۔محبت بار بار تھوڑی ہوتی ہے؟اسے دوبارہ محبت نہیں کرنی تھی۔
”ہو گی۔تم دیکھنا،شدید والی ہو گی۔“وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس آ بیٹھا۔نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں تک لے گیا۔قانِتہ نے کوئی مزاحمت نہ کی۔یہ لمس تحفظ دے رہا تھا۔احترام دے رہا تھا۔بہت ڈھونڈنے پر بھی اسے غزوان کی نگاہوں میں فلحال کوئی مفاد نظر نہ آیا۔
”پھر دھوکہ دے دو گے تم مجھے؟“سرمئی آنکھوں نے ایک امید سے پوچھا تھا۔
”نہیں،ساری زندگی کے لیے قید کر لوں گا۔“اس نے اپنائیت سے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالا۔قانِتہ کئی لمحہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔اس کی گہری آنکھیں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ بس ایک موقع دے دو۔ایک بار اعتبار کر کے دیکھ لو۔دھوکہ نہیں دوں گا مگر سرمئی آنکھوں میں بے اعتباری کی پٹی بندھی تھی۔اسے ایک اور سماک کو اپنی زندگی تباہ کرنے کا حق نہیں دینا تھا۔کہاں لکھا ہے کہ اگر پہلی شادی ناکام ہو جائے تو دوسری کامیاب ٹھہرتی ہے؟دوسری بھی ناکام ہو سکتی ہے۔
”اگر میں تم سے کچھ مانگوں تو دو گے؟“
”حکم کیجیے۔“وہ اپنا سب کچھ اس پر وارنے کو تیار تھا مگر اس سب میں قانِتہ کو جو چاہیئے تھا،وہ غزوان کی جان تھی۔
”مجھے طلاق چاہیئے۔“اس نے پُرسکون انداز میں اپنا مطالبہ اس کے سامنے رکھا تھا۔غزوان کے لبوں پر ٹھہری مسکراہٹ نہ صرف سمٹی تھی بلکہ آنکھوں کے جوت بھی مدھم پڑ گئے تھے۔وہ کچھ شاک اور بے یقینی کی کیفیت میں قانِتہ کو دیکھ رہا تھا۔شاید اسے سننے میں غلطی ہوئی تھی یا پھر……
”اگر عزت سے طلاق نہیں دو گے تو ہنگامہ کروں گیئں۔تمہارے والدین کو بے عزت کروں گیئں۔تمہارا ذہنی سکون برباد کر دوں گیئں پھر بھی نہیں دو گے تو خلع لے لوں گیئں۔“وہ سنجیدہ تھی،بےحد سنجیدہ…… غزوان کو اپنا دماغ سائیں سائیں کرتا محسوس ہوا۔وہ کیا اور کیوں کہہ رہی تھی؟کیا یہ کوئی مذاق تھا یا پھر……اس کا ذہن مفلوج ہو گیا۔
