Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode10)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode10)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
باب نمبر 2: دو بول
(اندلس)
وہ سرزمین جہاں اذانیں گونجتی تھیں
جہاں مسجد قرطبہ کی محرابوں نے مقدس وعدے سنے تھے
جہاں گوادالکویر کے بہتے دریا نے سجدوں کی نمی کو محسوس کیا تھا
جہاں مسجدوں میں کبھی چراغ جلتے تھے
جہاں ابن راشد نے قلم اٹھایا تھا
یہیں ایک دن غرناطہ رویا تھا
تاریخ میں سسکیاں اور آہیں مدفن ہوئی تھیں
آج وقت کے سینے پر ایک نئی داستان لکھی جا رہی تھی
اندلس کی گلیاں ایک نئے عہد کی گواہ بننے والی تھیں۔
(کوردوبا)
دوپہر کی نرم دھوپ گوادالکویر دریا کے پانی پر نرم کرنیں بکھیر رہی تھی۔ہلکی سی ہوا زیتون کی شاخوں کو ہلا رہی تھی،دور کہیں چرچ کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔قانِتہ اپنے والدین کے ساتھ بے دلی سے دریا کے کنارے ٹہل رہی تھی۔محمود اسے بتا چکے تھے کہ وہ اس کے لیے ایک لڑکے کو پسند کر چکے ہیں اور وہ راتوں رات اس لڑکے کو بھگانے کا بندوبست کر چکی تھی۔کوردوبا(قرطبہ) اس کا پسندیدہ شہر تھا مگر یہاں آ کر دل ہمیشہ اداس ہو جاتا تھا۔نجانے کیوں یہاں کی ہوا میں اتنی سوگواریت گھلی تھی۔یہی وہ جگہ تھی جہاں ایک وقت میں مسلمانوں کا راج تھا اور آج…..آج مسلمانوں کے تمام مقدس مقامات عیسائیوں کے قبضے میں تھے۔
اس نے گہری سانس لی اور اڑتے بالوں کو سمیٹنے کی کوشش کرنے لگی،جب نگاہ پل سے آتے اس شخص پر ٹھہر گئی۔اس نے تین بار آنکھیں جھپکائیں مگر چہرہ وہی تھا۔ہاں،وہ وہی تھا۔وہ یہاں بھی اس کا پیچھا کر رہا تھا۔قانِتہ کا چہرہ پل بھر میں سرخ پڑا۔”آج اس کی خیر نہیں۔“وہ خطرناک تیور لیے اس جانب بڑھنے لگی جب محمود کی آواز پر قدم روک دیے۔
”ارے جہانزیب……“دونوں دوست مسکرائے اور پھر گرمجوشی سے بغلگیر ہوئے۔مسز جہانزیب اور مسز محمود بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر بےحد خوش تھیں۔اگر کوئی خوش نہیں تھا تو وہ غزوان اور قانِتہ تھے۔غزوان آنکھیں پھیلائے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ قانِتہ پھاڑ کھانے والی نگاہوں سے…..
”تو کیا پاپا نے قانِتہ کو میرے لیے…..“حیرت کی جگہ خوشی نے لے لی۔وہ تو یہاں صرف انکار کرنے آیا تھا مگر اب ارادہ یکسر تبدیل ہو چکا تھا۔دل ایک بار پھر جھومنے لگا تھا۔اس نے قانِتہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے قدم پیچھے ہٹائے تھے اور اب اسے صبر کا اجر ملا تھا۔جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ کچھ دلچسبی سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ قانِتہ کا دل چاہا کہ ان آنکھوں کو نوچ ڈالے۔
دفعتاً جہانزیب کی نظریں قانِتہ پر آ ٹھہری تھیں۔وہ اسے پہچان گئے تھے۔انہوں نے ایک نظر قانِتہ کی جانب دیکھا اور دوسری نگاہ غزوان کی جانب……ان کا بیٹا ہمیشہ انہیں شرمندگی سے دوچار کرواتا تھا۔
تعارف کے بعد محمود نے بہانے سے قانِتہ کو غزوان کے ساتھ بھیجا تھا۔وہ ساری صورتحال سے لاعلم تھے۔قانِتہ کو بھی اس ہی موقع کا انتظار تھا تا کہ وہ غزوان کا بندوبست کر سکے۔وہ دونوں چلتے چلتے اب تھوڑا دور آ کھڑے ہوئے تھے۔
”سو ڈھیٹ مریں ہوں گے اور ایک تم پیدا ہوئے ہو گے۔“غزوان نے سینے پر ہاتھ رکھے،سر کو خم دیے داد قبول کی تھی۔
”چال تو اچھی چلی ہے تم نے مگر شادی پھر بھی نہیں کروں گیئں تم سے۔“
”یقین کرو پری وَش،میں نہیں جانتا تھا کہ پاپا کے دوست کی بیٹی تم ہو گی۔لیکن سچ میں یہ جان کر بےحد خوش ہوں۔“شرارتی نگاہیں اس کے سرخ چہرے پر جمی تھیں۔
”ڈیڈ تمہیں لے کر کچھ زیادہ ہی سیریس ہیں۔انسانوں کی طرح انکار کر دو۔“دانت کچلاتے ہوئے اسے دھمکی دی۔غزوان نے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے پیچھے کیا اور قانِتہ کے تھوڑا قریب ہوتے مدھم سی سرگوشی کی۔
”میں جانوروں کی طرح اقرار کرنا پسند کروں گا۔“وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔دل ہتھیلی میں دھڑکتا ہوا محسوس ہوا۔
”میں تمہارا منہ توڑ دوں گیئں۔“انگلی اٹھا کر دھمکی دی گئی۔
”میں ایلفی سے جوڑ لوں گا۔“کمال بے نیازی تھی۔
”یعنی تم انکار نہیں کرو گے؟“
”میں ایک شریف مشرقی مرد ہوں۔ماں باپ کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم۔“اس کی تابعداری دیکھ کر قانِتہ جل کر بھسم ہونے لگی۔وہ آگ پر تھوڑا تھوڑا پیڑول چھڑکتتا جا رہا تھا۔
”نہایت گھٹیا انسان ہو تم۔“وہ بےبسی سے صرف اتنا کہہ سکی۔
”پھر شادی کی تاریخ کب کی رکھیں؟“قانِتہ دانت کچلا کر رہ گئی۔(آہ! یہ انسان)
”پتھر سے سر پھوڑ رہے ہو۔“عقل دلانے کی آخری کوشش کی گئی۔
”جب تک چشمہ نہیں پھوٹے گا،تب تک پھوڑتا رہوں گا۔“عجیب سا سکون تھا اس کے چہرے پر،لمحہ بھر کو وہ ساکت ہو گئی،پھر نگاہیں چرائیں اور چہرے سے بال ہٹانے لگی۔
”لہولہان ہو جاؤ گے۔“دریا کے پانی پر منعکس ہوتی شعاعوں کو دیکھتے اس نے تھکی تھکی آواز میں کہا۔
”تمہارے بال اپنے ہاتھوں سے سنوارنے کے لیے یہ بھی منظور ہے۔“وہ ٹھٹھکی،پھر غزوان کو دیکھا،فورا نگاہیں چرا لیں۔کیا تھا ان آنکھوں میں جو اس کا پتھر دل دھڑکنے لگا تھا۔ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی پھر جھرجھری لی اور غزوان کی جانب دیکھا۔
”میں تم سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں مگر میری چھ شرائط ہیں۔“
”مجھے منظور ہیں۔”خوشی سے اس کی بانچھیں کھل گئیں۔وہ اتنی جلدی مان جائے گی،یہ غزوان نے سوچا بھی نہیں تھا۔
”ہم سات دنوں کے لیے کوردوبا آئے ہیں، چھ دن اور چھ شرائط……اگر تم ایک بھی شرط پوری نہ کر سکے تو ساتویں دن خود انکار کرو گے۔منظور ہے؟“اس کے دماغ نے اپنی جانب سے بڑی اچھی چال چلی تھی۔
”اگر میں نے پوری کر دیں تو؟“وہ چیلنجنگ انداز میں گویا ہوا۔
”تو پھر میں شادی کے لیے ہاں کر دوں گیئں۔“
”نہیں جانان،مجھے تم پر رتی برابر اعتبار نہیں۔“غزوان نے تاسف سے نفی میں سر ہلایا۔قانِتہ کے ماتھے پر بل پڑے۔
”اگر میں نے شرائط پوری کر دیں تو ہم ساتویں دن نکاح کریں گے۔اگر تم نے انکار کیا تو میں سچ مچ تمہیں اغواء کر کے تم سے زبردستی شادی کروں گا اور تم بخوشی اغواء ہو جاؤ گی۔منظور ہے؟“وہ قانِتہ سے اسے اغواء کرنے کی اجازت لے رہا تھا۔وہ لمحہ بھر کو کچھ بول نہیں سکی۔پھر گہری سانس لی اور خشک لبوں پر زبان پھیری اور خود کو تسلی دی۔
”منظور ہے۔“سوچ چکی تھی کہ اسے غزوان سے ایسے کام کروانے ہیں جو وہ چاہ کر بھی نہ کر سکے۔غزوان مسکرا دیا۔
گوادالکویر دریا خاموشی سے ان کی گفتگو سن رہا تھا۔ہر لہر ہر لفظ کو حفظ کرنے لگی تھی۔دونوں کی نگاہیں روشنی کی تمازت سے چمک رہی تھیں۔دو آنکھیں مستقبل کے حسین خواب بن رہی تھیں جبکہ دو آنکھیں ان خوابوں کو توڑنے کی سازش رچ رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے وقت نیلے آسمان پر دھند کی دبیز تہہ جمی ہوئی تھی۔درختوں کے پتوں پر ٹھہری شبنم کی بوندیں گہری اداسی کا احساس دلا رہی تھیں۔بستی میں ابھی چولہوں سے دھواں نہیں اٹھا تھا۔راستے سنسان تھے۔
اس خاموشی اور ٹھنڈ میں وہ چوکی پر بھیگی بیٹھی تھی۔ہاتھوں پر سردی سے سرخی جھلک رہی تھی۔وہ کپڑوں کو پتھر پر پٹختے عمیق سوچوں میں گم تھی۔
”نجانے اختر اب کیا کرے گا؟“سانسوں سے نکلتی بھاپ ہوا میں تحلیل ہونے لگی۔ہاتھ لمحہ بھر کو رکے،پھر چادر کے کنارے سے آنکھ کی نمی صاف کی اور دوبارہ کام میں جت گئے۔
”یا اللہ!“پیٹ میں ایک بار پھر درد اٹھا۔سر ایک بار پھر چکرایا۔طبیعت سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
”اے زخرف،کپڑے دھلے کہ نہیں؟“کرخت آواز پر وہ سہم کر سیدھی ہوئی پھر تمام تر درد بھلائے فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
”جی بس ہو گیا۔“ہاتھ پیشانی پر پھیرتے اس نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔یہ صبح خوبصورت تو تھی مگر اس میں ایک الگ سا بوجھ تھا،معنوں فطرت اس سرمئی آنکھوں والی چڑیا کے غم میں شریک ہو۔
”ایک گھنٹے سے کپڑے نہیں دھلے تجھ سے۔بچے ہم نے بھی پیدا کیے ہیں۔یہ ڈرامے بازیاں نہیں چلیں گیئں۔جلدی دھو اور چھت پر ڈال کر آ۔“وہ ٹھٹھکی پھر تشویش کن نگاہیں بیگم جان پر جمائیں۔
”میں…..؟“
”نہیں تو پھر میں؟“وہ الٹا اس پر برسی۔زخرف نے نگاہیں جھکائے لب سل لیے۔جب کپڑے دھو لیے تھے تو چھت پر بھی وہ ڈال ہی آئے گی۔
”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟جلدی چلو،اختر کا کل رات ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔شہر والے ہسپتال لے کر گئے ہیں،جلدی چلو۔“سِمَاک کے والد نے اپنی بیگم کو بڑی تشویش کن حالت میں اطلاع دی تھی۔بیگم جان کا ہاتھ بے اختیار سینے پر جا رکا تھا۔”ہائے اللہ!کیسے ہوا ایکسیڈینٹ؟“انہوں نے فکرمندی سے پوچھا۔
”شاید ہماری طرف آ رہا تھا جب گاڑی سے ٹکر ہو گئی۔“
”رات کے وقت وہ یہاں کیا کرنے آ رہا تھا؟“زخرف نے دونوں ہاتھوں سے شرٹ کو زور سے پکڑا،نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔دل زور سے دھڑکنے لگا۔
”مجھے کیا معلوم؟جا کر پتا چلے گا۔چلو جلدی چلو۔“بیگم جان تیز تیز قدموں سے ان کے پیچھے چل دیں۔
”زخرف،کھانا وقت پر بنا لینا۔“جاتے جاتے انہوں نے آخری ہدایت دی۔
وہ کافی دیر اپنے سرد پیروں پر نگاہیں جمائے کھڑی رہی پھر اس نے آہستگی سے سر اٹھایا اور آسمان کی جانب دیکھا۔لب ہلکے سے مسکرائے اور آنکھ کے گوشے سے ایک آنسو بہہ نکلا۔کچھ نہ کہہ کر بھی اس نے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔
”کس نے کہا تھا کہ وہ کسی کی نہیں سنتا؟بےشک وہ سب کی سنتا ہے۔“
سب کے جانے کے بعد گھر پر اب تین لوگ بچے تھے۔زخرف،غانیہ اور نوراں…… کپڑوں کی بالٹی فرش پر رکھے وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔چھوٹی سی نوراں پہلی سیڑھی پر بیٹھی تھی جبکہ زخرف اور غانیہ اس کے پاس کھڑے تھے۔
”میں لے جاؤں گیئں زخرف!“غانیہ نے دس بار دہرایا گیا جملہ ایک بار پھر دہرایا تھا۔
”نہیں!میں لے کر جاؤں گیئں۔“وہ بضد تھی۔
”تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے،تم رہنے دو۔“
”یہ بھاری ہے غانیہ، آپ نہیں اٹھا سکتیں۔“وہ دونوں ایک دوسرے کو نام سے ہی پکارتے تھے۔رشتہ ہی کچھ عجیب سا تھا۔
”ضد مت کرو۔“غانیہ نے کچھ سختی سے کہا۔
”میں آپ کی مورے ہوں،آپ کو میری بات ماننی پڑے گی۔“زخرف نے گردن اکڑا کر رشتہ جتایا۔غانیہ لمحہ بھر کو اپنی چھوٹی سی ماں کو دیکھتی ہی رہ گئی پھر تیوری چڑھا کر گویا ہوئی۔
”میری مورے صرف ایک ہی ہیں،کسی اور کو یہ درجہ نہیں دوں گیئں اور تم جیسی ڈیڑھ فٹ کی سوکھی لکڑی کو تو بالکل نہیں۔“زخرف کے کانوں سے باقاعدہ دھواں نکلنے لگا۔منہ بے اختیار کھل گیا۔اسے غانیہ سے اس لقب کی توقع نہ تھی۔
”چلو نوراں،ہم اوپر چلتے ہیں۔اٹھانے دو انہیں بالٹی۔“اس نے نوراں کو گود میں اٹھایا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی گئی۔پیچھے غانیہ نے باقاعدہ اپنا سر پیٹا۔وہ اسے بالٹی اٹھانے سے روک رہی تھی اور وہ نوراں کو اٹھا کر لے گئی تھی اور وہ بھی اتنی بے احتیاطی سے……
چھت پر زخرف نوراں کے ساتھ چارپائی پر منہ پھلائے بیٹھی تھی جبکہ غانیہ تار پر کپڑے پھیلانے میں مصروف تھی۔
”ویسے شرم تو نہیں آتی تمہیں؟انسان تھوڑی مدد ہی کر دیتا ہے۔“ترچھی نگاہ سے اسے دیکھتے طنز کیا۔
”میں کیوں کروں مدد؟میں تو سوکھی ہوئی لکڑی ہوں ناں؟“اس نے منہ چڑھا کر کہا۔غانیہ دانت پیس کر رہ گئی۔
کپڑے ڈالنے کے بعد وہ چارپائی پر آ بیٹھی۔زخرف نوراں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔
”تمہیں اپنا خیال خود رکھنا ہو گا زخرف۔اس طرح اچھل کود کرنے سے تمہیں اور تمہارے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔“غانیہ نے بہت نرمی سے اسے سمجھایا۔وہ لب کترتے نگاہیں جھکا گئی۔اسے وہ بارش والا دن یاد آیا اور ساتھ سِمَاک کی ڈانٹ……وہ بھی تو اتنی نرمی سے سمجھا سکتا تھا۔اگر وہ نرمی سے سمجھاتا تو وہ کیوں اس کی بات نہ مانتی؟گلے میں کچھ اٹکا،دل بھاری سا ہو گیا۔
”میں اپنا اور بھالو کا خیال رکھوں گیئں۔“اس نے ایک عزم سے کہا۔کسی اور کو اس کی پرواہ نہیں تھی تو کیا ہوا؟وہ خود تو اپنا خیال رکھ سکتی تھی۔
”تمہیں کیسے پتا کہ بیٹا ہے؟“
”وہ تروراہ آئی تھیں ناں،انہوں نے بتایا۔“
”تم نے الٹراساؤنڈ کروایا ہے؟“
”وہ کیا ہوتا ہے؟“زخرف نے کچھ نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔
”کچھ نہیں،تم صرف بیٹے کی امید مت رکھو، ہو سکتا ہے کہ بیٹی ہو۔ان خواتین کا تجربہ ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ یہ ہر بار سچ ہو۔“
”مطلب…..؟“وہ سانس روکے اسے دیکھتی رہی۔دل ڈوب سا گیا۔
”مطلب یہ کہ بیٹی بھی ہو سکتی ہے۔“
”بیگم جان اسے اور مجھے مار دیں گیئں۔“
”تب کی تب دیکھیں گے،فلحال تم ان سے کچھ مت کہنا۔کیا تمہیں بیٹی نہیں چاہیئے؟“زخرف کچھ دیر تذبذب کا شکار ہوئی پھر اس نے جوش سے کہا۔
”اگر وہ نوراں کی طرح ہوئی تو مجھے چاہیئے۔“غانیہ مسکرا دی پھر محبت پاش نگاہوں سے نوراں کی جانب دیکھا اور جھک کر اس کا بوسہ لیا۔وہ اسے بےحد عزیز تھی۔نوراں کو غانیہ نے ہی پالا تھا۔
”بیٹی ہو یا بیٹا،میں اسے بھالو بلاؤں گیئں اور اس کا بہت خیال رکھوں گیئں۔ہم یہاں سے کہیں دور چلیں جائیں گے۔کسی خوبصورت سے شہر میں ایک اچھا سا گھر……“
”ایک منٹ،تم خواب دیکھتی ہو ناں زخرف؟“غانیہ نے پرجوش لہجے میں کہا۔زخرف نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
”میں بھی دیکھتی ہوں۔میں نے اپنے سارے خوابوں کی ایک لسٹ بنائی ہوئی ہے۔کیا تم بناؤ گی؟“اس کے اشتیاق سے پوچھنے پر زخرف نے دوبارہ اثبات میں سر ہلایا۔
”میرے کمرے میں ڈائری اور پین پڑا ہے۔میں لے کر……“ابھی جملہ مکمل ادا بھی نہیں ہوا تھا کہ زخرف نے چارپائی سے نیچے چھلانگ لگائی اور بھاگتی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی۔غانیہ نے ایک بار پھر اپنا سر پیٹا۔اس کا بچپنا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
کچھ دیر بعد غانیہ ہاتھ میں ڈائری اور قلم پکڑے بیٹھی تھی جبکہ زخرف اس کے قریب التی پالتی مارے بیٹھی گال پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔
غانیہ کے پوچھنے پر اس نے بولنا شروع کیا تھا۔
”میں شہر میں اپنا ایک گھر بناؤں گیئں جہاں میں اور بھالو رہیں گے۔میں اسکول جاؤں گیئں اور ڈھیر سارا پڑھوں گیئں۔میں اور بھالو کھیلیں گے اور اچھا اچھا کھانا کھائیں گے۔میں بارش میں کھیلوں گئیں اور مجھے کوئی نہیں روکے گا۔مجھے سمندر بھی دیکھنا ہے۔وہاں ساحل پر مٹی کا گھر بنانا ہے اور میں اور بھالو……“وہ بہت جوش سے بتا رہی تھی جب غانیہ نے اسے ٹوکا تھا۔
”تم اور بھالو…..بابا صاحب نہیں؟“یہ محض ایک سوال نہیں تھا،یہ زخرف کی زندگی کی تلخ حقیقت تھی۔چہرے پر بکھری ساری رعنائیاں مانند پڑ گئیں۔ہاتھ باہم پیوست کیے اور نگاہیں جھکا لیں۔
”کیا وہ تمہیں اچھے نہیں لگتے؟“اس کی اس طویل خاموشی سے وہ یہی مطلب اخذ کر سکی تھی۔
”پتا نہیں،وہ مجھے سمجھ نہیں آتے۔کبھی کبھار اتنے اچھے سے بات کرتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے ان سے اچھا کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور کبھی اتنی بری طرح جھڑک دیتے ہیں کہ……“آواز رندھ گئی۔گردن مزید جھک گئی۔نجانے کتنے آنسوؤں کو اندر اتارا اور سر اٹھا کر غانیہ کی جانب دیکھا۔
”وہ کہتے ہیں کہ زخرف بڑی ہو جاؤ،بچپنا چھوڑ دو۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ میرے لیے اپنے نظریات تبدیل کر لیں۔وہ میرے لیے خود کو بدل لیں۔“اس نے گہری سانس لی پھر زخمی مسکراہٹ کے ساتھ کندھے اچکا کر گویا ہوئی۔
”پہلے کہتے تھے کہ میں کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا اور تم بھی کبھی میرے لیے خود کو نہ بدلنا پھر اب پتا نہیں کیا ہو گیا ہے؟اب کہتے ہیں کہ خود کو بدل لو زخرف،بچی نہیں ہو تم اب۔“اس نے ہنس کر سر جھٹکا۔ہوا میں اداسی گھلنے لگی۔غانیہ نے اس کے ہاتھ پر دباؤ دے کر تسلی دی۔
”بابا صاحب بہت اچھے ہیں زخرف مگر تمہارے معاملے میں ان سے کوتاہی ہو گئی۔انہیں تمہیں سمجھنا چاہیے تھا۔تمہاری ڈھال بننا چاہیے تھا۔اللہ کرے کہ انہیں جلد اپنی غلطیوں کا احساس ہو جائے۔“وہ کچھ نہ بولی،بس خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔بعض اوقات اپنی اندونی کیفیات کو بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے لیے بھی یہ مشکل تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دفتر کی شیشے کی دیواروں سے چھن سے آتی روشنی میں وہ دبے قدم فائل ہاتھ میں پکڑے اندر کی جانب بڑھ رہی تھی۔لبوں پر ہلکی سی پروفیشنل مسکراہٹ تھی، جیسے این جی او ورکرز کے چہروں پر ہوتی ہے۔آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد بالآخر سیکرٹری نے اسے اندر جانے کی اجازت دے دی تھی۔سفید سوٹ کے اوپر اس نے اچھے سے دوپٹہ سر پر اوڑھ رکھا تھا۔دروازہ کھولتے ہی اس کی نگاہ سامنے سربراہی کرسی پر بیٹھے شخص پر پڑی۔وجود میں بجلی سی دوڑ گئی۔
وہ شخص مہنگے سوٹ میں ملبوس،چمچماتے جوتے پہنے،ہاتھ میرے قیمتی گھڑی کی چمک لیے میز کی دوسری جانب براجمان تھا۔وہ وہی تھا جس سے کل سڑک کنارے اس کی مد بھیڑ ہوئی تھی۔لمحہ بھر کو دل چاہا کہ یہیں سے واپس پلٹ جائے مگر وہ ددروازہ تھامے ضبط سے کھڑی رہی۔
اسد کے گلا کھنکھارنے پر قتادہ اس لڑکی کی جانب متوجہ ہوا۔ماتھے پر تیوری چڑھی،ضبط سے مٹھیاں بھینچیں اور اشارے سے اسے اندر بلایا۔وہ خاموشی سے کرسی پر آ بیٹھی۔
”کیا کام کرتی ہو تم؟“اسد نے ایک اچھے مترجم کی طرح قتادہ کے اشاروں کو ڈی کوڈ کیا۔تیسرا دانت تڑوانے کے بعد بالآخر وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ اب صرف وہی کہے گا جو قتادہ اسے کہنے کے لیے کہے گا،نہ ایک لفظ کم اور نہ ایک لفظ زیادہ۔
”سوشل ورکر ہوں۔“
”نام….؟“
”عروج…..“
”مس عروج،اور کتنی…… کمپنیوں سے سوشل ورک کے نام پر پیسے….. بٹورے ہیں؟“اسد کو ترجمہ کرتے دقت پیش آئی مگر چوتھے دانت کا سوچتے اس نے کر ہی دیا تھا۔
عروج کے ماتھے پر بل پڑے،چہرہ غصے سے دہکنے لگا۔
”آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔آتش فشاں پھٹنے کے قریب تھا۔
”یہی کہ جو لڑکی ایک چھوٹے سے بچے کی زندگی نہیں بچا سکتی،وہ کیا سوشل ورک کرتی ہو گی؟“وہ آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔دلچسب نگاہیں عروج کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔دل میں ایک عجیب سا سکون چھا گیا۔کل کی بے عزتی کا حساب پورا ہونے لگا۔
عروج کا چہرہ بالکل سرخ پڑ چکا تھا۔کانوں سے دھویں نکلتے محسوس ہوئے۔اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل کھینچ کر قتادہ کے منہ پر ماری، اور تیزی سے دفتر سے نکل گئی۔قہقہ روکنے کی سعی کرتے اسد کے کندھے ہلنے لگے۔قتادہ ساکت سا فرش پر بکھرے کاغذات اور گود میں پڑی فائل کو دیکھنے لگا۔اگلے لمحے وہ غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اور تیز تیز قدموں سے دفتر سے باہر نکلا۔راہداری میں ہی اس نے عروج کو جا لیا۔خونخوار نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑھی۔
انگلی اٹھائی مگر کیا بےبسی تھی،کچھ کہہ نہیں سکا۔
”مسٹر زہریلے،اگر فرصت ملے تو پیپرز پڑھ لینا۔کسی کے ایک عمل سے اسے جانچا نہیں جاتا۔تم جیسے امیر زادے کیا جانیں کہ کس کی کیا مجبوری ہے۔تم تو ایک بچے کو بچا کر خود کو ہیرو سمجھنے لگے اور مجھے ولن۔ایسے ہزار بچے ہر روز جیتے اور مرتے ہیں،انہیں بچانے کوئی نہیں آتا۔تو پھر قصور وار میں کیسے ہوئی؟“ایک ہی ثانیے میں اسے چت کیا اور تیزی سے آگے بڑھ گئی۔
وہ وہیں کھڑا رہا،بےحس و حرکت،کسی بت کی مانند……اسد بھاگ کر اس کی طرف آیا۔کچھ کہا،شاید کوئی تسلی یا کوئی نصیحت مگر قتادہ کے کانوں میں صرف اس لڑکی کے کہے الفاظ کی بازگشت ہوتی رہی۔
”ایسے ہزار بچے ہر روز جیتے اور مرتے ہیں،انہیں بچانے کوئی نہیں آتا۔“الفاظ تھے یا ہتھوڑے،بجتے ہی چلے جا رہے تھے۔چند لمحوں بعد اس نے خود کو چلتے ہوئے پایا پھر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے، پھر سڑک پر گاڑی دوڑاتے ہوئے۔کمپنی،اسد،عروج ہر چیز کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ذہن کے پردوں پر اب کچھ اور چلنے لگا تھا۔
سیاہ رات،ماں کی چیخیں،ہاتھ میں پکڑا فن پارہ،خون میں لپٹا باپ کا وجود،بھاگتا ہوا کم عمر لڑکا،تین درندے،ہوس بھری نگاہیں اور کبھی نہ ختم ہونے والی طویل رات……
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی،اسٹیرنگ پر جمائے ہاتھ کپکپانے لگے۔اس نے سر اسٹیرنگ سے ٹکایا۔اگلے لمحہ لبوں سے ایک سسکی آزاد ہوئی۔
”ایسے ہزار بچے ہر روز جیتے اور مرتے ہیں،انہیں بچانے کوئی نہیں آتا۔“ایک بار پھر آواز کانوں میں گونجی۔ایک اور سسکی لبوں سے آزاد ہوئی۔ہاتھ لرزنے لگے،لب رونے کی سعی میں ہلنے لگے مگر وہ رو نہیں سکا۔اسٹرینگ سے سر اٹھایا۔ایک بار پھر کوشش کی،چیخنے کی،دھاڑیں مار کر رونے کی مگر ناکام رہا۔شکست خوردہ حالت میں سر سیٹ کی پشت سے ٹکا لیا۔لب ہولے ہولے لرزنے لگے،خالی بنجر نگاہیں شیشے کے پار دور سڑک پر جمالیں۔خالی سڑک،سوگوار ہوا اور ٹوٹا ہوا قتادہ…….
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
