Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 21)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 21)
توقع کے عین مطابق صبح ہی رخصتی کا حکم صادر کر دیا گیا تھا۔قانِتہ کا سارا سامان غزوان کے کمرے میں شفٹ کیا جا چکا تھا۔وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہی تھی۔اس سب معاملے میں غزوان البتہ خاموش تھا۔وہ معمول کے مطابق صبح تیار ہو کر آفس گیا تھا اور بالکل سنجیدگی سے ناں صرف جہانزیب کی بات سنی تھی بلکہ سر تسلیم خم بھی کر دیا تھا۔قانِتہ کو اس کی یہ سعادت مندی ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔جانتی تھی کہ اندر ہی اندر وہ بےحد خوش ہے اور خاموشی اور سنجیدگی کا دھونگ رچا رہا ہے۔
کافی دیر ادھر سے اُدھر چکر لگانے کے بعد بالآخر اس نے گرینی کو فون کیا تھا۔
”گرینی، میں ابھی رخصتی نہیں چاہتی۔“
”تو بیٹا، غزوان سے بات کرو۔“وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔وہ اس سے آخر کیا بات کرتی اور وہ کیا سمجھتا؟
”گرینی میں اسے انکار کا کیا جواز پیش کروں؟کیا کہوں اس سے کہ تم نے ایک غلط لڑکی کا انتخاب کیا ہے یا یہ کہ میں تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتی؟“ناچاہتے ہوئے بھی اس کا دل بھر آیا۔وہ اپنا آپ فلحال ایک پھڑپھڑاتے پرندے کی مانند محسوس کر رہی تھی جو ایک جال میں پھنس چکا ہو،ایسے جال میں جہاں سے رہائی ممکن نہ ہو۔
”کیوں نہیں کر سکتی؟“انہوں نے دوبدو پوچھا۔
”یہ زیادتی ہے گرینی،غزوان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔وہ ایک اچھی اور پاکیزہ لڑکی ڈیزرو کرتا ہے اور میں……“اس نے آنکھیں بند کیں،نمکین نمی منجمد آنسوؤں کی صورت پلکوں پر آ ٹھہری۔دل خون کے آنسو رونے لگا۔
”تم میں کوئی کمی نہیں ہے قانِتہ۔تم بہت اچھی لڑکی ہو لیکن پھر بھی تمہارا دل راضی نہیں تو اس رشتے کی بنیاد سچ پر رکھو۔بتا دو اسے سب۔“وہ نہایت شفقت سے اسے سمجھا رہی تھیں۔اندھیرے میں سیدھا راستہ دکھا رہی تھیں۔
”مجھے رشتہ نبھانا ہی نہیں ہے تو سچ کیوں کہوں؟کیوں اپنی کمزوری کسی کے ہاتھ میں دوں؟نہیں گرینی،میں یہ نہیں کروں گیئں۔میں غزوان کے سامنے اپنا بھرم ٹوٹنے نہیں دوں گیئں۔“
”تو بیٹا تم چاہتی کیا ہو اب؟“انہوں ںے جیسے ہار مانی۔
”طلاق…..میں اس سے طلاق لے لوں گیئں مگر فلحال کسی بھی طرح اس رخصتی کو روکنا ہو گا۔میں کچھ نہ کچھ کر لوں گیئں گرینی،میں کر لوں گیئں۔“اس نے رابطہ منقطع کیا اور فون ایک طرف اچھال دیا۔
پھر ایکدم نڈھال ہو کر بستر پر گری اور تکیے میں منہ چھپا لیا۔وہ اس طرح رونے لگی تھی معنوں دل کا ہر زخم زبان پر آ گیا ہو۔
”رخصتی نہیں ہونی چاہیے۔وہ سب جان جائے گا،سب جان جائے گا۔اسے پتا چل جائے گا کہ قانِتہ یزدان ایک کمزور اور ڈرپوک لڑکی ہے۔وہ جان جائے گا کہ یہ اعتماد،یہ غرور سب مکر ہے،فریب ہے۔وہ جان جائے گا کہ میں مینٹلی سٹیبل نہیں ہوں۔“مضبوط بنتے بنتے بالآخر وہ آج بکھر گئی تھی۔ہچکیاں اس کے ضبط کا جنازہ پڑھنے لگی تھیں۔آنسو بہہ بہہ کر تکیے میں جذب ہونے لگے تھے۔
وہ نجانے کتنی دیر ایسے بےبس پڑی آنسو بہاتی رہی تھی جب دروازہ ناک پر وہ فوراً سے اٹھ بیٹھی۔بےدردی سے آنسو رگڑے اور گہری گہری سانسیں لے کر خود کو کمپوز کیا۔
”آ جائیں۔“طیبہ مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئیں اور اس کے قریب پلنگ پر بیٹھ گئیں۔
”کیا ہوا ہے بیٹا؟“اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ لمحہ بھر کو گھبرا گئیں۔
”کچھ نہیں آنٹی، وہ بس ممی اور ڈیڈی کی یاد آ رہی تھی۔“اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی ٹھہری۔
”ماں باپ کی جگہ تو کوئی نہیں لے سکتا۔“انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔”مگر میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہیں کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گیئں۔آج سے تم مجھے مورے ہی کہنا۔“وہ نہایت دوستانہ انداز میں کہہ رہی تھیں۔قانِتہ انہیں دیکھتی رہ گئی۔کیا یہ محبت،یہ اپنائیت سچی بھی تھی؟اس کے جہانزیب اور طیبہ سے اچھے روابط تھے مگر طیبہ کی جانب سے ہمیشہ کھٹکھا ہی لگا رہتا تھا۔یہ آخر ساس کا کون سا روپ تھا؟ساس تو ایسی نہیں ہوتی تو پھر وہ یہ ڈرامہ کیوں کر رہی تھیں؟وہ جتنا سوچتی،اس کا سر اتنا ہی پھٹنے لگتا۔
”غزوان بہت اچھا ہے۔تمہیں خوش رکھے گا۔بس تھوڑا سا سنجیدہ ہے،کبھی کبھار چڑ جاتا ہے۔“قانِتہ کی بھنوئیں اٹھیں۔”غزوان اور سنجیدہ…..؟“اس نے خاموشی سے سر جھکا کر طیبہ کے جھوٹ میں اس کا ساتھ دیا۔
”تھوڑا ضدی ہے۔ایک بار جس چیز کے پیچھے پڑ جائے پھر اسے حاصل کر کے ہی رہتا ہے۔بس تم اس کا خیال رکھنا۔کوشش کرنا کہ کبھی اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔اس سے کبھی جھوٹ مت بولنا۔جھوٹ سے سخت نفرت ہے اسے۔اگر تم ان باتوں کا خیال رکھو گی ناں تو بہت خوش رکھے گا وہ تمہیں۔“وہ نجانے کیا کیا کہہ رہی تھیں۔قانِتہ کا دماغ سن پڑتا جا رہا تھا۔اسے غزوان اور اس کے موڈ سونگز میں رتی برابر دلچسپی نہ تھی۔
وہ ایک روایتی ساس کی طرح اسے اپنے بیٹے کی پسند اور ناپسند سے آگاہ کر رہی تھیں اور وہ ایک اچھی بہو کی طرح سب کچھ خاموشی سے سن رہی تھی،درحقیقت ان کی باتوں کو بری طرح نظر انداز کر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے وقت شادی ہال میں روشنیوں کا سیلاب امڈ آیا تھا۔فانوسوں کی چمک،دیواروں پر لگے سنہرے پردے اور مختلف کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو…..سب کچھ اس طرح ہم آہنگ تھا معنوں جیسے کسی خواب کا منظر ہو۔کیمرے کی فلیش ہر دوسرے لمحے چمک رہی تھی۔کہیں خواتین اپنے کپڑوں اور زیورات کی نمائش میں مصروف تھیں تو کہیں نوجوان سیلفیز لینے میں۔
ہلکے جامنی رنگ کے سوبر سے سوٹ میں ملبوس،ڈوپٹہ سر پر جمائے وہ کھانے کے سٹال کی جانب بڑھ گئی تھی۔ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے پلیٹ میں کیا ڈالنا ہے اور کیا نہیں جب اپنے پیچھے کسی کے بھاری قدموں کی آواز نے اسے پلٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔
”قتادہ“غانیہ کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔
”آپ یہاں؟“خوشگوار حیرت نے اس کا احاطہ کیا۔دل میں ایک عجیب سے احساس نے سر اٹھایا۔
”میرے دوست کے بھائی کی شادی ہے۔“
”اور میری دوست کی۔“اس نے آہستگی سے کہا۔
”اچھی لگ رہی ہو۔“اس تعریف پر غانیہ کی سانس معنوں رک سی گئی۔دل زور سے ڈھڑکنے لگا۔آس پاس بہت سی تتلیاں اڑنے لگیں۔
کچھ دیر بعد اپنی اپنی پلیٹ لے کر وہ ایک کونے میں رکھی میز پر آ بیٹھے۔خاموشی کا لمبا دورانیہ چلا۔آس پاس لوگ چلتے،ہنستے رہے مگر وقت ان دونوں کے لیے معنوں ساکت ہو گیا۔
”اس دن پارک میں تم اپنی ڈائری بھول گئی تھی۔“غانیہ کی سانس ایک دم رکی۔آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گئیں۔
”میں نے پڑھی نہیں ہے۔“قتادہ نے فوراً وضاحت دی۔”بس اس میں سے کچھ تصاویر گری تھیں،وہی دیکھی ہیں میں نے۔“جس جگہ وہ بیٹھے تھے،وہاں بلب کی روشنی قدرے مدھم تھی۔قتادہ اس کے چہرے پر نگاہیں جمائے آہستگی سے اسے اپنی بات سمجھا رہا تھا۔غانیہ کو کچھ بھی سمجھانے کے لیے اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔وہ باآسانی اس کے دل کی ہر بات جان لیتی تھی۔
”تم تو کافی دلچسب ہو۔تم اسکائی ڈائیونگ کرتی ہو۔مجھے حیرت کے ساتھ بےحد خوشی بھی ہوئی۔“
“شوق ہے مگر کبھی کی نہیں۔“اس نے فوراً قتادہ کو ٹوکا۔قتادہ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔
”کیوں؟“اس نے سوالیہ آبرو ریز کی۔
”ڈر لگتا ہے۔“تھوڑا جھجھکی پھر اعتراف کیا۔
”کیا مطلب؟“
”کچھ نہیں،میں چلتی ہوں۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔“وہ تیزی سے اٹھی اور آگے بڑھ گئی۔
”مگر…..“قتادہ نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہیں رکی۔
اس کے جانے کے فوراً بعد اسد قتادہ کے برابر آ بیٹھا۔
”کیا چل رہا ہے؟“اس نے شوخ نگاہوں سے غانیہ کے متعلق پوچھا۔جوابا قتادہ نے اسے دائیں ہاتھ کا مکا دکھایا۔
”آج میرے بھائی کی شادی ہے،آج نہیں۔“اسد نے فوراً ہاتھ اٹھا کر اسے کسی بھی خطرناک عمل سے روکا۔
”ویسے کیا سیریس ہو تم؟“ٹیبل پر پڑی غانیہ کی ان چھوی پلیٹ کو ایک جانب کھسکا کر اسد نے کچھ رازداری سے پوچھا۔
”اس بات کا انحصار تو اس پر ہے۔“اس کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ بکھر گئی۔لمحہ بھر میں ماضی کی تمام دردناک یادیں ذہن کے پنوں پر ابھرنے لگیں۔راتوں کی سسکیاں،سڑکوں پر مارا مارا پھرنا،جیل کی سرد راتیں،ماں کی موت اور پھر بہن سے ملنے کی آخری امید کا بجھ جانا……ان سب کے بعد کون اسے قبول کرے گا؟آخر وہ کیوں ایسا خواب دیکھ رہا تھا جس کی کوئی تعبیر ہی نہیں۔
”میرا نہیں خیال کہ وہ انکار کرے گی۔گولڈن آپرچونیٹی ہو تم۔تم اپنا بتاؤ،کیا تم سیریس ہو یا ٹائم پاس کر رہے ہو؟دیکھو اگر ٹائم پاس ہے تو مت کرو۔کسی اور کو ڈھونڈ لو۔اچھی لڑکی ہے وہ۔“وہ بولتا ہی چلا جا رہا تھا جبکہ قتادہ کا دماغ ماؤف ہوتا جا رہا تھا۔وہ آخر کیا کہہ رہا تھا؟
”تم کہنا کیا چاہتے ہو؟“
”یہی کہ ایک معذور لڑکی کے ساتھ سیریس ہونا ایک بہت بڑی حماقت ہے۔“قتادہ کا دماغ بھک سے اڑا۔”معذور…..کیا اس نے معذور کہا تھا؟“
”کیا بکواس کر رہے ہو؟“وہ ایکدم بھڑک اٹھا۔
”یہی کہ وہ معذور ہے۔ایک ٹانگ نقلی ہے اس کی۔کیا تم….. نہیں جانتے؟“آخر میں اپنے خدشہ کو ظاہر کیا۔قتادہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گیئں۔
”غانیہ معذور ہے؟“اس کے سر میں ٹیسیں اٹھنے لگیں۔آہستہ آہستہ اسے سب سمجھ آنے لگی۔اسکائی ڈائیونگ سے خوف،چلتے ہوئے پیروں میں ہلکی سی لرزش،اس دن اس بچے کو نہ بچانا…… قتادہ کو سانس لینے میں دقت محسوس ہوئی۔اتنی بڑی بات وہ کیسے چھپا سکتی تھی؟کیسے؟
“قتادہ تم ٹھیک ہو؟“اسد نے کچھ فکرمندی سے پوچھا۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ قتادہ اس بات سے لاعلم ہے۔
”تم یہ کیسے جانتے ہو؟“اس نے کچھ سنبھل کر کہا۔
”تمہارے کہنے پر اس این جی او کے لیے رقم بھجوائی تھی ناں،بس وہیں سے پتا چلا۔“
”مجھے نمبر چاہیئے اس کا۔“
”تم سنجیدہ ہو؟“اسد نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
”پہلے سے کئی زیادہ۔“قتادہ نے ایک عزم سے کہا۔آنکھیں چمکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔کندھوں سے معنوں ایک بوجھ اتر گیا۔
”اگر وہ مکمل نہیں تھا تو غانیہ بھی نہیں تھی۔ان کے ایک ہونے پر تاریخ میں کوئی نیا باب تو نہیں جڑنے والا تھا۔دونوں ہی ادھورے تھے۔ان کے ایک ہونے سے زیادہ سے زیادہ لفظوں کو پنکھ لگ جاتے اور قدموں کو منزل مل جاتی۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب گھر لوٹا تو ایک نیا محاذ اس کا منتظر تھا۔اس کی بیوی اپنا پیر تڑوا کر بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے، معنوں بہت زیادہ اذیت سے دو چار ہو۔چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔غزوان ہاتھ پر ہاتھ باندھے پُرسکون نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”آہ،بہت درد ہو رہا ہے۔“اسے اس قدر پُرسکون دیکھ قانِتہ نے ایک بار پھر اسے اپنی تکلیف جتائی۔جتنی محبت کے دعوے وہ اس سے کرتا تھا،اس حساب سے تو اسے قانِتہ کے قدموں میں بچھ جانا چاہیئے تھا مگر وہ تو خاموش کھڑا تھا۔
”میں تو دیکھ کر چل رہی تھی۔پتا نہیں کیسے گر گئی۔چلنا تو دور ایک انچ بھی نہیں ہل سکتی۔ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ کا کہا ہے۔رخصتی مؤخر کرنی پڑے گی۔کم از کم اگلے چھ مہینوں تک(چھ سو سالوں تک)“وہ نہایت افسردگی سے آپ بیتی بیان کر رہی تھی جیسے اسے اس رخصتی کے مؤخر ہونے کا بےحد دکھ ہو۔غزوان ایسے ہی ہاتھ پر ہاتھ لپیٹے کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ایک لفظ نہ کہا۔قانِتہ کو اس کی یہ خاموشی بری طرح چھبی۔
کل رات تک تو وہ بہت پرجوش تھا۔اس کی بےباک باتیں،شوخ انداز…..آج تو معنوں یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔وہ طیبہ مورے کی دی گئی نصیحتوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئی۔”کیا واقعی وہ سنجیدہ طبیعت کا مالک تھا؟“
”غزوان، رخصتی نہیں ہو سکتی۔“اس نے ایک بار پھر اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔غزوان اسے ایسے ہی دیکھتا رہا پھر دو قدم چل کر آگے آیا،ٹھہرا پھر اس پر جھکا۔
”کیا کر رہے ہو؟“اس کی اس حرکت پر وہ بوکھلا گئی۔بیٹھنے کی کوشش کی مگر درد کے باعث ناکام ٹھہری۔
غزوان نے کچھ نہیں کہا۔لمحے بھر کے لیے اسے عجیب نظروں سے دیکھا پھر جھک کر اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔
قانِتہ کو اگلی سانس نہیں آئی۔“یہ تم کیا…..مجھے نیچے…..“اس کی آواز کہیں دب گئی۔چہرہ شرم،حیرت اور بے یقینی سے تمتما اٹھا۔دل کی دھڑکن معنوں گلے میں آ پھنسی۔
”غزوان مجھے نیچے اتارو۔“وہ جتنی مزاحمت کر سکتی تھی،اس نے کی مگر سب بے سود۔
وہ اسے اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آیا تھا۔اسے بستر پر لٹاتے اس نے صرف اتنا کہا۔”لو ہو گئی رخصتی۔“کہہ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔قانِتہ سن وجود کے ساتھ جوں کی توں رہ گئی۔
”رخصتی ہو گئی؟“اس کے لب حیرت سے ہلے۔بس اتنی سی تو بات تھی۔اتنا سا تو فاصلہ تھا۔اس نے کیسے سوچ لیا تھا کہ وہ غزوان جہانزیب کو ہرا دے گی۔
آنکھیں بے آواز آنسو بہانے لگیں۔وہ ایسا کیسے کر سکتا تھا؟کیسے؟
اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا۔دل چاہا کہ منہ بھر بھر کر غزوان کو گالیاں دے۔بیگم جان سے کچھ اور نہ سہی مگر گالیاں دینا تو وہ سیکھ ہی چکی تھی۔
وہ آدھے گھنٹے بعد کمرے میں داخل ہوا تھا۔پچھلے آدھے گھنٹے سے دماغ کے گھوڑے دوڑانے کے بعد بھی وہ سوائے آنسو بہانے کے اور کچھ نہ کر سکی۔
غزوان کو کمرے میں آتا دیکھ اس کا وجود لرزنے لگا۔اس نے سختی سے چادر کو دائیں مٹھی میں بھینچا۔وہ اس وقت مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پر تھی۔حالات کو زیادہ سنگین بنانے کے لیے اس نے جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچایا تھا۔اب وہ اس لمحے کو شدت سے کوس رہی تھی۔
کمرے میں داخل ہونے کے بعد غزوان نے اسے مخاطب کرنا تو دور اس کی جانب دیکھا تک نہیں۔وہ سیدھا وارڈروب کی جانب بڑھا اور وہاں سے نائٹ ڈریس لے کر باتھ اسپیس کی جانب بڑھ گیا۔قانِتہ کے لیے یہ بات کافی حیران کن تھی مگر پھر بھی اس نے سکھ کا سانس لیا۔
واپسی پر غزوان کے قدم پلنگ تک آ کر رکے۔اس نے اپنی طرف کا لیمپ بجھا دیا۔قانِتہ کو اپنی ہر دھڑکن کانوں میں گونجتی ہوئی محسوس ہوئی۔لمحہ بھر کو اسے لگا معنوں ہوا بند ہو چکی ہو۔
وہ بستر پر بیٹھنے یا لیٹنے کی بجائے ایک طرف رکھی الیکٹرک ریکلائنر چیئر کی جانب بڑھ گیا۔اسے سیٹ کیا اور ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر چت لیٹ گیا۔آنکھیں موند کر گو کہ اس بات کا اعلان کیا کہ وہ آج یہی سوئے گا۔قانِتہ لمحہ بھر کے لیے ہکا بکا رہ گئی۔اسے غزوان سے اس رویہ کی ہر گز توقع نہیں تھی۔کل رات کے بعد تو بالکل نہیں……آخر اس کا رویہ اتنا سرد کیوں تھا؟خیر جو بھی تھا،قانِتہ بےحد خوش تھی۔اگر وہ کسی بات پر خفا تھا تو وہ دعا گو تھی کہ اس کی یہ ناراضگی تا عمر چلے۔اس نے اپنی طرف کا لیمپ نہیں بجھایا تھا۔اسے اندھیرے میں مشکل ہی نیند آتی تھی۔
اس کی طبیعت واقعی خراب تھی۔دوائیوں کے زیر اثر اسے جلد ہی نیند آ گئی تھی۔اس کے سونے کے بعد غزوان نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔آنکھوں میں سرخ خراشیں ابھریں۔ذہن کے پردے پر گھر کے باہر لگے کیمرے کا فوٹیج ابھرا جس میں قانِتہ پہلے بار بار گھر کے باہر داخلی راہداری پر ادھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی۔پھر اس نے آہستگی سے شیشی زمین پر گرا دی۔اور کچھ اس انداز میں وہاں سے گزری جیسے زمین پر گرا ہوا مادہ نہ دیکھا ہو۔اس کا پیر بری طرح پھسلا،بائیں کہنی پر رگڑ آئی اور پیر مڑ گیا۔چہرے پر لمحہ بھر کو تکلیف ابھری پھر لب ہولے سے مسکراہٹ میں ڈھلے،معنوں مقصد پورا ہو چکا ہو۔
غزوان نے مٹھیاں بھینچی اور آنکھیں بند کر لیں۔
”اگر رخصتی نہیں چاہتی تھی تو بتا دیتی مجھے۔ایک بار سنجیدگی سے بات کر لیتی۔یہ فضول حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟“اس نے تلخی سے سوچا پھر ایک نظر بےسود پڑی قانِتہ کی جانب دیکھا۔اسے بےتحاشہ غصہ آیا۔فورا نگاہیں پھیر لیں۔نیند تو ویسے بھی اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔قانِتہ کی اس حرکت سے اسے بہت دکھ پہنچا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سورج کی نرم کرنوں کے چہرے پر پڑتے قانِتہ کی آنکھیں کھلیں۔
”اٹھ جاؤ پری وَش۔“وہ دلفریب مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس کے سرہانے کھڑا تھا۔رات کی ساری ناراضگی،سارا غصہ کہیں غائب ہو چکا تھا۔
قانِتہ پہلے کسمسائی پھر غزوان کو سامنے دیکھ کر اسے چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام ٹھہری۔
”آرام سے۔“غزوان نے اٹھنے میں اس کی مدد کی اور پھر بستر پر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
”اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟“وہ بالکل نارمل انداز میں بات کر رہا تھا۔قانِتہ لمحہ بھر کو گڑبڑا گئی۔وہ غزوان کے موڈ سونگز بالکل نہ سمجھ سکی۔
”ٹھیک ہوں۔“اس نے مدھم آواز میں کہتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی۔
”تم منہ ہاتھ دھو لو پھر ناشتہ کرتے ہیں۔“
”میں فلحال سونا چاہتی ہوں۔“اس کی خمار الود آنکھیں اس بات کی گواہ تھیں کہ اس کی نیند ابھی پوری نہیں ہوئی۔
”ناشتہ کر کے پھر سو جانا۔“غزوان نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ ڈش بستر پر رکھی۔
”مجھے بھوک نہیں ہے۔“اس کی طبیعت بوجھل ہو رہی تھی۔شاید نیند کی گولیاں اس نے زیادہ مقدار میں کھا لیں تھیں۔
”اچھا جوس پی لو۔“غزوان نے جوس کا گلاس اس کی جانب بڑھایا جسے قانِتہ کو بادل ناخواستہ تھامنا ہی پڑا۔
”کیسے گری تھی؟“اس سوال پر قانِتہ کو زبردست کھانسی آئی۔اس نے ادھر اُدھر نگاہیں گھمائیں پھر کچھ اعتماد سے غزوان کی جانب دیکھا۔
”پیر پھسل گیا تھا۔“غزوان نے اثبات میں سر ہلایا،معنوں اس کی بات سے متفق ہو۔
”تم میری ذمہ داری ہو۔تمہارا خیال میں رکھوں گا۔مورے کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی،وہ تمہاری دیکھ بھال نہیں کر سکتیں۔اس لیے تمہیں یہاں لایا ہوں۔“اس نے وضاحت دے کر معنوں اپنے کل کے عمل کو جسٹیفائی کیا۔قانِتہ خاموش رہی۔وہ اب ناراض نہیں لگ رہا تھا۔وہ ناراض کیوں نہیں تھا؟اسے بےحد رنج ہوا۔
”پیر ٹھیک ہونے کے بعد واپس چلی جاؤں اپنے کمرے میں؟“دل میں جو آیا،زبان نے کہہ ڈالا۔غزوان نے دلچسپ نگاہوں سے اسے دیکھا،معنوں سرہانہ چاہ رہا ہو۔
”تم اپنے کمرے میں ہی ہو پری وَش۔“ایک ایک لفظ پر زور دیتے وہ اسے بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔قانِتہ کا دل بیٹھ گیا۔اب یقیناً اسے اس رشتے سے نکلنے کے لیے ایک ٹھوس وجہ کی ضرورت تھی۔اسے یقین تھا کہ وہ جلد ہی اس بندھن سے آزاد ہو جائے گی۔
”ویسے ہمارا ڈانس پینڈنگ پر ہے۔“غزوان کے اچانک کہے جملے پر وہ بری طرح سٹپٹا گئی۔وہ اپنی ٹون میں واپس آ چکا تھا۔
”تم ٹھیک ہو جاؤ،پھر کریں گے۔“
”میں نہیں کروں گیئں۔“اس نے فوراً انکار کیا۔
”ایسے کیسے نہیں کرو گی؟اس لیے تھوڑی شادی بنایا تم سے کہ تم ایک ڈانس تک نہ کر سکو۔ہم ایک رومانٹک سے ڈنر پر کسی ہسپانوی ساز پر ڈانس کریں گے جیسے کپل کرتے ہیں۔“
”شادی بنایا؟“ساری گفتگو میں قانِتہ کی سوئی اس ہی جگہ پر آ کر رکی تھی۔
”ہاں وہی بنایا،بنائی یا کی۔ایک ہی بات ہے۔“اس نے گو کہ ناک سے مکھی اڑائی۔قانِتہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دی۔
”تم اگر پٹھان نہ ہوتے تو شاید مجھے اچھے لگتے۔“جوس کا گلاس ایک طرف رکھ کر اس نے تکیہ درست کیا۔آنکھیں اب بھی بھاری ہو رہی تھیں۔
”تم اگر نک چڑھی نہ ہوتی تو بالکل بھی اچھی نہیں لگتی۔“وہ ایک بار پھر ہنس دی۔اسے غزوان کی بات بری نہیں لگی تھی یا پھر شاید یہ نیند کا اثر تھا۔
”ویسے تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟“قانِتہ نے ایک اور سوال کیا۔پلکیں بھاری ہو کر گرنے لگیں۔
”خیبر پختونخوا سے۔شانگلہ کے قریب ایک بستی ہے،وہاں سے…… میری تو ساری عمر یہیں بارسلونا میں ہی گزری ہے۔مگر بچپن میں جاتے تھے ہم سب وہاں۔پاپا کی ساری فیملی تو کب کی باہر سیٹل ہو گئی مگر مورے…..مورے کا میکہ ہے وہاں۔مورے نے ساری زندگی وہیں گزاری ہے۔اتنا بڑا خاندان تھا ان کا۔اتنی ساری بہنیں اور دو بھائی……سگے بہن بھائی نہیں تھے۔مورے کے والدین کے انتقال کے بعد ان کے رشتے داروں نے انہیں پالا تھا۔چلو تمہیں ایک دلچسپ کہانی سناتا ہوں۔یہ تب کی بات ہے جب میری عمر کوئی گیارہ،بارہ سال کے قریب تھی۔ہم چھٹیوں میں وہاں گئے تھے اور وہاں عجیب سے حالات تھے۔مورے کے بھائی(منہ بولے بھائی) کا کسی نے قتل کر دیا اور سوارہ کے طور پر کسی لڑکی کو دیا جانا تھا۔جرگے بیٹھے،لڑائیاں ہوئیں۔پاپا اس سب کے بہت خلاف تھے۔وہ نانا سے بہت لڑے مگر وہاں کسی نے ان کی ایک نہ سنی پھر پاپا مجھے اور مورے کو لے کر یہاں آ گئے۔میں اس کے بعد کبھی بستی…….“وہ کہتے کہتے رک گیا۔نظر قانِتہ پر پڑی جو گہری نیند سو چکی تھی۔غزوان کی آنکھوں میں جذبات کے سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگے۔اس نے جھک کر قانِتہ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
”غزوان جہانزیب نام ہے میرا۔چیلنج کرتا ہوں تمہیں،اپنی محبت میں گرفتار تو کروا کر رہوں گا۔“اس کے پاس کھڑے ہوتے غزوان نے عزم سے کہا پھر ناشتے کی ٹرے اٹھا کر میز پر رکھی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔وہ ایسے ہی گہری نیند سوتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
