61K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rasam e Bandhan (Episode 36)

اس نے مستحکم انداز میں فون اٹھایا اور غزوان کو کال ملائی۔کال پہلی ہی بیل پر ریسیو کر لی گئی معنوں غزوان کی پیاسی نگاہیں اس ایک فون کال کی ہی منتظر ہوں۔

اس کے فون اٹھانے کی دیر تھی،قانِتہ نے فورا کال کاٹ کر دی اور فون ایک طرف پھینکا۔دل تیزی سے ڈھڑکنے لگا۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچ پاتی،فون اپنی پوری قوت سے تھرتھرایا تھا۔غزوان اتنی جلدی کال ریسیو اور کال بیک کرے گا،یہ اس کی سوچ کے برعکس تھا۔

وہ اب ایک کے بعد دوسری کال کر رہا تھا۔قانِتہ اس جلتی بجھتی سکرین کو دیکھ کر بہت زیادہ گھبرا گئی۔اس نے ہمت جمع کرتے فون اٹھایا پھر کچھ سوچا اور بالاخر انگوٹھے سے سکرین کو اوپر کی جانب دکھیلا اور فون کان سے لگا لیا۔

”ہیلو……“بھاری گھمبیر آواز سن کر اسے کتنا سکون ملا تھا،وہ بیان نہیں کر سکتی تھی۔

”قانِتہ……؟“قانِتہ نے آنکھیں میچ لیں۔

”آنٹی کہہ رہی ہیں کہ واپس آ جاؤ۔“اس نے ایک ہی سانس میں کہہ ڈالا۔یہ اتنا بھی مشکل نہیں تھا،ہاں یہ نہیں تھا۔

”کیا…..؟“وہ شاید سمجھا نہیں تھا یا نا سمجھنے کی اداکاری کر رہا تھا۔

”وہ…..وہ انکل تمہیں یاد کر رہے ہیں۔“اس نے اگلا جواز پیش کیا۔فون کے دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔لمبی طویل خاموشی……یہاں تک کہ قانِتہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ کال کٹ چکی ہے۔”ہیلو…..“اس نے تصدیق چاہی۔

”تم مس نہیں کر رہی مجھے؟“اس کے انداز کی تڑپ نے قانِتہ کو لمحہ بھر کے لیے کچھ کہنے کے قابل نہ چھوڑا۔

”ہاں تو تم مجھے کون سا مس کر رہے ہو؟تم تو ایسے خفا ہو کر گئے ہو جیسے آجکل لڑکیاں بھی نہیں ہوتیں۔“ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ زبان پر آ گیا۔

”تو تم نے منانے کی کوشش کی؟“اس کی زبان پر ایک بار پھر فقل لگا تھا۔اردگرد نگاہیں دوڑائے اس نے راہ فرار حاصل کرنی چاہی۔وہ اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کی آنکھوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔

”میں کیوں مناؤں؟میں نے تھوڑی کہا تھا کہ چلے جاؤ۔“ضد اور انا پھر آڑے آئی تھی۔

”یعنی میں فون رکھوں؟“

”نہیں….“اس کی زبان سے بےساختہ نکلا تھا۔

”میرا مطلب ہے کہ میں تمہیں بالکل بھی نہیں منانے والی اور نہ میں نے تمہیں مس کیا لیکن……لیکن پھر بھی تم واپس آجاؤ۔“اس نے جلدی سے کہا اور کال کاٹ کر فون ہی بند کر دیا۔دل ایسے زور سے ڈھڑک رہا تھا معنوں سینے میں قید کوئی پرندہ پھڑپھڑا رہا ہو۔خون کی روانی تیز ہو گئی۔اس نے کہہ تو دیا تھا،اب غزوان کے ردعمل کا انتظار تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفس کی کھڑکی سے سرسراتی ہوا اندر داخل ہو رہی تھی۔دوپہر کی دھوپ نے قالین پر لمبا سا سایہ کھینچ رکھا تھا۔کھڑکی کے پاس رکھی میز پر وہ لیپ ٹاپ سکرین پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔قانِتہ کی انگلیاں کی بورڈ پر پھسلتی جا رہی تھیں۔

یکدم دروازہ کھلا اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے اندر قدم رکھا۔

”آپ کی فائل اب تک نامکمل ہے۔یہ پروفیشلزم ہے آپ کا؟“الفاظ میں تلخی نہیں برتری تھی۔

قانِتہ نے سکرین سے نگاہیں ہٹائیں،دھیرے سے لیپ ٹاپ بند کیا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔

لبوں پر مخصوص سنجیدہ مسکراہٹ سجائے اس نے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی جانب دیکھا۔

”دراصل سر،فائل ہمارے گروپ کے تین میمرز نے مل کر مکمل کرنی تھی لیکن زیادہ چھٹیوں کی وجہ سے آپ کے حکم کے مطابق یہ کام میں اکیلی ہی کر رہی ہوں لہذا تھوڑا سا وقت درکار ہے۔وہ کیا ہے نہ سر،یہ محض ایک رپورٹ نہیں آپ کی ساکھ کا آئینہ ہے اور میں ہر گز نہیں چاہتی کہ آئینہ پر ایک بھی دھبہ ہو۔“مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ وہ نرم لہجے میں جتنی بےعزتی کر سکتی تھی،اس نے کی تھی۔وہ اپنی کمپنی میں روڈ اور بتمیز کے نام سے مشہور تھی۔اس کے کانوں میں جب بھی اپنے متعلق ایسی باتیں پڑتیں،لبوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی۔گردن رعونت سے اٹھ جاتی۔ان تین سالوں میں وہ جتنی جلدی کامیابی کی سیڑھیوں پر چڑھی تھی شاید ہی کوئی اور چڑھ پاتا۔

ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ وہیں کھڑا رہ گیا معنوں الفاظ اس کی توقع سے مختلف ہوں۔

”اور رہی پروفیشنلزم کی بات……“سرمئی آنکھوں میں فتح کی چمک تھی۔”میں کتنی پروفیشنل ہوں یہ آپ کو اگلے تین مہینوں میں پتا چل جائے گا۔(کیونکہ اگلے تین مہینوں میں آپ کی جگہ پر میں ہوں گیئں۔)“اس نے آدھا جملہ ضبط کیا۔اختتامی رسمی مسکراہٹ سامنے کھڑے شخص کی جانب اچھالی اور واپس اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے تاسف بھری نگاہ اس پر ڈالی اور سر جھٹک کر باہر نکل گیا۔

وہ جانتی تھی کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔عام حالات میں یقینا اس کی شکایت بہت اوپر جاتی مگر فلحال اگر اس کی شکایت کی جاتی تو یقینا تین لوگوں کے کام کا بوجھ اکیلے اس کے سر پر ڈالنے پر بھی باز پرس ضرور کی جاتی۔

وہ لیپ ٹاپ کھول کر کام میں ایسی مصروف ہوئی معنوں ابھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔صرف دھوپ کا سایہ ذرا سا اپنا رخ بدل چکا ہو۔

وہ زندگی کے ہر امتحان میں سو بٹا سو حاصل کرنے والی خاتون تھی۔چاہے سروائیور کی جنگ ہو،تعلیمی کارکردگی ہو،دوسری سرگرمیاں ہوں یا بارسلونا میں یہ نوکری……بس جب بات گھر تعمیر کرنے کی آئی تھی تو وہ صفر سے آگے نمبر نہ لے پاتی تھی۔گھر تعمیر کرنا اتنا آسان تو نہیں تھا اور دوسری بار گھر تعمیر کرنا تو بالکل بھی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمرہ خاموش تھا۔غانیہ بستر پر بیٹھی آفس کا کوئی ضروری کام کر رہی تھی۔نگاہیں ایک بار پھر موبائل کی سکرین پر جا ٹھہری تھیں جہاں بار بار ایک ہی نام چمک رہا تھا۔

”ایک بار بات تو سن لو۔“

”اس میں ناراض ہونے والی کون سی بات ہے۔“

”غانیہ کیا ہوا ہے؟“اس نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی اور موبائل فون اٹھایا۔

”میں منگنی ختم کر چکی ہوں۔اب میسج مت کریں مجھے۔“اس نے لکھا اور فورا بھیج دیا۔

”تم دن میں ہزار بار منگنی ختم کرتی ہو مگر میں تمہیں منا لیتا ہوں۔“اس کے یقین پر وہ تلملا اٹھی۔

”اس بار سچ میں ختم کر دی ہے۔“ساتھ غصے والا ایموجی بھی سینڈ کیا۔

”اگر ایسا ہے تو میری دی ہوئی انگوٹھی اب تک تمہارے ہاتھ میں کیوں ہے؟“وہ ٹھٹھکی پھر نگاہیں بےاختیار اپنی انگلی کی پر جا ٹھہریں۔اس نے گڑگڑا کر ایسے رخ پھیرا معنوں وہ یہیں ہو۔

لمحہ بعد سکرین پھر سے جل اٹھی۔

”جب تک یہ انگوٹھی تمہارے ہاتھ میں ہے تب تک یہ منگنی اور محبت قائم ہے۔جس دن تم اس انگوٹھی کو اتار دو گی میں سمجھ جاؤں گا کہ منگنی ختم ہو گئی۔“وہ ہلکا سا مسکرا دی۔

محبت کی یہ بات سب سے عجیب ہوتی ہے۔آپ کا محبوب بعض اوقات آپ کی خاموشی بھی سن لیتا ہے۔

وہ بس خفا تھی،منگنی توڑنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

”اب جب تم مان ہی گئی ہو تو ناراضگی کی وجہ تو بتا دو۔جاب کا مسئلہ تو پہلے ہی حل ہو گیا تھا۔اب کیا مسئلہ ہے؟“اس کے میسج پر وہ سر جھٹک کر رہ گئی۔وہ واقعی اس کی خاموشی پڑھ رہا تھا۔

”آپ نے آج آفس میں گاڑی اور ڈرائیو کیوں بھجوایا؟“چہرے کے تاثرات کچھ سخت ہو گئے۔

”تو گاڑی پسند نہیں آئی یا ڈرائیور؟“اس نے شرارت سے ٹیکسٹ بھیجا۔غانیہ اچھا خاصا زچ ہوئی۔

”گاڑی بہت بڑی تھی۔“اس نے جھنجھلا کر لکھا۔

”تو کیا چھوٹی بھیجتا؟“

”نہیں…..“

”پھر…..؟“

”بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔میں پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتی ہوں اور مجھے یہی پسند ہے۔“

”میں تمہارے لیے آسانی چاہتا ہوں۔“

”آپ براہ مہربانی کچھ مت کریں۔“اس نے ضبط سے کہا۔

”اچھا ٹھیک ہے،فلحال یہ سب چھوڑ دو۔جلدی سے باہر آؤ،انتظار کر رہا ہوں۔“

”کک….کیا…..؟“اس نے گڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا پھر سر پیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

چند ثانیوں بعد وہ قتادہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔گاڑی فراٹے سے آگے بڑھ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے وقت آسمان پر چاند ہلکی سی دھند میں لپٹا ہوا تھا۔ریسٹورنٹ کے باہر سڑک خاموش تھی۔وہ دونوں ریسٹورنٹ سے واپسی پر ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔غانیہ کے لبوں پر مسکراہٹ تھی تو قتادہ کی آنکھوں میں چمک۔ان دونوں کے درمیان خاموشی تھی مگر اس خاموشی میں بھی ہم آہنگی تھی۔

گاڑی کے پاس آ کر ان کے قدم رکے،وجہ ایک ترش آواز کا کانوں میں پڑنا تھا۔

”کیسے ہو قتادہ؟“یہ وہی آواز تھی جس نے پہلے بھی ان کے تعلق میں دراڑ ڈالی تھی۔

قتادہ کی آنکھیں ضبط سے سرخ پڑ گیئں۔کم از کم وہ اس وقت یہ چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

”تم وہی ہو ناں،اس کی نئی منگیتر؟“اس نے غانیہ کی جانب دیکھتے ہوئے تصدیق چاہی۔غانیہ کے چہرے کے تاثرات بگڑتے چلے گئے۔شراکت داری آخر کس عورت کو برداشت ہے؟

”ویل…..کب کر رہے ہو تم لوگ شادی؟“اس نے دونوں ہاتھ لپیٹ کر اعتماد سے پوچھا۔

”ویسے میں شادی کر رہی ہوں۔میری طرف سے تم دونوں کو بلاوا ہے۔میرے ہونے والے شوہر بہت اچھے سنگر ہیں۔جب وہ گاتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ گھنٹوں سنتی رہوں۔ویسے قتادہ تمہیں گانا آتا ہے کیا؟“یہ طنز کا نشتر سیدھا قتادہ کے دل کے آر پار ہوا تھا۔وہ سرخ چہرے کے ساتھ نگاہیں پھیرنے پر مجبور ہو گیا تھا۔وار شدید تھا۔کمزوری بھی بڑی تھی۔

”ان کا تو پتا نہیں مگر میں پیانو بہت اچھا بجا لیتی ہوں۔سنو گی؟“جواب کا انتظار کیے بغیر ہی غانیہ نے زوردار تمانچہ اس لڑکی کے منہ پر دے مارا تھا۔جہاں اس لڑکی کے چاروں طبق روشن ہوئے تھے وہیں قتادہ بھونچکا رہ گیا تھا۔یہ دنیا کی آخری چیز تھی جس کی وہ توقع کر سکتا تھا۔

”How dare……”

اپنی بےعزتی کے احساس کو زائل کرنے کے لیے اس لڑکی نے بھی جوابا ہاتھ اٹھایا تھا جس ہاتھ کو غانیہ ہوا میں ہی تھام چکی تھی۔

”ہمارا قبیلے کی خواتین سختیاں جھیلنے کی عادی ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے نہ تو سب کچھ فنا کر دیتی ہیں۔تم جیسی نازک کلی میرا غصہ سہار نہیں سکے گی لہذا عزت سے چلی جاؤ ورنہ اس میک اپ سے اٹے چہرے کا میں وہ حال کروں گیئں کہ تمہارے ہونے والا شوہر خود ہی ڈر کر بھاگ جائے گا۔“اس نے ہاتھ کچھ اس انداز میں جھٹکا کہ وہ لڑکی دو قدم پیچھے کی جانب لڑکھڑائی۔

قتادہ نے بمشکل ہنسی ضبط کی۔کیا معلوم وہ ہنس دیتا اور وہ بھڑک اٹھتی پھر غانیہ کے اندر کے جاگتے پٹھان کا سامنا اسے ہی کرنا پڑتا۔

”شکریہ……!“گاڑی میں بیٹھتے اس نے مشکور نگاہوں سے غانیہ کو دیکھا۔

”نہیں مطلب حد ہے۔خاموشی سے اس کی ساری بکواس سن رہے تھے آپ۔یہ تھپڑ آپ کو مارنا چاہیئے تھا لیکن نہیں آپ تو ایسے کھڑے ہوئے تھے معنوں کوئی مجرم ہوں۔کیسے کہہ رہی تھی کہ میرے ہونے والے شوہر کی آواز بہت خوبصورت ہے۔“غانیہ نے نقل اتارتے ہوئے کہا۔قتادہ نے سر جھکا کر لب دبا لیے۔

”کوے کی آواز بھی اس سے زیادہ اچھی ہو گی،یقین ہے مجھے۔آپ…..آپ ہنس رہے ہیں؟“قتادہ نے فورا خود پر سنجیدگی طاری کر کے نفی میں سر ہلایا مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔غانیہ یوسفزئی کا دماغ فرائی ہو چکا تھا۔

”بس ہنستے ہی رہیں،کیجیے گا کچھ بھی مت۔جو شخص اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھاتا،اس سے کیا بعید کی جا سکتی ہے اور آپ ایک بات بتائیں…….“وہ اب شروع ہو چکی تھی تو رکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔گاڑی سٹارٹ کرتے قتادہ نے بےاختیار اس لمحے کو کوسا جب اس نے غانیہ کا شکریہ ادا کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو فضا میں ایک خاموش ٹھہراؤ تھا،ایسا سکوت جس میں صرف دل کی ڈھڑکن سنائی دیتی ہے۔قالین پر پڑتے قدم اتنے ہلکے تھے معنوں کسی خواب میں داخل ہو رہی ہو۔

دل میں وسوسوں کا شور تھا۔

نجانے وہ گھر آیا بھی ہو گا یا نہیں؟کیا معلوم اور زیادہ خفا ہو گیا ہو؟اگر کمرہ خالی ہوا تو…..؟

دل زور سے ڈھڑکا۔قدم جیسے ہی کمرے میں پڑے،نگاہ بستر پر گئی اور سانس ٹھہر گئی۔

وہ گہری نیند سو رہا تھا۔شاید سفر کی تھکان تھی۔

وہ لمحہ بھر کو وہیں دروازے پر ٹھہر گئی،کتنے دنوں بعد اس کی سرمئی آنکھوں میں سکون اترا تھا۔

اس کے دل میں پڑی گانٹھ آہستہ آہستہ کھلنے لگی۔

قانِتہ آہستہ سے چل کر بستر تک آئی۔

کھلی بالکنی سے سمندر کی ہلکی گونج سنائی دے رہی تھی مگر نگاہیں تو صرف غزوان پر ٹھہر چکی تھیں۔

اس نے جھک کر دیکھا تو اس کی آنکھوں کے گرد تھکن اور طویل انتظار کو پایا۔دل کچھ اور موم پڑا۔

اس نے بے اختیار ہاتھ آگے بڑھایا مگر اسے چھو نہ سکی۔عین اس ہی وقت غزوان کی آنکھ کھلی اور قانِتہ کو یوں اس طرح خود پر جھکا دیکھ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔وہ خود تذبذب کا شکار ہوتی ایسے پیچھے ہٹی معنوں کوہ نور کا ہیرا چراتے پکڑی گئی ہو۔

وہ اب خمار آلود،گلابی مائل نگاہوں سے اسے اس قدر شاک سے دیکھ رہا تھا کہ وہ شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی۔

”وہ میں تکیہ درست رہی تھی۔“اس نے بہانہ بنایا اور غزوان نے فورا اثبات میں سر ہلاتے اس کے جھوٹ میں اس کا ساتھ دیا۔

”تم…..تم کب آئے؟“

”کافی دیر ہو گئی ہے۔“وہ پوری آنکھیں کھولتا اب بستر سے اٹھ رہا تھا۔

”انکل آنٹی سے ملے؟“

”ہمم…..“اس نے بس ہنکارا بڑھا۔

”آنٹی مس کر رہی تھیں تمہیں۔“وہ اب بات سے بات نکال رہی تھی۔

”ہاں ملا ہوں ان سے۔“دو ٹوک صاف جواب۔قانِتہ کے دل میں ابال اٹھنے لگے۔یہ وہ غزوان نہیں تھا جسے وہ جانتی تھی۔

”تم خفا ہو مجھ سے؟“وہ جب منہ دھو کر واپس آیا تو قانِتہ بےاختیار پوچھ بیٹھی۔بالوں میں برش کرتے غزوان کے ہاتھ پل بھر کو رکے۔

”اگر ہوں بھی تو تم کون سا مجھے مناؤ گی؟“

”اچھا اب بس کرو۔اتنی بڑی بات نہیں ہوئی ہمارے درمیان۔“وہ چل کر اس تک گئی۔وجود سے بےچینی صاف جھلک رہی تھی۔

”بالکل ٹھیک کہا تم نے،کوئی بڑی بات نہیں ہے۔بس جب میں اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے تو اسے گھن آتی ہے خود سے۔“اس نے برش پٹخا اور تیزی سے پلٹ گیا۔

اس سے پہلے کہ وہ کمرے کی دہلیز پار کرتا،وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

”تم نہیں جا سکتے۔“اس نے خود کو۔ مضبوط ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

”کیوں…..؟“غزوان نے سنجیدگی سے پوچھا۔

”کیونکہ……ہمیں بات کرنی ہے۔“اس کی زبان لڑکھڑائی تھی۔

”کرو۔“وہ ہاتھ لپیٹ کر سپاٹ چہرہ لیے وہیں جم گیا۔اس کے لہجے اور رویہ میں ذرا برابر لچک نہ تھی یعنی اس رشتے کو بچانے کا سارا بوجھ اب قانِتہ کے کندھوں پر تھا۔

”وہ……“اس نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری جیسے طویل بیزاری کے بعد یہ اقرار صحرا میں پانی برسانے جیسا ہو۔الفاظ چننا کسی امتحان سے کم نہ تھا۔

”ہاتھ پکڑو۔“اس نے آنکھیں میچیں اور غزوان کے سامنے اپنا ہاتھ کیا۔وہ حیرت اور شاک سے اسے دیکھتا رہ گیا۔وہ کیا سننا چاہتا تھا اور وہ کیا کہہ رہی تھی؟

”میری کلائی پر تمہاری انگلیوں کی پوریں اب اجنبیت کے قوانین کی خلاورزی نہیں کریں گیئں کیونکہ میرے دل نے ان تمام شقوں کو مسترد کر دیا ہے۔“اس نے کہا اور اندھی کی مانند تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔

غزوان کئی لمحے وہیں ایستادہ کھڑا اس کے الفاظ کو ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔اس کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔بہت سوچ بچار کے باوجود بھی وہ سمجھ نہ سکا۔وہ آئی لو یو کہہ کر تو نہیں گئی تھی؟نہ کچھ محبت بھری بات یا اقرار……پھر وہ کیا کہہ کر گئی تھی؟

غزوان نے اپنی پیشانی مسلتے ایک بار پھر اس کے الفاظ کو سوچا۔اس کے وجود میں کرنٹ دوڑ گیا۔مجال تھی تو ایک لفظ بھی سمجھ آیا ہو۔وہ یا تو اقرار کرتی یا پھر انکار……یہ درمیان کا راستہ اس نے کیوں نکالا تھا؟

وہ سر جھٹک کر قانِتہ کے پیچھے گیا۔وہ کچن میں اوؤن میں کھانا گرم رہی تھی۔

”تم کیا کہہ کر گئی ہو؟“اس نے قدرے ناسمجھی سے پوچھا۔

”ذہین ہو تو خود سمجھ لو۔“وہ غزوان سے نگاہیں نہیں ملا رہی تھی۔اس اقرار کے بعد تو یہ بہت مشکل تھا۔اسے اب غزوان پر غصہ بھی آیا تھا۔کیا وہ واقعی نہیں سمجھا تھا یا محض اداکاری کر رہا تھا؟

”میں بالکل بھی ذہین نہیں ہوں۔تم پلیز آسان الفاظ میں سمجھاؤ۔مجھے قانون اور کچھ شق سمجھ آئی۔کیا خلع لینے عدالت جا رہی ہو؟“قانِتہ نے زور سے پلیٹ سلیب پر پٹخی۔شرم گئی بھاڑ میں،اس نے سرخ انگارہ آنکھوں سے غزوان کی جانب دیکھا۔

”اگر خلع لینی ہوتی تو کب کی لے چکی ہوتی۔“وہ دانت پیس کر گویا ہوئی۔

”پھر کیا اظہار محبت کیا ہے تم نے؟“اب کی بار وہ چمکتی آنکھوں سے پوچھ رہا تھا۔

”توبہ کرو۔“فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے اس نے جھنجھلا کر کہا۔

”پھر یہ کہ تم میرے عشق میں ڈوب چکی ہو۔“اب وہ اپنے اندازے لگا رہا تھا۔قانِتہ کا پارہ چڑھ گیا۔

”میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔“وہ تقریبا چلائی تھی۔

”میں نے بس اتنا کہا ہے کہ اس رشتے کو ایک موقع دوں گیئں۔“اس نے ایک ہی سانس میں کہہ ڈالا۔غزوان کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔آنکھوں میں فتح کے جگنو ٹمٹمانے لگے۔بالاخر قانِتہ یہاں تک پہنچ ہی گئی۔

اس نے کہہ تو دیا تھا مگر اب نگاہیں سلیب پر پڑے پانی کے خالی گلاس کو ایسے تک رہی تھیں معنوں اس سے زیادہ اہم اور کچھ نہ ہو۔

یہاں تک کہ اس نے قدموں کی آواز سنی تھی پھر گردن پر کسی کی سانسوں کی تپش……وہ ہل نہیں سکی۔

”آئی لو یو۔“وہ اس کے کان کے پاس جھکا اور بس اتنا کہا اور وہیں سے پلٹ گیا۔اس کے جانے کے بعد قانِتہ کو کہیں جا کر سانس آئی۔لبوں پر مسکراہٹ آ کر ٹھہر گئی۔وہ غزوان سے زیادہ خود کو دوسرا موقع دے رہی تھی۔کبھی کبھار خود کو دوسرا موقع ضرور دینا چاہیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمندر کی سرگوشیاں کھلی بالکنی سے اندر آتی ہوا میں تحلیل ہو رہی تھیں۔رات سمندر پر جھک رہی تھی۔آسمان پر نارنجی اور جامنی رنگوں کےایسے رنگ بکھرے تھے کہ فطرت خود حیران رہ گئی تھی۔

کمرے کے بیچ قانِتہ کھڑی تھی،ایک آئینے کے سامنے……آئینہ مبہوت انداز میں اسے خود میں قید کر رہا تھا معنوں پہلی بار ایسا حسن دیکھا ہو۔سرخ لباس میں وہ ایسی ہوش ربا لگ رہی تھی جیسے غروب آفتاب خود مجسم ہو کر سامنے کھڑا ہو۔اس کے شانوں سے سلک کی چمک ایسے پھسل رہی تھی جیسے صبح کی روشنی آہستہ آہستہ لہروں میں اتر رہی ہو۔بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے اس کے لبوں پر ٹھہری ہوئی مسکراہٹ تھی۔آج نہ اپنا آپ برا لگ رہا تھا اور نہ اپنے حسن سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔نہ خوشبو سے ڈر لگ رہا تھا اور نہ لبوں پر لگی لپسٹک سے……اس نے آج ماضی کو سوچا ہی نہیں تھا۔آج ماضی کا خیال ذہن میں آیا ہی نہیں تھا۔

دروازہ ہولے سے کھلا اور غزوان اندر داخل ہوا۔

اس کے قدم لمحے بھر کو ٹھہر گئے۔سانس رک گئی،نظر ٹھہر گئی۔

قانِتہ نے وہی سرخ لباس پہن رکھا تھا جو غزوان نے اس کے لیے بہت پہلے خریدا تھا اور وہ یہ کہہ کر دھتکار چکی تھی کہ وہ اس قسم کے رنگ نہیں پہنتی۔

وہ پلکیں جھپکنا بھول گیا۔

”کیا وہ اس کے لیے تیار ہوئی تھی؟“سوال بےمقصد تھا۔صد شکر اس نے پوچھا نہیں تھا۔

وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتا ہی چلا گیا۔وہ سامنے کھڑی تھی اور روشنی اس کے گرد ہالہ نور کی طرح بکھری ہوئی تھی۔

غزوان نے قدم آگے بڑھائے،قانِتہ نگاہیں جھکا گئی۔

”ہمیشہ آگ کے دریا میں عشق کیوں اترے

کبھی تو حسن کو غرق عذاب ہونا تھا“اس نے قانِتہ کے کان کے پاس مدھم سرگوشی کی۔جسم کا سارا خون اس کے رخساروں پر سمٹ آیا۔

غزوان نے انگوٹھے سے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی اور مدھم آواز میں کہا۔

”شرماتے ہوئے بالکل زہر لگ رہی ہو۔“اس نے گو کہ پھلجڑی چھوڑی تھی۔قانِتہ نے نہایت خفگی سے اسے گھورا اور وہاں سے جانے کا ابھی سوچ ہی رہی تھی جب غزوان نے اس کے گرد حصار قائم کر کے اسے اپنی جانب کھینچا۔

”مذاق تھا۔سچ میں مذاق تھا۔“وہ اب مدافعانہ بیان دے رہا تھا۔قانِتہ بس اسے گھورتی رہی،کوئی مزاحمت نہ کی۔

”مجھے بات کرنی ہے تم سے۔“اس نے آہستگی سے کہا۔

”اظہار محبت کرو گی؟“اس کا لہجہ شوخ تھا۔

”توبہ کرو۔“وہ جھنجھلائی۔اسے دور دکھیلنے کی کوشش بھی کی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔

”دیکھو اگر محبت بھری باتیں کرنی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں تمہیں کچھ اور کہنے کی اجازت نہیں دے رہا۔“

”کیا مطلب؟“وہ سمجھ نہ سکی۔

”مطلب یہ کہ پھر تم مجھ سے……میرا مطلب ہے پھر میں تم سے لڑ پڑوں گا۔فلحال لڑائی کا موڈ نہیں ہے۔“اس نے بروقت تصحیح کی ورنہ یقینا لڑائی ہو جاتی۔

”بات کرنا ضروری ہے۔میں جب سچے دل سے اس رشتے کو قبول کر رہی ہوں تو دھوکہ نہیں دے سکتی تمہیں پھر تمہارا جو مرضی فیصلہ ہو،مجھے منظور ہے۔“

”کیسا دھوکہ……؟“اس کے ماتھے پر بل پڑے۔قانِتہ نے نگاہیں ایک بار پھر جھکا لیں۔یہ نگاہیں شرم و حیا سے نہیں شرمندگی سے جھکی تھیں۔

”رشتوں کی بنیاد سچ پر رکھنی چاہیئے۔میں آج تم سے سچ کہوں گیئں۔تم چاہے تو مجھے اپنا لینا چاہے تو چھوڑ دینا۔میں تمہارے فیصلے کا احترام کروں گیئں۔“غزوان نے اس کے گرد سے حصار ہٹایا اور اسے شانوں سے تھام لیا۔

”تم کیا کہہ رہی ہو پری وش؟سب ٹھیک ہے؟میں تمہیں کیوں چھوڑوں گا؟“وہ پریشان ہوا تھا۔

”یہ سب اگر نکاح سے پہلے بتا دیتی تو شاید تمہیں فیصلہ لینے میں آسانی ہوتی۔شاید ہماری راہیں پہلے ہی جدا ہو جاتیں۔مجھے تمہیں بتانا چاہیئے تھا۔آئی ایم سوری۔“غزوان کے ہونٹ آہستگی سے ہلے مگر الفاظ راستہ بھول گئے۔اس کا چہرہ سپاٹ تھا مگر آنکھوں میں الجھن تیر رہی تھی۔وہ اسے ڈرا رہی تھی اور شاید وہ ڈر بھی گیا تھا۔نجانے کون سی ایسی بات تھی جو اب تک راز تھی؟جس کے افشاں ہونے پر ان کی زندگیوں میں قہر باپا ہو جاتا۔