Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode 03)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode 03)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
شام کی سرخی مائل روشنی ہر جانب بکھرنے لگی تھی۔درختوں کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔پہاڑی بستی سے کچھ فاصلے پر ایک سنسان راستہ بل کھاتا نیچے جا رہا تھا۔راستے کے اختتام پر ایک خشک ندی تھی،جہاں کبھی پانی بہتا تھا مگر اب یہ جگہ اب خالی تھی۔
ندی کے قریب اونچی چٹانوں پر دو نفوس آمنے سامنے کھڑے تھے۔خاتون نے گہرے نیلے رنگ کا برقعہ پہن رکھا تھا جبکہ مرد نے سفید سوٹ کے اوپر چادر اوڑھ رکھی تھی۔
”مجھے یہاں بلانے کا مقصد؟“خاتون کی آواز ہوا کی سرسراہٹ کی مانند ابھری تھی۔
”بس دیکھنا چاہتا تھا۔“مرد نے اس قدر یاسیت سے کہا،گو کہ خشک ندی میں نادیدہ پانی کے ساتھ بہتی ہوئی کوئی اذیت ناک سرگوشی۔
”یہ مناسب نہیں۔“ہوا کا تیز جھونکا آ کر گزرا،خاتون کا برقعہ ہلکا سا لہرایا،جسے اس نے ہاتھ سے بروقت تھاما۔
”میں ٹوٹ گیا ہوں شگوفہ،سہارے کی ضرورت ہے۔“
”نہیں سِمَاک،یہ مت کریں۔“خاتون نے مدھم آواز میں احتجاج کیا،ہوا نے آواز کو دبانے کی بھرپور کوشش کی۔
”پہلی محبت ہو تم میری مگر اللہ گواہ ہے میں نے اپنی بیوی کے ساتھ کبھی بےوفائی نہیں کی۔پوری ایمانداری کے ساتھ اس رشتے کو نبھایا،کوئی تعلق نہیں رکھا۔اس کی موت نے مجھے توڑ دیا،مجھے اور میرے بچوں کو تمہاری ضرورت تھی مگر پلار…..“آواز میں نمی گھلی،پیر سے پتھر ہلایا،لب کاٹے اور پھر بولا۔
”وہ نو سالہ بچی ہے،میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔مجھے اس وقت خود سہارے کی ضرورت ہے،میں کسی اور کو سہارا نہیں دے سکتا۔فیصلہ کر لیا ہے میں نے،طلاق دے دوں گا اسے اور تمہارے لیے نکاح کا پیغام بھجواں گا۔“کہیں دور پہاڑوں میں کوئی پرندہ شور مچا کر اڑ گیا۔کئی لمحے خاموشی کی نذر ہوئے پھر شگوفہ گہری سانس لے کر گویا ہوئی۔
”میں ایک بیوہ اور کم نسل خاتون ہوں،آپ کے گھر میں مجھے کوئی قبول نہیں کرے گا اور جہاں تک بات ہے آپ کی دوسری بیوی کی،تو دے دیں طلاق مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔سوارہ میں آئی لڑکی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے،اچھے سے جانتے ہیں آپ۔طلاق کے بعد بھی یہیں رہے گی وہ اور بری طرح نوچ لی جائے گی۔“سِمَاک کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں،دل دھک سے رکا،چہرہ سفید پڑا معنوں خون کی گردش رک گئی ہو۔
”جب اتنے سال پہلی بیوی کے ساتھ وفا کی ہے تو اب دوسری کے ساتھ بھی کریں۔آج آپ سنبھالیں گے اسے تو کل وہ آپ کو سنبھالے گی۔بستی کی لڑکی ہے،جلد سمجھدار ہو جائے گی۔میرے لیے ایک رشتہ آیا ہے اور یہاں سے جاتے ہی میں ہاں کر دوں گیئں۔“شگوفہ نے چند لمحے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا اور قدم پیچھے ہٹاتی گئی۔دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی وہ تاریکی میں گم ہو گئی، سماک بت بنا دور اندھیرے میں گھورتا رہا۔
بستی کی خاموشی میں وقت کا یہ لمحہ دفن ہو گیا۔
دکھ اداسی ملال غم کے سوا
اور بھی ہے کوئی مکان میں کیا
بوجھل تھکا ہوا وہ جب گھر لوٹا تو سامنے ایک اور آزمائش اس کی منتظر تھی۔نسوانی چیخوں کی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔صحن کے فرش پر کراہتی اس کی نو سالہ بیوی پر مسلسل ڈنڈے برسائے جا رہے تھے۔مارنے والی کوئی اور نہیں اس کی اپنی ماں تھی۔سماک نے افسوس سے سر جھٹکا اور کمرے کی جانب بڑھ گیا۔کپڑے بدلنے کے بعد وہ بستر پر لیٹا ہی تھا جب نسوانی چیخیں آرام میں مخل ہوئیں۔گہری سانس بھری،قٹھ کر بیٹھا،پھر کسی فیصلے پر پہنچتے پیروں میں جوتے اڑائے۔
برآمدے سے گزر کر اندر ایک کمرے میں داخل ہوا۔رونے کی آوازیں مسلسل کانوں میں گونجتی رہیں۔
”میرا کلیجہ چیڑ دیا۔میرے جوان بیٹے کو مار دیا اور کھانا مانگتی ہے؟دیتی ہوں تجھے کھانا۔“
”مت ماریں،مت ماریں مجھے۔اب نہیں مانگوں گیئں۔“وہ روتی ہوئی مسلسل التجاء کر رہی تھی مگر فریاد نہ سنی گئی۔
سِمَاک اسی خاموشی سے ہاتھ میں بچی اٹھائے برآمدے سے گزر کر اپنے کمرے میں داخل ہوا۔بچی کو بستر پر لٹایا اور چل کر صحن تک آیا۔
”یہ کیسا شور ہے مورے؟“اس کی آواز پر بیگم جان کے چلتے ہاتھ رکے،مڑ کر سماک کو دیکھا۔
(پشتو زبان میں بنیادی لفظ ”مور“ ہے مگر اپنائیت اور محبت کے اظہار کے لیے ”مورے“ کہا جاتا ہے)
”اس کم ذات نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے۔“انہوں نے سسکتی زخرف پر ایک اور وار کیا۔وہ بری طرح سسکی۔
”رات کا وقت ہے،یہ شور شرابہ بند کریں۔نوراں ڈر گئی ہے اور تم…..“اس نے سسکتی لڑکی کی جانب کچھ سختی سے دیکھا،اگلے لمحے وہ دھاڑا۔
”کمرے میں جاؤ،نوراں کو کون سنبھالے گا؟مفت میں نہیں لائے تمہیں یہاں، چلو اٹھو،دفع ہو۔“اس کی آواز ایسی کڑاکے دار تھی کہ زخرف کے لاغر وجود میں ایک بجلی سی دوڑی، وہ سہم کر کمرے کی جانب بھاگی۔
”مگر یہ تمہارے کمرے میں……“
”غانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔وہ خود ابھی بچی ہے، نوراں نے اس کی جان کھائی ہوئی ہے۔ساری ساری رات جاگتی ہے ویسے آپ کی بات بھی صحیح ہے۔اس لڑکی کا میرے کمرے میں کیا کام؟اسے پھر سے ڈربے میں بند کر دیں، نوراں کو آپ سنبھال لیں۔“وہ بہت سکون سے انہیں بےچین کر گیا۔بیگم جان نے اردگرد نگاہیں گھمائیں،پھر کچھ سنبھل کر کہا۔
”میری بوڑھی ہڈیوں میں کہاں اتنا دم؟زخرف سنبھال لے گی۔آخرکار ماں تو ہے ناں۔“
”بالکل،نہیں سنبھالے گی تو میں ٹانگیں نہ توڑ دوں اس کی۔میں پھر جاتا ہوں کمرے میں۔“مڑا،گہری سانس ہوا کے سپرد کی،سر جھٹکا معنوں کوئی بوجھ کندھوں سے اترا ہو اور پھر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
بستر پر نوراں کے پاس بیٹھی سسکتی زخرف کو دیکھ وہ ٹھٹھکا،رکا،پھر دروازے کی کنڈی چڑھائی اور بستر کی سمت بڑھ گیا۔دراز سے مرہم نکالی اور اس کی سمت بڑھائی۔وہ سرخی مائل نگاہوں سے ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
”یہ لگا لو،آرام ملے گا۔“نرمی سے کہا،سرمئی آنکھوں سے بہتے موتی لمحہ بھر کو رکے پھر بھرائی آواز میں وہ بولی۔
”یہ رو تو نہیں رہی بلکہ سو رہی ہے۔“
”جانتا ہوں،تم بھی دوا لگاؤ اور سو جاؤ۔صبح کوئی تم سے کچھ پوچھے تو کہنا کہ ساری رات جاگ کر نوراں کا خیال رکھتی رہی ہو اور صرف ایک گھنٹہ سوئی ہو اور وہ بھی فرش پر۔ٹھیک ہے؟“کہہ کر تصدیق چاہی۔
”میں جھوٹ بولوں؟“گیلی آواز میں سرخ پڑتے معصوم چہرے کے ساتھ پوچھا۔
”سچ بولو گی تو اور مار پڑے گی۔مار کھانی ہے؟“بلاتوقف نفی میں سر ہلایا۔سِمَاک نے جوتے اتارے،بستر پر لیٹا، آنکھوں پر ایک ہاتھ رکھا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
کچھ دیر بعد کسی کی نظروں کی تپش نے اسے آنکھوں سے ہاتھ ہٹانے پر مجبور کیا۔اس نے ترچھا ہو کر زخرف کو دیکھا۔
”کیا ہے؟“سخت ناگواری سے پوچھا۔
”یہ کیسے لگاتے ہیں؟“سِمَاک نے آنکھیں میچیں خود کو کچھ غلط کہنے سے روکا،اور اٹھ بیٹھا۔اس کے ہاتھ سے مرہم کھینچ کر اس کا ہاتھ تھاما اور زخم پر مرہم لگایا۔
”ایسے لگاو۔“مرہم اسے پکڑائی،کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔
وہ ایک ان چاہا بندھن تھا۔دونوں کو رسم کی بھینٹ چڑھایا گیا تھا۔اسے زخرف سے ہمدردی تو ہو سکتی تھی مگر محبت کبھی نہیں۔
کچھ دیر بعد اس کی سماعتوں سے دبی دبی سسکیاں ٹکرائیں،وہ جھنجھلا کر کروٹ بدل گیا۔
”اب کیا ہے؟“چنگھاڑتی آواز پر زخرف سہم گئی۔ڈبڈبائی نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز کیں۔
”مجھے بھوک لگی ہے۔اپ کی مورے نے کچن کو تالا لگا دیا ہے اور کھانا مانگنے پر مجھے بہت مارا۔“سِمَاک نے کچھ غصے اور جھنجھلاہٹ کے امتراج کے ساتھ زخرف کو گھورا،پھر مٹھیاں بھینچ کر اٹھ بیٹھا۔
”تو اب تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟“سوالیہ آبرو اچکائیں۔وہ جھجھکی،تھوک نگلا،پھر سرمئی شفاف آنکھیں یوں اوپر اٹھائیں گو کہ کسی نومولود بچے نے پہلی بار دنیا کی رنگینیوں کو دیکھا ہو۔
”گھر کے پچھلی طرف سیب کا درخت ہے۔میرا قد نہیں پہنچ رہا،صرف دو سیب توڑ دیں۔“بڑی آس سے سِمَاک کے تھوڑا قریب ہوئی،پاکیزہ نگاہوں میں معصومیت سموئے التجاء کی۔سماک کی بھنوئیں بلند ہوئیں،لب ہلکا سا کھلے اور ذہن پل بھر کو جم سا گیا۔
”کیا اس نے صحیح سنا تھا؟“
”تم اس گھر میں مجھے مارنے کی نیت سے آئی ہو؟“مشکوک حیران کن نگاہیں زخرف پر جمائیں۔
”آپ مجھ سے بڑے ہیں۔اس لیے سیب توڑنے کا کہہ رہی ہوں۔اپ کی داڑھی میں پانچ سفید بال ہیں اور سر پر……“انگلی ٹھوڑی پر رکھے چند لمحے سوچا پھر بولی ”وہ ابھی میں نے گنے نہیں۔“سماک کی سانس رکی،چہرہ غصے سے سرخ پڑا، آنکھوں میں قہر ابھر آیا۔
”تم……تم میرے سفید بال گن رہی ہو؟“غیر یقینی کی عجب کیفیت تھی۔ساری ہمدردی اڑن چھو ہوئی،وہ ننھی لڑکی پل بھر کو سخت زہر لگی۔
وہ ایک پینتالیس سالہ باوقار مرد تھا، گزرتے وقت نے بھی اس کی وجاہت میں کوئی کمی نہ آنے دی تھی۔اس کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ تھا۔گندمی رنگت میں سورج کی تمازت اور عمر کی رعونت کا امتزاج تھا۔سیاہ بالوں اور ہلکی بڑھی داڑھی میں موجود کچھ چاندی کے تار اس کی دلکشی میں مزید اضافہ کرتے۔
”ہاں میں پلار کے بھی گنتی تھی۔آپ بھی تو میرے پ……“
”خاموش ہو جاؤ، بس اب کچھ مت کہنا۔“نہایت غصے سے لتارا۔وہ سختی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر وہ مجبور کر رہی تھی۔وہ یہ نہیں بھولنا چاہتا تھا کہ مقابل کوئی سمجھدار خاتون نہیں بلکہ ایک نو سالہ لڑکی ہے۔
”ٹھیک ہے،میں بھوکی سو جاؤں گیئں۔بوڑھے لوگوں سے ویسے بھی مشقت والے کام نہیں کروانے چاہیئے۔“چادر کے کونے سے ناک رگڑی اور سونے کے لیے تکیہ درست کیا۔سِمَاک اپنی جگہ پر جم گیا۔وہ چند لمحے خاموش بیٹھا رہا،گو کہ الفاظ ترتیب دے رہا ہو۔
”چابی مورے کے پاس ہو گی جو کہ ملنا ناممکن ہے۔اٹھو سیب توڑتے ہیں۔“فیصلہ کرتے اٹھ کھڑا ہوا۔زخرف کی آنکھیں چمکی،بستر سے چھلانگ لگا کر نیچے اتری، پیر اڑا اور نیچے گر گئی۔درد کی لہر پورے جسم میں دوڑ گئی، ڈبڈبائی نگاہوں سے مدد کے لیے سِمَاک کی جانب دیکھا،پھر اس کی قہر زدہ نگاہوں سے گھبرا کر فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔
اگلے چند ثانیوں میں دونوں میاں بیوی صحن کے پچھلے حصے میں موجود تھے۔سماک درخت پر چڑھا سیب توڑنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ زخرف کچھ فاصلے پر کھڑی وقتاً فوقتاً اسے کوئی نہ کوئی تاکید کر رہی تھی۔
”یہ والا نہیں، وہ والا“
”یہ لال نہیں ہے۔“
”یہ میٹھا نہیں لگ رہا۔“
”بڑے والا توڑیں،بڑے والا۔“چاندنی رات میں سماک کی نگاہیں آگ برسانے لگیں۔وہ بمشکل صبر کا دامن تھامے ہوئے تھا۔دل چاہا کہ ایک سیب اٹھا کر زخرف کے سر پر دے مارے،بس کسی بھی طرح اس کی چلتی زبان بند ہو جائے۔
”چپ کر جاؤ۔کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آ جائے گی۔“دبی آواز میں اسے لتارا مگر وہ پھر بھی اسے ہدایات دینے سے باز نہ آئی۔
چار سیب توڑنے کے بعد وہ چھلانگ لگا کر نیچے اترا، زخرف کو بازو سے پکڑا اور تیزی سے کمرے کی جانب چل دیا۔
وہ آلتی پالتی مارے بستر پر بیٹھی ندیدوں کی طرح سیب کھا رہی تھی جبکہ سِمَاک پریشانی کے عالم میں اِدھر سے اُدھر چکر کاٹ رہا تھا۔
”اگر تم نے اس سب کے بارے میں کسی کو بتایا تو بہت برا پیش آؤں گا میں۔“سختی سے تاکید کی گئی،زخرف نے اچھے بچوں کی طرح تیزی سے اثبات میں سر ہلایا،پھر آخری سیب کے ساتھ انصاف کرنے لگی۔
”عجیب مصیبت گلے پڑ گئی ہے۔یہ سب تمہارے بھائی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔پکڑ کر ایک آفت کو گلے باندھ دیا۔بچے پالنے کی عمر میں بیوی پالنی پڑ رہی ہے۔مجھے اور میرے بچوں کو ایک باشعور، سمجھدار خاتون کی ضرورت ہے، تمہارا کیا کروں میں؟“رک کر دبے غصے سے اسے جھڑکا،دل کی بھڑاس نکالی مگر اس بار زخرف نے رتی برابر اثر نہ لیا۔اسے سِمَاک اتنا برا نہیں لگا تھا۔کم از کم باقی گھر والوں سے تو بہت بہتر تھا۔
”آپ کو بھی بھوک لگی ہے کیا؟“اس کے غصے کی وجہ بھوک کو سمجھا،کشادہ دلی سے آدھ کھایا سیب اس کی جانب بڑھانا چاہا،وہ دانت پیس کر رہ گیا۔
زندگی آسان تو پہلے بھی نہ تھی اور اب اور زیادہ مشکل ہو گئی تھی۔نجانے ایک رسم کی وجہ سے تشکیل پایا یہ بندھن کون سا موڑ لینے والا تھا؟
بارسلونا کی ایک بلند و بالا عمارت کی کھڑکیوں سے صبح کی روشن کرنیں چھن سے ٹکرا رہی تھیں۔دفتر میں جدید طرز کی میزیں،ورک اسٹیشن اور دیوار پر ڈیجیٹل گھڑی لگی ہوئی تھی۔
قانِتہ نے لیپ ٹاپ بند کیا اور گہری سانس لے کر اٹھ کھڑی ہوئی۔وہ ایک اہم میٹنگ کے سلسلے میں کمپنی کے دوسرے ونگ میں جا رہی تھی۔نیوی بلیو رنگ کی جیکٹ پہنے اس نے بالوں کو پونی ٹیل میں باندھ رکھا تھا۔
چمکدار فرش پر چلتے ہوئے وہ لفٹ کی طرف بڑھی،ایک شناسا چہرے کو دیکھ کر قدم رکے۔اردگرد کا سارا منظر دھندلا گیا۔غزوان کارپوریٹ سوٹ میں ملبوس کسی سے محو گفتگو آگے بڑھ رہا تھا۔وہ جھٹکے سے پلٹی اور تیزی سے قدم ایک سمت بڑھائے۔
ایک آفس کے باہر پھولے تنفس سے اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی۔
”سر پلیز مجھے نوکری سے نہ نکالیں۔سر تھامس سے ذرا سا جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے اپنے دوست کو میری جگہ دے دی۔سر،وہ ایک نمبر کا فلرٹ انسان ہے۔پاکستانی ہے اور اوپر سے پختون، سر وہ ایک دہشت گرد ہے۔مجھے یقین ہے کہ وہ یہاں کسی غلط ارادے سے آیا ہے۔اس کمپنی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور……“دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔
”آئیں مسٹر غزوان، میں آپ ہی کا ویٹ کر رہا تھا۔“قانِتہ کو نظر انداز کرتے وہ اٹھے اور گرمجوشی سے استقبال کیا۔غزوان مدھم سا مسکرایا،شکوہ کناں نگاہ قانِتہ پر ڈالی اور پھر نگاہیں پھیر لیں۔
”آپ کا مسئلہ میں بعد میں سنوں گا مس قانِتہ!ان سے ملیں، یہ جی-زے انٹرپرائز کے مالک کے بیٹے اور کمپنی کے سی ای او ہیں۔ہماری کمپنی اگلا پراجکٹ ان کے ساتھ مل کر،کر رہی ہے۔“قدم لڑکھڑائے، میز کا سہارا لیا،سفید پڑتے چہرے سے غزوان کو دیکھا،ہچکیاں بندھ گئیں۔
”کیا وہ سب سن چکا تھا؟“(افف!بہت برا پھنسی تھی وہ)
”ہم ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہیں۔میں نے انہیں ان کی فیملی سمیت ڈنر پر انوائیٹ بھی کیا تھا۔“ہچکیوں میں روانی آئی،سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔
”مگر قانِتہ کی فیملی تو دبئی میں سیٹل ہے۔ان کے والد سے اچھی جان پہچان ہے۔“
”اور ان کے بچے؟“سختی سے آنکھیں میچیں۔وہ کہیں غائب ہونا جانا چاہتی تھی مگر پیر تو جم سے گئے تھے۔
”بچے…..؟آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے مسٹر غزوان، قانِتہ ان میرڈ ہیں۔“غزوان نے معنی خیز نگاہ اس کے سفید چہرے پر ڈالی پھر کرسی کھسکا کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا۔اب وہ مکمل طور پر اسے نظر انداز کیے مسٹر پولس کی جانب متوجہ تھا۔
”قانِتہ آپ جائیں،اپنا کام کیجیے، پھر بات ہو گی۔“بوجھل قدم داخلی دروازے کی سمت بڑھے۔نوکری ہاتھ سے سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
