Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi Readelle50273 Rasam e Bandhan (Episode01)
Rate this Novel
Rasam e Bandhan (Episode01)
Rasam e Bandhan by Umaima Shafeeq Qureshi
باب 1:سایہ سراب
عدل آگے بڑھا حکم یہ دیتا ہے قضا کو
ہاں باندھ لے ظلم و ستم و جورو جفا کو
رات کا سنّاٹا گہرا تھا۔ہر طرف اندھیرے کا راج تھا مگر ایک بنگلہ ابھی تک سنہری روشنیوں میں غرق تھا۔بنگلے کی درو دیوار پر پڑتی روشنی معنوں کسی غمگین خواب کی تعبیر بیان کر رہی تھی۔لاؤنچ میں ایک عورت بےچینی سے ادھر اُدھر چکر کاٹ رہی تھی،جیسے کوئی بےچین پرندہ۔کبھی اس کی نگاہیں دروازے پر جمی ہوتیں تو کبھی وہ بے آواز ٹک ٹک کرتی سوئیوں کو دیکھتی۔گھڑی کی سوئیاں تین بجا رہی تھیں، اس کا دل ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیز دھڑک رہا تھا۔دفعتا دروازے کے باہر سے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔اس نے فوراً دروازے کی جانب رخ کیا۔اس کا شوہر ڈگمگاتے قدموں سے اندر آ رہا تھا۔حالت سے صاف ظاہر تھا کہ وہ نشے میں دھت ہے۔
”آپ نے آج پھر نشہ کیا؟“خاتون کے لہجے میں کچھ برہمی اور تشویش کا عنصر شامل تھا۔
”میرے معاملات میں ٹانگ مت اڑاؤ۔“وہ ترش اور لرزتی ہوئی آواز میں بیوی کو جھڑک کر صوفے تک آیا۔نشے کے اثر کے باعث اس کی آنکھیں سرخ اور خمار آلود ہو رہی تھیں۔
”آپ چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ سب؟مت جایا کریں دوسری عورتوں کے پاس۔مجھے تکلیف ہوتی ہے۔آخر کیوں کرتے ہیں یہ سب؟“بیوی نے منت بھری ہوئی نگاہوں سے شوہر کو دیکھا اور مدھم سنجیدہ آواز میں کہا، معنوں فریاد کی ہو۔شوہر نے ایک تیز نگاہ اپنی بیوی پر ڈالی،اگلے لمحے وہ غصے سے اٹھ کھڑا ہوا جیسے الفاظ نے اندر آگ لگا دی ہو۔
”بکواس کرتی ہو۔“اس کی آنکھیں کسی شکاری کی طرح چمک رہی تھیں۔بیوی نے سہم کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر شوہر نے برق رفتاری سے اس کا منہ دبوچ لیا۔وہ فریاد کرنا چاہتی تھی،منت کرنا چاہتی تھی مگر اس کی سخت گرفت سے سارے الفاظ منہ میں ہی دب گئے۔اگلے لمحے شوہر نے وحشیانہ انداز میں بیوی کو صوفے پر دکھیل دیا۔وہ دھڑام سے گری،لمحے بھر کو سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی،شوہر کی انگلیاں بیلٹ کی بکل تک جا پہنچی تھیں۔
”ہوتی کون ہو مجھ سے سوال جواب کرنے والی؟“شوہر کی دھاڑتی آواز بنگلے کی دیواروں میں گونجنے لگی تھی۔
خود میں سمٹتے بیوی نے کچھ کہنا چاہا مگر گلے میں جمع آنسوؤں کے گولے نے اسے کچھ بھی کہنے نہ دیا۔
پہلا وار پڑا تو وہ درد کی شدت سے چیخ اٹھی۔روز کا معمول آج پھر دہرایا جا رہا تھا۔چمڑے کی سخت پٹی جسم پر نشان چھوڑتی جا رہی تھی۔
”دوبارہ زبان چلانے کی جرات مت کرنا۔“وہ غرایا اور بیلٹ کا ایک اور وار کیا۔
”مت مارو،پلیز!“وہ بلکنے لگی مگر نشے میں دھت شخص کو اس پر رحم نہ آیا۔
کچھ فاصلے پر موجود کمرے میں وہ گہری نیند سویا ہوا تھا جب لاؤنچ میں ہوتی چیخ و پکار نے اسے ایک جھٹکے سے اٹھا دیا۔اس کی سماعتوں سے پہلے اپنے باپ کی گرجتی ہوئی دھاڑ ٹکرائی پھر ماں کی درد بھری چیخوں کی آواز۔
لمحہ بھر میں اس نے بستر چھوڑا اور بے قابو ہوتے ہوئے لاؤنچ کی طرف دوڑنا شروع کیا۔جیسے ہی وہ لاؤنچ میں پہنچا،دل دہلا دینے والا منظر اس کے سامنے تھا۔اس کا باپ بےدردی سے اس کی ماں کو پیٹ رہا تھا۔
ہراساں نگاہوں سے وہ گھبراتے ہوئے اپنے باپ کی سمت بڑھا۔اس نے ان کا بازو پکڑ کر انہیں روکنے کی کوشش کی مگر وہ اسے پرے دکھیل کر وحشیانہ انداز میں اپنی بیوی کو پیٹنے لگا۔
اس لڑکے کی نظر اب میز پر پڑے لوہے کے مجسمے پر پڑی۔خوف کو ایک طرف رکھتے اس نے وہ مجسمہ اٹھا لیا۔اگلے لمحے اس نے پوری شدت سے مجسمہ اپنے باپ کے سر پر دے مارا۔باپ کا ہاتھ بے اختیار سر کی پشت کی جانب بڑھا۔آنکھیں پھیلیں،قدم ڈگمگائے اور وہ دھڑام سے فرش پر جا گرا۔سر سے بہتا لال خون سفید فرش پر پھیلتا چلا گیا۔
بنگلے میں لمحہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
لڑکے نے خوفزدہ نگاہوں سے اپنے باپ کی جانب دیکھا اور پھر ہاتھ میں تھامے مجسمے کی جانب۔دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ہاتھ لرزنے لگے۔وہ بےیقینی سے مجسمے کو دیکھ رہا تھا۔
”یہ اس نے کیا،کیا تھا؟یہ اس سے کیسے ہو گیا تھا؟“وہ ابھی ٹھیک سے سوچ بھی نہیں پایا تھا جب ایک زناٹے دار تھپڑ اس کی گال پر رسید ہوا تھا۔
”یہ تم نے کیا کر دیا؟“بیٹے کو جھنجھوڑتے ہوئے ماں ایک کے بعد دوسرا تھپڑ رسید کر رہی تھی۔وہ مسلسل چلاتی ہوئی اپنے بیٹے کو ملامت کر رہی تھی۔
”اپنے باپ کو مار دیا تم نے۔“لڑکے کی آنکھیں بھیگ گئیں۔لب بری طرح پھڑپھڑانے لگے۔روتے روتے وہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہا تھا۔وہ اپنے عمل کی نفی کر رہا تھا۔فرش پر پڑا بے سود وجود،خون کے دھبے،ماں کی چیخ و پکار……اس وحشت ناک رات نے اسے گہرا صدمہ دیا تھا۔
عین اس وقت کوئی طوفان کی مانند داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔سامنے کا منظر دیکھ کر چہرے پر ہوائیاں چھانے لگیں۔
”بھائی صاحب…..“وہ بھاگ کر اپنے بےجان پڑے بھائی کے پاس جا بیٹھا،اس کے شانے ہلانے لگا مگر بےجان وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔
”بھائی صاحب کیا ہو گیا آپ کو؟اٹھیں…..“انہوں نے ایک بار پھر اپنے بھائی کو جھنجھوڑا۔نگاہیں پہلے فرش پر پھیلے خون پر پڑیں،پھر کانپتی زخمی بھاوج پر اور آخر میں ہاتھ میں لوہے کا فن پارہ تھامے کھڑے اپنے بھتیجے پر……ان کی آنکھوں میں وحشت سمت آئی۔
”یہ کس نے کیا؟“چنگھاڑتی آواز میں پوچھا گیا۔ماں ڈھال بنی بیٹے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
”یہ سب……یہ سب میں نے کیا ہے۔“چچا نے حیرت سے ماں کی طرف دیکھا۔زخموں سے چور وہ تھر تھر کانپتی کمزور خاتون……وہ یہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔اب ان کی نگاہیں ماں کے پیچھے چھپے اس لڑکے پر پڑیں۔
”اس نے کیا ہے۔یہ سب اس نے کیا ہے۔میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔میں ابھی پولیس کو بلاتا ہوں۔“لڑکا پیچھے ہٹنے لگا،اس کے قدم ڈگمگانے لگے معنوں زمین پیروں تلے کھسک رہی ہو۔ماں نے اسے بازو سے دبوچا،رخ اس کی جانب پھیرا۔
”بھاگ جاؤ۔چلے جاؤ۔“وہ حیرت سے اپنی اجڑی ماں کو دیکھتا ہی رہ گیا۔وہ اب بھی اسے بچا رہی تھیں۔بچپن سے لے کر آج تک وہ اسے ہر سرد گرم سے بچاتی رہی تھی اور آج بھی انہوں نے شوہر پر بیٹے کو فوقیت دی تھی۔
لڑکے کے آنسو گال پر پھسلنے لگے۔وہ پھتر بن چکا تھا۔قدم اٹھنے سے انکاری تھے۔
”چلے جاؤ۔“ماں نے اسے دروازے کی سمت دکھیلا۔
”کہاں بھیج رہی ہو اسے؟یہ اب صرف جیل جائے گا۔“چچا نے لڑکے کی جانب قدم بڑھانے چاہے مگر ماں درمیان میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی۔
”بھاگ جاؤ بیٹا۔چلے جاؤ۔میں سب سنبھال لوں گیئں۔کہیں دور چلے جاو۔لوٹ کر مت آنا۔“وہ پوری قوت سے چلاتی اسے جانے کا کہہ رہی تھی۔لڑکے نے آخری بار ماں کو خوف اور دکھ سے دیکھا اور اگلے لمحے اس کے قدم ہوا سے باتیں کرنے لگے۔
چیخنے چلانے کی آوازیں،ماں کی منتیں،چچا کی دھمکیاں، ہر چیز اب پیچھے رہ گئی تھی۔
رات کے آخری پہر جب رات کی چاندنی میں سائے گھنے اور پراسرار معلوم ہو رہے تھے، وہ بے ترتیب سانسوں سے بھاگتا ہی چلا جا رہا تھا۔وہ نجانے کب سے بھاگ رہا تھا،گلیوں سے گزرتے ہوئے،جھاڑیوں کے بیچ سے،سنسان سڑکوں پر۔ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے پیر اس کا ساتھ چھوڑتے جا رہے تھے، مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔رکنے کا مطلب تھا موت!
جانتا تھا کہ چچا نے پیچھے گارڈز کو بھیجا ہو گا۔
آخرکار اس کا جسم تھکنے لگا۔سانس سینے میں اٹکنے لگی۔وہ بھاگتے بھاگتے ایک سنسان عمارت کے قریب پہنچ چکا تھا۔دور کہیں کتے بھونک رہے تھے،سائے لرز رہے تھے۔
پھولے تنفس کے ساتھ اس نے ایک پرانی دیوار سے ٹیک لگائے چند گہرے سانس لینے کی کوشش کی مگر اگلے لمحے کسی نے اسے شرٹ سے پکڑ کر کھینچا۔
”آج تو لاٹری نکل آئی۔“لڑکا سر سا پیر لرز گیا۔اس کے سامنے تین آدمی کھڑے تھے۔کالے کپڑے،بدن پر ٹیٹو چہروں پر ناچتی درندگی……
”چکنا ہے۔“ایک آدمی کے تبصرے پر وہ دہل گیا۔جو آنکھیں دیکھ رہی تھیں،دماغ بار بار اس کی نفی کر رہا تھا۔ان آدمیوں کی آنکھوں میں اسے ہوس نظر آ رہی تھی۔
اس نے بھاگنا چاہا مگر ایک زوردار گھونسہ اس کے پیٹ پر پڑا،وہ زمین پر جا گرا،چیخنے کی کوشش کی مگر چیخ نہ سکا۔
”آج تو مزا ہی آ جائے گا۔“ایک اور سفاکانہ تبصرہ اور قہقہوں کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔اس کی آنکھوں کے آگے دھند چھانے لگی۔یہ رات اس کی زندگی کی سب سے لمبی رات تھی۔
اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے
مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا
اک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہ
تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا
یہ شانگلہ کے قریب ایک گاؤں کا منظر تھا۔پہاڑی سے نیچے چٹانوں کی جانب سبزہ پھیلا ہوا تھا۔درختوں کی سرسراہٹ کی آواز اور پرندوں کے چہچہانے کی آواز فضا میں گھل کر ترنم بکھیر رہی تھی۔گھاس کے پیچھے نرم مٹی کی پرت بچھی تھی جبکہ فاصلے پر پھولوں کی قطاروں نے کینوس کا روپ دھارا ہوا تھا۔
وقفے وقفے سے فضا میں کسی کے قہقہوں کے آوازیں گونجنے لگتیں۔سرمئی آنکھوں والی ایک بچی بکری کے بچے کے پیچھے دوڑتی ہوئی کھلکھلا رہی تھی۔سفید رنگ کی مقامی طرز کی قمیض کے نیچے اس نے آسمانی رنگ کی شلوار پہن رکھی تھی، جیسے پہاڑوں پر پڑتی نرم برف اور وادی کے سر پر بچھی نیلی چادر کا امتزاج…….سر پر اس نے اچھے سے سفید چادر لپیٹ رکھی تھی۔
کچھ فاصلے پر ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگائے ایک لڑکی چادر سے منہ چھپائے کھڑی تھی،ساتھ ایک لڑکا بھی کھڑا تھا۔
”قتل لالہ نے کیا اور سزا میں بھگتوں۔یہ کہاں کا انصاف ہے؟مجھے اس رسم کی بھینٹ نہیں چڑھنا۔میں تم سے پیار کرتی ہوں۔“سسکتے ہوئے وہ مقامی زبان میں کب سے فریادیں کر رہی تھی۔
”جانان،میں بھی تم سے بےحد محبّت کرتا ہوں۔تمہیں کسی اور کا نہیں ہونے دوں گا۔“
”تو پھر کچھ کرو نہ۔جرگہ آج شام پھر بیٹھے گا اور مجھے خون بہا کے طور پر اس بڈھے سے باندھ دیا جائے گا۔وہ لوگ مجھے زندہ زمین میں گاڑھ دیں گے۔جانتے ہو نہ کہ سوارہ(ونی) کی رسم میں محض بظاہر صلح ہوتی ہے۔لڑکی کو جیتے جیتے مار دیتے ہیں یہ لوگ۔مجھے ایسی زندگی نہیں جینی۔“روتے روتے اس کی ناک سرخ پڑ چکی تھی۔
”جانان،تم کیوں فکر کرتی ہو؟میری محبت ہو،میری غیرت ہو۔میں کچھ……“چلتی زبان رکی تھی۔نگاہیں فاصلے پر گھاس پر بیٹھی بچی پر جا رکی تھیں جو بکری کے بچے کو اپنے گال سے مس کرتی مسلسل کھلکھلا رہی تھی۔
لڑکے کی نظروں کا تعاقب کرتے ساتھ کھڑی لڑکی نے اس جانب دیکھا تھا۔دونوں کی نگاہیں ایک ساتھ چمک اٹھی تھیں۔
یہ طے ہوا ہے کہ قاتل کو بھی دعا دیجے
اس کی چیخوں کو نظر انداز کرتے وہ اسے گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ آگے لے جا رہا تھا۔صحن میں لا کر اس کا ہاتھ کچھ اس انداز میں چھوڑا کہ وہ فرش پر جا گری۔اب وہ چلا چلا کر سب کو اکھٹا کر رہا تھا۔
”ترہ، ترہ(چچا)“وہ اب چیخ چیخ کر اپنے چچا کو آوازیں لگا رہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے سب گھر والے صحن میں اکھٹے ہو چکے تھے۔
”کیا مسئلہ ہے؟“غضب ناک آواز گھر کی درودیوار میں گونجی تھی۔
”دیکھو اپنی لاڈلی کے کرتوت، اتنی سی عمر میں چکر چلا رہی تھی۔رنگے ہاتھوں پکڑا ہے میں نے۔ایک لڑکے سے عاشقی لڑا رہی تھی۔“
”نہیں،میں نے کچھ نہیں کیا پلار(ابا)“روتے سسکتے اپنے باپ کی جانب منت بھری نگاہوں سے دیکھا تھا۔
”جھوٹی،بتا کیا اس لڑکے نے تجھے پھول نہیں دیا؟“بازو سے دبوچے اسے کھڑا کیا گیا تھا۔
”کیا یہ سچ ہے زخرف؟“وہ غصے سے تلملاتے ہوئے اس کی سمت بڑھے تھے۔
”عشق لڑاتی ہے تو؟“زخرف کے بھائی نے اسے منہ سے دبوچا تھا۔اس ہی بھائی نے جس نے ایک لڑکی کی وجہ سے اپنے رقیب کا قتل کیا تھا۔
”ورور جان(بھائی جان) میں نے کچھ نہیں کیا۔“وہ سسکتے ہوئے اپنی پاکدامنی کی گواہی دے رہی تھی مگر سننے والا کوئی نہ تھا۔
”کیا اس لڑکے نے تمہیں پھول نہیں دیا اور یہ نہیں کہا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے۔“چچا زاد بھائی نے ایک اور وار کیا تھا۔
”پھول دیا تھا اور کہا تھا مگر……“باپ کے زبردست تمانچہ سے سارے الفاظ کہیں گم ہو گئے تھے۔وہ کہنا چاہتی تھی کہ ”میں اسے نہیں جانتی۔مجھے تو محبت کرنا ہی نہیں آتا۔میں تو اس لفظ کے مطلب سے نا آشنا ہوں“مگر وہ نہ کہہ پائی تھی۔
”اتنی سی عمر میں یہ کرتوت ہیں اس کے تو بڑی ہو کر نجانے کیا کرے گی؟میں تو کہتا ہوں ترہ(چچا) خون بہا کے لیے مینا گل کی جگہ زخرف کو دے دیں۔ویسے بھی ہماری عزت خاک میں تو ملا ہی چکی ہے۔“فیصلہ ہو گیا تھا۔ننھی چڑیا کو قید کرنے کا فیصلہ…….وہ اپنوں کی سازشوں کا شکار ہوئی تھی۔اس شام جرگے میں چودہ سالہ مینا گل کے بجائے نو سالہ زخرف کو ایک ناجائز رسم کی بھینٹ چڑھایا گیا تھا۔اس فیصلے پر کسی نے کوئی اعتراض نہ اٹھایا تھا۔غرض تو صرف بیٹی سے تھی،چاہے چھوٹی ہو یا بڑی…….
بوجھل تھکان سے چور،ڈھلکتے ہوئے کندھوں سے وہ کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا۔دل پر گہرے زخم تھے۔بیس دن پہلے بیوی کی موت اور پھر جوان بھائی کی موت نے اس کی کمر توڑ دی تھی۔اب ونی میں آئی وہ لڑکی جسے اس نے دیکھا تک نہ تھا بس اپنے باپ کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا تھا۔وہ لڑکی کون تھی،کہاں تھی،اسے کوئی غرض نہ تھی۔کمرے کی دہلیز پار کر کے وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا، کسی کی کھلکھلاہٹ کی آواز سے وہ ٹھٹھکا تھا اور پھر بستر پر کھیلتی اس بچی کو دیکھ سِمَاک یوسفزئی کو گہرا صدمہ پہنچا تھا۔
”کون ہو تم اور میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟“وہ غصے سے کہتا چند قدم آگے بڑھا تھا۔اگر یہ کسی ملازمہ کی بیٹی تھی تو اس کے کمرے میں،اس کے بستر پر بیٹھنے کی جسارت کیسے کر سکتی تھی؟
سِمَاک کو کمرے میں دیکھ لمحہ بھر کے لیے زخرف کا سانس رکا تھا پھر ایکدم ہی وہ کھلکھلا اٹھی تھی۔دوپہر تک اس نے خوب واویلا مچایا تھا پھر اپنی ماں کے سمجھانے پر وہ یکدم ہی خوش ہو گئی تھی۔اسے بتایا گیا تھا کہ اسے ایک عالیشان گھر میں بھیجا جا رہا ہے جہاں اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔اسے کھیلنے کے لیے بہت سے کھلونے ملیں گے اور من پسند کھانے بھی۔اس بات کی تصدیق تو اس وسیع کمرے اور گداز بستر نے کر ہی دی تھی۔اسے ایک ملازمہ نے کمرے کا رخ دکھایا تھا۔
”میں زخرف……“بڑی آسانی سے وہ سِمَاک پر بم گرا گئی تھی۔وہ ہونق بنا اس کا چہرہ تکتا رہ گیا تھا۔اس نے کیسے سوچ لیا تھا کہ مقابل کوئی جوان لڑکی ہو گی؟وہ جانتا تھا کہ صدیوں سے زیادہ تر چھوٹی عمر کی لڑکیوں کو ہی اس رسم کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے مگر اس نے پھر بھی کسی انیس،بیس کی لڑکی کا گمان کیا تھا۔
”تم…..تم زخرف ہو؟“وہ شاک کی کیفیت میں ایک بار پھر پوچھ رہا تھا۔زخرف کے اثبات میں سر ہلاتے ہی سِمَاک نے پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔دماغ کی شریانیں پھٹنے کے قریب تھیں،دل بند ہونے لگا تھا۔
”کیا…..عمر……عمر کیا ہے تمہاری؟“الفاظ بے ترتیب ہو رہے تھے۔سینے میں جلن محسوس ہونے لگی تھی۔
”نو سال…..“سِمَاک نے گہرے سانس کے ذریعے ہوا میں موجود تلخی کو اندر اتارا۔اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا،اس کی ماں تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
”یہاں کیا کر رہی ہے تو؟“بستر تک پہنچتے زخرف کو بالوں سے پکڑ کر کھینچ کر کھڑا کیا گیا تھا۔وہ کراہ اٹھی تھی۔
”ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی؟“وہ اب بے دردی سے اس کے منہ پر تھپڑوں کی برسات کر رہی تھیں۔
”مور(ماں) یہ کیا کر رہی ہیں؟“
”ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں۔یہ قاتل کی بہن ہے۔میرے جوان بیٹے کو مار دیا ظالموں نے۔جب تک میرا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہو جاتا،اسے تو میں نہیں بخشوں گیئں۔“زخرف کی آہ و پکار کو نظر انداز کرتے وہ اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جا رہی تھیں۔وہ بے بس سا وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔حالات سمجھنے کی ناکام کوشش کرتے……کیا واقعی اس کا نکاح ایک بچی سے کروا دیا گیا تھا؟
اپنا سر تھامتے وہ بستر پر ڈھے گیا تھا۔
وہیں دوسری طرف زخرف کو کھینچ کر مرغیوں کے ڈربے کے پاس لایا گیا تھا۔اب لکڑی کا چھوٹا دروازہ کھول کر اسے اندر پٹخا گیا تھا۔
”آج رات یہی رہو۔“دروازے کو تالا لگا کر وہ جا چکی تھی۔ڈربہ میں بدبو کے ساتھ تاریکی چھا گئی تھی۔وہ شاک کی کیفیت میں وہیں بیٹھی رہی تھی، معنوں حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔اسے تو کھلونوں اور کھانے کا لالچ دیا گیا تھا۔کسی نے یہ تو نہیں بتایا کہ اس تاریک اور گندی جگہ پر اسے بند کیا جائے گا۔چند لمحوں میں مرغیوں کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔یعنی وہ یہاں اکیلی نہیں تھی۔اسے جانوروں کے ساتھ بند کیا گیا تھا۔خوف اور وحشت سے اس کی آنکھیں ابلنے لگی تھیں۔جب سانس لینے میں دشواری ہوئی تو اس نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔وہ اندھیرے میں دروازہ تلاش کرتی مسلسل ہاتھ چلا رہی تھی۔فریادیں کر رہی تھی۔اپنی ماں کو پکار رہی تھی مگر گھر کے تمام افراد کان لپیٹ کر سو چکے تھے۔
